Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Maine Islam Ke Liye Ek Arabpati Ki Beti Ko Thukra Diya! – Ek Hindu Ka Qabool-e-Islam

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

اگلے دن میں نے اپنے والدین کو کال کر کے کہا کہ مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔ میں مسلمان ہو گیا ہوں۔ پاگل ہو گئے ہو کیا؟ تمہارا دما‌غ خراب ہو گیا ہے؟ تمہیں برین واش کیا گیا ہے۔ چلو ! اسے مزید مشکل مت بناؤ۔ چلو۔ ساڑھے تین سال تک، میں ہندوستان میں پھنسا رہا۔ مجھے یرغمال بنائے رکھا۔ ماموں نے مجھے پکڑ لیا اور زبردستی نماز پڑھنے سے روکا۔ میں نے کہا رک جاؤ! میں گاؤں کی طرف بھاگا، پیروں میں چپل تک نہیں تھی، اور وہ سب مجھے ڈھونڈ رہے تھے۔ اور پھر ایک پڑوسی باہر آیا اور اس نے مجھے ایک تھپڑ مارا۔ کچھ اس طرح۔۔۔ اور میں سوچ رہا تھا...

اس نے مجھے گھر کے اندر گھسیٹا۔ وہ سیدھا میری طرف آیا، اس نے میرے چہرے پر ایک مکا مارا۔ انہوں نے کہا،"اس لڑکی کو دیکھ رہے ہو؟ وہ اس علاقے کے پنڈت کی بیٹی ہے۔ اس کا باپ ارب پتی تھا۔ تمہیں بس میری بیٹی سے شادی کرنی ہے۔ اور تم سب کچھ پا لو گے۔ اس نے کہا کہ، "بس تم سور کا گوشت کھا لو۔" کیا؟! آخر کار ہم ایک آبشار پہ پہنچے، یہ گنگا تھی۔ اور سردیوں کا موسم تھا۔ تمہیں اس کے نیچے جانا ہے۔ آبشار کے نیچے چلو!

پھر میں سفارت خانے پہنچا۔ انہوں نے کہا،" تمہارے پیسے مل گئے ہیں، ہم نے تمہارا ٹکٹ خرید لیا ہے۔ جمعہ کی صبح، تم لندن جانے والے پہلے جہاز سے روانہ ہوجاؤ گے۔ میں حیران رہ گیا۔ واقعی خوش تھا۔ میں نے ائیر پورٹ میں دیکھا تو وہاں پر ایک سکھ آدمی تھا۔ جو سب کے پاسپورٹ پر اسٹامپ لگا رہا تھا۔ ایک آدمی آیا تو اس نے پوچھا، تمہارا پاسپورٹ کہاں ہے؟ "مجھے نہیں پتہ۔ "وہ بولا،"وہاں جاؤ۔" اور میں۔۔۔میں تھوڑا پریشان ہو گیا۔ یہ میرے پاس آخری موقع تھا۔ اور میں کوئی گڑبڑ نہیں چاہتا تھا۔ السلام علیکم محمد عیسیٰ بھائی۔ ٹوارڑز ایٹرنیٹی میں خوش آمدید۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا شکریہ۔ اس سوال سے شروع کرتے ہیں کہ محمد عیسیٰ کون ہے؟ ہمیں اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتائیں۔ وعلیکم السلام۔ یہاں آنا اعزاز کی بات ہے۔ میں انڈیا میں ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوا، پنجاب کے ایک قصبے سنور میں۔ ہم چار بہن بھائی تھے، چار سال کی عمر میں میں لندن آ گیا، اور بعد میں 14، 15 سال کی عمر میں مجھے ہندومت کے بارے میں شک ہوا، کہ کیا یہ سچا بھی ہے۔ میں دوسرے مذاہب کو دیکھنے لگا اور پھر میں مسلمان ہو گیا۔ یہ میرے خاندان کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا، اور اسی وجہ سے وہ مجھے ہندوستان لے گئے۔ اور مجھے وہاں ساڑھے تین سال تک یرغمال بنائے رکھا۔ تو وہاں مجھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ تشدد بھی ہوا۔ مجھے ڈرگز دی گئیں۔ پھر میں ہندوستان سے فرار ہو کر لندن واپس آ گیا، اور میں نے اسلام کے بارے میں سیکھنا اور اس پر عمل جاری رکھا۔ اور اپنے خاندان کے ساتھ تعلقات استوار کیے۔ عقیدے کے حوالے سے آپ کی زندگی کیسی رہی؟ آپ کا ایمان کس پر تھا؟ ہم صرف ہندو نہیں تھے۔ ہندومت میں بھی ذات پات کا سسٹم ہے۔ آپ سے نیچے لوگ ہوتے ہیں، وہ لوگ جو ٹوائلٹ صاف کرتے ہیں، وہ اچھوت کہلاتے ہیں۔ اور سب سے اوپر، برہمن ہوتے ہیں۔ جو زمین دار ہوتے ہیں۔ وہ بتوں کو مندروں میں ڈالتے ہیں، اور انہیں سوسائٹی میں برتر مقام حاصل ہے۔ لوگ انہیں تحائف دیتے ہیں، اپنی شادیوں میں بلاتے ہیں، اور معاشرے میں ہر شخص ان کی چاکری کرتا ہے۔ اور ہم وہی تھے۔ ہم اس چین کی ٹاپ پر تھے۔ چنانچہ ثقافتی طور پر ہماری پرورش بطور ہندو ہوئی۔ ہر کمرے میں بت رکھے تھے، اور تصویریں بھی، ہنومان کا بت وہ بندر والا بت، شیو جی کا بت جس کے گلے میں سانپ ہوتا ہے۔ ہمارے پاس کالی ماں تھی۔ کالی ماں ایک بری دیوی تھی۔ اس لیے اگر تم کسی کا برا چاہتے ہو تم اس سے دعا کرو گے۔ تو ہمارے گھر کے آس پاس یہ تھے، اور میری امی ان کی پوجا کرتی تھیں۔ میری ماں سبزی خور تھی۔ میرے والد، ہمیں گوشت کھلاتے تھے۔ چکن اور دنبہ۔ اور ہر اتوار وہ روسٹ بنایا کرتی تھیں، ہمیں گوشت بالکل پسند نہیں تھا، بلکہ اس سے نفرت کرتے تھے۔ صرف گائے کا گوشت کھانا منع تھا، کیونکہ گائے مقدس تھی، تو ہم گائے کا گوشت چاہتے ہی نہیں تھے، سو ہم نے گائے نہیں کھائی۔ تو اسلام کی طرف آپ کا سفر کیسے شروع ہوا؟ تو میرا بیسٹ فرینڈ مسلمان تھا۔ وہی کولونیئیل مینٹیلیٹی کہ مسلمان برے ہیں، اور ان پر بھروسہ مت کرو۔ جب میں یونیورسٹی میں گیا، تو میں نے بحث و مباحثہ شروع کیا۔ میرے دوست مجھ سے باتیں کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے، "دیکھو، تم ایک بندر کی پوجا کرتے ہو۔" اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کہوں، کیونکہ یہ سچ تھا۔ اور پھر ان میں سے ایک نے مجھے اپنے گھر بلایا، اور جب ہم کھانا کھا رہے تھے، اس نے مجھ سے ایک سوال پوچھا۔ تمہارا ایمان کس پر ہے؟ تم ہندو کیوں ہو؟ مرنے کے بعد تمہارے ساتھ کیا ہوگا؟ اور وہ سوالات میرے ذہن میں اٹک گئے، مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کہوں۔ اور اس نے کہا،"دیکھو، اگر آپ کے پاس اپنے دیوتاوں میں بندر کے دیوتا کا بت ہو، اور وہ زمین پر گر جائے تو ٹوٹ جائے گا۔ کیا یہ خود کو اٹھا سکتا ہے؟" اور میں نے کہا، "نہیں، یہ صرف ایک بت ہے۔ اس نے مزید کہا کہ،"تم پھر ایسی چیز کی پوجا کیوں کرتے ہو جو تمہاری تو کیا اپنی مدد بھی نہیں کر سکتا؟ پھر کہا دیکھو کائنات میں ہر چیز فانی ہے۔ ہر چیز کی ایک ابتدا ہے، اور ایک انتہا ہے۔ یہ خود کو وجود میں نہیں لا سکتا۔ باہر کی کوئی قوت، کوئی تخلیق کار اسے وجود میں لایا۔ اور کائنات کی ہر چیز محتاج ہے۔ ہم انسانوں کو خوراک چاہیے، ہمیں ٹوائلٹ جانے کی ضرورت ہے۔ پودوں کو فوٹو سینتھیسز کے لیے سورج کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ ابدی نہیں ہے۔ کچھ بھی ابدی نہیں ہے۔ سورج ایک دن مٹ جائے گا، کائنات پرانی ہو رہی ہے، ہم بوڑھے ہو رہے ہیں.

