Atheist Muslim Debate At The University! - HE COULDN'T ANSWER!
تاریخ اشاعت
میں ایک ملحد ہوں۔ میں ایک سچا مسلمان تھا، لیکن پھر۔۔۔ میں مانتا ہوں کہ انسان کی تخلیق محض اتفاق و واقعات کی ایک کڑی ہے۔ میں آج کے مسلمانوں کی طرح نام نہاد مسلمان نہیں تھا۔ میں نماز پڑھتا تھا۔ میں قرآن پڑھتا تھا۔ میں نے عربی میں قرآن پڑھنا سیکھا۔ میرا نقطہ نظر یقینی طور پر سخت نہیں ہے۔ میں تنگ نظر نہیں ہوں۔ اگرکوئی مجھے معقول وضاحتیں اور میرے سوالات کے تسلی بخش جوابات دے، تو میں دوبارہ مذہبی عقیدہ کی طرف لوٹ کر آسکتا ہوں۔ آپ کیا کر رہے ہیں؟ کیا آپ بھی میٹو میں پڑھ رہے ہیں؟ جی ہاں، میں بھی میٹو میں نفسیات کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ ہمارا آج کا موضوع عقائد کے بارے میں ہے۔ کیا آپ مجھے اپنے بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟ اچھا، ویسے تو میں ملحد ہوں لیکن دو سے تین سال پہلے میں مسلمان تھا۔ میں آج کے مسلمانوں
کی طرح نام نہاد مسلمان نہیں تھا۔ میں نماز پڑھتا تھا۔ میں قرآن پڑھتا تھا۔ میں نے عربی میں قرآن پڑھنا سیکھا۔ میں نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا اور میں روزے بھی رکھتا تھا۔ تو میں نہ صرف مسلمان تھا بلکہ ایک سچا مسلمان تھا۔ لیکن تحقیق کرنے کے بعد مجھے کچھ ایسی چیزوں کا احساس ہوا جو میرے معیار پر پورا نہیں اترتی تھیں اور میرا ایمان ختم ہونے لگا۔ میں نے ملحدوں کے ساتھ آپ کی ویڈیوز بھی دیکھیں، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ ایمان نہیں رکھتے لیکن وہ اپنی رائے کا دفاع نہیں کر سکے۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔ لیکن شائد نوجوان لا دینیت کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں، اور زیادہ تر نوجوان بغیر کسی تحقیق یا علم کے ملحد بن جاتے ہیں۔ اور پھر وہ اپنے عقائد کا دفاع نہیں کر سکتے۔ ان لوگوں کا ملحد ہونا غلط دکھائی دیتا تھاکیونکہ وہ
یہ بیان کرنے کے قابل نہیں تھے کہ ان کا ملحد ہونا کیوں ضروری تھا۔ یہ ایسا ہی تھا کہ شاید وہ زبردست دِکھائی دینےیا پھر کسی اور چیز کے لیے ملحد بن گئے۔ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اب تک بے خبر ملحدوں سے بات کی۔ جی ہاں۔ میرے خیال میں وہ بے خبر تھے۔ تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ با علم ہیں؟ میں نے اپنی تحقیق کی۔ میرا مطلب ہے کہ میں نے ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی جو مجھے پریشان کر رہے تھے۔ اور میں با لکل بھی سخت نظریہ نہیں رکھتا۔ میں تنگ نظر نہیں ہوں۔ اگر میں نے اپنے سوالات کسی کے سامنے پیش کروں اور وہ مجھے ایسی وضاحتیں دے جو معنی خیز ہوں، تو میں دوبارہ ایمان کیوں نہیں لاؤں گا؟ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، آپ ثبوت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور معقول طریقے سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اچھا، کیا آپ مجھے
اللہ تعالیٰ کے عدم وجود کا کوئی ثبوت دے سکتے ہیں؟ یا پھر عدم وجود کی کوئی نشانی دکھا سکتے ہیں؟ -میں یقیناً یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی خالق نہیں ہے۔ در حقیقت، میں خدا کے وجود کے بارے میں تھوڑا سا نادان ہوں، لیکن میں یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ مذاہب کا کوئی وجود نہیں ہے۔ پھر ہم سب سے پہلے خالق کے معاملے کو دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میں پوچھوں کہ" اس یونیورسٹی میں کتنے طالب علم ہیں۔" آپ کہیں گے کہ " میں نہیں جانتا۔" اگر ہم ثبوت تلاش کر رہے ہوں اور ہمیں کوئی نمایاں چیز یا دستاویز کاغذ پر لکھ کر دی جائے تو ایسے ثبوت میں کوئی مبہم پہلو نہیں ہوگا۔ ٹھیک کہا؟ جی ہاں۔ اگر میں آپ کو خالق کے ہونے کا ثبوت دوں، اور عقلی، منطقی اور واضح ثبوت پیش کروں، تو کیا ہم لا علمی کے اس موضوع کا اختتام کر سکتے ہیں؟ -میں
ابھی ایسا نہیں کر سکتا۔ مجھے پہلے تحقیق کرنے کی ضرورت ہے، لیکن۔۔۔ میں آپ کو ثبوت دوں گا۔ ٹھیک ہے، میں سن رہا ہوں۔ اگر ثبوت آپکو سمجھ آتے ہیں، تو آپ ابھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ -جی، مجھے بتائیں۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ ہم سلیمیہ مسجد کے سامنے کھڑے ہیں۔ میں آپ کو ایک ٹھوس اور پختہ مثال دوں گا۔ ہم سلیمیہ مسجد کے سامنے ہیں اور ہم اس کا منطقی جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسے کیسے بنایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس چار بنیادی آپشنز موجود ہیں۔ پہلے نمبر پر، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس مسجد کے قریب بہرے، اندھے اور نادان لوگوں کا ایک گروہ ہے، اور انہوں نے یہ مسجد باہمی رضا مندی سے تعمیر کی ہے۔ اور دوسرے نمبر پر: مسجد کی اینٹوں نے آپس میں اتفاق کیا اور کہا، کہ ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں، چلیں ایک
مسجد تعمیر کرتے ہیں۔ اس طرح میں یہ کہوں گا کہ یہ مسجد اینٹوں نے خود بنائی ہے۔ یا تیسری بات یہ ہو سکتی ہے: کہ میں مسجد کے اندر موجود تعمیراتی منصوبے کا دستور العمل دیکھ رہا ہوں جس میں تعمیر کے مراحل بیان کیے گئے ہیں۔ اور میں یہ کہتا ہوں کہ لکھے ہوئے اس دستور نے مسجد بنائی ہے۔ اور چوتھی بات یہ ہو سکتی ہے: کہ ایک معمار ہے، جیسے میمار سینان۔ اور میں کہتا ہوں کہ ایک معمار ، میمار سینان جیسے ذہین انسان نے اپنے علم، ارادے اور طاقت سے یہ مسجد بنائی۔ آپ ان سب آپشنز میں سے کس کا انتخاب کریں گے؟ میں یقینی طور پر میمار سینان کا انتخاب کروں گا۔ ٹھیک ہے، لیکن انسان کی ساخت ایک مسجد کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور منظم ہے۔ کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں؟ انسان، جی ہاں با لکل۔ جب میں انسانوں کو عقلی اور منطقی طور
