Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

اسلام اب بھی اتنی تیزی سے کیوں پھیل رہا ہے؟ (اصل وجہ)

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

کیا اسلام تلوار کے زور پر پھیلا؟ کیا اسلام اور تشدّد ایک ہی چیز ہیں؟ اور اگر اسلام امن کا مذہب ہے، تو جنگیں کیوں لڑی گئیں؟ صدیوں سے اِن دعووں کو بار بار دہرایا جاتا رہا ہے۔ لیکن اِن میں کتنی سچائی ہے؟ اگر کوئی آپ سے یہ سوالات پوچھے، تو آپ کیا جواب دیں گے؟ اور اِس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ خود تاریخ ہمیں کیا بتاتی ہے؟ آئیے اُس دور میں چلتے ہیں جہاں سے یہ سب شروع ہوا تھا، اور دیکھتے ہیں کہ تاریخ میں قوموں نے اسلام کو کیسے قبول کیا: تلوار کے زور سے، یا کسی اور طاقت کے ذریعے؟ یہ 610 عیسوی کا سال تھا۔ پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اِس راستے کا آغاز بالکل اکیلے کیا تھا۔ غارِ حرا میں، آپ نے بالکل تنہا ہی سب سے پہلی وحی حاصل کی تھی۔ مگر آپ کا پیغام اتنا خوبصورت اور طاقتور تھا کہ وقت کے ساتھ لوگ

اپنی مرضی سے اِس مذہب میں شامل ہونے لگے۔ شروع میں اسلام کی دعوت خفیہ طور پر دی گئی تھی۔ ابتدائی مسلمانوں نے، تمام تر دباؤ اور ظلم و ستم کے باوجود، کبھی اپنا دین نہیں چھوڑا۔ اُن پر تشدد کیا گیا، اُنہیں جلتی ہوئی ریت پر لٹایا گیا، اُنہیں اپنے گھروں میں باندھا گیا، اور بھوکا پیاسا رکھا گیا، یہاں تک کہ دہکتے ہوئے انگاروں پر بھی لٹایا گیا۔ اور یہ سب صرف اِس وجہ سے تھا کیونکہ وہ کہتے تھے، "میرا رب اللہ ہے۔ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں۔" نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اُنہیں صبر کرنے کی تلقین فرمائی۔ اور وہ دعوتِ اسلام کے راستے پر ثابت قدم رہے۔ یہ تقریباً 620 عیسوی کا سال تھا۔ مکہ میں 10 سال تک ظلم و ستم سہنے کے بعد، اللہ نے ایک نئی سرزمین تیار کی جہاں یہ پیغام پھلے پھولے: مدینہ۔ جب مدینہ کے بہت سے

لوگوں نے اسلام کا پیغام سنا، تو وہ دل سے اِس کی طرف مائل ہو گئے۔ اُنہوں نے زبردستی یا دھمکی کے زور پر اسلام قبول نہیں کیا؛ بلکہ اُنہوں نے اِس پیغام کی اصل خوبی کو دیکھا تھا۔ نبی کریم ﷺ مکہ کے مسلمانوں کے ساتھ مدینہ ہجرت فرما گئے۔ جب آپ اُس شہر پہنچے، تو آپ نے وہاں کے تمام لوگوں سے ایک معاہدہ کیا: جن میں مومن، بت پرست اور یہودی سب شامل تھے۔ معاہدے کا مقصد مل جل کر امن کے ساتھ رہنا تھا۔ جیسے ہی لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی زندگی، آپ کے اخلاق اور آپ کے طور طریقے دیکھے، تو مدینہ جلد ہی اسلام کا مرکز بن گیا۔ یہ شہر تلوار سے نہیں، بلکہ کلام اور امن کے ذریعے فتح ہوا۔ لیکن ظاہر ہے، اہلِ مکہ کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ بلکہ، وہ اپنے عروج پر تھا۔ اُس دوران تین بڑی جنگیں لڑی گئیں: بدر، اُحد اور خندق۔ بدر

