Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

"Main Dua Kar Raha Tha Ke Islam Sach Na Ho!" – German Ne Islam Qubool Kar Liya | Marcel Krass

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

جب اس نے اسلام کے بارےمیں بات کی تو میں نے کہا ، "واہ ، یہ تو بالکل وہی ہے جو میں مانتا ہوں۔ " لیکن یہ بھی ایک مسئلہ تھا۔ کیونکہ یہ اسلام تھا ، ایک متشدد اور خطرناک مذہب۔ یہ سچ نہیں ہوسکتا۔ پھر اس نے مجھے ایک کتاب دی اور جب میں نے اسے پڑھنا شروع کیا،اف میرے خدا، میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔ تو میں نے دل میں کہا ، "پلیز گاڈ پلیز !

یہ سچ نہ ہو کچھ بھی، لیکن اسلام نہیں۔ پلیز کچھ اورسہی ، لیکن اسلام نہیں۔ یہی سچ کیوں ہے؟ میرے اندر دس ماہ تک یہی جنگ جاری رہی۔ آخرکار ایک رات ، میں نے کہا ، مارسیل ، مارسیل ، اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اور مجھے اپنی پہلی نماز یاد ہے۔ اوریہ میری پوری زندگی کا سب سے خوبصورت تجربہ تھا ۔ السلام علیکم بھائی مارسیل کرس۔ ہماری دعوت قبول کرنے کے لئے آپ کا شکریہ۔ Towards Eternityمیں آپ کا خیرمقدم کرتے ہیں، میرا پہلا سوال یہ ہےکہ مارسیل کرس کون ہے؟ کیا آپ بریفلی اپنی زندگی کےبارے میں بتائیں گے؟ وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ سب سے پہلے تو اس دعوت کے لئے شکریہ۔ مجھے یہاں آ کر خوشی ہوئی۔ میں جرمنی سے ہوں۔ میری عمر 48 سال ہے ۔ میری پیدائش اور پرورش عیسائیت پر ہوئی۔ میں نے 18 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد میں نے جلد ہی شادی کرلی۔ تو اب میرے تین بیٹے ہیں۔ میں نے الیکٹریکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور اب کافی عرصے سے ، یعنی2007 سے جرمنی میں اسلام کی تبلیغ میں سرگرم ہوں۔ ایمان کے حوالے سے آپ کی زندگی کیسی رہی؟ اسلام سے پہلے آپ کا عقیدہ کیا تھا؟ میں ایک عیسائی کی حیثیت سے پلا بڑھا۔ اور میں آٹھ سال کی عمر تک ہراتوار کو چرچ جاتا تھا ۔ ہراتوار دراصل میرے والد کسی بھی چیز پر بالکل یقین نہیں کرتے تھے۔ میری والدہ پکی کیتھولک تھیں وہ یقین کرتی تھیں ایسا نہیں تھا کہ وہ اتنی پابندی سے چرچ جایا کرتے تھے میں ایک خدا پر یقین رکھتا تھا۔ اور نبیوں کے قصوں پر بھی یقین رکھتا تھا اور یہ میرےلئے صرف داستانیں نہیں تھیں ۔ بس میں ٹرینیٹی کونسیپٹ نہیں سمجھ پاتا تھا۔ یعنی ایک خدا ہے پھرخدا کا بیٹا ہے اور روح القدس ہے۔ تو میں اس پر کبھی بھی یقین نہیں کر پاتا تھا۔ میں بہت پرے کرتا تھا،جسے ہم اسلام میں دعا کرنا کہتے ہیں۔ تو میں نے اس مشکل دور میں خدا سے دعا کی،جب مجھے اپنی ذاتی زندگی اور، اسکول میں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اور بعد میں بھی،جب میں نوعمر تھا اور میں ایک گرل فرینڈ بھی چاہتا تھا ، میں خدا سے دعا کرتا تھا۔ اب یہ عجیب لگ رہا ہے ، لیکن ایسا ہی تھا۔ ہاں کس بات سے آپ نے اپنے عقائد پر سوال اٹھایا؟ نمبر ون ٹرینیٹی کا معاملہ،جو میری سمجھ سے باہر تھا۔ میں نے سوچا،یہ بالکل غلط ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ کہ یہ بہت ہی پیچیدہ تھا۔ خدا تو ایک ہی ہے اور بس۔ اس میں اور کچھ نہیں ہے۔ اور مجھے بچپن سے ہی اس بارے میں یقین تھا۔ اور اس کے علاوہ،موت کے بعد زندگی کا تصور بھی واضح نہیں تھا۔ یہ وہ چیز ہےجس میں مجھے دلچسپی تھی۔ اور میں نے اس بارے میں کچھ لوگوں سے بھی پتہ کرنے کی کوشش کی۔ کیونکہ مجھے جاننا تھا کہ ،موت کے بعد کیا ہوگا؟ مجھے بہت تجسس تھا۔ لیکن عیسائیت میں اس کا،واقعی کوئی واضح جواب نہیں تھا۔ بس یہ کہ آپ عیسائی ہیں تو سب ٹھیک ہے کیونکہ جیسز نے آپ کے گناہوں کے کفارے کے لیے جان دی ہے۔ ہاں، بس ٹھیک ہے۔ پھر موت کے بعد ہوتا کیا ہے؟ اب سمجھیں کہ میں مر گیا ہوں اور مجھے اپنی قبر میں ڈال دیا گیا ہے۔ پھر کیا؟ مجھے اس کے بارے میں بتائیں۔ اور میرے خیال سے اس سوال کا جواب ایک مذہب کو دینا چاہئے۔ اسے نظر انداز کرنا ناممکن ہے کیونکہ یہ بہت ہی بنیادی سوال ہے۔ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور ہم کہاں جارہے ہیں؟ ہم یہاں کیوں ہیں؟ توکرسچین سائیڈ سے مجھے کوئی حقیقی جواب نہیں ملا۔ تو مطلب میں نے مان لیا کہ اس میں کچھ مسنگ ہے۔ آپ نے اسلام کے بارے میں پہلی بار کب سنا؟ کیا آپ تعصب رکھتے تھے؟ اہ۔۔۔۔او مجھے اسلام کے بارے میں بہت سے تعصبات تھے۔ آپ کے مسلمان دوست تھے؟ نہیں 16یا 17 سال کی عمر تک تو کوئی نہیں تھا، یوں سمجھ لیجیئے۔ میرا اسکول میں پاکستان سے ایک دوست تھا۔ اوردراصل وہی تھا جس نے مجھے اسلام سے متعارف کروایا۔ میں اسلام کے بارے میں صرف یہی جانتا تھا کہ ، نمبر ایک ، مسلمان پورک نہیں کھاتے ہیں۔ اور یہ کہ،یہ ایک اسلام کے اہم ستون کی طرح ہے۔ اور نمبر دو ، اگر آپ ان میں سے کسی کے ساتھ گڑبڑ کریں گے ، تو ان کے 40کزنز آپ کے پیچھے آ جائیں گے۔ اسلام کے بارے میں میں صرف اتنا ہی جانتا تھا۔ اور بدقسمتی سے ، اس بارے میں میرا علم میڈیا کی سنی سنائی باتوں تک تھا۔ اور اسلام کے بارے میں میڈیا کی ہمیشہ سے ایک ہی کہانی رہی ہے۔ جس میں آپ کو اصل اسلام کے بارے میں سننے کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ بس صرف اسلامی ممالک کے بارے میں ملتا ہے ، اور جو سننے کو ملتا ہےوہ بھی عام طور پر جنگ کے بارےمیں ہی سنتے ہیں، جیسے کو‏ئی ٹیریریسٹ اٹیک یا ایسا ہی کچھ اور۔ یہی وجہ ہے کہ میں اسلام کو متشدد مذہب سمجھتا تھا۔ یعنی بیک ورڈ اور خطرناک قسم کا۔ ہاں بس مسلمان ہونے سے پہلے میرے ذہن میں اسلام کا یہی تصور تھا ۔ آپ کا اسلامی سفر کیسے شروع ہوا؟ اسلام کی کس بات نے آپ کو سب سے زیادہ متاثرکیا؟ اسکول میں میری ملاقات ایک پاکستانی دوست سے ہوئی۔ اس نے مجھ سے اسلام کے بارے میں بات کرنا شروع کی۔ شروع میں اس نےاسلام کا ذکر بالکل بھی نہیں کیا۔ اس نے خدا کے بارے میں بات کی،کہ آپ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ اور آپ کو یقین ہے کہ یہ صرف ایک خدا ہے اور ٹرینیٹی یا کوئی اور چیز نہیں ہے۔ ظاہر ہے میں نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملادی۔ اور پھر اس نے مجھ سے پوچھا، "آپ کا اسلام کے بارے میں کیا خیال ہے؟" اس نے یہ سوال پوچھا اور میں نے کہا ، "اسلام کیوں؟" اور جب اس نے اسلام کے بارے میں بات کرنا شروع کی تو میں بہت جلد سمجھ گیا کہ یہ بالکل وہی ہے جس پر میرا یقین ہے۔ اس نے مجھے خدا کے بارےمیں بتایا ، اور اس نے اس خدا کے بارے میں بیان دیا، کہ وہ قادر مطلق ہے،سب سے طاقتورہے اس نے اسلام کے بارے میں بات کی تو میں نے کہا واہ ، یہ بالکل وہی ہے جس کا میں یقین کرتا ہوں۔ لیکن پھر مسئلہ بھی یہی تھا۔ کہ یہ اسلام تھا ، ایک متشدد اور خطرناک مذہب۔ اور یہ سچ نہیں ہوسکتا۔ یہاں تک کہ جیسے، میں نے اپنےدل میں کہا ، "پلیز گاڈ، پلیز یہ سچ نہ ہو۔ کچھ بھی ہو، لیکن اسلام نہ ہو۔ پلیز کچھ اور سہی، مگر اسلام نہیں۔ اسے ہی کیوں سچ ہونا ہے؟ " اہ۔۔کیونکہ میں نہیں چاہتا۔ میں اس مذہب کی پیروی کیسے کرسکتا ہوں؟ مجھے مغرب میں اسلام کا تصور معلوم تھا ، اور میں نے اپنے آپ سے کہا ،اگر میں اپنے والدین ، اور اپنےدوستوں سے جا کر یہ کہوں گا کہ میں مسلمان ہوں۔ ناممکن ہے۔ اور اسی لئے میں اسلام کا آسانی سے قائل ہو تو گیا ، لیکن میں اسلام کے غلط تصور کی وجہ سے جھجک رہا تھا۔ کچھ تو میڈیا کی وجہ سے،اور کچھ مسلمانوں کے اپنے روئیوں کی وجہ سے ۔ تو کیا آپ کو آخرت کے بارے میں آپ کے سوالات کے جوابات مل گئے ؟ میں نے اپنے دوست سے موت کے بعد زندگی کے بارے میں پوچھا۔ کیونکہ ، میرے حساب سے ، مذہب کے پاس اس کا واضح جواب ہونا چاہئے۔ اور اس نے کہا ، " ہاں ہاں ہاں بلکل ہے بلکل ہے، اس کا جواب موجود ہے۔ " "میں آپ کو اس بارے میں ایک پوری سٹوری بتا سکتا ہوں، اس لمحے سے لے کر ، جب آپ قبر جاتے ہیں، اور اس کے ساتھ جنت اور جہنم تک۔ " میں نے کہا،"اوہ مائی گاڈ،مجھے بھی پڑھنے دو۔" اور پھر اس نے مجھے ایک کتاب دی جس میں آخرت کی تفصیلات تھیں۔ اور جب میں نے اسے پڑھنا شروع کیا، او مائی گاڈ ، میرا دل ایسا کر رہا تھا دھک دھک دھک دھک۔ میں پڑھے بغیر نہ رہ سکا۔ میں بس پڑھتا ہی چلا گیا پڑھتا چلا گیا۔ اور جو کچھ بھی میں نے پڑھا، میرے تخیل سے بالاتر تھا۔ کیا آپ ہالی ووڈ کی یہ کہانی جانتے ہیں ، جب کوئی شہاب ثاقب زمین سے ٹکراتا ہےاس طرح کی کوئی چیز؟ اس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ تو تباہی تھی مکمل کائنات کی اور تمام انسانوں کی، اور پھر ان کے جی اٹھنے کی ،اور وہ اپنے خدا کے سامنے جمع ہوجاتے ہیں۔ اور پھران کا حساب کتاب لیا جاتا ہے۔ اور پھر جہنم اور جنت کی تفصیل۔ اور میں نے کہا ،"مائی گاڈ!