کیونکہ ہم ابدی نہیں ہیں، لہذا ایک ایسےخالق کا ہونا ضروری ہے جو یہ سب کچھ وجود میں لایا، کیونکہ ہرچیز کی ایک ابتدا ہے۔ اور اس خالق کی نہ کوئی ابتدا ہے اور نہ انتہا، اور وہ ابدی ہے۔ اور وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قادر ہے۔ اور میں نے سوچا، "واہ، یہ بہت حیرت انگیز ہے۔ پھر ہم نے تمام مذاہب کو دیکھا۔ ہم نے عیسائیت کو دیکھا، پھر تورات، یہودیت کو دیکھا۔ جب میں نے تمام مذاہب کو دیکھ لیا، میں نے اس سے کہا کہ، "کیا بچا ہے؟ اس نے کہا اسلام۔ میں نے کہا اسلام کیا ہے؟ تو اس نے ایک تعریف بیان کی۔ اس نے کہا، دیکھو خالق، وہ ایک ہے، وہ مطلق ہے، وہ ابدی ہے۔ وہ ایک ہے، اس سے کوئی پیدا نہیں ہوا، نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہوا۔ نہ وہ جنتا ہے، اور نہ ہی وہ پیدا ہوا ہے۔ وہ سب سے طاقتور ہے۔ وہ نہیں مرتا۔ یہ جاننے کا واحد طریقہ کہ وہ خالق کون ہے، یہی ہے کہ وہ ہمیں کوئی پیغام بھیجے۔ چنانچہ انبیاء کے ذریعے کتابیں بھیجی گئیں۔ اور انبیاء کرام نے معجزے دکھائے۔ میں نے پوچھا آج ہمارے پاس کون سا معجزہ ہے؟ اس نے بتایا، قرآن مجید۔ میں نے پوچھا، "قرآن کا معجزہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ "یہ عربیوں کے زمانے میں نازل ہوا تھا۔ عربی زبان تھی، اور ہر کوئی اس وقت شاعر تھا۔ عرب لوگ لمبے لمبے اشعار لکھتے تھے اور مقابلہ کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے خلاف۔ چنانچہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دور میں پیدا ہوئے۔ آپ امین اور امانت دار کہلائے، آپ اُمّی تھے۔ عربی پڑھ یا لکھ نہیں سکتے تھے، بتوں کو نہیں مانتے تھے۔ جبکہ عرب بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ اور اس طرح خدا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا، تو قرآن منفرد تھا۔ یہ عرب شعراء کے معیار سے کہیں اوپر تھا۔ یہ حیرت انگیز تھا۔ اس میں شاعری، اسلوب اور گرامر تھا۔ اس قدر گہرے مفہوم کہ وہ لوگ عرب، ہوتے ہوئے بھی اس کی گہرائی کا اندازہ نہیں لگا سکے۔ وہ اس جیسا کچھ بھی نہیں بنا سکے۔ چنانچہ اللہ نے تمام عربوں کو چیلنج کیا کہ وہ قرآن جیسا کچھ لکھیں۔ اور وہ سب بری طرح ناکام ہو گئے۔ اور آج تک یہ معجزہ برقرار ہے۔ کوئی بھی قرآن مجید جیسا کلام نہیں بنا سکتا۔ اور میں نے سوچا، "واہ، یہ سمجھ میں آتا ہے۔ مطلب یہ مجھے بہت دلچسپ لگا، اور اس نے مجھے قائل کیا۔ لیکن جب وہ مجھے ثبوت دکھائے گا تب میں دیکھ کر سمجھوں گا، اور میں اپنی تحقیق بھی کروں گا۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ جو کہہ رہا ہے وہ سچ ہے۔ میں اس سے انکارنہ کر سکا۔ آپ کو شہادت دینا کیسا لگا؟ کیا آپ ہمیں ان لمحات تک لے جا سکتے ہیں؟ تو میں اگلے دن واپس گیا، اور کہا، "پتہ ہے جسے تم مانتے ہو۔ میں بھی اسے ہی مانتا ہوں۔ میں مسلمان بننا چاہتا ہوں۔ اور پھر ہم یونیورسٹی آف ایسٹ لندن گئے۔ اس یونیورسٹی میں، ایک بحث ہو رہی تھی.

