Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Christian And Muslim Debate! Every Muslim Should Watch!

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

-میں ایک عیسائی ہوں عیسائیت حقیقت ہے۔ خدا مجھ سے بات کرتا ہے۔ عیسائیت میں خدا حقیقی ہے۔ اسلام میں خدا حقیقی نہیں ہے۔ کوئی "آخری نبی" نہیں ہے۔ آپ کے نبی کو خدا نےنہیں بھیجا۔ یسوع مسیح ہی سچ ہیں۔ کوئی بھی روح کو قریب سے محسوس کرسکتا ہے۔ جب روح کا ظہور ہوتا ہے تو آپ کا جسم فنا ہو جاتا ہے۔ خدا آپ سے بات کرتا ہے اور آپ اسے جانتے ہیں۔ آپ کے ہاتھ برف سے ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔ پھر آپ خدا کو سننے لگتے ہیں! لیکِن جب وہ یعنی رُوح حق آئے گا! (جان 16: 13) پھر دو آیات ایک دوسرے سے متصادم ہیں! یہ اس کی حدود کا تعین کرتا ہے۔ جو محدود اور حکم کا منتظر ہے وہ خدا نہیں ہوسکتا!

آپ کیا کرتے ہیں؟ کام کرتے ہیں یا پڑھتے ہیں؟ میں استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی کا طالب علم ہوں آپ کا کس عقیدے سے تعلق ہے؟ میں عیسائی ہوں۔ کیا آپ کو ایک عیسائی کی حیثیت سے پالا گیا ہے؟ میں نے عیسائیت اختیار کی ہے۔ یہ فیصلہ کرنے میں مجھے کافی وقت لگا۔ جب میں ہائی اسکول میں تھا ، تو میں ایک لڑکی کو دل دے بیٹھا تھا۔ اس کی موت نے مجھے تحقیق کی جانب راغب کیا۔ جس کے بعد ، میں نے عیسائیت کا فیصلہ کیا۔ تب میں نے خدا کو دیکھا اور قبول کیا۔ اسلام میں ایسا کیا نہیں ہے، جو عیسائیت میں ہے؟ عیسائیت میں خدا دراصل حقیقی خدا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اسلام میں حقیقی خدا نہیں ہے عیسائیت اختیار کرنے کے بعد ، میں نے خدا سے بات کی میں نے دیکھا کہ خدا نے مجھے جواب دیا۔ جب ہمیں کوئی پریشانی ہوتی ہے ، تو ہم بات کرتے ہٕیں پھر دعا کرتے ہیں۔ جب صحیفہ پڑھنے میں کسی لفظ کا ذکر ہوتا ہے، تب ، آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک الہی پیغام ہے۔ یہ بے معنی جیسا لگتا ہے مگر ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ، خدا اپنے بندوں کے ساتھ بات کرتا ہے۔ لیکن میں نے ایسا اسلام میں نہیں دیکھا۔ جیسا کہ اگر مجھے کوٸ مسئلہ درپیش ہے۔ یہ میری زندگی میں اکثر ہوتا ہے۔ تو میں اپنے مسئلے کے بارے میں خدا سے دعا کرتا ہوں۔ اس کے بعد اتوار کے خطبے میں اس کا حل سامنے آجاتا ہے۔ آپ اسے اتفاق کہہ سکتے ہیں۔ لیکن میں اسے ایسےدیکھتا ہوں جیسے خدا مجھ سے بات کرتا ہے۔ کیا آپ اسے بطور ثبوت دیکھتے ہیں؟ مثال کے طور پر ، میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ اسلام میں مجھے میرے لۓ اللہ کے واضح پیغامات دکھائی دیتےہیں۔ مجھے بھی توافق (اللہ تعالی کے مقصود منصوبہ) کا تجربہ ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب اتفاقات نہیں ہیں، یہ ہم سب کے لئے ممکن ہے۔ توکیا مذہب تبدیل کرنے کے لئے یہ ثبوت کافی ہیں؟ یقینا ، یہ سائنسی ثبوت نہیں ہے۔ لیکن ، یہ ایک ذاتی ثبوت ہے۔ میں نے ان کا تجربہ کیا ہے، میرے مذہب تبدیل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میرے لئے ، ایک تجربہ اس کی توثیق کرتا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ آپ کا نبی خدا کا منتخب کردہ ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ انھیں خدا کی طرف سےبھیجا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ، یسوع مسیح سچے ہیں۔ میں آپ سے کچھ سوالات پوچھوں گا: میں نے بائبل کا بھی مطالعہ کیا۔ کیا آپ ایک ایسی آیت بتا سکتے ہیں جہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں ، "میں خدا ہوں؟ ان کا کہا ہوا کوئی اپنا قول ہو؟ نہیں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جس میں براہ راست کہا ہو ، مگر وہ بے شمار حوالہ جات ہیں مسیح کے ، جن سے یہ اخذ کیا جاتا ہے۔ مگر جب میں بائبل کو بطور ایک سچے محقق کے پڑھتا ہوں اور ایک بھی جملہ ایسا نہیں پاتا ہوں جوخود عیسیٰ علیہ السلام نے کہا ہو ، توپھر کون مجھے قاٸل کرے گا؟ کیونکہ میں نے باٸبل کے ابواب میں ڈھیر ساری معلومات دیکھی ہیں ، جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ یسوع مسیح کو خدا کی جانب سے پیامبربنا کربھیجا گیا تھا۔ ہاں میں کہتا ہوں: میں بھی عیسیٰ (علیہ السلام) پر یقین کرتا ہوں۔ ایک مسلمان ہونے کے لۓ لازم ہے کہ مسلمان عیسیٰ (علیہ السلام) کو مانیں اور ان سے محبت کریں۔ مگر کسی آیت میں انھوں نے یہ نہیں کہا کہ "میں خدا ہوں" وہ دوسری آیات میں کیا کہتے ہیں؟ صرف اتنا کہا ہے ناں کہ ، "میں خدا کا نبی ہوں جسے آپ کی طرف بھیجا گیا ہے۔" انھوں نے اپنے آپ کو ایک وفادار بندہ کہا ہے۔ چلیں بائبل کی کچھ آیات پڑھتے ہیں۔ جان 14:30 میں ، وہ کہتے ہیں کہ ، "اب میں آپ کے ساتھ زیادہ بات نہیں کروں گا ، کیونکہ اس دنیا کا شہزادہ آرہا ہے۔" وہ حکمران کون ہے جسے وہ ’’ دنیا کا شہزادہ ‘‘ کہتے ہیں؟ ’’ دنیا کا شہزادہ ...

’’ جان 14:30 ، میں کہا ہے کہ: "میں آپ سے زیادہ دیر تک بات نہیں کروں گا کیونکہ اِس دنیا کا شہزادہ آ رہا ہے۔ اوراُسے مجھ پر کوئی قابو نہیں ہے۔“ یہ کون ہے؟ ’’ دنیا کا شہزادہ ‘‘؟ "اس کا مجھ پرکوئی اختیار نہیں ہے۔" "میں فادر سے پیار کرتا ہوں اور بالکل وہی کرتا ہوں جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ تاکہ پوری دنیا کو معلوم ہو کہ میں فادر سے کتنا پیار کرتا ہوں " "آؤ اب چلیں" یہاں حکمران…