اومائی گاڈ!" اور تب مجھے پتہ چلا کہ یہ کوئی مذاق نہیں ہے۔ آپ کو سنجیدگی سے فیصلہ کرنا ہوگا۔ اور میں نے خود سے کہا"مارسیل ، تمہیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ تم اس دنیا کو اسلام قبول کیے بغیر نہیں چھوڑو گے۔" تو آپ سمجھ گئے کہ اسلام ایک صحیح مذہب ہے ، اسلام خود ایک سچائی ہے۔ آپ پہلے ہی اپنے دل میں قائل تھے۔ میرے دل میں یقین تھا۔ جی ہاں۔ اور جب آپ نے بغیر ایمان کی موت کے سنگین نتائج دیکھے ۔ ہاں ، یہی وہ پوائنٹ تھا جہاں میں نے مسلمان بننے کا فیصلہ لیا۔ لیکن پھر بھی ہچکچاہٹ تھی۔ وہ بھی صرف اسلام کے مسخ شدہ تصور کی وجہ سے۔ لیکن آپ نتائج سےخوفزدہ تھے ،ہے ناں؟ مجھے اسلام قبول نہ کرنےکے نتائج کا زیادہ خوف تھا۔ اصل میں مطلب۔ میں نے خود سے کہا ، "ٹھیک ہے،جو بھی ہوتا ہے ،اُسے ہونے دو۔" لیکن ساتھ ہی ساتھ ، مجھے یہ بھی یقین تھا کہ اگر میں یہ قدم اٹھاتا ہوں ، اور یہی سچ ہے ، اور میں اسے خدا کی اسی طرح عبادت شروع کرنا چاہتا ہوں جس طرح وہ چاہتا ہے ،تو وہ مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا۔ وہ مجھے مایوس نہیں کرے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زندگی میں کوئی رکاوٹ یامشکلات پیدا نہیں ہوں گی۔ لیکن وہ مجھے مایوس نہیں کرے گا۔ اور میں اپ کو بتاؤں کہ اس نے واقعی مایوس نہیں کیا اسلام سے متعارف ہونے کے بعد اسے قبول کرنے تک کتنا عرصہ لگا؟ آپ یوں کہہ لیجئے کہ پورا سفر تقریباََ دس ماہ کا تھا۔ اور کس بات کی وجہ سے آپ نے مسلمان بننے کا قدم اٹھایا؟ ایک دفعہ میں رات میں گاڑی چلا رہا تھا،سفر اچھا خاصا تھا۔ میں آدھے گھنٹے سے گاڑی میں تھا، باہر اندھیرا تھا ، میرے دماغ میں ہرقسم کی سوچوں کی یلغار تھی۔ اور پھر اچانک میرے ذہن میں اسلام کا خیال آیا ، اور اس مسئلے کی سنجیدگی پر غور کرنے لگا۔ اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس رات میرا دل ایک دم بدل گیا۔ اورمجھے لگا جیسےمیں خود اپنے ساتھ بیٹھ کر اپنی ذات سے بات کر رہا ہوں۔ مطلب آوازیں تو نہیں لیکن یہ منظر میرے ذہن میں واضح تھا۔ آپ کہہ سکتے ہیں میں نے خود سے پوچھا ، " کیا رہے ہو؟تم کیوں اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہے؟" اسی رات میں نےخود سے یہ کہا ، "مارسیل ، اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔" یہی وہ سچ ہے۔ اسے کوئی کھیل مت سمجھو۔ آپ اپنی جاب یا یہاں تک کہ اپنی شادی،زندگی میں ، بہت سی چیزوں کے بارے میں غلط فیصلہ کر سکتے ہو۔ لیکن یہاں بات ہو رہی ہے ایٹرنیٹی کی۔ جو کچھ ایسی چيز ہے جسے۔۔۔ اہ۔۔جسے میں ٹھیک سے شاید سمجھ نہیں پا رہا۔ اہ۔۔۔ واقعی وہی رات تھی جب میں نےاس بارے میں گہرائی سے سوچا۔ اور اس کے فورا بعد ہی میں اپنےپاکستانی دوست کے پاس گیا اور کہا ، " بس بہت ہو گیا۔ میں مزید برداشت نہیں کر سکتا۔" بس میں نے ہار مان لی۔ اور پھر کیا ہوا؟ آپ نے گواہی کیسے دی؟ اور اس کے بعد آپ کو کیا محسوس ہوا؟ کچھ دن بعد، ہم جمعہ کی نمازکے لئے ایک ساتھ مسجد گئے۔ اور پھر اس نے امام سے بات کی اور کہا ، "دیکھیں ، کوئی ہےجو شہادت دینا چاہتا ہے۔" اور یہ جمعہ کی نماز کے بعد ہی ہوا اور یہ 200 افراد کے سامنےہوا۔ جو کہ بہت ہی عجیب سا لگ رہاتھا، لیکن بہت ہی خوبصورت تجربہ تھا۔ میں نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر خلاف توقع ہر شخص میرے پاس آیا، اور مجھے گلے لگا کر کہا ، "بھائی، اسلام میں آپ کو خوش آمدید۔ یہ واقعی ایک بہت ہی خوبصورت تجربہ تھا۔ ہم ایک فلاحی تنظیم ہیں جس کا عزم اسلام کے پیغام کو دس زبانوں میں دنیا بھر میں پھیلانا ہے۔ اپنی سپورٹ سے آپ لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے حرام کام چھوڑنے نماز شروع کرنےجیسے عمال حجاب پہننے قران کی تلاوت سیکھنے جیسے عمال میں مدد دے سکتے ہیں اور ان تمام نیک اعمال کے بدلے اجرے عظیم پاسکتے ہیں انشااللہ TOWARDS ETERNITY کو عطیات دیں اور اس سنہری موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ اور شہادت پڑھتے وقت آپ کے جذبات کیا تھے؟ آپ نے اپنے دل میں کیسا محسوس کیا؟آپ کے ذہن میں کیا تھا؟ اس لمحے،میرے دل میں ایک طرح کی گرم جوشی تھی۔ واقعی ایک پرجوش احساس بھائی چارے کا احساس۔ کیونکہ بہت سارے لوگ میرے پاس آئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب میں نے اپنی شہادت پڑھی۔ اور پھر مجھے اپنی پہلی نماز یاد ہے۔ جوکہ میری پوری زندگی کا سب سے خوبصورت تجربہ تھا۔ پہلی بار جب میں نے خدا کے سامنے سجدہ کیا۔ اور جب میں نے سجدہ کیا تو خدا کی قسم، میں سجدے سے اٹھنا نہیں چاہتا تھا۔ میں نے کہا،"میں پوری زندگی اس لمحے کو بالکل نہیں بھولوں گا۔ یہ اس قسم کی خوشی ہے جسے آپ سڑکوں پر $ 50 میں خرید سکتے ہیں۔ وہ سفید پاؤڈر جسے آپ اپنی ناک سے سونگھتے ہیں۔ وہ تو ایک کیمیکل ری ایکشن ہے۔ اور ایک دفعہ شہادت پڑھ کراسلام میں داخل ہو گیا ، تو خوشی کی یہ تلاش ختم ہوگئی۔ اور یہ اسلام سے پہلے اور بعد والے مارسل کے درمیان سب سے بڑا فرق ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ زندگی میں رکاوٹوں یا مشکلات کا سامنا نہیں کرتے ، لیکن یہ کہ آپ دل میں سکون محسوس کرتے ہیں۔ اور آپ کہتے ہیں،"اوکے، میں ہینڈل کر سکتا ہوں۔ کچھ عیسائی ہیں جو کہتے ہیں ، "جب میں دعا کرتا ہوں تو مجھے روحانیت اور خدا سے تعلق محسوس ہوتا ہے۔ مجھے کسی نئی چیز کی ضرورت نہیں۔" آپ ایسے شخص یا لوگوں سے کیا کہنا چاہیں گے؟ میں اس سے انکار نہیں کروں گا کہ آپ دوسرے مذاہب میں جذبات نہیں پاسکتے ہیں ، لیکن دو چیزیں ہیں۔ نمبر ایک ، جذبات جو کہ آپ کسی بھی چیز سے حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ لوگ فٹ بال گیم دیکھ رہے ہیں ۔ جیسے عالمی چیمپئن شپ تھی۔ تصور کریں کہ سپینش لوگ اپنی ٹیم کو چیمپئن شپ جیتتا دیکھ رہے ہیں۔ یہ ان کے جذبات ہیں، لیکن اس کا خدا یا کسی بھی چیز سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ لہذا خود جذبات جو ہیں وہ کچھ زیادہ معنی نہیں رکھتے ہیں۔ اور نمبر دو ،اہم بات یہ مذہب کے حوالے سے یہ سچ ہونا چاہئے ، جو بھی یہ آپ کو احساس کے طور پر دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کسی دوسرے مذہب سے خوش ہیں۔ میں اس کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔لیکن کیا یہ سچ ہے یا نہیں؟ ایسا ہے کہ سچائی آپ کی مرضی پر نہیں چلتی۔ خدا نے ہمیں کسی چیز کو سمجھنے کے لیے ذہن دیا۔ تو آپ کے پاس کسی ایسی چیز پر یقین رکھنے کا عذر نہیں ہے جو آپ کے ذہن سے متصادم ہے۔ ظاہر ہے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا ، لیکن پھر بھی آپ کہتے ہیں ، میں اس پر یقین کرتا ہوں کیونکہ میں اسی طرح پیدا ہوا تھا ، یاکیونکہ میرے والدین اس پر یقین رکھتے تھے۔ ہم خدا سے توقع نہیں کرسکتے ہیں کہ وہ اسے کسی عذر کے طور پر قبول کریں گے۔ بہت سے لوگ اپنے شہادت دینے کے لمحات بیان کرتے ہیں ، "جیسے میرے کندھوں سے ایک بہت بڑا بوجھ اتر گیا۔ میرا دل ہلکا ہو گیا۔" کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا؟ ایسا ہی ہوا بلکل اور اب میں دوسروں کو یہ بتا رہا ہوں۔ جب میں کسی کو ہچکچاتے ہوے دیکھتا ہوں، تو میں ہمیشہ کہتا ہوں ، "مجھے پتہ ہے تم کیامحسوس کررہے ہو۔" اورابھی،شہادت دینا آپ کے سرپر پہاڑ کی طرح لگتا ہے۔ لیکن میں میں آپ کو ضمانت دیتاہوں۔ ایک بار جب آپ شہادت دیتے ہیں، تو یہ پہاڑ غائب ہو جاتا ہے۔ آپ کو ایسا لگتا ہے جیسے آپ کےکندھوں سے بوجھ اتر گیا ہے۔ شاید یہی ایک وجہ ہےکہ لوگ ہچکچاتے ہیں۔ آپ اپنے سر پر ایک پہاڑدیکھتے ہیں ، لیکن ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ آپ کو یہ قدم اٹھانا ہوگا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے خدا آپ سے کہہ رہا ہے، کہ اب کر ڈالو۔ یہ شروع میں مشکل لگتاہے، لیکن آپ کو پہلا قدم تواٹھانا ہوگا۔ آپ کو ایک قدم میرے پاس آنا ہے ، اور میں آپ کی طرف دس قدم آؤں گا۔ لیکن پہلا قدم آپ کو اٹھانا ہوگا۔ کوئی زبردستی نہیں ہے۔ یہ صرف آپ کا فیصلہ ہے۔ لیکن ضرور اٹھائیں اور پھر دیکھیں کہ کیا ہوتا ہے۔ جب میں نے شہادت دی، تو یہ تقریبا ََدس ماہ کی مزاحمت کے بعد تھا۔ ایک اندرونی جنگ تھی۔ ایک اندرونی جدوجہدتھی۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ سچ ہے ، لیکن بعض اوقات اسے قبول نہ کرنے کے بہانے تلاش کرنے کی کوشش کرنا۔ تقر یبا ََدس ماہ ،دس ماہ تک ، اپنے اندر میں حالت جنگ میں رہا۔ اور پھر اچانک یہ جنگ ختم ہوگئی۔ اور یہ دوسری جنگوں کی طرح ہی ہے۔ جس کے اختم ہو نےپر آپ خوش ہوتے ہیں ، لیکن اس طرح نہیں کہ آپ کو شکست ہو گی۔ آپ اس میں سرخرو ہو کر نکلتے ہیں۔ میں نے بھی اپنے دل میں یہی محسوس کیا۔ یہی صحیح فیصلہ تھا۔ بس،میں نے اپنے آپ سے پوچھا ، کہ میں نے اسے قبول کرنے میں اتنا ٹائم کیوں لگایا؟ آپ کی فیملی اور دوستوں کا رد عمل کیسا رہا؟ اوہ۔ مت پوچھیں۔ مت پوچھیں۔ سب سے پہلے ، تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میں نے اپنی فیملی کے حوالے سے بہت بڑی غلطی کی۔ میں نے جیسا کہ بتایا کہ میں دس ماہ تک اپنے دل کو قائل کرتا رہا ، لیکن پہلا قدم اٹھانے کی ہمت نہیں کی۔ ان دس ماہ کے دوران، میں نے اپنے والدین سے اسلام کے بارے میں ایک دفعہ بھی بات نہیں کی۔ ایک سیکنڈ بھی نہیں۔ انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ میں اس پر کتابیں پڑھ رہا ہوں یا اپنے دوست سے بات چیت کر رہا ہوں۔ کچھ بھی نہیں۔ اورپھر میں نے اسلام قبول کر لیا، اور شروع میں،میں اپنے والدین کو نہیں بتانا چاہتا تھا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ یہ ایک بڑا قصہ بن جائے گا ، کیونکہ وہ تو اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ جب میں نے اسلام قبول کیا ، تو وہ 1995کا آغاز تھا۔ جنوری 1995کا میرے خیال میں پہلا جمعہ تھا اس سال کا ۔ اگر آپ اپنا کیلنڈر چیک کریں،تو 1995 میں رمضان المبارک کا آغاز جنوری کے آخر میں ہوا، شاید 26 جنوری۔ اسکا مطلب یہ آپ کہہ سکتے ہیں، تین ہفتوں بعد۔ اور ظاہر ہے میں روزہ رکھنا چاہتا تھا، لیکن میں اپنے گھر والوں کے ساتھ تھا۔ میں اپنی والدہ کو کیسے سمجھاتا کہ 30 دن تک میں آپ کے ساتھ لنچ نہیں کروں گا، -پانی بھی نہیں پئیں گے۔ ہاں تو بس مجھے پتہ تھا ، اگلے تین ہفتوں میں مجھے والدین سے بات کرنی ہے۔ ورنہ میں کم از کم مزید چھ ماہ اس شش و پنج میں رہتا۔ تو ان کو تیار کرنے کا وقت نہیں تھا۔ اور فرار کا کوئی راستہ بھی نہیں تھا میرے پاس۔ تو رمضان سے چار دن پہلے ، میں نے کمرے میں دعا کی اور پھراس کے بعد میں نیچے چلا گیا۔ شام کے 8:00 بجے کا وقت تھا۔ اور میرے والدین لیونگ روم میں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے ۔ اہ۔۔میں دروازے کے سامنے کھڑا تھا۔ اور میں نے کہا ، "یا اللہ ، اے خدا، اسے آسان بنادے۔ چنانچہ میں نے دروازہ کھولا اور اپنے والدین سے کہا کہ ، "مام ،ڈیڈ، میرے پاس آپ کے لئے ایک خبر ہے۔ انہوں نےمجھے ایسے سوالیہ نظروں سے دیکھا اور کہا کہ “ کیا ہوا کون سی خبر” ہاہاہاہا تب میں نے جھٹ سے انہیں یہ بتا دیا کہ، "میں مسلمان ہو گیا ہوں۔ " اور پھر مجھے اپنےوالد کا رد عمل یاد ہے۔ اُن کا وہ پہلا جملہ انہوں نے کہا کہ، "مسلمان، وہ تو سب دہشت گرد ہیں۔" یہ ان کا پہلا رد عمل تھا اور یہ 1995 کی بات ہے یہاں تک کہ نائن الیون سے بھی پہلے۔ 1995۔ "مسلمان ،وہ تو سب دہشت گرد ہیں۔" پہلا جملہ یہی تھا۔ میری والدہ ، تو بس ہسٹیریکل ہوگئیں۔ مطلب اس شام وہ واقعی اپنے حواس کھو بیٹھیں کیونکہ شایدوہ بہت زیادہ خوفزدہ تھیں۔ بہت ہی زیادہ بلکہ میرے ماموں نے ، برسوں بعد ،پھر مجھے بتایا کہ میری والدہ نے اس رات انہیں فون کیا تھا۔ صرف وہ اپنے بھائی سےبات کرنا چاہتی تھیں۔ اور ماموں نے مجھے بتایا کہ رات کا وقت تھا ، شاید 10 یا11بجے۔ انہوں نے فون اٹھایا اور انھوں نے میری ماں کی آواز سنی۔ "انہوں نے مارسل کو چھین لیا۔ انہوں نے مارسل کو چھین لیا۔ یہ پہلی بات تھی۔ یہ وہ پہلا جملہ تھا پہلی بات تھی جو انہوں نے سنی۔ میری ماں کی آواز سنی "انہوں نے مارسل کو چھین لیا۔ مارسل کو چھین لیا۔" انھوں نے کہا ، " کیا ہوا؟ کس نے چھین لیا کیا ہوا؟" مجھے یقین ہے کہ انہیں خود بھی نہیں تھا کہ اس رات انہوں نے کیا کہا۔ لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ ، میری طرف سے یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی کہ میں نے ان سے پورے دس ماہ کے دوران اسلام کی کوئی بات نہیں کی۔ کیا مثبت اثرات مرتب ہوئے؟ کیا کوئی جرمن شخص آپ کے پاس آیا اور کہا ، "مجھے نہیں معلوم تھا کہ اسلام اس طرح ہے۔" یا "اب میرے خیالات بدل گئے ہیں؟" کیا آپ کی ایسی گفتگو ہوئی؟ جی بالکل، اسکول میں بہت سے مجھ سے، معمول کے سوالات پوچھتے تھے، اب تم شادی کر سکتے ہو، اچھا ...