پر دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں بھی یہی سوال آتا ہے۔ میں انسانوں کو دیکھتا ہوں، اور ایک انسان میں تقریباً ایک سو ٹریلین خُلیات ہوتے ہیں۔ اور ہر خُلیے کے اندر مائٹو کونڈریا نامی آٹھ سو آرگنیلز ہوتے ہیں۔ اور رائبوسوم نامی دس ہزار ذرات ہیں۔ ہر خُلیہ ایک نا قابلِ یقین ساخت کے اندر منظم طریقے سے افزائش پاتا ہے۔ حیاتیات کے پروفیسر مائیکل ڈینٹن کے مطابق: ہر خُلیہ نیویارک جیسا ایک شہر ہے۔ ہمارے جسم میں کتنے خُلیے ہوتے ہیں؟ ہمارے جسم میں نیویارک کی مطابقت کے ایک سو ٹریلین خُلیات ہیں۔ جب میں اس طرح کے پیچیدہ ڈھانچے کو دیکھتا ہوں، تو مجھے ایک معقول جواب کی تلاش ہوتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا۔ انسانوں کے خُلیے اور اجسام مسجد کی طرح ایک بار بنا کر چھوڑ نہیں دیے جاتے۔ کیا ہمارے جسم میں موجود خُلیوں کی دوبارہ
پیدائش نہیں ہوتی؟ جی ہاں، ہوتی ہے۔ ہر سیکنڈ میں دس ہزار خون کے خُلیے بنتے ہیں، اور پچاس ملین خُلیات کو تازہ کیا جاتا ہے۔ اور کیا ہمارے دماغ میں ہر سیکنڈ میں 16/10 عوامل نہیں ہو رہے؟ جی ہو رہے ہیں۔ میں اس پیچیدہ ڈھانچے کو دیکھ چکا ہوں اور میں وہی معقول سوال پوچھنے لگا ہوں۔ میرے پاس اب بھی یہ جاننے کے لیے چار آپشنز ہیں کہ روزانہ انسان کی افزائش کیسے ہوتی ہے۔ پہلا آپشن یہ ہے کہ میں کہوں کہ ان بہرے ، اندھے اور نادان فطرت و واقعات نے باہمی اتفاق سے انسانوں کو بنایا۔ لیکن یہ ایک غیر منطقی بات ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اندھے ، بہرے اور نادان واقعات کسی بھی معاہدے پر متفق کیسے ہوں گے اور انسانوں کی مسلسل افزائش کیسے کریں گے۔ سب سے پہلے، ہم نے کہا کہ اگر مسجد اس طرح نہیں بن سکتی تو انسان بھی اس طرح نہیں بن
سکتے، ٹھیک ہے؟ جن چیزوں کا آپ نے ذکر کیا وہ نہیں ہو سکتیں۔ اور دوسرا آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ: وہ ایٹم جو اپنے اندر انسانی جسم کو بناتے اور ترتیب دیتے ہیں۔ انہوں نے ضرور یہ کہا ہو گا: " ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ؟ آئیں مِل کر اس انسان کو بناتے ہیں۔" اور وہ ایٹم اس عمل کو ہر وقت جاری رکھتے ہیں۔ دماغ اس بات کو بھی نہیں مانے گا۔ کیوں ؟ جیسا کہ ہم نے کہا تھاکہ مسجد بنانے کے لیے اینٹیں خود سے آپس میں نہیں مِل سکتیں۔ اسی طرح میں یہ کہوں گا کہ بے جان ایٹم اس انسان کی تشکیل کے لیے خود سے آپس میں نہیں جُڑ سکتے۔ ہم اس بات کو کسی بھی طرح سے قبول کرتے ہیں۔ اور تیسرا آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ: جیسا کہ ہم نے کہا کہ مسجد کے پروجیکٹ کی کتاب مسجد نہیں بنا سکتی، کیونکہ یہ صرف ایک کتاب ہے۔ اسی طرح ، میں کہوں گا
کہ ڈی این اے انسانوں کو نہیں بنا سکتا۔ کیونکہ ڈی این اے ایک کتاب ہے، مصنف نہیں ہے۔ پھر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ڈی این اے ایسا تخلیقی عمل نہیں ہو سکتا جو انسان کو بناتا ہے۔ بالکل ہدایات کی کتاب کی طرح۔ اور یا پھر چوتھا آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ: ہم کہیں گے، کہ چوتھے آپشن میں ایک معمار موجود ہے۔ جو لمحہ بہ لمحہ انسانی تخلیق کر رہا ہے ، اور اسی طرح تخلیق کرتا چلا جا رہا ہے جیسے اس نے شروع میں تخلیق کیا تھا۔ ایک باشعور ہستی موجود ہے جو انتخاب کر سکتی ہے اور مرضی، طاقت اور زندگی سب اسی کے پاس ہیں۔ جس طرح میمار سینان نے مسجد بنائی اسی طرح خالقِ کائنات نے انسان کو بنایا۔ اور میں کہوں گا کہ وہ ہی معمار ہے جو ہر وقت تخلیق کرتا رہتا ہے۔ اب میں آپ سے دوبارہ پوچھوں گا۔ جس طرح ہم معمار کو قبول کرتے ہیں، اسی
طرح ہمیں یہ تسلیم نہیں کرنا چاہیے کہ کائنات کے خالق نے ہی انسان کو تخلیق کیا ہے۔ وہ جس نے نہ صرف آپ کو بلکہ دنیا کے آغاز سے لاکھوں اور کھربوں انسانوں کو پیدا کیا۔ کیا ہمیں انسانوں کی مستقل تخلیق، پروگرامنگ اور خُلیات کو ترو تازہ رکھنے والے معمار کو قبول نہیں کرنا چاہیے؟ - یہ ضروری نہیں ہے۔ میرے خیال میں ان سب واقعات کا رونما ہونا محض اتفاق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اتفاقات کی ایک زنجیر نے انسان کو تخلیق کیا۔ اس لیے میں اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ انسان کا کوئی خالق ہے۔ پانچ لوگ فی سیکنڈ، تین لاکھ پچاس ہزار لوگ فی دن، انسانوں کو تو ایک طرف رکھ دیں ، تمام جاندار، شاید لاکھوں جاندار ہر روز پیدا ہوتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ آپ اس تخلیقی صلاحیت کو کس سے منسوب کرتے ہیں، جو کہ مسلسل جاری ہے؟ یہ کام کون
سی ہستی کر رہی ہے؟ ہر وقت۔۔۔۔ -میرا ڈی این اے یہ سب کام کرتا ہے۔ لیکن دیکھو، ہم نے پہلی مثال میں کہا تھا، کہ عمارت کی معلوماتی دستاویزات خود سے عمارت نہیں بنا سکتیں۔ ہم نے کہاکہ ایک معمار عمارت کو پلان کے مطابق بنائے گا۔ اسی طرح ڈی این اے بھی انسان کو نہیں بنا سکتا۔ ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ انسانوں کا معمار انسانوں کو ڈی این اے کی کتاب کے مطابق ترتیب دیتا ہے اور تخلیق کرتا ہے۔ آپ نے بھی پہلے اس کو قبول نہیں کیا۔ - ہاں ، ڈی این اے ایسا نہیں کرتا، ڈی این اے انسانوں کو تخلیق نہیں کرتا ہے۔ ہمارے ہر خُلیے اور جسم کے ہر حصے میں ڈی این اے موجود ہے۔ مثال کے طور پر، دل کے پٹھوں کے خُلیے کا ڈی این اے اسے ایک خاص طریقے سے دھڑکنے کی ہدایت دیتا ہے اور وہ ویسے ہی دھڑکتا ہے۔ اس کا کیا ثبوت ہے، کیا ثبوت ہے کہ