پہلی جنگ تھی۔ شروع میں، مسلمان اُس تجارتی قافلے کو روکنے نکلے تھے جسے اہلِ مکہ نے تیار کیا تھا۔ لیکن چونکہ اہلِ مکہ اپنی فوج لے کر نکلے تھے، اس لیے یہ ٹکراؤ ناگزیر تھا۔ جبکہ اُحد اور خندق واضح طور پر دفاعی جنگیں تھیں، جو صرف اِس لیے لڑی گئیں کیونکہ مکہ کی فوجیں مدینہ پر حملہ کرنے آئی تھیں۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ مکہ نے اسلام کیسے قبول کیا؟ اِن تین جنگوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ جب نبی کریم ﷺ نے اُن کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا، جسے صلح حدیبیہ کہتے ہیں۔ اور جیسے ہی امن قائم ہوا، مسلمان اور مکہ کے بت پرست ایک دوسرے سے ملاقات اور گفتگو کرنے لگے۔ نفرت اور تعصب کی جگہ امن نے لے لی۔ اِس سے اُنہیں اسلام کی خوبصورتی کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اب وہ تعصب کے بغیر قرآن سننے لگے تھے۔ اور بہت سے

لوگوں نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ یہاں تک کہ صلح حدیبیہ کے بعد کے دو سالوں میں، اسلام میں داخل ہونے والوں کی تعداد پہلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی۔ وہ تلوار کے زور پر نہیں، بلکہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کر رہے تھے۔ مگر پھر بھی بہت سے لوگ ایمان نہ لائے، اور دو سال بعد، انہوں نے صلح کا یہ معاہدہ توڑ دیا۔ اِس کے بعد، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دس ہزار کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف پیش قدمی فرمائی۔ آپ جنگ کے بغیر اِس شہر کو فتح کرنا چاہتے تھے۔ اور آپ اِس میں کامیاب رہے۔ لوگوں نے ہتھیار ڈال دیے اور ہار مان لی۔ بالکل مدینہ کی طرح، مکہ بھی تقریباً بغیر خونریزی کے فتح ہوا۔ تو پھر فتح کے بعد کیا ہوا؟ کئی سالوں تک، اُن لوگوں نے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں پر ظلم ڈھائے تھے۔ اب وہ شرمندہ تھے اور

اُن کے سر جھکے ہوئے تھے۔ وہ انتظار کر رہے تھے کہ اب اُن کے ساتھ کیسا سلوک ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے کچھ دیر اُن کی طرف دیکھا۔ اب آپ کیا کریں گے؟ کیا اب آپ اُن کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو پہلے وہ آپ کے ساتھ کرتے رہے تھے؟ کیا آپ اُنہیں ذلیل و رسوا کریں گے، مہینوں بھوکا رکھیں گے، اُنہیں اُن کے گھروں سے نکال دیں گے، یا اُن پر اونٹوں کی اوجھڑیاں ڈالیں گے؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ بلکہ آپ نے وہ الفاظ کہے جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ "آج تم پر کوئی الزام نہیں۔ اللہ تمہیں معاف کرے، اور وہ سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔ جاؤ، تم سب آزاد ہو۔" فتح مکہ کے دن، ایک عام معافی یعنی درگزر کا اعلان کیا گیا۔ لوگوں نے نبی کریم ﷺ کے خلوص کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بہت جلد، اکثریت نے، یہاں تک کہ آپ کے بدترین دشمنوں نے

