Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

60 Saal Baad Aik Yahoodi Ne Islam Qabool Kiya” – Main Ne Muhammad ﷺ Ko Bible Mein Dekha!

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

میں 20 ویں صدی کے وسط میں ایک کنزرویٹو امریکن جیوئش فیملی میں پیدا ہوا۔ میرے والدین نے مجھ سے کہا ، تمہاری 13 ویں سالگرہ ہے۔ ہم تمہیں ایک تحفہ دینا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ تم انتخاب کرو۔ تم اپنے دوستوں کے ساتھ ایک بڑی پارٹی رکھنا چاہو گے ، یا اسرائیل کا ٹرپ پسند کرو گے؟ تقریبا 100 میل کے بعد ، میں نے کہا ، "میں اترنا چاہتا ہوں۔ تو اس نے کار روک دی۔ میں نے دروازہ کھولااور کار سے باہر نکل گیا۔ میرا ہاتھ اس دروازے کے ہینڈل میں تھا اور اس نے کار چلا دی۔ اس نے مجھے گاڑی کے ساتھ لٹکا ہوا دیکھا، پھر اس نے رفتار بڑھا دی۔ اور میں ہائی وے کی طرف اڑتا چلا گیا۔ اور اچانک سب کچھ سلو ہو گیا۔ اور میں نے یہ آواز سنی۔ "ابھی نہیں ، ابھی نہیں۔" پھر میں نے سچائی کی تلاش شروع کردی۔ اور میں نے بائبل کا بہت مطالعہ کیا۔ اور میں تین سال کے لیے ایک خانقاہ میں جا پہنچا۔ اگر کوئی ایک منٹ پہلے بتاتا کہ میں مسلمان ہو جاؤں گا تو میں بہت ہنستا۔ اور جب میں نے اپنے بیٹے کو بتایا تو اس نے مجھ سے کہا ، "ڈیڈ، اگر آپ ایک نظر بائبل پہ ڈالیں اور گوسپل پہ، تو آپ کو محمد ملیں گے اگر آپ یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔ " کتاب پہ نظر ڈالی، تو الفاظ میرے سامنے سہہ جہتی انداز میں اُبھرتے محسوس ہوئے۔ الفاظ جیسے مجھ پہ روشن ہوگئے۔ جب میں نے ایک دفعہ دیکھ لیا تو نظرانداز نہ کر پایا۔ السلام علیکم سانفورڈ پاس بھائی، جن کا مسلم نام ابو مجاہد بھی ہے۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا بہت شکریہ۔ ٹوارڈز ایٹرنیٹی کی طرف سے آپ کو خوش آمدید۔ وعلیکم السلام مجھے مدعو کرنے کے لئے آپ کا شکریہ۔ اس خوبصورت کہانی کو شئیر کرنا میرے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ الحمدللہ، الحمدللہ۔ ہم بہت شکر گزار ہیں۔ تو،میں شروع کرنا چاہتا ہوں کہ ابو مجاہد کون ہے؟ اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتائیں؟ میں 20 ویں صدی کے وسط میں پہلی نسل کے کنزرویٹو امریکی یہودی والدین سے تھا۔ میری پرورش اسی عقیدے پہ ہوئی کہ سنو،اے اسرا‏ئیل، خداوند ہمارا خدا ایک ہے۔ میں ایک امریکی سو سائٹی میں پلا بڑھا ، اپنے گھر میں کوشر قوانین اور سبت پر غوروفکر کرتا۔ جب میں بڑا ہو رہا تھا تو کچھ واقعات پیش آئے۔ جب میں 14 سال کا تھا تو کینیڈی کو گولی مار دی گئی۔ میں نے ہر چیز پر سوال کرنا شروع کیا۔ جس نے مجھے اس بات کی تلاش پر لگا دیا کہ اس دنیا میں حقیقت میں کیا ہو رہا ہے۔ 14 سال کی عمر میں،میری زندگی اس لئے بدل گئی کیونکہ میں نے چیزوں کو مختلف انداز سے دیکھنا شروع کیا، اور سچائی کی تلاش شروع کی۔ اور کالج سے ایک خانقاہ کا سفر شروع کیا مراقبہ کے لئے، اور میں 60 سال کی عمر میں مسلمان ہوا۔ جب مجھے احساس ہوا کہ یہ سب ایک ہی کہانی ہے۔ یہ مختلف کہانیاں نہیں، بلکہ سب منسلک ہیں۔ اسی لیے میں 16 سال پہلے مسلمان ہو گیا۔ اسلام سے پہلے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ ‏مطلب آپ کس چیز پر یقین کرتے تھے؟ مجھے ہمیشہ سے یقین تھا کہ خدا ایک ہے۔ میں نے اپنی نوعمری تک یہودیت کی پیروی کی۔ جب میں کالج گیا ،تو میں نے اردگرد دیکھنا شروع کیا ...