یہ ہدایات دیتا ہے؟ کیونکہ ڈی این اے ایک کتاب ہے۔ اس کے اندر خود سے حکم دینے کی طاقت نہیں ہے۔ ڈی این اے صرف ایک نظام ہے جو معلومات کے ساتھ بھرا ہوا ہے۔ آپ شاید یہ سب حیاتیات کی کلاس میں جان چکے ہیں۔ - لیکن ان سب کے بعد، ہمارے خُلیے اس کو لیتے ہیں اور اسے استعمال کرتے ہیں۔ نہیں استعمال نہیں کرتے۔ کون استعمال کرتا ہے؟ یہ ایک تشکیل کا عمل ہے۔ لیکن یہ کون کر رہا ہے؟ میں آپ سے اس خصوصیت کی حامل کسی ایک ذات کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ ڈی این اے نہیں ہے۔ تو پھر یہ کون ہے؟ - ٹھیک ہے، میں کہتا ہوں کہ ہم ایسے ہی کسی طرح اکٹھے جُڑ کر بن گئے۔ کیا ہمیں اس طرح اکٹھا جوڑنے کے لیے کسی تخلیق کار کی ضرورت ہے؟ میں یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کہ ایک تخلیق کار کو اسے دوبارہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
آپ اس وصف کو بغیر جواب دیے نہیں چھوڑ سکتے۔ آپ کو بتانا پڑے گا: " ہاں ٹھیک ہے۔ اگر ڈی این اے نہیں کر سکتا تو کون کر سکتا ہے؟ چلیں ٹھیک ہے آئیے اس بارے میں بات کرتے ہیں۔ میں آپ کو پہلے ہی ساری معلومات دے چکا ہوں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نہیں جانتے۔ آئیے پہلے یہ معاملہ طے کر لیتے ہیں۔ ہم کہیں گے کہ ان معلومات کو جاننے والی کوئی نہ کوئی ذات ضرور ہونی چاہیے۔ علم کے بغیر کوئی بھی یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس کے پاس علم کا ہونا ضروری ہے۔ جن کے پاس اپنی مرضی اور فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے، ظاہر ہے وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ اس کے پاس ضرور طاقت ہونی چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی طاقت دائمی ہونی چاہیے اور اس کی زندگی بھی ہونی چاہیے۔ کیونکہ ہم کہیں گے کہ بے جان مادہ یہ عمل نہیں کر سکتا۔ اور کوئی بھی ان صفات کے
بغیر انسان کو پیدا نہیں کر سکتا۔ اور دیکھیں کہ میں ابھی صرف ایک انسان کی مثال دے رہا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ (ڈی این اے) انسان کو نہیں بنا سکتا اور نہ اس عمل کو جاری رکھ سکتا ہے۔ کیونکہ ان صفات کی حامل کسی نہ کسی ذات کا ہونا ضروری ہے۔ میں اس کی فطرت کو دیکھتا ہوں۔ کیا یہ بے جان ہے؟ ہاں یہ بے جان ہے۔ کیا اس کے پاس علم ہے؟ نہیں ہے۔ یہ اندھا، بہرہ اور نادان ہے۔ پہلی مثال کو ذرا دوبارہ یاد کریں۔ ہم نے کہا تھا کہ یہ معلوماتی دستاویزات مسجد نہیں بنا سکتیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان حالاتو واقعات کا ذمہ دار کون ہے، جو میرے ساتھ ہر روز ہوتے ہیں؟ اگر یہ ڈی این اے نہیں ہے تو اس معاملے کو لاجواب نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یہاں کوئی ذات تو ہونی چاہیے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت اس معاملے کو " مفروضہ" کے طور
پر چھوڑ دیں۔ ابھی کے لیے اس سوال پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ لیکن ان چار صفات کی حامل ایک ذات ہونی چاہیے، ایک ایسی ہستی جس کا وجود ہو۔ ہم نے کہا کہ چار میں سے تین آپشن تو ناممکن ہیں۔ ہم اکٹھے اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ کہ صرف ایک ہی ضروری آپشن باقی رہ جاتا ہے۔ - ٹھیک ہے، چلو مان لیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ انسانوں کو پیدا کرنا ہے۔ کیا اس کام کے لیے خدا لازمی ہونا چاہیے جیسا کہ مسلمان بیان کرتے ہیں؟ مثال کے طور پر ، بچے۔ جب ایک بچہ فوت ہوتا ہے، تو اس بچے کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ وہ گناہوں سے پاک ہے۔ اس لیے وہ جنت میں جاتا ہے۔ - تو ایک بے گناہ بچے کے جنت میں جانے، اور میرے استاد کا مجھے A گریڈ دینے میں کیا فرق ہےکیونکہ امتحان کا کوئی بھی پرچہ باقی نہیں ہے؟ آخر ہمیں یہ امتحان مکمل کرنا ہے۔ ہم یا تو پاس ہوں
گے یا پھر فیل ہوں گے۔ چنانچہ اگر ایک امید وار کمرہ امتحان میں آتا ہے اور وہ اسے کہتے ہیں کہ: "آپ کے لیے امتحان کا کوئی پرچہ باقی نہیں ہے۔ آپکا امتحان ختم ہو گیا ہے۔" اور وہ اسے براہِ راست پاس کر دیتے ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ کام منصفانہ ہے؟ انصاف کیا ہے؟ ہمیں پہلے اس کےبارے میں بات کرنی چاہیے۔ کیونکہ انصاف کی بات کرنے کے لیے ہمیں بدلے میں کچھ دینا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر، آپ ایک فون خریدنے گئے۔ ٹھیک ہے؟ آپ نے ایک دکان سے ایک عدد فون خریدا۔ اگر فون ٹوٹا ہوا نکلتا ہے، تو آپ صارفین کے حقوق کی تنظیم، یا پھر عدالت میں جا سکتے ہیں کیونکہ آپ نے اس کے لیے رقم دی تھی۔ کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں؟ - جی ہاں۔ کیوں؟ کیونکہ تم نے بدلے میں کچھ دیا ہے۔ لیکن اگر ہم کہتے ہیں کہ ایک آدمی یہاں آیا اور دیکھا کہ
ہم گپ شپ کر رہے تھے۔ اس نے کہا کہ " آپ لوگ کتنی اچھی گفتگو کر رہے ہیں۔" پھر اُس نے آپ کو دو کاریں بطور تحفہ دیں۔ اور پھر اس نے مجھے پانچ گھر تحفے میں دیے۔ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ "ارے بھائی ، کیا معاملہ ہے؟" "آپ نے مجھے دو کاریں کیسے دی جبکہ انہیں پانچ گھر دیے ہیں۔ یہ انصاف نہیں ہے۔ میں عدالت جا کر شکایت کروں گا۔" جج آپ کو کیا کہے گا؟ اسی طرح انسان بھی کسی وقت اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیونکہ انسان نے بدلے میں کچھ نہیں دیا۔ لیکن وہ زمین پررحمتیں پھیلانے کا پابند ہے جو رحمتیں اسے بطورِ تحفہ ملیں۔ تاکہ آخرت میں وہ جنت میں جا سکے۔ پھر ہم کہیں گے کہ جب میں نے بدلے میں کچھ نہیں دیا، تو یہاں انصاف کی سوچ لاگو نہیں ہوتی۔ اگر آپ یہ پوچھتے ہیں: "کہ وہ جنت میں کیوں جا رہا ہے؟ میں تو پھر خطرے میں ہوں۔" میں
