“Nafrat Mein Maine Aik Musalman Ki Naak Aur Pasli T*r Di” – Brazilian Ne Islam Qabool Kiya
تاریخ اشاعت
میں ایک کیتھولک اور بدھ مت خاندان سے ہوں، میں نے پہلی بار اسلام کے بارے میں 9/11 کے واقعے کے دوران سنا تھا۔ مسلمان دہشت گرد تھے۔ مسلمان خطرناک تھے۔ محمد نام کا ایک لڑکا تھا جو مجھے کچھ زیادہ ہی زچ کر رہا تھا، "سنو بھائی، تم غلط بندے سے پنگا لے رہے ہو، اور اوپر سے تم ایک مسلمان بھی ہو۔ تو چلو میں تمہیں تمہاری اوقات بتاتا ہوں۔" میں نے اس کی دونوں آنکھیں سُجا دیں، اس کی ناک توڑ دی اور اس کی ایک پسلی بھی توڑ دی۔ اس کی شرٹ پر ہر طرف خون ہی خون تھا۔ "ہم آپ کو اپنے ولیمے کی دعوت دے رہے ہیں جو مراکش میں ہماری شادی کی تقریب ہے، مزید یہ کہ وہ اپنے شوہر کو بھی ساتھ لائی تھی، جس کا نام سیمو محمد تھا، ایک لمبی داڑھی والے داعی، یعنی لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے میں ماہر تھے۔ اور میں وہاں بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہا تھا اور چینل بدل رہا تھا۔ شاید رات کے کوئی تین بج رہے تھے۔ مجھے ان بھائی کے اٹھنے کی آواز آئی۔ اور جیسے ہی میں نے "اللہ اکبر" سنا۔۔۔ تو جیسے وہیں جم گیا۔ میں خوف کے مارے سہم گیا۔ کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ "اللہ اکبر" کے بعد کیا ہوتا ہے: کہ اب کوئی دھماکہ ہو گا۔ سیمو محمد کا سایہ آہستہ آہستہ بڑا ہو رہا تھا، اور مجھے فرش چرچرانے کی آوازیں آ رہی تھیں کیونکہ وہ میری طرف بڑھ رہے تھے۔ اور مجھے یاد ہے ان کا بڑا سا ہاتھ آگے بڑھا، اور میری طرف آ رہا تھا۔ جب میں مراکش سے واپس آیا تو اسلام کے لیے میرا جوش و جذبہ دس گنا بڑھ چکا تھا۔ اگر کوئی قرآن کے بارے میں فضول بات کرتا، تو میں کہتا، "تم نے آخری بار یہ کتاب کب کھولی تھی؟ کبھی نہیں!
تو اپنا منہ بند رکھو۔" فلم ختم ہوتے ہی میں نے اسامہ کو کال کی اور اس سے کہا، "اسامہ!
سنو بھائی، میں اب مسلمان ہو گیا ہوں۔" السلام علیکم، ایڈوارڈو۔ ٹُوارڈز اِٹرنٹی میں ہمارے ساتھ شریک ہونے کا بہت شکریہ۔ آپ کو اپنے ساتھ پا کر ہمیں بہت خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ مجھے مدعو کرنے کے لیےشکریہ، میں یہاں سے شروع کرنا چاہتا ہوں: ایڈوارڈو ڈوس اینجوس کون ہیں؟ کیا آپ اپنی زندگی کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟ میں برازیل میں پیدا ہوا تھا اور دو سال کی عمر میں کینیڈا منتقل ہو گیا تھا۔ میں کیتھولک اور بدھ مت کے ملے جلے خاندان سے ہوں، اور میں مسلمانوں سے نفرت کرتے ہوئے بڑا ہوا۔ اور پھر بالآخر، مجھے اسلام سے محبت ہو گئی۔ عقیدے کے لحاظ سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کن باتوں پر یقین رکھتے تھے؟ ہاں تو،میں ایک برازیلی کیتھولک خاندان سے ہوں۔ جبکہ میرے والد، مذہب پر کچھ زیادہ عمل کرنے والے کیتھولک تھے، لیکن بس اس حد تک کہ اتوار کو چرچ چلے جانا اور باقی پورا ہفتہ بھول جانا کہ وہ کیتھولک ہیں۔ چونکہ میری والدہ بدھ مت تھیں، اس لیے گھر میں بدھ مت کا بھی کچھ اثر موجود تھا۔ تو جہاں تک عقیدے کا تعلق تھا، میرے والد نے کچھ ملا جلا نظام بنا رکھا تھا، انہوں نے مختلف مذہبی نظریات کو آپس میں ملا دیا تھا۔ سچ کہوں تو، عقیدے کے معاملے میں، میں واقعی کافی الجھن کا شکار ہو کر بڑا ہوا۔ میرے لیے مذہب ایک ایسا موضوع تھا جو کافی پراسرار اور پیچیدہ سا لگتا تھا۔ یہ دلچسپ تو تھا، لیکن ایسا نہیں تھا جسے میں بہت سنجیدگی سے لیتا۔ البتہ، خدا ایک ایسی قادرِ مطلق اور اہم طاقت کا نام تھا جس کی طرف انسان اپنے مشکل ترین لمحات میں رجوع کرتا ہے، لیکن بات اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔ لیکن سچ بتاؤں تو مجھے عیسائیت کے بارے میں بھی بے چینی محسوس ہوتی تھی۔ یہ چیزوں کو منطقی طور پر سمجھنے کی میری فکری ضرورت پر پوری نہیں اترتی تھی۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا؟ تو میرے لیے خدا کے 'تین' ہونے کا تصوّر بالکل بے معنی سا تھا۔ یہ ایک ایسی بات تھی جو بالکل غیر منطقی تھی۔ اور آپ نے پہلی بار اسلام کے بارے میں کیسے سنا؟ کیا آپ کے دل میں کوئی تعصبات تھے؟ میرا قبولِ اسلام کی کہانی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ میں نے پہلی بار اسلام کے بارے میں 9/11 کے واقعے کے دوران سنا تھا۔ کم از کم یہ وہ پہلا موقع تھا جب میں نے اسے سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔ مسلمان دہشت گرد تھے۔ مسلمان خطرناک تھے۔ یہ لوگ وحشی ہیں جو جیلوں میں ڈالنے کے مستحق ہیں، بلکہ اس سے بھی بدتر سلوک کے۔ عام لوگوں کی طرح، میں نے بھی بغیر سوچے سمجھے سطحی نتائج اخذ کیے، اور نتیجاً میں شدید ترین اسلام فوب بن گیا۔ چنانچہ یہ مناظر دیکھنے کے بعد، ظاہری بات ہے کہ جب میں اسکول میں ہوتا اور ان مسلمانوں سے سامنا ہوتا، تو میرے دل میں ان کے لیے غصّہ اور نفرت بھری ہوتی تھی۔ اور مجھے لگتا تھا کہ مجھے انہیں ان کی اوقات میں رکھنا چاہیے۔ اس لیے اسکول میں، جب بھی مسلمانوں کو ڈرانے، دھمکانے اور تنگ کرنے کی بات آتی تو میں سب سے پیش پیش ہوتا تھا۔ خاص طور پر، مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں کلاس میں بیٹھا تھا، اور میرے بالکل سامنے عبدل نام کا ایک لڑکا بیٹھا تھا، جس سے مجھے شدید گھن آتی تھی کیونکہ وہ ایک مسلمان تھا۔ میں ایسا کیا کروں کہ اسے اس کی اوقات بتا سکوں؟ کیوں نہ اس کے بالوں کو آگ لگا دی جائے؟ چنانچہ میں نے لائٹر نکالا اور سچ مچ اس کے بالوں میں آگ لگا دی۔ ویسے، وہ اس دن گیا تو اس کے بعد ہم نے اسے اسکول میں کبھی نہیں دیکھا۔ اور مجھے یاد ہے میں بس میں خودکش بمبار بننے کا ڈرامہ کرتا اور اچانک سے۔۔۔ دھماکہ!
تاکہ لوگ ہنسیں اور مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے لیے کہتا ، کہ "تم لوگ احمق ہو۔ تم مذہب کے نام پر اپنے آپ کو ہی مار لیتے ہو،" یعنی بنیادی طور پر یہ ان کا مذاق اڑانے کا ایک طریقہ تھا۔ پھر محمد نام کا ایک لڑکا تھا جو مجھے کچھ زیادہ ہی زچ کر رہا تھا، اور میں نے ایک موقعے کا فائدہ اٹھا کر اسے یہ اچھی طرح سمجھانا چاہا کہ، "سنو بھائی، تم غلط بندے سے پنگا لے رہے ہو، اور اوپر سے تم ایک مسلمان بھی ہو۔ تو چلو میں تمہیں تمہاری اوقات بتاتا ہوں۔" میں نے اس کی دونوں آنکھیں سُجا دیں، اس کی ناک توڑ دی اور اس کی ایک پسلی بھی توڑ دی۔ اس کی شرٹ پر ہر طرف خون ہی خون تھا، اور مجھے یاد ہے کہ اس وقت میرے اندر کا جوش عروج پر تھا، اور یوں لگا جیسے یہ سب پلک جھپکتے ہی ہو گیا۔ پولیس مجھے گرفتار کرنے اسکول آ گئی۔ اگلے دن، وہ مجھے ریاضی کی کلاس کے دوران ہی لے گئے اور مجھے حوالات جانا پڑا۔ میرے والد مجھے لینے آئے، اور مجھے اس معاملے میں جووینائل کورٹ تک جانا پڑا۔ مجھے کمیونٹی سروس اور گروپ تھراپی کرنی پڑی، تاکہ میں بڑا ہو کر ایک پرامن اور غیر متشدد انسان بن سکوں۔ اور اس وقت اسکول نے میرا ساتھ دیا۔ انہوں نے وکیل کرنے میں میری مدد کی، اور وہ اس کے بجائے میری طرف داری کر رہے تھے۔ اور سوچیں تو یہ کافی افسوسناک بات ہے، کیونکہ میں خود کو کبھی بھی ایک پرتشدد انسان نہیں سمجھتا تھا۔ لیکن پروپیگنڈا انسان کے ساتھ یہی کچھ کرتا ہے۔ میں ایک بدمعاش بچہ ضرور تھا، لیکن اس حد تک تشدد، یہ چیز میرے خیال میں میری شخصیت کا حصّہ نہیں رہی تھی۔ آپ کے مسلمان ہونے کی کہانی کی ابتداء کیسے ہوئی؟ سچ بتاؤں تو میرا قبولِ اسلام کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ میری زندگی ایک انتہائی تاریک موڑ پر تھی۔ جینے کی خواہش بالکل ختم ہو چکی تھی۔ میں خودکشی کا نہیں سوچ رہا تھا، لیکن چاہتا تھا کہ اگر کوئی گاڑی مجھے ٹکر مار دے تو میری بہت سی مشکلات حل ہو جائیں گی۔ لیکن میری اپنی ایک حد تھی جس کی وجہ سے میں ایسی حماقت نہیں کر سکتا تھا، اور وہ حد یہ تھی کہ "میں اپنی ماں کو نہیں رلا سکتا۔" لیکن اپنی زندگی سے بالکل بے حس ہو جانے کی ان مایوس کن گھڑیوں میں، مجھے یاد ہے کہ میں نے آسمان کی طرف چاند کو دیکھا، اور خدا سے التجا کی کہ وہ مجھے سچائی دکھائے۔ یہ پہلی چیز تھی جو میں نے مانگی۔ میں نے مانگا وہ مجھے سچائی تک پہنچانے کے لیے کسی ایسے شخص کو بھیجے جو مجھے کسی ایسے قبیلے سے متعارف کروائے جہاں مجھے ایک ایسا ہمسفر مل سکے جو زندگی کے اس سفر میں میرا ساتھ دے۔ تو یہ تھا میرا اس وقت کا ماحول۔ میں روز اپنے اسکیٹ بورڈنگ والے دوستوں کے ساتھ سڑکوں پر پھرتا، فضول حرکتیں کرتا، دیواروں پر گرافٹی بناتا، اور سگریٹ و شراب نوشی میں پڑا رہتا۔ پھر کچھ سالوں بعد، سیکنڈری 5 میں میری ملاقات اسامہ نامی ایک لڑکے سے ہوئی۔ اسامہ نا جانے کہاں سے آ ٹپکا تھا، بڑا ہی منفرد، زندہ دل اور پرکشش شخصیت کا مالک تھا۔ وہ انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ تھا زندگی میں پہلی بار میں نے اپنے اسکول میں کسی انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ کو آتے دیکھا تھا۔ تو جب میں نے اسے دیکھا، مجھے یاد ہے میں نے اپنے دل میں سوچا، "یہ تھوڑا عجیب سا تو ہے، لیکن کافی دلچسپ اور مزاحیہ ہے۔" اور ایک دن، فٹ بال میچ ختم ہونے کے بعد، پانی پینے کے لیے ہم لائن میں کھڑے تھے۔ اسامہ بالکل میرے آگے تھا۔ ایک موقع پر، جب وہ پانی پینے ہی والا تھا، بالکل آخری لمحے میں رک گیا۔ میں کافی چڑ گیا کیونکہ مجھے شدید پیاس لگی تھی اور پانی پینا تھا۔ میں نے اس سے کہا، "برو، راستے سے ہٹو!
