Hum Ne 10 Auratoun Se Poocha: Islam Ko Apnane Ki Wajah?
تاریخ اشاعت
میں شاید تب خوفزدہ ہو جاتی تھی جب الفاظ سنتی تھی اللہ اکبرکے ایسے بہت سے تصوّرات تھے۔ میں سمجھتی تھی کہ مسلمان خواتین کو محروم رکھا جاتا ہے۔ انہیں حجاب (ہیڈ سکارف) کیوں پہننا پڑتا ہے؟ یہ ٹھیک نہیں ہے؟ مجھے بہت سے مسائل تھے۔ میں وہ لڑکی تھی کہ جب باہر گلیوں میں جاتی تھی چاہتی تھی کہ لوگ مجھے دیکھیں لیکن اگر کوئی غلط شخص بُری نظر سے دیکھے تو میں پریشان بھی ہو جاتی تھی۔ ہم نے ایک بہت ہی متکبرانہ وجہ سے قرآن کو پڑھنا شروع کیا، اور وہ یہ تھا کہ میں اسلام میں تضاد ڈھونڈنا چاہتی تھی۔ اسلام خواتین کو بہت سارے طریقوں سے آزادی دیتا ہے۔ یہ خواتین کا عہدہ اوپر رکھتا ہے۔ میرے خیال میں مسلمان خواتین مظلوم تھیں۔ پھر میں نے اسلام کو پڑھنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ "نہیں، خواتین پر ظلم تو معاشرہ کر رہا ہے۔" مجھے صرف زندگی کا ایک جامع طریقہ ہی ملا۔ مجھے قرآن میں صرف سائنسی ثبوت ملے۔ مجھے اپنی تحقیق میں صرف اور صرف قرآن کے معجزات ملے۔ قرآن میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ میں نے سڑک پر چلنے کو انجوائے کرنا شروع کر دیا، بس میں نے صرف چلنا شروع کردیا، میں نے کوئی نمائش نہیں کی۔ مطلب میں نے دراصل لوگوں کے بارے میں سوچنے کی بجائے پہلی بار اپنی زندگی کو انجوائے کرنا شروع کیا۔ اور یہ سب اسلام نے مجھے دیا۔ میرا نام ہے لارین بوتھ۔ میں ایک صحافی ہوں، مصنفہ اور ایک اداکارہ ہوں۔ تو میں 1967 میں ہیمپسٹڈ، نارتھ لندن میں پیدا ہوئی۔ اور میں نے 2010 میں اسلام قبول کیا۔ الحمدللہ (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)۔ میں ایک سکھ کی طرح پلی بڑھی۔ میرے والدین ہندوستانی ہیں۔ پیدائش یوکے میں ہوئی اور یہیں بڑی ہوئی۔ میرے خیال میں، میں 24 یا 25 سال کی عمر میں مسلمان ہوئی۔ میری پیدائش اور پرورش لندن میں ہوئی ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ میں دراصل ایتھیئسٹ ہی تھی۔ میں ایسٹ لندن میں پیدا ہوئی اور پرورش پائی۔ میری والدہ اٹالین ہیں۔ مجھے اپنی والدہ کے ساتھ چرچ جانا یاد ہے۔ میں چرچ جایا کرتی تھی اور یہ روحانی اور جذباتی طور پر بہت سکون دیتا تھا، لیکن میرے کچھ سوالات تھے۔ میں منطقی اور عقلی طور پر یہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ میں کسی اور انسان کی عبادت کیسے کر سکتی ہوں۔ یہ مجھے بہت چھوٹی عمر سے ہی ٹھیک نہیں لگتا تھا۔ اسی لیے میں نے اس پر سوال اٹھایا۔ اور مجھے وہ دن یاد ہے جب چرچ کے پادری سے یہ سوال پوچھا اور جواب کا مطالبہ کیا تو میرے سوال کا جواب انہوں نے کچھ یوں دیا کہ "تم بس ایمان رکھو"۔ میں اپنی دادی کی بہت عزّت کرتی تھی تو زیادہ سوالات نہیں کر سکتی تھی۔ اور بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ میں اُن سے پوچھتی تھی کہ"یہ تین کیوں ہیں؟" اور ان کا جواب ہوتا تھا، "تمہیں یقین کرنا ہوگا۔" تو جیسے میرے لیے دروازہ ہمیشہ بند رہتا تھا۔ ایسے سوالات تھے جن کے جواب مجھے پتہ نہیں تھے، اور میں 'یسوع کے خدا کے بیٹے ہونے' کے تصور سے واقعی بہت الجھی ہوئی تھی۔ اور اگر خدا قدرت والا اور غالب ہے، تو کیوں، کیوں۔۔۔ جیسز کو ہمارے گناہوں کے لئے مرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جیسز ہی کیوں، ہمیں ان کی عبادت کیوں کرنی چاہیے؟ میرے نزدیک یہ تصور عجیب تھا۔ میں نہیں سمجھ پا رہی تھی۔ اس لیے مجھے سوالات پوچھنا یاد ہے اور یاد ہے کہ مجھے چُپ کرا دیا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا، مجھے ایسے سوالات نہیں پوچھنے چاہیں۔ نہیں معلوم اُنہیں غصّہ آتا تھا یا نہیں، لیکن مجھے چُپ کروا دیا جاتا تھا۔ میں سمجھ نہیں پاتی تھی کہ اگر وہ خدا ہے تو وہ مر کیوں رہے تھے؟ خدا نہیں مر سکتا۔ دراصل یہ ہمیشہ سمجھنا مشکل تھا۔ خدا اپنے بچّے کے ساتھ ایسا کیوں کرے گا؟ اگر وہ اس کا بچہ تھا تو وہ ٹارچر کیوں کرے گا، اس نے اسے کیوں بچایا یا اُٹھایا نہیں؟ میں بچپن میں سوچتی تھی۔ کونسا خدا اپنے بچّے کے ساتھ ایسا ہونے دیتا یا ایسا کرتا ہے؟ آپ کو اسلام کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟ کیا آپ تعصب کا شکار تھیں؟ جی تھی۔ شاید میں تھوڑی اسلامو فوبک تھی۔ میں نے سوچا کہ بہت کچھ ہو رہا تھا، جیسے عراق، اور اسی طرح۔ میں شاید تب خوفزدہ ہو جاتی تھی جب الفاظ سنتی تھی اللہ اکبرکے۔ بہت ڈر جاتی تھی۔ میں سمجھتی تھی کہ سارے مسلمان مرد بہت سخت مزاج ہیں، وہ اپنی بیویوں کو مارتے پیٹتے ہیں،ایسے بہت سے تصوّرات تھے۔ میں سمجھتی تھی کہ مسلمان خواتین کو محروم رکھا جاتا ہے۔ انہیں حجاب (ہیڈ سکارف) کیوں پہننا پڑتا ہے؟ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ مجھے بہت سے مسائل تھے۔ سب سے زیادہ آپ کس چیز نے متاثر ہوئیں؟ مضحکہ خیز بات ہے کہ مسلم خواتین کے بارے میں تمام تصوّرات کے باوجود، میں نے اسلام میں سب سے پہلے خواتین پر ریسرچ کی۔ تو میں نے بہت سے مباحثے سنے، انٹرنیٹ پر بہت کچھ پڑھا۔ دارالسلام کی ایک کتاب ہے دی گریٹ ویمن آف اسلام، جو انتہائی شاندار ہے۔ میرے خیال میں مسلمان خواتین مظلوم تھیں۔ پھر میں نے اسلام کو پڑھنا شروع کیا تو مجھے احساس ہوا کہ نہیں، خواتین پر ظلم تو معاشرہ کر رہا ہے اور اسلام تو بہت ایڈوانسڈ ہے۔ درحقیقت، یہ اتنا ایڈوانسڈ ہے کہ مجھے لگتا ہے ہم ابھی بھی بطور معاشرہ اس تک پہنچ نہیں پا رہے۔ اور انشاء اللہ، یہ اور مضبوطی سے واپس آئے گا کیونکہ صنفی کردار اور شناخت کے حوالے سے ہم جن مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، میرا خیال ہے اسلام میں اس کے تمام جوابات موجود ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس پر عمل کریں کیونکہ اسلام خواتین کو بہت سارے طریقوں سے آزادی دیتا ہے۔ یہ خواتین کو دراصل اتنا اوپر رکھتا ہے۔ اگر معاشرہ اس بات کو سمجھتا ہے تو انہیں میری طرح احساس ہو گا کہ سبحان اللہ، اسلام خواتین کو بہت سے حقوق دیتا ہے۔ ایسے حقوق جو ہم نے اس ملک میں، یا مسلم ممالک میں، پہلے کبھی نہیں دیکھے۔ حضرت محمدﷺ نے ہمیں خواتین کا احترام سکھایا۔ یا جیسے، جیسے میں نے کہا، ہمیں حق مہر دیتا ہے، ایک مثال کے طور پر۔ پہلے عورت، مرد کو پیسے دیا کرتی تھی۔ لیکن اب مرد عورتوں کو حق مہر دیتا ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔ ان لوگوں کے لیے جن کے گھر بیٹی پیدا ہوتی تو وہ افسُردہ ہو جاتے تھے، اتنے افسُردہ کہ اسے مار ڈالتے تھے۔ پیغمبر محمدﷺ نے فرمایا کہ، اگر آپ بیٹیوں کی پرورش کرتے ہیں، تو آپ کو جنت عطا کی جائے گی۔ مطلب آپ جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہوں گے۔ اور پھر، مطلب، سب سے چھوٹی چیز، اگر کوئی عورت آپ سے لڑ رہی ہو، بحث کر رہی ہو، آپ پر چیخ رہی ہو، تو آپ خاموش رہیں۔ نبی پاکﷺ بھی خاموش رہے۔ عمر بن خطاب نے بھی یہی سیکھا۔ وہ پہلے اپنی اہلیہ سے بحث کرتے تھے، لیکن پھر انہوں نے خاموش رہنا سیکھا۔ کوئی مسئلہ نہیں، انہیں جذباتی ہونے دیں، خواتین کو جذبات کا اظہار کرنے دیں۔ سبحان اللہ، کون سا مذہب آپ کو یہ سکھاتا ہے؟ میں بہت سی مثالیں دے سکتی ہوں، لیکن آپ کی ریکارڈنگ کبھی ختم نہیں ہو سکے گی۔ مجھے یاد ہے 2008 میں، میں بطور غیر مسلم، غزہ میں پھنسی ہوئی تھی، میں ان لوگوں کے ساتھ تھی جو آج تک محاصرے میں ہیں۔ اعوذباللہ (میں اللہ کی پناہ مانگتی ہوں)۔ یہ رمضان روزوں کا مہینہ تھا اور میں نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کر رہے تھے۔ غریب ہونے کے باوجود، ایک دن میں نے سوچا کہ میں ، ایک نیکی کروں اور رفح ریفیوجی کیمپ میں کسی فیملی کے لیے دنبے کا گوشت لے جاؤں۔" تو میں یہ کھانا ریفیوجی کیمپ میں ایک مسلم فیملی کے پاس لے گئی۔ ماں نے دروازہ کھولا، "خوش آمدید، السلام علیکم۔" روشن اور پُرنور چہرہ، اور وہ ایک سیل میں رہ رہی تھی۔ کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں تھا، میں نے اسے کہا، "تم روزہ کیوں رکھ رہی ہو؟ مجھے نہیں لگتا کہ تمہارا خدا تم سے محبت کرتا ہے۔ معذرت کے ساتھ۔۔" آپ تو غزہ میں پھنسی ہوئی ہو، آپ کو 30 دنوں تک پیاسا رہ کر، 31ویں دن پانی ملتا ہے کیا؟ اُس نے کہا کہ، "نہیں، ہمارے پاس پانی نہیں ہے۔" میں نے کہا، " تو پھر؟" آپ 30 دن سے غزہ میں کھانے کے بغیر رہ رہیں ہیں۔ کیا 31 ویں دن، آپ کا فریج بھر جائے گا؟ اس نے کہا، "نہیں، بھرے گا۔" میں نے کہا، "تو پھر، خدا کی محبت کہاں ہے؟" "ایک مناسب وجہ بتائیں کہ آپ روزہ کیوں رکھ رہی ہیں۔" اس نے ایک خالی کمرے میں ہوتے ہوئے کہا کہ، "میں رمضان میں غریبوں کو یاد رکھنے کے لیے روزہ رکھتی ہوں۔" بس اسی وقت، اسی لمحے میں نے سوچا "اگر یہ اسلام ہے تو مجھے مسلمان ہو جانا چاہیئے۔" کیونکہ کوئی ایسا عقیدہ ہے جس میں انسان اُس وقت بھی خدا پر ایمان رکھتا ہے اور شکر گزار ہوتا ہے جب خدا نے اُسے کچھ بھی نہیں دیا، ایسا عقیدہ ہے جس میں کھانے کا ایک پیالہ ہو اور آپ اسے کسی اجنبی کو دے دیں۔ اوہ میرے خدا زبردست۔ اللہ نے مجھے کسی سے ملوا دیا۔ وہ میری کلاس فیلو تھی، سیکنڈری اسکول میں اور وہ ایک مسلمان لڑکی تھی۔ اور میں نے اسلام کو گہرائی سے جاننا شروع کیا، آرٹیکلز پڑھنا شروع کر دیے۔ اس دور میں ٹیپ کیسٹس بہت سنی جاتی تھیں۔ ہم نے ایک بہت ہی متکبرانہ وجہ سے قرآن کو پڑھنا شروع کیا، اور وہ یہ تھا کہ میں اسے بچانے کے لیے اسلام میں تضاد ڈھونڈنا چاہتی تھی۔ کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ حجاب (ہیڈ سکارف) غلط تھا۔ اور میں نے محسوس کیا کہ اس سےایک کامیاب کیریئر، اور ایک کامیاب زندگی روکے گی۔ میں نے محسوس کیا، میں اور طرح کے ماحول میں بڑی ہوئی ہوں، جب میں نے دیکھا، مرد دو میل آگے چلتے تھے اور، جب کہ ان کی بیویاں ان کے پیچھے چلتی تھیں۔ تو یہ میرے سٹیریوٹائپس تھے۔ تو یہ دلچسپ تھا کیونکہ مجھے ایک طرف، نظر آ رہا تھا کہ اس عقیدے میں کچھ ایسا تھا جس نے اُس لڑکی میں یہ خوبصورت احساس پیدا کیا۔ اور دوسری طرف یہ، اس پے پابندیاں لگانے والا تھا۔ اس پے ظلم کرنے والا تھا۔ اسے روکنے والا تھا۔ تو ہم بحث کرتے تھے اور ہم باقاعدگی سے اس پر بات کیا کرتے تھے۔ اور جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، تو میرا یقین پختہ ہونے لگا کہ اسلام سچا مذہب ہے۔ اور اس نے مجھے خوفزدہ کردیا۔ میں یقین کرنے لگی۔ میرا دل بدلنے لگا، میرا ذہن بدلنے لگا۔ اور اس کے علاوہ مجھے کچھ بھی نہ مل سکا۔ مجھے صرف زندگی کا ایک جامع طریقہ ہی ملا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مجھے قرآن میں سائنسی ثبوت اور شواہد ملے۔ مجھے اپنی تحقیقات میں صرف اور صرف قرآن کے معجزات ہی ملے۔ قرآن میں کوئی تضاد نہیں تھا۔ اور مجھے خوفزدہ کر دیا کیونکہ اگرچہ میں اس وقت نوجوان تھی، میری شخصیت کچھ اس طرح کی ہے کہ اگرچہ میں کچھ اختیار کرتی ہوں، یا کوئی انتخاب کروں، تو اسے 150% دیتی ہوں۔ تو میں جانتی تھی کہ میں بدلنا شروع کر رہی تھی اور مجھے یقین ہونے لگا تھا، جس کا مطلب تھا کہ مجھے اپنی زندگی بدلنی پڑے گی، جس سے میں خوفزدہ ہوگئی۔ میں اسلام کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ میں اُن چیزوں کے بارے میں سوچ رہی تھی جو میں نے دریافت کیں۔ یہ تقریباً ایسا ہی تھا جیسے مجھ پر یہ خیالات حاوی ہو گئے ہوں، مطلب، قرآن میں سائنسی ثبوت کے خیالات، خدا کے وجود کے خیالات، اور ساتھ ہی نبوّت کے ثبوت کے بارے میں خیالات تو خیال پر خیال پر، خیال پر خیال۔ تو پھر میں چہل قدمی کے لیے نکلی، اپنی رہائش کے آس پاس بس تھوڑا کھلی ہوا میں سانس لینے کے لیے۔ میں ایک سڑک پر آئی جسے میں روزانہ پار کرتی تھی۔ میں انتظار کر رہی تھی، سگنل کے کھلنے کا سگنل کھلا اور لوگ سڑک پار کر رہے تھے لیکن میں پار نہیں کر سکی۔ مجھے لگا کہ میری ٹانگیں زمین پر چپک گئی ہیں۔ اور میرے ذہن میں یہ خیال تھا کہ اگر میں یہ سڑک پار کروں، یا پھر کوئی اور سڑک پار کروں، اور میں کسی گاڑی سے ٹکرا جاؤں اور سب کچھ جانتے ہوئے میں مر جاؤں، جو بات میرے دل میں تھی، اس بات کا میرے لیے کیا مطلب ہوگا؟ اور یہ صرف مجھ پر ظاہر ہوا۔ میں اس بات کی گواہی کیوں نہیں دے رہی جسے میں پہلے ہی اپنے دل میں مان چکی ہوں؟ ایک چیز جس نے مجھے واقعی قائل کیا کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے اور وہ یہ کہ قرآن تبدیل نہیں کیا گیا اور اسے لاکھوں لوگوں نے حفظ کیا ہے۔ میں نے کبھی نہیں سنا کہ لاکھوں لوگوں نے بائبل کو حفظ کیا ہو۔ تو میرے لئے یہ ایک معجزہ تھا۔ یہ کوئی چھوٹی سی کتاب نہیں ہے، یہ کافی بڑی کتاب ہے۔ تو اس چیز نے مجھے واقعی متاثر کیا۔ نبی پاکﷺ کے بارے میں آپ کو سب سے زیادہ کس چیز نے متاثر کیا؟ اُن کے اخلاق نے۔ صرف اور صرف اُن کا اخلاق۔ ہمیشہ اُن کے اخلاق نے۔ عورتوں کو ترجیح دینے کے طریقے نے۔ عورتوں کے ساتھ اُن کا سلوک جب وہ اُس آدمی سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے جو اپنی بیٹی کو بوسہ نہیں دیتا تھا۔ اس حقیقت نے کہ نبیِ پاکﷺ نے اپنی ازواج کو جذبات رکھنے، احساسات رکھنے کی اجازت دی اور بہترین طریقے سے پیش آئے۔ اس واقعے نے کہ وہ اس صحابی کی دعوت پر نہیں گئے کیونکہ اس نے آپ کی زوجہ حضرت عائشہ کو مدعو نہیں کیا تھا۔ اپنی ازواج کے ساتھ ہر معاملے میں، اُن کا اخلاق، اور اُن کا طریقہِ انصاف۔ اُن کے گھر کے اندرنرم مزاج نے، اور پھر میدان جنگ میں اُن کی طاقت نے۔ اور جب وہ غیر محفوظ ہو گئے تھے طائف میں جب وہ مدد کے لیے تشریف لے گئے، اور اس کے بجائے ان کے ساتھ کیا ہوا ۔ یہ کہ اُن کے آنسو گر سکتے ہیں۔ آج کل مرد کہتے ہیں کہ، "ہم نہیں رو سکتے۔ ہم مضبوط ہیں"، نہیں!
حضورپاکﷺ کے آنسو گرے تھے۔ ہم جنس کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ مرد کیا ہے، عورت کیا ہے۔ نبیِ پاکﷺ کی سیرت مبارکہ پر نظر ڈالیں۔ آج کل میں نبیِ پاکﷺ کی سیرت پڑھ رہی ہوں جس کے مصنّف یاسر قاضی ہیں ہر پیراگراف میں کچھ نہ کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔ کیا شاندار کتاب ہے۔ میں سب کو پڑھنے کا مشورہ دوں گی۔ ہر چیز، مطلب آپﷺ کے بستر مرگ پر، حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہ) اپنے سر درد کی شکایت کر رہی تھیں۔ وہ شکایت کر رہی تھیں اور نبیِ پاکﷺ نے مذاق کرتے ہوئے فرمایا، "نہیں، لیکن میرے سر درد کا کیا؟ میرے تو جان جا رہی ہے۔" اور سبحان اللہ اس میں، وہ سب کچھ ہے جو آپﷺ پر بیتی تاکہ ہم بہتر لوگ بنیں اور جنت میں داخل ہوسکیں۔ اُن کے خاندان، اُن کی دولت، اور وہ تمام امتحانات جن سے وہ گزرے، اب یہ ساری قربانیاں، کس کے لیے ہیں؟ ہمارے لیے۔ آپ نے کلمہ شہادت کیسے پڑھا؟ سچ بتاؤں تو یہ میری زندگی کا خوشگوار دن تھا۔ یہ بہت زبردست تھا۔ میں احساسات بیان نہیں کر سکتی ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ سارا بوجھ آپ کے کندھوں سے اُتر جاتا ہے۔ آپ ہلکا محسوس کرتے ہیں۔ ایک نئے شخص کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ تو یہ میری زندگی کا خوشگوار دن تھا،سچ بتاؤں تو۔ میں نے کلمہِ شہادت مسجد یا کسی خاص جگہ نہیں پڑھا کیونکہ میں سمجھتی ہوں، کہ میری شہادت میرے اللہ اور میرے بیچ میں تھی۔ میں ایمپائر اسٹیٹ کی عمارت کے اوپر جانا چاہتی تھی اور لوگوں سے چیخ کر کہنا چاہتی تھی کہ، "قرآن پکڑ کر پڑھو!" تم نہیں جانتے!