جہاں اسپیکرنے کہا،"مجھے ایک اعلان کرنا ہے۔ سامعین میں کوئی ہے جو ہندو ہے۔ اور وہ مسلمان ہونا چاہتا ہے۔" تو اچانک پورا سٹیج گونج اٹھا۔ سب کہہ رہے تھے کہ یہ ڈرامہ ہے، اور وہ چیخ رہے تھے، وہ ناراض تھے، لیکن مجھے واقعی پرواہ نہیں تھی۔ تو پھر سپیکر نے کہا "اسٹیج پر آؤ۔" تو میں اسٹیج پر آیا، اس نے کہا۔ "کیا تم شہادت دینے کے لیے تیار ہو؟" اور میں نے کہا، "ہاں۔" اس نے کہا کہ میرے بعد دہراؤ۔ اس نے کہا، اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں)۔ تو میں نے وہی کہا جو اس نے کہا۔ اور جب میں نے لفظ محمد رسول اللہ پڑھا...

مجھے ایسا لگا کہ اس کلمے نے میرا جسم پاک کر دیا۔ ایسا میں نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا، اور میں اس پہ بہت حیران ہوا۔ اور اچانک مجھے سب لوگ پکڑ کے گلے لگا رہے تھے، میں نے سوچا، "یہ کیا ہے، یہ کیوں گلے لگا رہے ہیں؟" "تم مسلمان ہو گئے ہو۔ تم نے زندگی کے جھوٹے راستے کو چھوڑ دیا۔ اب تم نے سچائی کو اپنا لیا ہے۔" اور میں نے سوچا، "واہ۔ تو آپ کی فیملی اور اردگرد کے لوگوں کا اس پر کیا کیا ردعمل رہا؟ تو مجھے لگا میں مسلمان ہو کر بالکل نیا ہو گیا ہوں۔ اور میں اس وقت اپنے والدین کو اس بارے میں نہیں بتانا چاہتا تھا۔ کہ میں مسلمان ہو گیا ہوں، کیونکہ وہ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے۔ تو میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے بطور مسلمان نہیں تسلیم کریں گے۔ مجھے دین پر عمل نہیں کرنے دیں گے، تو میں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اگلے دن میں نے اپنے والدین کو کال کی۔ میں نے کہا، "مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔ میں مسلمان ہو گیا ہوں۔ ماں چلائیں، "پاگل ہو کیا؟" "کیا تم پاگل ہو گئے ہو؟ کہنے لگیں،"تمہیں برین واش کیا گیا ہے۔ کیا یہ محمد ہے؟ اس نے تمہیں ایسا کرنے کو کہا؟ میں نے کہا، سنیں، چاہے وہ محمد ہو یا کوئی بھی ہو" "وہ پیدا ہوتے ہیں اور مرتے ہیں، لیکن اسلام سچائی ہے۔ خالق کبھی نہیں مرتا۔ اور میں یہی مانتا ہوں۔ میں اس پر یقین رکھتا ہوں، چاہے کچھ بھی ہو۔ پھر میں نے بیک گراؤنڈ میں اپنے والد کو سنا، جو ماں سے کہہ رہے تھے "ہم اسے نہیں چاہتے۔" "اب وہ یہاں نہ آئے۔ اور میں بہت اداس ہو گيا۔ تو میں نے فون نیچے رکھا، اور اپنی زندگی جاری رکھی۔ کچھ عرصے بعد ٹاؤن ہال کی ایک تقریب میں، میری بہن ملی مجھ سے۔ اور اس نے کہا، "تم جانتے ہو، ہمارے والدین تھوڑے...

وہ اداس ہیں۔ مجھے لگتا ہے والد صاحب کو کافی برا لگا۔" تو میں نے اپنے دوستوں کو بتایا، اور میرے دو دوست، بہت تگڑے لڑکے، ایک ترک اور ایک پاکستانی۔ تو ہم ان کے ساتھ گھر گئے، اور میں نے انہیں سمجھایا، ’’دیکھیں، میں اپنی مرضی سے مسلمان ہوا ہوں، اپنے دوستوں کی وجہ سے نہیں۔ اور میں اسی پر عمل کرنا چاہتا ہوں۔ تو اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اس گھر میں رہوں، تو مجھے اسلام پہ عمل کرنے دیں۔ اور وہ مان گئے، لیکن مجھے معلوم تھا کہ ان کے ارادے اور ان کا منصوبہ کیا تھا۔ تو میں لندن واپس جانا چاہتا تھا، لیکن ساڑھے تین سال گزر گئے، میں انڈیا میں پھنس گیا۔ مجھے یرغمال بنا کر اغوا کر لیا گیا، پتہ ہے، صرف اسلام قبول کرنے کی وجہ سے۔ اور انہوں نے مجھے وہاں اس امید پر رکھا ،کہ میں ایک دن اسلام چھوڑ دوں گا اور یہ کہ میں واپس برہمن ذات کا ہندو بنوں گا، بالکل پورے خاندان کی طرح، اور یہی ان کی امید اور خواہش تھی۔ تقریباً ڈیڑھ سال گزر گيا میں اب بھی اسلام پر عمل پیرا تھا، اور میرے والدین مجھے ہندو مت پر قائل کرنے میں ناکام رہے۔ اور پھر وہ مجھے ایک دن سفر پر لے گئے۔ یہ ایک پہاڑی علاقہ تھا، اور وہاں ایک لڑکی تھی،وہ کافی اچھی اور خوبصورت تھی۔ انہوں نے کہا،"یہ جو لڑکی ہے، وہ اس علاقے کے پنڈت کی بیٹی ہے۔ اور انہوں نے کہا "کیا تم ان تمام پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو؟ مجھے کہا کہ وہ ان تمام جائیدادوں کا مالک ہے، انہیں کرائے پہ دے رکھا ہے۔ یہ آدمی ارب پتی ہے، اور انہوں نے کہا کہ اگر تم اس سے شادی کر لو، تمہیں کوئی کام کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ نہ پیسوں کی ضرورت پڑے گی۔ تمہیں ایک بڑی جیپ مل سکتی ہے، تم پوری دنیا گھوم سکتے ہو، تم لائف انجوائے کر سکتے ہو۔ تمہیں بس اس کی بیٹی سے شادی کرنی ہے۔ میں نے کہا، دیکھیں، آپ وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں۔ یہ زندگی ایک امتحان ہے اس خالق کی عبادت کرنے کے لیے، اور اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اس کی پیروی کرنے کے لیے۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں، تو پتہ ہے وہ ہمیں کیا دے گا؟ جنت، ابدی۔ جو اگلی زندگی میں ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ تو اب میں اس لڑکی سے شادی کرکے اپنی آخرت برباد کرکے وہ سب کھو دوں؟ کوئی پاگل ہی ایسا کرے گا۔ خیر انہوں نے مجھے نظر انداز کر دیا، اور ہم جھونپڑی میں گئے، اور انہوں نے کہا کہ "تمہیں بس میری بیٹی سے شادی کرنی ہے، اور تمہیں سب کچھ مل جائے گا۔ یہ سب تمہارا ہے۔" اس نے کہا، "صرف یہ سور کا گوشت چکھ لو۔ میں نے کہا، "کیا؟ اس نے کہا، "تمہیں بس سور کا ایک ٹکڑا کھانا ہے، اور معاہدہ ہو جائے گا۔ تو میں نے اس سے کہا، کہ سنو!