بھی اسلام قبول کر لیا۔ مکہ کو فتح کرنے والا ہتھیار نہیں، بلکہ رحم دلی تھی۔ اِس کے بعد، پورے عرب کے قبائل جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ اور یہ سب کچھ صرف 21 سال کے عرصے میں ہوا۔ ان تمام واقعات میں، تلوار صرف علامتی تھی، تاکہ مسلمانوں کی طاقت اور دفاع کو ظاہر کیا جا سکے۔ آخر کار، کوئی بھی ریاست فوج کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی، ہے ناں؟ وہ تو ضروری تھا۔ مگر جو چیز واقعی اس دین کو پھیلانے کا سبب بنی، وہ قرآن تھا۔ اِس نے ہر سوال کا جواب دیا اور ایسی دلیلیں دیں جنہوں نے عقل اور دل دونوں کو قائل کیا۔ اِس نے معاشرے میں انصاف قائم کیا، دل کو سکون دیا، اور زندگی کو واقعی بامقصد بنایا۔ سب سے بہترین مثال جو تلوار کے زور پر پھیلنے کے دعوے کو غلط ثابت کرتی ہے، وہ جنوب مشرقی ایشیا ہے۔ آج انڈونیشیا دنیا

کا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک ہے۔ اور کبھی کسی مسلم فوج نے انڈونیشیا میں کوئی جنگ نہیں لڑی۔ اِس سرزمین پر فوجیں نہیں، بلکہ وہ تاجر اور مبلغین پہنچے تھے جنہوں نے اپنے اچھے اخلاق کے ذریعے لوگوں کا اعتماد جیتا۔ بنگلا دیش کا معاملہ بھی کچھ الگ نہ تھا۔ وہاں بھی اسلام کا اصل پھیلاؤ اُن مبلغین کے ذریعے ہوا جنہوں نے لوگوں کے دل جیتے۔ تیرہویں صدی میں، بحرِ ہند سے گزرنے والے تجارتی جہاز مسلم تاجروں کو جنوب مشرقی ایشیا کے ساحلوں تک لے گئے۔ مگر وہ صرف مصالحے یا کپڑے ہی نہیں لے جا رہے تھے، بلکہ اپنے اچھے کردار، اپنی باتوں اور تجارت میں ایمانداری کے ساتھ، وہ اسلام بھی پھیلا رہے تھے۔ نہ کوئی جھوٹ اور نہ ناپ تول میں کوئی کمی۔ اور جب وہ کوئی وعدہ کرتے، تو اُسے پورا کرتے۔ انڈونیشیا کے مقامی لوگوں نے اُن

تاجروں میں دیکھا کہ اسلام روزمرّہ کی زندگی کو کیسے بدلتا ہے۔ اِسی کے ساتھ ساتھ، اسلام کی دعوت کی کوششوں سے، مسلمانوں کی تعداد مسلسل بڑھتی چلی گئی۔ وہاں نہ کوئی دباؤ تھا اور نہ کوئی دھمکی۔ سب کچھ اپنی مرضی اور پسند سے ہوا۔ اور اِسی سے دوسرے جزیروں میں بھی آہستہ آہستہ اسلام پھیلنے لگا۔ آج، تقریباً 250 ملین مسلمان اِن جزیروں پر آباد ہیں۔ یہی انداز ملائیشیا میں بھی دیکھا گیا۔ ملاکا کے سلطان نے بھی مسلم تاجروں کے اثر سے ہی اسلام قبول کیا تھا۔ اِس کے بعد، وہاں کی عوام نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ بغیر کسی جنگ کے، صرف الفاظ اور اچھے کردار سے پورا خطہ مسلمان ہو گیا۔ افریقہ کے صحرائی علاقوں میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی تھی۔ دعوتی کوششوں کے ذریعے اسلام تجارتی قافلوں کے راستوں پر پھیلتا گیا۔ یہی چیز مقامی

