Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Qabar Mein Guzarne Wale Pehle 24 Ghante | AI Se Banai Gayi Qayamat Ka Din Series - Ep. 1

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

ہم ایک بالکل نئی سیریز شروع کر رہے ہیں۔ جو مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) سے تیار کی گئی ہے۔ قیامت کا دن۔ قبر کی زندگی۔ مجھے یہاں سے باہر نکالو! من ربک؟ تمہارا رب کون ہے؟ مجھے یہاں سے باہر نکالو!

دنیا کا اختتام، قیامت کا دن، اور جنّت اور جہنم۔ ہم قدم بہ قدم، موت کے بعد کی زندگی کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے موت سے پہلے آخری لمحات میں کیا ہوگا؟ قبر کے اندر ہمیں کس چیز کا سامنا ہوگا؟ جس دن دنیا ختم ہوگی، اس دن ہم کس عمل سے گزریں گے، یا جب ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور بڑے مجمع میں اکٹھا کیا جائے گا؟ جنّت اور جہنم میں کیا چیز انسانیت کا انتظار کر رہی ہے؟ موت کے بعدابدی سفر کے بارے میں آپ کے تمام سوالات کے جوابات اس سیریز میں ہیں۔ اب، اگر آپ تیار ہیں، تو آئیے شروع کرتے ہیں۔ موت کا لمحہ۔ وہ دن جس سے آپ پوری زندگی بھاگتے رہے، بالآخر آ چکا ہے۔ آپ اس دن جاگتے ہیں جس کے بارے میں آپ نے کبھی سوچنا بھی نہیں چاہا۔ اور اب، ملک الموت آپ کے لیے آ رہا ہے۔ گھپ اندھیرا ہے۔ وقت فجر سے ذرا پہلے کا ہے۔ آپ کے سینے کا درد، آپ کو شدید تکلیف دے رہا ہے۔ آپ کا جسم حرکت نہیں کر سکتا۔ آپ کا دماغ افراتفری میں ہے۔ آپ کا بچپن، آپ کی نوجوانی کے سال، اور آپ ابھی کیسے ہیں، ایک سیکنڈ کےاندر، وہ سب آپ کی آنکھوں کے سامنے چمک اٹھتے ہیں۔ آپ سانس لینے کے لیے ہانپ رہے ہیں۔ آپ کے ہونٹ خشک ہیں۔ آپ کے گلے میں جیسے کچھ پھنسا ہوا ہے۔ "مجھے کیا ہو رہا ہے؟" آپ پریشان ہیں، آپ خوفزدہ ہیں۔ آپ سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ اچانک، آپ کے پیارے آپ کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک نےآپ کا ہاتھ پکڑا ہواہے، دوسرے آنکھوں میں آنسو لیے ہوے دعائیں پڑھ رہے ہیں۔ کوئی آپ کو پانی پلانے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس کے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ ان کے چہروں پر ایک بے بسی کا غم اور ان کی آنکھوں میں ایک خاموش الوداعی پیغام ہے۔ جب کہ آپ کو محسوس ہو رہا ہے جیسے وقت آہستہ ہو رہا ہے۔ آوازیں مدھم ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ ایسا ہے جیسے دنیا آپ کو خاموشی سے جانے دے رہی ہے۔ جیسا کہ آیت میں فرمان ہے، "ہر نفس نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔ پھر تم سب ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔" آپ کا دماغ دھندلا رہا ہے۔ آپ کی حرکات سست ہو رہی ہیں۔ وہ سانس جو آپ کے گلے میں پھنسی ہوئی ہے آپ کے پورے جسم کو مفلوج کر رہی ہے۔ اس لمحے میں، صرف ایک ہی خیال آپ کے ذہن میں ہے، آپ کی صرف ایک ہی پریشانی ہے: میرے مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ اور اب، شیطان کے آخری حملے شروع ہونے والے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جسے کہا جاتا ہے سکرات الموت - یعنی موت کی تکلیف۔ کیا آپ اپنے ایمان پر قائم رہ پائیں گے؟ کیا آپ اپنا ایمان بچا پائیں گے؟ یا آپ ان لوگوں میں شامل ہوں گے جو اپنی آخری سانس میں اسے کھو دیتے ہیں؟ آپ کے پٹھے اپنی طاقت کھو رہے ہیں۔ آپ کے ہاتھ، بازو اور پاؤں ٹھنڈے پڑ رہے ہیں۔ آپ کی جلد کا رنگ اڑ رہا ہے، پھیکا پڑ رہا ہے۔ اور اسی لمحے، شیطان آپ کے پاس آتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے: "یا اللہ، میں موت کے وقت شیطان کے بہکاوے میں آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔" اس لمحے، شیطان کی سب سے بڑی خواہش یقینی بنانا ہے کہ آپ ایمان کے بغیر اپنی قبر میں داخل ہوں۔ اسی لیے وہ اپنا آخری داؤ بالکل آخر کے لیے بچا کر رکھتا ہے۔ شاید وہ آپ کو کسی اور مذہب کی طرف دھکیلنے کی کوشش کرے، یا شاید وہ آپ کو اللہ کے خلاف کوئی سرکش بات کہنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرے ۔ وہ سرگوشی کرتا ہے۔۔۔ وہ اتنے عرصے سے آپ کے لیے بہتر ہونے کی دعا کر رہے ہیں، لیکن ذرا اپنے آپ کو دیکھو، تم صرف بدتر ہوتے جا رہے ہو۔ بتاؤ اب اللہ کہاں ہے؟ کیا تم واقعی سمجھتے ہو کہ وہ تمھاری سنتا ہے؟" بہت سے لوگ اس لمحے سے پہلے گزر چکے ہیں، ہر ایک اپنے طریقے سے۔ اور اب، آپ کی باری ہے۔ سوچیں اس بارے میں، یہاں تک کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بھی اللہ سے اس سے پناہ مانگی۔ کیا یہ کافی نہیں ہے؟ درحقیقت، آپ کا ایمان جتنا مضبوط ہو گا، موت کے لمحے میں آپ اتنا ہی مضبوط جواب دیں گے۔ "آپ اسی طرح مرتے ہیں جیسے جیتے ہیں۔" ہم اپنی زندگی میں اپنی روحوں کو جس سے بھرتے ہیں، جب موت ہمارے پاس آتی ہے تو ہماری زبانیں وہی بولتی ہیں۔ "افسوس ہے میں دنیاوی زندگی کے دھوکے میں آ گیا۔" جس نے اپنی روح کو دنیاوی خواہشات سے بھرا، وہ موت کے وقت صرف وہی الفاظ ادا کرے گا۔ میرا پیسا ،میری جائداد ،میری شہرت لیکن ایک مومن جس نے اللہ کی محبت اپنے دل میں رکھ کر زندگی گزاری، وہ اپنے رب کو یاد کرے گا اور ذکر کرے گا۔ یا رب، یا لطیف، یا رحمن، یا اللہ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے، "لیکن میں تو پہلے ہی ایمان پر قائم ہوں۔" تاہم، آپ کو ایسے ایمان کی ضرورت ہے جو آپ کے دل میں گہرائی سے جڑا ہوا ہو اور آپ کے دماغ سے مکمل طور پر تصدیق شدہ ہو۔ اسے اس طرح سمجھیں: میرے ہاتھ میں ایک سیب ہے، ایک چور ہے جو اسے مجھ سے ہر قیمت پر چھیننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر میں نے اسے صرف ہاتھ میں پکڑ رکھا ہو، پھر میں چاہے اسے جتنا بھی بچانے کی کوشش کروں، وہ اسے آسانی سے چھین سکتا ہے۔ لیکن اگر میں اسے کھا لوں، اور وہ میرے اندر ہضم ہو جائے، تو چور کے لیے اسے مجھ سے چھیننا ناممکن ہو جاتا ۔ لہذا، اگر آپ صرف ایمان کی سچائیوں کو اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتے، بلکہ انہیں اپنے دل، دماغ اور روح میں اترنے دیتے ہیں، تو اللہ کے حکم سے، شیطان موت کے وقت آپ کو کسی بھی طرح نقصان نہیں پہنچا پائے گا۔ مگر اگر آپ آخرت پر یقین کا دعویٰ کرتے ہیں، پھر بھی آپ ایسے جیتے ہیں جیسے وہ موجود نہیں؛ اگر آپ کے الفاظ کچھ اور ، لیکن اعمال کچھ اور کہتے ہیں، تو شاید اب خود سے سوال کرنے کا وقت ہے۔ یہ ابدیت کو جیتنے یا ہارنے کا معاملہ ہے، اور آپ اب بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔ تو موت کے وقت اور کیا ہوگا؟ آیت میں فرمان ہے، "بیشک جن لوگوں نے کہا، ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر ثابت قدم رہے، تو ان پر فرشتے یہ کہتے ہوئے نازل ہوتے ہیں: نہ ڈرو اور نہ غم کرو۔ بلکہ، جنت کی خوشخبری سے خوش ہو جاؤ، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔" فرشتے نیک مومن کے پاس روشن، خوبصورت چہروں کے ساتھ آتے ہیں، نہایت سفید لباس میں اور ایک خوشگوار خوشبو کے ساتھ۔ لیکن جو شخص ایمان کے بغیر زندگی گزارتا ہے تو پھر یہ بہت دردناک وقت ہوتا ہے۔ اب، وہ اس چیز کے سامنا کرتا ہے جس کا وہ انکار کرتا تھا۔ نہیں!

