Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Ek Sunai Se Mahroom Khatoon Jisne 18 Logon Ko Islam Qubool Karwaya – Aik Be-Misal Zindagi Ki Kahani

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

جب آپ کو معذوری کا پتہ چلا تو آپ کے کیا احساسات تھے؟ آپ فجر کی نماز کے لیے کیسے اٹھ پاتی ہیں؟ میں پیدائشی بہری تھی اور میری امی کو اِس کا بہت صدمہ تھا۔ وہ مجھے آوازیں دیتی رہتی تھیں، ’’ریبیکا، ریبیکا‘‘، مجھے پکارتی رہتیں۔ اور میں یہاں وہاں ٹہلتی رہتی۔ اور وہ سمجھ نہ سکے کہ مجھ سے کس طرح بات کریں۔ وہ کنفیوز تھے۔ اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ کیا کریں۔ پھر میں اسکول جانے لگی۔ یہ نارمل بچوں کا اسکول تھا، اور میں وہاں اکیلی بہری بچی تھی۔ ٹیچر کو یہ بات پسند نہیں آئی اور اُنہوں نے مجھے مارنا شروع کر دیا، بہت دردناک مار پڑی تھی۔ میں گھر پہنچی اور اپنی امی کو بتایا۔ اُنہوں نے میری کمر دیکھی۔ میری امی چیخنے لگیں اور بہت غصے میں آ گئیں۔ جنت میں آپ سب سے پہلی چیز کیا سُننا چاہیں گی؟ السلام علیکم، سِسٹر ریبیکا حسین، ہماری دعوت قبول کرنے کا شکریہ۔ ہمیں آپ کو Towards Eternity میں، اپنے ساتھ دیکھ کر انتہائی خوشی ہو رہی ہے۔ اور آج اِس انٹرویو کے لیے، سِسٹر Sandra Labbadia سائن لینگویج کا ترجمہ کرتے ہوئے ہماری مدد کری رہیں ہیں۔ میں اِس سوال سے شروع کروں گا کہ ریبیکا حسین کون ہیں؟ کیا آپ ہمیں اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتا سکتی ہیں؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ میں ریبیکا ہوں۔ یہ میرا سائن نیم ہے۔ میں بنگلہ دیش میں پیدا ہوئی اور میں پیدائشی بہری ہوں۔ میرے والدین نے مجھے دیکھا، اور وہ سمجھ نہ سکے کہ مجھ سے کس طرح بات کریں۔ وہ کنفیوز تھے۔اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ کیا کریں۔ جب میں سات سال کی ہوئی تو اُنہوں نے مجھے امریکہ لے جانے کا فیصلہ کیا۔ بعد میں، وہ بہرے بچوں کے ایک اسکول گئے، اور میں نے پہلی مرتبہ سائن لینگویج سمجھنا شروع کی، اشارے، زبان، تاثرات میں بہت خوش تھی۔ میں یہ سب چیزیں سمجھ اور سیکھ رہی تھی اور بہتر ہو رہی تھی۔ پہلی بار، کوئی زبان میری زندگی میں آئی تھی اور میں نے بہت خوشی محسوس کی۔ مجھے یہ سب بہت اچھا لگا۔ میں اپنی زبان میں پہلی مرتبہ بات کر سکتی تھی۔ اور مجھے اِس میں کافی آسانی تھی۔ پھر میں نے اِسے مکمل کیا اور یونیورسٹی گئی۔ RIT، نیویارک میں راچسٹر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی۔ میں نے وہاں اپنا گریجویشن مکمل کیا۔ اور اب میں سائن لینگویج کی ماہر ہوں۔ آپ کو کس طرح کا بچپن ملا؟ کیا آپ ہمیں اپنی کہانی سنا سکتی ہیں؟ میں پیدائشی بہری تھی، اور میری امی کو اِس کا بہت صدمہ تھا۔ وہ مجھے آوازیں دیتی رہتی تھیں، ’’ریبیکا، ریبیکا‘‘، مجھے پکارتی رہتیں۔ اور میں اپنے کام میِں مگن رہتی۔ مجھے کچھ سنائی نہ دیتا۔ وہ کئی بار مجھے آوازیں دیتیں۔ ’’ریبیکا، ریبیکا‘‘۔ مگر مجھے آواز نہ آتی تھی۔ یہ بہت اُلجھن آمیز بات تھی۔ وہ بھی کنفیوز تھیں۔ وہ سمجھ نہ پائیں کہ آخر مسئلہ کیا ہے۔ وہ مجھے آوازیں دیتی رہتیں اور میں یہاں وہاں ٹہلتی رہتی۔ پھر پھر اُنہوں نے میرے انکل کو بلایا۔ انکل نے بتایا کہ بچی سُن نہیں سکتی۔ میری امی نے کہا، ’’اوہ، تو یہ مسئلہ ہے۔‘‘ پھر میں اسکول جانے لگی۔ یہ نارمل بچوں کا اسکول تھا، اور میں وہاں اکیلی بہری بچی تھی۔ اور میری ٹیچر...