بادشاہوں اور عوام کے اسلام قبول کرنے کا سبب بنی۔ آج، اُن علاقوں میں 300 ملین سے زائد مسلمان رہتے ہیں۔ اور بنگلا دیش کی کہانی بھی اِس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ پہلے وہاں کے لوگ ہندو تھے۔ صدیوں سے، وہ ذات پات کے نظام کے تحت ظلم کا شکار تھے۔ جب اُنہوں نے وہ آزادی اور نجات دیکھی جو اسلام نے دی، تو بڑی تعداد میں اسلام قبول کر لیا۔ اور آج، بنگلا دیش میں تقریباً 150 ملین مسلمان رہتے ہیں۔ تو پھر جنگ کہاں ہے؟ تلوار کہاں ہے؟ اب آپ میں سے کچھ لوگ پوچھ سکتے ہیں، “لیکن اُن جنگوں کا کیا؟ وہ بھی تو حقیقت ہیں۔” تو ہمیں اُنہیں کیسے سمجھنا چاہیے؟ آئیے اب نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد کے دور میں چلتے ہیں۔ مسلمانوں نے حضرت ابو بکر صدیق کو اپنا رہنما اور خلیفہ منتخب کیا۔ وہ نبی کریم ﷺ کے سب سے قریبی دوست تھے۔ جب وہ

خلیفہ بنے، تو اُنہیں اہم سیاسی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک مسئلہ ساسانی سلطنت کے ساتھ تھا جو آج کے ایران کی سرزمین ہے، اور دوسرا بازنطینی سلطنت کے ساتھ تھا۔ کچھ سال پہلے، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ساسانی بادشاہ خسرو کو ایک خط بھیجا تھا، جس میں اُسے اسلام کی دعوت دی گئی تھی۔ مگر خسرو نے غرور میں آ کر نبی کریم ﷺ کا خط پھاڑ دیا۔ اور وہ وہیں پر نہیں رکا، بلکہ حکم دیا بلکہ حکم دیا، “محمد (ﷺ) کے ہاتھ پاؤں میں زنجیریں ڈال کر میرے سامنے پیش کرو!” یہ اسلامی ریاست کے خلاف جنگ کا ایک کھلا اور بڑا اعلان تھا۔ ساسانی حکومت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نے اِس تناؤ کو مزید بڑھا دیا۔ دوسری طرف، بازنطینیوں نے اُن صحابی کا سر قلم کرکے اُنہیں شہید کر دیا جنہیں سفیر بنا کر اُن کے پاس بھیجا گیا تھا۔

اور اپنی اِس غلطی کی تلافی کرنے کے بجائے، اُنہوں نے مسلمانوں کے خلاف تقریباً ایک لاکھ کی فوج کھڑی کر دی۔ یوں دونوں فوجیں جنگِ موتہ میں ایک دوسرے کے سامنے آئیں۔ تو جنگ تو پہلے ہی سے چل رہی تھی، اور دونوں میں سے کسی سلطنت نے مسلمانوں کے ساتھ امن کی طرف قدم نہیں بڑھایا۔ بلکہ جنگ کی یہ آگ بھڑکانے والے وہ خود ہی تھے۔ بعد میں، دوسرے خلیفہ حضرت عمر نے اِس جدوجہد کو جاری رکھا۔ اِس دوران، دوسری طرف سے امن کی ایک بھی پیشکش سامنے نہیں آئی۔ دراصل، ہر جنگ سے پہلے مسلمان خود ہی ایک پیشکش رکھتے تھے: “یا تو اسلام قبول کر لو، یا جزیہ دینا منظور کر کے ہمارے ساتھ امن قائم کر لو۔” یہ پیشکش کرنا ایک لازمی اصول تھا، اور اکثر جنگ شروع ہونے سے پہلے اِسے پیش کیا جاتا تھا۔ بہت سے علاقے جو آج مسلم ممالک ہیں، وہ اُسی

دور میں فتح ہوئے تھے۔ جیسے شام، یروشلم، مصر، عراق، ایران، آذربائیجان اور دوسرے علاقے۔ اب ہمیں دو باتوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے: کسی مسلم ریاست کا کسی علاقے کو فتح کرنا ایک بات ہے، اور وہاں کے لوگوں کا مسلمان ہونا بالکل دوسری چیز ہے۔ فتوحات کے بعد، کسی غیر مسلم کو مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی اُن سے یہ کہا گیا کہ “یہ اب ایک مسلمان ملک ہے، یہاں تمہاری کوئی جگہ نہیں،” اور اُنہیں باہر نکال دیا گیا ہو۔ اِس کے برعکس، مسلمانوں نے وہاں اسکول اور تعلیمی ادارے بنائے۔ وہاں علماء اور مبلغین پیدا ہوئے جنہوں نے لوگوں کو اِس دین کی خوبیاں سمجھائیں، اور لوگوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنا شروع کیا۔ اگر آپ کو ثبوت چاہیے کہ وہاں کوئی تلوار یا دباؤ نہیں تھا، تو آرمینیا کو دیکھ لیں۔ تقریباً