مجھے پانی پینا ہے، تم یہاں کیا کر رہے ہو؟" اس نے کہا، "ہاں، میرا روزہ ہے۔ اور تم جانتے ہو، ہم مسلمان سچے اور پکے مرد ہوتے ہیں۔ ہمارا خود پر قابو ہوتا ہے۔ ہم پورا ایک مہینہ نہ کچھ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں۔ تم عیسائی لوگ کمزور ہو۔ تمہارا جب جو دل چاہتا ہے کرتے ہو۔ اور تم ایمان والے ہونے کا بس دکھاوا کرتے ہو، حقیقی ایمان والے تو ہم ہیں۔" اس پر میں نے اس سے پوچھا، "تمہارا مطلب ہے اگر میں سچ مچ روزہ رکھنا چاہوں، تو میں نہیں رکھ سکوں گا؟" اس نے جواب دیا، "بالکل صحیح سمجھے۔" بس اسی لمحے، میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میں اس لڑکے کو یہ ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ جو کام یہ کر رہا ہے، وہ میں بڑی آسانی سے کر سکتا ہوں۔ اور صرف یہ ثابت کرنے کے لیے، میں لنچ کا وقت اس کے ساتھ گزارنے لگا۔ جب میں گھر واپس آیا اور بالآخر کھانے کا وقت ہوا، تو ایسا واقعہ پیش آیا جس نے مجھے اندر سے بدل کر رکھ دیا۔ مجھے اتنی شدید بھوک لگی ہوئی تھی کہ جب میں اپنے کمرے میں اکیلا کھانا کھا رہا تھا، تو مجھے یاد ہے کھانا میسر ہونے پر شکر گزاری کا ایسا احساس جاگا کہ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اور روتے ہوئے اپنی شرٹ سے آنسو پونچھ رہا تھا، تو مجھے یاد ہے کہ اپنی شرٹ کی طرف دیکھا اور سوچا، "میرے پاس پہننے کو یونیفارم ہے،" کیونکہ میں ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھتا تھا"۔ پھر ایک کے بعد ایک سوچ ذہن میں آنے لگی: "مجھے معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہے؟ اوہ میرے خدایا۔ ٹھہرو، میرے سر پر چھت بھی تو ہے؟!" میں چھت کی طرف دیکھ رہا تھا اور جذبات کے بے قابو طوفان میں مزید گہرا ڈوبتا چلا جا رہا تھا۔ پھر میں نے اپنے آپ سے پوچھا، "ان تمام چیزوں کے پیسے کون بھرتا ہے؟ میری ماں۔ میرے پاس ماں ہے!
میں نے آخری بار اپنی ماں کو گلے کب لگایا تھا؟ آخری بار کب میں نے اپنی ماں سے۔۔۔" کہا تھا کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں؟" تو میں فوراً اپنی ماں کے کمرے کی طرف بھاگا تاکہ ان سے اپنی محبت کا اظہار کر سکوں۔ میں نے ان سے کہا، "مام، پلیز مجھے معاف کر دیں، میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں ایک اچھا بیٹا بنوں گا۔" میں بس پھوٹ پھوٹ کر روئے جا رہا تھا، اور انہوں نے میری طرف دیکھا اور پوچھا، "ایڈوارڈو، کیا تم نے شراب پی رکھی ہے؟" میں نے کہا، "نہیں امی، میں نے شراب نہیں پی۔" مجھے محسوس ہوا کہ میں ایک برا بچہ تھا، اور وعدہ کیا کہ میں اب بہتر انسان بنوں گا۔" میں اس نئی سوچ کے ساتھ اپنے کمرے میں واپس گیا اور میرے اندر تجسس جاگا کہ میں اس انقلابی مذہب سے اور کیا کچھ سیکھ سکتا ہوں۔ میں نے بس آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ اور جیسے جیسے میں اس مذہب کو محسوس کر رہا تھا، اس کی بدل دینے والی طاقت پہلے ہی میرے دل کو شکر گزاری سے بھر رہی تھی، جس نے میرے زخموں کو بھرا اور میری والدہ کے ساتھ میرے تعلق کو سنوار دیا۔ اور کون سی چیز مجھے بہترین انداز میں بدل سکتی تھی؟ اور کون سی چیز ایک انسان کے طور پر میری شخصیت کو نکھار سکتی تھی؟ میں نے اسامہ کو مزید جاننا شروع کیا، اور جیسے جیسے میں اس کے بارے میں جان رہا تھا وہ مجھے مزید دلچسپ لگ رہا تھا، میرے آس پاس کے تمام دوست اس بات سے شدید چڑنے لگے۔ میرے دوست ہمیشہ مجھ سے کہتے، "یہ لڑکا بہت فضول ہے، اس کے ساتھ مت گھوما کرو۔ تم جانتے ہو نا کہ تم کول لڑکوں کا حصّہ ہو، اس سے تمہارا امیج خراب ہو جائے گا۔" لیکن میں کہتا، "مجھے یہ پسند ہے۔" مجھے نہیں پتہ کیوں، لیکن اچھا لگتا ہے۔ تو ایک دن اس نے مجھے فون کیا اور بولا، "سنو برو، میری بہن یہاں مونٹریال میں غیر ملکی طالبہ کے طور پر اکیلی رہتی ہے، اور وہ کافی اداس ہے کیونکہ آج اس کی سالگرہ ہے اور سالگرہ منانے والا کوئی نہیں ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہم اس کے لیے کچھ سرپرائز کا انتظام کر لیں۔" میں نے کہا، "ہاں، کوئی مسئلہ نہیں۔ تم میرے پکے دوست ہو، میں سب سنبھال لوں گا۔ میں اپنے والد کے میکسیکن-برازیلین ریستوران میں اس کی بہترین مہمان نوازی کروں گا۔ ہم اس کے لیے کچھ تیار کر لیں گے اور وہ خوش ہو جائے گی۔" پھر جب ریستوران میں میری اس سے پہلی بار باقاعدہ ملاقات ہوئی، تو میں نے دیکھا کہ اس نے حجاب پہن رکھا ہے۔ اور اس بات سے مجھے شدید بے چینی محسوس ہوئی۔ مزید یہ کہ وہ اپنے شوہر کو بھی ساتھ لائی تھی، جن کا نام سیمو محمد تھا، ایک لمبی داڑھی والے داعی، یعنی ایسے شخص جو لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے میں ماہر تھے۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے اس بات سے بہت چڑ ہو رہی تھی، لیکن مجھے لگا کہ مجھے یہ سب برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا، اسامہ میرا پکا دوست تھا وہ اس وقت تک میرا سب سے بہترین دوست بن چکا تھا اور مجھے اس کی خاطر یہ دوستی نبھانی ہی تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ میں ان سے آخری بار مل رہا ہوں۔ لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ ان کے کچھ اور ہی منصوبے تھے۔ البتہ، اللہ کا بھی اپنا ہی منصوبہ تھا۔ انہوں نے مجھے کہا، "ایڈوارڈو، آپ نے جس شاندار انداز میں ہماری مہمان نوازی کی ہے، ہمیں بھی اس کا حق ادا کرنا پڑے گا۔ اس لیے ہم آپ کو شیر بروک دعوت دے رہے ہیں، جو مونٹریال سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ایک شہر ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی، ہم آپ کو مراکش میں اپنے ولیمے کی تقریب میں بھی مدعو کر رہے ہیں، تاکہ اتنی شاندار مہمان نوازی پر ہم آپ کا شکریہ ادا کر سکیں۔" میں نے اسامہ کی طرف دیکھا اور کہا، "ہاں بالکل، چلو چلتے ہیں!" پھر کچھ ہفتوں بعد کا ذکر ہے جب ہم شیر بروک میں تھے۔ 16 سال کی کم عمری میں، میں پہلی بار اپنے گھر سے دُور کہیں رات گزارنے گیا تھا، اور اس پورے ماحول سے مجھے شدید بے چینی محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن وہی بات، میں دوستی نبھا رہا تھا کیونکہ اسامہ میرا پکا دوست تھا۔ اور اسامہ کے والد مجھے ایئرپورٹ سے لینے آئے، لیکن انہوں نے اپنا تعارف کبھی ان کے والد کے طور پر نہیں کرایا۔ انہوں نے کہا، "میں یہاں آپ کی خدمت کے لیے آیا ہوں۔ میں آپ کا بالکل اپنے بیٹے کی طرح خیال رکھوں گا۔" ان کا لباس بالکل سادہ تھا، ان کی گاڑی بھی سادہ تھی، اور ان کا اخلاق بے مثال تھا۔ تو میں وہاں موجود یہ سب دیکھ کر شدید حیرت محسوس کر رہا تھا۔ میری حیرت اس وقت اور بڑھ گئی جب میں نے اسامہ کے والد کو زمین پر بیٹھ کر مالی کے ساتھ پھول لگاتے دیکھا، اور پھر کچن میں جا کر باورچی کی مدد کرتے دیکھا۔ ان کے اپنے فارم ہاؤس میں شادی کی تقریب کی تیاریوں کے لیے لوگوں کی ایک بہت بڑی ٹیم موجود تھی۔ میں اس شخص کو دیکھ رہا تھا جس کی ذات سے عاجزی چھلک رہی تھی۔ ایک ایسا انسان جو اتنی زبردست مالی حیثیت کا مالک تھا، لیکن اس کا رویہ کس قدر عاجزانہ اور خادمانہ تھا۔ اس چیز نے ایک حقیقی مرد ہونے سے متعلق میرے تصوّر کو توڑ کر رکھ دیا۔ اس نے کامیابی کے بارے میں میری سوچ ہی بدل دی۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ میں اس کے باوجود شدید شک اور خوف کا شکار تھا۔ میں سوچتا تھا، میں ان لوگوں کی چالیں خوب سمجھتا ہوں۔ یہ بس مجھے باتوں میں لگا رہے ہیں تاکہ جب میں سو جاؤں تو میرا گلا کاٹ سکیں۔ اس وہم اور خوف نے مجھے ذرا برابر بھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیا۔ میں اپنے آپ سے کہتا، احمق مت بنو۔ پھر اس بات پر تھوڑی لے دے ہوئی کہ وہ مجھ پر مسلسل زور دے رہے تھے کہ میں ماسٹر بیڈروم میں ٹھہروں، کیونکہ میں ان کا خاص مہمان تھا۔ بالآخر میں نے یہ کہہ کر ان سے اپنی بات منوا ہی لی کہ مجھے انسومنیا ہے، اس لیے میں بس صوفے پر لیٹ جاؤں گا اور یہ بالکل ٹھیک رہے گا۔ میں اپنی بات منوانے میں کامیاب ہو گیا۔ اور پھر میں وہاں بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہا تھا اور چینل بدل رہا تھا۔ مجھے صحیح سے وقت تو یاد نہیں، لیکن شاید رات کے کوئی تین بج رہے تھے۔ مجھے ان کے بھائی کے اٹھنے کی آواز آئی۔ اور جیسے ہی مجھے محسوس ہوا کہ وہ اٹھ رہے ہیں، میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اور جیسے ہی میں نے "اللہ اکبر" سنا۔۔۔ میں تو جیسے وہیں جم گیا۔ میں خوف کے مارے سہم گیا۔ کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ "اللہ اکبر" کے بعد کیا ہوتا ہے۔ ٹی وی پر 24 گھنٹے یہی تو آتا تھا کہ اب کوئی دھماکہ ہو گا۔ میں نے سوچا یہ بندہ اپنی مذہبی رسومات ادا کر رہا ہے تاکہ خود کو تیار کر کے آئے اور میرا گلا کاٹ دے، اور اپنے خدا کی بارگاہ میں میری قربانی پیش کرے یا جو کچھ بھی وہ کرنا چاہتا تھا۔ مجھے نہیں معلوم، لیکن جو بھی تھا ٹھیک نہیں تھا، کیونکہ "اللہ اکبر" کے الفاظ میرے لیے بہت منفی اور خوفناک معانی رکھتے تھے۔ مجھ سے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ میں نے خود سے پوچھا، "ایڈوارڈو، تم یہاں آئے ہی کیوں؟ تم کتنے بڑے بے وقوف ہو!