آپ سے پوچھتا ہوں بھائی کہ اگر آپ اپنا کوٹ باہر سے اتار کر اندر پہن لیں ۔ اور پھر میں کہوں،"آپ اس کوٹ کا رنگ بدلنے جا رہے ہیں" تو کیا آپ اسے قبول کریں گے، کیا یہ بات معنی رکھتی ہے؟ - نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ کوٹ آپ کا ہے؛ اور مالک کے پاس وہ سب حقوق ہوتے ہیں جو وہ چاہتا ہے۔ اسی طرح زمین ، جنت اور آخرت بھی اللہ کی ملکیت ہیں۔ مالک کے پاس جائیداد پر وہ سب حقوق ہوتے ہیں جو وہ چاہتا ہے۔ مثال کے طور پر، وہ زمین پر براہِ راست ایک پودا پیدا کر سکتا ہے یا پھر اسے براہِ راست جنت میں لگا سکتا ہے۔ ہم اعتراض کیسے کر سکتے ہیں؟ نہیں۔ کیوں نہیں؟ اس لیے کہ اگر وہ یہاں ایک گلاب لگا سکتا ہے ، تو وہ وہاں بھی گلاب لگا سکتا ہے۔ جیسا کے بچہ۔۔۔ مثال کے طور پر، گلاب کی مانند بچے کے بارے میں سوچیئے۔ وہ بچے کو براہِ راست یہاں
لا سکتا ہے، اور لوگوں کو دکھانے اور خوش کرنے کے بعد۔۔ وہ اس گلاب کی مانند بچے کو براہِ راست جنت میں لے جا سکتا ہے۔ میں یہاں اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیوں؟ کیونکہ اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک آیت میں فرمایا ہے کہ۔۔۔ ہم نے کہا کہ ہم اسلام کے بارے میں بات کریں گے۔ اللہ تعالیٰ سورہ مریم میں فرماتا ہے: "۔۔۔اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔۔۔" بالکل تنہا۔ مطلب، انفرادی طور پر ۔ دوسرے لفظوں میں، سب سے انفرادی طور پر پوچھ گچھ کی جائے گی۔ مثال کے طور پر ، آپ کو جو بھی خصوصیت دی گئی ہے، اللہ آپ سے اس کے بارے میں پوچھے گا۔ جو کچھ اس نے مجھے دیا ہے وہ اس کے بارے میں مجھ سے پوچھے گا۔ اسی طرح ہمارے اعمال ہمیں انفرادی طور پر دی گئی خصلتوں کے لیے ذمہ دار بناتے ہیں۔ اور اسی طرح یہ بچہ
بھی ہے۔ چاہے بچہ یہاں آتا ہے یا نہیں، یا وہ براہِ راست جنت میں جاتا ہے، یہ معاملہ میرے انصاف کو متاثر نہیں کر سکتا۔ اور ہم کہتے ہیں کہ اللہ نے انسانوں کو انفرادی طور پر پیدا کیا ہے۔ اس نے انفرادی طور پر جو کچھ بھی دیا ہے، وہ اسے منصفانہ طور پر واپس چاہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ان تصورات کے درمیان رہ کر اس کا جائزہ لینا چاہیے اور انصاف کے تصور کے بارے میں بھی اسی طرح سے سوچنا چاہیے۔ چلیں فرض کرتے ہیں کہ ہمیں اسلام میں کچھ بھی معقول نہیں لگتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہمیں کوئی چیز معقول نہیں لگتی تو یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہ چیز ہی غلط ہے۔ کیوں؟ ہم کہتے ہیں کہ ہم فاتح محمود کے دور میں رہتے ہیں، ٹھیک ہے؟ فاتح محمود کے دور میں ہر جگہ طغرے ہوتے تھے۔ یعنی عثمانی دستخط۔ اور وہ ایک حکم جاری
کرتا ہے کہ: " پانچ سال تک کوئی بھی اپنا گھر نہیں چھوڑے گا۔" کیا اس کا کوئی مطلب بنتا ہے؟ -نہیں۔ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ کیا میں غیر معقول ہو سکتا ہوں اور یہ کہہ سکتا ہوں ؛ کہ" کوئی محمود فاتح نہیں ہے۔" کیا ہم ایسے کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں؟ - نہیں، ہم نہیں پہنچ سکتے۔ ہم نہیں پہنچ سکتے۔ کیا میں کسی دوسری مثال کے لیے کہہ سکتا ہوں؛ وہاں ہر جگہ عثمانی طغرے ہیں، یہ میرے نزدیک ایک غیر معقول اصول لگتا ہے۔ تو پھر کیا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی عثمانی دور نہیں ہے؟ میں نہیں کہہ سکتا۔ کیوں؟ وہاں ہر جگہ طغرے موجود ہیں۔ یہ ہمارے لیے سوال پوچھنے کا سبب بنے گا؛ کہ فاتح محمود نے ایسا کام کیوں کیا؟ وہ اپنے دور میں ایسا قانون کیوں لایا؟ ہم یہ سوال کریں گے۔ بالکل اس مثال کی طرح، اللہ نے اسلام کے ساتھ قوانین
کو نازل کیا۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ: "اسلام میں یہ مثال میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔" اس سے ایسا نتیجہ کہ " اگر ایسے قانون ہیں تو کوئی خدا نہیں ہے" نہیں اخذ کیا جا سکتا۔ حقیقت میں اگر مجھے اللہ کے مقرر کردہ قوانین میں سے کوئی قانون پسند نہیں ہے تو یہ اسلام کے غلط ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں ہر جگہ طغرے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، سورہ روم میں ایک آیت ہے جو مستقبل کے بارے میں بتاتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ: وہاں یونانیوں اور فارسیوں کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔ اور یونانی واقعی شکست کھا چکے ہیں۔ جب کہ ہر کوئی یہ ہی سوچتا ہے کہ یونانی ہار جائیں گے، لیکن آخر میں یونانی فارسیوں کو شکست دے کر فتح حاصل کرتے ہیں۔ یہ ایک آیت ہے جو مستقبل کے بارے میں بات کرتی ہے، اور اس واقعہ کے بارے میں بتاتی ہے جو اس
کے ٹھیک 9 سال بعد آئے گا۔ اور میں کہوں گا کہ یہ میرے لیے ایک طُغرہ ہے۔ انسان مستقبل کی پیشن گوئی کیسے کر سکتا ہے؟ چونکہ انسان مستقبل کی پیشن گوئی نہیں کر سکتا اس لیے اس طُغرہ کا مالک ہی اسلام کا بھی مالک ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو احکام مجھے غیر منطقی دکھائی دیتے ہیں وہ نہ تو اسلام کے غلط ہونے کی دلیل ہیں اور نہ ہی اللہ کے غلط ہونے کا ثبوت ہیں۔ ٹھیک ہے، تو کیا یہ زیادہ معقول بات نہیں ہوگی کہ اگر اسلام کا دروازہ کھول کر اس کو قبول کیا جائے اور ان تمام سوالات کے جوابات کو اسلام کے اندر تلاش کیا جائے؟ -میرا مطلب ہے۔۔۔ میرے خیال میں یہ چیزیں غور طلب ہیں۔ یہ انسانی عقل کو استعمال کرتے ہوئے جلدی فیصلہ کرنے کی چیز نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ ان سب چیزوں کے بارے میں سوچیں گے۔ - جی ہاں، میں نے