تم اپنی بیٹی، یہ جائیداد اور یہ سور کا گوشت اپنے پاس رکھو، مجھے یہ نہیں چاہیے میرے پاس کچھ بہتر ہے جو میرا انتظار کر رہا ہے، ابدی جنت۔ میں نے اس کروڑ پتی شاید ارب پتی کی بیٹی کو ٹھکرا دیا۔ کیونکہ میں اسلام کی پیروی کرنا چاہتا تھا۔ مجھے اس زندگی کی دولت نہیں چاہیے۔ میں آخرت کی دولت چاہتا تھا۔ اپنے رب سے ملاقات سے لطف اندوز ہونا اور پوری امت سے جنت میں ملاقات کرنا چاہتا تھا۔ جنت اس سے بہت بڑی ہے۔ جب میں ہندوستان میں نماز پڑھتا تھا۔ میرے کزن میرے سامنے چیزیں رکھتے تھے، کیونکہ یہ ان کے لیے عجیب تھا۔ کہ میں نماز پڑھ رہا ہوں اور میرے سامنے کوئی نہیں ہے۔ تم کس سے دعا مانگ رہے ہو؟ انہیں یہ عجیب لگا، لیکن میں جانتا تھا کہ میں اس خالق کی عبادت کر رہا ہوں، جس کی کوئی شکل نہیں، ان کے دیوتاؤں کے برعکس۔ میری ماں کو احساس ہوا کہ چیزیں ویسی نہیں ہیں تو وہ کافی غصے میں تھیں۔ تو انہوں نے مجھے نماز پڑھنے سے روک دیا۔ اور میرے ماموں نے مجھے پکڑ کر واقعی مجھے نماز سے روک دیا۔ میں واقعی پریشان تھا۔ وہ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ ،مطلب میں نے ان کا کیا بگاڑا تھا مجھے صرف اس ایک سچے خدا پر یقین تھا۔ اور جب اس نے مجھے چھوڑا، میں نے تھوڑا انتظار کیا اور پھر بھاگا۔ بہت پریشان تھا میں۔ اس لیے میں گاؤں کی طرف بھاگا۔ میرے پاس کوئی چپل نہیں تھے، ایسا ہی تھا -- میں جہاں تک ہو سکا بھاگا، اور چھپ گیا۔ وہ سب مجھے ڈھونڈ رہے تھے، اور پڑوسیوں میں سے ایک باہر آیا، بڑا سا آدمی، اور اس نے مجھے کچھ اس طرح زور سے تھپڑ مارا، اور میں سوچ رہا تھا، بہت تکلیف دہ تھا۔ اس نے مجھے گھر کے اندر گھسیٹا۔ اور پھر ایک اور پڑوسی آیا اور اس نے میرے منہ پر سیدھا مکّا مارا۔ اور میری حالت ایسی تھی...

مکے کی وجہ سے میں رو پڑا۔ اور میں سوچ رہا تھا، یہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ تم کون ہو؟ تم صرف ایک انسان ہو۔ قیامت تک کا انتظار کرو۔ میرا ایک رشتہ دار بھی جو پچاری تھا اس آدمی کا مرید تھا، اس کی حیثیت ایک پیر کی طرح تھی۔ اور باقی سب پہاڑوں کے اوپر اور نیچے جاتے اور ہر جگہ اس کے ساتھ رہتے۔ تو اس نے مجھ سے کہا، "اس کی عمر 100 سال ہے۔ بلکہ اس نے کہا کہ اس کی عمر 200 سال ہے۔ میں نے اسے دیکھ کر کہا کہ اپنا برتھ سرٹیفکیٹ دکھائیں۔ اس نے میری طرف نظر گھما کر دیکھا اور کہا، تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی اسے دیکھنے کی؟ اس سے سوال کرنے کی؟ تب میں نے کہا کہ میں اس روحانی شخص سے ملنا چاہوں گا۔ وہ کہتا ہے، "ہاں، تم اس سے مل سکتے ہو، اس نے انگریزی میں ڈگری حاصل کی ہے۔ میں نے کہا، "واہ، یہ حیرت انگیز ہے، میں اس سے بات کر سکوں گا۔" تو جب ہم وہاں گئے، تو یہ کوئی جنگلی علاقہ تھا۔ وہ نارنجی رنگ کے کپڑے پہنتا ہے اور لوگ آتے ہیں تو وہ انہیں تحائف دیتا ہے۔ سب سمجھتے تھے کہ وہ بہت روحانی ہے، جیسے وہ خدا کے بہت قریب ہو۔ بہرحال، تو ہم اس آدمی سے ملنے گئے ہر کوئی اس کے پاؤں چھو رہا تھا، اسے احترام اور عزت دینے کے لیے۔ میں نے سوچا،"میں اس کے پاؤں نہیں پڑوں گا، کہ میں صرف اللہ کے سامنے جھکتا ہوں۔ تو اس نے میری طرف دیکھا اور محسوس کر لیا، "دیکھو،باقی سب میرے پاؤں چھو رہے ہیں، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ یہ قدرے عجیب ہے، یہ میری بے عزتی کر رہا ہے۔ تو میں اس سے ملا، اور میں نے کہا، ’’سنو !