تم جانتے تھے کہ یہ لوگ خطرناک ہیں اور اب تم یہاں پھنس چکے ہو اور مارے جانے والے ہو!" اور مجھے یاد ہے میں نے خاص طور پر خدا سے التجا کی کہ وہ مجھے اس ناگزیر مصیبت سے بچائے۔ میں خدا سے مسلسل دعا کر رہا تھا اور مدد مانگ رہا تھا۔ سیمو محمد کا سایہ آہستہ آہستہ بڑا ہو رہا تھا، اور مجھے فرش چرچرانے کی آوازیں آ رہی تھیں کیونکہ وہ میری طرف بڑھ رہے تھے۔ اور مجھے یاد ہے ان کا بڑا سا ہاتھ آگے بڑھا، اور میری طرف آ رہا تھا۔ انہوں نے ایک کمبل اٹھا کر مجھ پر ڈالا، لائٹ بند کی، ٹی وی بند کیا اور واپس سونے چلے گئے۔ بس اسی لمحے، میرے دل نے گواہی دی کہ ان جیسے لوگوں کا برا انسان ہونا ناممکن ہے۔ میری والدہ ہمیشہ مجھ سے کہتی تھیں کہ اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ تم بطور انسان کیسے ہو، تو خود کو اس وقت دیکھو جب تمہیں کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔ وہی تمہاری اصل حقیقت ہوتی ہے۔ اور یہاں یہ بھائی تھے، جو آدھی رات کو جب کوئی دیکھنے والا نہیں تھا، اپنے رب سے راز و نیاز کرنے کے لیے اٹھے تھے۔ اور اس عبادت نے انہیں اپنے مہمان کے ساتھ اور بھی زیادہ اچھا سلوک کرنے پر ابھارا ایک ایسا مہمان جس کی پہلے ہی وہ حد سے زیادہ شاندار مہمان نوازی کر چکے تھے۔ مجھے اپنے آپ پر شدید شرمندگی محسوس ہو رہی تھی، کیونکہ میں جانتا تھا کہ میری تربیت متعصب بننے کے لیے نہیں ہوئی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ مجھے نسل پرست بنا کر نہیں پالا گیا تھا۔ اور میں اس سے کہیں بہتر انسان تھا۔ اور مجھے بہت زیادہ۔۔۔ میرا خیال ہے صحیح لفظ شرمندگی ہی ہو گا۔ اور یہ پہلا موقع تھا جب اللہ نے میرے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے نرمی پیدا کی۔ چنانچہ اگلے دن، سیمو محمد نے مجھ سے کہا کہ وہ جمعے کی نماز پڑھنے جا رہے ہیں، جو مردوں کے لیے جمعے کے دن کی فرض نماز ہے۔ پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں ان کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا، "بالکل، میں آپ کے ساتھ چل رہا ہوں۔" اور یہ پہلا موقع تھا جب میں کسی مسجد میں گیا، اور مجھے یاد ہے کہ میں اس بالکل سادہ اور باوقار ماحول کو دیکھ کر ششدر رہ گیا جہاں لوگ اپنے جسم کا سب سے معزز حصہ یعنی اپنا ماتھا، اپنا چہرہ اپنے رب کی عبادت کے لیے زمین پر رکھ رہے تھے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے نماز پڑھی،اور مجھے یاد ہے میں نے ایک نئی زندگی اور تازگی محسوس کی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں، لیکن اللہ مجھے ایک ایسے ماحول میں لے آیا تھا جہاں مجھے اندر سے واقعی یہ محسوس ہوا کہ میں دوبارہ سے جی اٹھا ہوں۔ وہاں کوئی تصویریں نہیں تھیں۔ کوئی کرسیاں نہیں تھیں، کوئی بینچ نہیں تھے، وہاں ایک ایسے ماحول کے سوا کچھ نہیں تھا جو آپ کو مکمل توجہ قائم کرنے میں مدد دے۔ کس پر توجہ؟ اللہ پر توجہ۔ پھر اسامہ کے بھائی نے اتنی دانشمندی سے بات کی کہ بطور عیسائی مجھے لگا کہ ان کے دل میں میری بڑی عزت ہے، کیونکہ انہوں نے بتایا کہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام حضرت محمدﷺ کے مقابلے میں 25 گنا زائد بار آیا ہے۔ اور انہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا، "ہمارے ہاں ایک سورت ہے جس کا نام 'مریم' ہے، اور بطور مسلمان ہم سچ مچ عیسائیوں کا احترام کرتے ہیں کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ انجیل بھی بنیادی طور پر وحی کا حصّہ تھی، لیکن تاریخ کے سفر میں، بدقسمتی سے، اس میں تحریف اور تبدیلیاں ہو گئیں۔ لیکن چونکہ ہم نہیں جانتے کہ کون سا حصّہ بدلا گیا اور کون سا اصلی حالت میں ہے، اس لیے ہمیں اس کا احترام کرنا ہوتا ہے۔" مجھے لگا کہ واہ، یہ لوگ ہماری عزت کرتے ہیں، یہ ہم پر تنقید نہیں کر رہے۔ میں سارا دن عیسائیوں کو مسلمانوں کی برائی کرتے ہی سنتا تھا، اور یہاں یہ مسلمان تھے جو عیسائیوں کے بارے میں اتنے احترام سے بات کر رہے تھے۔ تو میں بس اسی وقت ان لوگوں اور اس طرزِ زندگی کی محبت میں مزید گرفتار ہوتا چلا گیا، اور جب میں مراکش سے واپس آیا تو اسلام کے لیے میرا جوش و جذبہ دس گنا بڑھ چکا تھا۔ چنانچہ جب بھی میرے آس پاس کوئی شخص مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں برا بھلا کہتا تھا، تو میں براہِ راست اس کا مقابلہ کرتا تھا۔ اگر کوئی قرآن کے بارے میں فضول بات کرتا، تو میں کہتا، "تم نے آخری بار یہ کتاب کب کھولی تھی؟ کبھی نہیں!
تو اپنا منہ بند رکھو۔" مسلمانوں کی وکالت کرنے کا یہ ایک کافی جارحانہ اور بے باک انداز تھا۔ کچھ لوگوں نے تو سچ مچ مجھ سے پوچھا، "کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟ آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم بالکل بدل گئے ہو۔" اور میں نے روزے رکھنا بھی شروع کر دیے۔ آپ کی معلومات کے لیے بتا دوں کہ میں اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی روزے رکھ رہا تھا۔ میں نے دو مرتبہ روزے رکھے۔ تو لوگوں کو اندازہ ہو رہا تھا اور وہ پہلے ہی سے یہ قیاس آرائیاں کر رہے تھے کہ ایسا ہونے والا ہے۔ مجھے خود ہی معلوم نہیں تھا بالکل آخری لمحے تک، جب میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا، مجھے ذرا اندازہ نہیں تھا کہ ایسا ہونے جا رہا ہے۔ پھر میری نظر سے میلکم ایکس کی کہانی گزری۔ اور میلکم ایکس کی کہانی نے مجھے اسلام قبول کرنے کی ہمت دی، کیونکہ اس شخص کی کہانی ایک ایسی اثر انگیز اور آنکھیں کھول دینے والی یاد دہانی ہے کہ زندگی میں آپ کا مقصد صرف سکون یا تحفظ کی تلاش نہیں، بلکہ سچائی کی تلاش ہے۔ اور انہوں نے اپنی پوری زندگی اتنی بے باکی اور نڈر انداز میں گزاری کہ وہ اس جدید دور میں میرے لیے حقیقی مردانگی اور بہادری کی ایک مثال بن گئے۔ فلم ختم ہوتے ہی میں نے اسامہ کو کال کی اور اس سے کہا، "اسامہ!
سنو برو، میں اب مسلمان ہو گیا ہوں۔" اور اسامہ بولا، "اللہ اکبر، تکبیر!" وہ اتنا پرجوش تھا کہ چیخنے لگا، اور وہ مجھ سے یوں بات کر رہا تھا جیسے میں پہلے ہی سے مسلمان ہوں۔ وہ مسلسل کہہ رہا تھا، "ماشاء اللہ!" مجھ سے اس نے پہلے کبھی ایسی باتیں نہیں کیں کیونکہ وہ مجھ سے بات کرتے ہوئے میری حسِ مزاح اور زبان کا بہت خیال رکھتا تھا۔ پھر پوچھا، "کیا تم نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا ہے؟ یار یہ تو بہت زبردست بات ہے، مجھے اور بتاؤ!" میں نے پوچھا، "کیا پڑھ کر لیا ہے؟ شہادت؟" میرے لیے تو وہ ایسا تھا جیسے کھانے کی کوئی چیز ہو جو مجھے کھانی پڑے گی، جیسے شوارما!