میں مختلف چیزوں کو کھوجنے، دریافت کرنے، الگ الگ تجربات حاصل کرنے اور بہت سے سوالات پوچھنے لگا۔ کچھ چیزوں نے مجھے میرے عقائد پر سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ جب میں چھوٹا تھا تو ہم ایسے شہر میں رہتے تھے جہاں ایک یونیورسٹی تھی ، اور وہاں گھر ہوتے تھے جن کو ہلیل ہاؤسز کہتے تھے۔ ہلیل پرانے دور میں ایک اچھا استاد گزرا ہے۔ اور وہاں ایک ربی ہوتا تھا، اور اس کالج کے سٹوڈنٹس وہاں جاکر عبادت کرتے۔ وہ کالج کے سٹوڈنٹس کو منسلک رکھنے کی کوشش کرتے۔ تو میں بہت چھوٹا تھا جب ہم کولمبیا،میسوری میں رہتے تھے اور میرے والدین ہمیشہ ہمیں فرائڈے نائٹ سروسز پر لے جاتے۔ اور میں ہمیشہ اُن یادوں کو بہت محبت سے یاد کرتا رہا ہوں کیونکہ ہم بنیادی طور پر، شہادت کا ہی اعلان کرتے تھے۔ سنو ، اے اسرائیل ، خداوند ہمارا خدا ایک ہے۔ وہاں پر گانا ہوتا، یونو، مختلف رسومات ہوتیں۔ لیکن سب سے اہم بات جو ہمیں ایک ساتھ رکھتی تھی کہ ہم توحید پسند تھے ، ہم ایک خدا پر یقین رکھتے تھے۔ جب میں تھوڑا بڑا ہوا ، میں نے اس بارے میں سوالات پوچھنا شروع کردیئے۔ اور جو کچھ بائبل اور تورات میں تھا، یسوع علیہ السلام کے اور دوسروں کے بارے میں۔ اور وہ ہمیشہ مجھے کہتے، "اس پر دھیان نہ دو، نہیں، بالکل نہیں، اس پر توجہ نہ دو۔" "یہ بالکل غلط ترجمہ ہے۔" یوں بات کو ٹال دیتے۔ میرے معاملے میں یوں ہوا کہ مجھے اس بڑے موقع کے لیے تربیت دی گئی۔ یہ ایک عظیم موقع سمجھا جاتا تھا، جب ایک لڑکا جوان بنتا ہے۔ انہوں نے مجھے ایک کمرے میں بٹھایا، جہاں وائنل اور ریکارڈ پلیئر تھا، اور کہا کہ اسے یاد کرو۔ میں کبھی کسی ربی کے ساتھ نہیں بیٹھا کہ اصل معنی سیکھ سکوں جو کچھ میں پڑھ رہا تھا۔ یہ بس یوں تھا: "اسے یاد کرو"، جیسے کوئی مظاہرہ ہو۔ اور تمہیں جماعت کے سامنے اچھا لگنا چاہیے، تاکہ دکھا سکیں کہ ہم اچھے استاد ہیں۔ یہ ایسا نہیں تھا کہ وہ بیٹھ جاتے اور اس میں سے کسی کے مطلب کی وضاحت کرتے۔ میں صرف ایک بچہ تھا، لیکن مجھے یہ پسند نہیں تھا۔ اور یہ بہت اہم پارٹ ہے۔ میرے والدین نے مجھ سے کہا " تمہاری 13 ویں سالگرہ ہے۔ ہم تمہیں ایک تحفہ دینے والے ہیں۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ تم خود انتخاب کرو۔ کیا تمہیں اپنے اور اپنے دوستوں کے لیے ایک بڑی پارٹی چاہیے، یا تم اسرائیل کا ٹرپ پسند کرو گے؟ " اس وقت تمام یہودی بچوں کو اسرائیل کے ٹرپ کی ترغیب دی جاتی تھی۔ کیوں؟ تاکہ وہ آپ کا برین واش کرسکیں یونئو ، تاکہ وہ آپ کو یہ سب بتا سکیں ...

اور اللہ کا شکر ،میں نے یہ کہہ دیا کہ میں پارٹی چاہتا ہوں۔" میں اس چوائس پہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ کیونکہ اب جو میں دیکھ رہا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے، پھر اس میں، میں بھی شامل ہوتا۔ وہ لوگ میرا ذہن بھی الجھا دیتے۔ میرے دل میں بہت سوالات تھے کیونکہ ...