ہاں تو کون ہے یہ ’’ دنیا کا شہزادہ ‘‘؟ وہ دراصل روح القدس کا ذکر کررہے ہیں۔ میں نے پہلےوالا ترجمہ چیک کیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ ’حکمران‘ شیطان تھا۔ "دنیا کا شہزادہ شیطان ہے۔" کیا آپ جانتے ہیں کہ بعد میں کیا ہوا؟ انہوں نے تازہ ترین ورژن میں "شیطان" کو "مقدس روح" میں تبدیل کردیا ہے۔ پھر یہ کیوں کہا کہ: "وہ آ رہا ہے" ، اگر یہ "روح القدس" ہے؟ کیا اس وقت کوئی روح القدس نہیں تھا؟ اگر وہ شیطان ہے تو پھر ہر ایک کو خبردار کرنا چاہئے کیونکہ یہ تو کوئی خطرناک آ رہا ہے۔ میں جو سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ، آنے والا ایک نبی ہے ، یہاں "دنیا کا شہزادہ ،" مُحَمَّد (ﷺ) کی طرف اشارہ ہے۔ وہ ساری انسانیت کے لۓ آخری نبی ہیں۔ جان 16: 8 کا کہنا ہے کہ ، "اور جب وہ آئے گا تو دنیا کی غلطی کو بےنقاب کرے گا اوربتاۓ گا: گناہ، راستبازی اور فیصلہ کے بارے میں ۔“ تو، جب دنیا کا قائد آئے گا تو وہ کیا کرے گا؟ وہ دنیا کو آگاہ کرے گا گناہ کے بارے میں۔ وہ کہے گا کہ؛ "آپ غلط کر رہے ہیں اور آپ گناہ میں مبتلا ہیں ،" وہ ہمیں متنبہ کرے گا۔ ایک بار پھر کہوں گا ، یہ روح القدس نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ، اگر وہ مجھے کسی وقت انتباہ کرتا ہے اسے بات کرنی ہوگی ، اور مجھے اس کے بارے میں بتانا ہوگا۔ آپ نے کہا ، "کبھی کبھی مجھے روح القدس کا احساس ہوتا ہے ، اور کبھی یہ احساس نہیں ہوتا ہے "۔ تب یہ نہ تو منصفانہ ہوگا اور نہ ہی کوئی معقول طریقہ۔ پھرکیوں؟ کچھ لوگ کہتے ہیں "وہ میرے پاس آیا تھا کچھ کہتے ہیں "نہیں ، یہ محض وہم ہے"۔ جبکہ کچھ کا کہنا ہےکہ "وہ میرے پاس نہیں آتا ہے ..." تو یہاں ، وہ دراصل ایک نبی کا ذکر کررہے ہیں۔ آپ کی بات مجھے سمجھ آ گئی۔ ’دنیا کا شہزادہ‘ جس کا آپ نے تذکرہ کیا تھا ، اگلی آیات میں ، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ شیطان ہے۔ وہ شیطان کو شہزادہ کیوں کہتے ہیں؟ آپ نے ابھی کہا کہ یہ "شیطان" اور "روح" ہے ...

اس آیت سے پہلے ، اس میں روح القدس کے آنے کا ذکر ہے ، پھر شیطان. ہم 16 نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ یہاں بہتر طور پر اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ روح القدس کا قائل ہونا یہ ایک ذاتی تجربہ ہے۔ اگر یہ ذاتی معاملہ ہے ... یہ ذاتی ہے! جب روح کا ظہور ہوتا ہے ، تو ہر ایک اسے محسوس کرتا ہے۔ جب روح ظاہر ہوتی ہے تو آپ کا جسم جلتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آپ اسے بیماری یا پاگل پن کہیں، لیکن یہ سچ ہے۔ خدا روح کے ذریعہ آپ سے بات کرتا ہے۔ آپ کے ہاتھ برف کی مانند سرد ہو جاتے ہیں ، پھر آپ خدا کو سن لیتے ہیں!