ایک ہزار سال تک مسلم حکومت کے تحت رہنے کے باوجود، وہ سرزمین آج بھی عیسائی ہے۔ یا اُن 15 سے 20 ملین عربوں کو دیکھ لیں جو آج بھی عیسائی ہیں۔ اِن لوگوں کا وجود ہی اِس سچائی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ اسلام تلوار کے زور پر کسی کو مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کرتا۔ آئیے اب دونوں مناظر کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھتے ہیں۔ جب کوئی علاقہ مسلمانوں نے فتح کیا تو کیا ہوا، اور اِس کی اُلٹ صورت میں، یعنی جب کسی مسلم علاقے پر غیر مسلموں نے قبضہ کیا، تو کیا ہوا؟ اب، میں آپ کو تاریخ کے دو مناظر کی طرف لے چلتا ہوں۔ ایک منظر رحم دلی کی ایک لاجواب مثال ہے۔۔۔ اور دوسرا منظر سراسر تباہی کا ہے۔ ایک منظر حضرت عمر کے ہاتھوں یروشلم کی فتح اور شہر میں اُن کے داخل ہونے کا ہے۔ اور دوسرا منظر اندلس کا مسلم حکومت کے ہاتھ سے نکل جانے

کا ہے۔ تاریخ میں جب بھی کوئی شہر یا علاقہ فتح کیا جاتا تھا، تو عام طور پر ایک ہی جیسا منظر دیکھنے کو ملتا تھا۔ لوگوں پر ظلم کیا جاتا، اُن کا مال لوٹ لیا جاتا، اُن کی عبادت گاہیں جلا دی جاتیں، اُن کی مذہبی آزادی پر پابندیاں لگا دی جاتیں، اور بھاری ٹیکس لگا کر اُن کی زندگی کو مشکل بنا دیا جاتا تھا۔ مگر اسلامی فتوحات نے اس روایت کو مکمل طور پر بدل دیا۔ جب یروشلم بازنطینی حکومت کے تحت تھا، تو حضرت عمر کی بھیجی ہوئی فوج نے اُس کا محاصرہ کر لیا۔ وہاں کے لوگ امن کے ساتھ شہر حوالے کرنے پر راضی ہو گئے، اِس شرط کے ساتھ کہ خلیفہ خود اِسے لینے کے لیے تشریف لائیں۔ یوں یہ بھی بغیر کسی خون خرابے کے ایک اور فتح تھی۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) سادہ لباس پہنے، پیدل چلتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے۔ آپ نے ایک تحریری

معاہدہ لکھوایا کہ عیسائیوں کی جانیں اور اُن کے چرچ محفوظ رہیں گے۔ آپ نے ضمانت دی کہ وہ آزادی سے اپنے مذہب پر عمل کر سکتے ہیں۔ عیسائی رہنماؤں کو اُن کے عہدوں پر برقرار رہنے دیا گیا۔ اِس سے پہلے، لوگوں کو کئی طرح کے بھاری ٹیکسز دینے پڑتے تھے، حالانکہ اُن کے حکمران خود بھی اُسی مذہب کے تھے۔ “یہ میرے پاس آخری اناج کا دانہ ہے۔ میرے بچے بھوکے مر رہے ہیں جبکہ تمہارے گودام بھرے پڑے ہیں۔ خدا یقیناً ہمارے لیے کوئی نجات دہندہ بھیجے گا۔” مگر اسلامی حکومت میں، اُنہیں صرف ایک معمولی ٹیکس دینا پڑتا تھا، اور نتیجے کے طور پر، لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر ہو گیا۔ اِس ٹیکس کو جزیہ (غیر مسلموں پر ٹیکس) کہتے ہیں، جس کا مطلب یہ بھی تھا کہ اُنہیں فوج میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں، اور اُن کی حفاظت بھی کی جائے گی۔

