Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

ایک منٹ میں اگنوسٹک اِزم کا جواب دیں! - "آپ ایک خیالی خدا پر یقین رکھتے ہیں!”

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

آپ یہاں پہلی دفعہ نہیں آئے ہیں۔+ آپ یہاں کے قوانین جانتے ہیں۔ آپ کے پاس ہر سوال کے جواب کے لیے صرف 60 سیکنڈ ہیں۔ - کیا وقت کی بجائے معلومات پر توجہ دینا زیادہ معقول نہیں ہے؟ اگر آپ وقت کی پابندی نہیں چاہتے ہیں تو آپ ہماری دیگر دوسری ویڈیوز پر جا سکتے ہیں۔+ یہ " کراس پوچھ گچھ " ہے۔ اگنوسٹک اِزم اور الحاد میں کیا فرق ہے؟+ - ان میں بنیادی طور پر دو فرق ہیں۔ جیسے الحاد ایک خالق کے عدم وجود کا مضبوطی سے دفاع کرتا ہے، جبکہ اگنوسٹک اِزم درمیانی معاملہ ہے۔ یعنی، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ، "ہم یقینی طور پر اس کے وجود یا عدم وجود کو نہیں جان سکتے"۔ اس کو ماننے والےاسے "نامعلوم" کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نا معلوم کی وجہ یہ ہے کہ وہ طبعی طور پر اس کا مشاہدہ نہیں کر سکتے۔ تاہم، لوگ بہت سی ایسی

چیزوں پر یقین رکھتے ہیں جن کو وہ نہیں دیکھ سکتے۔ مثال کے طور پر ، ہمدردی۔ ہر کوئی اس پر یقین رکھتا ہے، لیکن کوئی بھی اس کا ٹھوس چیز کے طور پر مشاہدہ نہیں کر سکتا ہے۔ انصاف، بھائی چارہ اور دوستی جیسے تصورات کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ وہ تصورات ہیں جنہیں ہم دیکھ تو نہیں سکتے لیکن اس کے باوجود ہم یقین رکھتے ہیں۔ درحقیقت، ہم سب ایسی چیزوں پر یقین کرتے ہیں جو ہم نہیں دیکھتے، لیکن وہ لوگ خالق کے بارے میں شک کرتے ہیں۔ اس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگنوسٹک اِزم غلط ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں بہت ساری معلومات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، جب ایک پولیس افسر تفتیش کرتا ہے، تو وہ ثبوت جمع کرتا ہے، ٹھیک ہے؟ مثال کے طور پر، وہ قدموں کے نشانات کو دیکھتا ہے اور انگلیوں کے نشانات جمع کرتا ہے۔ اس طرح کے سینکڑوں

ثبوت دیکھنے کے بعد وہ یہ نہیں کہے گا کہ،" میں نے مجرم کو نہیں دیکھا اس لیے، وہ موجود نہیں ہے اور ان ثبوت کا کوئی مطلب نہیں ہےکیونکہ ہم کبھی نہیں جان پائیں گے"۔ اس کی بجائے، وہ ثبوت دیکھ کر عقل کا استعمال کرے گا۔ پھر وہ ثبوت کی بنیاد پر مجرم کو خود ڈھونڈ سکتا ہے۔ پس اگر علم ہو تو بے یقینی ختم ہو جاتی ہے۔ آپ بیچ کے نظریے پر کیوں نہیں رہ سکتے؟+ کیا یہ کہنا کہ"میں نہیں جانتا" ایک منطقی جواب نہیں ہے؟ - نہیں، کیونکہ کوئی صفت ہوا میں نہیں رہتی۔ جب ہم کوئی صفت دیکھتے ہیں تو ہمیں اسے اس کے مالک سے منسوب کرنا چاہیے۔ مثال کے طور پر، اگر ہم سمندر کنارے جائیںاور سورج کو پانی پر چمکتا ہوا دیکھیں تو ہمیں اس چمک کی صفت کو کسی چیز سے منسوب کرنا ہوگا۔ تو ہم اسے سورج سے منسوب کرنے جا رہے ہیں۔ ہم یا تو کہیں گے