میرا نام محمد ہے۔ مجھے یقین ہے کہ خالق ایک ہی ہے، اور میں ثابت کر سکتا ہوں کہ خالق موجود ہے۔ اور میں ثابت کر سکتا ہوں کہ اس خالق نے تمام بنی نوع انسان کے لیے وحی بھیجی ہے۔ جو قرآن مجید ہے اور میں یہ بغیر کسی شک کے ثابت کر سکتا ہوں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے۔ اور میں نے کہا کہ آپ ہندو مت پہ یقین رکھتے ہو، آپ ہندو ہو۔ اگر آپ کو یہ سچ لگتا ہے۔ تو آپ مجھ پر ثابت کر سکتے ہو؟" اس نے کہا،" تم پہلے محمدازم کو ثابت کرو۔ میں نے اس سے کہا کہ دیکھو یہ محمدازم نہیں، یہ اسلام ہے۔ یہ خالق کے سامنے ایک مکمل اقرار ہے۔" میں نے اس سے کہا، "ٹھیک ہے، تو...

میں نے اسے ایک مثال دی۔ میں نے کہا، ’’یہ جھونپڑی دیکھو۔ یہ محدود ہے۔ اس بجلی کی تار کو دیکھو، جو روشنی پانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ محدود ہے، ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ کائنات کی ہر چیز محدود ہے، سوائے خالق کے۔ کیونکہ وہی یہ سب کچھ وجود میں لایا، اور ان سب کے ساتھ ساتھ ہم بھی محدود ہیں۔ ہم ایک دن مرنے والے ہیں۔ اس نے سب کچھ پیدا کیا ہے۔ ہم دیوتا نہیں ہیں۔ اور اس نے وحی بھیجی، قرآن بھیجا، اس نے تمام بنی نوع انسان کو ایک کتاب دی ہے اور اسے غلطیوں سے اور تبدیلیوں سے محفوظ رکھا۔ اور یہ قرآن اپنی نوعیت میں ایک معجزہ ہے، آپ اس کی مثل کچھ پیش نہیں کر سکتے۔ اور اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ یہ اس خالق کا پیغام ہے، اور یہ کہ اللہ، وہ تمام انسانوں کا خالق ہے، اور وہی ہے جو عبادت کے لائق ہے۔ اور میں نے کہا، "اب آپ کی باری۔" پھر وہ بولا، شروع میں وہ پنجابی بول رہا تھا۔ کہہ رہا تھا، "ایک نہر تھا"،"ایک دریا تھا۔ اور جو نہر تھا، وہ سندھو لوگ تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ دریا پر، دریائے سندھ پر، جو لوگ تھے، وہ سندھو کہلاتے تھے۔ پھر کہا، "وہ بگڑ گئے، کرپٹ ہو گئے۔ میں نے کہا، "میں سمجھ گیا۔ تو مطلب دریائے سندھ، دریائے ہند بن گیا اور جو سندھو تھے، وہ ہندو بن گئے، اور اسی لیے ہندوازم ہی سچ ہے!

اور وہ بولا"بیوقوف!"، "تم احمق ہو"! اور پھر میں نے دل میں کہا، "واہ، تم مجھے بے وقوف کہہ رہے ہو۔ تو پھر اس نے اپنی بات جاری رکھی، "میں تمہیں خدا ثابت کرتا ہوں۔" اس نے کہا، "ہم سب خدا بن سکتے ہیں۔" اور میں نے سوچا، "واو، ٹھیک ہے، پھر۔۔۔۔" کہتا ہے، "اس تار کو دیکھو، یہ ابدی ہے-- لامحدود ہے۔ پھر وہ وہی الفاظ استعمال کرنے لگا جو میں نے کیے۔ اور اس نے کہا، "اس طرح ہم بھی خدا بن سکتے ہیں۔ اور میں نے اس سے کہا، "سنو، تار لامحدود نہیں ہے۔ یہ محدود ہے، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ جو شخص اسے کاٹنے آیا تھا اس کے پاس کتنی تھی۔ ہاں، یہ لامحدود نہیں ہے، یہ محدود ہے۔ میں نے اس سے کہا، "اور سنو!