ہمیشہ مذہبی معاملات کے بارے میں سوچا ہے اور سوچتا رہوں گا۔ آپ جو کام کر رہے ہیں اس نے میرے خیالات کو تبدیل اور متنوع کر دیا ہے۔ اس نے مجھے کسی خاص سمت میں موڑ دیا ہے۔ میں اسے مختلف طریقوں سے سوچوں گا اور تجزیہ کروں گا۔ اس سے مجھے خوشی ہوئی۔
کی طرح نام نہاد مسلمان نہیں تھا۔ میں نماز پڑھتا تھا۔ میں قرآن پڑھتا تھا۔ میں نے عربی میں قرآن پڑھنا سیکھا۔ میں نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا اور میں روزے بھی رکھتا تھا۔ تو میں نہ صرف مسلمان تھا بلکہ ایک سچا مسلمان تھا۔ لیکن تحقیق کرنے کے بعد مجھے کچھ ایسی چیزوں کا احساس ہوا جو میرے معیار پر پورا نہیں اترتی تھیں اور میرا ایمان ختم ہونے لگا۔ میں نے ملحدوں کے ساتھ آپ کی ویڈیوز بھی دیکھیں، جس میں انہوں نے کہا کہ وہ ایمان نہیں رکھتے لیکن وہ اپنی رائے کا دفاع نہیں کر سکے۔ مجھے نہیں معلوم۔۔۔ لیکن شائد نوجوان لا دینیت کو مختلف انداز سے دیکھتے ہیں، اور زیادہ تر نوجوان بغیر کسی تحقیق یا علم کے ملحد بن جاتے ہیں۔ اور پھر وہ اپنے عقائد کا دفاع نہیں کر سکتے۔ ان لوگوں کا ملحد ہونا غلط دکھائی دیتا تھاکیونکہ وہ
یہ بیان کرنے کے قابل نہیں تھے کہ ان کا ملحد ہونا کیوں ضروری تھا۔ یہ ایسا ہی تھا کہ شاید وہ زبردست دِکھائی دینےیا پھر کسی اور چیز کے لیے ملحد بن گئے۔ آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اب تک بے خبر ملحدوں سے بات کی۔ جی ہاں۔ میرے خیال میں وہ بے خبر تھے۔ تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ با علم ہیں؟ میں نے اپنی تحقیق کی۔ میرا مطلب ہے کہ میں نے ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کی جو مجھے پریشان کر رہے تھے۔ اور میں با لکل بھی سخت نظریہ نہیں رکھتا۔ میں تنگ نظر نہیں ہوں۔ اگر میں نے اپنے سوالات کسی کے سامنے پیش کروں اور وہ مجھے ایسی وضاحتیں دے جو معنی خیز ہوں، تو میں دوبارہ ایمان کیوں نہیں لاؤں گا؟ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، آپ ثبوت حاصل کرنا چاہتے ہیں اور معقول طریقے سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اچھا، کیا آپ مجھے
اللہ تعالیٰ کے عدم وجود کا کوئی ثبوت دے سکتے ہیں؟ یا پھر عدم وجود کی کوئی نشانی دکھا سکتے ہیں؟ -میں یقیناً یہ نہیں کہہ سکتا کہ کوئی خالق نہیں ہے۔ در حقیقت، میں خدا کے وجود کے بارے میں تھوڑا سا نادان ہوں، لیکن میں یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ مذاہب کا کوئی وجود نہیں ہے۔ پھر ہم سب سے پہلے خالق کے معاملے کو دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میں پوچھوں کہ" اس یونیورسٹی میں کتنے طالب علم ہیں۔" آپ کہیں گے کہ " میں نہیں جانتا۔" اگر ہم ثبوت تلاش کر رہے ہوں اور ہمیں کوئی نمایاں چیز یا دستاویز کاغذ پر لکھ کر دی جائے تو ایسے ثبوت میں کوئی مبہم پہلو نہیں ہوگا۔ ٹھیک کہا؟ جی ہاں۔ اگر میں آپ کو خالق کے ہونے کا ثبوت دوں، اور عقلی، منطقی اور واضح ثبوت پیش کروں، تو کیا ہم لا علمی کے اس موضوع کا اختتام کر سکتے ہیں؟ -میں
ابھی ایسا نہیں کر سکتا۔ مجھے پہلے تحقیق کرنے کی ضرورت ہے، لیکن۔۔۔ میں آپ کو ثبوت دوں گا۔ ٹھیک ہے، میں سن رہا ہوں۔ اگر ثبوت آپکو سمجھ آتے ہیں، تو آپ ابھی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ -جی، مجھے بتائیں۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ ہم سلیمیہ مسجد کے سامنے کھڑے ہیں۔ میں آپ کو ایک ٹھوس اور پختہ مثال دوں گا۔ ہم سلیمیہ مسجد کے سامنے ہیں اور ہم اس کا منطقی جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسے کیسے بنایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ہمارے پاس چار بنیادی آپشنز موجود ہیں۔ پہلے نمبر پر، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس مسجد کے قریب بہرے، اندھے اور نادان لوگوں کا ایک گروہ ہے، اور انہوں نے یہ مسجد باہمی رضا مندی سے تعمیر کی ہے۔ اور دوسرے نمبر پر: مسجد کی اینٹوں نے آپس میں اتفاق کیا اور کہا، کہ ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں، چلیں ایک
مسجد تعمیر کرتے ہیں۔ اس طرح میں یہ کہوں گا کہ یہ مسجد اینٹوں نے خود بنائی ہے۔ یا تیسری بات یہ ہو سکتی ہے: کہ میں مسجد کے اندر موجود تعمیراتی منصوبے کا دستور العمل دیکھ رہا ہوں جس میں تعمیر کے مراحل بیان کیے گئے ہیں۔ اور میں یہ کہتا ہوں کہ لکھے ہوئے اس دستور نے مسجد بنائی ہے۔ اور چوتھی بات یہ ہو سکتی ہے: کہ ایک معمار ہے، جیسے میمار سینان۔ اور میں کہتا ہوں کہ ایک معمار ، میمار سینان جیسے ذہین انسان نے اپنے علم، ارادے اور طاقت سے یہ مسجد بنائی۔ آپ ان سب آپشنز میں سے کس کا انتخاب کریں گے؟ میں یقینی طور پر میمار سینان کا انتخاب کروں گا۔ ٹھیک ہے، لیکن انسان کی ساخت ایک مسجد کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور منظم ہے۔ کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں؟ انسان، جی ہاں با لکل۔ جب میں انسانوں کو عقلی اور منطقی طور
