Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

“Islam Ke Liye Maine Apna Medical Career Chhor Diya” – @Towards Eternity Ki Ankahi Kahani

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

میری زندگی کا ایک بدترین دن۔ 21 جون، 2017۔ اس صبح مجھے میری زندگی کی سب سے بری خبر ملی۔ ایک پل میں میری ساری دنیا اجڑ گئی۔ صبح 6:00 بجے میرا فون بجا۔ یہ میری بہن تھی۔ اس نے گھبرائی ہوئی آواز میں کہا، " امی کی سانسیں رک رہی ہیں، جلدی ہسپتال آؤ" اور فون بند کر دیا۔ میں بالکل حیران رہ گیا۔ کیونکہ وہ صرف بلڈ شوگر بڑھنے کی وجہ سےداخل ہوئی تھیں ۔ اور انہیں اگلے ہی دن ڈسچارج ہونا تھا۔ جب میں ایک رات پہلے ان سے ملنے گیا تھا، توسب کچھ ٹھیک تھا۔ میں گھر سے باہر بھاگا، گاڑی میں سوار ہوا۔ جب میں ہسپتال پہنچا تو دیکھا کہ ایک سیکورٹی گارڈ میری امی کے کمرے کے سامنے کھڑا ہے۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ صورتحال کتنی سنگین تھی۔ ڈاکٹرز یہ جانتے ہیں۔ ‎کہ باہر دروازے پر سیکورٹی تبھی ہوتی ہے جب اندر سی پی آر کیا جا رہا ہو۔ اس وقت میں سمجھا کہ ہمت ٹوٹ جانا کسے کہتے ہیں۔ نارملی، ایک ڈاکٹر کے طور پر، میں ہی اس طرح کی ایمرجینسیز ہینڈل کرتا تھا۔ لیکن اس بار، میں دعا کے سوا کچھ بھی نہ کر سکا۔ چند منٹ بعد ڈاکٹر باہر آیا۔ اس کے چہرے کے تاثرات واضح تھے۔ اس نے آہستگی سے کہا،’’ہم نے اپنی پوری کوشش کی لیکن مجھے افسوس ہے۔" میں اپنی ماں کھو چکا تھا۔ میری ساری دنیا اجڑ گئی۔ ہفتوں تک میں خود کو کھوکھلا محسوس کرتا رہا۔ لیکن میں نے اس صبر کو بھی محسوس کیا جو اللہ نے مجھے دیا تھا۔ وہ بالکل، یہاں پر، واقعی اس نے میرا دل ٹوٹنے سے بچایا۔ الحمدللہ (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)۔ میری عمر 35 سال تھی۔ اس سے پہلے، میں ایسا تھا کہ دن میں دو یا تین نمازیں پڑھ لیں۔ بطور ڈاکٹر اپنا کیریئر کچھ خاص نہیں لگتا تھا اور زیادہ تر فارغ اوقات میں پلے اسٹیشن پر اساسین کریڈ کھیلتا، فٹ بال میچز دیکھتا، اور پھر میچ کے بعد کی کمنٹری۔ مختصر یہ کہ میری زندگی میں کوئی واضح سمت یا مقصد نہیں تھا۔ میں سمندر کے بیچ میں بغیر کمپاس کے بہتی ہوئی کشتی کی مانند تھا۔ میری غفلت کا یہ عالم تھا کہ آزمائشیں بھی مجھے جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں تھیں۔ لیکن پھر وہ ہوا جو میں نے سوچا بھی نہ تھا، اللہ نے مجھ سے میری سب سے قیمتی ہستی لے لی۔ یہ وہی ہیں۔ اس دردناک نقصان سے اللہ نے مجھے اپنی طرف لوٹا دیا۔ اس نے نہ صرف مجھے غفلت سے نکالا بلکہ آنے والی کئی راتوں تک جگائے رکھا۔ آپ جانتے ہیں، جیسے بیج زمین کے اندر درخت بننے سے پہلے کیسے گلتا سڑتا ہے؟ اس دن، جب میں نے اور میرے جڑواں بھائی نے اپنی سفید کفن میں لپٹی ماں کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا۔ مجھے لگا جیسے میں بھی ان کے ساتھ ہی دفن ہو گیا ہوں۔ اور میں گلنے سڑنے لگا۔ بس میں یہ نہیں جانتا تھا کہ اپنے کسی پیارے کو اچانک کھو دینا ہی اس کے نسب سے ایک درخت کے بڑھنے کا سبب بنے گا۔ اور یہ کہ میں اس تحریک کا حصہ بنوں گا جو لاکھوں دلوں کو چھو لے گی۔ میری والدہ کو قرآن سے گہری محبت تھی۔ وہ ہر وقت اس کا مطالعہ کر کے اس کے معنی اپنے ارد گرد لوگوں سے شیئر کرتیں تھیں۔ اس دن، انہیں دفنانے کے بعد مجھے خیال آیا، "ماں، ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا) آپ کامیاب رہیں۔ جو تیاریاں آپ نے کر رکھی ہیں، ان شاء اللہ، اس کی بدولت آپ جنت میں جائیں گی۔ اور اسی وقت، میں نے ایک وعدہ کیا۔ کہ قرآن کے جس علم کو آپ نے ساری زندگی تھامے رکھا، میں اسے گرنے نہیں دوں گا۔ ان شاء اللہ، میں اسے آگے لے جاؤں گا۔" انہوں نے ہماری مذہبی پرورش کے لیے بہت کوششیں کیں۔ تو میں نے خود سے کہا کہ مجھے اس روایت کو آگے بڑھانا ہے۔ چنانچہ میں نے 20 سال بعد قرآن کی طرف رجوع کیا۔ میں نے اسے بار بار پڑھنا شروع کیا۔ تاکہ میں اسے صحیح معنوں میں سمجھ سکوں۔ بطور ڈاکٹر، کچھ مسائل مجھے پریشان کرتے رہے۔ میڈیکل میں اپنے چھ سالوں کے دوران، میرا تعلق مکمل طور پر مادی تعلیم سے تھا۔ اپنے ایمان سے متعلق سوالات کے جوابات کی تلاش کے دوران میں ایک اسٹریٹ انٹرویو میں بسطامی بھائی سے ملا۔ ترکی کے چینل ٹوارڈز ایٹرنیٹی پہ۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں کیا سن رہا ہوں۔ میں نے سوچا، "یہ نوجوان اتنا پراعتماد، باعلم ، اور اتنے پختہ عقائد والا کیسے ہو سکتا ہے؟" میں نے سوچا، "مجھے ان لوگوں کے پاس جاکر اپنے سوالات پوچھنے چاہییں۔" اور ایک دن، میں ان کے سینٹر جا پہنچا۔ جہاں میرا استقبال بہت گرم جوشی اور خلوص سے کیا گیا۔ پھر میں حلقے میں ہفتہ وار حاضری لگاتا رہا۔ اور رسالہ نور اور تفسیر بھی پڑھی، اس طرح مجھے تمام سوالوں کے جواب مل گئے۔ الحمدللہ۔ میرے اندر ایمان کا نور آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔ میں اس کی مٹھاس محسوس کر رہا تھا۔ الحمدللہ۔ اور کچھ عرصے بعد، میں بھی اسلام کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن میں اکیلے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ میں دو بچوں کا باپ تھا۔ مجھے اپنے خاندان کو بھی پالنا تھا۔ میں نے دل برداشتہ ہو کر اللہ کو پکارا کہ مجھے بھی قرآن کی خدمت کا شرف عطا فرما۔ اور کچھ عرصے بعد، اللہ نے اپنے بندے کی دعا قبول فرمائی۔ اس نے رزق کے ایسے دروازے کھولے کہ میں مالی طور پر بے غم ہو گیا۔ میں روزگار کی طرف سے بےفکر ہو گیا۔ میں اپنا پورا دن قرآن کے لیے وقف کر سکتا ہوں۔ کچھ عرصے بعد، میں نے بطور ڈاکٹر اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ پھر میں نے ٹوورڈز ایٹرنیٹی کے بانی فاتح سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے اپنا حال بیان کیا اور دین کی خدمت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ الحمدللہ، اب میں اس شاندار اور پرخلوص ٹیم کا حصہ ہوں۔ اس ٹیم میں غیرمعمولی صلاحیتیں تھیں۔ لیکن ایک مسئلہ تھا۔ فاتح بھائی کے علاوہ ٹیم میں کوئی بھی انگریزی میں ماہر نہیں تھا۔ تو اسی وجہ سے میں نے انگلش سیکھنے پر بہت زور دیا۔ حالانکہ مجھے خود اس کی ضرورت نہیں تھی۔ اور نہ ہی ترکی میں اس کا استعمال عام ہے۔ آج میں انگلش برانچ کا ایک بہت ہی اہم رکن ہوں۔ الحمدللہ۔ میں بھی اس چینل کے اہم اراکین میں سے ایک ہوں۔ ایسا لگا جیسے دونوں فریق دعا کر رہے ہوں، صرف الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے بھی۔ اور اس وقت، اللہ نے ہماری راہیں ملا دیں۔ اور تب مجھے ایک بات کا احساس ہوا۔ بدیع الزمان نورسی ایسے عالم دین جنہوں نے ترکی میں اسلام کے لیے اپنے طالب علموں کے ساتھ مل کر انتہائی مشکل حالات میں جدوجہد کی۔ ایک دن، انہوں نے اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کیا، اور کہا،"جب آپ اپنی زندگی پر غور کرتے ہیں، آپ دیکھیں گے کہ آپ جو کچھ آج ہیں وہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے ، تقدیر آپ کو تیار کرتی رہی۔ آہستہ آہستہ، آپ کو احساس دلائے بغیر۔" ساری زندگی آپ کو تیار کیا جاتا ،آپ کو اس ورژن میں ڈھالنے کے لیے، جو ایک دن قرآن کی خدمت کرے گا۔ ہرمشکل، ہر موڑ اور ہر آزمائش ایک ڈیوائن ٹریننگ کا حصہ ہوتا ہے جو آپ کو سچائی کا خادم بننے کے لیے تیار کرتا ہے۔ تو اپنی ماں کو کھونے کے بعد مذہب کی طرف رجوع اور اسی جگہ پہنچنا جہاں مجھے میرے سوالوں کے جواب ملے، یہاں تک کہ میڈیکل کا مادیت پرست نظام تعلیم جس سے میرے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے ،اور روزگار کے لیے کام نہ کرنے کی صورتِ حال، تو یہ چوراہے مجھے اس جگہ لے آئے جہاں مجھے ہونا چاہیے تھا۔ میرے اپنے پیشے سے غیر مطمئن ہونے کی بھی ایک وجہ تھی۔ کسی وجہ سے ہی مجھے ایک ایسی بیوی ملی جس نے اس روحانی سفر میں میرا ساتھ دیا۔ جب پندرہ سال پہلے ہماری شادی ہوئی تھی، تو ہم دونوں میں سےکوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ ہم نے ایک دوسرے کو کیوں چنا۔ لیکن ایمان ساتھ ساتھ اس پزل کے ٹکڑے جوڑ رہا تھا۔ 40 سال پہلے جیسے اللہ نے اپنے پرفیکٹ پلان کے ساتھ یہ مقرر کردیا تھا۔ میرے والد کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک اچھی زندگی گزارنے کے بجائے اس پر سرمایہ کاری کیوں کر رہے ہیں۔ سبحان اللہ۔ تقدیر کتنی عجیب ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ مجھے میری سوچ سے بھی بڑھ کر عطا کرنے کے لیے تیار کر رہا تھا۔ وہ مجھے اس پلیٹ فارم کی مرکزی ٹیم کا حصہ بنانے جا رہا تھا جو اب اپنے انگریزی چینل پر 3.15 ملین سبسکرائبرز کے ساتھ 13 زبانوں میں مواد تیار کرتی ہے، عربی میں1.17 ملین، اردو میں 906000 اور روسی میں 400،000۔ اور میں اکیلا نہیں ہوں۔ ہماری مرکزی ٹیم کے چالیس افراد میں سے ہر ایک کی کہانی ایسی ملتی جلتی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کی زندگی مختلف طریقوں سے تشکیل پائی ہے۔ تاکہ ہم اس مقصد کی تکمیل میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اور آخر کار، ہمارے تمام راستے ایک ہی چوراہے پر جا ملے۔ جہاں سے، ہم زمین دوز انٹرنیٹ کیبلز کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل گئے۔ ایک کیبل روس تک پہنچ گئی، ایک اور جاپان کے گھروں میں داخل ہوئی۔ ہاتھ میں پکڑے فون کے ذریعے، ہم کینیڈا کی ایک مسلم نوجوان تک جا پہنچے۔ جو الحاد کے دہانے پر تھی، لیکن اب اُس نے ایک قدم پیچھے ہٹالیا ہے۔ اس کیبل کا ایک سرا اب الجیریا کے ایک نوجوان کے گھر میں ہے۔ جس نے اب حرام کاری سے توبہ کا فیصلہ کیا ہے۔ پتہ ہے میں یہ سب آپ کے ساتھ کیوں شیئر کر رہا ہوں؟ کیونکہ اس تناظر میں تقدیر کے بل پر چلنے والا صرف میں نہیں ہوں۔ بلکہ وہ ہر اس شخص کا مدد گار ہے جو اسلام کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے۔ اگر آپ بھی کبھی اپنی زندگی کے اہم موڑ پر غور کریں، تو آپ کو بھی اس ڈیوائن پلان کے آثار آپ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات میں نظر آئیں گے۔ تشکر اور مرعوبیت کے ساتھ محسوس کریں گے کہ اللہ آپ کو ایک ایک قدم آگے بڑھا رہا ہے، اس جگہ پر پہنچنے کے لیے جو ایک دن آپ کی منزل ہو گی۔ میرے بھائیو اور بہنو ، جن کے دل اسلام کے لیے دھڑکتے ہیں، کیا آپ نے کبھی خود سے یہ سوال پوچھے ہیں؟ آپ اسلامی ویڈیوز کیوں دیکھتے ہیں؟ تقدیر کے نکتہ نظر سے اس کی ایک وجہ ہے۔ آپ کو اسلام کے مستقبل کی اتنی فکر کیوں ہے؟ کیا آپ کا صرف پانچ وقت نماز پڑھنا ہی کافی نہیں ہے، کچھ قرآن پڑھیں، اور باقاعدگی سے مسلمان بنیں؟ اب یہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔ آپ کی فیملی آپ کی مذہبی پرورش کیوں چاہتی تھی؟ آپ کیوں ان تکلیفوں سے گزرے جس نے آپ کا دل پارہ پارہ کیا۔ یہ محسوس ہوا کہ آپ کے خالق نے آپ کی روح کو سنوارنے کے لیے یہ سب کچھ استعمال کیا۔ کوئی ایک ویڈیو جس نے آپ کا دل چھو لیا ہو، یا پھر کوئی روحانی تجربہ جب آپ نے اللہ کو بہت قریب محسوس کیا ہو۔ تو آپ کی کہانی میں بھی، یہ سب آپ کو کسی مقصد کے لیے تیار کر رہا تھا۔ تو دراصل، اس کہانی میں کسی کو اندازہ نہیں ہوتا کہ ہو کیا رہا ہے؟ لیکن تقدیر ستر یا شاید سو سال پہلے ہی راہ ہموار کرنا شروع کر دیتی ہے۔ اسی لیے جب آپ اپنی زندگی میں اپنے ماضی پر نظر ڈالتے ہیں، کچھ وقت نکال کر غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں، سبحان اللہ یا رب (اے رب)، تو ہمیشہ سے مجھے اس دین پہ چلانے کے لیے تیار کر رہا تھا۔ سب کچھ ایک کہانی سے شروع ہوتا ہے۔ اور ہمارے چینل کی کہانی بیس سال پرانی ہے۔ جب یہ سب شروع ہوا۔ یونیورسٹی کے مٹھی بھر الجھے ہوئے طلباء جوابات کی تلاش میں اکٹھے ہوئے اور 150 مربع میٹر کا اپارٹمنٹ کرائے پر لے لیا۔ صرف ایک چھوٹی، شائستہ جگہ جہاں وہ گہری گفتگو کرنے لگے۔ ان کے پاس فینسی سامان نہیں تھا، صرف ایک سستے سے کیمرے اور پرانے ٹرائی پوڈ کے ساتھ۔ لیکن ان کے پاس اس سے کہیں زیادہ قیمتی چیز ان کے پر خلوص ارادے تھے۔ تو اصل موضوع کیا ہے، ٹوارڈز ایٹرنیٹی کا مین فوکس؟ سب سے پہلے، اس کا مقصد ایمان کے آرٹیکلز کو ثابت کرنا اور دلائل پر مبنی قائل کرنے والے جواب پیش کرنا ہے۔ ان مشکل اور کنفیوزنگ سوالات کا جو آج کل لوگ پوچھتے ہیں۔ مسلمانوں کے ایمان کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا مقصد وہ روحانی آگ بجھانا ہے جو آج عقائد پر حملہ آور ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ، ہم غیر مسلموں کو عقلی دلائل اور مکمل ثبوت کے ساتھ اسلام کا تعارف کراتے ہیں۔ کیونکہ آج کل لوگ "کیا"میں اتنی دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ "کیوں" کا سوال کرتے ہیں۔ "اسلام ہی کیوں؟" اور ایسے سوالات کا مدلل جواب دینے کے لیے ہماری سب سے بڑی انسپیریشن قرآن کی تفسیر رسالہ نور کا مجموعہ ہے۔ اور دوسرا ہم اس پیغام کو وائرل کرنے والی ٹیکنیک پر غور کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں،ہم سچائی کو وائرل آؤٹ فٹ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی سکرپٹ رائٹنگ، سٹوری ٹیلنگ، ایڈیٹنگ سٹائل، پریزینٹیشن سے، جو بھی ٹولز ہمارے پاس ہیں، ہم ان کا استعمال سچائی کو وائرل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ کیونکہ جب آپ کہتے ہیں: "ارے، مجھے اسلامی ویڈیو مل گئی، آؤ سنو"، تو یہ الگورتھم پہ آگے آنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہم سچائی کو وائرل آؤٹ فٹ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا آپ نے ہماری بیلون ویڈیوز دیکھی ہیں؟ وہ سمپل لگتی ہیں لیکن ہمارے چینل کے لیے بہت مفید ثابت ہوئیں۔ ان ویڈیوز کا شکریہ، ہم ہزاروں نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ آج تک ان بیلون ویڈیوز کو سو ملین لوگ دیکھ چکے ہیں۔ جیسے ہم فی الحال ان زبانوں میں کونٹینٹ بنا کر چینلز چلا رہے ہیں۔ لوکر سٹوڈیو ڈیٹا کے مطابق، گرین لینڈ میں بھی ہمارے ویورز ہیں۔ درحقیقت، انگریزی زبان میں ہماری ویڈیوز دنیا کے ہر ایک ملک میں دیکھی گئی ہیں۔ سوائے ایک ملک کے۔ اور وہ ہے شمالی کوریا۔ اور یہ ہماری رشین ویڈیوز کے ویوز ہیں۔ تو ان ممالک میں روسی بولنے والے لوگ ہیں جو اس زبان میں ہمارا کونٹینٹ دیکھتے ہیں۔ کیا آپ ڈائیسپورا کا لفظ جانتے ہیں؟ اس سے مراد تارکین وطن کی کمیونیٹیز ہیں۔ جو اکثر اپنی مادری زبان کا تحفظ کرتے ہوئے اسے اگلی نسل تک منتقل کرتے ہیں۔ لہذا ہم کسی ایک ملک کے لیے صرف ایک زبان نہیں بلکہ 13 زبانیں پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مختلف زبانوں اور بیک گراؤنڈ پر مشتمل لوگوں تک اپنی بات پہنچاتے ہیں۔ اصل میں ہمیں مسٹر بیسٹ کی ویڈیوز میں کہی ایک بات سے موٹیویشن ملی۔ اس نے کہا،"اگر آپ دنیا کی ٹاپ پندرہ زبانوں میں کونٹینٹ بناتے ہیں تو آپ کی رسائی دنیا کے نوے فی صد لوگوں تک ہو جاتی ہے۔" اس خیال نے واقعی ہمیں متاثر کیا۔ آپ خود سوچیں، دنیا بہت بڑی ہے۔ اور جب بات اسلام کا پیغام پوری انسانیت تک پہنچانے کی ہو، ہم ابھی بہت پیچھے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ وہاں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو کھلے دل والے اور بہت مخلص ہیں، جو اس پیغام کو سننے کے منتظر ہیں۔ قطر ورلڈ کپ کے بعد، ہمیں بھائی عدنان رشید سے ملاقات کا موقع ملا۔ جو دعوۃ کے کام میں پورے ایونٹ میں بہت سرگرم رہے۔ اور جب انہوں نے بتایا کہ لاطینی امریکی کا اسلام کے بارے میں پہلی بار سنتے ہی کیا ردعمل ہوتا ہے، انہوں نے جو اصطلاح استعمال کی اس نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے کہا، "ہم نے لاطینی امریکیوں کو مجرمانہ طور پر نظر انداز کیا ہے۔" یہ بات ہمارے دل پہ لگی۔ دنیا میں ہسپانوی بولنے والوں کی تعداد 400 ملین سے زیادہ ہے۔ پھر بھی اس زبان میں اسلامک کونٹینٹ حیران کن حد تک کم ہے۔ جیسا کہ ہم نے ہسپانوی ڈبنگ پر کام شروع کیا تو کچھ بہت دلچسپ ہوا۔ میں آپ کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔ شروع میں ہمیں ہمارے ہسپانوی چینل کے لیے کوئی مسلم وائس اوور آرٹسٹ نہیں ملا۔ تو ہم نے پیڈرو نامی ایک کریسچین وائس اوور آرٹسٹ کو ہائر کیا۔ اس نے شروع میں ایک دو ویڈیوز کی ریکارڈنگز کیں تو ہمیں اس کا کام پسند آیا۔ جیسے جیسے اور ویڈیوز کرتا گیا تو اس کے ساتھ ساتھ وہ کونٹینٹ سے متاثر ہوتا گیا۔ کیونکہ اس کے سامنے عیسائیت سے متعلق وہ تضادات والے سکرپٹ آ رہے تھے۔ اور اسلام کی سچائی کا ثبوت اس کے سامنے تھا۔ پھر ایک دن اس نے ہمیں پیغام بھیجا۔ اس نے کہا "میں اسلام سے قربت محسوس کرنے لگا ہوں۔ کیا میں آپ سے کال پہ بات کر سکتا ہوں؟ میرے ذہن میں کچھ سوالات ہیں۔" آئیے دیکھتے ہیں پھر کیا ہوا۔ -اشھد (میں گواہی دیتا ہوں) -اشھد (میں گواہی دیتا ہوں) -ان لا (کہ کوئی نہیں ہے) -ان لا (کہ کوئی نہیں ہے) -الٰہ (معبود) -الٰہ (معبود) -الا (سوائے) -الا (سوائے) - اللہ۔ - اللہ۔ و اشھد (اور میں گواہی دیتا ہوں) و اشھد (اور میں گواہی دیتا ہوں) -انا (وہ) -انا (وہ) -محمدا (محمد) -محمدا (محمد) - عبدہ (اس کا بندہ ہے) - عبدہ (اس کا بندہ ہے) وَرَسُوْلُہُ (اور اس کا رسول ہے)۔ وَرَسُوْلُہُ (اور اس کا رسول ہے)۔ "ایک بار پھر مبارک ہو بھائی۔ اب آپ کے دنیا بھر میں دو ارب بھائی اور بہنیں ہیں۔ آپ کے سارے گناہ معاف ہو گئے، اور اگر آپ کا خاتمہ ان شاء اللہ اس عقیدے پر ہوا تو آپ ابدی جنت میں داخل ہوں گے۔ آپ کو کیسا لگ رہا ہے؟" "میں بہت اچھا محسوس کررہا ہوں، میں واقعی بہت خوش ہوں میں اس وقت ایموشنل ہو رہا ہوں، پتہ نہیں کیوں۔۔۔۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔" "یہ ہماری خوشی ہے بھائی۔ تو آپ صرف بچے کی طرح قدم اٹھائیں، جلدی نہ کریں اگر آپ کا کوئی سوال ہے، کوئی مدد، موٹیویشن، یا کچھ بھی چاہیے۔ ہم ایک اشارے پہ حاضر ہیں، بھائی۔ پتہ ہے، اللہ نے آپ کو ہدایت کا یہ تحفہ دیا ہے۔ تو پلیز، آپ سے جتنا ممکن ہو اس کی حفاظت کریں۔" "ٹھیک ہے بھائی، بہت بہت شکریہ۔ کل میں نے جورام کے انٹرویو کا وائس اوور کیا تھا۔ ‘اوہ پرفیکٹ!