تم اس لیے مسلمان ہوۓ تاکہ چار شادیاں رچا سکو؟ " اب میں سمجھا ، تم اب چار بیویاں رکھ سکتے ہو۔ یہ پہلے نمبر پر تھا۔ دوسرے نمبر پہ، ہر وقت جہاد ہر وقت یہی پوچھتے تھے۔ مقدس جنگ۔ کچھ لوگ پوچھتے،"کیا تم تمام کافروں کو مارنے جارہے ہو؟ کیا تم ہماری زبانیں کاٹو گے"یا ایسی چیزیں؟ ایسی امیج لے کے بیٹھے ہوے تھے؟ انھیں لگتا ہے کہ مسلمان صرف وہی ہے جس کے ہاتھ میں تلوار ہے۔ - اچھا۔ ہاں !۔تو بس اسی قسم کے سوالات پوچھتے تھے۔ اور جب آپ نے حیات طیبہ کے بارے میں جانا اور سیکھا تو، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کس بات سے زیادہ متاثر ہوئے؟ میں سب سے زیادہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کو سراہتا ہوں ۔ جب میں پڑھتا ہوں کہ، انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیسا سلوک کیا ، پھر انہوں نے کئی جنگیں لڑئیں۔ اور کئی لڑائیاں لڑئیں۔ اور پھر آپ مکہ واپس آتے ہیں اور فاتح بن کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے ہیں۔ اور میں نے اس کا موازنہ تاریخ کی ان تمام دیگر مثالوں سے کیا۔ جب کسی کے ساتھ اس طرح سلوک کیا گیا ، اور وہ واپس آیا اور فاتح کہلایا ، تب وہ لوگوں کو کس طرح ٹریٹ کرتا ہے؟ جبکہ آپ مکہ میں داخل ہوتے ہیں اور لوگ آپ کے آس پاس جمع ہو رہے ہیں۔ آپ نے ان سے پوچھا،"آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں آپ کے ساتھ کیا کرنے والا ہوں؟ اور وہ کہتے ہیں کہ"ہم آپ کو جانتے ہیں۔ آپ سے صرف بہترین سلوک کی توقع کرتے ہیں۔ " اور پھر آپ نے فرمایا، "ٹھیک ہے۔ تم سب جاسکتے ہو۔ ٹھیک ہے۔ " بالکل اس طرح یہ انسان کے لئے یہ آسان نہیں ہے۔ حقیقی زندگی میں کتنی بار ، اگر ہم پرسٹریٹ پر حملہ کیا گیا ہو ، زبانی یا جسمانی طور پر، ہم اپنا دفاع کریں گے یہ ایک فطری رد عمل ہے۔ لیکن یہ سب ہضم کرنا ، ضم کرنا ، ضم کرنا ، اللہ کے پیغام کی خاطر آسان نہیں ہے کیونکہ آپ بنی نوع انسان کے لیے مثال ہیں۔ آپ نے اپنی انا کے آگے ہار نہیں مانی۔ کیا ہم یہ کر سکتے ہیں۔ میں اسلام کی ایسی مثال تو پیش نہیں کر سکتا۔ میں تو ایک عام سا مسلمان ہوں۔ لیکن وہ اس پیغام کے نمائندے اور رسول ہیں۔ انہوں نے زندگی کے ہر لمحے کے بارے میں غور وفکر سے کام لیا ہے۔ اور وہ اس میں کامیاب رہے۔ انہوں نے اپنی انا کو کنٹرول کیا۔ یہاں تک کہ جب آپ نے جنگ لڑی تو وہ بھی انا کی خاطر نہیں لڑی۔ یہ اس لئے نہیں تھا کہ "میں انتقامی کارروائی کرنا چاہتا ہوں،" یا کچھ اور۔ لیکن یہ اس پیغام کی خاطر تھا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت کا مداح ہوں۔ اہ۔۔یہی۔ اگر آپ کو حیات طیبہ دیکھنے کا موقع ملے تو کون سا دن دیکھنا پسند کریں گے؟ ان کی زندگی کا آخری دن۔ مجھے ایک چیز یاد ہے جو میں نے سیرت میں پڑھی تھی۔ یہ کہ اس آخری دن ، جب صحابہ مسجد میں نمازپڑھ رہے تھے ، آپ اپنے حجرے میں تھے کیونکہ نماز میں شرکت کرنےکی طاقت نہیں تھی۔ اور آپ نے اپنے ہجرے کا پردہ اٹھایا ، نماز میں کھڑے صحابہ کی طرف دیکھنے لگے۔ اور مسکرائے۔ آپ مسکرائے کیونکہ اب آپ اس دنیا سے سکون سے رخصت ہو سکتے تھے۔ وہ ناممکن مقصد جو 23 سال پہلے شروع ہوا تھا ، آپ نے اسے مکمل کر دیا۔ آپ نے کر دیکھایا۔ ذرا سوچیئے، اللہ نے آپ کو کتنی بڑی ذمہ داری سونپی تھی۔ پہلی وحی۔ جس کے بعد آپ کو اپنے لوگوں کے پاس جانا تھا اس وقت ایک ایک کے پاس جا کر انہیں یوں قائل کرنا تھا ، بتانا تھا کہ "دیکھو،میں خدا کا رسول ہوں۔ میرے پاس ایک فرشتہ آیا ہے ، اگر آپ میری پیروی نہیں کرتے تو جہنم کی آگ میں جاسکتے ہیں۔ کتنا عجیب و غریب لگتا ہے۔ ذرا سوچیں کہ آپ کو اپنے پڑوسی کو یہ بتانا ہے۔ وہ آپ کو دیوانہ سمجھے گا۔ جیسے مکہ کے لوگوں نے سمجھا۔ یہ ایک کریزی سٹوری ہے۔ ایسے ہی اگر آپ اسے خاص زاویے سے دیکھیں تو یہ واقع ایک کریزی سٹوری ہے۔ اور بھی بہت ساری رکاوٹیں تھیں اپنی زندگی کے بہت سے لمحات میں ، انہوں نے سوچا ہو گا کہ، "اب کیا کروں؟ مجھے وہ دن یاد ہے جب آپ طائف تشریف لائے تو لوگوں نے آپ سے کیا سلوک کیا۔ اور جب ہم اس دعا کو پڑھتے ہیں جو کہ آپ نے وہاں کے لوگوں کیلئے ایسے سلوک کے بعد کی ، تو ہمیں ایسے شخص کی جھلک نظر آتی ہے جس کے آگے ایک مقصد ہے اور سارے درازے بند ہیں۔ جو خدا سے کہہ رہا ہے ، " کیا کروں میں؟ میں کہاں جاؤں؟ کیا میں مکہ واپس جا سکتا ہوں؟ میں طائف نہیں جاسکتا۔ میں یہاں بیٹھا ہوں۔ مجھے کہاں جانا ہے؟ کیا کرنا ہے؟ اور اسطرح کے آپ کی زندگی میں بےشمار واقعات ہیں۔ اب آخری دن کی بات کرتے ہیں ، آپ اپنے ساتھیوں کو نماز میں کھڑا دیکھ رہے ہیں۔ مقصد پورا ہوچکا ۔ مقصد پورا ہوچکا تھا، آپ مسکرائے۔ کیا آپ کے ارد گرد آپ سے انسپائر ہو کر کوئی مسلمان ہوا ہے؟ صرف میری بیوی میں نے اسلام قبول کیا اور چند ماہ بعد اس نے بھی مجھے فالو کیا۔ اور پھر ہم نے شادی کی۔ یہی وجہ تھی کہ میری شادی بہت کم عمری میں ہوگئی۔ جب آپ نے سنا کہ وہ مسلمان بننے کے لئے تیار ہے تو ان احساسات کی وضاحت کریں۔ اہ۔۔۔۔ ہمیشہ میں نے اس کی خواہش کی تھی۔ وہ وہی تھی جس کے ساتھ میں اپنی فیملی بنانا چاہتا تھا ، ظاہر ہے مسلمان عورت کے ساتھ میں گھر بسانا چاہتا تھا۔ تو میری یہی خواہش تھی کہ وہ اسلام قبول کرے۔ اور میں نے بہت دعا کی اس کیلئے۔ مجھے ویسی توقع نہیں تھی کہ وہ مسلمان ہو جائے گی۔ لیکن آخر کار ، جیسا کہ میں نے کہا ، یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کیا آپ اسے سنجیدگی سے لینے کے لئے تیار ہیں۔ ہم بات کر رہے ہیں اٹرنیٹی کے بارےمیں ۔ میں نے کبھی کبھی لوگوں کو یہی مثال دی۔ کہ آخر کس چیز کے بارے میں زیادہ فکر کرنی چاہیے ، 80 سال کے مستقبل کی یا 80 ارب سال کے مستقبل کی؟ اور اس سے لوگ غور کرتے ہیں ، ہاں ، ہمارے پاس شاید 80 سال یا 90 سال ہیں۔ شاید 50 ، ہم نہیں جانتے۔لیکن یہ بہت ہی محدود ہے۔ اس کے بعد ، ابدیت شروع ہوتی ہے۔ یہ زندگی کی سب سے سنجیدہ بات ہے۔ مجھے اس کا احساس ہوا اور اسے بھی احساس ہوا۔ تو انہوں نے کیسے آ کر آپ کو بتایا؟ کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں؟ ہم اپنے پاکستانی دوست کی طرف گئے۔ اس وقت ، وہ ایک طالب علم تھا۔ اچانک اسے میں نے اچانک اسے دیکھا۔ آپ نے نوٹس کیا ہوگا کہ جب کسی کو کوئی اہم اعلان کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح سے وہ بھی ایسے ہی نروس سی کھڑی تھیں۔ بیٹھ نہیں رہی تھیں میں اور میرے دوست وہیں بیٹھےہوے تھے، اور وہ دروازے پر کھڑی تھیں ، اور یہ کہا،"اوکے ، اب اگے کیا ہو گا؟" اور پھر وہ مسکرائی اور کہا کہ، "آج میں یہاں آپ کو انفارم کرنے آئی ہوں کہ میں مسلمان بننا چاہتی ہوں۔ " میں اور میرے دوست ، ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ اور میں نے کہا ، " اف ۔۔واؤ۔" یہ وہ لمحہ تھا جب اس نے کلمہ شہادت پڑھا ۔ وہاں،ہم دونوں کے بالکل سامنے۔ اور یہ واقعی زندگی کے سب سے زیادہ خوشگوار لمحات میں سے ایک تھا۔ مسلمان بننے کے بعد سب سے بڑے کس چیلنج کا سامنا کرنا پڑا؟ سب سے بڑا چیلنج مسلمان بننے کے بعد دراصل خود کو ایک بالکل الگ ہی کلچر کا عادی بنانا تھا میں مسجد میں تھا جہاں میں نے نماز میں شرکت کی۔ وہ مسجد تقریباََ 280،000 لوگوں کے شہر میں واقع تھی۔ اور میرے خیال میں وہاں تین چار اور بھی جرمن کنورٹس تھے۔ اور وہاں مجھے واقعی اس وقت اپنا آپ اجنبی لگا۔ ہاں ایسا ہے ، یہ کبھی کبھی مشکل لگتا ہے۔ آپ نے اپنے اس احساس پر کس طرح قابو پایا اور کس طرح مینج کیا؟ ایک چیز تھی جس نے اسے آسان بنا دیا۔ اسلامی کلچرکی ایک چیز مجھے واقعی ہی بہت پسند ہے، اور وہ ہےسبھی بھائیوں کو خوش آمدید کہنا۔ جب میں مسجد آیا اور بھائیوں نے سنا کہ میں مسلمان ہوں۔ تو ہر ایک نے مدد کرنے کی کوشش کی۔ " اگر آپ کا کوئی سوال ہےتو،آ جاؤمیرے ساتھ بیٹھو۔ اور اگر آپ میرے گھر پر جانا چاہتے ہو، سونا چاہتے ہو، تو خوش آمدید۔ مطلب،یہ کہ ایک جرمن کے لئے یہ غیر معمولی بات ہے۔ یوں کہہ لیں کہ وہ بہت سخی لوگ تھے۔ اور یہ ایک آسانی پیدا کرنے والا خوش آئند کلچر تھا۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ انہیں مسلمان بننے کے لیے ایک عربی بننا پڑے گا۔ اپنا نام اور سارا کلچر تبدیل کرنا ہو گا۔ کیا آپ کو بھی یہ خدشات تھے؟ اور آپ نے ان چیزوں پر کیسے قابو پالیا؟ دراصل ، میں بھی میں بھی اس تاثر میں تھا کہ جب آپ مسلمان بن جاتے ہیں توآپ بھی عرب بن جاتے ہیں۔ آپ یہ کہتے تو نہیں، لیکن یہ آپ کے اندر کا احساس ہوتا ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو اپنا پہناوا بدلنا ہوگا، آپ کواپنا نام بدلنا ہوگا۔ اور یہاں تک کہ بہت سے لوگ کہتے ہیں۔ اس دن سے لے کر اب تک، یہ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ہے۔ "آپ کا اسلامی نام کیا ہے؟" میں کہتا ہوں،" مارسیل ۔" "نہیں،نہیں ،نہیں،نہیں ، اسلامی نام۔" " مارسیل ہے۔" “اوہ نہیں ابھی تک نام نہیں بدلا؟" ہاہاہا یہ بہت ہی عجیب بات ہے۔ ویسے بھی اس کے علاوہ یہ اسلام کے بارے میں ایک غلط سا امیج دیتا ہے۔ کیونکہ دراصل اسلام جب پھیلا تو ، اس نے مختلف ثقافتوں کو قبول کیا ، سوائے ان حصوں کے جس کی ہمارے مذہب میں اجازت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، یہ پھیلا، جہاں کے کلچر میں شراب پینا معمول تھا۔ ظاہر ہے،شراب پینا قبول نہیں کیا جاسکتا ، لیکن اس کے علاوہ اہ۔۔۔ جس طرح سے وہ کھاتے ہیں جس طرح سے لباس پہنتے ہیں۔ اگر اسلام کی حدود میں ہے تو قابل قبول اور خوش آئند ہے۔ بصورت دیگر ، اسلام اس طرح ہر گز نہ پھیلتا۔ ذرا سوچیں آپ عرب کے صحرا کی ثقافت کو پوری دنیا میں پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور مجھے لگتا ہے کہ یہ خاص طور پر مغرب میں،ایک رکاوٹ ہوتی۔ اگر آپ لوگوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ آپ اپنے کلچر کو بدل کر ہی اس مذہب کو اپنا سکتے ہیں۔ تو نہیں، ایسا نہیں ہے۔ میں اپنے والد کے بارے میں سوچ رہاتھا۔ میرے والد کی عمر اب 74 سال ہے۔ وہ کبھی قبول نہیں کریں گےعرب کلچر کو ، لیکن وہ اس عقیدے کو قبول کرسکتے ہیں کہ ایک خدا اور صرف اسی کی عبادت کرنی ہے۔ اور بس یہی کافی ہے ، ہم لوگوں کو عربی یا ترکی یا کچھ اور نہیں بنانا چاہتے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ مسلمان بنیں۔ کیا آپ کو کسی غیر معمولی واقعے کا تجربہ ہوا جب آپ کو لگا کہ آپ کا اللہ کے ساتھ خصوصی تعلق ہے ؟ یہ واقعی غیرمعمولی لمحات میں سے ایک تھا جب میں نے پہلا عمرہ کیا 1997 کے آخر میں۔ عمرہ جسے آپ کعبے کی زیارت کہتے ہیں۔ مکہ میں۔ جی، مکہ۔ مکہ جاتے ہیں اور اللہ کے گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی آپ کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ خدا کی ہماری مکمل زندگی پر نگاہ ہے۔ لیکن کبھی آپ کے پاس ایسے لمحات ہوتے ہیں جہاں آپ کو لگتا ہے کہ وہ آپ کا ہاتھ تھام کر آپ کو آپ کی زندگی میں ایک بہت ہی خصوصی تجربے سے روشناس کرنے کے لیے رہنمائی کر رہا ہے ۔ اور جب میں پہلی بار مکہ گیا۔ اف۔ میں وہ کبھی نہیں بھولوں گا۔ کیا آپ کعبے کو دیکھ کر آبدیدہ ہوئے، یا آپ کو کیسا لگا؟ مکہ کا پہلا سفر ، وہ چیز تھی جو میں بیان نہیں کرسکتا۔ سارا وقت روتا رہامیں۔ وہاں صرف ...