پر دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں بھی یہی سوال آتا ہے۔ میں انسانوں کو دیکھتا ہوں، اور ایک انسان میں تقریباً ایک سو ٹریلین خُلیات ہوتے ہیں۔ اور ہر خُلیے کے اندر مائٹو کونڈریا نامی آٹھ سو آرگنیلز ہوتے ہیں۔ اور رائبوسوم نامی دس ہزار ذرات ہیں۔ ہر خُلیہ ایک نا قابلِ یقین ساخت کے اندر منظم طریقے سے افزائش پاتا ہے۔ حیاتیات کے پروفیسر مائیکل ڈینٹن کے مطابق: ہر خُلیہ نیویارک جیسا ایک شہر ہے۔ ہمارے جسم میں کتنے خُلیے ہوتے ہیں؟ ہمارے جسم میں نیویارک کی مطابقت کے ایک سو ٹریلین خُلیات ہیں۔ جب میں اس طرح کے پیچیدہ ڈھانچے کو دیکھتا ہوں، تو مجھے ایک معقول جواب کی تلاش ہوتی ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا۔ انسانوں کے خُلیے اور اجسام مسجد کی طرح ایک بار بنا کر چھوڑ نہیں دیے جاتے۔ کیا ہمارے جسم میں موجود خُلیوں کی دوبارہ
پیدائش نہیں ہوتی؟ جی ہاں، ہوتی ہے۔ ہر سیکنڈ میں دس ہزار خون کے خُلیے بنتے ہیں، اور پچاس ملین خُلیات کو تازہ کیا جاتا ہے۔ اور کیا ہمارے دماغ میں ہر سیکنڈ میں 16/10 عوامل نہیں ہو رہے؟ جی ہو رہے ہیں۔ میں اس پیچیدہ ڈھانچے کو دیکھ چکا ہوں اور میں وہی معقول سوال پوچھنے لگا ہوں۔ میرے پاس اب بھی یہ جاننے کے لیے چار آپشنز ہیں کہ روزانہ انسان کی افزائش کیسے ہوتی ہے۔ پہلا آپشن یہ ہے کہ میں کہوں کہ ان بہرے ، اندھے اور نادان فطرت و واقعات نے باہمی اتفاق سے انسانوں کو بنایا۔ لیکن یہ ایک غیر منطقی بات ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اندھے ، بہرے اور نادان واقعات کسی بھی معاہدے پر متفق کیسے ہوں گے اور انسانوں کی مسلسل افزائش کیسے کریں گے۔ سب سے پہلے، ہم نے کہا کہ اگر مسجد اس طرح نہیں بن سکتی تو انسان بھی اس طرح نہیں بن
سکتے، ٹھیک ہے؟ جن چیزوں کا آپ نے ذکر کیا وہ نہیں ہو سکتیں۔ اور دوسرا آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ: وہ ایٹم جو اپنے اندر انسانی جسم کو بناتے اور ترتیب دیتے ہیں۔ انہوں نے ضرور یہ کہا ہو گا: " ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ؟ آئیں مِل کر اس انسان کو بناتے ہیں۔" اور وہ ایٹم اس عمل کو ہر وقت جاری رکھتے ہیں۔ دماغ اس بات کو بھی نہیں مانے گا۔ کیوں ؟ جیسا کہ ہم نے کہا تھاکہ مسجد بنانے کے لیے اینٹیں خود سے آپس میں نہیں مِل سکتیں۔ اسی طرح میں یہ کہوں گا کہ بے جان ایٹم اس انسان کی تشکیل کے لیے خود سے آپس میں نہیں جُڑ سکتے۔ ہم اس بات کو کسی بھی طرح سے قبول کرتے ہیں۔ اور تیسرا آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ: جیسا کہ ہم نے کہا کہ مسجد کے پروجیکٹ کی کتاب مسجد نہیں بنا سکتی، کیونکہ یہ صرف ایک کتاب ہے۔ اسی طرح ، میں کہوں گا
کہ ڈی این اے انسانوں کو نہیں بنا سکتا۔ کیونکہ ڈی این اے ایک کتاب ہے، مصنف نہیں ہے۔ پھر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ڈی این اے ایسا تخلیقی عمل نہیں ہو سکتا جو انسان کو بناتا ہے۔ بالکل ہدایات کی کتاب کی طرح۔ اور یا پھر چوتھا آپشن یہ ہو سکتا ہے کہ: ہم کہیں گے، کہ چوتھے آپشن میں ایک معمار موجود ہے۔ جو لمحہ بہ لمحہ انسانی تخلیق کر رہا ہے ، اور اسی طرح تخلیق کرتا چلا جا رہا ہے جیسے اس نے شروع میں تخلیق کیا تھا۔ ایک باشعور ہستی موجود ہے جو انتخاب کر سکتی ہے اور مرضی، طاقت اور زندگی سب اسی کے پاس ہیں۔ جس طرح میمار سینان نے مسجد بنائی اسی طرح خالقِ کائنات نے انسان کو بنایا۔ اور میں کہوں گا کہ وہ ہی معمار ہے جو ہر وقت تخلیق کرتا رہتا ہے۔ اب میں آپ سے دوبارہ پوچھوں گا۔ جس طرح ہم معمار کو قبول کرتے ہیں، اسی
طرح ہمیں یہ تسلیم نہیں کرنا چاہیے کہ کائنات کے خالق نے ہی انسان کو تخلیق کیا ہے۔ وہ جس نے نہ صرف آپ کو بلکہ دنیا کے آغاز سے لاکھوں اور کھربوں انسانوں کو پیدا کیا۔ کیا ہمیں انسانوں کی مستقل تخلیق، پروگرامنگ اور خُلیات کو ترو تازہ رکھنے والے معمار کو قبول نہیں کرنا چاہیے؟ - یہ ضروری نہیں ہے۔ میرے خیال میں ان سب واقعات کا رونما ہونا محض اتفاق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اتفاقات کی ایک زنجیر نے انسان کو تخلیق کیا۔ اس لیے میں اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ انسان کا کوئی خالق ہے۔ پانچ لوگ فی سیکنڈ، تین لاکھ پچاس ہزار لوگ فی دن، انسانوں کو تو ایک طرف رکھ دیں ، تمام جاندار، شاید لاکھوں جاندار ہر روز پیدا ہوتے ہیں۔ میں پوچھتا ہوں کہ آپ اس تخلیقی صلاحیت کو کس سے منسوب کرتے ہیں، جو کہ مسلسل جاری ہے؟ یہ کام کون
سی ہستی کر رہی ہے؟ ہر وقت۔۔۔۔ -میرا ڈی این اے یہ سب کام کرتا ہے۔ لیکن دیکھو، ہم نے پہلی مثال میں کہا تھا، کہ عمارت کی معلوماتی دستاویزات خود سے عمارت نہیں بنا سکتیں۔ ہم نے کہاکہ ایک معمار عمارت کو پلان کے مطابق بنائے گا۔ اسی طرح ڈی این اے بھی انسان کو نہیں بنا سکتا۔ ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ انسانوں کا معمار انسانوں کو ڈی این اے کی کتاب کے مطابق ترتیب دیتا ہے اور تخلیق کرتا ہے۔ آپ نے بھی پہلے اس کو قبول نہیں کیا۔ - ہاں ، ڈی این اے ایسا نہیں کرتا، ڈی این اے انسانوں کو تخلیق نہیں کرتا ہے۔ ہمارے ہر خُلیے اور جسم کے ہر حصے میں ڈی این اے موجود ہے۔ مثال کے طور پر، دل کے پٹھوں کے خُلیے کا ڈی این اے اسے ایک خاص طریقے سے دھڑکنے کی ہدایت دیتا ہے اور وہ ویسے ہی دھڑکتا ہے۔ اس کا کیا ثبوت ہے، کیا ثبوت ہے کہ