امیزنگ۔’ یہ بہت خوشی کی بات ہے۔ مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔" مجھے یہ خبر سن کر بہت خوشی ہوئی، الحمدللہ (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)۔ یہ ہمارے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔ ان شاء اللہ، ہم جلد ہی ملیں گے، فزیکلی۔ ان شاء اللہ۔ آپ کہاں رہتے ہیں؟ سپین میں؟ ارجنٹائن؟ -"جی، جی ارجنٹینا" -"یہ بہت دور ہے۔" تو یہ صرف ایک مثال ہے۔ وہاں بہت سی قومیں اور زبانیں ایسی ہیں جنہیں مجرمانہ طور پر نظرانداز کیا گیا ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ ہم یہ اکیلے نہیں کر سکتے۔ تو ہمارا یہ ویڈیو بنانے کا مقصد بھی یہی تھا۔ اس امید پر کہ شاید ہم کسی کو متاثر کر سکیں۔ الحمدللہ، ہم نے حال ہی میں ایک ترقی کی ہے جس نے ہمیں مستقبل کے لئے بہت امید دی ہے۔ یوٹیوب نے ہمیں ایک ایسی چیزتک رسائی دی ہے جو دنیا میں اس وقت چند چینلز کو حاصل ہے۔ ملٹی ٹریک آڈیو فیچر۔ آپ نے اسے مسٹر بیسٹ کی ویڈیوز میں دیکھا ہوگا۔ جب آپ کسی مخصوص ملک سے دیکھتے ہیں تو ویڈیو خود بخود اس ملک کی زبان میں چلتی ہے۔ یہ فیچر ابھی تک تجرباتی ہے، اور ہم بھی یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ تو ہم نے اسے اپنی ایک ویڈیو پر آزمایا۔ اس ویڈیو کے ساتھ ہم نے 13 الگ الگ آڈیو ٹریکس اپلوڈ کیے، ہر ایک مختلف زبان میں۔ اور نتائج یہ ہیں۔ ہمارا کام کوشش کرنا ہے۔ نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ایک لحاظ سے ہم اس میں کامیاب ہوئے۔ الحمدللہ۔ لیکن اس کے ساتھ ہی، ہم نے محسوس کیا کہ کچھ باتوں میں مزید محنت کی ضرورت ہے۔ ان شاء اللہ، ہم سب اپنے دلوں میں ایمان لے کر اس دنیا سے رخصت ہوں گے۔ لیکن اس زمین پر آٹھ ارب لوگ بستے ہیں۔ اگر ہم صرف دو ارب مسلمانوں کے لیے کونٹینٹ بنائیں۔ اگر ہم صرف اپنی حفاظت پر فوکس کریں، تو پھر ہم باقی چھ ارب لوگوں کے لیے جوابدہ ہوں گے۔ ذرا اس بارے میں سوچیں۔ جب بھی آپ گنتے ہیں 1، 2، 3...

