Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Ex-Muslim vs Muslim - Debate in Istanbul

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

میں قرآن مجید کو دو مرتبہ شروع سے آخر تک پڑھ چکا ہوں۔ پھر ایک دن جب میں سو رہا تھا۔۔۔ میں نے کہا: میں کس بات پر یقین کروں ؟ کیا اس دنیا میں شراب حرام نہیں ہے؟ پھر جنت میں شراب کی نہریں کیوں ہیں؟ بھائی، ایک پانچ سالہ بچے کی عصمت دری اور اس کاقتل کیا جا رہا ہے۔ ٹھیک ہے، آپ نے بچے کو انعام دیا اور اسے جنت بھیج دیا۔ تاہم جو لوگ پیچھے رہ گئے ان کا کیا ہو گا؟ مجھے بتائیں کہ اس موقع پر بچے کا کیا قصور ہے؟ یہ جنسی زیادتی ہے ، بھائی! یہ جنسی زیادتی ہے!

یہ ساری کی ساری گڑبڑ ۔۔۔ لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر، چھوٹی بچیوں کے ساتھ اتنی کم عمر میں زیادتی اور ان کو مرتا ہوا دیکھ کر ہوئی۔ ان سب چیزوں نے مجھے مذہب اور انسانیت سے دور کر دیا۔ آپ کو تین سے چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے۔ میرا مطلب ہےکہ ۔۔۔ آپ کا اس بارے میں کچھ بھی کہنا مجھے مطمئن نہیں کر سکتا، کبھی نہیں۔ ایک، دو، تین اور چار۔۔۔ ان سوالات کے جوابات دینے کے بعد کیا آپ کی رائے میں کوئی تبدیلی آئی؟ ہیلو۔ ہیلو بھائی، آپ یہاں کیا کرتے ہیں؟ خیر۔۔۔ میں یہاں کام کرتا ہوں۔ ہم اپنے ودستوں کے ساتھ چہل قدمی کر رہے تھے۔ اور آپ یہاں کیا کر رہےتھے؟ میرا خیال ہے کہ آپ سب لوگ ایک ساتھ ہیں۔ آپ کس چیز پر ایمان رکھتے تھے؟ میرا ایمان۔۔۔ میں مانتا ہوں کہ خالق ایک ہی ہے، لیکن ،میں اس کے متعلق باقی چیزوں کو نہیں مانتا۔ آپ نے پہلی بار اس طرح سے سوچنا کب شروع کیا؟ کیا اس سے پہلےآپ مسلمان تھے؟ میں سترہ سال کی عمر تک دو بار قرآن مجید کو شروع سے آخرتک پڑھ چکا ہوں۔ میں نے سترہ سال کی عمر تک کبھی بھی جمعہ کی نماز نہیں چھوڑی۔ ایک دن میں نے خبروں میں کچھ دیکھا۔ پانچ منزلہ عمارت کی نچلی منزل پر ایک خاندان رہتا تھا جس میں تین بچے تھے۔ وہ عمارت گِر گئی تھی۔ نچلی منزل پر موجود دو بچے دم توڑ گئےتھے۔ اس کے بعد میں نے سوچا کہ اگر ہم مسلمان معاشرے میں رہتے ہیں اور اگر ہمارا خدا مہربان ہے، تو پھر وہ ان بچوں کو اس طرح مرنے کیوں دیتا ہے؟ خدا نے انہیں ملبے تلے دب کر مرنے کیوں دیا؟ تو آپ پوچھ رہے ہیں: کہ کیا خدا رحم کرنے والا ہے؟ سب سے پہلے بات کرتے ہیں، کہ ہم موت کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جب کوئی مرتا ہے تو یہ نا انصافی ہوتی ہے۔ حالانکہ اگر ہم موت کو ابدی زندگی کی طرف کھلنے والے دروازے کے طور پر دیکھتے ہیں، اور اسلام بھی ہمیں یہی بتاتا ہے، تو پھر موت ہی تمہارے لیے اس دروازے سے گزرنے کا واحد ٹکٹ ہے۔ جب بچہ فوت ہو جاتا ہے ، چاہے بچے کے فوت ہونے کی وجہ کچھ بھی ہو، توکیاہوتا ہے؟ بچہ جنت میں چلا جاتا ہے۔ اللہ اس بچے کے ساتھ کیا کرتا ہے؟ اسے جنت سے نوازتا ہے۔ کیا بچہ اس صورتِ حال کے بارے میں جانتا ہے؟ بچہ بھی اس کے متعلق کچھ نہیں جانتا۔ لہٰذا، ایسی موت جس کا بدلہ جنت کی صورت میں دیا گیا ہو۔۔۔ اس موت کے بارے میں ہم کچھ کہہ سکتے ہیں کہ بچہ کیوں مَر گیا؟ یا وہ خوفناک طریقے سے کیوں مَر گیا؟ جنت میں چلے جانا پہلے سے ہی بچے کے لیے ایک تحفہ ہے۔ پھر درد بھری موت مَرنے والے لوگوں کے بارے آپ کیا کہتے ہیں؟ بھائی، پھرآپ اپنے کسی بد ترین خواب کے بارے میں سوچیں، ٹھیک ہے؟ سب سے بد ترین خواب کے بارے میں سوچیں۔ اب فرض کرتے ہیں کہ آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خواب 80 سال تک جاری رہتا ہے۔ آپ کا سب سے زیادہ دردناک خواب۔۔۔ پھر جب آپ اس خواب سے بیدار ہوتے ہیں تو کیا آپ اس قابل نہیں ہوتے کہ صرف ایک گلاس پانی پینے سے اس کو بھول جائیں؟ آپ اسے آسانی سے بھول جاتے ہیں۔ با لکل اسی طرح ، چلیں ہم کہتے ہیں کہ ہم نے اس دنیا میں ایک خوفناک اور تکلیف دہ زندگی گزاری ۔ اور ہماری موت بھی به ظاهر مشکل تھی۔ لیکن ہم کہتے ہیں ، کہ اگر ایک خواب جو 80 سال تک چلتا رہا ہو ، اسے ایک گلاس پانی سے بھُلا دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ابدی جنت میں جانے کے بعد موت کا مختصر وقت کیسے بھُلایا نہیں جا سکتا۔ اور اس کی تلافی کیسے نہیں کی ہوتی؟ اور ایک دائمی نعمت اس کی تلافی کیسے نہیں کر سکتی؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ہم چیزوں کو اسی طرح دیکھ رہے ہیں جیسی وہ نظر آتی ہیں۔ اعلیٰ اور شاندار۔ لیکن جب آپ اس کے بارے میں سوچتے ہیں، تو جو کچھ آپ دیکھتے ہیں اس کے پیچھے ایک بڑی تصویر ہوتی ہے۔ جو ہم دیکھتے ہیں اصل میں وہاں اس سے کہیں زیادہ نعمتیں ہو سکتی ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھُولنا چاہیے کہ یہ دنیا حکمت کی پیداوار ہے۔ بھائی، ایک پانچ سالہ بچہ عصمت دری اور قتل کا شکار ہو رہا ہے۔ ٹھیک ہے، آپ نے بچے کو تو انعام کے طور پر جنت کا تحفہ دے دیا۔ لیکن پھر اصل سزا تو ان لوگوں کے لیے شروع ہوتی ہے جو پیچھے رہ جاتے ہیں۔ سزا پانے والے کون ہیں؟ ماں اور باپ؟ جی بالکل۔ پانچ سالہ بچے کا خاندان۔۔ وہی لوگ ہیں جو تکلیف میں ہیں۔ بلاشبہ، وہ ہی لوگ ہیں جو تکلیف میں ہیں!

اس بچے کی موت کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ جنسی زیادتی ہے، بھائی! عصمت دری ہے!