میں نے کہا، "وہ کیا چیز ہے؟ میں تو بس ابھی ابھی مسلمان ہوا ہوں، تم کیا باتیں کر رہے ہو؟" اس نے کہا، "نہیں، لیکن تمہیں اپنی گواہی دینی ہو گی۔" "وہ کیا ہوتا ہے؟" اس نے بتایا، "مطلب کہ تمہیں اپنے ایمان کا اقرار یعنی گواہی دینی ہو گی۔" چنانچہ میں نے کال پر ہی اپنے ایمان کا اقرار اور گواہی دی۔ پھر اسامہ نے کہا، "میں تمہیں مسجد لے کر چلتا ہوں۔" اور یوں میں اس کے ساتھ ICQ یعنی اسلامک سینٹر آف کیوبیک کی مسجد پہنچ گیا۔ مجھے یاد ہے جب میں اپنا کلمۂ شہادت پڑھ رہا تھا، تو میں ایک ایسے ماحول میں موجود تھا جہاں مجھے ہر طرف بنگالی، پاکستانی، ہندوستانی اور عربی ہی دکھائی دے رہے تھے، اور یہ میرے لیے ایک زبردست کلچرل شاک تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے دل میں سوچا، "ایڈوارڈو، کیا تم واقعی جانتے ہو کہ تم کس چکر میں پڑ گئے ہو؟ یعنی یہ تمہارا ماحول نہیں لگتا۔ بڑی بڑی داڑھیوں اور عماموں والے لوگ، اور انہوں نے روایتی عرب لباس جبے پہن رکھے تھے۔" مجھے بس ایسا لگا جیسے میں غلط لوگوں کے درمیان آ گیا ہوں۔ اور معاملے کو مزید سنجیدہ بنانے والی بات یہ ہوئی کہ کلمہ پڑھنے کے بعد، یہ تمام مرد آگے بڑھے اور مجھے گلے لگانے اور چومنے لگے، مجھے یاد ہے کہ میں اس سب سے بالکل گھبرا سا گیا تھا، کیونکہ میں نے پہلے کبھی کسی مرد کو گلے نہیں لگایا تھا۔ میں تو اپنے والد کو بھی بمشکل ہی گلے لگاتا تھا۔ اور اب یہ بڑی داڑھیوں والے لوگ آ کر مجھے گلے لگا رہے تھے اور میرے ماتھے پر بوسہ دے رہے تھے۔ تو میرے لیے یہ میری مردانگی پر ایک چوٹ جیسا تھا۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ وہ بھائی اتنے مخلص، نم آنکھوں والے اور خوش تھے کہ مجھے احساس ہو گیا تھا کہ یہاں کچھ بہت خاص ہو رہا ہے، جو اس وقت میری سمجھ سے بالاتر تھا۔ جب میں نے کلمہ پڑھا، تو ایک بھائی میرے پاس آئے، انہوں نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا، "بھائی، میں آپ کو ایک بہت اہم نصیحت کرنے لگا ہوں، اور آپ مجھ سے وعدہ کریں کہ آپ اسے کبھی نہیں بھولیں گے: اسلام کو دیکھیں، مسلمانوں کو نہ دیکھیں۔" اور مجھے نہیں معلوم کیوں، لیکن میں سمجھ گیا کہ وہ کوئی بہت اہم بات کہہ رہے ہیں، میں نے اس نصیحت کو پلے باندھ لیا، اور اس نے کئی بار میرے ایمان کی حفاظت کی۔ اور میرے ذاتی معاملے میں، میں کہوں گا کہ سب سے بااثر لمحہ وہ تھا جب میری دعا بالکل حرف بہ حرف پوری ہوئی، اور جہاں میں نے اللہ سے تین چیزیں مانگی تھیں: مجھے سچائی دکھانے کے لیے کسی غیر ملکی کو بھیجے، تاکہ میں سچائی پر قائم اس قبیلے کا حصہ بن سکوں، اور تاکہ مجھے اپنی باقی کی زندگی کے لیے اسی قبیلے سے ایک ہمسفر بھی مل سکے۔ اسامہ وہی غیر ملکی تھا جو وہ پیغام لے کر آیا، ہے نا؟ اس نے اسلام کے پیغام کے ذریعے مجھے اس قبیلے تک رسائی دی، اور میں نے ایک مراکشی خاتون سے شادی کر لی۔ تو انسان ایسی باتیں خود سے نہیں گھڑ سکتا۔ اسلامی طرزِ زندگی کو اپنانا، حرام چیزوں سے بچنا، دن میں پانچ وقت کی نماز پڑھنا وغیرہ، یہ سب آپ کے لیے کتنا مشکل تھا؟ درحقیقت، جب میں نے اسلام قبول کیا، تو میں فوراً ہی کوئی پارسا انسان نہیں بن گیا تھا۔ اگلے ہی ہفتے، میں ساحلِ سمندر پر موجود تھا، اور میرے پاس نماز کے طریقے کے وہ اوراق تھے جو میں نے جہاز میں سوار ہونے سے پہلے پرنٹ کیے تھے۔ میں ساحل پر بغیر شرٹ کے، شارٹس، کانوں میں بالیاں اور ٹوپی پہنے نماز پڑھنا سیکھ رہا تھا۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا؟ تو میں واقعی کافی جدوجہد کر رہا تھا، لیکن اپنی طرف سے پوری کوشش میں لگا ہوا تھا۔ مسلمان بننا، خاص طور پر جب آپ کا طرزِ زندگی ویسا رہا ہو جیسا میرا تھا، حقیقتاً ایک بار پھر سے جینا سیکھنے جیسا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے آپ سیدھے ہاتھ سے کام کرنے کے عادی ہوں تو الٹے ہاتھ کا استعمال سیکھ رہے ہوں، یہ چیزیں فطری عادت سے بالکل مختلف لگتی ہیں۔ لیکن جس چیز نے میری سب سے زیادہ مدد کی، وہ یہ تھی کہ میں نے باقاعدہ اپنا ماحول بدلنا شروع کیا اور جس یونیورسٹی میں میں پڑھ رہا تھا، وہاں کی مسلم اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن میں شامل ہو گیا، اور خود کو ایسے لوگوں کے درمیان گھیر لیا جو میرے لیے راہنما کا کردار ادا کر سکتے تھے۔ لیکن یہ کافی مشکل تھا، کیونکہ میری بہت سے مسلمانوں کے ساتھ بنتی نہیں تھی، اور آپ کو سمجھنا ہو گا کہ یہ 9/11 کے فوراً بعد کا وقت تھا، اس لیے بہت سے مسلمان اپنے دین کے بارے میں کافی معذرت خواہانہ رویہ رکھتے تھے، اور میرے لیے مسلمانوں سے مضبوط تعلقات قائم کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ غلط نہ سمجھیے گا، مجھے اسلام کے بارے میں کبھی کوئی شک نہیں تھا، میں ہمیشہ سے مطمئن تھا۔ لیکن مجھے اس بارے میں شدید خدشات تھے کہ آیا میرے اندر ایک مسلمان کے طور پر اس سفر کو جاری رکھنے کی طاقت ہوگی بھی یا نہیں، کیونکہ ماحول کے لحاظ سے یہ بہت دشوار تھا-- میں گناہ اور حرام کاموں کے بہاؤ کے خلاف تیر رہا تھا۔ پھر مجھے احساس ہوا میں اس بہاؤ کے خلاف نہیں تیر سکتا، مجھے اپنی لین یعنی راستہ ہی بدلنا پڑے گا۔ اور الحمد للہ، میں نے یہی کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد، کیا آپ کے آس پاس کا بھی کوئی شخص مسلمان ہوا؟ کیا بعد میں آپ کے گھر والوں میں سے کسی نے اسلام قبول کیا؟ میرا ایک نیا نو مسلم لاطینی دوست بنا، اور میں بہت خوش تھا کیونکہ میں اس کے ساتھ گھومتا پھرتا اور ہم مل کر تفریح کرتے تھے۔ ایک دن، اس نے اپنی بیسمنٹ میں اپنی سالگرہ کا اہتمام کیا، جس میں میرے ہائی اسکول کا ایک اور لڑکا بھی آیا تھا جو اس کا سب سے بہترین دوست تھا، اور ہم وہاں ایک ایسے ماحول میں موجود تھے جو بالکل حلال نہیں تھا۔ وہاں بہت سے غلط کام ہو رہے تھے۔ پھر سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد اس نے اعلان کیا، اور بتانے لگا کہ وہ کیوبیک کے اپنے اس بہترین دوست کو، جو ہم دونوں کا مشترکہ دوست بھی تھا، ایک ایسا شاندار تحفہ دینے جا رہا ہے جو کوئی دوست اپنے بہترین دوست کو دے سکتا ہے۔ میں دُور سے یہ سب دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا، "خدا کرے یہ قرآن نہ ہو۔" کیونکہ اگر اس نے اسے قرآن دے دیا، تو وہ اس کے اوراق سے سگریٹ بنا کر پی جائے گا، کیونکہ میں نے اسے اپنی زندگی میں کبھی بھی ہوش میں نہیں دیکھا تھا۔ وہ ہمیشہ نشے میں دھت رہتا تھا۔ تو میں نے اس کے بارے میں ایک غلط رائے قائم کر لی۔ چنانچہ ہمارا کیوبک کا دوست اس کی طرف بڑھا، تحفہ لیا، اور نشے میں ہونے کی وجہ سے جاتے ہوئے تقریباً لڑکھڑا کر گرنے ہی والا تھا۔ اور بولا، "اوہ، بہت شکریہ!
یہ تو آپ کی بڑی مہربانی ہے۔" اور جب اس نے اسے کھولا میں نے دیکھا کہ وہ قرآن ہی تھا۔ تو میں نے دل میں سوچا، "آہ، قرآن کا کتنا غلط استعمال ہو رہا ہے۔" کچھ مہینوں بعد، یا شاید ایک سال بعد، میں اپنے سسرال کے قریب واقع ایک مسجد میں رات کے کھانے کے بعد موجود تھا، اور ہم نے ابھی عشاء کی نماز مکمل ہی کی تھی کہ کسی نے پیچھے سے میرے کندھے پر تھپتھپایا۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔ وہ وہی بندہ تھا جسے میرے پیرو والے دوست نے قرآن تحفے میں دیا تھا۔ اس نے کہا، "السلام علیکم، آپ کا کیا حال ہے؟" مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔ اور مجھے یہ بات سمجھنے میں چند منٹ لگے کہ جس لڑکے کو میرے پیرو والے دوست نے قرآن دیا تھا، وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب اس نے مجھے اپنی صورتحال بتائی تو پہلی بات جو میں نے اس بھائی سے کہی وہ یہ تھی، "مجھے معاف کیجیے گا، مجھے آپ سے بالکل سچ کہنا پڑے گا۔ میں نے آپ کے بارے میں غلط رائے قائم کرلی تھی اور میں نے سوچا تھا کہ آپ اس قرآن کو ضائع کر دیں گے اور اس کے صفحات سے سگریٹ بنا لیں گے۔" اور میں نے فوراً ہی اس سے معافی مانگی، کیونکہ دیکھ لیں، ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ اللہ کسے ہدایت بخش دے۔ نبیِ پاک ﷺ کے بارے میں آپ کو سب سے زیادہ کس چیز نے متاثر کیا؟ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ مردانگی اور اعلیٰ اخلاق کا ایک کامل نمونہ تھے۔ اور دنیا پر ان کی شخصیت کے اثرات کو صحیح معنوں میں سمجھنے میں مجھے ایک لمبا عرصہ لگا، کیونکہ اسلام کو جاننے کے اس سفر میں اکثر آپ سے یہی کہا جاتا ہے کہ آپ کو ان سے محبت کرنی ہے، لیکن کسی کو جاننے اور سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ اور ہمارے نبی حضرت محمدﷺ کی کئی سوانح حیات پڑھنے کے بعد مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ وہ "حجة الاسلام" ہیں یعنی وہ خود اسلام کا روشن ثبوت ہیں۔ وہ اپنے بے عیب کردار، اپنی دیانت داری اور عاجزی کے باعث بذاتِ خود ایک معجزہ ہیں۔ اور دیکھئے۔۔۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کتنی ہی بار ان کی تصحیح فرمائی، اور وہ فوراً ہی خود کو اس کے مطابق ڈھال لیتے تھے۔ "جب تک تو مجھ سے راضی ہے، میرے لیے بس وہی کافی ہے۔" تصور کریں نبیِ پاک ﷺ اس کمرے میں تشریف لاتے ہیں، وہ پہلے الفاظ کون سے ہوں گے جو آپ ان کی خدمت میں عرض کرنا چاہیں گے؟ مجھے نہیں لگتا کہ میں کچھ بول سکوں گا۔۔۔ میں۔۔۔مجھے نہیں معلوم کہ میں ان کی طرف دیکھ بھی سکوں گا یا نہیں۔ میں شاید ان کے قدم چومنا چاہوں گا۔ ہمم۔۔۔ جی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں ان کی ملاقات کا شرف عطا فرمائے، ان شاء اللہ۔ آمین۔ اگر آپ کو دنیا کے تمام غیر مسلموں سے، خاص طور پر برازیل اور کینیڈا کے لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملے، تو آپ چند منٹوں میں ان سے کیا کہنا چاہیں گے؟ میں کہوں گا کہ اسلام کو ایک موقع دے کر دیکھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اسلامو فوبیا خود ساختہ پھیلایا گیا ہے۔ یہ دنیا میں پیش آنے والا کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔ اس صنعت کے پیچھے ایسے لوگ موجود ہیں جو دن رات محنت کر رہے ہیں تاکہ عام لوگ اس الجھن کا شکار رہیں کہ مسلمان کون ہیں اور ان کا بنیادی پیغام کیا ہے۔ اور ایک ایسے معاشرے کے طور پر جو خود کو منطقی اور عقل مند سمجھنے پر فخر کرتا ہے، میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے ان دعووں کو سچ کر دکھائیں اور خود کو گھٹیا پروپیگنڈے کے ذریعے گمراہ نہ ہونے دیں۔ کیا آپ نے بھی اسلام قبول کیا ہے مگر سمجھ نہیں آ رہا کہاں سے سٹارٹ کریں؟ یا شاید آپ پیدائشی مسلمان ہیں مگر ایک فریش سٹارٹ لینا چاہتے ہیں اور اسلام کو بالکل شروع سے سیکھنا چاہتے ہیں؟ اسی لیے ہم نے Step Islam ایپ بنائی ہے۔ یہ بالکل فری اور ایڈ-فری ایپ ہے جو آپ کو بہت ہی کلئیر اور آرگنائزڈ طریقے سے اسلام کے بارے میں سکھاتی ہے۔ آپ ایزیلی ایمان کی بیسکس، اہم قرآنی ٹرمز سیکھیں گے، اور ایسے پریکٹیکل ٹاسکس پورے کریں گے جن سے آپ اپنے حساب سے، زندگی بھر کی عادتیں بنا سکیں۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر اسے ڈیلے مت کریں۔ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں، Step Islam ڈاؤنلوڈ کریں، اور ہمیشہ کی خوشی کی طرف اپنا پہلا سٹیپ آج ہی لیں۔
تو اپنا منہ بند رکھو۔" فلم ختم ہوتے ہی میں نے اسامہ کو کال کی اور اس سے کہا، "اسامہ!