وہ بنگالی اور انگلش زبانیں سِکھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اور وہ مجھے سب سے زیادہ بنگالی زبان پر توجہ دلوانا چاہتی تھیں۔ میں نے اِس طرف دیکھا اور پھر میری نظریں انگلش زبان کی طرف چلی گئیں۔ ٹیچر کو یہ بات پسند نہیں آئی اور اُنہوں نے مجھے مارنا شروع کر دیا، بہت دردناک مار پڑی تھی۔ وہ زبردستی مجھے بنگالی زبان سِکھانا چاہتی تھیں۔ مگر میں انگلش زبان کی طرف دیکھتی رہی۔ اور میں بنگالی نہ سمجھ سکی۔ اُنہوں نے انگلش زبان میں اُس وقت میری دلچسپی کو قبول نہیں کیا اور مجھے بہت مارا ،بہت مارا۔ میں بہت افسردہ تھی۔ میں گھر پہنچی اور اپنی امی کو بتایا۔ اُنہوں نے میری کمر دیکھی۔ میری امی چیخنے لگیں اور بہت غصے میں آ گئیں۔ وہ مجھے اسکول لے گئیں اور وہاں جا کر کہا، ’’دیکھو تم نے میری بیٹی کے ساتھ کیا کیا ہے۔‘‘ اُنہوں نے پرنسپل کو بتایا، اور وہ اِس پر بہت شرمندہ ہوئے۔ اُنہوں نے میرے ابو سے بات کی۔ اور میرے ابو نے سوچ سمجھ کر ایک فیصلہ کر لیا کہ ہم امریکہ جائیں گے، اور مجھے بہرے بچوں کے اسکول میں پڑھائیں گے۔ تو ہم امریکہ چلے گئے۔ اب میرے ساتھ یہ مسئلہ تھا کہ میں سُن نہیں سکتی تھی۔ میں تو بہری تھی۔ ڈاکٹر نے میرے کان چیک کیے اور کہا کہ ’’یہ چل سکتی ہے، یہ اشارے کر سکتی ہے۔‘‘ میرے ابو نے کہا، ’’چلیں اسے بہرے بچوں کے اسکول میں بِٹھاتے ہیں۔‘‘ ’’یہ اِس کے لیے سب سے بہتر ہوگا۔‘‘ تو جب میں اسکول میں داخل ہوئی، تو میں بہت زیادہ خوش تھی کیونکہ یہاں مجھے سائن لینگویج یعنی اشاروں کی زبان ملی تھی۔ میں اشاروں کی زبان میں زیادہ بہتر بات چیت کر سکتی تھی۔ میں نے اپنی امی کو بھی سِکھایا کہ کُوکی کو کیسے بولنا ہے، اور اپنی ضرورتیں اُنہیں بتانے لگی۔ میری امی بہت حیران تھیں۔ وہ بھی میرے اشاروں کو سیکھ رہی تھیں۔ میں خوش تھی، اور میری امی بھی خوش تھیں۔ مگر بڑی ہونے کے بعد روچیسٹر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی RIT میں، چلی گئی۔ اور یہیں مجھے احساس ہوا کہ میری زبان زبان کتنی خوبصورت ہے، میں ہر وقت اشاروں میں بات کرتی رہتی، یہ میرے لیئے بلکل پرفیکٹ تھی میں ہر ایک سے بہت آسانی سے میل جُول اور بات چیت کر سکتی تھی۔ جب آپ کو پتہ چلا کہ آپ میں یہ معذوری ہے اور یہ ٹھیک بھی نہیں ہو سکتی، تو آپ کے کیا احساسات تھے؟ الحمدللہ۔ الحمدللہ۔ اللہ نے مجھے زندگی دی ہے، اور اُس نے مجھے ہر نعمت سے نوازا ہے۔ چاہے میں سُن سکتی ہوں، یا بہری ہوں، میں خوش ہوں۔ میں اپنے بہرے پن پر خوش ہوں۔ میں بہت خوش ہوں۔ ہر چیز تو اُس نے دی ہے۔ میں اُس کے آگے سجدۂ شکر کرتی ہوں۔ کیا آپ کے ماضی میں کوئی ایسا لمحہ آیا جب آپ نے سوچا ہو کہ کاش میں سُن سکتی؟ اوہ، جب میں پانی اور لہروں کو دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ کاش میں ان کی آواز سُن سکتی یا پرندے کی آواز سُن سکتی، جو اپنے الفاظ میں اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ کاش میں فطرت کی آواز سُن سکتی۔ کاش میں کسی اور کی آواز سُن سکتی۔ کاش میں سنگیت سُن سکتی۔ کاش میں یہ سب سُن سکتی۔ مگر مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ ان شاء اللہ، جب آپ جنت میں جائیں گی تو وہاں آپ سب سے پہلی چیز کیا سُننا چاہیں گی؟ ان شاء اللہ۔ میں اللہ کی آواز سُننا چاہوں گی۔ میں اُس کی آواز سُننا چاہتی ہوں۔ مجھے سب سے بڑھ کر اللہ کی آواز سُننے کی خواہش ہے۔ پہلی بار آپ کو کب احساس ہوا کہ آپ سُن نہیں سکتیں؟ کیا جب آپ کی عمر تین یا دو سال تھی؟ ہاں۔ مجھے وہ وقت یاد ہے جب میں اپنے ابو، امی اور اپنے رشتے داروں کو باتیں اور گپ شپ کرتے ہوئے دیکھتی تھی۔ میں اُنہیں دیکھتی کہ اُن کے ہونٹ ہل رہے ہوتے تھے۔ میں اُنہیں باتیں کرتا ہوا دیکھتی رہتی۔ اور اُس وقت میں کچھ سمجھ نہ پائی۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ میں دیکھتی کہ اُن کی زبانیں حرکت کر رہی ہیں اور وہ کچھ بول رہے ہیں ایک دوسرے کو سلام کر رہے ہیں اور آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہ آیا۔ یہ بڑی الجھن آمیز بات تھی۔ مجھے کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔ جب میں 7 یا 8 سال کی ہوئی، میں سوچ رہی تھی، غور کر رہی تھی، تدبیر کر رہی تھی۔ اور اِن سوچوں نے مجھ پر اثر ڈالا کہ مجھے کس نے بنایا؟ میں کون ہوں؟ میں سمجھ نہ سکی، اور یہ سوچ میرے دماغ میں بہت شدت سے آئی کہ میں کون ہوں؟ اور میں نے اپنے بھائی سے پوچھا۔ وہ بہت چھوٹا تھا۔ وہ مجھ سے بھی چھوٹا تھا۔ اُس وقت میں تقریباً آٹھ سال کی تھی۔ میرا بھائی چار سال کا تھا۔ میں نے کہا، ’’مجھے کِس نے پیدا کیا؟‘‘ ’’مجھے کس نے بنایا؟ مجھے کس نے بنایا؟‘‘ اور میں اپنی جِلد اور اپنے ہاتھوں کو چھو کر اُس سے پوچھ رہی تھی۔ تو اُس نے کہا، ’’اللہ، اللہ‘‘۔ ’’میں نے اپنے بھائی سے کہا، ’’اللہ کون ہے؟‘‘ ’’مجھے نہیں پتہ وہ کون ہے؟‘‘ ’’تم اُسے نہیں دیکھ سکتیں۔‘‘ ’’اوہ اچھا، تو وہ کہاں ہے؟ وہ کہاں ہے؟‘‘ میں پہلے تو خوفزدہ ہوئی۔ ’’تمہیں کس نے بنایا؟‘‘ تو اُس نے پھر کہا، ’’اللہ‘‘۔ اور میری جِلد، میری ہڈیاں، میرا چہرہ۔ مجھے اندر سے کس نے بنایا، مجھے نہیں معلوم۔ اور کہاں سے؟ میں کہاں سے آئی ہوں؟ کیا اِسی زمین سے؟ مجھے کچھ معلوم نہ تھا۔ اور میں اپنے بھائی سے سیکھتی رہی جو مجھ سے چھوٹا تھا۔ ہم ایک فلاحی تنظیم ہیں جس کا عزم اسلام کے پیغام کو دس زبانوں میں دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔ اپنی سپورٹ سے آپ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے حرام کام چھوڑنے نماز شروع کرنے حجاب پہننے قران کی تلاوت سیکھنے جیسے عمال میں مدد دے سکتے ہیں اور ان تمام نیک اعمال کے بدلے اجرے عظیم پاسکتے ہیں انشااللہ TOWARDS ETERNITY کو عطیات دیں اور اس سنہری موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ آپ نے سائن لینگویج کب سیکھی؟ اپنی پیدائش کے بعد میں صرف اشارے کرتی تھی اشاروں کی زبان میں بات نہیں، صرف اشارے۔ جیسے کہ کوکی اور نام اور دودھ اور پانی اور جیسے کہ کھانا پکانا یا چولہے پر ابالنا۔ میں بھوکی ہوتی تو مجھے معلوم نہ ہوتاکہ کیسے بتاؤں اور اظہار کروں۔ بس اسی طرح کیا تم غصے میں ہو؟ لوگوں کے چہرے دیکھ کر، اُنہیں سمجھنے کی کوشش کرتی کہ کیا یہ غصے کے تاثرات ہیں۔ مگر پھر میں امریکہ آئی اور وہاں ہر چیز کو اور سائن لینگویج کو سمجھنے لگ گئی، میں اُس وقت تقریباً دس، گیارہ سال کی تھی۔ میں نے وہاں سیکھنا شروع کیا اور اشاروں اور سائن لینگویج کو یکجا کیا اور پھر بات کو سمجھنے کی بہت اچھی مہارتوں اور اشاروں کو اور چہرے کے تاثرات اور سائن کو یکجا کیا۔ اور اِس سے مجھے سائن لینگویج مکمل طور پر سیکھنے میں مدد ملی۔ کیا آپ خوابوں میں آوازیں سن سکتی ہیں؟ اوکے، اچھا میں اپنے خوابوں میں بھی نہیں سن سکتی مگر رنگوں کو دیکھ سکتی ہوں۔ میں رنگین خواب دیکھتی ہوں۔ تو کیا آپ اپنے خوابوں میں لوگوں کو سائن لینگویج استعمال کرتے ہوئے دیکھتی ہیں؟ جی ہاں۔ پہلے میں اِس بارے میں سوچا کرتی تھی۔ اور بہت سے بہرے افراد نہیں جانتے کہ خواب کو کیسے بیان کریں۔ مجھے اُنہیں اشارے اور چہرے کے تاثرات استعمال کرنے پر مجبور کرنا پڑتا ہے۔ تو میں بہت عرصے سے اِس بارے میں سوچ رہی تھی، اور تصور کر رہی تھی کہ میں اپنے خواب کیسے بیان کرتی ہوں۔ پھر میں نے اُنہیں بھی سمجھایا۔ اور اُنہوں نے یہ واضح کرنا شروع کیا کہ ہمارے خوابوں میں کیا ہو رہا ہے۔ ہم اشارے استعمال کرتے ہیں۔ اشارے اور سائن لینگویج دونوں۔ کبھی میں، صرف اشارے کرتی ہوں۔ اور کبھی سائن لینگویج استعمال کرتی ہوں۔ کبھی دونوں استعمال کرتی ہوں۔ مگر یہ صرف مکمل بہرے افراد کے لیے ہے۔ مکمل بہرے افراد کے لیے۔ کہتے ہیں کہ کسی ایک حِس میں کمی دوسری حِس میں اضافہ کر دیتی ہے۔ کیا آپ کے بہرے پن سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ ہاں۔ یہ اہم بات ہے۔ میرا تصور بہت زیادہ طاقتور ہے۔ تصور اور جسمانی اشارے اہم ہیں۔ میرے تصور میں جذبات ہوتے ہیں اور یہ ہر چیز کی وضاحت کر دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے چیزیں میرے سر کے اوپر سے گزر جائیں گی، یا میرے برابر سے گزر جائیں گی اور میں انہیں پکڑ نہیں پاؤں گی۔ لیکن جب میں کسی اظہار، نشانی یا بصری چیز کی تلاش میں ہوتی ہوں تو وہ زیادہ گہری محسوس ہوتی ہے۔ اُس وقت کیا ہوتا ہے جب آپ سڑک پر چل رہی ہوں اور اپنے ارد گرد کسی خطرناک چیز جیسے کہ کسی کار یا ٹرک کی آواز نہ سُن سکیں؟ کیا آپ کو کبھی ایسی مشکل صورتحال کا سامنا ہوا ہے؟ میں ہر وقت اپنی آنکھوں کو ڈبل کھلا رکھتی ہوں۔ میری نظر ہر طرف ہوتی ہے۔ میں ہر وقت ہر چیز کو، اور ہر طرف دیکھ رہی ہوتی ہوں۔ یہ میرے لیے بالکل نیچرل بات ہے۔ میں ڈرائیونگ کرتی ہوں اور بہت شاندار ڈرائیور ہوں میں بہت مہارت رکھتی ہوں۔ لوگ تو باتیں کر رہے ہوتے ہیں، وہ کسی کی بات سن رہے ہوتے، فون پر بات کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ لوگ اپنی توجہ کھو بیٹھتے ہیں۔ مگر میرے ساتھ یہ معاملہ نہیں۔ میں انتہائی سُپر فوکسڈ رہتی ہوں۔ میری سوچ شفاف ہوتی ہے اور میں ماہر بھی ہوں کیونکہ دوسروں سے زیادہ فوکس کرتی ہوں۔ تو کیا آپ ڈرائیو کر سکتی ہیں؟ جی ہاں۔ درحقیقت، بہرے لوگ نارمل لوگوں سے زیادہ اچھے ڈرائیور ہوتے ہیں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے۔ اعداد و شمار یہی بتاتے ہیں۔ ایک نوجوان لڑکی کی حیثیت سے، کیا آپ کو شادی کے حوالے سے مشکلات ہوئیں اور آخرکار آپ کی شادی کیسے ہوئی؟ میرے والدین کی شدّت سے خواہش تھی کہ میری شادی ہو جائے۔ اور وہ میرے لیے رشتہ تلاش کر رہے تھے۔ پھر میرے والدین کو ایک لڑکا ملا جو واقعی بہت اچھا تھا، اور اُنہوں نے اُس کا تعارف مجھ سے کروایا۔ وہ بنگلہ دیش سے ہی تھا۔ اور کیلیفورنیا میں رہتا تھا۔ وہ میرے ابو کے دوست کا سالا تھا۔ اور اُنہوں نے ہمارا تعارف کروایا تھا۔ میرے والدین نے مجھ سے بات کی اور مجھے یہ بات بہت پریشان کُن لگی۔ میں نے سوچا، کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ مجھے بات چیت کے بارے میں فکر تھی۔ مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے میرے لیےصحیح شخص ڈھونڈا ہے۔ وہ میری بات نہیں سمجھ گا۔ اور میں اُس کی بات کیسے سمجھوں گی؟ ہم بات چیت کیسے کریں گے؟ مگر میرے والدین نے کہا کہ تم کر سکتی ہو۔ کہنے لگے، تم کوشش کر سکتی ہو۔ وہ سُن سکتا ہے، مگر کوئی بات نہیں۔ وہ تمہاری مدد کرے گا اور یوں تمہاری زندگی آسان ہو جائے گی۔ اور تم کوشش کرکے اُس کے ساتھ بات چیت کر سکتی ہو۔ تو وہ میرا شوہر تھا جس سے اُنہوں نے میرا تعارف کروایا۔ اور میں اُسے تھوڑی بہت سائن لینگویج سِکھائی۔ اور وہ...

ایک اچھا انسان نکلا اور ہم نے ایک لمبا عرصہ ہنسی خوشی گزارا اور اب تک...

ہماری شادی کو 37 سال ہو گئے ہیں۔ تو آپ اپنے شوہر سے کس طرح بات کرتی تھیں؟ شروع میں، میں اپنی آواز استعمال کرنے کی کوشش کرتی تاکہ وہ مجھے سُن سکیں۔ مگر مجھے اُن کی بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ اور میں سُن نہیں سکتی تھی۔ نہ ہی ہونٹوں کی حرکت پڑھ سکتی تھی۔ وہ بہت زیادہ مشکل وقت تھا۔ کیونکہ میں ہونٹوں کی حرکت نہیں پڑھ سکتی تھی اور اُن کی بات نہیں سمجھ سکتی تھی۔ میں اُن کے ہونٹوں کو نہیں پڑھ سکتی تھی۔ وہ اتنے زیادہ نہیں کھلتے تھے کہ میں سمجھ پاتی۔ مگر پھر آہستہ آہستہ مجھے سیکھنا پڑا کہ وہ کونسا لفظ بول رہے ہیں، اور مجھے پریکٹس کرنی پڑی۔ اور پھر اپنی سائن لینگویج بھی استعمال کرتی۔ اس کے علاوہ، میں بہت زیادہ اشارے اور چہرے کے تاثرات استعمال کرتی، یوں وہ میری بات زیادہ سمجھ پاتے تھے۔ اور پھر میں نے اپنے لیے اُنہیں بھی اشارے اور سائن استعمال کرنے پر زور دیا۔ تاکہ میں اُن کی بات سمجھ سکوں۔ تو آپ اپنی آواز استعمال کر سکتی ہیں مگر ہماری جتنی نہیں، ہاں ؟ میری آواز مینڈک جیسی ہے۔ نہیں، نہیں۔ بالکل نہیں۔ میری آواز مینڈک جیسی ہے۔ آپ کی اواز اچھی ہے۔ بس چند الفاظ اور پھر ہم اپنی بات جاری رکھیں گے۔ میں بول سکتی ہوں، مگر صاف نہیں۔ میں ہونٹوں کی حرکت سے کچھ لوگوں کی بات سمجھ لیتی ہوں۔ مگر مجھے سنائی نہیں دیتا۔ میں اُن کے ہونٹوں کی حرکت دیکھتی ہوں۔ اور مجھے معلوم ہو جاتا ہے۔ کیا آپ ہمیں اشاروں سے سورۃ الفاتحہ کا ترجمہ بتا سکتی ہیں؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ شروع اللہ کے نام سے، جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے۔ تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ جو سب پر مہربان ہے ، بہت مہربان ہے۔ جو روزِ جزا کا مالک ہے۔ (اے اللہ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ اُن لوگوں کے راستے کی جن پر تُو نے انعام کیا ہے۔ نہ کہ اُن لوگوں کے راستے کی جن پر غضب نازل ہوا، اور نہ اُن کے کہ جو بھٹکے ہوئے ہیں۔ ماشاء اللہ۔ کیا آپ سائن لینگویج میں ہمیں لفظ ’’اللہ‘‘ بتا سکتی ہیں؟ اللہ۔ ایک۔ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم قرآن؟ قرآن۔ رمضان؟ رمضان۔ اوکے۔ اور نماز، صلوٰۃ؟ ماشاء اللہ۔ بہت خوب۔ اور کعبہ؟ کعبہ۔ مکّہ مکّہ۔ یہ مکّہ ہے۔ مکّہ آ جاؤ۔ میں آپ کو بلا رہی ہوں مکّہ۔ تو، یہ مکّہ ہے۔ آپ کو بلانے کا عمل۔ روزہ؟ روزہ۔ اچھا گناہ؟ شیطان؟ جہنم؟ آگ، آگ۔ جنت؟ اور فرشتے، فرشتے؟ ہاہاہا۔ بہت خوب ، بیت خوب۔ حلال یہ حلال ہے۔ یہ حرام ہے۔ حرام۔ حرام۔ حرام۔ آپ فجر کی نماز کے لیے کیسے اٹھ پاتی ہیں؟ خود بخود، بُوم!

اللہ تعالیٰ مجھے بتاتا ہے کہ وقت ہو گیا اور بُوم۔ ایک ہتھوڑی کی طرح، بُوم، اور میں اٹھ جاتی ہوں۔ مگر کیا پورا سال یہی معاملہ رہتا ہے؟ بعض اوقات میں اٹھ جاتی ہوں۔ بعض اوقات مجھے روشنی کا جھپاکا محسوس ہوتا ہے، جیسے روشنی میری طرف بڑھ رہی ہے۔ مجھے ایسا احساس ہوتا ہے۔ جیسے مجھے بتا رہی ہو کہ نماز کا وقت ہوگیا۔ تو اللہ آپ کو اِس انداز سے جگاتا ہے۔ ہاں گویا اللہ خود جگاتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی بہرے شخص، کسی غیر مسلم کو اسلام سمجھایا ہے؟ اور اُس کا ری ایکشن کیا تھا؟ ایک مرتبہ، آن لائن، اوکے؟ کمپیوٹر پر، آن لائن، میں ایک شخص سے بات کر رہی تھی ہم آپس میں کنیکٹ ہوئے اور مِلے۔ اور مجھے نہیں پتہ اُس نے کیسے ہماری آرگنائزیشن، ISTHH کے ذریعے میرا نمبر لیا پھر میرے سامنے آیا اور مجھ سے اسلام کے بارے میں ایک سوال پوچھا۔ میں نے کہا، ٹھیک ہے، میں بتاؤں گی، تمہیں سمجھاؤں گی۔ اُس نے مجھ سے کہا کہ، ’’میں عیسائی ہوں “اور میں نے کہا، ’’میں مسلمان ہوں‘‘۔ ’’کیا میں اپنے کرسچن Jesus کا بُت آپ کے پاس لاؤں تو آپ اُن کی عبادت کریں گی؟‘‘ میں نے اُس سے کہا، ’’میں ایسے ہر بُت کو باہر نکال دوں گی۔‘‘ میں نے اُس سے کہا کہ ’’میں ایک ایک بُت کو نکال باہر کروں گی۔‘‘ ہمارا خدا ایسے ہر بُت کو توڑ دے گا جو تم اُس کے سامنے لاؤ گے اور اُسے پھینک دے گا کیونکہ ہم صرف ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ مجھے دیکھنے لگا اور بہت حیران ہوا کیونکہ اِس سے پہلے کبھی اُس نے ایسی وضاحت نہیں سنی تھی۔ اور اُسے محسوس ہوا کہ جب وہ مجھ سے بات کر رہا تھا، تو وہ اسلام کے بارے میں سیکھ رہا تھا جو میں اُسے سمجھا رہی تھی کہ یہی صحیح طریقہ ہے اور پھر اُس نے اسلام قبول کر لیا۔ ماشاء اللہ۔ ماشاء اللہ۔ کیا ایسی کوئی اور مثال بھی ہے؟ یا ایسا ایک بار ہوا تھا؟ اوکے، ایک عورت جوکہ میری طرح بہری تھی۔ کہنے لگی، ’’ میرا ایمان ہے کہ Jesus خدا ہیں۔‘‘ میں Jesus کو مانتی ہوں‘‘ تو میں نے کہا، ’’چلو میں تمہیں سمجھاتی ہوں، میں ایک بات سمجھاتی ہوں۔‘‘ ’’کیا تم کسی ہاتھی کی عبادت کرو گی؟ کیا تم ایک زرّافے کی عبادت کرو گی؟ کیا تم ستاروں کی عبادت کرو گی؟‘‘ اور میں نے اِس طرح کی بہت سی چیزیں گِنوائِیں۔ ’’کیا تم اِن چیزوں کی عبادت کرو گی؟ کیا تم ایک دوسرے انسان کی عبادت کرو گی؟‘‘ ’’کیا تم بُدّھا کی عبادت کرو گی؟‘‘ ’’کیا یہ سب ایک جیسے ہیں؟‘‘ ’’کیا تم میری عبادت کرو گی؟ کیا مجھے تمہاری عبادت کرنی چاہیے؟‘‘ تو اُس نے کہا نہیں۔ اُس نے میری طرف دیکھا اور وہ بہت کنفیوز ہوگئی تھی۔ اور وہ سوچ رہی تھی اور اُسے احساس ہو گیا تھا کہ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔ تم اللہ کے سِوا کسی چیز کی عبادت نہیں کر سکتیں۔ اور اُسے سمجھایا کہ وہ تمہیں دیکھتا ہے مگر تم اُسے نہیں دیکھ سکتیں۔ لیکن تمہارا اپنے آپ کو دیکھنا اِس بات کا ثبوت ہے کہ اُس نے تمہیں بنایا ہے۔ تو یہی تمہارا ثبوت ہے کہایک خالق موجود ہے۔ مگر تم ہاتھی کی، یا اِن جیسی دوسری چیزوں کی عبادت نہیں کر سکتیں۔ اور میں نے ساری چیزیں گِنوائیںاور اُسے احساس ہوگیا۔ اُسے اندر ہی اندر اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اِس بات کو تین مہینے گزرے ہوں گے، میں ایک دن اُسے پڑھا رہی تھی اور وہ مسلمان ہوگئی۔ آپ کی جانب سے اسلام کے متعلق بتائے جانے کے بعد کتنے لوگوں نے کلمہ پڑھا؟ تقریباً 18۔ آپ کے ذریعے 18 لوگ مسلمان ہوئے؟ جی ہاں۔ بہرے لوگ، یہ بہرے لوگ تھے۔ دعوۃ دینے کے لیے آپ کِس سے اِنسپائر تھیں؟ میں نے دعوۃ کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا؟ یہ تو لوگوں کی جانب سے مجھ سے سوالات پوچھنے کا نتیجہ ہے۔ لوگ اکثر میرے پاس آ کر مجھ سے مختلف باتیں پوچھتے ہیں۔ مگر میں ایک مُبَلِّغ نہیں تھی اور نہ ہی ہوں۔ میں یہ کام کرنا، تبلیغ کرنا نہیں چاہتی۔ مطلب، اگر اللہ تعالیٰ کسی کو میرے پاس لے آتا ہے اور وہ مسلمان ہوتا ہے، اور اُسے کوئی علم چاہیے ہوتا ہے تو دے دیتی ہوں۔ لوگ میرے پاس آتے ہیں اور مجھے بے شمار لوگ کالز کرتے ہیں۔ اور میں کہتی ہوں، ’’اللہ تیرا شکر ہے۔ میں جانتی ہوں تُو ہی اِنہیں میرے پاس بھیجتا ہے، لہٰذا میں اُنہیں پڑھاتی اور سمجھاتی ہوں۔‘‘ اللہ ہی اُنہیں میرے پاس بھیجتا ہے اور میں اپنی معلومات اُنہیں دے دیتی ہوں۔ آپ کو اِس زندگی میں سب سے زیادہ کس چیز میں مزہ آتا ہے؟ مجھے اسلام کے بارے میں سیکھنے اور جاننے میں بہت مزہ آتا ہے، اور میں اللہ کو جاننے اور اُس کے اور قریب ہونے سے بہت لطف اندوز ہوتی ہوں۔ اُس کے قریب ہونے اور لوگوں کی مدد کرنے سے۔ اور اپنے شوہر کی، دوسرے لوگوں کی، اپنی فیملی کی مدد کرنے سے۔ سب سے بڑھ کر، اللہ کے قریب ہونے سے۔ اِس میں مجھے سب سے زیادہ مزہ آتا ہے۔ میرا دین۔ میرا مذہب۔ ایک مرتبہ ایک بہرے شخص نے بتایا تھا کہ اگرچہ وہ اذان نہیں سُن سکتا، مگر اکثر اِسے محسوس کرتا ہے۔ کیا آپ کو بھی کبھی ایسا تجربہ ہوا ہے؟ ایک مرتبہ Sandra اور میں نے مسجدِ اقصیٰ کا سفر کیا تھا۔ Sandra سائن لینگویج میں اذان پڑھ رہی تھی۔ اور یہ اپنے ہاتھوں کو تھرتھرا رہی تھی، بہت تھر تھرا رہی تھی تاکہ اپنی آواز کو امام کی آواز سے میچ کرے۔ اور میں اِس کے تھر تھرانے سے ہی ہِل رہی تھی۔ کیونکہ میں اُس کے ہاتھوں میں ’’اللہ اکبر‘‘ کی تھرتھراہٹ کو محسوس کر رہی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی ’’اللہ اکبر، اللہ اکبر‘‘۔ اور اِس کے ہاتھ اِس طاقتور جذبے کو بیان کر رہے تھے جسے میں محسوس کر سکتی تھی، اور میں اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو اور اُن کے تاثرات کو دیکھ سکتی تھی۔ اور میں اُس کی عظمت کا یہ احساس اپنی آنکھوں سے محسوس کر سکتی تھی۔ کیا آپ لوگوں کے منہ اور ہونٹوں کی حرکات سے اُن کی بات سمجھ سکتی ہیں؟ زیادہ تر بہرے افراد ہونٹوں کی حرکات سے بات نہیں سمجھ سکتے۔ مگر میں سمجھ لیتی ہوں۔ اور لوگ اِس پر حیران ہوتے ہیں۔ میری سائن اور لِپ ریڈنگ پر لوگ بہت حیران ہوتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تحفہ ہے۔ میں اِس پر بہت خوش ہوں۔ اِسی سوال کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھوں گا کہ ابھی میں جو کہہ رہا ہوں آپ اُسے سمجھ سکتی ہیں؟ کیا ہم آزمائیں۔ کیا آپ سمجھ سکتی ہیں کہ میں ابھی کیا کہہ رہا ہوں؟ ہمیں آپ کے گھر آ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ انہیں زیادہ جذبات کی ضرورت ہے؟ انہیں ایموشنز بھی چاہئیں۔ - ایموشن۔ ایموشن۔ - ایموشن۔ ہمیں آپ کا انٹرویو کرکے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ ہمیں آپ سے مل کر اور آپ کا انٹرویو کرکے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ ہاں، ماشاء اللہ۔ ماشاء اللہ۔ سسٹر ریبیکا، کیا آپ مسلمانوں اور خصوصاً غزہ میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کے لیے دعا کر سکتی ہیں؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ پوری دنیا۔ فلسطین۔ سارے ملک۔ تکلیف میں مبتلا اور روتے ہوئے بچوں پر اپنی رحمت نازل فرما۔ ہم اپنے ہاتھ تیرے آگے اٹھاتے ہیں، پوری دنیا پر اپنی رحمت نازل فرما۔ اور ہر شخص کو تکلیف سے اور بربادی سے محفوظ فرما۔ اے اللہ سب کو معاف کر دے، ہم تجھ سے اپنے لیے رحم کا سوال کرتے ہیں، آمین۔ سِسٹر ریبیکا، اپنے جوابات اور ہمیں اپنا وقت دینے پر آپ کا بے حد شکریہ۔ ہمیں آپ سے بہت اِنسپیریشن ملی ہے۔ اللہ آپ کو اِس کا اجر دے۔ Towards Eternity کا سفر جاری رہے۔ ماشاءاللہ !،ماشاءاللہ!

آپ کی ہر بات کے لیے آپ کا شکریہ اللہ حافظ۔