کبھی کبھی میں نے آنسو روکنے کی کوشش کی۔ میں اس وقت وہاں دعا کرنا چاہتا تھا ، یا کچھ کرنا چاہتا تھا ، لیکن میں روتا رہا۔ سارا وقت جب میں پہلے سفر کے دوران مکہ میں تھا ، میں نے پانچ بار عمرہ کیا ، بس آیا اور گیا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ یہ کافی نہیں ہے بس ، میں نے ٹیکسی لی اور میں نے یہ سب خود ہی کیا۔ یہ میرا مکہ کا پہلا سفر تھا۔ اورمیرے پاس صرف ایک کتابچہ تھا۔ مطلب یہ چیک کرنے کے لیے کہ کیا کرنا ہے۔ اہ۔۔ میں وہاں ا س لمحے سے بہت لطف اندوز ہوا۔ ہاں میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ خاص طور پر مکہ میں جیسے یہ سفر ختم ہوا۔ یہ پورا سفر بہت خوبصورت تھا۔ اب مجھے جب بھی یاد آتا ہے کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جب آپ خود کو اڑتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اور پھر ، میں ایک بات سمجھ گیا۔ میں یہ بات سمجھ گیا کہ اسلام میں روزانہ پانچ نمازوں کا حکم کیوں ہے۔ ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ ، خدا کو ہماری نمازوں کی کیا ضرورت ہے؟ اسے آپ کی نمازوں کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ نماز نہیں پڑھیں گے، تو آپ اپنی روح کو بھوکا مار دیں گے۔ یہاں آپ کی روح بھی ہے۔ اور اسے آپ کے جسم کی طرح ، زندہ رہنے کےلئے خوراک کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ خوراک کوئی گوشت، جوس یا پانی وغیرہ نہیں ہے۔ اصل میں اسے کچھ اور چاہیے اسے خدا سے اس تعلق کی ضرورت ہے۔ اور روزانہ پانچ نمازیں ، یہ آپ کی روح کی خوراک ہے۔ اوراگر آپ ایسا نہیں کرتے تو روح بھوک سے مر جائے گی۔ اور ان لمحوں میں، میں نے یہی محسوس کیا ، خاص طور پر جب میں مکہ میں تھا۔ ایسا جیسے آپ کو فرشتوں کی موجودگی محسوس ہوتی ہے ۔ اور یہی کچھ میں نے مکہ میں محسوس کیا۔ اور اسی سرزمین پر قدم رکھنا کیسا لگا جہاں کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم رکھا؟ او۔۔۔۔ دیکھیں کبھی کبھی آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کےچاروں طرف ہیں۔ آپ ان چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کو دیکھتے ہیں صفا اور مروہ ، کو دیکھتے ہیں جہاں ہم مکہ میں ہوتے ہیں تو وہاں جاتے ہیں ۔ آپ کو وہ لمحہ یاد آتا ہے کہ جب ہمارے آقاﷺ لوگوں سے اسلام متعارف کروا رہے تھے اور لوگوں نے اس پر کیا رد عمل ظاہر کیا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ اسلامی تاریخ میں زندہ ہو جائیں ۔ اسلام آپ کی زندگی میں سب سے بڑی تبدیلی کیا لایا؟ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد والے مارسل میں کیا فرق ہے؟ بڑی سیدھی سی بات ہے۔ آپ کے دل میں ایک سکون اور مٹھاس ٓاجاتی آتی ہے۔ جب آپ اپنا مقصد جان لیتے ہیں اور سب سے بڑی تبدیلی یہی ہے۔ آخر میں ، اگر آپ کو دنیا کے تمام غیر مسلموں سے بات کرنے کا موقع ملے تو آپ ان سے کیا کہنا چاہیں گے اگر آپ کو کچھ وقت ملے ؟ اس دنیا کے تمام غیر مسلموں سے کچھ کہنے کیلئے ؟ میں قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دینا چاہوں ہوں۔ "تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بیکار بنایا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے؟" اگر آپ صرف اپنی ذات میں جھانکیں تو آپ کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ خدا ایک ہے۔ اورجس نے یہ پوری کائنات بس یونہی نہیں بنا دی۔ بلکہ کوئی نہ کوئی وجہ ہے اس کے پیچھے۔ جاوُ اور وہ وجہ تلاش کرو۔ کہ اس کائنات کے پیچھے کیا راز ہے؟ بھائی مارسیل کرس، آپ کے مخلص جوابات کے لئے آپ کا بہت بہت شکریہ۔ اللہ آپ کو محفوظ رکھے اور آخری سانس تک- امین آپ کو اسلام پر قائم رکھے۔ - امین ہم سب کو۔ہم سب کو۔ مجھے شکریہ ادا کرنا ہے اتنے اچھے انٹرویو کے لئے اور مستقبل میں پھر آپ سے ملنے کی امید کرتا ہوں۔ ان شاءاللہ۔ ضرور ہاں -السلام علیکم وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ہو۔