یہ ساری گڑبڑ۔۔۔ لوگوں کو تکلیف میں دیکھ کر ، چھوٹی بچیوں کی اتنی کم عمری میں عصمت دری کو دیکھ کر اور ان کو مرتا ہوا دیکھ کر ہوئی۔ ان تمام مردوں کو یہ کام کرتا دیکھ کر اس سب نے مجھے اپنے مذہب اور میری مردانگی سے دور کر دیا۔ برائی کی تخلیق کوئی برائی نہیں ہے؛ برائی کا حصول ہی اصل برائی ہے۔ جس کا مطلب۔۔۔ آئیے ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے چاقو ایجاد کیا، ٹھیک ہے؟ ہم نے چاقو کیوں ایجاد کیا؟ تمام لوگوں کے فائدے کے لیے، ٹھیک ہے؟ اب یہ فرض کرتے ہیں کہ کسی نے اس چاقو کو کسی شخص پر وار کرنے کے لیے استعمال کیا اور اسے قتل کر دیا۔ اب کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں ، کہ " آپ کا یہ چاقو ایجاد کرنا ہی برائی ہے؟" نہیں بھائی، برائی یہ ہے کہ آپ نے اس کا استعمال کیسے کیا۔ ٹھیک کہا؟ اور میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا کسی بھی چیز کو پیدا کرنا ہی برائی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، اس نے ایک آدمی کو پیدا کیا،اور اس آدمی کی آزاد مرضی کو پیدا کیا، اور اس نے مخالف جنس کے ساتھ مطابقت پیدا کی۔ اس نے جنسیت پیدا کی۔ اس نے جنسی ملاپ کی ضرورت کو پیدا کیا۔ خدا کا اس انسان کو پیدا کرنا، اس کی مرضی کو پیدا کرنا، اسے قوت عطا کرنا، 103 00:03:49,178 --> 00:03:51,263 اور جنسی خواہش دینا کوئی برائی نہیں ہے۔ برائی وہ ہے کہ آپ کس طرح ان سب چیزوں کو غیر اخلاقی کام کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ 105 00:03:55,868 --> 00:03:58,254 صرف اس لیے کہ کسی نے اسے بری طرح استعمال کیا، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کہ کوئی آیا اور اس نے اس چاقو سے کسی شخص پر وار کیا، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ خالق برائی پیدا کر رہا ہے۔ ہم یہاں یہ نہیں کہہ سکتے کہ خدا برا ہے۔ اگر ہم اس خاندان کی پریشانیوں کے بوجھ کی بات کریں۔۔۔ جیسا کہ ہم نے کہا، کہ سب لوگ ایک امتحان میں ہیں۔ کچھ لوگ صبر اور کچھ لوگ شُکر کے امتحان میں ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ خاندانی معاملات کے بارے میں مختلف آزمائشوں میں ہیں۔ اس دنیا کے وجود کا مقصد لوگوں کو ان احساسات اور آزمائشوں سے آزمانا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے کہا، یہاں تک کہ جب آپ ایک خواب سے بیدار ہوتے ہیں جو کہ آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ سالوں سے چل رہا ہے، اور اگر ایک گلاس پانی آپ کے تمام درد کو مٹا دیتا ہے، تو جب ہم جنت میں جاگیں گے، تو وہ تمام درد بھی مِٹ جائیں گے جو ہمیں اس دنیا میں سہنے پڑے۔ فرض کریں کہ ایک ڈاکٹر آپریشن کرنے والے کمرے میں ایک ہزار مریضوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اب کیا یہاں ہم میڈیکل سائنس کو بدنام کر رہے ہیں؟ نہیں۔ ہم کرتے ہیں، جب یہ ضروری ہو۔ نہیں، میرا مطلب ہے ، کہ ہم میڈیکل سائنس اور میڈیکل کی کتابوں پر بہتان لگا رہے ہیں؟ نہیں، کتابوں پر نہیں۔ یہاں، یہ غلطی اس ڈاکٹر کی ہے۔ میں اس ساری صورتِ حال کو دیکھتا نہیں ہوں اور کہتا ہوں کہ " تمام ڈاکٹر خراب ہیں۔" اسی طرح اگر ہم لوگوں کی غلطیوں کو دیکھ کر دینِ اسلام پر تنقید کریں تو یہ صحیح طریقہ نہیں ہو گا۔ جی ہاں، لوگ غلط ہیں۔ مجھے بھی غصہ آتا ہے ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں؟ کہ میں اس صورتِ حال کو ٹھیک کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہوں۔ اہم بات یہ کہ آپ، میں اور ہم سب ان برے کاموں کو ٹھیک کرنے کے لیے کیا اقدامات اٹھاتے ہیں۔ ہم بس لوگوں کو مطلع کرنے کا طریقہ تلاش کرنے کے لیے ادھر اُدھر بھاگتے ہیں۔ ورنہ اگر ہم اس آدمی کی طرح ہو جائیں جو طبی کتابوں سے منہ موڑ لیتا ہے، تو ہمارے موجود ہونے کا نہ تو کوئی فائدہ ہو گا اور نہ ہی ہم صحیح طریقہ اختیار کریں گے۔ ہاں ، موت کا وجود ہے، لیکن جیسا کہ ہم نے کہا، کہ " برائی کا حصول برائی ہے، لیکن برائی کی تخلیق برائی نہیں ہے۔" مثال کے طور پر، چونکہ خدا نے آپ کو آزاد مرضی عطا کی ہے تو آپ لوگوں کو اچھے کام کرنے کی دعوت دے سکتے ہیں، ٹھیک ہے؟ کیونکہ خدا نے ہمیں انسان بنایا ہے اور ہمیں قوتِ ارادی عطا کی ہے۔ چونکہ خدا نے ہمیں اس نعمت سے نوازا ہے، اس لیے ہم لوگوں کو اس کے بدلے میں کچھ نہ کچھ فراہم کر سکتےہیں، اور انہیں لوگوں پر مہربانی کرنے کا درس دے سکتے ہیں۔ کیا ہم اس کو برائی کہہ سکتے ہیں؟ خدا، ہمیں یہ کہنے کی صلاحیت دیتا ہے؟ نہیں ، ہم نہیں کہہ سکتے۔ ہم نہیں کہہ سکتے۔ اب ایک شخص آتا ہے اور چلا جاتا ہے، اور اللہ کی دی ہوئی اس نعمت کو لوگوں کو مارنے اور زخمی کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ تو ہمیں یہ فکر کرنی چاہیے؛ کہ ہم ان لوگوں تک کیسے پہنچیں گے اور ان تک درست معلومات کیسے پہنچائیں گے؟ بصورتِ دیگر، جیسا کہ ہم نے کہا ، کہ اگر ہم اسے براہِ راست اسلام کے ساتھ جوڑتے ہیں، تو ہم قرآن میں دیے گئے علم سے متصادم ہوں گے۔ کیا قرآن اس کے برعکس نہیں کہتا؟ جی قرآن اس کے برعکس ہی کہتا ہے۔ اگر کوئی شخص ایسا کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے قرآن پر عمل نہیں کیا۔ مثلاً ، کیا اس دنیا میں شراب حرام نہیں ہے؟ تو جنت میں شراب کی نہریں کیوں ہیں؟ کیوں کہ حرام اور حلال کا مسئلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ وہ اسے برا یا اچھا کہے۔ مثال کے طور پر، اگر اللہ کسی چیز کو حرام کہے تو وہ حرام ہے۔ اور اگر وہ کسی چیز کو حلال کہے تو وہ حلال ہے۔ لہٰذا، اس کا برا یا اچھا ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چونکہ ہم اس کائنات کے اندر آزمائشی میدان میں ہیں ، اس لیے ہمیں اپنے دماغ کا استعمال کرنا چاہیے۔ کیونکہ دیکھیں ، ہم یہاں ایک اندازہ لگا رہے ہیں۔ ہم اللہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں، ٹھیک ہے؟ اللہ اس کو دنیا میں برا کہتا ہے۔ تو پھر جنت کے بارے میں کیا کہتا ہے؟ چونکہ اللہ نے جنت کے اندر کی کسی بھی چیز کو حرام نہیں کہا، تو وہاں یہ بھی حرام نہیں ہو گی۔ یقیناً وہاں بھی اللہ تعالیٰ کچھ چیزوں کو حرام اور کچھ کو حلال کہے گا۔ آپ اپنے انتخاب کی بنیاد پر جنت یا جہنم میں جائیں گے۔ اس جگہ پر یہ ضروری ہے۔ کیو نکہ یہ ایک امتحان کی جگہ ہے۔ کیا جنت میں ایسا کوئی امتحان ہے؟ نہیں، جنت میں کوئی امتحان نہیں ہے۔ اگر اللہ پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ کوئی چیز اچھی ہے یا بری، تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ اللہ نے وہاں شراب کو حلال کر دیا۔ کیونکہ اب آپ وہاں کسی آزمائش میں نہیں ہیں۔ کیا ایسا ہی ہے؟ کیا آپ تین سے چار بیویاں رکھ سکتے ہیں؟ بھائی، آپ مجھے کیا کہتے ہیں اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ خدا کا کیا حکم ہے یا آپ جو کچھ بھی بیان کرتے ہیں، میں اسے قبول نہیں کر سکتا۔ آپ واقعی کسی اور سے پیار کر سکتے ہیں۔ لیکن ایک رشتہ ختم ہونے کے بعد۔ لیکن ایک ، دو، تین اور پھر چار۔۔۔ کیا قرآن کو کثیر تعداد میں ازواج کی ضرورت ہے؟ نہیں ہے۔ ایک آیت میں یہ کہتا ہے: "آپ چار شادیاں کر سکتے ہیں۔" لہٰذا یہ لازمی نہیں ہے۔ اس نے صرف چار کی حد مقرر کی ہے۔ اور وہ کہتا ہے: لیکن اگر تمہیں ڈر ہے کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو ایک ہی شادی کرو۔( النساء، 4:3) کیا آپ کو پتا ہے کہ وہ دوسری آیت میں کیا کہتا ہے؟ اور تم بیویوں کے درمیان کبھی انصاف (احساسات کے لحاظ سے)نہیں کر سکو گے، یہاں تک کہ تمہیں اس کی کوشش کرنی چاہیے۔ ( النساء، 129:4) تو یہ کیا ہے جو قرآن کہہ رہا ہے؟ قرآن آپ کو ایک شادی کرنے کا بتاتا ہے۔ پھر اگلی آیت میں۔ دوسری آیت میں اس نے کیا کہا؟ " آپ چار تعداد کی حد تک شادیاں کر سکتے ہیں۔" تو پھر اس کا نقطہ نظر کیاہے؟ بھائی، قرآن ایک عالمگیر کتاب ہے۔ اگر حالات کی وجہ سے ایسی صورتِ حال ہوتی ہے، تو انسان کو یہ موقع دیا جاتا ہے۔ کیسی صورتِ حال؟ عالمی جنگیں تباہی لاتی ہیں، کیا ایسا ہی ہے؟ تو عالمی جنگوں میں کون مرتا ہے؟ مرد یا عورت؟ عام طور پر مرد ہی مرتے ہیں۔ مرد مَر رہے ہیں۔ جب کوئی مرد مَرتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ خواتین کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسی صورتِ حال میں کیا ہوتا ہے؟ قرآن کی اس نرمی کی وجہ سے خاندانی تصور جاری رہ سکتا ہے۔ قرآن نے کیا کہا تھا؟ کہ" آپ چار تعداد کی حد تک شادیاں کر سکتے ہیں۔" پہلے سے قرآن ایک زوجہ رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔ لیکن اگر حالات اس کا تقاضا کرتے ہیں، جیسے کہ جنگ کے معاملے میں، تو پھر آپ کے لیے چار خواتین کی حد مقرر کی گئی ہے۔ یہ ممنوع نہیں ہے تا کہ لوگوں کے ذہن میں خاندان شروع کرنےاور اپنی زندگی جاری رکھنے جیسے خیالات جاری رہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ قرآن ایک عالمگیر کتاب ہے۔ دینِ اسلام اور قرآن ہر دور، ہر حال اور ہر واقعہ کے لیے موزوں ہے اور ان سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ ہم نے بات کی، مِل کر جواب تلاش کرنے کی کوشش کی اور ہم نے قرآن کی آیات سے متعلق بات کی، وغیرہ وغیرہ ان سوالات کے جوابات دینے کے بعد، کیا آپ کے ذہن میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ صرف ایک چیز: آپ نے "مہربانی" کی بات کی اور میں نے "رحمدلی" کی۔ دونوں میں کافی مطابقت ہے۔ میری بات یہ ہے۔۔۔۔ بھائی جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ انسانیت ہے!

آئیے ہم اپنی انسانیت سے محروم نہ ہوں۔ واقعی ، خاص طور پر ان اوقات میں ہمیں انسانیت کی ضرورت ہے۔ ایمانداری سے کہوں تو مسلمان ہونا بہت عظیم ہے۔ جیسا کہ آپ نے کہا۔ یہ واقعی ایک حقیقی گفتگو تھی۔ تو پھر اگر ہماری رائے کا زیادہ تر حصہ ایک جیسا ہے ۔۔۔ اور آپ کا دوست بھی مسلمان ہے۔ تو پھر اگر آپ اسلام کی طرف واپس آ جائیں اور قرآن کی تحقیق اور اس کے متعلق سوال کرتے رہیں تو کیسا رہے گا؟ اور جب بھی آپ کو ضرورت ہو ، کیا میں اور میری ٹیم تحقیق میں آپ کی مدد کر سکتے ہیں؟ میں آپ کو یہ بتاتا ہوں: بہر حال، یہ ایک اچھی گفتگو تھی۔ آپ کی کوشش کا شکریہ، میں اس کی تعریف کرتا ہوں۔ اگر میں نے گفتگو کے دوران کچھ غلط کہا ہو تو معاف کر دینا۔ میں آپ کی کہی گئی باتوں کی بنیاد پر کچھ تحقیق کروں گا۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔ کہ میں اس پر مزید تفصیلی تحقیق کروں گا۔ لیکن میں ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں: کہ آئیے اپنی انسانیت سے محروم نہ ہوں۔ اب مزید بچے، لڑکیاں اور مزید عورتیں مرنی نہیں چاہئیں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ دنیا ہماری ہے۔ اب ہم سب کا ایک ہی نظریہ ہے۔ آپ دونوں سے مِل کر خوشی ہوئی۔ اور آپ سے مِل کر بھی اچھا لگا۔ یہ ایک زبردست گفتگو تھی۔