Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

"Main Ne Aik Muslim Ko Khuda Ke Bare Mein Challenge Kiya" – Chinese Buddhist Ne Islam Qabool Kiya

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

میں بدھ ازم پہ یقین رکھتا تھا۔ ہم چینی دیوتاؤں کی پوجا کرتے ہیں،جن کی داڑھی کا رنگ آنکھیں اور اس کا سائز ہماری طرح ہی ہوتا ہے۔ جب وہ زندہ تھے تو خدا نہیں تھے۔ وہ مرنے کے بعد ہی خدا بنے۔ انہوں نے اسے بطور خدا پروموٹ کیا۔ میں نے ان سے پوچھا ، "یہ کون ہے؟ کیا یہ خدا ہے؟ وہ کب خدا بنا؟ " اس لمحے انہوں نے بلند لہجے میں کہا، "بہت ہو گیا!

بس کچھ مت پوچھو!" تو میں نے اپنے دوست سے پوچھا، "ایک مسلمان کی حیثیت سے ، آپ کیا پوجتے ہیں؟ " اس نے کہا کہ ، "ہم خدا کی عبادت کرتے ہیں۔" میں نے دائیں بائیں دیکھا، "تمہارا خدا کہاں ہے؟" "مجھے نظر نہیں آرہا"۔ "نہیں۔ خدا موجود ہے ، لیکن آپ اُسے دیکھ نہیں سکتے ہیں۔ " میں نے کہا ، "کیا مطلب ہے؟ دیکھنا ہی یقین ہے۔ اگر میں کچھ نہیں دیکھ سکتا ، تو میں اس پہ یقین کیسے کروں گا؟ " پھر اُس نے مجھے ایک مثال دی۔ لیکن دل میں کچھ اور تھا، "ہمم ، اس خدا میں کچھ لوجیکل بات ہے۔" لیکن ایک دن ، میں نے کہا ، "امی ، میں دسمبر کے شروعات میں مکہ جا رہا ہوں۔ کیا آپ میرے ساتھ مکہ جانا چاہتی ہیں یا نہیں؟ "ہاں ضرور، میں جانا چاہتی ہوں!

"امی ، اگر آپ غیر مسلم ہوں تو مکہ نہیں جاسکتے۔ کوئی جواب نہیں۔ کچھ نہیں کہا۔ وہ صرف ...

رونے لگیں۔ اور انہوں نے کہا ، "ہاں۔" اور پھر انہوں نے یہی کہا ، "پھر ٹھیک ہے، میں مسلمان بن جاتی ہوں۔" السلام علیکم بھائی فردوس وانگ۔ Towards Eternityمیں خوش آمدید۔ ہماری دعوت قبول کرنے کے لئے آپ کا بہت شکریہ ۔ میں شروعات کرنا چاہتا ہوں کہ فردوس وانگ کون ہے؟ اپنی زندگی کے بارے میں مختصرا بتا‏ئیں؟ میں ایک چینی ہوں ، پہلے میں بدھسٹ تھا۔ ٹھیک ، اور میں ملائشیا کے شہر کوالالمپور کے علاقے کیپونگ میں پلا بڑھا۔ جہاں تقریبا ہر ایک گلی میں، غنڈوں کا ایک گروپ ہے، سب نے اپنے علاقے چنے ہوئے ہیں۔ اور ایک خاص حد تک،میں نے کوالالمپور کے لئے کھیلا،ریاست کوالالمپور۔ میں ملائشیا نیشنل ٹیم کے لئے بھی کھیلتا تھا، یوتھ ٹیم، انڈر 17 اور انڈر 21 دونوں میں۔ اور میں بطور بدھسٹ بڑا ہوا اور الحمد اللہ، میں، 22 سال کی عمر میں مسلمان ہو گیا۔ الحمد اللہ تو ، ایمان کے حوالے سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کس چیز پر یقین رکھتے تھے؟ اس سے پہلے میں بدھسٹ تھا۔ میں بدھ ازم پہ یقین رکھتا تھا ، لیکن یاد رہے کہ میں نے بدھسٹ صحیفہ پہلے کبھی نہیں پڑھا تھا ۔ بالکل کسی - میرے خیال میں بیشتر چینی بدھسٹ کی طرح ، وہ کبھی صحیفوں کو نہیں پڑھتے کیونکہ ہم نے دیکھا ہی نہیں۔ ہم بدھ مت کے بارے میں وہی جانتے ہیں جو ہمارے والدین نے ہمیں بتایا، کہ ہمارے آباؤ اجداد کا عمل کیا تھا۔ لہذا ہم نے اسے ایسے ہی سمجھا کہ یہ بدھ ازم ہے اور ہم اسی پہ عمل کرتے ہیں۔ اب ، بدھسٹ ہونے کے ناطے ، مجھے یقین تھا کہ خدا موجود ہے کیونکہ یہی ہے جو ہمیں سکھایا گیا۔ لیکن بات یہ ہے کہ بدھ ازم کے بارے میں میری معلومات بہت سطحی تھی۔ اتنی سطحی کہ یہ سب کچھ رسموں تک محدود ہے۔ یہ رسم اور وہ رسم،اچھے کام کرو وغیرہ۔ اوکے،لیکن اچھے کام کرنے کی کیا تعریف ہے؟ انفرادی طور پر،میں خدا پر یقین رکھتا تھا۔ لیکن مسلمان بننے کے بعد،مجھے احساس ہوا، بدھ ازم میں خدا کا کوئی تصور نہیں ہے۔ وہ بدھ ازم کی بھی پیروی کر رہے ہیں،تاؤ ازم،کنفیوشزم اور چینی لوک داستانوں کا مذہب بھی۔ آباؤ اجداد کی عبادت وغیرہ۔ تو میں ایک چینی، ایک بدھسٹ کی حیثیت سے مانتا ہوں کہ ایک سپریم خدا موجود ہے۔ لیکن سب سے بڑا خدا وہی ہے جسے ہم کہتے ہیں جیڈ ایمپیرر۔ جیڈ ایمپیرر ، اور پھر کچھ دوسرے چھوٹے موٹے دیوتا ہیں۔ ٹھیک ہے، یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیشہ چینی فلموں اور ڈراموں میں بھی دکھائی جاتی ہیں۔ تو شاید ویسٹ کے لوگوں نے ایک فلم دیکھی ہو، جس کا نام ہے، "جرنی ٹو دی ویسٹ"، جس میں ایک منکی گاڈ ہے ، رائٹ؟ ایک منکی گاڈ۔ تو ایسے "دیوتا" ہیں، ہم چا‏ئنیز اس کی بھی پوجا کرتے ہیں۔ تو انہوں نے دیوتا بنا رکھے ہیں، جو انسانوں کی طرح ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں شادی کرتے ہیں، بچے ہوتے ہیں۔ وہ کیا بات تھی جس وجہ سے آپ نے اپنے عقائد پر سوال اٹھایا؟ وہ بات جس کی وجہ سے میں نے اپنے عقیدے پر سوال اٹھایا، تب میں 11 سال کا تھا۔ لیکن میں پہلے بتا دوں کہ میں بہت ضدی تھا، اور سوال بہت کرتا تھا۔ کیا ہوا کہ میرے دادا کا انتقال ہوگیا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو بطور روایتی چائنیز فیملی ایک رسم ہوتی ہے۔ اس خاص رسم میں ایک پجاری کو نعرے لگانے کے لئے بلایا جاتا ہے۔ لیکن ایسی زبان میں جو مجھے سمجھ نہیں آتی۔ تو میں نے اپنے انکل، آنٹی سے سوال پوچھنا شروع کیے۔ "وہ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں؟" تو وہ کہتے ہیں،"ویل، یہ بنیادی طور پر آپ کے دادا کو جنت میں بھیجنے کے لیے ہے۔ میں نے کہا،"یہ اچھا ہے۔" لیکن ساتھ ہی کیا ہوا ،ہماری ایک ایکٹیویٹی ہے جہاں ہم پرئیر پیپر کو فولڈ کرتے ہیں اور جبکہ، اس کے ساتھ ہیل بینک کے نوٹ ہوتے ہیں۔ جیسے ، اگر میں جانا چاہوں ترکی یا پھر میں جانا چاہوں، یو-ایس تو مجھے ملائیشین رنگٹ کو امریکی ڈالر میں تبدیل کرنا پڑے گا۔ اب آپ کے پاس ہیل بینک نوٹ ہیں ، جہنم میں استعمال ہونے والی رقم ہے۔ تو میں تجسس کرنے لگا۔ میں نے کہا ، "یہ رسم انہیں جنت بھیجنے کے لیے ہے۔ جنت میں آپ کے پاس مفت میں سب کچھ ہے۔ تو یہ ہیل بینک نوٹ کس لئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا ، " بنیادی طور پر یہ ہیل بینک نوٹ آپ کے دادا کے لئے ہے۔ صرف اس صورت میں کہ اگر وہ جنت نہ جا سکے تو جہنم میں اسے استعمال کرسکیں۔ اس جواب نے میرے لئے مزید الجھن پیدا کردی۔ شاید وہ الجھن میں نہ تھے۔ میں الجھن میں تھا۔ میں اس الجھن میں تھا کیونکہ ایک چینی کی حیثیت سے ، ہم کچھ فلسفوں کے ساتھ پلے بڑھے، جیسے "آپ کو اس دنیا میں اچھا انسان بن کر جینا ہے تاکہ آپ جنت میں جاکر لطف اٹھائیں۔ لیکن اگر آپ اس دنیا میں برے آدمی ہیں تو آپ جہنم میں جائیں گے اور آپ کو سزا دی جائے گی۔ " تو جنت میں انعام اور جہنم میں سزا کا خیال میرے ذہن میں اٹک گیا تھا ۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے،جہنم میں جا کر بھی آپ پیسہ استعمال کرکے لطف اٹھا سکتے ہیں۔ تو میرا اس دنیا میں اچھا بننے کا کیا فائدہ؟ یا پھر برا آدمی نہ بننے کا بھی کیا فا‏ئدہ؟ میں اس وقت تک سوالات کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے کرخت لہجے میں کہا ، بس بہت ہو گیا!