خواتین، بزرگوں اور مذہبی پیشواؤں کو تو یہ ٹیکس بالکل بھی نہیں دینا پڑتا تھا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے اُن بوڑھے لوگوں کے لیے بیت المال سے وظیفہ مقرر کیا جو اپنا خرچ نہیں اٹھا سکتے تھے، خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں۔ “جب یہ جوان تھے، تو ہم نے اِن سے کام لیا۔ اب جب یہ بوڑھے ہو گئے ہیں، تو ہم اِنہیں سڑک پر نہیں چھوڑ سکتے۔” جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، مسلمانوں نے تاریخ میں ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن کے نظام کی سب سے پہلی مثال قائم کی۔ قانون میں کوئی امتیازی سلوک نہیں تھا۔ یہاں تک کہ یہ واقعہ مشہور ہے کہ حضرت عمر ایک بار عدالت میں ایک یہودی کے برابر کھڑے ہوئے، اور دونوں کے ساتھ ایک جیسے حالات میں انصاف کیا گیا۔ ایسا ہی ایک واقعہ چوتھے خلیفہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں بھی ملتا

ہے۔ اسلام نے ایک ایسا نظام دیا جس میں مکمل نظم و ضبط تھا، معیشت سے قانون تک، اور خاندان سے تعلیم تک۔ ایک ایسا نظام جو جھوٹ، ظلم، سود خوری، رشوت ستانی اور بدامنی کے خلاف لڑا۔ یہ وہ نظام تھا جو یروشلم کے لوگوں کو ملا، اور آنے والی صدیوں میں بھی اِسی سوچ کو زندہ رکھا گیا۔ مگر افسوس، دوسرا منظر اِس سے بالکل الٹ تھا۔ اندلس، وہ سرزمین جو آج کے اسپین کا حصہ ہے، وہ کبھی مسلم حکومت کے تحت تھی۔ وہاں سائنس کے کئی شعبوں کی بنیادیں مسلم سائنسدانوں نے رکھی تھیں۔ مسلمان اور غیر مسلم تب تک وہاں مل جل کر امن سے رہتے تھے، جب تک کہ عیسائی فوجوں نے اُس علاقے کو فتح نہیں کر لیا۔ اُس دن کے بعد سے، مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف قتلِ عام اور جلاوطنی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب امن کا معاہدہ ہوا تھا، تو مسلمانوں سے

مذہبی آزادی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ مگر جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ 1499 عیسوی سے زبردستی عیسائی بنانے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بعد میں، پورے اسپین میں اسلام پر پابندی لگا دی گئی، اور جو لوگ مسلمان رہے، اُنہیں قتل یا جلاوطنی کی دھمکیاں دی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کر دیا گیا، اور جو وہاں رہ گئے، انہیں عیسائیوں کے درمیان چھپ کر زندگی گزارنی پڑی اور چھپ کر اپنے مذہب پر عمل کرنا پڑا۔ لیکن اِس کے باوجود، اُن پر حملے ہوتے رہے۔ یہودی یا مسلمان ہونے کے شبے میں ہزاروں لوگوں کو نہایت بے دردی سے قتل کر دیا گیا، اور ایک پوری تہذیب کا نام و نشان مٹا دیا گیا۔ اب ذرا اِس پر سوچیے۔ یروشلم میں رحم دلی، اور اندلس میں تباہی۔ دونوں کو ایک ہی لفظ سے پکارا جاتا ہے۔