یہ ہدایات دیتا ہے؟ کیونکہ ڈی این اے ایک کتاب ہے۔ اس کے اندر خود سے حکم دینے کی طاقت نہیں ہے۔ ڈی این اے صرف ایک نظام ہے جو معلومات کے ساتھ بھرا ہوا ہے۔ آپ شاید یہ سب حیاتیات کی کلاس میں جان چکے ہیں۔ - لیکن ان سب کے بعد، ہمارے خُلیے اس کو لیتے ہیں اور اسے استعمال کرتے ہیں۔ نہیں استعمال نہیں کرتے۔ کون استعمال کرتا ہے؟ یہ ایک تشکیل کا عمل ہے۔ لیکن یہ کون کر رہا ہے؟ میں آپ سے اس خصوصیت کی حامل کسی ایک ذات کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔ آپ کہتے ہیں کہ یہ ڈی این اے نہیں ہے۔ تو پھر یہ کون ہے؟ - ٹھیک ہے، میں کہتا ہوں کہ ہم ایسے ہی کسی طرح اکٹھے جُڑ کر بن گئے۔ کیا ہمیں اس طرح اکٹھا جوڑنے کے لیے کسی تخلیق کار کی ضرورت ہے؟ میں یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کہ ایک تخلیق کار کو اسے دوبارہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔
آپ اس وصف کو بغیر جواب دیے نہیں چھوڑ سکتے۔ آپ کو بتانا پڑے گا: " ہاں ٹھیک ہے۔ اگر ڈی این اے نہیں کر سکتا تو کون کر سکتا ہے؟ چلیں ٹھیک ہے آئیے اس بارے میں بات کرتے ہیں۔ میں آپ کو پہلے ہی ساری معلومات دے چکا ہوں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نہیں جانتے۔ آئیے پہلے یہ معاملہ طے کر لیتے ہیں۔ ہم کہیں گے کہ ان معلومات کو جاننے والی کوئی نہ کوئی ذات ضرور ہونی چاہیے۔ علم کے بغیر کوئی بھی یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس کے پاس علم کا ہونا ضروری ہے۔ جن کے پاس اپنی مرضی اور فیصلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے، ظاہر ہے وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ اس کے پاس ضرور طاقت ہونی چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی طاقت دائمی ہونی چاہیے اور اس کی زندگی بھی ہونی چاہیے۔ کیونکہ ہم کہیں گے کہ بے جان مادہ یہ عمل نہیں کر سکتا۔ اور کوئی بھی ان صفات کے
بغیر انسان کو پیدا نہیں کر سکتا۔ اور دیکھیں کہ میں ابھی صرف ایک انسان کی مثال دے رہا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ (ڈی این اے) انسان کو نہیں بنا سکتا اور نہ اس عمل کو جاری رکھ سکتا ہے۔ کیونکہ ان صفات کی حامل کسی نہ کسی ذات کا ہونا ضروری ہے۔ میں اس کی فطرت کو دیکھتا ہوں۔ کیا یہ بے جان ہے؟ ہاں یہ بے جان ہے۔ کیا اس کے پاس علم ہے؟ نہیں ہے۔ یہ اندھا، بہرہ اور نادان ہے۔ پہلی مثال کو ذرا دوبارہ یاد کریں۔ ہم نے کہا تھا کہ یہ معلوماتی دستاویزات مسجد نہیں بنا سکتیں۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان حالاتو واقعات کا ذمہ دار کون ہے، جو میرے ساتھ ہر روز ہوتے ہیں؟ اگر یہ ڈی این اے نہیں ہے تو اس معاملے کو لاجواب نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یہاں کوئی ذات تو ہونی چاہیے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت اس معاملے کو " مفروضہ" کے طور
پر چھوڑ دیں۔ ابھی کے لیے اس سوال پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ لیکن ان چار صفات کی حامل ایک ذات ہونی چاہیے، ایک ایسی ہستی جس کا وجود ہو۔ ہم نے کہا کہ چار میں سے تین آپشن تو ناممکن ہیں۔ ہم اکٹھے اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ کہ صرف ایک ہی ضروری آپشن باقی رہ جاتا ہے۔ - ٹھیک ہے، چلو مان لیتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ انسانوں کو پیدا کرنا ہے۔ کیا اس کام کے لیے خدا لازمی ہونا چاہیے جیسا کہ مسلمان بیان کرتے ہیں؟ مثال کے طور پر ، بچے۔ جب ایک بچہ فوت ہوتا ہے، تو اس بچے کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ وہ گناہوں سے پاک ہے۔ اس لیے وہ جنت میں جاتا ہے۔ - تو ایک بے گناہ بچے کے جنت میں جانے، اور میرے استاد کا مجھے A گریڈ دینے میں کیا فرق ہےکیونکہ امتحان کا کوئی بھی پرچہ باقی نہیں ہے؟ آخر ہمیں یہ امتحان مکمل کرنا ہے۔ ہم یا تو پاس ہوں
گے یا پھر فیل ہوں گے۔ چنانچہ اگر ایک امید وار کمرہ امتحان میں آتا ہے اور وہ اسے کہتے ہیں کہ: "آپ کے لیے امتحان کا کوئی پرچہ باقی نہیں ہے۔ آپکا امتحان ختم ہو گیا ہے۔" اور وہ اسے براہِ راست پاس کر دیتے ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ کام منصفانہ ہے؟ انصاف کیا ہے؟ ہمیں پہلے اس کےبارے میں بات کرنی چاہیے۔ کیونکہ انصاف کی بات کرنے کے لیے ہمیں بدلے میں کچھ دینا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر، آپ ایک فون خریدنے گئے۔ ٹھیک ہے؟ آپ نے ایک دکان سے ایک عدد فون خریدا۔ اگر فون ٹوٹا ہوا نکلتا ہے، تو آپ صارفین کے حقوق کی تنظیم، یا پھر عدالت میں جا سکتے ہیں کیونکہ آپ نے اس کے لیے رقم دی تھی۔ کیا میں ٹھیک کہہ رہا ہوں؟ - جی ہاں۔ کیوں؟ کیونکہ تم نے بدلے میں کچھ دیا ہے۔ لیکن اگر ہم کہتے ہیں کہ ایک آدمی یہاں آیا اور دیکھا کہ
ہم گپ شپ کر رہے تھے۔ اس نے کہا کہ " آپ لوگ کتنی اچھی گفتگو کر رہے ہیں۔" پھر اُس نے آپ کو دو کاریں بطور تحفہ دیں۔ اور پھر اس نے مجھے پانچ گھر تحفے میں دیے۔ کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ "ارے بھائی ، کیا معاملہ ہے؟" "آپ نے مجھے دو کاریں کیسے دی جبکہ انہیں پانچ گھر دیے ہیں۔ یہ انصاف نہیں ہے۔ میں عدالت جا کر شکایت کروں گا۔" جج آپ کو کیا کہے گا؟ اسی طرح انسان بھی کسی وقت اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیونکہ انسان نے بدلے میں کچھ نہیں دیا۔ لیکن وہ زمین پررحمتیں پھیلانے کا پابند ہے جو رحمتیں اسے بطورِ تحفہ ملیں۔ تاکہ آخرت میں وہ جنت میں جا سکے۔ پھر ہم کہیں گے کہ جب میں نے بدلے میں کچھ نہیں دیا، تو یہاں انصاف کی سوچ لاگو نہیں ہوتی۔ اگر آپ یہ پوچھتے ہیں: "کہ وہ جنت میں کیوں جا رہا ہے؟ میں تو پھر خطرے میں ہوں۔" میں