جب آپ چھوٹے تھے آپ کی عمر پانچ سال تھی، پھر آپ کی عمر 20 سال ہوئی، اور اب آپ کی عمر 70 یا 80 سال ہے، کیا آپ کو لگتا ہے کہ آپ کمرے میں اڑ سکتے ہیں؟ آپ نہیں کر سکتے، کیونکہ آپ محدود ہو۔ آپ صرف ایک انسان ہو۔ آپ یہ نہیں کر سکتے۔ یہ ناممکن ہے۔ آپ کبھی خدا نہیں بن سکتے۔ خدا ہم جیسا نہیں ہے۔ اور اس نے مجھ سے کہا، "بیوقوف!"، یعنی "یو ایڈیٹ" اور میں نے صرف اپنے رشتہ دار کی طرف دیکھا، اور میں نے کہا، "واہ کیا یہی اس کی عقلمندی ہے؟ کیا یہ وہ شخص ہے جس کو آپ مانتے ہو؟ یہ تو میرے سوالوں کا جواب بھی نہیں دے سکتا۔ تم اسے کیسے فالو کر سکتے ہو؟ تو بہرحال، وہ بحث ایسے ہی ختم ہو گئی۔ پھر میری ماں نے کچھ اور آزمانے کا فیصلہ کیا، لہذا انہوں نے سختی کا فیصلہ کیا۔ تو پھر، ہم نے مختلف دور دراز جگہوں کا سفر کیا۔ پھر ہم اس جگہ پر گئے، جہاں ایک آبشار تھی۔ یہ گنگا تھی۔ پانی وہاں سے آ رہا تھا، اور، سب جا کر وہاں نہا رہے تھے۔ کپڑوں سمیت، بہتے پانی کے نیچے، اور یہ سردیوں کا موسم تھا۔ میں نے اپنے رشتہ دار اور اپنی ماں سے پوچھا، یہاں کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے کہا،"تمہیں اس پانی کے نیچے جانا ہے۔ تم سن نہیں رہے، تم پانی کے نیچے جاؤ گے۔ میں نے منع کیا لیکن وہ نہ مانا۔ پھر اس نے مجھے زبردستی پکڑ لیا، اور مجھے قطار میں کھڑا کر دیا۔ میں اب آبشار کے لیے قطار میں تھا۔ میں سوچ رہا ہوں، اے میرے خدا، انہوں نے مجھے مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے۔ اور اگلی چیز جو آپ جانتے ہو، میں آبشار میں تھا، اور پانی میرے سر پر گر رہا تھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں ڈوب رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے تھوڑی دیر کے لئے وہاں رکھا، اور پھر مجھے باہر نکالا۔ تو میرے رشتہ دار نے کہا، "تمہیں کچھ محسوس ہو رہا ہے؟ کیا کچھ مختلف محسوس ہو رہا ہے؟ اور میں نے جواب دیا، "ہاں، واقعی"۔ وہ بہت خوش ہو گئے۔ کہ یہ کام کر گیا۔ میں نے کہا ہاں، پہلےمجھے صرف ٹھنڈ لگ رہی تھی، اب میں ٹھنڈک کے ساتھ ساتھ بھیگ گیا ہوں۔ اور وہ ایسے تھے، "کیا؟" میں نے ان سے کہا کہ،"آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ کیا سمجھتے ہو کہ اسلام کوئی جن ہے جو مجھے چڑھ گیا ہے؟ اور گنگا کا نام نہاد صاف پانی، اس جن کو میرے جسم سے نکال دے گا؟ صاف کر دے گا؟ تمہیں لگتا ہے گنگا کا یہ گندا پانی جس میں مردہ گائیں پڑی ہیں، لوگ جس میں اپنے کپڑے دھوتے ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ ناپاک پانی مجھے بدل دے گا؟ میں نے کہا، "اب تو اسلام پر میرا یقین اوربڑھ گیا ہے۔ جو کہ شچ ہے۔" تو اگلی چیز جو میں جانتا تھا، انہوں نے مجھے دوبارہ پکڑا۔ میں نے سوچا، "یہاں کیا ہو رہا ہے؟" وہ مجھے اس مندر کے اندر لے گئے۔ اور اس مندر میں ایک چھوٹا پنڈت تھا، اس کے پاس ایک بوتل تھی، جس میں کچھ سوراخ تھے۔ اور وہ مجھ پر کچھ مائع پھینک رہا ہے۔ میں نے کہا،"اوہ، اب یہ کیا ہے؟ میں نہیں جانتا تھا، لیکن وہ گائے کا پیشاب تھا۔ -- کیونکہ وہ گائے کو مقدس سمجھتے ہیں۔ تو وہ مجھ پر اپنے سارے بھجن پھونک رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا، "دیکھو تم کیا کرنے والے ہو؟" اور وہ لگا رہا۔ اور ظاہر ہے اس نے کام نہیں کیا۔ گائے کا پیشاب مجھے کیسے بدلے گا، اور اس کے بھجن میرے لیے کچھ معنی نہیں رکھتے، تو ظاہر ہے اس نے کام نہیں کیا۔ تو اب ہم اختتام کے قریب پہنچ رہے تھے، اور ہم آگے بڑھ نہیں سکتے تھے۔ چنانچہ ہم نے قصبے میں اپنے ایک گھر میں سکونت اختیار کی۔ تو بہرحال، میری ماں کا رویہ کچھ عجیب سا ہونے لگا۔ وہ کہنے لگی، تمہیں چائے چاہیے؟ اور میں نے کہا، "جی ہاں۔ اور انہوں نے مجھے چائے پلائی، اور پینے کے بعد، مجھے تھوڑا عجیب لگا۔ جیسے میری گردن ٹوٹنے والی ہو۔ مجھے اپنی گردن پر ایسا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ٹیکسی بلائی۔ اور وہ مجھے گاؤں لے گئے۔ اور گاؤں میں میری کزن میرے ساتھ تھی، اور اس نے کہا، " چائے مت پینا، وہ آپ کو ڈرگز دے رہے ہیں۔ میں نے کہا، "کیا؟ میں نے بہت سے خط لکھے کہ "دیکھو میں تھوڑا پریشان ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ میرا ایک رشتہ دار آیا، اور اس نے کہا، "تم خط لکھتے رہتے ہو نا؟ تمہارے دوست تمہیں بچانے کے لیے انڈیا آ رہے ہیں۔ اور جب وہ آئیں گے تو، ہم ان سے نمٹ لیں گے۔ اور میں نے کہا، "سنو، تم میرے دوستوں کے ساتھ کیسے نمٹو گے؟ ان لوگوں سے کیا ہی نمٹو گے جو موت کو پسند کرتے ہیں؟ وہ تو خود اگلی زندگی کا انتظار کر رہے ہیں۔ جو اس سے بہتر ہے۔ وہ ڈرتے نہیں ہیں۔ اس نے میری طرف دیکھا اور سوچنے لگا "واہ۔ اور وہ مزید کچھ نہ کہہ سکا۔ اور میں نے اپنا کام جاری رکھا، کیونکہ مجھے ہمیشہ اللہ سے امید تھی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ حالات کیا ہیں، اللہ ہمیشہ موجود ہے۔ اور اللہ ہمیشہ میرے حق میں بہترین ہی کرے گا۔ اور سب سے بڑھ کر، مجھے یہ احساس نہیں تھا ایک اجنبی ملک میں رہتے ہوئے، مسجد تلاش کرنا بہت مشکل تھا، اور قرآن مجید کا ایک نسخہ حاصل کرنا بھی۔ ایک بار میں نے ایک امام سے پوچھا، اور تقریباً تین ہفتوں بعد مجھے قرآن مجید کا ایک نسخہ مل گیا۔ مجھے جیسے دولت مل گئی۔ اور میں اسے چھپ چھپ کر پڑھتا رہتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے میرے رشتہ داروں کو قرآن کا نسخہ مل گیا تو وہ اسے لے گئے۔ اور میں واقعی پریشان تھا۔ بہت پریشان تھا۔ یہ بہت حیرت انگیز تھا، یونئو، اللہ کے ساتھ تعلق، یونئو، اسے پڑھنا، حیرت انگیز ہے۔ تو وہاں یہ سب ہوا۔ میری ماں کو احساس ہوا کہ وہ مجھے دوبارہ ہندو بننے اور اسلام چھوڑنے کے لیے قائل نہیں کر پا رہیں۔ اور پھر وہ کچھ عرصے کے لیے مجھے رشتہ داروں کے پاس چھوڑ کر واپس لندن چلی گئی۔ اب میرے پاس یہی موقع تھا، میری ماں نے میرے لیے کچھ پیسے چھوڑے تھے۔ میں جلدی سے شہر گیا، سامان خریدا، اور پیک کرنا شروع کر دیا۔ میں نے ٹرین کا ٹکٹ بھی خریدا۔ تو پیر کی رات کو میرے کپڑے، باقی سب تیار تھا، اور میں سڑک پر چل رہا تھا۔ اور راستے میں ہی ایک رشتے دار ملا، جو میئر کا بیٹا تھا۔ اس نے کہا "تم سوٹ کیس لے کر کہاں جا رہے ہو؟ میں نے سوچا، "اوہ میرے خدا، میرا منصوبہ ناکام رہا۔ میں نے سوچا، "میں کیا کہوں؟ میں نے کہا، 'میں بس...