کچھ مت پوچھو!

ٹھیک ہے۔ میں نے پوچھنا چھوڑ دیا۔ اس لئے نہیں کہ میں جواب سے مطمئن تھا ، بلکہ اس لئے کہ میں تابوت کا اگلا امیدوار نہیں بننا چاہتا تھا۔ کیونکہ جب انہوں نے اپنی آواز اونچی کی ، مجھے پتہ چل گیا تھا کہ وہ جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ میں بدھ مت کی پریکٹس کرتا رہا ، لیکن میرے دل میں ایک سوال تھا۔ میں جتنا بھی پوچھتا، مجھے جوابات زیادہ تر نہ ملتے۔ اور اسلام کی طرف آپ کا سفر کیسے شروع ہوا؟ اوہ ، ہاں۔ 11 سال کی عمر میں۔ جب میں 11 سال کا تھا اور، 18 سال کی عمر تک ، میں اپنے ہائی اسکول سے فارغ ہونے کے بعد ایک آزاد مفکر بن گیا۔ جو کہ خدا پر یقین رکھتا ہے۔ لیکن اس وقت ، میرے پاس خدا کا اپنا تصور تھا۔ میں نے کوئی کتاب نہیں پڑھی، اور کوئی صحیفہ بھی نہیں ، لیکن میرے پاس خدا کا جو تصور تھا، وہ میرے حساب سے لوجیکل تھا۔ میں کہتا ہوں، مجھے ایک خدا پر یقین ہے، لیکن وہ کوئی انسان یا مخلوق نہیں ہے۔ نہ ہی مخلوق خدا بن سکتی ہے۔ میں نے خود کو جواز پیش کیا۔ میں نے کہا ، "کیوں؟" وجہ کیا ہے، بطور چینی،آپ جانتے ہیں ہم چینی دیوتاؤں کی پوجا کرتے ہیں جو چینیوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ بالکل ہماری طرح۔ یہاں تک کہ داڑھی کا رنگ، آنکھیں اور ان کا سائز ، ہماری طرح ہے۔ اور ایک گفتگو جو میرے مسلمان بننے سے پہلے اپنے دوست کے ساتھ ہوئی۔ میں نے اس سے پوچھا ، "یہ کون ہے؟ کیا یہ خدا ہے؟ یہ کب خدا بنا؟ وہ بت جس کی وہ پوجا کرتے ہیں؟ میں نے احترام کے دائرے میں مناسب انداز میں پوچھا۔ تو اس نے کہا ، "جب وہ زندہ تھا تو وہ خدا نہیں تھا۔ صرف مرنے کے بعد ہی خدا بنا۔ تب میں نے کہا ، "او کے۔ مطلب یہ کہ جب وہ زندہ تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ خدا ہے۔ تو پھر مرنے کے بعد وہ خدا بن گیا۔ پھر کس نے اسے خدا بننے کے لئے چنا؟ تو اس نے کہا،"اوہ، ویسے یہ تو یہی طریقہ کار ہے۔ اور اس نے کہا ، "اب مورخین نے اس کی زندگی اور خدمات ، کا جائزہ لیا ہے۔ ٹھیک ہے، اس شخص کی سوسائٹی اور ملک کے لیے بہت سی خدمات ہیں۔ تو اسی وجہ سے انہوں نے اسے خدا بنا دیا۔ لیکن پھر میں ایک اور سوال پوچھتا ہوں ، "اگر ایسا ہے تو آپ لوگ ان کی عبادت کیوں نہیں کرتے جنہوں نے اسے خدا بنایا؟ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس کسی کو خدا بنانے کی طاقت ہے۔ میں مثال کے طور پر کہتا ہوں ، اگر میں آپ کو ہائراور فائر کرسکتا ہوں، اپنی کمپنی کے سی ای او کے طور پر، تو کون طاقتور ہوا؟ ظاہر ہے کہ میں۔ پھر آپ لوگ ان کی عبادت کیوں نہیں کرتے؟ اور اس کا انداز تھا کہ ہم نے پہلے کبھی یہ سوچا نہیں۔ لیکن فرق نہیں پڑتا۔ تو میں ایک آزاد مفکر بن گیا۔ 18 سے 22 سال کی عمر تک ۔ چار سال، مکمل۔ پورے چار سال۔ میں نے اپنی زندگی سے بھر پور لطف اٹھایا۔ ایک غیر مسلم کی حیثیت سے۔ کیسے لطف اٹھایا؟ ویل، آپ حیران ہوں گے۔ ہر ہفتے میں کلب جاتا اور پب بھی جاتا، کم سے کم تین دفعہ۔ میرے وہاں جانے کی وجہ یہ تھی کہ اپنے دل کے خالی پن کو دور کرسکوں۔ مگر مجھے وہاں تکمیل نہیں ملی۔ لیکن میں جتنا زیادہ جاتا، مجھے اس مخصوص دن ہی سکون ملتا، لیکن اگلے دن پھر وہی خالی پن۔ اب ، ہر بار جب میں جاتا، وہ خالی پن اتنا ہی بھرتا۔ لیکن مجھے احساس نہ تھا کہ پیمانہ بڑا ہو گیا ہے۔ مطلب خالی پن کی جگہ اور بڑی ہو گئی ہے۔ اور اس کو بھرنے کے لیے جو پانی میسر تھا اب وہ کافی نہ تھا۔ تو خالی پن زیادہ ہوتا گیا۔ لہذا ، میں نے صرف اچھا انسان بننے کی کوشش کی۔ اس وقت تک جب میں 22 سال کا تھا۔ تو مجھے ایک چوٹ لگی اور پھر میں مغربی ملائشیا چلا گیا۔ میں تنہا تھا اور میری زندگی وہاں بہت تنہا تھی۔ اور یہی وہ جگہ تھی جہاں مجھے سوچنے کا موقع ملا۔ اپنی زندگی کے بارے میں۔ میں نے خود پر سوال اٹھائے۔ کہ دراصل،میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور مجھے آخر کیا کرنا چاہئے؟ کیا میری زندگی یہی ہے کہ بس کام کرنا، سونا ، کھانا ، لطف اٹھانا ، شادی کرنا ، بچے ہونا ، اور بوڑھے ہو کے مر جانا؟ پھر مجھ میں اور جنگل کے بندر میں فرق کیا ہوا؟ کوئی فرق نہیں۔ تو میرے پاس سوالات تھے ، لیکن مجھ میں نتیجہ اخذ کرنے کی ہمت نہ تھی۔ تو پھر میں نے اپنے دوست سے پوچھا جو کہ ایک مسلمان تھا۔ "بھائی،چینی کی حیثیت سے، آپ جانتے ہیں کہ پہلے جو ہمارے سامنے خدا کا مجسمہ تھا، ہم اس کو پوجتے ہیں۔ تو یہ بتائیں کہ مسلمان کس کو پوجتے ہیں؟ اور اس نے جواب دیا ،"ہم خدا کو پوجتے ہیں۔ تو میں نے دائیں اور بائیں دیکھا۔ "تمہارا خدا کہاں ہے؟ مجھے تو نظر نہیں آ رہا۔ اور پھر اس نے کہا ، "نہیں، خدا موجود ہے ، لیکن آپ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ میں نے کہا ، "یہ کیا بات ہوئی؟ یقین تو دیکھنے سے ہی آتا ہے۔ اگر میں کسی کو نہیں دیکھ سکتا، تو یقین کیسے کروں؟ پھر اس نے مجھے ایک مثال دی۔ اور اس نے کہا ، "اسے اس طرح رکھو۔ کیا ہوا محسوس ہوتی ہے؟ " میں نے کہا ، "ہاں، ہوتی ہے۔ "کیا آپ ہوا دیکھ سکتے ہیں؟ میں نے کہا ، "ارے بھائی ، درخت کو دیکھو ، شاخوں کو دیکھو ، اور ذرا پتوں کو دیکھو۔ سب حرکت میں ہیں۔ یہی ہوا ہے!