جس طرح سے یہ لوگ رہ رہے تھے ،وہ اس سے مختلف تھا جو میں نے پڑھا اور پتہ ہے، مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی، لیکن بنیادی بات یہ تھی کہ ، اور جو کینیڈی کا قتل ہوا، تو صرف سوالات مذہبی ہی نہیں تھے، یہ دنیا کی ہر چیز کے بارے میں تھا جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس طرح میری سوچ کو نئی راہ ملی۔ میں نے کالج چھوڑا اور رہنے لگا۔۔ ، ٹینیسی میں ایک فارم شروع کیا گیا تھا، میں کچھ عرصے اس فارم پر رہا۔ اس وقت لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بہت مخلص ہوتے تھے۔ میں زیادہ عرصہ وہاں نہیں رہا۔ میں وہاں سے چلا گیا، میں نے ادھر ادھر سفر کیا ، اور آخرکار ایک خانقاہ میں پہنچ کر وہاں تین سال رہا۔ میں عیسائی بن گيا اور میں نے بائبل کا بہت مطالعہ کیا۔ یونئو، مکمل عیسائی۔ صلیب اور چغہ اور سب کچھ۔ لیکن مجھے جس کی تلاش تھی، وہ نہ ملا۔ خیر پھر، تین سال بعد، مجھے اس میں بھی تضادات ملے اور میں وہاں سے چلا گیا۔ پھر میری ملاقات انڈیا کے ایک نوجوان سے ہوئی جو مراقبہ سکھاتا تھا،اور اس نے کہا ، "میں آپ کو کائنات کو متحرک رکھنے والی توانائی کے ساتھ جوڑ سکتا ہوں۔ " دوسرے الفاظ میں ، خدا کی مقدس توانائی ، جو ہماری سانسوں کو متحرک کرتی ہے۔ تو میں نے کافی عرصے اس کا مطالعہ کیا۔ میں نے مراقبہ کیا، اور کافی عرصے تک اسی کا مطالعہ کرتا رہا۔ اس کے بعد مجھے ایک مسئلہ نظر آیا۔ مجھے لگا کہ،"کچھ ٹھیک نہیں ہے۔" اور یو نو کیونکہ مجھے مشاہدات ہوئے تھے۔ لیکن اس سارے سسٹم میں کچھ ایسا تھا جو مجھے مطمئن نہ کر سکا۔ اور مجھے ٹھیک محسوس نہیں ہوا۔ اسلام کی طرف آپ کا سفر کیسے شروع ہوا؟ آپ کو کس چیز نے سب زیادہ متاثر کیا؟ جب میں 60 کے قریب تھا۔ اس وقت جب میرے بیٹے نے مجھے بلایا اور کہا ، "ڈیڈ ، میں نے ساری زندگی آپ کو سچائی کی تلاش میں پایا، کہ اصل حقیقت کیا ہے، چیزوں اور سرخیوں کے پیچھے کیا چھپا ہے۔" کیونکہ ان سب کے بعد جو میں نے آپ کو بتایا، میری شادی ہوگئی میرے دو بچے تھے۔ میں کئی سال تک کارپوریٹ امریکہ میں رہا۔ اور جب میں نے اپنے بیٹے کو بتایا۔ اس نے مجھ سے کہا ، "ڈیڈ، آپ بائبل اور گوسپل پہ نظر ڈالیں، آپ کو محمد کا پتہ ملے گا اگر آپ یہاں، یہاں اور یہاں دیکھیں۔ " اور میں نے دل میں دعا کی،اور کتاب میں نظر ڈالی، تو الفاظ میرے سامنے سہہ جہتی انداز میں اُبھرتے محسوس ہوئے ۔ الفاظ جیسے مجھ پر روشن ہو گئے۔ وہ الفاظ جو تورات، 18:18 میں ہیں جہاں تورات کی کتاب یہ کہتی ہے "ایک نبی آنے والا ہے، جو تمہاری اور موسیٰ کی طرح ہے۔" جو اپنے آپ سے ...