آپ سے پوچھتا ہوں بھائی کہ اگر آپ اپنا کوٹ باہر سے اتار کر اندر پہن لیں ۔ اور پھر میں کہوں،"آپ اس کوٹ کا رنگ بدلنے جا رہے ہیں" تو کیا آپ اسے قبول کریں گے، کیا یہ بات معنی رکھتی ہے؟ - نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ کوٹ آپ کا ہے؛ اور مالک کے پاس وہ سب حقوق ہوتے ہیں جو وہ چاہتا ہے۔ اسی طرح زمین ، جنت اور آخرت بھی اللہ کی ملکیت ہیں۔ مالک کے پاس جائیداد پر وہ سب حقوق ہوتے ہیں جو وہ چاہتا ہے۔ مثال کے طور پر، وہ زمین پر براہِ راست ایک پودا پیدا کر سکتا ہے یا پھر اسے براہِ راست جنت میں لگا سکتا ہے۔ ہم اعتراض کیسے کر سکتے ہیں؟ نہیں۔ کیوں نہیں؟ اس لیے کہ اگر وہ یہاں ایک گلاب لگا سکتا ہے ، تو وہ وہاں بھی گلاب لگا سکتا ہے۔ جیسا کے بچہ۔۔۔ مثال کے طور پر، گلاب کی مانند بچے کے بارے میں سوچیئے۔ وہ بچے کو براہِ راست یہاں
لا سکتا ہے، اور لوگوں کو دکھانے اور خوش کرنے کے بعد۔۔ وہ اس گلاب کی مانند بچے کو براہِ راست جنت میں لے جا سکتا ہے۔ میں یہاں اعتراض نہیں کر سکتا۔ کیوں؟ کیونکہ اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک آیت میں فرمایا ہے کہ۔۔۔ ہم نے کہا کہ ہم اسلام کے بارے میں بات کریں گے۔ اللہ تعالیٰ سورہ مریم میں فرماتا ہے: "۔۔۔اور وہ ہمارے پاس اکیلا آئے گا۔۔۔" بالکل تنہا۔ مطلب، انفرادی طور پر ۔ دوسرے لفظوں میں، سب سے انفرادی طور پر پوچھ گچھ کی جائے گی۔ مثال کے طور پر ، آپ کو جو بھی خصوصیت دی گئی ہے، اللہ آپ سے اس کے بارے میں پوچھے گا۔ جو کچھ اس نے مجھے دیا ہے وہ اس کے بارے میں مجھ سے پوچھے گا۔ اسی طرح ہمارے اعمال ہمیں انفرادی طور پر دی گئی خصلتوں کے لیے ذمہ دار بناتے ہیں۔ اور اسی طرح یہ بچہ
بھی ہے۔ چاہے بچہ یہاں آتا ہے یا نہیں، یا وہ براہِ راست جنت میں جاتا ہے، یہ معاملہ میرے انصاف کو متاثر نہیں کر سکتا۔ اور ہم کہتے ہیں کہ اللہ نے انسانوں کو انفرادی طور پر پیدا کیا ہے۔ اس نے انفرادی طور پر جو کچھ بھی دیا ہے، وہ اسے منصفانہ طور پر واپس چاہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ان تصورات کے درمیان رہ کر اس کا جائزہ لینا چاہیے اور انصاف کے تصور کے بارے میں بھی اسی طرح سے سوچنا چاہیے۔ چلیں فرض کرتے ہیں کہ ہمیں اسلام میں کچھ بھی معقول نہیں لگتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہمیں کوئی چیز معقول نہیں لگتی تو یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ وہ چیز ہی غلط ہے۔ کیوں؟ ہم کہتے ہیں کہ ہم فاتح محمود کے دور میں رہتے ہیں، ٹھیک ہے؟ فاتح محمود کے دور میں ہر جگہ طغرے ہوتے تھے۔ یعنی عثمانی دستخط۔ اور وہ ایک حکم جاری
کرتا ہے کہ: " پانچ سال تک کوئی بھی اپنا گھر نہیں چھوڑے گا۔" کیا اس کا کوئی مطلب بنتا ہے؟ -نہیں۔ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ کیا میں غیر معقول ہو سکتا ہوں اور یہ کہہ سکتا ہوں ؛ کہ" کوئی محمود فاتح نہیں ہے۔" کیا ہم ایسے کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں؟ - نہیں، ہم نہیں پہنچ سکتے۔ ہم نہیں پہنچ سکتے۔ کیا میں کسی دوسری مثال کے لیے کہہ سکتا ہوں؛ وہاں ہر جگہ عثمانی طغرے ہیں، یہ میرے نزدیک ایک غیر معقول اصول لگتا ہے۔ تو پھر کیا میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ کوئی عثمانی دور نہیں ہے؟ میں نہیں کہہ سکتا۔ کیوں؟ وہاں ہر جگہ طغرے موجود ہیں۔ یہ ہمارے لیے سوال پوچھنے کا سبب بنے گا؛ کہ فاتح محمود نے ایسا کام کیوں کیا؟ وہ اپنے دور میں ایسا قانون کیوں لایا؟ ہم یہ سوال کریں گے۔ بالکل اس مثال کی طرح، اللہ نے اسلام کے ساتھ قوانین
کو نازل کیا۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ: "اسلام میں یہ مثال میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔" اس سے ایسا نتیجہ کہ " اگر ایسے قانون ہیں تو کوئی خدا نہیں ہے" نہیں اخذ کیا جا سکتا۔ حقیقت میں اگر مجھے اللہ کے مقرر کردہ قوانین میں سے کوئی قانون پسند نہیں ہے تو یہ اسلام کے غلط ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہاں ہر جگہ طغرے موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، سورہ روم میں ایک آیت ہے جو مستقبل کے بارے میں بتاتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ: وہاں یونانیوں اور فارسیوں کے درمیان جنگ ہو رہی ہے۔ اور یونانی واقعی شکست کھا چکے ہیں۔ جب کہ ہر کوئی یہ ہی سوچتا ہے کہ یونانی ہار جائیں گے، لیکن آخر میں یونانی فارسیوں کو شکست دے کر فتح حاصل کرتے ہیں۔ یہ ایک آیت ہے جو مستقبل کے بارے میں بات کرتی ہے، اور اس واقعہ کے بارے میں بتاتی ہے جو اس
کے ٹھیک 9 سال بعد آئے گا۔ اور میں کہوں گا کہ یہ میرے لیے ایک طُغرہ ہے۔ انسان مستقبل کی پیشن گوئی کیسے کر سکتا ہے؟ چونکہ انسان مستقبل کی پیشن گوئی نہیں کر سکتا اس لیے اس طُغرہ کا مالک ہی اسلام کا بھی مالک ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو احکام مجھے غیر منطقی دکھائی دیتے ہیں وہ نہ تو اسلام کے غلط ہونے کی دلیل ہیں اور نہ ہی اللہ کے غلط ہونے کا ثبوت ہیں۔ ٹھیک ہے، تو کیا یہ زیادہ معقول بات نہیں ہوگی کہ اگر اسلام کا دروازہ کھول کر اس کو قبول کیا جائے اور ان تمام سوالات کے جوابات کو اسلام کے اندر تلاش کیا جائے؟ -میرا مطلب ہے۔۔۔ میرے خیال میں یہ چیزیں غور طلب ہیں۔ یہ انسانی عقل کو استعمال کرتے ہوئے جلدی فیصلہ کرنے کی چیز نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ ان سب چیزوں کے بارے میں سوچیں گے۔ - جی ہاں، میں نے
ہمیشہ مذہبی معاملات کے بارے میں سوچا ہے اور سوچتا رہوں گا۔ آپ جو کام کر رہے ہیں اس نے میرے خیالات کو تبدیل اور متنوع کر دیا ہے۔ اس نے مجھے کسی خاص سمت میں موڑ دیا ہے۔ میں اسے مختلف طریقوں سے سوچوں گا اور تجزیہ کروں گا۔ اس سے مجھے خوشی ہوئی۔