جیسا کہ جان 16:13 میں کہا ہے کہ: لیکِن جب وہ (رُوح حق) آئے گا تو تُم کو راہ دِکھائے گا تمام سَچّائی کی اِس لِئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکِن جو کُچھ سُنیگا وُہی کہے گا اور تُمہیں آئندہ کی خَبریں دے گا تو ، کیا یہ سارے حقاٸق یہ واضح نہٕیں کر رہے کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آرہے ہیں؟ میں اسے آخری نبی کے طور پر دیکھتا ہوں۔ آپ کہہ رہے ہیں رُوح حق۔ اگر ہم یہاں سے دیکھیں تو ہم ایک نئے نبی کی تلاش کرسکتے ہیں۔ کیونکہ یہ تمام خصوصیات کسی نبی کے اوصاف ہیں۔ تو، آپ کو کیا لگتا ہے؟ "رُوح حق" کون ہے؟ روح القدس" کو "رُوح حق" کہا جاتا ہے۔ آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ خود نہیں بولے گا ...

اگر میں آپ کوبتاٶں ، کہ "ایک وجود موجود ہے اور وہ خدا کا ایک جزو ہے ، صرف وہی کہتا ہے جو خدا فرماتا ہے۔ شک ہے ، ٹھیک ہے؟ اس طرح سوچو۔ آیت میں کہا گیا ہے ، "وہ جو کچھ سنے گا وہی بولے گا۔" وہ کس سے سن رہا ہے؟ اپنے والد سے۔ باپ کے کردار سے لیکن ، اگر وہ اپنی طاقت اور فیصلہ میں خود مختار نہیں ہے؟ اس صورت میں وہ خدا کیسے ہوسکتا ہے؟ اس کا ایک مختلف کردار ہے اور مختلف کام ہیں۔ آپ نے کہا کہ کردار ، ایسا کردار جو اجازت طلب کرتا ہے کسی دوسرے کردار سے؟ نہیں جو کچھ اس کی طرف سے آتا ہے وہ اسے پہنچاتا ہے۔ سمجھیں جیسا کہ ، ایک کمپنی وہ جو کام کرتے ہیں وہ شفاف ہے۔ آپ ایک نمائندہ منتخب کریں۔ آپ کہتے ہیں کہ‘ وہ ہماری طرف سے بات کرے گا’۔ اور آپ اسے ثبوت کے طور پر ایک دستاویز دیتے ہیں؟ اس طرح سوچیں یہ احکامات لینے کا ایک منصب ہے۔ کیونکہ ، وہ صرف وہی کہتا ہے جو وہ سنتا ہے۔ وہ خود سے کچھ نہیں بولتا ہے۔ اگر کوئی خود سے کچھ نہیں بولتا ہے تو یہ اس کی حدود کو ظاہر کرتا ہے ، اور کوئی محدود اور حکم پر منحصر ہرگز خدا نہیں ہوسکتا بائبل میں ، ایک اور سیکشن ہے جس سے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔ متّی 7: 15-20 میں کہتے ہیں ، جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو!

گو وہ بھیڑوں کا بھیس بدل کر تمہارے پاس آتے ہیں، لیکن اندر سے وہ غارت گر بھیڑیے ہوتے ہیں۔ اُن کا پھل دیکھ کر تم اُنہیں پہچان لو گے (کون؟ جھوٹے نبی) کیا خاردار جھاڑیوں سے انگور توڑے جاتے ہیں یا اونٹ کٹاروں سے انجیر؟ ہرگز نہیں۔ اِسی طرح اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور خراب درخت خراب پھل۔ نہ اچھا درخت خراب پھل لا سکتا ہے، اور نہ خراب درخت اچھا پھل لا سکتا ہے۔ جو بھی درخت اچھا پھل نہیں لاتا اُسے کاٹ کر آگ میں جھونکا جاتا ہے۔ یوں تم اُن کا پھل دیکھ کر اُنہیں پہچان لو گے۔ اگر بائبل مجھے بتا رہی ہے کہ فرق کیسے کریں جھوٹے اور سچے نبی کے درمیان۔ ہمیں کیا سمجھنا چاہئے؟ کہ ، نبی ظاہر ہوں گے ...