کہ "یہ سورج کی چمک ہے"، حتیٰ کہ بیشک ہم اسے نہیں دیکھ سکتے، اور یا ہم پانی کے تمام ذرات میں سے ایک (سورج جیسے ) ذریعے کو اس کی وجہ مانیں گے۔ ٹھیک ہے، اب، یہ ایسی چیز نہیں ہے جس کے لیے آپ درمیانی سوچ رکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح، جب ہم کائنات کو دیکھتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ ایٹم ہر جگہ کام کر رہے ہیں، لیکن جب میں ایٹم کا جائزہ لیتا ہوں تو میں دیکھتا ہوں کہ ان میں صفات نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، ایٹم ویسا دکھائی نہیں دیتا جیسا میں دیکھتا ہوں اور ایٹم کی آواز ایسی نہیں ہوتی جیسی میں سنتا ہوں۔ اچھا، تو میں ان صفات کو ہوا میں نہیں چھوڑ سکتا، لیکن جب میں ان کی جانچ کرتا ہوں اور اگر میں ان صفات کو ایٹموں میں نہیں دیکھ سکتا -جو کہ میں نہیں کرتا۔ تو پھر میں یہ کہوں گا کہ "حتیٰ کہ میں اسے نہیں دیکھ رہا ہوں،

پھر بھی مجھے قبول کرنا ہو گا کہ اس کے پیچھے ایک ہستی ہے۔ ایک ایسی ذات جس میں یہ صفات ہیں، اور وہ خالق ہے"۔ کیا اگنوسٹک اِزم دوسرے عقائد سے زیادہ منصفانہ نہیں ہے؟+ کم از کم وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے۔ لیکن دوسرے نظریات تو بہت واضح طور پر اس کے وجود کی موجودگی یا غیر موجودگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ - اب، ہمارے لیے "منصفانہ" کہنے کا مطلب یہ ہے کہ، یہاں کوئی ثبوت نہیں ہونا چاہیے، عقلی پہلو نہ ہو، اور ہمارے ہاتھ میں کوئی شواہد نہ ہوں۔ تو پھر ہم اس کو منصفانہ نظریہ کہہ سکتے ہیں، لیکن جب ہم کائنات کو دیکھتے ہیں، جہاں کہیں بھی دیکھتے ہیں، ہم خالق ، اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں ہر چیز کے اندر ثبوت دیکھ سکتے ہیں۔ تو پھر کیا آپ کے خیال میں یہ بات معنی رکھتی ہے؟ ایک ماں اپنے بچے کو مسلسل کھلاتی پلاتی

ہے، اس کی دیکھ بھال کرتی ہے، اور بچپن سے جوانی تک اس کی تمام ضروریات کو پورا کرتی ہے۔ پھر جب بچہ بڑا ہو جاتا ہے ، تو وہ کہتا ہے کہ "میں ہمدردی کو مادی طور پر نہیں دیکھ سکتا۔ اس لیے ، میں نہیں جان سکتا کہ آیا میری ماں رحمدل ہے۔ میں یہ کبھی نہیں جان سکتا۔ اور میں اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔" اب، اس بچے کو منصفانہ کہنا چاہیے یا غیر منصفانہ؟ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی والدہ اس لیے رحم دل نہیں ہیں کیونکہ آپ نے مادی طور پر اس کی شفقت نہیں دیکھی؟ دوسرے الفاظ میں، جب کائنات کی ہر چیز پہلے سے ہی ہمیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتا رہی ہے، اور ہم ہر چیز دیکھ سکتے ہیں، تو کیا ہم اسے منصفانہ کہتے ہیں یا غیر منصفانہ؟ آپ اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں 100 فیصد یقین کیسے کر سکتے ہیں؟+ حتیٰ