اُم، اپنے پاسپورٹ کے کام کے لیے سفارت خانے جا رہا ہوں۔' اس نے کہا، "ٹھیک ہے۔" کیونکہ وہ لوگ جانتے تو تھے کہ میں مسلمان ہو جاؤں گا۔ مگر انہیں پوری تفصیل معلوم نہ تھی۔ تو مجھے سکون ملا۔ میں نے سوچا، "واہ۔" پھر میں ٹرین پر پہنچا اور ٹرین لیٹ تھی۔ سردیوں کا موسم تھا، شدید سردی اور دھند تھی۔.

اور میں نے سوچا، "اوہ میرے خدا، ٹرین نہیں آ رہی۔ بالآخر کچھ دیر بعد ٹرین آگئی تو میں ٹرین پر چڑھ گیا۔ پھر میں اسٹیشن پر پہنچا، میں نے سفارت خانے کے لیے ایک رکشہ کیا۔ اور میں نے کہا، "دیکھو، میں لندن سے ہوں، مجھے ہندوستان میں رکھا گیا ہے، میرے والدین میری شادی کروانے کی کوشش کر رہے ہیں اور میں لندن میں اپنی زندگی جاری رکھنا چاہتا تھا، اور یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ میں مسلمان ہو گیا ہوں۔ وہ کہنے لگے "ٹھیک ہے، ہم نے آپ کے دوستوں سے سنا ہے۔ انہوں نے کہا،"دیکھو، ہمارے پاس تمہارے پیسے ہیں۔ ہم نے آپ کا ٹکٹ خریدا ہے، ہمیں آپ کا ایمرجنسی ایگزٹ ویزا مل گیا ہے، جمعہ کی صبح، لندن جانے والے پہلے جہاز سے آپ نکل جائیں گے۔ میں حیران رہ گیا۔ میں واقعی بہت خوش تھا۔ اور جب میں ایئرپورٹ پر تھا، تو وہاں ایک سکھ شخص تھا اور وہی تھا جو پاسپورٹ پر مہریں لگا رہا تھا۔ اور ایک آدمی آیا اور اس نے کہا، "پاسپورٹ کہاں ہے آپ کا؟" اس نے کہا، "مجھے نہیں معلوم۔" اس نے کہا، "ادھر چلے جاؤ۔" اور میں...

میں تھوڑا پریشان ہو گیا، یار۔ یہاں سے نکلنے کا یہ میرا موقع ہے، اور میں کوئی مسئلہ نہیں چاہتا۔ لیکن اٌس آدمی نے مجھ سے کہا تھا "اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہو تو مجھے بتانا تو پھر میں نے سوچا کہ آخر یہ بندہ ہے کون؟ وہ صرف ایک انسان ہے۔ میں بس...

میں بس صورتحال کی وضاحت کر دوں گا۔ میں سچائی پر ہوں تو پھر کیوں پریشان ہوں؟ اللہ میرے ساتھ ہے۔‘‘ چنانچہ میں سکھ کے پاس گیا تو اس نے کہا، "آپ کا پاسپورٹ کہاں ہے؟ میں نے بتایا کہ میرا پاسپورٹ کھو گیا ہے۔ اس نے کہا، "آپ کا پاسپورٹ کہاں ہے؟" میں نے بتایا،"وہ گم ہو گیا ہے۔ مجھے ابھی یہ ایمرجنسی ایگزٹ ویزا ملا ہے۔ اس نے میری طرف دیکھا، مہر لگائی، اور کہا، "جاؤ۔" پھر میں آگے بڑھا اور پلین میں جا بیٹھا۔ کیا آپ نے ایسی موویز دیکھی ہیں جہاں ہوائی جہاز کا دروازہ بند ہے، اور آپ بس اس انتظار میں ہیں کہ کب، کوئی اندر آکر آپ کو پکڑ لے گا؟ مجھ پر بھی وہی وقت تھا۔ میں انتظار کر رہا تھا اور اچانک دروازہ بند ہو گیا۔ اور میں نے الحمدللہ کہا۔ میں خوش تھا کہ واہ!

اب تو میں واپس لندن جا رہا ہوں۔ تو میرے دوست وہاں ائیرپورٹ پہ میرا انتظار کر رہے تھے۔.

