Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

غیر مسلم، یونیورسٹی کا طالب علم مسلمان ہو گیا - سٹریٹ انٹرویو

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

میری راۓ میں، میں ایک ملحد (بے دین) ہوں۔ یہ سوال میں اپنے آپ سے پچھلے 2-3 سالوں سے پوچھ رہا ہوں۔ کیا واقعی اس جہاں کو بنانے والا کوٸ خالق ہے یہ جاننا ناممکن ہے۔ کیا انسانوں کو تخلیق کرنے والی کوئی ذات نہیں ہے؟ مجھے ایسا نہیں لگتا ہے۔ اگر ہے تو اسلام ہی کیوں؟ 1430 سال پہلے لکھی گئی اس کتاب میں لوہے کا ذکر کیوں ہے؟ ساٸنسدانوں نے لوہے کی تخلیق پر تحقیق کی ہے۔ تو اب یہ قابل تسلیم بات لگتی ہے۔ آپ کیا کرتے ہیں؟ ایسا لگتا ہے کہ آپ اسکول سے آرہے ہیں۔ جی ہاں، میں ٹکٹ خریدنے کے لیے چلا گیا تھا، بس ابھی واپس آیا ہوں۔ آپ کیا پڑھتے ہیں؟ میں جیومیٹری انجینئرنگ کے فرسٹ ایٸر میں پڑھتا ہوں۔ بہت خوب بھائی۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کس عقیدہ کے پیروکار ہیں۔ جب مذکورہ سوال مجھ سے پوچھا جاتا ہے تو میں یہی کہتا ہوں کہ، میں ایک ملحد (بے دین) ہوں۔ اور آپ کتنے عرصے سے اپنے آپ کوملحد کہہ رہے ہیں؟ پچھلے 2-3 سالوں سے۔ کیا آپ کو خدا کی ذات پر کوئی بے یقینی ہے کیا 3 سال پہلے کسی رب کو نہیں مانتے تھے؟ مجھے لگتا ہے کہ بطور انسان ہمارے لئے یہ جاننا ممکن نہیں ہے کہ کوئی رب ہے یا نہیں ہے۔ کیا آپ نے ایسا 3 سال پہلے محسوس کیا تھا؟ پھرآپ لادینیت کی طرف ماٸل ہو گئے- کیا آپ پہلے مسلمان تھے؟ ہاں بہت سے لوگوں کی طرح ، پیدائش سے ہی۔ جب علم آتا ہے تو شک دور ہوجاتا ہے، ٹھیک ہے نا؟ پھر جب ہمیں سچ مل جائے تو لادینیت (بے دینی) بھی ختم ہوجانی چاہیے۔ مثال کے طور پر، اگر میں پوچھوں، "اس سڑک پر کتنے لوگ ہیں؟" ہم نہیں جان سکتے۔ ہم اس وقت تک نہیں جان سکتے جب تک سب کو شمار نہ کرلیں سب کو شمار کرلینے کے بعد کیا اب بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی شک ہے؟ ہاں پھرشک ختم ہو جاتا ہے۔ بالکل ، جہاں علم ہو، وہاں نتیجہ نکالنا آسان ہو جاتا ہے۔ آپ یا تو ایک چیز کا فیصلہ کریں گے یا دوسری چیز کا۔ اگر ہم خالق کے وجود کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ یہ حقائق جاننے کے بعد کیا آپ اپنا خیال بدلیں گے؟ اگر میں آپ کو قائل کرلوں تو؟ تب میں کیوں انکار کروں گا؟ ہاں ایسا کرنا ٹھیک بھی نہیں ہے۔ نیوٹن جسے سائنس کا باپ کہا جاتا ہے اس کی ایک بہت اچھی کہاوت ہے اس نے کہا تھا کہ: "ایک تخلیق کار کو ہم اس کی تخلیقات کے ذریعے تلاش کرسکتے ہیں۔" موجودہ دور کے ایک نامور اسکالر بدیع الزماں سعید النورسی کہتے ہیں: "فن کا عمدہ انداز ہی فنکار کی اصل خوبی ہے" اسی دلیل کے ساتھ آئیے اندازہ لگائیں۔ مثال کے طور پر انسانوں کی "ظاہری آنکھ" اور "باطنی آنکھ" دونوں ہوتی ہیں۔ "ظاہری آنکھ" کیا ہے؟ جب ظاہری آنکھ فکر کے بغیر جانچتی ہے، تو یہ صرف نگاہ استعمال کرتی ہے۔ لیکن ، باطن کی آنکھ؟ یہ ظاہری آنکھ سے دیکھنے اورسوچ بچار سے تعین کرنے کے مطابق ہی فیصلہ کرتی ہے جب آپ سورج کی طرف دیکھیں تو بتاٸیں …