اور کس ثبوت کی ضرورت ہے؟ اس نے کہا ، "نہیں۔ وہ چیزیں جو آپ دیکھتے ہیں وہ بذاتِ خود ہوا نہیں ہے۔ بلکہ ہوا کا اثر ہے۔ یہ خود ہوا نہیں ہے۔ اور پھر میں ٹھہر سا گیا اور سوچنا شروع کیا۔ او کے، ٹھیک ہے۔ یہ بات تو سمجھ میں آگئی لیکن مجھے جواب نہیں ملا، "خدا کون ہے؟" اور پھر اس نے کہا کہ۔ اب ، ذرا تصور کرو۔ یہی وہ ہوا ہے جو خدا نے پیدا کی ہے۔ پھر بھی آپ ہوا کو دیکھ نہیں سکتے ، لیکن اثر دیکھ سکتے ہیں اور آپ ہوا کے اڑنے کو محسوس کرسکتے ہیں۔ پھر آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ اس خدا کو دیکھ سکتے ہیں جس نے ہوا کو پیدا کیا؟ آپ کو اس کا وجود محسوس ہوتا ہے۔ آپ کو اس کی موجودگی محسوس ہوتی ہے اور آپ اس دنیا میں تخلیقات کے لحاظ سے اثر دیکھ سکتے ہیں۔ میرا دل اندر سے کہتا، ، "ہمم۔ یہ خدا مجھے لوجیکل لگتا ہے۔ اب تک کی بہترین وضاحت تھی، ٹھیک ہے اوکے، ہاں۔ اور اس دوران میں نے اپنا ذہن بنایا۔ یہی خدا ہے جو میرے خیال میں ہے- اس دوران بھی میں "میرے خیال میں" کہہ رہا تھا۔ میرے خیال میں یہ صحیح خدا ہے۔ خدا کے اس تصور نے پہلے ہی ان معیارات کو پورا کردیا جو میں چاہتا ہوں۔ مجھے دوسری کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ نہ ہی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس دوران زیادہ تر مذاہب جو میں جانتا تھا ان میں خدا کا تصور محض انسان یا جانور کی شکل میں تھا۔ میں نے کہا میں کسی انسان کی پوجا نہیں کرسکتا۔ میں کبھی انسان کی پوجا نہیں کروں گا۔ اور کبھی بھی کسی جانور کی، کسی بندر یا جو بھی آپ انہیں پکاریں ، پوجا نہیں کروں گا کیونکہ میں پہلے بھی نہیں کرتا تھا اور یہ وضاحت پہلے ہی میرے معیار کے مطابق تھی جو میرے ذہن میں تھی، ایک لوجیکل معیار جب تک آپ یہ ثابت نہ کر دیں کہ خدا کے بارے میں میرا معیار ‏لوجیکل نہیں ہے ، میں بدل نہیں سکتا۔ بالکل بھی نہیں۔ تو میں مسلمان ہو گیا۔ میں نے کبھی قرآن نہیں پڑھا۔ نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جانتا تھا۔ یہ صرف اس لیے نہیں تھا کہ میں جنت میں جانا چاہتا ہوں۔ سچ کہوں تو مجھے جہنم میں جانے کا زیادہ خوف تھا۔ تو مجھے جہنم سے دور رہنے کے لئے ، ضرور جاننا چاہئے کہ میرا خدا کون ہے اور وہ کیا چاہتا ہے مجھ سے؟ میں نے جہنم کی آگ کی سزا سے بچنے کی خاطر۔ بلآخر میں نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کرلیا، لیکن اس سے پہلے، میں نے اپنی ماں کو فون کیا۔ میں سراواک میں تھا۔ تو میں نے انہیں فون کر کے سب کچھ بتا دیا۔ کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں اور کب کے-ایل واپس آؤں گا۔ اور پھر میں نے سب سے اہم بات آخر میں کی۔ میں نے کہا ، "مام ، جب میں کے-ایل واپس آؤں گا تو میں بھی مسلمان ہو جاؤں گا۔ اور اس دوران صرف تھی، ایک لمبی خاموشی۔ اسی لمبی خاموشی کے بعد آخر کار انہوں نے جواب دیا ، "تمہاری مرضی"۔ لیکن یاد رکھو، مذہب کو مذاق نہ سمجھنا۔ اسے سریس لینا۔ ٹھیک ہے؟ "میں نے کہا ،" مام ، میں سیریس ہوں۔ " ٹھیک ہے۔ تو میں واپس آگیا۔ لہذا اس سال 2025، میرے مسلمان ہونے کی 20 ویں سالگرہ ہے۔ اور آپ نے کلمہ کیسے پڑھا؟ کیا آپ نے کچھ محسوس کیا؟ جب آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو آپ کو کوئی اشتہار نظر نہیں آتا۔ کیونکہ Towards Eternity ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، ہم صرف آپ کی مدد سے یہ ویڈیو بنا سکتے ہیں گر آپ اس نیکی میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو ہمیں عطیہ کریں اور اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں ۔ اور آپ نے کلمہ کیسے پڑھا؟ میں نے بس کلمہِ شہادت پڑھا۔ ‏‏اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمد رسول اللہ میں کلمہ پڑھ لیتا ہوں۔ کچھ لوگ شاید یہ پوچھیں،"کیا آپ کو لگا جیسے کوئی بوجھ اتر گیا ہو؟ مجھے کچھ محسوس نہیں ہوا۔ بس یہی ہوا کہ، اوہ، ہو گيا؟ بس یہی تھا؟ یہی تھا، اوکے۔ جس دن میں نے کلمہ پڑھا ، اس دن سے میں نے ہر اس حرام کام کو بلکل چھوڑ دیا، جو اسلام میں منع کیا گیا ہے۔ تو میرے لئے یہ زیادہ مشکل نہیں تھا، یونو۔ اسلام میں ان تمام چیزوں سے دور رہنے کا کہا گیا ہے۔ اور ہاں، 2005 میں،میں نے نماز پڑھی، روزے رکھے، زکوٰۃ و خیرات دی، اورمیں یہی کچھ جانتا تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ بات کرتے تھے جب وہ نبیِ پاک پہ درود بھیجتے تھے ، صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ کیا کہتے تھے۔ مجھے یوں لگتا تھا جیسے، وہ بڑبڑا رہے ہوں؟ یعنی مجھے سمجھ نہیں آتی تھی۔ پھر ایک دن میری ملاقات میرے ٹیچر سے ہوئی۔ جس نے مجھے دعوۃ سیکھنے اور دینے کی ترغیب دی۔ 2011 ۔ میں چھ سال بعد مسلمان بننے کے۔ لیکن اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ میں سمجھا، میرے ساتھ سکام(scam) ہو گیا ہے۔ کیونکہ ایک نو مسلم بہن نے مجھے مدعو کیا اور کہا ، "بھائی، نو مسلموں کی ایک گیدرنگ ہے ، جہاں ایک پوٹ لک ہے وہاں ہمارے پاس بہت ساری قسم کے کھانے ہوتے ہیں۔ مجھے کھانے پسند ہیں۔ تو میں کھانے کی وجہ سے راغب ہوا۔ لیکچرز کی وجہ سے نہیں۔ تو میں وہاں گیا ، میں پاٹ سے کھانا لینے ہی والا تھا کہ اس نے کہا ، "نہیں ، نہیں ، نہیں ، نہیں۔ کھانا بعد میں، پہلے لیکچر۔ ٹھیک ہے۔ تو میں نے لیکچرز سنے۔ شیخ صرف ایمان کی صفتوں اور اسلام کے ستونوں کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ بہت بنیادی موضوع۔ ہمارے تعلقات اور والدین اور فیملی کی ذمہ داریاں، جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے۔ اور پھر لیکچرز کے اختتام پہ ، مجھے ان سے بات کرنے کا موقع ملا اور میں نے ان سے پوچھا ، "شیخ، کیا آپ مجھے کچھ مشورے دے سکتے ہیں۔ مجھے مسلمان ہوئے چھ سال ہو گئے ہیں۔" انہوں نے مجھے کئی اچھے مشورے دیے، لیکن ایک چیز جو میرے ذہن میں اٹک گئی وہ یہ کہ ، "فردوس ، مسلمان کی حیثیت سے ، ہمیں دوسروں کو دعوۃ دینا چاہیے۔ انہوں نے دعوۃ کا کونسیپٹ سمجھایا۔ تو میں نے کہا ، "استاد محترم، میں ایک نو مسلم ہوں ، صرف چھ سال کا۔ میں نے اعتراف کیا،میں نے کہا کہ ، مجھے ایمان کی صفتوں کا بھی زیادہ علم نہیں ہے۔ اسلام کے ستونوں سے بھی واقف نہیں۔ مجھے بہت سی چیزیں نہیں پتہ۔ میں دعوۃ کیسے دے سکتا ہوں؟ انہوں نے کہا،"جو بھی تم جانتے ہو، صرف وہی پہنچا دو۔ چاہے ایک آیت ہی کیوں نہ ہو،اسے آگے پہنچاؤ۔ تو میں نے کہا ، "لیکن مجھے نہیں معلوم، میں واقعی نہیں جانتا!

پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا ، "جب آپ مسلمان بنے تو آپ نے کیا پڑھا؟ میں نے کہا ، "یہ میں جانتا ہوں۔ میں نے کلمہ پڑھا، یعنی کہ دو کلمے۔ " انہوں نے کہا،"ہاں۔ تو؟ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگے پہنچا دو ، چاہے ایک آیت ہو۔ یہ تو دو ہیں۔ ایک ہی پہنچا دو۔ دو شہادتیں ہیں، ایک تو پہنچاؤ۔ پھر میں نے بہترین عذر پیش کیا جو میں نے سوچا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اس دنیا کا اب تک کا بہترین عذر ہے۔ اور میں نے کہا، "یا شیخ ، اسے اس طرح سمجھیں۔ آپ دیکھیں یہاں بہت سے مسلمان ہیں، پیدائشی مسلمان۔ ان سبھی پیدائشی مسلمانوں کو دیکھیں۔ دعوۃ تو وہ بھی نہیں کرتے۔ تو میں ایک نو مسلم ہوتے ہوئے دعوۃ کیوں دوں؟ مجھے یقین تھا کہ یہ ایک بہت ہی شاندار عذر تھا۔ اور انہوں نے جو کہا وہ سیدھا میرے دل پہ لگا۔ واقعی بہت زور سے۔ انہوں نے کہا،"فردوس، قیامت کے دن اللہ آپ سے ان کے عمل کی پوچھ گچھ نہیں کرے گا کہ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ ہاں البتہ آپ سے ضرور پوچھے گا کہ آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ انہیں اللہ کے لئے جواب خود تیار کرنا ہوگا۔ اور آپ کو بھی اللہ کے لئے جواب تیار کرنا ہوگا۔ لہذا یقینی بنائیں کہ آپ کے پاس بہترین جواب ہو۔ " اس دوران میں خود سے آشنا ہوا۔ ٹھیک ہے۔ مجھے یہ کرنا ہے۔ اور میں نے سیکھنا شروع کیا۔ ہر دن میں کلاسز میں جاتا۔ میرے پہلے چھ سال بطور مسلمان، میرے پاس صرف تین اسلامی کتابیں تھیں۔ لیکن اب میرے پاس پوری ایک لائبریری تھی، یہاں ان تمام کتابوں کو خریدنے کے لئے ہزاروں خرچ کیے۔ ایک کورس میں شریک ہونے کے بعد جو چار دن کا تھا ، میں نے حیاتِ طیبہ ﷺ کے بارے میں سمجھا۔ اس لمحے میں نے جانا، کہ کون ہیں، حضرت محمد ﷺ ۔ اور مجھے واقعی محبت ہو گئی۔ اور وہ شیخ، یو ایس کے شیخ عبد الباری یحییٰ نے آخری دن کہا، "کہ اگر ہم نبیِ پاک ﷺ کی زندگی کا نچوڑ بیان کریں وہ بھی ایک لفظ میں ، تو وہ ایک لفظ ہے، دعوت۔ نبیِ پاکﷺ نے اپنی زندگی اسلام کی خاطر بسر کی۔ تو آپ اگر ان سے محبت کا دعوی کرتے ہیں تو آپ کو بھی یہی کرنا چاہئے۔ کیونکہ میں نبیِ پاک ﷺ سے پیار کرتا ہوں۔ اور میں نبیِ پاکﷺ کو جانتا ہوں۔ میری مشکلات کچھ بھی نہیں ان حالات کے سامنے، جن کا مقابلہ نبیِ پاکﷺ نے فرمایا۔ اسی لیے مجھے نبیِ پاکﷺ سے انسپریشن ملی۔ مجھے حوصلہ ملا۔ مجھے چلتے رہنے کی وجہ مل گئی۔ اگر نبیِ پاکﷺ نے ان تمام چیلنجز کے باوجود کوشش جاری رکھی۔۔۔۔ اور ہم جانتے ہیں ، حتمی مقصد اس دنیا کے بارے میں نہیں تھا۔ یہ دنیا تو آخرت کو بہتر بنانے کا ایک ذریعہ ہے۔ تو نبیِ پاک ﷺ میری انسپریشن ہیں ، میری موٹیویشن ہیں۔ اللہ کے فضل سے ، آپ بہت سے لوگوں کے ایمان کا ذریعہ بنے۔ الللہ کا شکر ہے۔ بھائی، ان میں سے کون آپ کے لئے سب سے زیادہ ناقابل فراموش تھا؟ جب میں نے اپنی مام، اپنے والدین، اپنی فیملی کو کھل کر دعوت دی ، کوئی خفیہ دعوت نہیں۔ بس بہت کھلم کھلا۔ اس کی شروعات ان کے مسلمان بننے سے کئی سال پہلے ہوئی ...