کچھ نہیں کہنے والا۔ بلکہ وہی کہے گا جو اس کو کہنے کے لیے دیا گیاہے۔ " یہ جان 16:13 کی عکاسی کرتا ہے،جہاں یسوع علیہ السلام کہتے ہیں ، "سچ کی روح آنے والی ہے، اور وہ کچھ نہیں کہنے والا ہے، سوائے اس کے جو اسے کہنے کے لئے دیا گیا ہے۔ اور وہ سچائی کی طرف رہنمائی کرنے والا ہے۔ " اور تورات 33: 2 میں ، اس کے بارے میں بات کی گئی ہے ، "خداوند سینا سے آیا ، اور سعير سے ان پر آشکارا ہوا، اور کوہ فاران پر جلوہ گر ہوا۔" اور میں نے اسے دیکھا ، اس کا واقعی کیا مطلب ہے۔ اور سینا وہ جگہ ہے جہاں اللہ نے موسیٰ کو شریعت دی ، دس احکام۔ سعير وہ جگہ ہے جہاں عیسیٰ نے شیطان کے فتنوں پر قابو پایا۔ اور فاران مکہ کا ایک قدیم نام ہے،جہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اور یہی تورات بتاتی ہے 33: 2 میں۔ جب میں نے یہ دیکھا تو یونئو، میں اسے نظرانداز نہ کر سکا ۔ آخری چیز،جس کے بارے میں ،میں سوچ رہا تھا یہی تھی کہ میں مسلمان ہو جاؤں۔ یعنی 2001 کے بعد میں اپنے دوستوں سے کہتا تھا، "مسلمان یہ کام نہیں کرسکتے۔" کیونکہ میں نے اپنی ساری زندگی ہر بڑے “فالس فلیگ” واقعے کا تجزیہ کیا تھا۔ کینیڈی سے لے کر ویتنام اور اس طرح کی تمام چیزوں پہ۔ اور میں نے کہا ، "مسلمان 9/11 نہیں کر سکتے تھے، یہ جسمانی طور پر ناممکن ہے۔ " ہزاروں لوگ کہتے ہیں یہ اس طرح نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ میرے دوست مجھ سے کہتے، "تم کیوں مسلمانوں کا دفاع کر رہے ہو؟ سچائی کی تلاش مجھے اسلام کی طرف لے گئی۔ اور جانتے ہیں ایک بات؟ آپ کو بہت زیادہ ثبوت کی ضرورت نہیں ہے۔ جب آپ پانی ڈھونڈ رہے ہوں اور پیاس سے مر رہے ہوں، تھوڑا سا پانی بھی یار بہت، بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اور میں نے یہ دیکھا ، اور جیسے یہ کافی تھا۔ مجھے معلومات کے ایوالانچ کی ضرورت نہیں تھی۔ میرے لیے کافی تھا۔ اللہ نے مجھے کافی ثبوت دے دیے جس نے مجھے مطمئن کیا۔ کیا یہ وہ لمحہ تھا جب آپ نے محسوس کیا کہ اسلام ہی٪ 100 سچا ہے؟ ہاں۔ یہ وہ حصہ ہے جہاں، یونئو، جب آپ پارکنگ لاٹ میں گاڑی چلاتے ہیں جہاں نوکدار کیلیں (spikes) ہوتی ہیں اور وہاں لکھا ہوتا ہے، اگر گاڑی کو بیک کیا تو ٹائر پھٹ جا‏ئیں گے۔ " جب مجھے احساس ہوا کہ میرے پاس اس طرح کا تجربہ تھا ، "تم نے جو مانگا وہ مل گیا۔ اب تم پیچھے نہیں جا سکتے۔ " یہ ایسا ہی ہے، یہ یک طرفہ گلی ہے۔ واپس مڑنے پہ آپ کو نقصان پہنچے گا۔ اور مطلب، میں کسی مذہب کی تلاش نہیں کر رہاتھا۔ میں مذہب تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔ اگر کوئی ایک منٹ پہلے بتاتا کہ میں مسلمان ہو جاؤں گا تو میں ہنستا۔ لیکن اللہ نے مجھے سرپرائز کردیا۔ اللہ نے مجھے دکھایا ، اور ...

یہ کوئی آواز نہ تھی جو کچھ کہہ رہی ہو، بلکہ،ایک موجودگی۔ جب مجھے اس کتاب اور اللہ اور محمد (ﷺ) کے ساتھ یہ تجربہ ہوا۔ تو جیسے یہ اس سب کا جواب تھا جو میں 14 سال کی عمر سے پوچھ رہا تھا ۔ یہ میرے ذہن میں بہت واضح تھا کہ میرا جو سوال تھا ، بڑا سوال کہ آخر کیا ہو رہا ہے ؟یہ جیسے، مکمل ہوگیا۔ بغیر کسی کے،مطلب، مجھے یہ ٹیلیگرام یا ای میل پہ نہیں ملا ۔ یہ صرف ایک طرح کا احساس ہے کہ میرا سوال مکمل ہوگیا۔ یہ ایسا ہی تھا ، اب میں اس دنیا کو سمجھ گیا ہوں۔ کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور کس طرح ہو رہا ہے۔ اب یہ سب سمجھ میں آتا ہے۔ کیا آپ ہمیں ان لمحوں تک لے جاسکتے ہیں جب آپ نے اپنی شہادت دی؟ آپ کو کیسا لگا؟ فریش، فریش سٹارٹنگ کی طرح۔ جیسے ...