کچھ سچے اور کچھ جھوٹے نیز ، اگر عیسیٰ (علیہ السلام) واقعتا آخری پیغمبر ہیں تو پھر مجھے یہ طریقہ کار کیوں بتایا جا رہا ہے؟ کیوں مجھے صحیح اور غلط کے درمیان انتخاب کرنے کے قاعدے بتاۓ ہیں ...

انھوں نے ایسا کچھ کیوں نہیں کہا کہ؛ "میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نہیں آئے گا؟ " آخری نبی نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی یسوع مسیح آخری نبی ہیں۔ نبوت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ نبوت جاری رہتی ہے۔ یہ آج بھی موجود ہے۔ یہ ہر ایک کے لئے ممکن ہے۔ اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس خدا کا کوئی کلام ہے ، تو آپ ان کو بتاسکیں گے بغیر اس طریقہ کارکے استعمال کے۔ ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح آخری نبی ہیں اور سب کچھ ختم ہوچکا ہے۔ صرف ایک ہی پیچیدہ نقطہ ہے۔ بائبل کے آخری حصے میں کہا گیا ہے: "اب اس کے بعد کچھ نہیں آئے گا۔" آپ کو شاید تعجب ہے ، "کہ وہ آخری نبی ہیں؟" لیکن آخر والی ایسی کوئی چیز نہیں ہے اس کا کوٸ اختتام نہیں ہے۔ پھر آپ نے غور کیوں نہیں کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے نبی ہونے پر؟ یہ مماثل نہیں ہے۔ کیا؟ پیغام.

اور سب سے اہم بات ، عیسیٰ کےایثارو قربانی کی بات غلط بتاٸ ہے ... آپ یسوع مسیح کے خود سے قربان ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ جان 5:30 میں کہا گیا ہے کہ ، " مَیں اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا بلکہ جو کچھ سنتا ہوں اُس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔ اور میری عدالت راست ہے کیونکہ مَیں اپنی مرضی کرنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اُسی کی جس نے مجھے بھیجا ہے۔ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) خدا ہیں تو وہ خود ہی کچھ کیوں نہیں کرسکتے؟ تو، ایک بار پھر یہ عیاں ہے کہ وہ ایک انسان ہیں۔ لہذا ، وہ خدا نہیں ہیں۔ ہاں بنا کسی شک کے.

یسوع کا انسانی جسم تھا۔ وہ انسانی خواہشات اور ضروریات کے حامل انسان تھے۔ انہوں نے کہا کہ؛ میں اپنے جذبات سے بات نہیں کرتا ہوں ، کیونکہ انسانی جذبات اس جگہ پر غیر فعال ہیں۔ ان کا مطلب ہے ، یہاں بولنے والا خدا ہے۔ لیکن متن میں توایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ محض آپ کی اپنی تشریح ہے۔ ہاں ، کیوں کہ میں نے ان الفاظ کو پیش نظر رکھتے ہوۓ بات کی جو پہلے کہی گٸ ہٕیں۔ جان 8: 28-29 میں کہتے ہیں ، "تو یسوع نے کہا ،جب تم ابنِ آدم کو اونچے پر چڑھاؤ گے تب ہی تم جان لو گے کہ مَیں وہی ہوں، کہ مَیں اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا بلکہ صرف وہی سناتا ہوں جو باپ نے مجھے سکھایا ہے۔ اور جس نے مجھے بھیجا ہے وہ میرے ساتھ ہے۔ اُس نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا ہے، کیونکہ مَیں ہمیشہ وہی کچھ کرتا ہوں جو اُسے پسند ہے۔“ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس طرح کیوں کام کریں کہ خدا ، وہ خالق ، راضی ہو؟ اگر وہ خدا کا حصہ ہے ، یا اگر وہ خود خدا ہے اسے کسی کو خوش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ مخلوق کو ایک ایسا راستہ اختیار کرنا ہوتا ہے جس سے خدا راضی ہو۔ تاہم ، اگر ان کے لئے بھی یہی معاملہ ہے ، تو وہ نبی ہوں گے۔ میں آپ کی بات سمجھ رہا ہوں ، لیکن آپ اسےانسانی نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ جو کچھ کہا وہ منطقی تو ہے۔ بہرحال ، "میں وہی کروں گا جس سے وہ راضی ہو۔" یہ کہنا فطری ہے کیونکہ باپ کو حوالہ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ لہذا ، اگر وہ خدا کا ذکر کر رہا ہے تو ، میں کہوں گا کہ وہ ایک نبی ہے۔ انہوں نے صرف وہی کیا جو انھیں بتایا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں؛ "میں صرف وہی کرتا ہوں جو مجھ سے کہا جاتا ہے میں نے سنا ہے کہ اسے خوش کرنے کے لئے سب کچھ کرو۔ " تو آپ خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نبی کیوں نہیں مانتے ...