کیونکہ میں ان کی بھلائی چاہتا تھا۔ میں انہیں مسجد لایا، جہاں میں نے بات کی۔ میں انہیں لایا تاکہ وہ مسلمانوں کو دیکھیں، ان سے گھل مل سکیں۔ جب میں ہانگ کانگ گیا ، اپنی والدہ کو ساتھ لے گیا۔ تاکہ وہ ہانگ کانگ کے چینی لوگوں سے ملیں، کینٹونیز بولنے والے، جو ان کی زبان سے ملتی ہے۔ اور پھر 2019 میں ، میری مام اکثر مجھ سے پوچھتی رہتیں کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ عیدالفطر کے بعد، میں گلوبل دعوت کے لیے بیرونِ ملک جاؤں گا۔ انہوں نے پوچھا ، "تو عید الفطر کے بعد،تم کہاں جارہے ہو؟ میں نے ان کو بہت سی جگہیں بتائیں لیکن ، میں نے ایک جگہ کا ذکر خاص طور پر صرف اندازہ لگانے کے لیے کیا۔ اور میں نے کہا،"اوہ ہاں، میں مکہ جا رہا ہوں عمرے کے لیے ۔ میں مکہ جا رہا ہوں۔ میں نے بہت ساری جگہوں کو چھوڑ کر صرف مکہ کے لیے انوائٹ کیا انہیں۔ عمرے کے لیے۔ تو میں نے کہا ، "ہاں،میں جارہا ہوں، مکہ ۔ کیا آپ میرے ساتھ چلیں گی؟ انھوں نے کہا ، "ہاں ، ہاں، میں جانا چاہتی ہوں۔!

مجھے ٹریول پسند ہے، اس لیے میں ضرور جاؤں گی"۔ تب میں نے ان پر بری خبر آشکار کی۔، "مام، مگر آپ مکہ نہیں جاسکتے اگر غیر مسلم ہوں"۔ ان کے منہ سے نکلا "اوہ" ... تو میں نے اپنی مام سے کہا، آپ کو پتہ ہے میں بہت خوش ہوں۔ کہ اس دنیا میں آپ میری ماں ہیں۔ " تو انہوں نے کہا،"ہاں،میں بھی۔ اور میں جانتا تھا میری ماں نرم دل ہے۔ تو یہ جذباتی دعوت تھی۔ میں نے کہا، "مام،اگر آپ جنت میں بھی میری ماں ہوں گی تو اور بھی اچھا ہو گا۔ وہ رونے لگیں۔ انہوں نے کہا،" کہ ہاں،میں بھی یہی چاہتی ہوں۔ "لیکن مجھے سچ بتانا پڑا۔ لیکن مام، آپ جنت میں میری ماں نہیں بن سکتیں اگر آپ غیر مسلم ہیں۔"مشکل الفاظ تھے ، لیکن مجھے بتانا تھا۔ اور وہ بالکل خاموش ہو گئیں۔ کوئی جواب ، کچھ نہیں۔ وہ صرف ...

مجھے خود نہیں پتہ کہ اس وقت میرے الفاظ نے انھیں تکلیف دی یا نہیں یا انہیں رلایا۔ میں چاہتا تھا کہ وہ سوچیں۔ میں صرف اس گفتگو کی بنیاد بنانا چاہتا تھا۔ کہ ان سے اسلام کے بارے میں بات کرتا رہوں ، اسلام ، اسلام ، اسلام۔ اور میں نے ان میں تبدیلیاں دیکھنا شروع کیں۔ تبدیلی مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے اسلام پہ عمل شروع کردیا ، تبدیلی یہ تھی کہ اب وہ بدھ ازم پہ ویسی عمل پیرا نہ رہیں۔ انہوں نے کچھ رسمیں چھوڑدی جس کی وہ پیروی کرتی تھیں۔ کچھ رسمیں جو وہ فالو کرتی تھیں۔ تو میں اثرات محسوس کر رہا تھا۔ لیکن ایک دن، میلبورن سے واپس آنے کے بعد میں نے انھیں کال کی۔ اور کہا،"مام ، میں مکہ جا رہا ہوں دسمبر کے شروع میں۔ کیا آپ میرے ساتھ مکہ جانا چاہتی ہیں یا نہیں؟ "ہاں بلکل میں جانا چاہتی ہوں!

"لیکن مام، میں نے آپ کو بتایا تھا،رائٹ؟ اگر آپ غیر مسلم ہیں تو آپ نہیں جاسکتیں۔ ہممم۔۔ انہوں نے صرف اتنا کہا،"پھر ٹھیک ہے۔ میں نے کہا،"ٹھیک کا کیا مطلب ہے؟" "ہاں،چلو مسلمان بن جاتے ہیں۔ الحمدللہ (تمام تعریف اللہ کے لیے ہے)۔ پھر میں نے ان سے پوچھا ، "کب؟ کیا آج آج ہی؟ انہوں نے کہا،"نہیں بھئی، مجھے تیاری کرنی ہے۔ پھر میں اُنہیں جمعہ، 24 اکتوبر 2019 کو ساتھ لے آیا۔ جیسا کہ میں کہتا ہوں، میں نے سینکڑوں یا شاید ہزاروں کلمے پڑھائے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ شہادۃ کے بعد کیا کہنا ہے۔ لیکن جب میں نے اپنی ہی ماں کی شہادت لی، میں کچھ سُن سا ہو گیا۔ جب تک کہ میرے سٹاف نے مجھے سگنل نہ دے دیا ...