کہ اگر یہ ایک ملین میں سے ایک فیصد بھی ہو، تو بھی کیا آپ کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے؟ - غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ کیونکہ۔۔۔ ہر چیز مجھے اللہ تعالیٰ کا وجود ظاہر کرتی ہے، اس لیے میں یقین کے ساتھ جانتا ہوں کہ اس کا وجود نہ ہونا ناممکنات میں سے ایک ہے۔ مثال کے طور پر، ہم پہلے ہی اس کے وجود کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔ کیا آپ اس بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں کہ اس کا عدم وجود کیوں ناممکن ہے؟ مثال کے طور پر، اس کی غیر موجودگی کی صورت میں، یہاں بہت سے تضادات ہوں گے۔ ان میں سے ایک جج-مجرم کا المیہ ہے۔ کوئی بھی چیز ایک وقت میں جج اور مجرم نہیں ہو سکتی۔ مثال کے طور پر، جب ہم کسی عمارت کو دیکھتے ہیں، تو وہ اینٹوں سے بنی ہے، ٹھیک ہے؟ تمام اینٹیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ وہ ایک ہی مادے سے بنائی جاتی

ہیں۔ اب، جب میں ان اینٹوں کو دیکھتا ہوں، اور اگر میں کسی بیرونی معمار کو نہیں مانتا، تو پھر یہ اینٹیں خود اپنے آپ کو اکٹھا نہیں جوڑ سکتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام اینٹوں میں سے ہر ایک اینٹ کو دوسری اینٹوں پر غلبہ ہونا چاہیے( مطلق جج) اور اسی وقت ان میں سے ہر ایک اینٹ کو مجرم بننا ہوتا ہے۔ کیوں؟ ورنہ، حکم کون دے گا اور حکم کون بجا لائے گا؟ کون سی اینٹ دوسری اینٹوں کو قابو کرے گی؟ یہ ایک ہی وقت میں دوسری اینٹوں سے حکم کیسے لے سکتی ہے؟ تو،جیسا کہ اس مثال میں، چونکہ جج-مجرم مشکوک ہے، اسی طرح جب میں ایٹموں کی اس طرح کی حالت کے بارے میں سوچتا ہوں جبکہ یہاں کوئی خالق بھی نہ ہو، تو ہر ایٹم مطلق جج ہونا چاہیے اور مطلق مجرم بھی ہونا چاہیے تاکہ یہ اس عمل کو پوری دنیا میں جاری رکھ سکیں اور نظام کو منظم

کر سکیں۔ لیکن یہ ایک تضاد ہے۔ لہٰذا، ہر ایٹم ایک مجرم ہے۔ تو یہاں کوئی خالق ہونا چاہیے، جیسا کہ مثال میں ایک معمار ہے جو تمام اینٹوں کو منظم کرتا ہے۔ ہم اس موضوع پر بہت باتیں کر سکتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ وقت کا مسئلہ ہے۔ آپ ان لوگوں کو کیا کہنا چاہیں گے+ جو کہتے ہیں کہ" آپ اس خدا پر یقین رکھتے ہیں جسے آپ نے خود اپنے دماغ میں بنایا ہے اور یہ سب صرف آپ کے خیالات ہیں؟" - اب، " سائنس علم کے تابع ہے"۔ اس لیے اگر معلومات ہوں تو حقیقت نہیں بدلتی۔ میرے خیال کو بدلنے سے یا میرے ذہن کو تبدیل کرنے سے حقیقت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ مثال کے طور پر، میں نے اپنی آنکھیں بند کیں اور سوچا کہ یہاں ایک ٹرے ہے، میز نہیں ہے۔ اب، میرے علم میں تبدیلی، اور میرے ادراک میں تبدیلی، حقیقت پر اثر انداز نہیں