آپ کو کیا لگتا ہے یہ بڑا ہے یا چھوٹا؟ یہ چھوٹا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن، جب فکر کی آنکھ سے دیکھتے ہیں ہم سمجھ پاتے ہیں کہ یہ کتنا بڑا علم ہے۔ یہ علم ہے کہ شے چھوٹی دکھائی دیتی ہے جیسے جیسے مبصر اور شے کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ اور آپ کہتے ہیں کہ یہ بہت بڑا ہے۔ تو، ظاہری آنکھ نے توغلطی کی، لیکن فکر کی آنکھ نے ایسا نہیں کیا۔ مثال کے طور پر، کیا آپ نے مونا لیزا پینٹنگ کے بارے میں سنا ہے؟ جی ہاں.

کیا یہ تجاوز نہیں ہے؟ اگرچہ یہ بہت مشہور ہے، البتہ آپ اس کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ اس کی تشریح مختلف طریقے سے کی جاتی ہے بھلا ہر فرد کے لۓ اس کا مختلف ہونا کیسے ممکن ہے۔ دن بہ دن اس کے بارے میں نئی معلومات دریافت ہوتی رہتی ہیں۔ ڈاونچی نے بہت سے مختلف رنگ استعمال کیے ہیں۔ مگر لوگ رنگوں کے درمیان ردوبدل کو نہیں ڈھونڈ پاتے ہیں۔ ان میں چھپے رنگوں کو شناخت نہیں کر پاتے ہیں ہاں مگر ہم فن کا ایک بہت خوبصورت امتزاج دیکھ سکتے ہیں۔ لیونارڈو ڈاونچی نے اس کام کو مکمل کرنے میں 4 سال لگادیے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ انمول ہے۔ کیا آپ نے کبھی پینٹنگ میں مونا لیزا کے جذبات کا جائزہ لیا ہے؟ یہ بتانا مشکل ہے کہ وہ خوش ہے یا اداس ہے فرض کریں کہ آپ کسی ورکشاپ میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں مونا لیزا کی پینٹنگ رکھی ہے۔ یہ آپ کے سامنے ہے۔ اور آس پاس کوئی نہیں ہے۔ آپ اس بات کی وضاحت دیں کہ کوئی بھی یہاں نہیں ہے لہذا یہ خود ہی ظاہر ہوگٸی ہے۔ کیونکہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دیواروں پر وہی پینٹ ہے جیسا کہ پینٹنگ پر رنگ لگا ہوا ہے۔ لہذا ایسا دکھائی دیتا ہے کہ شاید ہوا نے رنگوں کو بکھیر دیا ہے اور پینٹنگ ابھی نمودار ہوئی ہے۔ لادینیت بھی محض اسی طرح کی کوئی بات لگتی ہے۔ یہ بہت ہی غیر مناسب بات لگتی ہے ، ٹھیک ہے نا؟ لیکن، آپ کے باطن کی آنکھ کیا کہتی ہے؟ یہ پینٹنگ کس نے بنائی ہے؟ بالکل اسی طرح ، اگر اسقدر تفصیل کے ساتھ کوئی پینٹنگ ہے، اگر ترتیب بھی عمدہ ہے توعلم وحکمت کا ہونا بھی لازم ہے۔ تو یقینا کوئی حکمت والا بھی ضرور ہوگا۔ اب، میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں۔ مونا لیزا کا فن زیادہ ہے یا لیونارڈو ڈاونچی کا؟ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈاونچی زیادہ برتر ہے۔ یقینا ، وہ اپنے تخلیق کۓ ہوئے کام سے زیادہ برترہے نا؟ کیا آپ انسانی جسم کو جانتے ہیں؟ انسانی جسم میں تقریبا 60 عناصر ہوتے ہیں۔ سب عناصر کی ترتیب بہت حساس ہے۔ اگر تھوڑی سی تبدیلی بھی ہو بیماریاں ظاہر ہوتی ہیں ، ٹھیک ہے؟ سچ بات ہے۔ جسم میں لوہے اور تانبے جیسے بھی بہت سے عناصر ہوتے ہیں۔ تانبے کی کمی وجہ سے صحت کے مسائل پیدا ہوں گے۔ کیونکہ، تانبا خون کو توازن فراہم کرتا ہے۔ پھر میرا یہی کہنا ہے کہ عناصر کو یکجا کرکے حیرت انگیز انسانی جسم تخلیق کیا گیا ہے ، ٹھیک ہے؟ ہاں ، یہ بہت نمایاں کاریگری ہے۔ لیکن ، اگر کوئی تخلیق کار موجود ہے مجھے بات پوری کرنےدیں پھرآپ اپنی بات کرسکتے ہیں۔ مجھے کچھ وضاحت دے دوں پھر آپ مائیکروفون لے سکتے ہیں۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ مونا لیزا کے خود بخود ظاہر ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ تو پھراگر ایک انسانی جسم جو کہ 60 سے زائد عناصر کے ساتھ ایک فن پارہ ہے ، یہ اتنی درست ترتیب سے محض اتفاقی طور پر کیسے تخلیق ہو سکتا ہے؟ کیا اب بھی کوئی امکان ہے کہ کوئی تخلیق کار موجود نہیں ہے؟ ہم یہ تو کہتےہیں کہ مونا لیزا کو ضرور کسی مصور نے بنایا ہے۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ اس پینٹنگ کو بنانے والے لیونارڈو دا ونچی کو کسی نے تخلیق نہیں کیا ہے ؟ مجھے ایسا لگتا ہے لیونارڈو ڈا ونچی کا کوئی خالق ہوسکتا ہے، مگر ہم اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ، ہم اس بات کا یقین تو کر سکتے ہیں کہ کیا ہو سکتا ہے اور کیا نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم کہیں کہ " ہوا سے بکھرنے والے رنگوں نے مونا لیزا کی تصویر بنائی ہے؟" یہ نہیں ہو سکتا۔ تب تو انسان کو بھی کسی نے بنایا ہے۔ مثال کے طور پرہم کہتے ہیں کہ x نے اسے بنایا ہے y یا X کیونکہ ، میں کسی بھی تخلیق کو دیکھتے ہوۓ اس کے خالق کی خصوصیات تلاش کرسکتا ہوں۔ 1۔ اس میں عقل ہونی چاہیے۔ اگر مونا لیزا کو عقل و حکمت کے بغیر نہیں بنایا جا سکتا تو پھرانسان کو اس کے بغیر کیسے تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ در حقیقت، بات ایک انسان کی نہیں بلکہ لاتعداد انسانوں کی ہے۔ لاکھوں قدرت کے شاہکار ہیں۔ وہ جو بھی ہے، کیا اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ علم والا ہے؟ ہاں اگر کوئی خالق ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ علم والا ہے۔ کیا کسی صفت کا وجود اسم کے بغیر تصور کیا جا سکتا ہے؟ مثال کے طور پر میں نے کہا کہ، بہت باکمال ہے۔ " تو اس بات کو نظر انداز کر دیا جاۓ گا۔ آپ جاننا چاہیں گے کہ "باکمال کون ہے؟" اگر میں کہوں کہ کوئی باکمال ہے۔ یعنی میں نے کسی ذات کو اس خوبی کا حقدار ٹہرایا، ٹھیک ہے؟ یعنی کہ ہم اسے ادھورا نہیں چھوڑرہے ہیں اگر ہم قبول کررہے ہیں کہ کوئی باکمال ہے تب ہم نے تخلیق کار کو خود بخود قبول کرلیا۔ کیا یہ خودبخود نہیں ہوگا؟ ہاں ، ایسا ہی ہوگا۔ ہم کون سی دیگر خصوصیت دیکھ سکتے ہیں؟ اگر خالق زندہ نہیں ہے تو کیا زندگی بنائی جا سکتی ہے؟ نہیں پھر ہمیں یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ ، سب سے اہم چیز ہے 1.