سنو بھائی، میں اب مسلمان ہو گیا ہوں۔" السلام علیکم، ایڈوارڈو۔ ٹُوارڈز اِٹرنٹی میں ہمارے ساتھ شریک ہونے کا بہت شکریہ۔ آپ کو اپنے ساتھ پا کر ہمیں بہت خوشی ہو رہی ہے۔ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ مجھے مدعو کرنے کے لیےشکریہ، میں یہاں سے شروع کرنا چاہتا ہوں: ایڈوارڈو ڈوس اینجوس کون ہیں؟ کیا آپ اپنی زندگی کے بارے میں بتا سکتے ہیں؟ میں برازیل میں پیدا ہوا تھا اور دو سال کی عمر میں کینیڈا منتقل ہو گیا تھا۔ میں کیتھولک اور بدھ مت کے ملے جلے خاندان سے ہوں، اور میں مسلمانوں سے نفرت کرتے ہوئے بڑا ہوا۔ اور پھر بالآخر، مجھے اسلام سے محبت ہو گئی۔ عقیدے کے لحاظ سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کن باتوں پر یقین رکھتے تھے؟ ہاں تو،میں ایک برازیلی کیتھولک خاندان سے ہوں۔ جبکہ میرے والد، مذہب پر کچھ زیادہ عمل کرنے والے کیتھولک تھے، لیکن بس اس حد تک کہ اتوار کو چرچ چلے جانا اور باقی پورا ہفتہ بھول جانا کہ وہ کیتھولک ہیں۔ چونکہ میری والدہ بدھ مت تھیں، اس لیے گھر میں بدھ مت کا بھی کچھ اثر موجود تھا۔ تو جہاں تک عقیدے کا تعلق تھا، میرے والد نے کچھ ملا جلا نظام بنا رکھا تھا، انہوں نے مختلف مذہبی نظریات کو آپس میں ملا دیا تھا۔ سچ کہوں تو، عقیدے کے معاملے میں، میں واقعی کافی الجھن کا شکار ہو کر بڑا ہوا۔ میرے لیے مذہب ایک ایسا موضوع تھا جو کافی پراسرار اور پیچیدہ سا لگتا تھا۔ یہ دلچسپ تو تھا، لیکن ایسا نہیں تھا جسے میں بہت سنجیدگی سے لیتا۔ البتہ، خدا ایک ایسی قادرِ مطلق اور اہم طاقت کا نام تھا جس کی طرف انسان اپنے مشکل ترین لمحات میں رجوع کرتا ہے، لیکن بات اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی۔ لیکن سچ بتاؤں تو مجھے عیسائیت کے بارے میں بھی بے چینی محسوس ہوتی تھی۔ یہ چیزوں کو منطقی طور پر سمجھنے کی میری فکری ضرورت پر پوری نہیں اترتی تھی۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا؟ تو میرے لیے خدا کے 'تین' ہونے کا تصوّر بالکل بے معنی سا تھا۔ یہ ایک ایسی بات تھی جو بالکل غیر منطقی تھی۔ اور آپ نے پہلی بار اسلام کے بارے میں کیسے سنا؟ کیا آپ کے دل میں کوئی تعصبات تھے؟ میرا قبولِ اسلام کی کہانی کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ میں نے پہلی بار اسلام کے بارے میں 9/11 کے واقعے کے دوران سنا تھا۔ کم از کم یہ وہ پہلا موقع تھا جب میں نے اسے سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔ مسلمان دہشت گرد تھے۔ مسلمان خطرناک تھے۔ یہ لوگ وحشی ہیں جو جیلوں میں ڈالنے کے مستحق ہیں، بلکہ اس سے بھی بدتر سلوک کے۔ عام لوگوں کی طرح، میں نے بھی بغیر سوچے سمجھے سطحی نتائج اخذ کیے، اور نتیجاً میں شدید ترین اسلام فوب بن گیا۔ چنانچہ یہ مناظر دیکھنے کے بعد، ظاہری بات ہے کہ جب میں اسکول میں ہوتا اور ان مسلمانوں سے سامنا ہوتا، تو میرے دل میں ان کے لیے غصّہ اور نفرت بھری ہوتی تھی۔ اور مجھے لگتا تھا کہ مجھے انہیں ان کی اوقات میں رکھنا چاہیے۔ اس لیے اسکول میں، جب بھی مسلمانوں کو ڈرانے، دھمکانے اور تنگ کرنے کی بات آتی تو میں سب سے پیش پیش ہوتا تھا۔ خاص طور پر، مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں کلاس میں بیٹھا تھا، اور میرے بالکل سامنے عبدل نام کا ایک لڑکا بیٹھا تھا، جس سے مجھے شدید گھن آتی تھی کیونکہ وہ ایک مسلمان تھا۔ میں ایسا کیا کروں کہ اسے اس کی اوقات بتا سکوں؟ کیوں نہ اس کے بالوں کو آگ لگا دی جائے؟ چنانچہ میں نے لائٹر نکالا اور سچ مچ اس کے بالوں میں آگ لگا دی۔ ویسے، وہ اس دن گیا تو اس کے بعد ہم نے اسے اسکول میں کبھی نہیں دیکھا۔ اور مجھے یاد ہے میں بس میں خودکش بمبار بننے کا ڈرامہ کرتا اور اچانک سے۔۔۔ دھماکہ!
تاکہ لوگ ہنسیں اور مسلمانوں کو نیچا دکھانے کے لیے کہتا ، کہ "تم لوگ احمق ہو۔ تم مذہب کے نام پر اپنے آپ کو ہی مار لیتے ہو،" یعنی بنیادی طور پر یہ ان کا مذاق اڑانے کا ایک طریقہ تھا۔ پھر محمد نام کا ایک لڑکا تھا جو مجھے کچھ زیادہ ہی زچ کر رہا تھا، اور میں نے ایک موقعے کا فائدہ اٹھا کر اسے یہ اچھی طرح سمجھانا چاہا کہ، "سنو بھائی، تم غلط بندے سے پنگا لے رہے ہو، اور اوپر سے تم ایک مسلمان بھی ہو۔ تو چلو میں تمہیں تمہاری اوقات بتاتا ہوں۔" میں نے اس کی دونوں آنکھیں سُجا دیں، اس کی ناک توڑ دی اور اس کی ایک پسلی بھی توڑ دی۔ اس کی شرٹ پر ہر طرف خون ہی خون تھا، اور مجھے یاد ہے کہ اس وقت میرے اندر کا جوش عروج پر تھا، اور یوں لگا جیسے یہ سب پلک جھپکتے ہی ہو گیا۔ پولیس مجھے گرفتار کرنے اسکول آ گئی۔ اگلے دن، وہ مجھے ریاضی کی کلاس کے دوران ہی لے گئے اور مجھے حوالات جانا پڑا۔ میرے والد مجھے لینے آئے، اور مجھے اس معاملے میں جووینائل کورٹ تک جانا پڑا۔ مجھے کمیونٹی سروس اور گروپ تھراپی کرنی پڑی، تاکہ میں بڑا ہو کر ایک پرامن اور غیر متشدد انسان بن سکوں۔ اور اس وقت اسکول نے میرا ساتھ دیا۔ انہوں نے وکیل کرنے میں میری مدد کی، اور وہ اس کے بجائے میری طرف داری کر رہے تھے۔ اور سوچیں تو یہ کافی افسوسناک بات ہے، کیونکہ میں خود کو کبھی بھی ایک پرتشدد انسان نہیں سمجھتا تھا۔ لیکن پروپیگنڈا انسان کے ساتھ یہی کچھ کرتا ہے۔ میں ایک بدمعاش بچہ ضرور تھا، لیکن اس حد تک تشدد، یہ چیز میرے خیال میں میری شخصیت کا حصّہ نہیں رہی تھی۔ آپ کے مسلمان ہونے کی کہانی کی ابتداء کیسے ہوئی؟ سچ بتاؤں تو میرا قبولِ اسلام کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ میری زندگی ایک انتہائی تاریک موڑ پر تھی۔ جینے کی خواہش بالکل ختم ہو چکی تھی۔ میں خودکشی کا نہیں سوچ رہا تھا، لیکن چاہتا تھا کہ اگر کوئی گاڑی مجھے ٹکر مار دے تو میری بہت سی مشکلات حل ہو جائیں گی۔ لیکن میری اپنی ایک حد تھی جس کی وجہ سے میں ایسی حماقت نہیں کر سکتا تھا، اور وہ حد یہ تھی کہ "میں اپنی ماں کو نہیں رلا سکتا۔" لیکن اپنی زندگی سے بالکل بے حس ہو جانے کی ان مایوس کن گھڑیوں میں، مجھے یاد ہے کہ میں نے آسمان کی طرف چاند کو دیکھا، اور خدا سے التجا کی کہ وہ مجھے سچائی دکھائے۔ یہ پہلی چیز تھی جو میں نے مانگی۔ میں نے مانگا وہ مجھے سچائی تک پہنچانے کے لیے کسی ایسے شخص کو بھیجے جو مجھے کسی ایسے قبیلے سے متعارف کروائے جہاں مجھے ایک ایسا ہمسفر مل سکے جو زندگی کے اس سفر میں میرا ساتھ دے۔ تو یہ تھا میرا اس وقت کا ماحول۔ میں روز اپنے اسکیٹ بورڈنگ والے دوستوں کے ساتھ سڑکوں پر پھرتا، فضول حرکتیں کرتا، دیواروں پر گرافٹی بناتا، اور سگریٹ و شراب نوشی میں پڑا رہتا۔ پھر کچھ سالوں بعد، سیکنڈری 5 میں میری ملاقات اسامہ نامی ایک لڑکے سے ہوئی۔ اسامہ نا جانے کہاں سے آ ٹپکا تھا، بڑا ہی منفرد، زندہ دل اور پرکشش شخصیت کا مالک تھا۔ وہ انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ تھا زندگی میں پہلی بار میں نے اپنے اسکول میں کسی انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ کو آتے دیکھا تھا۔ تو جب میں نے اسے دیکھا، مجھے یاد ہے میں نے اپنے دل میں سوچا، "یہ تھوڑا عجیب سا تو ہے، لیکن کافی دلچسپ اور مزاحیہ ہے۔" اور ایک دن، فٹ بال میچ ختم ہونے کے بعد، پانی پینے کے لیے ہم لائن میں کھڑے تھے۔ اسامہ بالکل میرے آگے تھا۔ ایک موقع پر، جب وہ پانی پینے ہی والا تھا، بالکل آخری لمحے میں رک گیا۔ میں کافی چڑ گیا کیونکہ مجھے شدید پیاس لگی تھی اور پانی پینا تھا۔ میں نے اس سے کہا، "برو، راستے سے ہٹو!