پھر میں نے انہیں گلے لگایا۔ اور جب میں انہیں گلے لگایا ، تو میرا ضبط ٹوٹ گیا اور میں رو پڑا۔ کیونکہ یہ وہ عورت تھی جس نے مجھے جنم دیا،بڑا کیا۔ اور یہاں تک کہ وہ میرے ساتھ مسلمان ہو گئی ہے۔ اور اسی دن، میرے ایک دوسرے رشتہ دار نے جو پہلے ہی مسلمان ہو گیا تھا میری ماں کو کال کر کے پوچھا ، "آنٹی،آپ کیوں مسلمان ہوئیں؟ تب میری ماں نے کہا،"ایک تو میں نے اپنے بیٹے میں تبدیلیاں دیکھیں، مجھ میں۔ وہ زیادہ صابر اور بہت زیادہ ذمہ دار بن گیا ہے۔ میں نے اپنی بہو اور پوتے پوتیوں کو دیکھا ، سب بہت احترام کرتے ہیں۔ تو وہیں سے ...

" اور یہ بھی کہ ، مجھے یقین ہے کہ یہ سچ ہے۔ مسلمان بننے کے بعد سب سے پہلی بات انہوں نے مجھ سے پوچھی وہ یہ تھی ، "کتنی بار نماز پڑھنی ہے؟ کیسے پڑھنی ہے؟ کس طرح کرنا ہے؟ کچھ دن پہلے تک وہ بدھ مت کی پریکٹس کرتی تھیں۔ لیکن شہادت کے بعد انہوں نے سب حرام چھوڑ دیا ، انہوں نے وہ تعلیمات چھوڑ دیں اور فورا مجھ سے پوچھا کہ کیسے؟ مجھے یقین ہو گیا انہیں دیکھ کر کہ یہ رویہ مجھے انہی سے ملا ہے۔ اور حیرت انگیز طور پر، وہ جو گھٹنوں کے درد میں مبتلا تھیں۔ لیکن جب ہم مکہ پہنچے، عمرے کے لیے، طواف اور سعی کے لئے ، یہاں تک کہ ہم جیسے نوجوانوں کو تکلیف محسوس ہوئی۔ لیکن انہیں طواف کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ سعی کرنے میں بھی۔ اور دو ماہ کی نو مسلم ہونے کے ناطے ، انہوں نے میری بیوی اور بچوں کو بھی ساتھ لیا۔ انہیں فجر کے لئے جگاتیں اور مسجد الحرام لے کے جاتیں۔ یہ میرے لئے ایسا تھا کہ بس ، اللہ کا بہت کرم ہے۔ ہاں، سُبْحَانَ الله۔ یہ بتائیے نروانا ٹرم کا کیا مطلب ہے؟ نروانا مرنے کے بعد ایک جگہ کو کہتے ہیں جہاں ایک بدھسٹ کو ، مرنے کے بعد سکون ملے گا۔ موجودہ دنیا وہ ہے جسے وہ سمسارا کہتے ہیں۔ سمسارا وہی ہے جسے ہم سرکل اور سائیکل آف سفرنگ بھی کہتے ہیں۔ لہذا اس سمسارا سے نکلنے کے لئے آپ کو بدھ ازم پہ عمل کرنا ہوگا ، اسے "چار عظیم سچائیاں" کہتے ہیں۔ ان چار عظیم سچائیوں میں بدھا نے خود کو تلاش کیا۔ انہیں کیا ملا؟ انہیں پتہ چلا کہ اس دنیا میں "دُکھا" ہے۔ دُکھا کا مطلب ہے کہ اس دنیا میں تکلیف ہے۔ اب اس تکلیف کی وجہ کیا ہے؟ پھر آپ دوسری عظیم سچائی پر جاتے ہیں، جو خواہش سے ماخوذ ہے۔ وہ چیز رکھنے کی خواہش جو آپ نہیں حاصل کر سکے۔ لہذا ختم کرنے کے لئے دُکھا ، جو کہ تکلیف ہے ، آپ کو خواہش کو ختم کرنا ہوگا۔ خواہش کو کیسے ختم کریں؟ چار، آپ کو ہشت پہلو راستہ فالو کرنا ہوگا۔ ہشت پہلو راستے کا ایک حصہ صحیح نظر، صحیح سوچ ، صحیح کلام ، صحیح ذہنیت،صحیح عمل ہے۔ اب جب ہم اس ہشت پہلو راستے پر غور کرتے ہیں ، ذاتی طور پر جب میں اس پر غور کرتا ہوں، قدر کے حساب سے ، تو اسلام میں جو کچھ ہے یہ اس سے بالکل ملتا جلتا ہے۔ مثال کے طور پر، صحیح نظر،صحیح سوچ، صحیح عمل۔ اب صحیح کلام وہ ہے جو نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ پر یقین رکھتے ہیں اور آخرت پہ ، اچھی بات کریں یا خاموش رہیں۔ تو صحیح کلام۔ صحیح اعمال۔ اب اگر آپ کی نیت اچھی ہے ، انما الاعمال بالنيات اگر آپ کی نیک نیت ہے ، اس کی پیروی بھی صحیح اعمال کے ساتھ ہونی چاہئے۔ لہذا جب ہشت پہلو راستے پر نظر ڈالیں ، بنیادی طور پر میں اسے کافی اسلامی بھی کہوں گا۔ لیکن اس کے علاوہ، ان کے پاس کچھ ہے جسے کہتے ہیں، پانچ اصول اور یہ کم سے کم پیمانہ ہے جس پر بدھسٹ کو عمل کرنا چاہئے۔ پانچ احکامات: کسی کو نہ ماریں، جھوٹ نہ بولیں، زنا نہ کریں ، شراب نہ پیئیں، اوکے، اور جوا نہ کھیلیں۔ جب ہم اس پر غور کرتے ہیں، کیا یہ بالکل ہمارے مقاصد شریعت سے مماثل نہیں لگتا ہے ؟ جو کہ زندگی کی،دولت کی،اپنے ذہن اور عقل کی حفاظت کے لیے، یو نو،اپنی اگلی نسل، کی حفاظت کے لیے۔ یہ سب ہے۔ تو بنیادی طور پر،بدھ ازم خود بھی جس اقدار کی بنیاد پر قائم ہے، وہ اسلامی تعلیمات کے بہت قریب ہے۔ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ ہم جس جواب کی تلاش کر رہے ہیں وہ دوبارہ جنم لینا نہیں ہے بلکہ آخرت پہ یقین ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ دوسرا جنم ایک ایسا تصور ہے جہاں اگر آپ اس دنیا میں اچھے ، کرما جمع کرتے ہیں،ان کے پاس سمسارا ہے،سمسارا یاد کریں، سائیکل،سرکل آف سفرنگ۔ یہ دوسرا جنم ہے جہاں مثلاً ، اب ہم انسان کے حلیے میں ہیں۔ اور پھر جانوروں کے روپ میں آ جاتے ہیں۔ آپ کو گوسٹ کا روپ ملتا ہے۔ پھر آپ کو دیوی کا روپ ملتا ہے۔ پھر آپ کے پاس نروانا ہے، آپ کو ...