اللہ میرا استقبال کر رہا تھا اور وہ مجھے معاف کر رہا تھا۔ اور مجھے بتایا گیا کہ جب آپ شہادت لیں گے اور مسلمان بن جائیں گے تو آپ کے سارے گناہ ختم ہو جائیں گے۔ آپ کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ آپ تازہ ابتداء کرتے ہیں۔ اور میں نے بہت تازہ دم محسوس کیا۔ شہادت کے وقت نہیں ، جتنا میں نے اس حقیقت کا تجربہ کیا کہ اسلام سچ ہے ، کہ جب میں نے کتاب دیکھی ، مجھے یاد ہے چیزیں میرے پاس واپس آرہی ہیں۔ میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے، لیکن وہ میرے چہرے پہ نہیں بہہ رہے تھے۔ بلکہ میری آنکھوں سے نکل کر پرندوں کی طرح اڑ رہے تھے۔ آنسو پھوٹ رہے تھے۔ میں انہیں دیکھ سکتا تھا۔ یہ کیا ہے؟ اس کے ساتھ ہی ایسا لگا جیسے میری پسلیاں یہ دروازے کی طرح کھل گئی ہیں، بالکونی کے فرنچ دروازے کی طرح۔ یونئو ، بالکل اس طرح۔ اور میرا دل پھٹ رہا تھا،لیکن تکلیف سے نہیں،جوش سے۔ اور یہ سب بیک وقت ہو رہا تھا، مجھے احساس ہوا کہ اللہ میرے ساتھ ہر وقت رہا، میری ساری زندگی سے لے کر اس لمحے تک رہنمائی کی ہے، مجھے دکھایا ہے کہ یہ یہی وجہ ہے کہ دنیا اس طرح سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو سارے سوالات ہیں۔ یہ ہر چیز کا جواب ہے،واقعی ایسا ہوتا ہے۔ جب آپ اس دنیا اور اس میں موجود ہر چیز کو دیکھیں ، اور دیکھیں کہ کیا ہو رہا ہے اور یہ کہ اللہ کیا کہتا ہے، آپ کہتے ہیں ، "یہ صحیح ہے۔ اب یہ سمجھ میں آتا ہے۔" آپ کے اہل خانہ اور دوسرے لوگوں نے آپ کے اسلام قبول کرنے پر کیسا رد عمل دیا؟ میرے خاندان میں کچھ لوگ مجھ سے اب بہت زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ بس صرف فیملی فنکشنز میں ہی کرتے۔ اور کچھ لوگ میرے ساتھ باقاعدگی سے رابطے میں رہتے اور اس بات کو نظر انداز کیا۔ یونوہماری زندگی کے اس حصے سے ڈیل نہیں کرتے۔ ہم فیملی میں رہتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں پاگل ہوں۔ کچھ دوست،یار مجھے ایسے ہی قبول کرتے ہیں، جیسے میں ہوں۔ کچھ نہیں کرتے۔ بہت کم لوگوں نے سوال کیا۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ کر لیں گے،وقت گزرنے کے ساتھ جیسے دنیا ترقی کرتی ہے ، میرے خیال میں اب زیادہ سے زیادہ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ ان چیزوں کے بارے میں جس پہ ہم یہاں بات کر رہے ہیں۔ کیا آپ کو کبھی مسلمان بننے پر افسوس ہوا؟ نہیں،میں ایسا ہی تھا۔ ویل ، کبھی نہیں۔ مشکلات پیش آئیں،لیکن مجھے کبھی اس پر افسوس نہیں ہوا۔ نہیں ،کبھی نہیں۔ کبھی کبھی میں خود سے پوچھتا ہوں،مجھے حیرت ہے کہ اللہ نے مجھے 60 سال تک کیوں چھوڑا۔ اور پھر میں اللہ سے اس بارے میں سوال نہیں کرتا، بالکل نہیں کرتا۔ لیکن مجھے حیرت ہوتی ہے، کیوں اس نے مجھے 60 سال تک بھٹکنے دیا؟ اور شاید مجھے ایسے ہونا تھا۔ اس نے اسرائیل کے بچوں کو کیوں بھٹکنے دیا؟ اس نے کیوں ہونے دیا، وہ لوگوں کو بھٹکنے کیوں دیتا ہے؟ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جب وہ اسے ڈھونڈتے ہیں تو پھر وہ اس کی قدر کرتے ہیں۔ یا شاید وہ تجربہ حاصل کرتے ہیں۔ کہ وہ بھٹک کر واپس آ سکتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سی چیزیں کیں اور اب میں مڑ سکتا ہوں میں زندگی کے مختلف شعبوں میں مختلف لوگوں کے ساتھ بات چیت کرسکتا ہوں۔ اور ان کے لئے رابطے بناکر اور ان کو سمجھنے میں ان کی مدد کرتا ہوں۔ کیا آپ نے کبھی کسی غیر معمولی واقعے کا تجربہ کیا؟ جہاں آپ نے محسوس کیا کہ آپ کا اللہ کے ساتھ کوئی خاص تعلق ہے؟ ہاں، ایک دو بار ،جب میں مرنے ہی والا تھا ، بلکہ مسلمان ہونے سے پہلے بھی۔ میں ہچ ہائکنگ کر رہا تھا اور میں ایک لڑکے کے ساتھ اس کی کار میں سوار ہوا۔ یہ 1971 میں اوہائیو ٹرن پائک کی بات ہے۔ خوبصورت دن ، دھوپ نکلی ہوئی۔ ہم ساتھ چل رہے تھے اور وہ بات نہیں کر رہا تھا ، وہ ایک لفظ نہیں کہتا۔ یہ غیر معمولی اور عجیب تھا۔ عام طور پر، لوگ آپس میں بات کرتے ہیں۔ تو تقریبا 100 میل کے بعد میں نے کہا ، "میں اترنا چاہتا ہوں"۔ تو اس نے کار روک دی۔ میں نے دروازہ کھولا۔ میں کار سے باہر نکلا۔ میں اپنی طرف سے نکل گیا۔ میں نے اپنا بیگ لینے کے لئے پچھلا دروازہ کھولا،میرا ہاتھ دروازے کے ہینڈل میں تھا جہاں آپ اپنا ہاتھ رکھتے ہیں اور انگوٹھے سے دباتے ہیں۔ اور اس نے کار چلا دی اور اس نے مجھے دیکھا۔ اس نے مڑ کر مجھے دیکھا بھی۔ اس نے مجھے کار پر لٹکتے دیکھا اور سپیڈ بڑھا دی۔ مجھے لگتا ہے کہ اسے لگا میرے پاس بیگ میں کچھ قیمتی سامان ہے۔ میں اس کی بینچ سیٹ پر دیکھ سکتا تھا۔ میں نے دیکھا وہ 70 ،75 میل فی گھنٹہ پہ تھا۔ کسی طرح میرا ہاتھ آزاد ہوا اور میں ہائی وے کی طرف جا گرا۔ اور اچانک سب کچھ سلو ہو گیا۔ سب کچھ سلو موشن میں چلا گیا۔۔ اور مجھے کوکون جیسا محسوس ہوا، میرے چاروں طرف روشنی کی ایک کوکون تھی۔ اور میں نے یہ آواز سنی۔ ایسا ہی تھا جیسے میں نے یہ آوازیں سنیں ، "ابھی نہیں ، ابھی نہیں"۔ اور جب میں ہائی وے کے قریب پہنچ رہا تھا ، سب کچھ، جیسا کہ میں نے کہا ، سلو موشن میں تھا۔ اور میں موت کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا۔ بہرحال، میں کھڑا ہوا، میرے ہاتھ گرد آلود تھے ٹھوڑی پر خون تھا، اور میرا انگوٹھا پِسا ہوا تھا۔ اور اگلے اسٹاپ پر ہی ٹرن پائک ہسپتال تھا۔ انہوں نے یہاں میری ٹھوڑی پر ٹانکے لگائے۔ میری ہڈیاں نہیں ٹوٹی تھیں، تو میں چلتا رہا۔ اور وہ حیرت انگیز تھا۔ اللہ نے اس وقت اور ایک بار چھت پر بھی میری جان بچائی تھی جب ایک اور بار میں فلوریڈا میں چھت پر اس کا تخمینہ لگا رہا تھا۔ ایک مدر سی گل ائیر کنڈیشنر کے پیچھے سے نکلی اور میری طرف آئی، اور میں پیچھے ہٹ رہا تھا، اور میں اس وقت 12 ویں منزل پہ موجود تھا۔ میرا پاؤں پیچھے گیا تو مجھے خلا محسوس ہوا۔ میں ایک 12 منزلہ ہوٹل پر تھا اور میرے پیچھے بحرِ اوقیانوس تھا۔ یہ میامی بیچ تھا۔ مجھے اپنی پیٹھ پہ ایک بڑا ہاتھ محسوس ہوا جس نے مجھے دوبارہ عمارت کی طرف دھکیل دیا۔ اللہ میرا گواہ ہے۔ مجھے اپنی پیٹھ کے وسط میں ایک بڑا ہاتھ محسوس ہوا جس نے مجھے عمارت کی طرف پیچھے دھکیل دیا، کیونکہ میرا سینٹر آف گریویٹی پہلے ہی ختم ہوچکا تھا۔ مکمل ختم تھا،میں پہلے ہی ہل رہا تھا ، جب میں وہاں سے پیچھے ہٹ رہا تھا تب یہ ہوا۔ تو دو بار میری زندگی بچ گئی۔ میں نے اللہ کو بہت قریب سےمحسوس کیا ، جب مجھے احساس ہوا کہ اللہ حق ہے۔ ہاں مسلمان بننے کے بعد کوئی تجربہ، جب کسی دعا کا جواب ملا یا کچھ اور ،جس سے آپ کو قربت محسوس ہوئی؟ میں نے ایک متقی بیوی مانگی تھی جو مادیت پرست نہ ہو ، جسے مادیت پرستی کی پرواہ نہ ہو، مسلمان بننے کے بعد۔ اور میری زندگی کے دوران، شاید یہ 2015 یا اس سے آگے کی بات ہے ، کمیونٹی کے کچھ بھائیوں اور بہنوں نے ایک لڑکی کے ساتھ ملوایا اور ہمارا تعارف کروایااور اسے سیدھا ہمارے گھر لے آئے۔ ہم گھر میں گھوم رہے تھے ، باقی لوگ جو تھے وہ کچن میں بیٹھے ہوئے تھے اور میں اسے اپنا گھر دکھا رہا تھا۔ اس نے کہا،"آپ کو مجھے کچھ دکھانے کی ضرورت نہیں"۔ اس نے کہا، "میں مادیت پسند لڑکی نہیں ہوں"۔ اور ایسا لگا جیسے اللہ نے کہا ...