یہ بالکل معقول سوالات ہیں لیکن ، کیا یہ درست ہیں؟ نہیں!

میں خدا کو جانتا ہوں ، اور آپ کو سمجھنے کے لئے پچھلی آیات کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ میں دیکھوں ، تو یہاں نتیجہ تبدیل نہیں ہوتا ہے۔ یہ ہمارے باپ دادا کے خدا، ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے خدا کی طرف سے ہے جس نے اپنے بندے عیسیٰ کو جلال دیا ہے۔ آیت میں "بندہ عیسیٰ" کہا گیا ہے۔ تو میں یسوع کے خدا ہونے کا حوالہ کیسے دے سکتا ہوں ، جبکہ یہاں ، یہ کہا جارہا ہے کہ وہ ایک بندہ ہیں؟ اسی طرح کی متعدد آیات ہیں۔ اعمال 17:31 ، " کِیُونکہ اُس نے ایک دِن ٹھہرایا ہے جِس میں وہ راستی سے دُنیا کی عدالت اُس آدمِی کی معرفت کرے گا جِسے اُس نے مُقرّر کِیا ہے اور اُسے مُردوں میں سے جِلاکر یہ بات سب پر ثابِت کردی ہے۔“ ایک بار پھر انھیں انسان کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ اگرچہ وہ بطور انسان موجود ہے۔ نیز ، وہ الٰہی طبیعت کا مالک ہے۔ آپ ان کی الوہیت کوان کے انسانی عمل سے نہیں سمجھ سکتے۔ ان کی پرہیزگاری ان کے الہی اعمال سے ہے ، جیسا کہ گناہوں کو معاف کرنا۔ بس یہ فرق ہے۔ دونوں ہی پہلو لازم و ملزوم ہیں کچھ کہتے ہیں کہ وہ "سو فیصد انسان یا سو فیصد خدا ہے۔" اس کی شرح دو سو فیصد ہے۔ تو کیا ایسی کوئی چیز ہے؟ نہیں ، یہ غیر منطقی ہے۔ وہ ایک انسان اور ایک خدائی مخلوق دونوں ہی ہے۔ خدا خود ہی بندہ اور مالک دونوں کیسے ہوسکتا ہے؟ یہ تضادات ہیں۔ جیسا کہ آپ پچھلی آیات میں کہنا چاہتے تھے یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا بیان کیا ہوا ایک جزو ہے۔ استثنا 5: 6-10؛ "مَیں رب تیرا خدا ہوں جو تجھے ملکِ مصر کی غلامی سے نکال لایا۔ میرے سوا کسی اور معبود کی پرستش نہ کرنا۔ ایک بار پھر ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک ہی خدا ہے۔ استثنا 6: 4 میں کہتے ہیں: "اے اسرائیل سنو: ہمارا خداوند بس ایک ہے۔" اس کے لئے عربی اظہار؛ "لا الہ الا اللہ" ہے اللہ کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں۔ صرف ایک خدا ہے۔ موسی (علیہ السلام) کیا کہتے ہیں؟ "اے اسرائیل سنو ، تمہارا آقا تمہارا خدا ایک ہے۔" اگرچہ موسی (علیہ السلام) اس آیت میں کہتے ہیں ...