آپ اس سرکل سے باہر ہو ، رائٹ؟ پھر دیوی ہے، اب آپ بلند ہیں۔ پھر بدھا آتا ہے۔ بدھا وہ شخص ہے جس نے حکمت کے نور کو پالیا ہے۔ پھر آپ کے پاس بودھی ستوا ہے۔ کچھ بدھسٹ اسکالر دوبارہ جنم لینے کو یہ سمجھتے ہیں جیسے کوئی روح کے بغیر دوبارہ پیدا ہو۔ کیونکہ ان کے مطابق ، انسان کی روح نہیں ہے۔ کوئی خدا اور کوئی روح نہیں ہے۔ جب میں نے بہت سے بدھسٹ کو یہ بتایا تو وہ حیران رہ گئے ۔ یہاں تک کہ میرے والد بھی ، میں نے کچھ بدھسٹ سکالرز کو دعوت دی کہ وہ مجھ آ کر سے بات کریں۔ میں نے کچھ سوال پوچھے۔ تب میں نے اپنے والد سے کہا ، "ڈیڈ، جانتے ہیں، بدھ مت میں کوئی خدا نہیں ہے؟ انہوں نے کہا، نہیں ہم بدھسٹ خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ بدھا خدا ہے۔ میں نے کہا ، "ٹھیک ہے،آپ مجھ پر یقین نہ کریں۔ ،"آپ اپنے دوست سے کیوں نہیں سمجھتے جو اسکالر ہے،آئیے ایک کپ ساتھ پیتے ہیں۔ پھر ہم نے اس ملاقات کا بندوبست کیا اور میں نے پوچھا ، "میرے والد کہتے ہیں کہ وہ خدا پر یقین رکھتے ہیں اور یہ کہ بدھا خدا ہے۔ آپ کیا کہیں گے بدھسٹ اسکالر کی حیثیت سے ؟ اس نے کہا،"نہیں۔ بدھ ازم میں ہم خدا پر یقین نہیں رکھتے، خدا کے تصور پہ بات نہیں کرتے " میں نے اپنے والد کی طرف دیکھا۔ اور کہا، دیکھا؟ میں نے کہا تھا ناں۔ "اور انکل، میں آپ سے ایک اور سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ بدھ ازم میں کیا آپ روح پر یقین رکھتے ہیں؟ اور اس نے کہا،"نہیں بدھ ازم میں ہم روح پہ یقین نہیں رکھتے۔" تو میں نے اپنے والد کی طرف پھرسے دیکھا۔ "دیکھا؟ میں نے کہا تھا ناں۔ کچھ بدھسٹ اسکالر جیسے میرے والد کے دوست کہتے ہیں، "نہیں بلکل نہیں ، دوسرا جنم ایک چنگاری کی طرح ہے۔" ان کے مطابق لیکن دوسرے لوگوں، دوسرے گروپس کے لیے، وہ کہیں گے دوسرا جنم وہ جگہ ہے جہاں آپ کی روح منتقل ہوتی ہے۔ جب آپ دوبارہ جنم لینے یا پنر جنم کے پورے تصور کو دیکھیں۔ مطلب یہ کہ اس دنیا میں آپ کو اچھے کرما جمع کرنے ہوں گے۔ تاکہ آپ کو اگلے جنم میں بہتر زندگی ملے۔ جب تک کہ آپ سمسارا سے باہر نہ ہو جائیں۔ اب مسئلہ کیا ہے؟ میں نے یہ سوال ایک بدھسٹ سکالر سے پوچھا کہ وہ انتقال کر گیا ہے۔ اگر اس کے کرما اس دنیا میں خراب ہیں، تو مرنے کے بعد، وہ جانور کے روپ میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ شاید کوئی چوہا، ٹائیگر یا کچھ بھی۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں۔ اگر کوئی شخص جانوروں کی دنیا میں پیدا ہو تو وہ اچھا کرما کیسے جمع کر سکتا ہے تاکہ اس جانوروں کی دنیا سے نکل کر بہتر دنیا میں دوبارہ جنم لے سکے؟ ایک چوہا کیسے پنیر چوری کرنا چھوڑ دے؟ شیر، ٹائیگر یا پھر دوسرے شکاری خوراک کی خاطر جانوروں کا شکار کرنا کیسے چھوڑدیں ؟ اس نے مجھے جواب دیا ، اوہ اچھا،بنیادی طور پر پانچ اصول جانوروں والے روپ پر لاگو نہیں ہوتے ہیں۔ اس کے پاس جواب تھا، لیکن میں نے کہا، "ٹھیک ہے،یہ اس کا جواب ہے۔ لیکن کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ بدھ ازم کی کون سی کتاب ایسا کہتی ہے؟ میں ثبوت کے لئے پوچھ رہا تھا۔ جو اس نے مجھے نہیں دیا۔ تو یہ وہ حصہ ہے جہاں ایسا لگتا ہے کہ ایک سے زیادہ مواقع اچھے ہیں ، لیکن اصل میں نہیں۔ ایک موقع جہاں آپ کے پاس واضح رہنمائی ہے۔ یعنی قرآن ایک واضح رہنمائی اس پر عمل آسان ہے۔ لیکن آج کل بہت سے لوگ اپنے پاس موجود شواہد کی صداقت کی پرواہ نہیں کرتے۔ آپ اس سے کیا کہیں گے جو کہتا ہے کہ مجھے بدھ ازم پر عمل کر کے روحانیت اور سکون ملتا ہے۔ مجھے کسی نئی چیز کی ضرورت نہیں۔ اوکے۔ بدھ ازم پہ عمل کر کے بھی آپ کو امن اور سکون مل سکتا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ،کیا آپ صرف اور صرف کچھ اچھے کی تلاش میں ہیں؟ یا آپ کو اچھا اور درست دونوں کا کمبینیشن چاہیے ہیں؟ اگر آپ کو اچھا چاہیے، تو پھر بدھسٹ بننے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بدھسٹ نہیں، جو آزاد مفکر ہیں ، وہ اپنی زندگی بھی انجوائے کرتے ہیں۔ اور سکون بھی ہے۔ یہ ہمیشہ اچھی چیزیں کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔ لیکن اگر میں یہی سوال آپ سے پوچھوں؟ ہم نے دیکھا کہ کسی کو دل کا دورہ پڑا ہے۔ ہماری اچھی نیت اس کی مدد کی ہے۔ تو ہم کیا کرتے ہیں، ہم ایک چاقو لے کر اس کی جان بجانے کے لیے اس کا سینہ کھول دیتے ہیں۔ کیا یہ ایک اچھا عمل ہے؟ اچھی نیت،لیکن غلط عمل۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں۔ اور حقیقت میں،ہم پر عدالت میں الزام قتل عائد ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم یہ کہہ کر جج کے سامنے بحث نہیں کرسکتے ہیں، کہ یور آنر، میری نیت تو اسے بچانے کی تھی۔ "اچھا لیکن آپ نے اسے بچانے کے لیے درست سازوسامان اور ایمبولینس کا انتظار کیوں نہیں کیا؟ آپ کو اس کا سینہ کھولنے کی ضرورت کیوں ہوئی؟ "نہیں نہیں ، میری نیت سے فرق پڑتا ہے۔ بلکل نہیں۔ غلط اعمال کے ساتھ اچھے ارادے پر غور نہیں کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ بدھسٹ اور چینیوں کے لئے، ہر کوئی جو صرف اچھا کام کرتے ہیں۔ نہیں۔ صرف اچھا کافی نہیں ہے۔ آپ کو صحیح بھی ہونا پڑے گا،یوں سمجھیے مستند۔ نبیِ پاک ﷺ کے بارے میں آپ کو کس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟ واؤ،میں کہوں گا ثابت قدمی۔ لفظ ثابت قدمی۔ مجھے نبیِ پاک ﷺ کے ساتھ ہونے والے واقعے میں نبیِ پاک ﷺ کی دانشمندی ملتی ہے۔ ہر اس بات میں جو وقوع پذیر ہوئی۔ اور میں نے ہمیشہ رد عمل کے بجائے نبیِ پاک ﷺ کے جواب کو دیکھا۔ میں ہمیشہ ان دونوں میں فرق کرتا ہوں۔ رد عمل جذباتی ہے۔ جواب عقلی ہے۔ جس طرح سے نبیِ پاک ﷺ ہمیشہ جواب دیتے ہیں،رد عمل نہیں۔ یہ ایک کیلکولیٹڈ موو ہے۔ اور ثابت قدمی۔ میں ثابت قدمی کیوں کہوں گا؟ نبیِ پاک ﷺ اس کی بہترین مثال ہیں۔ اگر اس دنیا میں کوئی ماہر نفسیات ثابت قدم دماغ رکھنے کے بارے میں مطالعہ کرنا چاہیں تو ، نبیِ پاک ﷺ سے بہترین مثال نہیں مل سکتی آپ کو۔ ان کو دیکھیں۔ آپﷺ کے والد کا آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی انتقال ہوگیا۔ باپ کے بغیر یتیم پیدا ہوئے۔ اور پھر بعد میں ماں کا انتقال ہوگیا۔ اور پھر آپ ﷺ کے دادا ،اور پھر آپﷺ کی دیکھ بھال آپ ﷺ کے چچا نے کی۔ آپ قریش کو دیکھیں۔ انہوں نے بیسیوں سازشیں کیں حضرت محمد مصطفٰیﷺ کے خلاف اور آپ ﷺ کے خلاف ان کی سازشوں کا ایک بڑا نمبر ہی آپ ﷺ کے عقلی جواب کا گواہ ہے۔ کیوں؟ کیونکہ نبیِ پاک ﷺکے خلاف ان کی ایک کے بعد ایک تدبیر آپﷺ نے آسانی سے ناکام بنا دی۔ آپﷺ جانتے تھے کہ کیا کرنا ہے۔ آپﷺ کا مقصد واضح ہے۔ آپﷺ ثابت قدم ہیں۔ لوگ جو بھی کہتے، آپﷺ نے پرواہ نہیں کی۔ اور یہی وجہ ہے کہ ایک کے بعد دوسرے ہتھکنڈے نبیِ پاک ﷺ نے اپنی تدبیر سے ایسے ناکام بنائے۔ کہ اگلی دفعہ انہیں نئی سازش کے ساتھ آنا پڑتا۔ حقیقت یہ ہے کہ انہیں خاص مقام پر رکنا پڑتا ہے،اس لئے نہیں کہ یہ کام کرگیا ، بلکہ اس لیے کہ وہ ہار مان گئے۔ آپﷺ کے اردگرد لوگوں کا ایک گروپ تھا جو آپﷺ پر ہر طرف سے حملہ آور تھا اور پھر بھی آپﷺ ثابت قدم رہے۔ انہیں آپ ﷺ کے سامنے ہارماننا ہی تھی۔ اگر یہ ثابت قدمی نہیں تو اور کیا ہے؟ تمام مشکلات کے باوجود آپ ﷺ کھڑے رہے۔ اور ظاہر ہے، ضروری نہیں کہ ہم اس سے اتفاق کریں ، لیکن مائیکل ہارٹ نے یہ قبول کرلیا اور آپﷺ کو تاریخ کا سب سے زیادہ بااثر شخص منتخب کیا۔ اپنے رب اور نجات دہندہ یسوع سے بھی زیادہ۔ اس کے مطابق وہ ایک عیسائی ہے۔ لیکن پھر بھی وہ یسوع کو تاریخ کا سب سے زیادہ بااثر شخص منتخب نہیں کرتا ہے۔ اس نے پھر بھی نبیِ پاک ﷺ کا انتخاب کیا۔ کیونکہ آپﷺ ہر زاویے سے کامیاب شخصیت ہیں۔ فوجی رہنما کے طور پر،سیاسی رہنما کے طور پر،باپ کے طور پر ، شوہر کے طور پر ، دوست کے طور پر، ہر زاویے سے۔ کوئی بھی کبھی کامیاب نہیں ہوا، آج تک، اور ان شاء اللہ، قیامت تک ، کوئی بھی ان قدموں کی پیروی نہیں کر سکے گا۔ کوئی نہیں۔ اگر دنیا کے تمام غیر مسلموں سے بات کرنے کا موقع ملے ، خاص طور پر چینی غیر مسلمز سے تو کیا کہنا چاہیں گے؟ میں سب کو بتاؤں گا، اگر آپ کے پاس یہی واحد زندگی ہے ...