"یہی ہے وہ،ہیلو۔ تم یہی چاہتے تھے نا ..." بہرحال، ہماری شادی ہوگئی۔ اللہ اس کی قبر پر رحمتیں نازل کرے۔ وہ انتقال کر گئی ہے۔ میں نے اللہ سے ایک متقی بیوی مانگی۔ اور اللہ نے مجھے دے دی۔ اور اس نے وہی الفاظ کہے جو میں نے اللہ سے اپنی دعا میں مانگے۔ "میں ایک ایسی بیوی چاہتا ہوں جو مادیت پسند نہ ہو"۔ اور جب ہماری ملاقات ہوئی تو اس نے مجھ سے وہی الفاظ کہے۔ جیسے،"آپ کو مجھے کچھ دکھانے کی ضرورت نہیں۔ میں مادیت پرست نہیں ہوں۔" اور میں نے کہا،" اچھا ہے"۔ جانتا ہوں کہ ایک سپیکٹرم ہے ، لیکن ایک یہودی کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے؟ اور میں ایک یہودی گھرانے میں پیدا ہوا تھا ، رائٹ؟ میرا سب سے بڑا مقصد یہ سمجھنا تھا کہ دو نبی کم تھے پوری کہانی میں مجھے انہیں قبول کرنا اور مسلمان بننا تھا۔ مجھے واقعی یقین ہے، اور اگر آپ اُس ربی کو دیکھیں جو نبی ﷺ کا صحابی بنا۔ یہ ایسا ہی ہے۔ میرے لئے وہی کامیاب یہودی ہے۔ میرے نزدیک ، یہ سب سے بڑی کامیابی ہے جو ایک یہودی حاصل کرسکتا ہے ، یہ سمجھنا کہ یہودی بننا راستے کا ایک پوائٹ ہے۔ اور یہودی ایک برانڈ ہے، بالکل اسی طرح جیسے عیسائی ایک برانڈ ہے۔ لیکن اسلام اس پانی کی طرح ہے جس پر کوئی برانڈ نہیں ہے۔ اس کا مطلب صرف امن ہے۔ یہ ایک مشن ہے۔ اس کا مخصوص نام نہیں، کسی شخص کے نام کی طرح ، آپ سمجھ رہے ہوں گے، میرا مطلب کیا ہے؟ تو یہ میرے لئے یہی کامیابی ہے ، ایک یہودی کی سب سے بڑی کامیابی مسلمان بننا ہے۔ شاید اس تجربے سے جو آپ اپنے آس پاس دیکھتے ہیں ، آپ ہمیں اسرائیل اور اس کی ذہنیت کے بارے میں کیا بتا سکتے ہیں؟ اور وہ لوگ کس دنیا میں رہتے ہیں؟ یہ ایک سپیکٹرم ہے۔ جو ...

الٹرا آرٹھوڈوکس یہودیوں سے شروع ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ اسرائیل نہیں ہونا چاہئے، صیہونیت غلط ہے، رائٹ؟ اور انہیں پاگل سمجھا جاتا ہے۔ اور ان لوگوں تک جو غزہ کو جلانا چاہتے ہیں اور انہیں فاقے سے مارنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل میں ایسے لوگ ہیں جو غزہ جا کر سب کو گولی مارنا چاہتے ہیں۔ وہ صرف اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اور وہاں دوسرے لوگ بھی ہیں جو اس سب پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اتنی چھوٹی جگہ میں وہاں پر مختلف لوگوں کی ایک پوری قوس قزح ہے۔ لیکن غالب ، جن کا کنٹرول ہے ، اور جن کی انگلیاں بٹن پر موجود ہیں ، وہ فلسطینیوں کو بھوکا مار رہے ہیں اور وہ یہ چاہتے ہیں ، اور جیسا کہ ہم نے کہا وہ اپنے گراؤنڈ آپریشن کو بڑھا رہے ہیں۔ جو ابتدا ہی سے اصل محرک رہا ہے ، زمین لے لو، لوگوں کو باہرنکال دو اور اس جگہ پر قبضہ کرو۔ اور پوری دنیا میں کوئی بھی انہیں نہیں روک پا رہا۔ اور ہم ایک نسل کشی ہوتی دیکھ رہے ہیں۔ تو زمین لینے کے پیچھے کیا محرک ہے؟ ایک منصوبہ ہے جس کا نام ہے گریٹر اسرائیل ، رائٹ؟ یہ نیل سے فرات تک ہے۔ اس میں مصر کا ایک حصہ اور پورا لبنان شامل ہے، شام ، اردن کا ایک حصہ، سعودی عرب کا ایک حصہ۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک بڑی جگہ ہے۔ ایک بڑا علاقہ ہے۔ اور یہ سب نیو ورلڈ آرڈر نافذ کرنے کی تیاری کا حصہ ہے۔ نئی بین الاقوامی حکومت کا ہیڈکوارٹر۔ مجھے یقین ہے کہ یہی ان کا منصوبہ ہے۔ امریکی حکومت کو صہیونی کنٹرول کرتے ہیں ۔ میں ابھی جو بتا رہا ہوں ،اس کی وجہ سے جیل میں ڈالا جاسکتا ہوں۔ وہ ایک قانون بنانا چاہتے ہیں کہ اگر آپ اسرائیل پر تنقید کریں یا آپ فلسطین کی ، حمایت کریں، یہ اینٹی سیمیٹزم ہے، آپ کو بیس سال قید اور ایک ملین جرمانہ لگے گا۔ وہ کانگریس میں یہ قانون پاس کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ پاس ہو جائے گا، لیکن یہ سچ ہے کہ یہ کانگریس میں ہے، وہ اب اس پر بحث کر رہے ہیں۔ یہ آپ کو 1933 میں جرمنی کی یاد دلاتا ہے ، فرق یہ ہے کہ اب نشانہ مسلمان ہیں، یہودی نہیں۔ تاریخ جیسے خود کو دہرا رہی ہے۔ کینیڈی کو دیکھنے کے بعد ، ویتنام کو دیکھنے کے بعد ، نائن الیون دیکھنے کے بعد۔ برادر ، اس طرح کی چیزیں حادثاتی نہیں ہوتی ہیں۔ میرے خیال میں یہ سب کوریوگرافڈ ہے۔ میرے خیال میں یہ سب منصوبہ بندی ہے۔ خبروں میں آنے سے پہلے یہ ان کے ڈرائنگ بورڈ پر تھا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ان کے اقتدار سنبھالنے کے بڑے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ اگر حضرت محمد ﷺ ابھی اس دروازے سے تشریف لائیں ، تو پھر آپ ان سے کیا کہنا چاہیں گے؟ سب سے پہلے میں کھڑا ہو جاؤں گا۔ اور کہوں گا السلام علیکم۔ پھر یہ نبی پاکﷺ پر منحصر ہوگا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کروں گا۔ میں صرف شکریہ ادا کروں گا۔ اور کیا کہنے کو کچھ ہے؟ اللہ کے لئے آپ کی خدمات کا شکریہ۔ میری رہنمائی کرنے اور اس دنیا میں میری مدد کرنے کے لیے آپ کا شکریہ اس ساری زندگی گزارنے کے بعد، جیسے 75 سال کی زندگی میں، سچائی کی تلاش کی اور آخر کار سچائی مل گئی، اگر آپ کو ایک منٹ خطاب کرنے کا موقع دیا جائے پوری امریکن کمیونٹی سے یا پھر ایک سپر باؤل کمرشل میں پوری دنیا سے ، تو آپ صرف ایک منٹ میں کیا کہنا چاہیں گے؟ بس ان باتوں کا خلاصہ بتائیں ہر کوئی آپ کی بات سن رہا ہے۔ آپ سب کو سلام۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ بس ایک منٹ ہے، تو میں آپ سے سیدھی بات کروں گا۔ آپ جو بھی ہو ، جہاں بھی ہو ، جیسے بھی حالات میں ہوں ، مجھے صرف یہ کہنا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ جو آپ کے اور میرے دل کی دھڑکن کا سبب ہے۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے وہ آخری رسول ہیں جس کی خبر موسیٰ علیہ السلام ، اور عیسی علیہ السلام نے دی۔ دوسرے صحیفوں نے بھی جیسے وید میں۔ وہ اس پوری دنیا کے رسول ہیں۔ ان سب پر سلامتی ہو۔ میں ہر ایک کو اپنا پیدائشی حق دریافت کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔ یہ ایسا نہیں جیسے ٹیلی ویژن پر ہے۔ ذرا سیکھیں کہ اسلام کیا ہے اور گھر آجائیں۔ بھائی ابو مجاہد، ہمارے ساتھ اپنی کہانی اور خوبصورت خیالات بانٹنے کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔ اللہ آپ کو جزا دے اور ان شاء اللہ آپ کو جنت نصیب کرے۔ اور آپ کو بھی، اور آپ کی تمام ٹیم کو بھی۔ میں بہت شکر گزار ہوں کہ اللہ نے مجھے چنا۔ میں بہت شکر گزار ہوں۔ اللہ آپ کے کام کو آسان بنائے اور اسے مئوثر بنائے۔ اللہ آپ کی کوششوں کے ذریعہ بہت سارے لوگوں کے دل کھول دے۔