“فتوحات” مگر نتائج بالکل ایک دوسرے کے الٹ ہیں۔ ویسے، کیا آپ جانتے ہیں کہ اُن ہزاروں یہودیوں نے کہاں پناہ لی جنہیں اُس دن وہاں سے نکلنا پڑا تھا؟ اُنہیں ایک اور مسلم سلطنت، یعنی عثمانیوں نے خوش آمدید کہا۔ اُن کے لیے دروازے کھول دیے گئے۔ اُنہیں رہنے کے لیے جگہیں دی گئیں اور اُن کی حفاظت کو یقینی بنایا گیا۔ اور ستم ظریفی دیکھیے کہ آج ہم سب کو نظر آ رہا ہے کہ وہ کتنے شکر گزار ہیں۔ ایک دلچسپ تحقیق سامنے آئی ہے: عیسوی سن کی شروعات سے لے کر آج تک، یعنی دو ہزار سے زیادہ سالوں میں، جنگوں میں تقریباً 579 ملین لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ اِن میں سے کتنی موتیں جہاد کے عنوان کے تحت ہوئی ہیں؟ پانچ فیصد سے بھی کم۔ جنگوں میں مرنے والے 95 فیصد لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ دنیا میں

جنگوں کی وجہ اسلام نہیں تھا۔ اِس کی اصل وجوہات دنیاوی تھیں، جیسے کہ اقتدار کی جنگ، قوم پرستی، اور معاشی مفادات۔ دوسری جنگِ عظیم، سو سالہ جنگ، نپولین کی جنگیں، منگولوں کے حملے، استعماری جنگیں، عام شہریوں کا قتلِ عام، عورتیں، بچے، بوڑھے، جنسی زیادتیاں اور قیدیوں پر تشدد۔۔۔ اِن میں سے کسی بھی چیز کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ اِس کے برعکس، اگر اسلام میں موجود جہاد کے اخلاقی اصولوں پر عمل کیا جاتا، تو اِن میں سے کوئی بھی واقعہ کبھی پیش نہ آتا۔ کیونکہ یہ نظام بالکل ہی مختلف ہے۔ جنگ صرف فوجوں کے درمیان لڑی جاتی ہے؛ عام شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جاتا۔ جنگ کے دوران، جو بھی ہتھیار ڈال دے اُسے امان دے دی جاتی ہے۔ اُس کی جان محفوظ کر دی جاتی ہے۔ تشدّد کرنا منع ہے۔ اور قیدیوں کے

ساتھ برا سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا یہ دعویٰ کہ “اسلام کا مطلب خون خرابہ ہے” شروع ہی سے بالکل بے معنی ہے۔ اور جب ہم آج کا دَور دیکھتے ہیں، تو ہمیں کیا نظر آتا ہے؟ میانمار میں، بدھ مت حکومت مسلمانوں کو اُن کے گھروں اور سرزمین سے نکلنے پر مجبور کر رہی ہے۔ گاؤں کے گاؤں جلائے جا رہے ہیں، راستے بند کیے جا رہے ہیں، اور انسانی جانوں کو سمندر بُرد کیا جا رہا ہے۔ مشرقی ترکستان میں، چینی حکومت اویغور مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہی ہے۔ عبادت پر پابندی ہے۔ قرآن پڑھنا ایک جرم قرار دیا گیا ہے۔ بھارت میں، کچھ انتہا پسند گروہ مسلمانوں پر حملے کر رہے ہیں۔ مسجدیں جلائی جا رہی ہیں۔ سڑکوں پر لوگوں کو سرِعام قتل کیا جا رہا ہے۔ فلسطین میں، صورتحال دن بہ دن بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اگر کہیں بھی تشدد ہو رہا ہے، تو آپ یقین

سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ مسلمانوں پر ہی ہو رہا ہے۔ اب آپ ہی بتائیے: کیا اسلام تشدّد کا دین ہے، یا ہمیں تشدّد صرف تب ہی دیکھنے کو ملتا ہے جب اسلامی اصولوں پر عمل نہ کیا جا رہا ہو؟