مجھے پانی پینا ہے، تم یہاں کیا کر رہے ہو؟" اس نے کہا، "ہاں، میرا روزہ ہے۔ اور تم جانتے ہو، ہم مسلمان سچے اور پکے مرد ہوتے ہیں۔ ہمارا خود پر قابو ہوتا ہے۔ ہم پورا ایک مہینہ نہ کچھ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں۔ تم عیسائی لوگ کمزور ہو۔ تمہارا جب جو دل چاہتا ہے کرتے ہو۔ اور تم ایمان والے ہونے کا بس دکھاوا کرتے ہو، حقیقی ایمان والے تو ہم ہیں۔" اس پر میں نے اس سے پوچھا، "تمہارا مطلب ہے اگر میں سچ مچ روزہ رکھنا چاہوں، تو میں نہیں رکھ سکوں گا؟" اس نے جواب دیا، "بالکل صحیح سمجھے۔" بس اسی لمحے، میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میں اس لڑکے کو یہ ثابت کر کے دکھاؤں گا کہ جو کام یہ کر رہا ہے، وہ میں بڑی آسانی سے کر سکتا ہوں۔ اور صرف یہ ثابت کرنے کے لیے، میں لنچ کا وقت اس کے ساتھ گزارنے لگا۔ جب میں گھر واپس آیا اور بالآخر کھانے کا وقت ہوا، تو ایسا واقعہ پیش آیا جس نے مجھے اندر سے بدل کر رکھ دیا۔ مجھے اتنی شدید بھوک لگی ہوئی تھی کہ جب میں اپنے کمرے میں اکیلا کھانا کھا رہا تھا، تو مجھے یاد ہے کھانا میسر ہونے پر شکر گزاری کا ایسا احساس جاگا کہ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اور روتے ہوئے اپنی شرٹ سے آنسو پونچھ رہا تھا، تو مجھے یاد ہے کہ اپنی شرٹ کی طرف دیکھا اور سوچا، "میرے پاس پہننے کو یونیفارم ہے،" کیونکہ میں ایک پرائیویٹ اسکول میں پڑھتا تھا"۔ پھر ایک کے بعد ایک سوچ ذہن میں آنے لگی: "مجھے معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہے؟ اوہ میرے خدایا۔ ٹھہرو، میرے سر پر چھت بھی تو ہے؟!" میں چھت کی طرف دیکھ رہا تھا اور جذبات کے بے قابو طوفان میں مزید گہرا ڈوبتا چلا جا رہا تھا۔ پھر میں نے اپنے آپ سے پوچھا، "ان تمام چیزوں کے پیسے کون بھرتا ہے؟ میری ماں۔ میرے پاس ماں ہے!
میں نے آخری بار اپنی ماں کو گلے کب لگایا تھا؟ آخری بار کب میں نے اپنی ماں سے۔۔۔" کہا تھا کہ میں ان سے محبت کرتا ہوں؟" تو میں فوراً اپنی ماں کے کمرے کی طرف بھاگا تاکہ ان سے اپنی محبت کا اظہار کر سکوں۔ میں نے ان سے کہا، "مام، پلیز مجھے معاف کر دیں، میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں ایک اچھا بیٹا بنوں گا۔" میں بس پھوٹ پھوٹ کر روئے جا رہا تھا، اور انہوں نے میری طرف دیکھا اور پوچھا، "ایڈوارڈو، کیا تم نے شراب پی رکھی ہے؟" میں نے کہا، "نہیں امی، میں نے شراب نہیں پی۔" مجھے محسوس ہوا کہ میں ایک برا بچہ تھا، اور وعدہ کیا کہ میں اب بہتر انسان بنوں گا۔" میں اس نئی سوچ کے ساتھ اپنے کمرے میں واپس گیا اور میرے اندر تجسس جاگا کہ میں اس انقلابی مذہب سے اور کیا کچھ سیکھ سکتا ہوں۔ میں نے بس آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ اور جیسے جیسے میں اس مذہب کو محسوس کر رہا تھا، اس کی بدل دینے والی طاقت پہلے ہی میرے دل کو شکر گزاری سے بھر رہی تھی، جس نے میرے زخموں کو بھرا اور میری والدہ کے ساتھ میرے تعلق کو سنوار دیا۔ اور کون سی چیز مجھے بہترین انداز میں بدل سکتی تھی؟ اور کون سی چیز ایک انسان کے طور پر میری شخصیت کو نکھار سکتی تھی؟ میں نے اسامہ کو مزید جاننا شروع کیا، اور جیسے جیسے میں اس کے بارے میں جان رہا تھا وہ مجھے مزید دلچسپ لگ رہا تھا، میرے آس پاس کے تمام دوست اس بات سے شدید چڑنے لگے۔ میرے دوست ہمیشہ مجھ سے کہتے، "یہ لڑکا بہت فضول ہے، اس کے ساتھ مت گھوما کرو۔ تم جانتے ہو نا کہ تم کول لڑکوں کا حصّہ ہو، اس سے تمہارا امیج خراب ہو جائے گا۔" لیکن میں کہتا، "مجھے یہ پسند ہے۔" مجھے نہیں پتہ کیوں، لیکن اچھا لگتا ہے۔ تو ایک دن اس نے مجھے فون کیا اور بولا، "سنو برو، میری بہن یہاں مونٹریال میں غیر ملکی طالبہ کے طور پر اکیلی رہتی ہے، اور وہ کافی اداس ہے کیونکہ آج اس کی سالگرہ ہے اور سالگرہ منانے والا کوئی نہیں ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہم اس کے لیے کچھ سرپرائز کا انتظام کر لیں۔" میں نے کہا، "ہاں، کوئی مسئلہ نہیں۔ تم میرے پکے دوست ہو، میں سب سنبھال لوں گا۔ میں اپنے والد کے میکسیکن-برازیلین ریستوران میں اس کی بہترین مہمان نوازی کروں گا۔ ہم اس کے لیے کچھ تیار کر لیں گے اور وہ خوش ہو جائے گی۔" پھر جب ریستوران میں میری اس سے پہلی بار باقاعدہ ملاقات ہوئی، تو میں نے دیکھا کہ اس نے حجاب پہن رکھا ہے۔ اور اس بات سے مجھے شدید بے چینی محسوس ہوئی۔ مزید یہ کہ وہ اپنے شوہر کو بھی ساتھ لائی تھی، جن کا نام سیمو محمد تھا، ایک لمبی داڑھی والے داعی، یعنی ایسے شخص جو لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے میں ماہر تھے۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے اس بات سے بہت چڑ ہو رہی تھی، لیکن مجھے لگا کہ مجھے یہ سب برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا، اسامہ میرا پکا دوست تھا وہ اس وقت تک میرا سب سے بہترین دوست بن چکا تھا اور مجھے اس کی خاطر یہ دوستی نبھانی ہی تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ یہ میں ان سے آخری بار مل رہا ہوں۔ لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ ان کے کچھ اور ہی منصوبے تھے۔ البتہ، اللہ کا بھی اپنا ہی منصوبہ تھا۔ انہوں نے مجھے کہا، "ایڈوارڈو، آپ نے جس شاندار انداز میں ہماری مہمان نوازی کی ہے، ہمیں بھی اس کا حق ادا کرنا پڑے گا۔ اس لیے ہم آپ کو شیر بروک دعوت دے رہے ہیں، جو مونٹریال سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ایک شہر ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی، ہم آپ کو مراکش میں اپنے ولیمے کی تقریب میں بھی مدعو کر رہے ہیں، تاکہ اتنی شاندار مہمان نوازی پر ہم آپ کا شکریہ ادا کر سکیں۔" میں نے اسامہ کی طرف دیکھا اور کہا، "ہاں بالکل، چلو چلتے ہیں!" پھر کچھ ہفتوں بعد کا ذکر ہے جب ہم شیر بروک میں تھے۔ 16 سال کی کم عمری میں، میں پہلی بار اپنے گھر سے دُور کہیں رات گزارنے گیا تھا، اور اس پورے ماحول سے مجھے شدید بے چینی محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن وہی بات، میں دوستی نبھا رہا تھا کیونکہ اسامہ میرا پکا دوست تھا۔ اور اسامہ کے والد مجھے ایئرپورٹ سے لینے آئے، لیکن انہوں نے اپنا تعارف کبھی ان کے والد کے طور پر نہیں کرایا۔ انہوں نے کہا، "میں یہاں آپ کی خدمت کے لیے آیا ہوں۔ میں آپ کا بالکل اپنے بیٹے کی طرح خیال رکھوں گا۔" ان کا لباس بالکل سادہ تھا، ان کی گاڑی بھی سادہ تھی، اور ان کا اخلاق بے مثال تھا۔ تو میں وہاں موجود یہ سب دیکھ کر شدید حیرت محسوس کر رہا تھا۔ میری حیرت اس وقت اور بڑھ گئی جب میں نے اسامہ کے والد کو زمین پر بیٹھ کر مالی کے ساتھ پھول لگاتے دیکھا، اور پھر کچن میں جا کر باورچی کی مدد کرتے دیکھا۔ ان کے اپنے فارم ہاؤس میں شادی کی تقریب کی تیاریوں کے لیے لوگوں کی ایک بہت بڑی ٹیم موجود تھی۔ میں اس شخص کو دیکھ رہا تھا جس کی ذات سے عاجزی چھلک رہی تھی۔ ایک ایسا انسان جو اتنی زبردست مالی حیثیت کا مالک تھا، لیکن اس کا رویہ کس قدر عاجزانہ اور خادمانہ تھا۔ اس چیز نے ایک حقیقی مرد ہونے سے متعلق میرے تصوّر کو توڑ کر رکھ دیا۔ اس نے کامیابی کے بارے میں میری سوچ ہی بدل دی۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ میں اس کے باوجود شدید شک اور خوف کا شکار تھا۔ میں سوچتا تھا، میں ان لوگوں کی چالیں خوب سمجھتا ہوں۔ یہ بس مجھے باتوں میں لگا رہے ہیں تاکہ جب میں سو جاؤں تو میرا گلا کاٹ سکیں۔ اس وہم اور خوف نے مجھے ذرا برابر بھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیا۔ میں اپنے آپ سے کہتا، احمق مت بنو۔ پھر اس بات پر تھوڑی لے دے ہوئی کہ وہ مجھ پر مسلسل زور دے رہے تھے کہ میں ماسٹر بیڈروم میں ٹھہروں، کیونکہ میں ان کا خاص مہمان تھا۔ بالآخر میں نے یہ کہہ کر ان سے اپنی بات منوا ہی لی کہ مجھے انسومنیا ہے، اس لیے میں بس صوفے پر لیٹ جاؤں گا اور یہ بالکل ٹھیک رہے گا۔ میں اپنی بات منوانے میں کامیاب ہو گیا۔ اور پھر میں وہاں بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہا تھا اور چینل بدل رہا تھا۔ مجھے صحیح سے وقت تو یاد نہیں، لیکن شاید رات کے کوئی تین بج رہے تھے۔ مجھے ان کے بھائی کے اٹھنے کی آواز آئی۔ اور جیسے ہی مجھے محسوس ہوا کہ وہ اٹھ رہے ہیں، میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اور جیسے ہی میں نے "اللہ اکبر" سنا۔۔۔ میں تو جیسے وہیں جم گیا۔ میں خوف کے مارے سہم گیا۔ کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ "اللہ اکبر" کے بعد کیا ہوتا ہے۔ ٹی وی پر 24 گھنٹے یہی تو آتا تھا کہ اب کوئی دھماکہ ہو گا۔ میں نے سوچا یہ بندہ اپنی مذہبی رسومات ادا کر رہا ہے تاکہ خود کو تیار کر کے آئے اور میرا گلا کاٹ دے، اور اپنے خدا کی بارگاہ میں میری قربانی پیش کرے یا جو کچھ بھی وہ کرنا چاہتا تھا۔ مجھے نہیں معلوم، لیکن جو بھی تھا ٹھیک نہیں تھا، کیونکہ "اللہ اکبر" کے الفاظ میرے لیے بہت منفی اور خوفناک معانی رکھتے تھے۔ مجھ سے ہلا بھی نہیں جا رہا تھا۔ میں نے خود سے پوچھا، "ایڈوارڈو، تم یہاں آئے ہی کیوں؟ تم کتنے بڑے بے وقوف ہو!