جسے آپ بطور نبی بھی مانتے ہیں۔ کہ ایک ہی خدا ہے۔ کیا یہ تثلیث پر یقین رکھنا ، موسیٰ (علیہ السلام) سے متصادم نہیں ہے؟ ہاں ، میرے بھائی۔ صرف ایک خدا کا وجود ہے۔ ہمیں انہیں خدا کے مواصلاتی چینلز کے طور پر دیکھنا چاہئے۔ تو بطور اوزار سوچیں۔ خدا جس کے ذریعہ بات کرنے کا انتخاب کرتا ہے۔ یہ واٹس ایپ کی طرح ہے۔ تو آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ انسانی شکل میں ظاہر ہوا ہے؟ ہاں بالکل ! بہرحال ، نمبر 23:19 دیکھتے ہیں۔ "خدا انسان نہیں ہے ، کہ وہ جھوٹ بولے ، انسان نہیں ، کہ وہ اپنا خیال بدل لے۔" "کیا وہ بولتا ہے اور پھر عمل نہیں کرتا؟" "کیا وہ وعدہ کرتا ہے اور پورا نہیں کرتا؟" آیت کے مطابق۔ خدا انسان نہیں ہے ، لہذا وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔ آپ کا کہنا ہے کہ وہ انسانی شکل بھی اختیار کرسکتا ہے۔ جی ہاں...

کیا یہ آیت کے منافی نہیں ہے؟ نہیں ، خدا انسان نہیں ہے۔ میرا مطلب ہے ، وہ آدم کی نسل سے نہیں ہے۔ آدم کی اولاد گنہگار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ انسان کی حیثیت سے آۓ ، اور ان کا کوئی باپ نہیں ہے۔ کیا عیسیٰ علیہ السلام انسان نہیں ہیں؟ اگرچہ وہ ایک انسان ہیں۔ لیکن اس میں کہا گیا ہے کہ "خدا انسان نہیں ہے"۔ ارے بھائی ، ہم انتہائی پرانے "نمبرز" دیکھ رہے ہیں۔ لیکن آپ نے کہا ، "میں اتفاق کرتا ہوں۔" ٹھیک ہے.

لیکن ، یہ بعد میں ہوتا ہے۔ خدا انسانی شکل اختیار کرتا ہے ، اور ایک بچے کی طرح نمودار ہوتا ہے۔ تو آیت کا ایک بار پھر تضاد ہے۔ کیونکہ آپ دعویٰ کررہے ہیں کہ دونوں ہی سچے ہیں۔ آیت میں کہا گیا ہے کہ ، "خدا انسان نہیں ہے ، لہذا وہ جھوٹ نہیں بولتا۔" اگر ہم اسے توڑدیں تو؟ انسان جھوٹ بولتا ہے تو ، خدا جھوٹ نہیں بولتا جیسے انسان کرتا ہے۔ اسی طرح ، یسوع جھوٹ نہیں بولتے جیسے انسان بولتے ہیں۔ لیکن ، وہ انسان ہیں۔ بے شک انسان ہیں۔ میں ٹھیک سے نہیں سمجھا۔ میں سمجھ سکتا ہوں، یہ کچھ مشکل ہے ، آپ کو اسے ٹکڑوں میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ، آپ خدا کو بطور انسان دیکھنا جاری رکھیں ، اس آیت کے باوجود جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ، "خدا انسان نہیں ہے۔" ہوسیہ 11: 8-9؛ نہ مَیں اپنا سخت غضب نازل کروں گا، نہ دوبارہ اسرائیل کو برباد کروں گا۔ کیونکہ مَیں انسان نہیں بلکہ خدا ہوں۔“ یہ اسی طرح کہا گیا ہے۔ لہذا، جب میں پرانی اور نئی آیات کو دیکھتا ہوں میں ہمیشہ اسی نقطہ پر آجاتا ہوں۔ ہمیشہ ایک ہی خدا کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ہمیشہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ انسان نہیں ہے۔ جب میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے الفاظ پڑھتا ہوں ، انہوں نے کبھی نہیں کہا "میں خدا ہوں۔" ان کےبعد لوگوں کی جانب سے ، یہ دعوی کیا گیا: "عیسیٰ خدا ہیں یا خدا کا بیٹا"۔ دراصل ، وہ ایک نٸ سوچ لے کر آئے ہیں۔ جب میں آخری نبی کی آمد کے بارے میں آیات کو دیکھتا ہوں ، ہر آیت کا تعلق ہمارے آخری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہوتا ہے۔ مختصر یہ کہ جب میں بائبل کا مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے مستقل طور پر مل جاتا ہے یہ غیر متنازعہ ثبوت کہ اسلام ہی حقیقت ہے ایسی کوئی بات نہیں ہے.