بے شک شاید آپ جوا کھیل رہے ہوں۔ جوا اس سینس میں ہے آپ کو یہ یقین ہو کہ ، "نہیں، مجھے یقین ہے کہ ہم یہاں دوبارہ جنم لینے والے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ پنر جنم ہے۔ یعنی آپ دوبارہ پیدا ہونگے۔ " آپ اس پر یقین رکھ سکتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی اپنے بیان پر سوال اٹھایا؟ ہمارے پاس ہمیشہ بڑے سوال کا سامنا کرنے کی ہمت اور گٹس ہونے چاہییں۔ جو کہ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے بھی۔ لیکن کیا ہمارے اندر یہ ہمت ہے؟ کہ اپنے ہی سوال پر اور اپنے بیان پر سوال اٹھائیں؟ یہ سوال کہ ہم اس نتیجے پر کیسے پہنچے؟ اب ذرا تصور کریں،اگر آپ یہ خطرہ مول نہیں لیتے ، آپ اس میں بولی لگا رہے ہیں کہ اس زندگی کے بعد پنر جنم ہے۔ لیکن میرا آپ سے سوال ہے، کہ کیا ہو کہ آپ کا مفروضہ غلط اور میرا درست ثابت ہو؟ کہ یہ واحد زندگی ہے،یہ واحد دنیا ہے ، اور ٹھیک اس کے بعد صرف جنت اور جہنم ہیں۔ اب اگر آپ اس ٹیسٹ میں فیل ہوتے ہیں تو، آپ کہتے ہیں،"ٹھیک ہے،میں جہنم جاسکتا ہوں۔ اور آپ کو لگتا ہے کہ جہنم میں جانا کچھ خوشگوار ہے؟ نہیں ، یہ نہیں ہے۔ آپ اس دنیا کی آگ اور گرمی کا سامنا نہیں کر سکتے، بہت تکلیف دہ ہوتی ہے ، آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ وہاں بچ جائیں گے اور جہنم میں لطف اٹھائیں گے؟ تو اپنے آپ کو موقع دیں۔ اپنے ذہن کو مقصد کے ساتھ اسلام کی تحقیق اور موازنہ کرنے پہ آمادہ کریں۔ جذباتی طور پر نہیں۔ اگر آپ اب بھی اسی طرح اس زندگی سے لطف اٹھانا چاہتے ہیں ، تو صرف دو درد ہیں۔ افسوس کا درد یا ایک مسلمان کی حیثیت سے ڈسپلن کا درد جس پر ان شاء اللہ، آپ جنت میں جائیں گے۔ تو گیند آپ کے کورٹ میں ہے۔ سوچیں، سوچیں ، سوچیں۔ تحقیق کریں، لوجیکلی اور ریشنلی۔ اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ سبحانہ و تعالی رہنمائی کریں آپ کی ، وہ جو مخلص ہیں ، وہ لوگ جو سچائی کے متلاشی ہیں۔