میں واقعی خوش تھا کہ مجھے اپنا سوٹ کیس مل گیا اور میں لندن واپس آ گیا ہوں۔ آخر کار، ساڑھے تین سال بعد میں اس دلدل سے نکل آیا، جس میں مجھے میرے اپنوں نے دھکیلا۔ یونئو، اللہ سبحانہ تعالیٰ یہ سب اس ذات باری تعالی کا کرم ہے۔ اس نے مجھے ان تمام مشکلات سے آزمایا، اور اسی نے مجھے بچایا۔ اور یونئو کہ وہ مجھے مزید نہیں روک سکتے۔ کیا آپ کو کبھی مسلمان ہونے پر افسوس ہوا؟ کبھی نہیں۔ مجھے بھلا اس سچائی کو ماننے کا افسوس ہو گا کہ ہم سب کو اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے؟ بس میری ایک خواہش یہ ہوتی کہ میں نبی پاک ﷺ کے زمانے میں پیدا ہوا ہوتا، آپ ﷺ کے صحابہ کے ساتھ رہتا، اسلام کی دعوت دیتا، زمین پر اسلام کو قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا، جیسے آج ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ ایک چیز جس کا مجھے افسوس ہے کہ میرے والد کا کووڈ سے پہلے انتقال ہو گیا، اور مجھے افسوس ہے کہ شاید میں نے تمام حربے استعمال نہیں کیے۔ میں انہیں ٹھیک سے قائل نہیں کر پایا کہ وہ مسلمان ہو جاتے۔ اگرچہ میں نے کوشش کی، لیکن انہوں نے اپنا دھرم نہیں چھوڑا۔ اور انہی بتوں کو مانتے تھے، وہ ان کو نہ چھوڑ سکے۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا عقیدہ ہی صحیح ہے، میں نے انہیں سمجھایا، لیکن وہ کبھی نہ مانے۔ اور ان کا انتقال ہوگیا۔ کیا آپ نے کبھی اللہ سے کوئی خاص تعلق محسوس کیا ہے؟ پتہ ہے، مجھے حج پہ جانے کا بہت شوق تھا۔ جب مجھے موقع ملا تو اپنی بیوی کے ساتھ حج پر گیا۔ 2024 میں۔ حج میں اتنا رش ہوتا ہے کہ آپ کھو جاتے ہیں۔ اور میں کھویا۔ تین دفعہ، میں تین دفعہ گم ہوا۔ وہ بھی اس طرح کہ نہ میرے پاس پیسے تھے اور نہ ہی فون۔ تو اسی طرح میں ایک دفعہ اپنا ہوٹل ڈھونڈ رہا تھا، لیکن انٹرنیٹ پر ہوٹل کا نام کچھ اور تھا، پتہ نہیں کیوں۔ میں اتنا پریشان ہوا کہ میرے آنسو نکل گئے۔ اور میں نے بہت سی دعائیں کیں۔ کہ "یا اللہ، اب آپ ہی میری رہنمائی فرمائیں۔" اور میرے سامنے تین راستے تھے جانے کے لیے۔ ایک سیدھا راستہ تھا، ایک اور تھا جو دو مزید راستوں میں تقسیم تھا، اور پھر ایک اور تھا۔ میں نے سوچا، "اسی پہ چلتا ہوں، مین روڈ پہ پہنچ جاؤں گا۔ اور میں نے ایسا ہی کیا اور میں ہوٹل پہنچ گیا۔ اور جب میں ہوٹل پہنچا، تو امام وہ حیران تھے، وہ مجھے عیسیٰ پکارتے تھے۔ انہوں نے کہا، "پتہ ہے، بہت سے لوگ کھو گئے ہیں، ابھی تک واپس نہیں آئے۔ "صرف تم ہی پہنچے ہو۔"پھر انہوں نے کہا، "عیسیٰ واپس آ گیا ہے!" وہ بہت حیران تھے، اور کہا کہ آپ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح واپس آ گئے!" تو میں واپس آگیا، اور میں ایک بار پھر کھویا، اور تیسری بار بھی۔ اور جب بھی میں ہوٹل واپس آیا۔ میں کافی حیران رہ گیا۔ تو اس وقت، آپ جانتے ہیں، جب آپ کھو جاتے ہیں، اللہ ہمیشہ آپ کے لیے واپسی کا راستہ تلاش کرتا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کو کس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟ وہ الامین تھے، سب سے زیادہ امانت دار، اور آپ کے قبیلے والے حالانکہ وہ اسلام کے پیغام سے متفق نہیں تھے، لیکن وہ بھی آپ کو سچا اور ایماندار مانتے تھے۔ وہ اپنے سامان کے لیے آپ پر بھروسہ کرتے تھے، وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے آپ کے پاس آتے تھے، جیسےحجر اسود کو کعبہ میں لگانے والا واقعہ۔ قرآن فرماتا ہے "لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ کہ رسول، محمد صلی اللہ علیہ وسلم، بنی نوع انسان کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ آپ کا سلوک ازواج مطہرات کے ساتھ بہترین تھا۔ اسلام کی دعوت کے لیے آپ کی قربانیاں ایک مثال ہے۔ بطور کمانڈر اور اسلام کے نفاذ میں آپ ایک بہترین مثال تھے۔ تو اس زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر انسان اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ اور آخری سوال، اگر دنیا کے تمام ہندوؤں سے بات کرنے کا موقع ملے تو، آپ ان سے کیا کہنا چاہیں گے، اگر آپ کے پاس صرف چند لمحے ہوں؟ میں کہوں گا کہ وہ سب کچھ بھول جاؤ جو تم جانتے ہو۔ دیکھو، اپنے ارد گرد چیزوں کو دیکھو، جان لو کہ یہ چیزیں ابدی نہیں ہیں، لیکن یہ سب کسی کی تخلیق ہیں۔ تو یہ کائنات، سولر سسٹم، کہکشائیں، اربوں ستارے، یہ سب کچھ خودبخود وجود میں نہیں آئے۔ کوئی بھی چیز خودبخود نہیں بنتی، بلکہ کوئی اسے بناتا ہے۔ کوئی ہے جو اسے وجود میں لایا ہے۔ اور اس خالق نے بطور ثبوت پیغام بھیجا ہے،جو کہ قرآن مجید ہے۔ اور یہ دوسری عام کتابوں کی طرح نہیں ہے۔ قرآن کا مطالعہ کریں، جب آپ کو احساس ہو جائے کہ یہی سچ ہے، جب آپ کو معلوم ہو جائے ہے کہ اس میں کوئی غلطی نہیں ہے، تو اس وحی پر عمل کریں، مسلمان ہو جائیں اور جنت آپ کی ہے۔ کیا آپ نے بھی اسلام قبول کیا ہے مگر سمجھ نہیں آ رہا کہاں سے سٹارٹ کریں؟ یا شاید آپ پیدائشی مسلمان ہیں مگر ایک فریش سٹارٹ لینا چاہتے ہیں اور اسلام کو بالکل شروع سے سیکھنا چاہتے ہیں؟ اسی لیے ہم نے Step Islam ایپ بنائی ہے۔ یہ بالکل فری اور ایڈ-فری ایپ ہے جو آپ کو بہت ہی کلئیر اور آرگنائزڈ طریقے سے اسلام کے بارے میں سکھاتی ہے۔ آپ ایزیلی ایمان کی بیسکس، اہم قرآنی ٹرمز سیکھیں گے، اور ایسے پریکٹیکل ٹاسکس پورے کریں گے جن سے آپ اپنے حساب سے، زندگی بھر کی عادتیں بنا سکیں۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر اسے ڈیلے مت کریں۔ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں، Step Islam ڈاؤنلوڈ کریں، اور ہمیشہ کی خوشی کی طرف اپنا پہلا سٹیپ آج ہی لیں۔