تم جانتے تھے کہ یہ لوگ خطرناک ہیں اور اب تم یہاں پھنس چکے ہو اور مارے جانے والے ہو!" اور مجھے یاد ہے میں نے خاص طور پر خدا سے التجا کی کہ وہ مجھے اس ناگزیر مصیبت سے بچائے۔ میں خدا سے مسلسل دعا کر رہا تھا اور مدد مانگ رہا تھا۔ سیمو محمد کا سایہ آہستہ آہستہ بڑا ہو رہا تھا، اور مجھے فرش چرچرانے کی آوازیں آ رہی تھیں کیونکہ وہ میری طرف بڑھ رہے تھے۔ اور مجھے یاد ہے ان کا بڑا سا ہاتھ آگے بڑھا، اور میری طرف آ رہا تھا۔ انہوں نے ایک کمبل اٹھا کر مجھ پر ڈالا، لائٹ بند کی، ٹی وی بند کیا اور واپس سونے چلے گئے۔ بس اسی لمحے، میرے دل نے گواہی دی کہ ان جیسے لوگوں کا برا انسان ہونا ناممکن ہے۔ میری والدہ ہمیشہ مجھ سے کہتی تھیں کہ اگر تم جاننا چاہتے ہو کہ تم بطور انسان کیسے ہو، تو خود کو اس وقت دیکھو جب تمہیں کوئی نہ دیکھ رہا ہو۔ وہی تمہاری اصل حقیقت ہوتی ہے۔ اور یہاں یہ بھائی تھے، جو آدھی رات کو جب کوئی دیکھنے والا نہیں تھا، اپنے رب سے راز و نیاز کرنے کے لیے اٹھے تھے۔ اور اس عبادت نے انہیں اپنے مہمان کے ساتھ اور بھی زیادہ اچھا سلوک کرنے پر ابھارا ایک ایسا مہمان جس کی پہلے ہی وہ حد سے زیادہ شاندار مہمان نوازی کر چکے تھے۔ مجھے اپنے آپ پر شدید شرمندگی محسوس ہو رہی تھی، کیونکہ میں جانتا تھا کہ میری تربیت متعصب بننے کے لیے نہیں ہوئی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ مجھے نسل پرست بنا کر نہیں پالا گیا تھا۔ اور میں اس سے کہیں بہتر انسان تھا۔ اور مجھے بہت زیادہ۔۔۔ میرا خیال ہے صحیح لفظ شرمندگی ہی ہو گا۔ اور یہ پہلا موقع تھا جب اللہ نے میرے دل میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے نرمی پیدا کی۔ چنانچہ اگلے دن، سیمو محمد نے مجھ سے کہا کہ وہ جمعے کی نماز پڑھنے جا رہے ہیں، جو مردوں کے لیے جمعے کے دن کی فرض نماز ہے۔ پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں ان کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا، "بالکل، میں آپ کے ساتھ چل رہا ہوں۔" اور یہ پہلا موقع تھا جب میں کسی مسجد میں گیا، اور مجھے یاد ہے کہ میں اس بالکل سادہ اور باوقار ماحول کو دیکھ کر ششدر رہ گیا جہاں لوگ اپنے جسم کا سب سے معزز حصہ یعنی اپنا ماتھا، اپنا چہرہ اپنے رب کی عبادت کے لیے زمین پر رکھ رہے تھے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے نماز پڑھی،اور مجھے یاد ہے میں نے ایک نئی زندگی اور تازگی محسوس کی۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں، لیکن اللہ مجھے ایک ایسے ماحول میں لے آیا تھا جہاں مجھے اندر سے واقعی یہ محسوس ہوا کہ میں دوبارہ سے جی اٹھا ہوں۔ وہاں کوئی تصویریں نہیں تھیں۔ کوئی کرسیاں نہیں تھیں، کوئی بینچ نہیں تھے، وہاں ایک ایسے ماحول کے سوا کچھ نہیں تھا جو آپ کو مکمل توجہ قائم کرنے میں مدد دے۔ کس پر توجہ؟ اللہ پر توجہ۔ پھر اسامہ کے بھائی نے اتنی دانشمندی سے بات کی کہ بطور عیسائی مجھے لگا کہ ان کے دل میں میری بڑی عزت ہے، کیونکہ انہوں نے بتایا کہ قرآن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام حضرت محمدﷺ کے مقابلے میں 25 گنا زائد بار آیا ہے۔ اور انہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا، "ہمارے ہاں ایک سورت ہے جس کا نام 'مریم' ہے، اور بطور مسلمان ہم سچ مچ عیسائیوں کا احترام کرتے ہیں کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ انجیل بھی بنیادی طور پر وحی کا حصّہ تھی، لیکن تاریخ کے سفر میں، بدقسمتی سے، اس میں تحریف اور تبدیلیاں ہو گئیں۔ لیکن چونکہ ہم نہیں جانتے کہ کون سا حصّہ بدلا گیا اور کون سا اصلی حالت میں ہے، اس لیے ہمیں اس کا احترام کرنا ہوتا ہے۔" مجھے لگا کہ واہ، یہ لوگ ہماری عزت کرتے ہیں، یہ ہم پر تنقید نہیں کر رہے۔ میں سارا دن عیسائیوں کو مسلمانوں کی برائی کرتے ہی سنتا تھا، اور یہاں یہ مسلمان تھے جو عیسائیوں کے بارے میں اتنے احترام سے بات کر رہے تھے۔ تو میں بس اسی وقت ان لوگوں اور اس طرزِ زندگی کی محبت میں مزید گرفتار ہوتا چلا گیا، اور جب میں مراکش سے واپس آیا تو اسلام کے لیے میرا جوش و جذبہ دس گنا بڑھ چکا تھا۔ چنانچہ جب بھی میرے آس پاس کوئی شخص مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں برا بھلا کہتا تھا، تو میں براہِ راست اس کا مقابلہ کرتا تھا۔ اگر کوئی قرآن کے بارے میں فضول بات کرتا، تو میں کہتا، "تم نے آخری بار یہ کتاب کب کھولی تھی؟ کبھی نہیں!
تو اپنا منہ بند رکھو۔" مسلمانوں کی وکالت کرنے کا یہ ایک کافی جارحانہ اور بے باک انداز تھا۔ کچھ لوگوں نے تو سچ مچ مجھ سے پوچھا، "کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟ آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ تم بالکل بدل گئے ہو۔" اور میں نے روزے رکھنا بھی شروع کر دیے۔ آپ کی معلومات کے لیے بتا دوں کہ میں اسلام قبول کرنے سے پہلے ہی روزے رکھ رہا تھا۔ میں نے دو مرتبہ روزے رکھے۔ تو لوگوں کو اندازہ ہو رہا تھا اور وہ پہلے ہی سے یہ قیاس آرائیاں کر رہے تھے کہ ایسا ہونے والا ہے۔ مجھے خود ہی معلوم نہیں تھا بالکل آخری لمحے تک، جب میں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا، مجھے ذرا اندازہ نہیں تھا کہ ایسا ہونے جا رہا ہے۔ پھر میری نظر سے میلکم ایکس کی کہانی گزری۔ اور میلکم ایکس کی کہانی نے مجھے اسلام قبول کرنے کی ہمت دی، کیونکہ اس شخص کی کہانی ایک ایسی اثر انگیز اور آنکھیں کھول دینے والی یاد دہانی ہے کہ زندگی میں آپ کا مقصد صرف سکون یا تحفظ کی تلاش نہیں، بلکہ سچائی کی تلاش ہے۔ اور انہوں نے اپنی پوری زندگی اتنی بے باکی اور نڈر انداز میں گزاری کہ وہ اس جدید دور میں میرے لیے حقیقی مردانگی اور بہادری کی ایک مثال بن گئے۔ فلم ختم ہوتے ہی میں نے اسامہ کو کال کی اور اس سے کہا، "اسامہ!
سنو برو، میں اب مسلمان ہو گیا ہوں۔" اور اسامہ بولا، "اللہ اکبر، تکبیر!" وہ اتنا پرجوش تھا کہ چیخنے لگا، اور وہ مجھ سے یوں بات کر رہا تھا جیسے میں پہلے ہی سے مسلمان ہوں۔ وہ مسلسل کہہ رہا تھا، "ماشاء اللہ!" مجھ سے اس نے پہلے کبھی ایسی باتیں نہیں کیں کیونکہ وہ مجھ سے بات کرتے ہوئے میری حسِ مزاح اور زبان کا بہت خیال رکھتا تھا۔ پھر پوچھا، "کیا تم نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا ہے؟ یار یہ تو بہت زبردست بات ہے، مجھے اور بتاؤ!" میں نے پوچھا، "کیا پڑھ کر لیا ہے؟ شہادت؟" میرے لیے تو وہ ایسا تھا جیسے کھانے کی کوئی چیز ہو جو مجھے کھانی پڑے گی، جیسے شوارما!