ہوئی۔ اسی طرح، ہم ویسے بھی کائنات میں ایک وہم کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ ہم بہت ساری مادی خصوصیات کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں۔ ہم کائنات کے ہر حصے کی بات کرتے ہیں اور پھر ہم خالق کو ثابت کرتے ہیں۔ اب، ایک شخص کے خیال کے بارے میں بات کی جائے، تو وہ "ہاں" یا "نہیں" کہہ سکتا ہے اور اپنے ذہن میں کوئی خیال بنا سکتا ہے لیکن حقیقت نہیں بدلے گی کیونکہ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے سب نے قبول کیا ہے اور خود کائنات بھی اس کی گواہ ہے۔ اس لیے، خالق کا وجود واضح ہے۔ یہ کسی شخص کے خیال کے مطابق تبدیل نہیں ہو سکتا۔ یہ ویسے بھی مخلصانہ بات نہیں ہے کیونکہ پھر کسی کو کہنا پڑے گا کہ،" ہر چیز محض ایک خیال ہے" اور ہر گز حرکت نہیں کرتی۔ مثال کے طور پر، ایک شخص اس وقت کچھ کھاتا ہے جب اسے بھوک لگتی ہے۔ وہ

کھانا بند نہیں کرتا اور یہ نہیں کہتا کہ،"یہ صرف ایک خیال ہے"۔ یا، اسی طرح، جب وہ بیمار ہوتا ہے تو وہ دوا کا سہارا لیتا ہے۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ"یہ محض ایک خیال ہے۔ اور یہ سب میرے تصورات ہیں"۔ تو، بات اگر خالق کی ہو، اللہ تعالیٰ کی ہو، تو ایسا لگتا ہے کہ یہ شیطان کی ایک چال ہے اور لوگوں کو دھوکا دیا جا رہا ہے۔ کیا خدا کی غیر موجودگی کا فریب لوگوں کو دین چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے؟+ کیا یہ انہیں اگنوسٹک بناتا ہے؟ - جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، یہ مسئلہ ایک فریب ہے۔ یہ کسی شخص کی مرضی سے آنے والا خیال نہیں ہے۔ یہ صرف دماغ میں ہے۔ اس سے کسی کے ایمان کو نقصان نہیں پہنچتا۔ یہ انسان کو دین چھوڑنے پر مجبور نہیں کرتا۔ ہم آپ کو ایک مثال دے سکتے ہیں۔ بارسلونا کے ایک مداح کو لیں۔ اب، اگر اس شخص کے سر میں ریئل

میڈرڈ کا ترانہ بجتا رہے تو کیا وہ ریئل میڈرڈ کا پرستار بن جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ یہ صرف ایک دھن ہے جو غیر ارادی طور پر اس کے سر میں بجتی ہے۔ یہ ان کا ذہن نہیں بدلے گا۔ اور اسی طرح، شیطان کی طرف سے وسوسے جیسا کہ "اگر خدا موجود نہیں ہے تو کیا ہو گا؟ اگر یہ سچ نہیں ہے تو کیا ہو گا؟" یہ بے قابو خیالات اس شخص کا ذہن نہیں بدلیں گے اور اسے دین چھوڑنے پر مجبور نہیں کریں گے۔ جب تک انسان اس کو قبول نہین کرتا، اپناتا نہیں ہے اور اسے پھیلاتا نہیں ہے تب تک کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ اہم بات یہ جاننا ہے کہ یہ ایک فریب ہے اور اسلام کے اندر شواہد کی تحقیق کرنا ہے۔ ہمارے سوالات کے لیے بس اتنا ہی ہے۔+ اگلی بار، مزید مشکل سوالات ہوں گے۔ - جیسا کہ میں نے پہلے کہاکہ، کوئی سوالات مشکل نہیں ہیں، بس صرف ایسے سوالات ہیں جن

کے جوابات نامعلوم ہیں۔