اگر آپ صرف یہ کتاب پڑھ لیں تو دنیا کے بارے میں سب جان جائیں گے، سچ کہتی ہوں اس مسجد میں میرا اگلا وزٹ تب ہوا جب میں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ ہاں، الحمد اللہ۔ اور وہاں تقریباً 60، 70 لوگ تھے۔ اور میرے کلمہ پڑھتے وقت قریب ترین لوگ اب بھی میرے قریب ترین لوگ ہی ہیں۔ الحمدللہ۔ تو میرا کلمہ پڑھنا حیرت انگیز تھا۔ مجھے اپنا کانپنا یاد ہے، لیکن اچھا لگ رہا تھا۔ مجھے واقعی اچھا لگ رہا تھا۔ کلمہ پڑھنے کے لیے غسل کرنا اور مجھے محسوس ہوا کہ یہ میرے لیے ایک نئی زندگی ہے۔ ایک نئی شروعات ہے۔ اس بات کا علم کہ اللہ (عزّوجل) ہر گناہ مٹا دیتا ہے لیکن اللہ نیکی کا بدلہ پھر بھی دیتا ہے۔ یہ واقعی اچھا تھا اور میں ایک مسلمان عورت کی شناخت اپنانے کے لیے تیار تھی۔ اسی لئے میں نے بس پڑھنا، پڑھنا، اور پڑھنا شروع کیا۔ میں گھر گئی اور اگلے سات دنوں میں سب کچھ بدل گیا۔ میں عبادت کرنا چاہتی تھی۔ اللہ (خدا) کے سامنے رونا چاہتی تھی۔ میں نے اپنا سر زمین پر رکھ دیا جیسے مسلمانوں کو کرتے دیکھا تھا اور میں نے بار بار دو باتیں کہیں۔ میں نے کہا، "شکریہ"۔اور میں نے، "معافی" مانگی۔ میں نے کہا، "مجھے یہ زندگی دینے کے لیے تیرا شکر ہے، مجھے وہ تمام پیار دینے کے لیے جو میں نے حاصل کیا، وہ سب کچھ جسے میں نے پہلے تسلیم نہیں کیا تھا۔ جیسے، خوبصورت بیٹیاں۔ میں نے محبت کو جانا۔ مجھے موقع ملا تھا۔ میری فیملی اچھی تھی۔ میں نے تجھے پہچان لیا اور ان سب کے لیے تیرا شکریہ۔" میں نے "معذرت" کی۔ اور تقریباً میں ایک ہفتے تک روتی رہی۔ آپ کی فیملی اور قریبی لوگوں نے کیا ردعمل دیا؟ شہادت لینے کے بعد، میں نے سب کو نہیں بتایا کہ میں مسلمان ہوگئی ہوں۔ اگر لوگوں کو پتہ چلتا، وہ جان جاتے، تو میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن خاص طور پر میں اپنے مسلمان ہونے کے ابتدائی مراحل میں، یہ لوگوں کو نہیں بتاتی تھی کہ میں مسلمان ہوں۔ اسی لئے میں نے اپنی فیملی کو نہیں بتایا بالکل بھی۔ میرا ایسا نہ کرنے کی ایک وجہ ہے، اور شاید ہم میں سے کچھ کے لیے وہ ضروری ہے، کہ ہمیں اپنے اندر ایک طاقت تلاش کرنی پڑتی ہے، خاص طور پر جب فیصلہ ذاتی ہو۔ آپ کو اپنی پوزیشن بہتر کرنا ہوتی ہے مطلب اپنی معلومات کو بھی اور پختہ کرنا ہوتا ہے، کسی بھی بحث میں پڑنے سے پہلے۔ اور ذاتی طور پر، میں کوئی بحث بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ جیسے میں نہیں چاہتی تھی کہ لوگ اپنی محبت میں مجھے رائے دیں اور مجھے یہ بتائیں کہ یہ غلط ہے یا میں نے ایسا کیوں کیا وہ شاید مجھ سے ایسے سوالات اس لیے کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں یا شاید میری پرواہ کرتے ہیں، میرا خیال کرتے ہیں یا پریشان ہوتے ہیں۔ کیوں کہ یہ ان کے لیے نئی بات ہوتی ہے۔ پر میں جانتی تھی کہ میں کیا کر رہی ہوں اور جیسا میں نے پہلے کہا کہ یہ کچھ ایسا تھا جو میرے اور میرے اللہ کے بیچ تھا، اور میں نہیں چاہتی تھی کہ کوئی بھی میرے اس معاملے میں دخل اندازی کرے۔ کیوں کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ آخر میں، میں ہی اپنے خالق کے سامنے کھڑی ہوں اور جواب دہ ہوں، اور اسی نے میرا حساب بھی لینا ہے۔ تو اس میں کسی اور کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ تو میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ کیوں کہ شاید میں لوگوں کو بتانے سے تھوڑا ڈر بھی رہی تھی۔ لیکن، جس طرح میری فیملی کو پتہ چلا، مجھے نہیں لگتا انہیں یاد ہوگا، مگر مجھے یاد ہے۔ ہم ڈنر پر گئےتھے، اور ہم اس ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے، اور میں اپنے گھر کی اکلوتی لڑکی ہوں۔ اور کیوں کہ میں اکلوتی ہوں تو اپنے والد کی بہت لاڈلی بیٹی بھی ہوں۔ اور وہ میری شادی کی بات کر رہے تھے۔ تو میرے والد کہہ رہے تھے، "جب الما کی شادی ہوگی اور وہ ایک خوبصورت چرچ میں جائے گی اور میں اسے لے کر جاؤں گا،" کیوں کہ ان کے بہت سارے پلان تھے میری شادی کے حوالے سے۔ تو میں بہت خاموش تھی اور بس اپنا کھانا انجوائے کر رہی تھی۔ اور انہیں باتیں کرنے دے رہی تھی خاموشی سے۔ تو اچانک میری والدہ نے کہا کہ، "ایسابالکل نہیں ہو گا۔" اور ظاہر ہے، میرے والد بہت حیران ہوگئے اور کہا، "کیوں، ایسا کیوں نہیں ہوگا آخر؟" تو انہوں نے جواب دیا، "کیونکہ یہ مسلم ہے۔" تو میں نے تیزی سے کھانا کھانا شروع کر دیا۔ امی نےنماز پڑتے دیکھا تھا۔ کیوں کہ اُنہوں نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا تھا تو وہ سمجھ گئی ہوں گی کہ شاید میں نے شہادت لی ہے اور میں مسلمان ہو گئی ہوں۔ لیکن مجھے لگتا ہے انہوں نے سوچا ہوگا کہ یہ ایک فیز ہے جو زیادہ عرصے نہیں چلے گا۔ کیوں کہ، شاید میری عمر ایسی تھی یا میرا مزاج ایسا تھا۔ کیوں کہ جب میں کسی چیز کو پسند کرتی ہوں تو اس کے لئے بہت پُرجوش ہوجاتی ہوں، اور میں اس کےلئے بہت حساس ہوجاتی ہوں تو میں نے اپنے مذہب کا دفاع کیا۔ مجھے بہت خوف تھا اپنے مذہب کو کھو دینے کا۔ اور جو مجھے ملا ہے اسے کھودینے کا۔ وہ میرے فیصلوں کا بہت احترام کرتے تھے اور اسے ترجیح بھی دیتے تھے۔ ہاں انھیں سمجھ نہیں آیا، لیکن سپورٹ کیا انہوں نے۔ میری دادی مجھے ایک طرف لے گئیں اور پوچھا کیا میں اپنے فیصلے سے خوش ہوں۔ میں نے کہا، "ہاں، میں بہت خوش ہوں۔" اُنہوں نے کہا، " ٹھیک ہے۔ جیسا چاہو کرو۔" اور اُنہوں نے میری فیملی سے کہا، "اسے اکیلا چھوڑ دو۔ اب وہ شراب نہیں پی رہی، سگریٹ نہیں پی رہی، رات کو باہر نہیں جاتی۔ وہ اپنے بیٹے کا خیال رکھتی ہے۔ اور مناسب کپڑے پہنتی ہے۔ سب ٹھیک ہے." دیکھا جائے تو انہوں نے مجھے قبول کر لیا اور پوری فیملی سے کہا کہ وہ میرے نئے عقیدے کا احترام کریں۔ کیا مسلمان ہونے اور حجاب پہننے سے آپ کی آزادی محدود ہوئی ہے؟ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے آزادی حاصل کی ہے کیونکہ آزادی لوگوں کی طرف سے لگائی بیڑیاں ختم کرنے کا نام ہے۔ جب آپ واقعی اپنے خالق سےجڑ جاتے ،ہیں اور اپنے مقصد سے جڑ جاتے ہیں ، تو آپ اُس کے لیے جیتے ہیں، دوسروں کے لیے نہیں جیتے ۔ اور یہی حقیقی آزادی ہے۔ تو ہاں، اب میں حجاب (ہیڈ اسکارف) پہنتی ہوں، اور ہاں، کچھ ذمہ داریاں ہیں جنہیں مجھے پورا کرنا ضروری ہے، اپنے رب کی خاطر میں آزاد ہوں کیونکہ میرے فیصلے، میری چوائسز، کہاں جاتی ہوں، کیا کرتی ہوں، اور کیا نہیں کرتی، وہ صرف میرے خالق اور مالک کے لیے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے نہیں جو مجھ سے ملتے جلتے سفر پر ہیں۔ تو ہاں میں آزاد ہوں۔ میں نے آزادی کو محسوس کیا ہے۔ جیسے محسوس کیا کہ حجاب (ہیڈ اسکارف) نے مجھے مکمل آزادی دی ہے۔ میری مرضی ہے،اور فیصلے کا اختیار میرے پاس ہے کہ کون مجھے دیکھے اور کون نہ دیکھے۔ کسی شراب کے اشتہار والے بل بورڈ کی طرح نہیں، کہ ایک عورت نیم برہنہ کھڑی ہو، میرے نزدیک یہ ظلم ہے۔ جبکہ یہ آزادی ہے۔ یہ واقعی مشکل تھا کیونکہ میں وہ لڑکی تھی کہ جب باہر گلیوں میں جاتی تھی چاہتی تھی کہ لوگ مجھے دیکھیں لیکن اگر کوئی غلط شخص بُری نظر سے دیکھے تو میں پریشان بھی ہو جاتی تھی۔ اور مجھے یہ سب کچھ چھوڑنا تھا، جو کہ واقعی، واقعی بہت مشکل تھا کیونکہ میری شخصیت کا انحصار اس بات پر تھا کہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں یا نہیں۔ اور یہ واقعی مشکل ہے، کیونکہ جب میں یو کے کی سڑکوں پر چلتی ہوں، تو ایسا لگتا ہے کہ میں مکمل طور پر پوشیدہ ہوں۔ مطلب، کوئی عورت جو ایکٹریس بننا چاہتی ہو، ایک خاص انداز میں لباس پہنتی ہو، تو وہ ایسا کچھ نہیں چاہتی۔ تو یہ یقیناً میرے لیے ایک بہت بڑی تبدیلی تھی۔ لیکن میں نے اس کا لطف اٹھانا شروع کردیا میں نے اس میں ڈھلنا شروع کر دیا۔ میں نے سڑک پر چلنے کو انجوائے کرنا شروع کر دیا، بس میں نے صرف چلنا شروع کردیا، میں نے کوئی نمائش نہیں کی۔ مطلب میں نے دراصل لوگوں کے بارے میں سوچنے کی بجائے پہلی بار اپنی زندگی کو انجوائے کرنا شروع کیا۔ اور یہ سب اسلام نے مجھے دیا۔ جب آپ مسلمان بننے کا سوچ رہے ہوں، تو آپ کو اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ تو یہ ایک قسم کا پراسیس ہے جس پر ایسے انداز میں عمل کرنا ہوتا ہے جو آپ کو یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ آپ اپنے بالوں کو کیوں ڈھانپتی ہیں، اپنے جسم کو کیوں ڈھانپتی ہیں، کچھ کام کرنے سے کیوں گریز کرتی ہیں۔ تو میں ایسے لوگوں کو مشورہ دوں گی جو دیکھ اور سوچ رہے ہیں کہ، "میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔ اللہ پر ایمان رکھتی ہوں۔ میں نبی ﷺ کی سنت پر یقین رکھتی ہوں، لیکن میں اپنے بالوں کو نہیں ڈھانپنا چاہتی یا میں یہ نہیں چھوڑنا چاہتی یا وہ نہیں چھوڑنا چاہتی۔" ایسا ہوگا۔ جب آپ یہ رشتہ قائم کریں گی تو تبدیلی آئے گی۔ کچھ ایسے کام تھے جنھیں کرنے کا میں نے تصوّر بھی نہیں کیا تھا۔ پردہ کرنا ان میں سے ایک تھا۔ مانیں یا نہ مانیں پارٹیاں چھوڑنا دوسرا تھا، لیکن جیسے جیسے میں نے اپنا تعلق اللہ کے ساتھ بڑھایا، اس مذہب کو سیکھا، فطری طور پر، میں اپنے رب کو خوش کرنا چاہتی تھی۔ فوکس اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے پر ہونا چاہیے، اللہ کی رحمت کو سمجھنے پر، اللہ کی محبت کو سمجھنے پر، اللہ کی حقیقت کو سمجھنے پر ہونا چاہیے۔ اپنا وقت لیں، یہ سمجھیں کہ آپ کس کی عبادت کر رہے ہیں، اور اُس کی عبادت کیوں کر رہے ہیں آپ کو سمجھ آتی جائے گی۔ ہر ایک کا اپنا سفر ہوتا ہے اور مجھے زندگی میں بہت سے نومسلموں کو جاننے کی وجہ سے پتہ ہے، حتیٰ کہ نبیِ پاکﷺ کی سیرتِ مبارکہ کو دیکھ کر لوگوں نے کیسے اسلام قبول کیا۔ سب آسانی سے ہوا، یہاں تک کہ شراب سے چھٹکارا پانے میں کچھ وقت لگا،رائٹ؟ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ لوگوں نے مجھ سے کئی بار پوچھا، "کیا اسلام مشکل نہیں ہے؟ کیا یہ مشکل نہیں ہے؟" اور میں بلاجھجک کہہ سکتی ہوں کہ زندگی اسلام کے بہت بغیر بہت مشکل ہے۔ ہمارے انتہائی مہربان خالق نے یہ مذہب ہمیں تحفے کے طور پر دیا ہمیں مجبور نہیں کیا۔ رب فرماتا ہے، "یہ دین ہے۔ مرضی آپ کی ہے۔" فیصلہ آپ کا ہے،اور نتیجہ بھی آپ کا ہی ہے۔ سمجھداری سے انتخاب کریں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جب آپ مسلمان ہو جائیں گے تو آپ عرب بن جائیں گے، آپ اپنا نام تبدیل کریں گے، لباس اور روایات، بدلیں گے۔ جی بلکل تو کیا اپنے کلچر سے جُڑ کر رہتے ہوئے بھی مسلمان رہنا ممکن ہے؟ میرا خیال ہے یہاں لوگوں کو ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ جب آپ اسلام قبول کرتے ہیں تو آپ عرب بن رہے ہوتے ہیں یا آپ کوئی ایسا کلچر اپنا رہے ہوتے ہیں جو آپ کا نہیں ہوتا۔ اور سچ کہوں تو جب میں اسلام لائی، یہ 20 سال پہلے کی بات ہے، تو مجھے اس وقت کوئی نومسلم نہیں ملا، کوئی لاطینی مسلم نہیں ملا، کوئی مذہب تبدیل کرنے والا نہیں ملا اور یہ میرے لیے بہت مشکل بات تھی۔ اب، یہ بہت مختلف ہے۔ بہت مختلف۔ کیوں کہ وقت بدل چکا ہے۔ کیوں کہ اب سوشل میڈیا ہے ، مختلف پلیٹ فارمز ہیں اور گروپس ہیں اسلام کے ایکسپوژر کے ساتھ، تو اب سب سمجھ چکے ہیں کہ آپ کو عرب بننے کی ضرورت نہیں، یا دیسی بننے کی ضرورت نہیں، اور نہ رشیئن بننے کی۔ آپ بالکل وہی رہ سکتے ہیں جو آپ ہیں، پھر آپ کہیں سے بھی آرہے ہوں آپ مسلمان ہو سکتے ہیں۔ یہ مذہب انسانیت کے لیے بھیجا گیا اورآپ اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ تو کافی غلط فہمیاں موجود ہیں، بدقسمتی سے جیسے اسلام قبول کرتے ہی آپ کو اپنا نام تبدیل کرنا ہو گا۔ یہ غلط فہمی ہے۔ کہیں بھی حکم نہیں کہ نام تبدیل کرنا ہو گا، جب تک کہ اس کا کوئی برا مطلب نہ ہو۔ ایسے نام ہو سکتے ہیں کہ آپ ماریہ، فیلیپ، پابلو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دیکھیں نام بہت اہم ہے کیونکہ یہ آپ کی شناخت ہے۔ آپ اپنے کلچر کی اچھی چیزیں اپنا کر بالکل رکھ سکتے ہیں۔ میں خود اب بھی پکاتی ہوں جیسے مولے، ٹاکوز، فلوٹاس ۔ میں انجوائے کرتی ہوں اپنے کلچر کو بھرپور۔ آپ کو جیسز سے محبت کرنے اوران پر ایمان سے کوئی نہیں روکتا اور اُن کی والدہ، مریم،ان کے نام پر قرآن میں ایک سورت موجود ہے۔ تو یہ ہمارے لیے زیادہ اجنبی نہیں ہے۔ ہم ان سے محبت کرتے ہیں، احترام کرتے ہیں اور آپ ان سے محبت اور احترام کا رشتہ قائم رکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اور اسلام کئی طریقوں سے ہماری زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ تو اپنے ٹاکوز کھانا بند نہ کریں اور ساتھ ہی انجوائے کریں اپنے کلچر کی اچھی چیزوں کو جو اپنے ساتھ لائیں ہیں اور اسلام کے بارے میں سیکھتے رہیں کیونکہ اسلام ایک طرزِ زندگی ہے۔
حضورپاکﷺ کے آنسو گرے تھے۔ ہم جنس کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ مرد کیا ہے، عورت کیا ہے۔ نبیِ پاکﷺ کی سیرت مبارکہ پر نظر ڈالیں۔ آج کل میں نبیِ پاکﷺ کی سیرت پڑھ رہی ہوں جس کے مصنّف یاسر قاضی ہیں ہر پیراگراف میں کچھ نہ کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے۔ کیا شاندار کتاب ہے۔ میں سب کو پڑھنے کا مشورہ دوں گی۔ ہر چیز، مطلب آپﷺ کے بستر مرگ پر، حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہ) اپنے سر درد کی شکایت کر رہی تھیں۔ وہ شکایت کر رہی تھیں اور نبیِ پاکﷺ نے مذاق کرتے ہوئے فرمایا، "نہیں، لیکن میرے سر درد کا کیا؟ میرے تو جان جا رہی ہے۔" اور سبحان اللہ اس میں، وہ سب کچھ ہے جو آپﷺ پر بیتی تاکہ ہم بہتر لوگ بنیں اور جنت میں داخل ہوسکیں۔ اُن کے خاندان، اُن کی دولت، اور وہ تمام امتحانات جن سے وہ گزرے، اب یہ ساری قربانیاں، کس کے لیے ہیں؟ ہمارے لیے۔ آپ نے کلمہ شہادت کیسے پڑھا؟ سچ بتاؤں تو یہ میری زندگی کا خوشگوار دن تھا۔ یہ بہت زبردست تھا۔ میں احساسات بیان نہیں کر سکتی ہوں۔ ایسا لگتا ہے کہ سارا بوجھ آپ کے کندھوں سے اُتر جاتا ہے۔ آپ ہلکا محسوس کرتے ہیں۔ ایک نئے شخص کی طرح محسوس کرتے ہیں۔ تو یہ میری زندگی کا خوشگوار دن تھا،سچ بتاؤں تو۔ میں نے کلمہِ شہادت مسجد یا کسی خاص جگہ نہیں پڑھا کیونکہ میں سمجھتی ہوں، کہ میری شہادت میرے اللہ اور میرے بیچ میں تھی۔ میں ایمپائر اسٹیٹ کی عمارت کے اوپر جانا چاہتی تھی اور لوگوں سے چیخ کر کہنا چاہتی تھی کہ، "قرآن پکڑ کر پڑھو!" تم نہیں جانتے!
اگر آپ صرف یہ کتاب پڑھ لیں تو دنیا کے بارے میں سب جان جائیں گے، سچ کہتی ہوں اس مسجد میں میرا اگلا وزٹ تب ہوا جب میں نے کلمہ شہادت پڑھا۔ ہاں، الحمد اللہ۔ اور وہاں تقریباً 60، 70 لوگ تھے۔ اور میرے کلمہ پڑھتے وقت قریب ترین لوگ اب بھی میرے قریب ترین لوگ ہی ہیں۔ الحمدللہ۔ تو میرا کلمہ پڑھنا حیرت انگیز تھا۔ مجھے اپنا کانپنا یاد ہے، لیکن اچھا لگ رہا تھا۔ مجھے واقعی اچھا لگ رہا تھا۔ کلمہ پڑھنے کے لیے غسل کرنا اور مجھے محسوس ہوا کہ یہ میرے لیے ایک نئی زندگی ہے۔ ایک نئی شروعات ہے۔ اس بات کا علم کہ اللہ (عزّوجل) ہر گناہ مٹا دیتا ہے لیکن اللہ نیکی کا بدلہ پھر بھی دیتا ہے۔ یہ واقعی اچھا تھا اور میں ایک مسلمان عورت کی شناخت اپنانے کے لیے تیار تھی۔ اسی لئے میں نے بس پڑھنا، پڑھنا، اور پڑھنا شروع کیا۔ میں گھر گئی اور اگلے سات دنوں میں سب کچھ بدل گیا۔ میں عبادت کرنا چاہتی تھی۔ اللہ (خدا) کے سامنے رونا چاہتی تھی۔ میں نے اپنا سر زمین پر رکھ دیا جیسے مسلمانوں کو کرتے دیکھا تھا اور میں نے بار بار دو باتیں کہیں۔ میں نے کہا، "شکریہ"۔اور میں نے، "معافی" مانگی۔ میں نے کہا، "مجھے یہ زندگی دینے کے لیے تیرا شکر ہے، مجھے وہ تمام پیار دینے کے لیے جو میں نے حاصل کیا، وہ سب کچھ جسے میں نے پہلے تسلیم نہیں کیا تھا۔ جیسے، خوبصورت بیٹیاں۔ میں نے محبت کو جانا۔ مجھے موقع ملا تھا۔ میری فیملی اچھی تھی۔ میں نے تجھے پہچان لیا اور ان سب کے لیے تیرا شکریہ۔" میں نے "معذرت" کی۔ اور تقریباً میں ایک ہفتے تک روتی رہی۔ آپ کی فیملی اور قریبی لوگوں نے کیا ردعمل دیا؟ شہادت لینے کے بعد، میں نے سب کو نہیں بتایا کہ میں مسلمان ہوگئی ہوں۔ اگر لوگوں کو پتہ چلتا، وہ جان جاتے، تو میرے لیے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ لیکن خاص طور پر میں اپنے مسلمان ہونے کے ابتدائی مراحل میں، یہ لوگوں کو نہیں بتاتی تھی کہ میں مسلمان ہوں۔ اسی لئے میں نے اپنی فیملی کو نہیں بتایا بالکل بھی۔ میرا ایسا نہ کرنے کی ایک وجہ ہے، اور شاید ہم میں سے کچھ کے لیے وہ ضروری ہے، کہ ہمیں اپنے اندر ایک طاقت تلاش کرنی پڑتی ہے، خاص طور پر جب فیصلہ ذاتی ہو۔ آپ کو اپنی پوزیشن بہتر کرنا ہوتی ہے مطلب اپنی معلومات کو بھی اور پختہ کرنا ہوتا ہے، کسی بھی بحث میں پڑنے سے پہلے۔ اور ذاتی طور پر، میں کوئی بحث بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ جیسے میں نہیں چاہتی تھی کہ لوگ اپنی محبت میں مجھے رائے دیں اور مجھے یہ بتائیں کہ یہ غلط ہے یا میں نے ایسا کیوں کیا وہ شاید مجھ سے ایسے سوالات اس لیے کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں یا شاید میری پرواہ کرتے ہیں، میرا خیال کرتے ہیں یا پریشان ہوتے ہیں۔ کیوں کہ یہ ان کے لیے نئی بات ہوتی ہے۔ پر میں جانتی تھی کہ میں کیا کر رہی ہوں اور جیسا میں نے پہلے کہا کہ یہ کچھ ایسا تھا جو میرے اور میرے اللہ کے بیچ تھا، اور میں نہیں چاہتی تھی کہ کوئی بھی میرے اس معاملے میں دخل اندازی کرے۔ کیوں کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ آخر میں، میں ہی اپنے خالق کے سامنے کھڑی ہوں اور جواب دہ ہوں، اور اسی نے میرا حساب بھی لینا ہے۔ تو اس میں کسی اور کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ تو میں نے کسی کو نہیں بتایا۔ کیوں کہ شاید میں لوگوں کو بتانے سے تھوڑا ڈر بھی رہی تھی۔ لیکن، جس طرح میری فیملی کو پتہ چلا، مجھے نہیں لگتا انہیں یاد ہوگا، مگر مجھے یاد ہے۔ ہم ڈنر پر گئےتھے، اور ہم اس ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے، اور میں اپنے گھر کی اکلوتی لڑکی ہوں۔ اور کیوں کہ میں اکلوتی ہوں تو اپنے والد کی بہت لاڈلی بیٹی بھی ہوں۔ اور وہ میری شادی کی بات کر رہے تھے۔ تو میرے والد کہہ رہے تھے، "جب الما کی شادی ہوگی اور وہ ایک خوبصورت چرچ میں جائے گی اور میں اسے لے کر جاؤں گا،" کیوں کہ ان کے بہت سارے پلان تھے میری شادی کے حوالے سے۔ تو میں بہت خاموش تھی اور بس اپنا کھانا انجوائے کر رہی تھی۔ اور انہیں باتیں کرنے دے رہی تھی خاموشی سے۔ تو اچانک میری والدہ نے کہا کہ، "ایسابالکل نہیں ہو گا۔" اور ظاہر ہے، میرے والد بہت حیران ہوگئے اور کہا، "کیوں، ایسا کیوں نہیں ہوگا آخر؟" تو انہوں نے جواب دیا، "کیونکہ یہ مسلم ہے۔" تو میں نے تیزی سے کھانا کھانا شروع کر دیا۔ امی نےنماز پڑتے دیکھا تھا۔ کیوں کہ اُنہوں نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا تھا تو وہ سمجھ گئی ہوں گی کہ شاید میں نے شہادت لی ہے اور میں مسلمان ہو گئی ہوں۔ لیکن مجھے لگتا ہے انہوں نے سوچا ہوگا کہ یہ ایک فیز ہے جو زیادہ عرصے نہیں چلے گا۔ کیوں کہ، شاید میری عمر ایسی تھی یا میرا مزاج ایسا تھا۔ کیوں کہ جب میں کسی چیز کو پسند کرتی ہوں تو اس کے لئے بہت پُرجوش ہوجاتی ہوں، اور میں اس کےلئے بہت حساس ہوجاتی ہوں تو میں نے اپنے مذہب کا دفاع کیا۔ مجھے بہت خوف تھا اپنے مذہب کو کھو دینے کا۔ اور جو مجھے ملا ہے اسے کھودینے کا۔ وہ میرے فیصلوں کا بہت احترام کرتے تھے اور اسے ترجیح بھی دیتے تھے۔ ہاں انھیں سمجھ نہیں آیا، لیکن سپورٹ کیا انہوں نے۔ میری دادی مجھے ایک طرف لے گئیں اور پوچھا کیا میں اپنے فیصلے سے خوش ہوں۔ میں نے کہا، "ہاں، میں بہت خوش ہوں۔" اُنہوں نے کہا، " ٹھیک ہے۔ جیسا چاہو کرو۔" اور اُنہوں نے میری فیملی سے کہا، "اسے اکیلا چھوڑ دو۔ اب وہ شراب نہیں پی رہی، سگریٹ نہیں پی رہی، رات کو باہر نہیں جاتی۔ وہ اپنے بیٹے کا خیال رکھتی ہے۔ اور مناسب کپڑے پہنتی ہے۔ سب ٹھیک ہے." دیکھا جائے تو انہوں نے مجھے قبول کر لیا اور پوری فیملی سے کہا کہ وہ میرے نئے عقیدے کا احترام کریں۔ کیا مسلمان ہونے اور حجاب پہننے سے آپ کی آزادی محدود ہوئی ہے؟ اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے آزادی حاصل کی ہے کیونکہ آزادی لوگوں کی طرف سے لگائی بیڑیاں ختم کرنے کا نام ہے۔ جب آپ واقعی اپنے خالق سےجڑ جاتے ،ہیں اور اپنے مقصد سے جڑ جاتے ہیں ، تو آپ اُس کے لیے جیتے ہیں، دوسروں کے لیے نہیں جیتے ۔ اور یہی حقیقی آزادی ہے۔ تو ہاں، اب میں حجاب (ہیڈ اسکارف) پہنتی ہوں، اور ہاں، کچھ ذمہ داریاں ہیں جنہیں مجھے پورا کرنا ضروری ہے، اپنے رب کی خاطر میں آزاد ہوں کیونکہ میرے فیصلے، میری چوائسز، کہاں جاتی ہوں، کیا کرتی ہوں، اور کیا نہیں کرتی، وہ صرف میرے خالق اور مالک کے لیے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے نہیں جو مجھ سے ملتے جلتے سفر پر ہیں۔ تو ہاں میں آزاد ہوں۔ میں نے آزادی کو محسوس کیا ہے۔ جیسے محسوس کیا کہ حجاب (ہیڈ اسکارف) نے مجھے مکمل آزادی دی ہے۔ میری مرضی ہے،اور فیصلے کا اختیار میرے پاس ہے کہ کون مجھے دیکھے اور کون نہ دیکھے۔ کسی شراب کے اشتہار والے بل بورڈ کی طرح نہیں، کہ ایک عورت نیم برہنہ کھڑی ہو، میرے نزدیک یہ ظلم ہے۔ جبکہ یہ آزادی ہے۔ یہ واقعی مشکل تھا کیونکہ میں وہ لڑکی تھی کہ جب باہر گلیوں میں جاتی تھی چاہتی تھی کہ لوگ مجھے دیکھیں لیکن اگر کوئی غلط شخص بُری نظر سے دیکھے تو میں پریشان بھی ہو جاتی تھی۔ اور مجھے یہ سب کچھ چھوڑنا تھا، جو کہ واقعی، واقعی بہت مشکل تھا کیونکہ میری شخصیت کا انحصار اس بات پر تھا کہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں یا نہیں۔ اور یہ واقعی مشکل ہے، کیونکہ جب میں یو کے کی سڑکوں پر چلتی ہوں، تو ایسا لگتا ہے کہ میں مکمل طور پر پوشیدہ ہوں۔ مطلب، کوئی عورت جو ایکٹریس بننا چاہتی ہو، ایک خاص انداز میں لباس پہنتی ہو، تو وہ ایسا کچھ نہیں چاہتی۔ تو یہ یقیناً میرے لیے ایک بہت بڑی تبدیلی تھی۔ لیکن میں نے اس کا لطف اٹھانا شروع کردیا میں نے اس میں ڈھلنا شروع کر دیا۔ میں نے سڑک پر چلنے کو انجوائے کرنا شروع کر دیا، بس میں نے صرف چلنا شروع کردیا، میں نے کوئی نمائش نہیں کی۔ مطلب میں نے دراصل لوگوں کے بارے میں سوچنے کی بجائے پہلی بار اپنی زندگی کو انجوائے کرنا شروع کیا۔ اور یہ سب اسلام نے مجھے دیا۔ جب آپ مسلمان بننے کا سوچ رہے ہوں، تو آپ کو اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ تو یہ ایک قسم کا پراسیس ہے جس پر ایسے انداز میں عمل کرنا ہوتا ہے جو آپ کو یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ آپ اپنے بالوں کو کیوں ڈھانپتی ہیں، اپنے جسم کو کیوں ڈھانپتی ہیں، کچھ کام کرنے سے کیوں گریز کرتی ہیں۔ تو میں ایسے لوگوں کو مشورہ دوں گی جو دیکھ اور سوچ رہے ہیں کہ، "میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔ اللہ پر ایمان رکھتی ہوں۔ میں نبی ﷺ کی سنت پر یقین رکھتی ہوں، لیکن میں اپنے بالوں کو نہیں ڈھانپنا چاہتی یا میں یہ نہیں چھوڑنا چاہتی یا وہ نہیں چھوڑنا چاہتی۔" ایسا ہوگا۔ جب آپ یہ رشتہ قائم کریں گی تو تبدیلی آئے گی۔ کچھ ایسے کام تھے جنھیں کرنے کا میں نے تصوّر بھی نہیں کیا تھا۔ پردہ کرنا ان میں سے ایک تھا۔ مانیں یا نہ مانیں پارٹیاں چھوڑنا دوسرا تھا، لیکن جیسے جیسے میں نے اپنا تعلق اللہ کے ساتھ بڑھایا، اس مذہب کو سیکھا، فطری طور پر، میں اپنے رب کو خوش کرنا چاہتی تھی۔ فوکس اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے پر ہونا چاہیے، اللہ کی رحمت کو سمجھنے پر، اللہ کی محبت کو سمجھنے پر، اللہ کی حقیقت کو سمجھنے پر ہونا چاہیے۔ اپنا وقت لیں، یہ سمجھیں کہ آپ کس کی عبادت کر رہے ہیں، اور اُس کی عبادت کیوں کر رہے ہیں آپ کو سمجھ آتی جائے گی۔ ہر ایک کا اپنا سفر ہوتا ہے اور مجھے زندگی میں بہت سے نومسلموں کو جاننے کی وجہ سے پتہ ہے، حتیٰ کہ نبیِ پاکﷺ کی سیرتِ مبارکہ کو دیکھ کر لوگوں نے کیسے اسلام قبول کیا۔ سب آسانی سے ہوا، یہاں تک کہ شراب سے چھٹکارا پانے میں کچھ وقت لگا،رائٹ؟ سب کچھ اچانک نہیں ہوا۔ لوگوں نے مجھ سے کئی بار پوچھا، "کیا اسلام مشکل نہیں ہے؟ کیا یہ مشکل نہیں ہے؟" اور میں بلاجھجک کہہ سکتی ہوں کہ زندگی اسلام کے بہت بغیر بہت مشکل ہے۔ ہمارے انتہائی مہربان خالق نے یہ مذہب ہمیں تحفے کے طور پر دیا ہمیں مجبور نہیں کیا۔ رب فرماتا ہے، "یہ دین ہے۔ مرضی آپ کی ہے۔" فیصلہ آپ کا ہے،اور نتیجہ بھی آپ کا ہی ہے۔ سمجھداری سے انتخاب کریں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جب آپ مسلمان ہو جائیں گے تو آپ عرب بن جائیں گے، آپ اپنا نام تبدیل کریں گے، لباس اور روایات، بدلیں گے۔ جی بلکل تو کیا اپنے کلچر سے جُڑ کر رہتے ہوئے بھی مسلمان رہنا ممکن ہے؟ میرا خیال ہے یہاں لوگوں کو ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ جب آپ اسلام قبول کرتے ہیں تو آپ عرب بن رہے ہوتے ہیں یا آپ کوئی ایسا کلچر اپنا رہے ہوتے ہیں جو آپ کا نہیں ہوتا۔ اور سچ کہوں تو جب میں اسلام لائی، یہ 20 سال پہلے کی بات ہے، تو مجھے اس وقت کوئی نومسلم نہیں ملا، کوئی لاطینی مسلم نہیں ملا، کوئی مذہب تبدیل کرنے والا نہیں ملا اور یہ میرے لیے بہت مشکل بات تھی۔ اب، یہ بہت مختلف ہے۔ بہت مختلف۔ کیوں کہ وقت بدل چکا ہے۔ کیوں کہ اب سوشل میڈیا ہے ، مختلف پلیٹ فارمز ہیں اور گروپس ہیں اسلام کے ایکسپوژر کے ساتھ، تو اب سب سمجھ چکے ہیں کہ آپ کو عرب بننے کی ضرورت نہیں، یا دیسی بننے کی ضرورت نہیں، اور نہ رشیئن بننے کی۔ آپ بالکل وہی رہ سکتے ہیں جو آپ ہیں، پھر آپ کہیں سے بھی آرہے ہوں آپ مسلمان ہو سکتے ہیں۔ یہ مذہب انسانیت کے لیے بھیجا گیا اورآپ اس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ تو کافی غلط فہمیاں موجود ہیں، بدقسمتی سے جیسے اسلام قبول کرتے ہی آپ کو اپنا نام تبدیل کرنا ہو گا۔ یہ غلط فہمی ہے۔ کہیں بھی حکم نہیں کہ نام تبدیل کرنا ہو گا، جب تک کہ اس کا کوئی برا مطلب نہ ہو۔ ایسے نام ہو سکتے ہیں کہ آپ ماریہ، فیلیپ، پابلو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دیکھیں نام بہت اہم ہے کیونکہ یہ آپ کی شناخت ہے۔ آپ اپنے کلچر کی اچھی چیزیں اپنا کر بالکل رکھ سکتے ہیں۔ میں خود اب بھی پکاتی ہوں جیسے مولے، ٹاکوز، فلوٹاس ۔ میں انجوائے کرتی ہوں اپنے کلچر کو بھرپور۔ آپ کو جیسز سے محبت کرنے اوران پر ایمان سے کوئی نہیں روکتا اور اُن کی والدہ، مریم،ان کے نام پر قرآن میں ایک سورت موجود ہے۔ تو یہ ہمارے لیے زیادہ اجنبی نہیں ہے۔ ہم ان سے محبت کرتے ہیں، احترام کرتے ہیں اور آپ ان سے محبت اور احترام کا رشتہ قائم رکھ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، اور اسلام کئی طریقوں سے ہماری زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ تو اپنے ٹاکوز کھانا بند نہ کریں اور ساتھ ہی انجوائے کریں اپنے کلچر کی اچھی چیزوں کو جو اپنے ساتھ لائیں ہیں اور اسلام کے بارے میں سیکھتے رہیں کیونکہ اسلام ایک طرزِ زندگی ہے۔