میں نے کہا، "وہ کیا چیز ہے؟ میں تو بس ابھی ابھی مسلمان ہوا ہوں، تم کیا باتیں کر رہے ہو؟" اس نے کہا، "نہیں، لیکن تمہیں اپنی گواہی دینی ہو گی۔" "وہ کیا ہوتا ہے؟" اس نے بتایا، "مطلب کہ تمہیں اپنے ایمان کا اقرار یعنی گواہی دینی ہو گی۔" چنانچہ میں نے کال پر ہی اپنے ایمان کا اقرار اور گواہی دی۔ پھر اسامہ نے کہا، "میں تمہیں مسجد لے کر چلتا ہوں۔" اور یوں میں اس کے ساتھ ICQ یعنی اسلامک سینٹر آف کیوبیک کی مسجد پہنچ گیا۔ مجھے یاد ہے جب میں اپنا کلمۂ شہادت پڑھ رہا تھا، تو میں ایک ایسے ماحول میں موجود تھا جہاں مجھے ہر طرف بنگالی، پاکستانی، ہندوستانی اور عربی ہی دکھائی دے رہے تھے، اور یہ میرے لیے ایک زبردست کلچرل شاک تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے دل میں سوچا، "ایڈوارڈو، کیا تم واقعی جانتے ہو کہ تم کس چکر میں پڑ گئے ہو؟ یعنی یہ تمہارا ماحول نہیں لگتا۔ بڑی بڑی داڑھیوں اور عماموں والے لوگ، اور انہوں نے روایتی عرب لباس جبے پہن رکھے تھے۔" مجھے بس ایسا لگا جیسے میں غلط لوگوں کے درمیان آ گیا ہوں۔ اور معاملے کو مزید سنجیدہ بنانے والی بات یہ ہوئی کہ کلمہ پڑھنے کے بعد، یہ تمام مرد آگے بڑھے اور مجھے گلے لگانے اور چومنے لگے، مجھے یاد ہے کہ میں اس سب سے بالکل گھبرا سا گیا تھا، کیونکہ میں نے پہلے کبھی کسی مرد کو گلے نہیں لگایا تھا۔ میں تو اپنے والد کو بھی بمشکل ہی گلے لگاتا تھا۔ اور اب یہ بڑی داڑھیوں والے لوگ آ کر مجھے گلے لگا رہے تھے اور میرے ماتھے پر بوسہ دے رہے تھے۔ تو میرے لیے یہ میری مردانگی پر ایک چوٹ جیسا تھا۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ وہ بھائی اتنے مخلص، نم آنکھوں والے اور خوش تھے کہ مجھے احساس ہو گیا تھا کہ یہاں کچھ بہت خاص ہو رہا ہے، جو اس وقت میری سمجھ سے بالاتر تھا۔ جب میں نے کلمہ پڑھا، تو ایک بھائی میرے پاس آئے، انہوں نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا، "بھائی، میں آپ کو ایک بہت اہم نصیحت کرنے لگا ہوں، اور آپ مجھ سے وعدہ کریں کہ آپ اسے کبھی نہیں بھولیں گے: اسلام کو دیکھیں، مسلمانوں کو نہ دیکھیں۔" اور مجھے نہیں معلوم کیوں، لیکن میں سمجھ گیا کہ وہ کوئی بہت اہم بات کہہ رہے ہیں، میں نے اس نصیحت کو پلے باندھ لیا، اور اس نے کئی بار میرے ایمان کی حفاظت کی۔ اور میرے ذاتی معاملے میں، میں کہوں گا کہ سب سے بااثر لمحہ وہ تھا جب میری دعا بالکل حرف بہ حرف پوری ہوئی، اور جہاں میں نے اللہ سے تین چیزیں مانگی تھیں: مجھے سچائی دکھانے کے لیے کسی غیر ملکی کو بھیجے، تاکہ میں سچائی پر قائم اس قبیلے کا حصہ بن سکوں، اور تاکہ مجھے اپنی باقی کی زندگی کے لیے اسی قبیلے سے ایک ہمسفر بھی مل سکے۔ اسامہ وہی غیر ملکی تھا جو وہ پیغام لے کر آیا، ہے نا؟ اس نے اسلام کے پیغام کے ذریعے مجھے اس قبیلے تک رسائی دی، اور میں نے ایک مراکشی خاتون سے شادی کر لی۔ تو انسان ایسی باتیں خود سے نہیں گھڑ سکتا۔ اسلامی طرزِ زندگی کو اپنانا، حرام چیزوں سے بچنا، دن میں پانچ وقت کی نماز پڑھنا وغیرہ، یہ سب آپ کے لیے کتنا مشکل تھا؟ درحقیقت، جب میں نے اسلام قبول کیا، تو میں فوراً ہی کوئی پارسا انسان نہیں بن گیا تھا۔ اگلے ہی ہفتے، میں ساحلِ سمندر پر موجود تھا، اور میرے پاس نماز کے طریقے کے وہ اوراق تھے جو میں نے جہاز میں سوار ہونے سے پہلے پرنٹ کیے تھے۔ میں ساحل پر بغیر شرٹ کے، شارٹس، کانوں میں بالیاں اور ٹوپی پہنے نماز پڑھنا سیکھ رہا تھا۔ آپ سمجھ رہے ہیں نا؟ تو میں واقعی کافی جدوجہد کر رہا تھا، لیکن اپنی طرف سے پوری کوشش میں لگا ہوا تھا۔ مسلمان بننا، خاص طور پر جب آپ کا طرزِ زندگی ویسا رہا ہو جیسا میرا تھا، حقیقتاً ایک بار پھر سے جینا سیکھنے جیسا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے آپ سیدھے ہاتھ سے کام کرنے کے عادی ہوں تو الٹے ہاتھ کا استعمال سیکھ رہے ہوں، یہ چیزیں فطری عادت سے بالکل مختلف لگتی ہیں۔ لیکن جس چیز نے میری سب سے زیادہ مدد کی، وہ یہ تھی کہ میں نے باقاعدہ اپنا ماحول بدلنا شروع کیا اور جس یونیورسٹی میں میں پڑھ رہا تھا، وہاں کی مسلم اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن میں شامل ہو گیا، اور خود کو ایسے لوگوں کے درمیان گھیر لیا جو میرے لیے راہنما کا کردار ادا کر سکتے تھے۔ لیکن یہ کافی مشکل تھا، کیونکہ میری بہت سے مسلمانوں کے ساتھ بنتی نہیں تھی، اور آپ کو سمجھنا ہو گا کہ یہ 9/11 کے فوراً بعد کا وقت تھا، اس لیے بہت سے مسلمان اپنے دین کے بارے میں کافی معذرت خواہانہ رویہ رکھتے تھے، اور میرے لیے مسلمانوں سے مضبوط تعلقات قائم کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ غلط نہ سمجھیے گا، مجھے اسلام کے بارے میں کبھی کوئی شک نہیں تھا، میں ہمیشہ سے مطمئن تھا۔ لیکن مجھے اس بارے میں شدید خدشات تھے کہ آیا میرے اندر ایک مسلمان کے طور پر اس سفر کو جاری رکھنے کی طاقت ہوگی بھی یا نہیں، کیونکہ ماحول کے لحاظ سے یہ بہت دشوار تھا-- میں گناہ اور حرام کاموں کے بہاؤ کے خلاف تیر رہا تھا۔ پھر مجھے احساس ہوا میں اس بہاؤ کے خلاف نہیں تیر سکتا، مجھے اپنی لین یعنی راستہ ہی بدلنا پڑے گا۔ اور الحمد للہ، میں نے یہی کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد، کیا آپ کے آس پاس کا بھی کوئی شخص مسلمان ہوا؟ کیا بعد میں آپ کے گھر والوں میں سے کسی نے اسلام قبول کیا؟ میرا ایک نیا نو مسلم لاطینی دوست بنا، اور میں بہت خوش تھا کیونکہ میں اس کے ساتھ گھومتا پھرتا اور ہم مل کر تفریح کرتے تھے۔ ایک دن، اس نے اپنی بیسمنٹ میں اپنی سالگرہ کا اہتمام کیا، جس میں میرے ہائی اسکول کا ایک اور لڑکا بھی آیا تھا جو اس کا سب سے بہترین دوست تھا، اور ہم وہاں ایک ایسے ماحول میں موجود تھے جو بالکل حلال نہیں تھا۔ وہاں بہت سے غلط کام ہو رہے تھے۔ پھر سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کے بعد اس نے اعلان کیا، اور بتانے لگا کہ وہ کیوبیک کے اپنے اس بہترین دوست کو، جو ہم دونوں کا مشترکہ دوست بھی تھا، ایک ایسا شاندار تحفہ دینے جا رہا ہے جو کوئی دوست اپنے بہترین دوست کو دے سکتا ہے۔ میں دُور سے یہ سب دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا، "خدا کرے یہ قرآن نہ ہو۔" کیونکہ اگر اس نے اسے قرآن دے دیا، تو وہ اس کے اوراق سے سگریٹ بنا کر پی جائے گا، کیونکہ میں نے اسے اپنی زندگی میں کبھی بھی ہوش میں نہیں دیکھا تھا۔ وہ ہمیشہ نشے میں دھت رہتا تھا۔ تو میں نے اس کے بارے میں ایک غلط رائے قائم کر لی۔ چنانچہ ہمارا کیوبک کا دوست اس کی طرف بڑھا، تحفہ لیا، اور نشے میں ہونے کی وجہ سے جاتے ہوئے تقریباً لڑکھڑا کر گرنے ہی والا تھا۔ اور بولا، "اوہ، بہت شکریہ!
یہ تو آپ کی بڑی مہربانی ہے۔" اور جب اس نے اسے کھولا میں نے دیکھا کہ وہ قرآن ہی تھا۔ تو میں نے دل میں سوچا، "آہ، قرآن کا کتنا غلط استعمال ہو رہا ہے۔" کچھ مہینوں بعد، یا شاید ایک سال بعد، میں اپنے سسرال کے قریب واقع ایک مسجد میں رات کے کھانے کے بعد موجود تھا، اور ہم نے ابھی عشاء کی نماز مکمل ہی کی تھی کہ کسی نے پیچھے سے میرے کندھے پر تھپتھپایا۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔ وہ وہی بندہ تھا جسے میرے پیرو والے دوست نے قرآن تحفے میں دیا تھا۔ اس نے کہا، "السلام علیکم، آپ کا کیا حال ہے؟" مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے۔ اور مجھے یہ بات سمجھنے میں چند منٹ لگے کہ جس لڑکے کو میرے پیرو والے دوست نے قرآن دیا تھا، وہ مسلمان ہو چکا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب اس نے مجھے اپنی صورتحال بتائی تو پہلی بات جو میں نے اس بھائی سے کہی وہ یہ تھی، "مجھے معاف کیجیے گا، مجھے آپ سے بالکل سچ کہنا پڑے گا۔ میں نے آپ کے بارے میں غلط رائے قائم کرلی تھی اور میں نے سوچا تھا کہ آپ اس قرآن کو ضائع کر دیں گے اور اس کے صفحات سے سگریٹ بنا لیں گے۔" اور میں نے فوراً ہی اس سے معافی مانگی، کیونکہ دیکھ لیں، ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ اللہ کسے ہدایت بخش دے۔ نبیِ پاک ﷺ کے بارے میں آپ کو سب سے زیادہ کس چیز نے متاثر کیا؟ ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ مردانگی اور اعلیٰ اخلاق کا ایک کامل نمونہ تھے۔ اور دنیا پر ان کی شخصیت کے اثرات کو صحیح معنوں میں سمجھنے میں مجھے ایک لمبا عرصہ لگا، کیونکہ اسلام کو جاننے کے اس سفر میں اکثر آپ سے یہی کہا جاتا ہے کہ آپ کو ان سے محبت کرنی ہے، لیکن کسی کو جاننے اور سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ اور ہمارے نبی حضرت محمدﷺ کی کئی سوانح حیات پڑھنے کے بعد مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ وہ "حجة الاسلام" ہیں یعنی وہ خود اسلام کا روشن ثبوت ہیں۔ وہ اپنے بے عیب کردار، اپنی دیانت داری اور عاجزی کے باعث بذاتِ خود ایک معجزہ ہیں۔ اور دیکھئے۔۔۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے کتنی ہی بار ان کی تصحیح فرمائی، اور وہ فوراً ہی خود کو اس کے مطابق ڈھال لیتے تھے۔ "جب تک تو مجھ سے راضی ہے، میرے لیے بس وہی کافی ہے۔" تصور کریں نبیِ پاک ﷺ اس کمرے میں تشریف لاتے ہیں، وہ پہلے الفاظ کون سے ہوں گے جو آپ ان کی خدمت میں عرض کرنا چاہیں گے؟ مجھے نہیں لگتا کہ میں کچھ بول سکوں گا۔۔۔ میں۔۔۔مجھے نہیں معلوم کہ میں ان کی طرف دیکھ بھی سکوں گا یا نہیں۔ میں شاید ان کے قدم چومنا چاہوں گا۔ ہمم۔۔۔ جی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں ان کی ملاقات کا شرف عطا فرمائے، ان شاء اللہ۔ آمین۔ اگر آپ کو دنیا کے تمام غیر مسلموں سے، خاص طور پر برازیل اور کینیڈا کے لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملے، تو آپ چند منٹوں میں ان سے کیا کہنا چاہیں گے؟ میں کہوں گا کہ اسلام کو ایک موقع دے کر دیکھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اسلامو فوبیا خود ساختہ پھیلایا گیا ہے۔ یہ دنیا میں پیش آنے والا کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔ اس صنعت کے پیچھے ایسے لوگ موجود ہیں جو دن رات محنت کر رہے ہیں تاکہ عام لوگ اس الجھن کا شکار رہیں کہ مسلمان کون ہیں اور ان کا بنیادی پیغام کیا ہے۔ اور ایک ایسے معاشرے کے طور پر جو خود کو منطقی اور عقل مند سمجھنے پر فخر کرتا ہے، میرے خیال میں یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے ان دعووں کو سچ کر دکھائیں اور خود کو گھٹیا پروپیگنڈے کے ذریعے گمراہ نہ ہونے دیں۔ کیا آپ نے بھی اسلام قبول کیا ہے مگر سمجھ نہیں آ رہا کہاں سے سٹارٹ کریں؟ یا شاید آپ پیدائشی مسلمان ہیں مگر ایک فریش سٹارٹ لینا چاہتے ہیں اور اسلام کو بالکل شروع سے سیکھنا چاہتے ہیں؟ اسی لیے ہم نے Step Islam ایپ بنائی ہے۔ یہ بالکل فری اور ایڈ-فری ایپ ہے جو آپ کو بہت ہی کلئیر اور آرگنائزڈ طریقے سے اسلام کے بارے میں سکھاتی ہے۔ آپ ایزیلی ایمان کی بیسکس، اہم قرآنی ٹرمز سیکھیں گے، اور ایسے پریکٹیکل ٹاسکس پورے کریں گے جن سے آپ اپنے حساب سے، زندگی بھر کی عادتیں بنا سکیں۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر اسے ڈیلے مت کریں۔ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں، Step Islam ڈاؤنلوڈ کریں، اور ہمیشہ کی خوشی کی طرف اپنا پہلا سٹیپ آج ہی لیں۔