یہ ایسا نہیں ہے جیسے میں اسے دیکھتا ہوں۔ اس طرح کا کوئی پیغام نہیں ہے۔ میں نے اسے صرف ایک مثال کے ساتھ محدود نہیں کیا۔ ہم کافی دیر سے باتیں کر رہے ہیں۔ شاید دس یا زیادہ منٹس، ہم اسے جاری رکھ سکتے ہیں۔ میں نے اس پر بہت ریسرچ کی ہے۔ ہمیں اسلام کی تصدیق کرنے والے بہت سے جزو مل سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ حسین الجسرنامی ایک عالم کو بھی اسلام کی 114 نشانیاں ملیں۔ ایک سو چودہ!

سب اس کی کتاب میں درج ہیں۔ میں سینکڑوں ایسی مثالیں دیکھتا ہوں کہ ، آخری مذہب سچا ہے ، اور ایک نبی آئے گا۔ لہذا ہم اس نقطہ پر آگے بڑھتے ہں۔ آپ غالباً مختلف سوچ رہے ہیں۔ کم از کم ، کیا آپ تحقیق ، اور سوالات کی گہرائی میں جائیں گے؟ میں ہمیشہ پڑھتا ہوں ، حال ہی میں کام میں مصروف ہوا ہوں۔ اسی وجہ سے میں تیار نہیں ہوں۔ مجھے گپ شپ میں لطف آتا ہے۔ اسلام یا احادیث کے بارے میں ہم سے کوئی سوال کرنے کے لئے آپ آزاد ہیں۔ ہم ایک گروپ کی حیثیت سے تیار ہیں۔ اہم بات جو میں کہہ رہا ہوں وہ یہ ہے: بحیثیت مسلمان ، ہم پہلے ہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر کی حیثیت سے پیار کرتے اور مانتے ہیں ہم اصل بائبل اور گذشتہ نبیوں پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ تو ، فرق کیا ہے؟ ہم صرف ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں ، اور تثلیث کے تصور کو مسترد کرتے ہیں۔ نیز ، آخری نبی صحیح معلومات کے ساتھ حاضر ہوۓ۔ اگر آپ تحقیق جاری رکھنا چاہتے ہیں تو ، ہم یہاں اسلام کے بارے میں بات کرنے کے لئے حاضر ہیں۔ شکریہ.

مجھے یقین ہے کہ اس کی بنیادی باتوں میں فرق ہے۔ لیکن ہم پھر بات چیت کریں گے۔ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔ اپنا خیال رکھنا۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ، ہم گلے ملنے سے قاصر ہیں ... :) نوٹ: حسینین الجسر کو مقدس بائبل کی تحقیقات کے دوران اس میں موجود اسلام کے بارے میں بہت سے شواہد ملے ہیں۔