تو چھ لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ کچھ ایمان کے ساتھ مرتے ہیں، لیکن کچھ اس کے بغیر۔ اور پھر کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے، ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ صرف یہ کہہ دینا کہ یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے؟ ہماری رسائی ان سب لوگوں تک کیوں نہیں ہو پا رہی؟ ہم صرف اپنے بارے میں کیوں سوچتے ہیں؟ ان کا خسارہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ وہ اپنی آخرت کھو رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ اس رسائی کا انتظار کر رہے ہیں ۔ آپ کے شہر میں آگ لگی ہوئی ہے، لیکن شاید آپ نے یہ سوچ کر پردے تان لیے ہیں کہ جیسے نظریں چرانے سے خطرہ ٹل جائے گا۔ اگر لوگ بالکل ہمارے سامنے ڈوب رہے ہوں اور ہمارے ہاتھوں میں لائف جیکٹس ہوں، لیکن ہم ان کی طرف نہیں پھینکتے، تو کیا ہم ان کی موت کے ذمہ دار نہیں؟ ہمارے ہاتھ میں، قرآن کی صورت میں ایک روحانی علاج موجود ہے۔ سنت، تقویٰ، اور ایمان۔ اگر ہمیں یہ سب ایک شخص تک بھی پہنچانے کی فکر نہیں ہے تو اگر ہم اس کی دعا بھی نہیں کرتے تو کیا ہم ان کی گمراہی کے ذمہ دار نہیں؟ اسی لیے آپ کو بھی یہ بوجھ اٹھانا ہے۔ آپ کو بھی اس کی فکر ہونی چاہیے۔ اس لیے یہ ویڈیو آپ کے سامنے آئی، اور آپ اب بھی اسے دیکھ رہے ہیں۔ اور اسی لیے جب یہ ویڈیو ختم ہو جائے تو آپ اپنا ایک مقصد متعین کریں گے۔ اپنے مذہب کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے چھوٹا ہی سہی لیکن قدم بڑھائیں گے۔ اور دعا کریں گے۔ کیا میں کوئی ناممکن بات کر رہا ہوں؟ بھائیو اور بہنو، دنیا کا کوئی دور اسے رد نہیں کرتا۔ اس کے برعکس، اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اگر کوئی 1800کے اوائل میں آپ کے پاس آئے، جب ریڈیو بھی نہیں تھا، اور کہے کہ "اسلام ایک دن پوری دنیا میں پھیلے گا۔" تو آپ کا ردعمل کیسا ہوگا؟ آپ شاید بحث نہیں کریں گے، لیکن اندر ہی اندر آپ حیران ہوں گے کہ "یہ کیسے ہو گا؟" اگر انہوں نے کہا کہ "ٹی وی اب موجود ہیں۔" آپ کہیں گے، "ٹھیک ہے۔ لیکن پیغام اب بھی براڈکاسٹرز کے کنٹرول میں ہے۔" ذرا یاد کریں کہ کس طرح روایتی میڈیا نے ہمیں زہر آلود کیا۔ پھر انٹرنیٹ آیا۔ آپ کہیں گے، "ٹھیک ہے، اس کی سینس بنتی ہے۔ یہ ہر گھر تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی، وہ کنٹرول میں ہے۔" پھر سوشل میڈیا آیا۔ اب آپ کی امیدیں بڑھنے لگیں۔ دنیا فیس بک استعمال کرتی ہے۔ شاید اب ہم کچھ کر سکتے ہیں۔ لیکن الگورتھم اتنا اچھا نہیں ہے۔ پھر ریلز، ٹک ٹاک اور شارٹس کا الگورتھم آیا۔ اس نے سب کچھ بدل دیا۔ اب فالوورز کی تعداد سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ کا مواد اچھا ہے، اگر یہ واقعی وائرل ہے، تو صرف 10 فالوورز کے ساتھ بھی، آپ کی ویڈیو 20ملین لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اور اس وقت میں نے کہا، "یہ صحیح ہے۔ بالآخر رکاوٹیں ہٹائی جا رہی ہیں۔ اسلام اب پوری دنیا تک پہنچ سکتا ہے۔" لیکن رکیں، ہم اتنی زبانوں میں کونٹینٹ کیسے بناتے ہیں؟ یہ اب بھی ایک بڑی رکاوٹ تھی۔ اور پھر آرٹیفیشل انٹیلیجنس آئی۔ اب یہ سب سمجھ میں آتا ہے۔ اب پہیلی مکمل ہو گئی ہے۔ راستے میں کچھ بھی نہیں بچا۔ یہ پیغام اب ہر گھر، قصبے، گاؤں اور دلوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ہمیں اس راستے پر کیا جھیلنا ہو گا، چاہے ہمیں سنگسار کر دیا جائے لیکن پھر بھی ہم سب مل کر اپنی آخری سانس تک کوشش جاری رکھیں گے۔ کیوں؟ کیونکہ اس سفر میں ایمان خاموشی کے ساتھ آپ کے لیے پزل کے ٹکڑے جوڑتا رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اللہ نے آپ کو اپنی رضا کے مطابق ڈھال دیا۔