زندگی۔ 2۔ حکمت ، اگر وہ واقعی اتنا بڑا کاریگر ہے۔ 3۔ مرضی مرضی کیا ہے؟ انتخاب کرنا ، ٹھیک ہے؟ تخلیق کرنا ہے یا نہیں اس کا انتخاب کرنا۔ تو میں دیکھ سکتا ہوں کہ اس کی مرضی بھی ہے۔ 4۔ طاقت طاقت کیا ہے؟ عظمت ، قوت جی ہاں. بتاٸیں ، کیا ایک مفلوج شخص اس کاریگری کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟ یقیناً یہ دشوار ہی ہوگا۔ اگر وہ حرکت نہیں کر سکتا تو وہ تخلیق نہیں کر سکتا۔ پھر ، میں کہوں گا کہ اس کے پاس طاقت ، زندگی ، مرضی اور حکمت ہے۔ ہم جسے خالق کہتے ہیں کیا آپ اس میں یہ سب خصوصیات دیکھ رہے ہیں؟ ٹھیک ہے۔ تو ہم کہیں گے۔ کوئی خالق تو ہے۔ چاہے ہم اسے X کہیں یا Y.

چلیں اگر کسی خالق کا اقرار کربھی لیں تو اگر کوئی موجود ہے تو اسلام ہی کیوں؟ پھر آئیے اس کو دیکھتے ہیں۔ ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔ اگر آپ کوئی نمائش لگاتے ہیں۔ معلومات دینے کے لیے ایک گائیڈ ضرور ہونا چاہیے جو نوادرات کے بارے میں معلومات دے کیونکہ منطق ، حکمت اور علم کے لۓ اس کی ضرورت ہے۔ یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں ، خالق نے اس کائنات کی ایک بہت بڑی نمائش لگائی ہے۔ +The question arises سوال پیدا ہوتا ہے "اگر آپ ایک چھوٹی سی جگہ پر بھی ایک گائیڈ رکھتے ہیں تو جو ایک بہت بڑی نمائش کا خالق ہے تو کیا اس نے کوئی گائیڈ نہیں بھیجا؟" نہیں ، ایسا نہیں ہوگا۔ چلو پھر کہتے ہیں۔ ہاں ، نبی آۓ۔ ہاں ، نبی آۓ۔ آخری نبی آۓ۔ آخری نبی کیا لاۓ؟ قرآن مجید ، ٹھیک ہے؟ اب میں آپ کو یہ کہتا ہوں۔ اگر میں یہ ثابت کر دوں کہ قرآن کسی انسان کی طرف سے نہیں لکھا جا سکتا بلکہ قرآن صرف وحی کے ذریعے بھیجا جا سکتا ہے تو کیا میں اسلام کو ثابت نہیں کردوں گا؟ ہاں آپ یہ ثابت کر دیںگے.

میں ایک مثال دیتا ہوں میرے بھائی۔ قرآن میں الحدید نامی ایک سورت ہے۔ کیا آپ نے پہلے اس کے بارے میں سنا ہے؟ حدید عربی میں لوہے کو کہتے ہیں۔ سورہ الحدید میں ایک حصہ ہے جو کہتا ہے۔ وَاَنْزَلْنَا الْحَـدِيْدَ "ہم نے آسمان سے لوہا اتارا۔" لفظ ’’ نَزَلَ ‘‘ لفظ ’’ نزول ‘‘ سے آیا ہے۔ نزول کا مطلب ہے نیچے لانا۔ اس کا ذکر مختلف جگہوں پر موجود ہے آپ بارش کو نیچے لانے یا مقدس کتابوں کا دنیا میں نزول دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح لوہے کے لیے ’’ نیچے لاۓ جانے ‘‘ کا جملہ استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر ایک نقطہ ہے جو ہماری توجہ کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ قرآن جو 1430 سال پہلے بھیجا گیا تھا اس میں لوہے کا آسمان سے اتارنا کیوں بیان کیا گیا ہے؟ ساٸنسدانوں نے بھی جواب تلاش کیا کہ لوہا کیسے ظاہر ہوا۔ کیونکہ ، عام طور پر لوہے کو زمین سے نکالا جاتا ہے۔ جبکہ آیت کہتی ہے کہ ہم نے اسے آسمان سے اتارا ہے۔ سائنسدانوں نے اب دریافت کیا ہے کہ لوہا آسمان سے آیا ہے کیونکہ دنیا میں کوئی گرمی نہیں ہے اور نظام شمسی میں لوہا ہے۔ نووا اور سپرنووا کے درمیان ہونے والے دھماکے کے ساتھ۔ لوہے کا عنصر الکا کے طور پر نیچے آیا۔ میں اب واضح طور پر جانتا ہوں کہ لوہا آسمان سے آیا ہے ، اور اس کی تصدیق سائنس نے کی ہے۔ پھر مجھے پوچھنا چاہیے کہ آسمان سے لوہے کے اترنے کے بارے میں معلومات ایسی کتاب میں کیسے مل سکتی ہے جو اتنی پرانی ہے؟ کیا امکانات ہیں کہ انسان کے پاس پہلے یہ علم ہو؟ کیا یہ ممکن ہے؟ ہم نے اسے اس صدی میں دریافت کیا ہے۔ پھر تو ممکن نہیں ہے کہ کسی انسان نے اس کتاب کو لکھا ہو۔ میں اب سمجھ سکتا ہوں کہ یہی وہ نبی ہے جس کی مجھے تلاش ہے ، اور جس مقدس کتاب کی میں تلاش کر رہا ہوں وہ قرآن ہے۔ بھائی میں آپ کو ایک اور مثال دیتا ہوں۔ سورہ الدریات آیت 47۔ اس سورت میں ایک جملہ ہے: اس میں کہا گیا ہے: وَالسَّمَاء بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ "ہم نے آسمان بنایا ہے اور ہم اسے پھیلا رہے ہیں۔" آیت بہت مختلف ہے نا؟ یہ پھیل رہا ہے۔ ہاں ، لیکن ہم نے یہ کب سیکھا؟ میں نہیں جانتا ، کب؟ 1929 میں ، ایڈون ہبل ایک ماہر فلکیات تھے جنہوں نے دوربین کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کیا کہ ستارے کھل رہے ہیں اور کائنات پھیل رہی ہے۔ 1929 تک ، سائنس کی دنیا نے کائنات کو مستحکم تسلیم کیا تھا۔ ٹھریے ، یہ 1430 سال پہلے کی بات ہے جب دوربین جیسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تب انسان اسے جان سکے؟ ہم نے تو ابھی اسے دریافت کیا ہے۔ یہاں تک کہ 1929 تک سائنسی دنیا بھی یہ سب نہیں جانتی تھی۔ کیا کوئی اب سے پہلے ان چیزوں کو جان سکتا تھا ، یا پھر یہ علم کسی تخلیق کار نے دیا ہے؟ ہاں ان مثالوں سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایک خالق نے یہ علم دیا ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کوٸ انسان یہ نہیں لکھ سکتا۔ میں نے آپ کو صرف 2 مثالیں دی ہیں۔ میں یہاں مزید 10 مثالیں گنوا سکتا ہوں۔ کائنات کی توسیع اور لوہے کے نازل ہونے جیسے بہت سے شواہد ہیں جو انسان کے قرآن لکھنے کے امکان کو ختم کردیتے ہیں۔ اس کتاب میں موجود تمام معلومات؛ کیا یہ ظاہر نہیں کرتیں کہ ایک خالق ہے ، اور یہ کہ اس نے یہ کتاب بطور رہنما بھیجی ہے؟ یہ بات بہت معقول لگتی ہے کیا کچھ اور پوچھنا ہے؟ نہیں مزید کوئی سوال نہیں ہے۔ آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ کیا آپ آئیں گے؟ میں آؤں گا لیکن مجھے امید ہے کہ میں اب اسے ترک نہیں کروں گا۔ ایسا نہ سوچیں، ترک کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔ یہ شیطان کا دھوکہ ہے۔ اور اگر آپ کے مزید سوالات ہیں تو ان سب کے بھی جوابات ہیں۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ اسلام کو دوبارہ کیسے قبول کیا جائے؟ "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے رسول ہیں۔"