نہیں! مہربانی کرو، میرے قریب مت آؤ! دور رہو! میں مانتا ہوں! میں تسلیم کرتا ہوں کہ اللہ حقیقی ہے! مہربانی کرو! بس مجھے ایک اور موقع دو!

میرے دوست کہاں ہیں؟ میرے بھائی کہاں ہیں؟ کیا مجھے بچانے والا کوئی نہیں ہے؟ لیکن اس شخص کے لیے، اصل خوف ابھی شروع ہو رہا ہے۔ اب، آئیے بات کرتے ہیں موت کے بعد کیا ہو گا۔ موت اختتام نہیں ہے۔ نہ ہی یہ عدم وجود ہے۔ یہ محض ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقلی ہے۔ یہ ایک گھر کو چھوڑ کر دوسرے گھرمیں داخل ہونے کی طرح ہے۔ یہ ایک مختلف عالم کی شروعات ہے۔ وہ اللہ، جو ہر موسمِ سرما میں زمین کو مار دیتا ہے اور ہر موسمِ گرما میں اسے دوبارہ زندہ کرتا ہے، تمام انسانوں کو بھی موت دیتا ہے تاکہ وہ انہیں قیامت کے دن دوبارہ زندہ کر سکے۔ اور وہ جگہ جہاں ہم سب آخرت سے پہلے رہیں گے اسے عالم برزخ - درمیانی دنیا کہا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "قبر یا تو جنّت کے باغات میں سے ایک باغ ہے یا پھر جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔" جی ہاں، آپ اب مر چکے ہیں۔ آپ کے بے جان جسم کو غسل دینے لایا گیا ہے۔ آپ کا جسم ٹھنڈے ماربل پر پڑا ہوا ، غسل کا انتظار کر رہا ہے۔ آپ کا کفن، آپ کا تابوت، سب کچھ تیار ہے۔ دروازے کے باہر آپ کی فیملی انتظار کر رہی ہے۔ آپ کے والدین، آپ کے بہن بھائی، شریکِ حیات اور بچے، ان کی آنکھیں رو رو کر سرخ ہو رہی ہیں، اور وہ بمشکل بول سکتے ہیں۔ جلد ہی، وہ آپ کا تابوت کندھوں پر اٹھائیں گے اور آپ کو مسجد کے صحن تک لے جائیں گے۔ اذان اور سلام "ہمیں انتہائی افسوس کے ساتھ اپنے پڑوسی، احمد مطیع کی وفات کا اعلان کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کی نمازِ جنازہ آج، بعد نماز ظہر، مسجد میں ادا کی جائے گی۔ یہ اعلان ان کے تمام رشتہ داروں، دوستوں، اور پڑوسیوں کے لیے کیا گیا ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔" جنازہ کی نماز کی پکار جو آپ نے پوری زندگی سنی ہے اب آپ کے لیے کی جا رہی ہے۔ جو لوگ یہ خبر سنتے ہیں وہ حیران ہو کر کہتے ہیں، "کیا فوت ہو گیا وہ؟" وہ ایک لمحے کے لیے خاموش رہتے ہیں، لیکن پھر اپنی زندگیوں میں واپس چلے جاتے ہیں۔ لوگ آپ کی نمازِ جنازہ ادا کرنے کے لیے جمع ہو چکے ہیں۔ میرا بیٹا!

اور پھر، آپ کا تابوت دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ اس بار آپ کی قبر کی طرف۔ جوپہلے ہی کھود دی گئی ہے۔ وہ کھلی ہوئی ہے۔ یہ آپ کا نیا گھر ہے، جو کہ آپ کا انتظار کر رہا ہے۔ آپ کا ایک پیارا قبر میں اترتا ہے اور آہستہ سے آپ کے جسم کو آپ کی دائیں کروٹ پر لٹاتا ہے، تاکہ آپ کے چہرے کا رخ قبلے کی طرف ہو۔ پھر وہ باہر آتا ہے اور آپ کی قبر پر لکڑی کے تختے رکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اور اپنے ہاتھوں سے، سب سے پہلے وہ آپ پر مٹی ڈالتا ہے۔ روح ان تمام لمحات کو براہ راست دیکھتی ہے۔ وہ سب کچھ دیکھتی ہے۔ وہ دیکھتی ہے جب جسم کو غسل دیا جا رہا ہوتا ہے، جب نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے، اور جب میت قبر کی طرف لے جائی جاتی ہے۔ وہ آنے والے لوگوں کی آوازیں سنتی ہے، انہوں نے جو کہا، وہ سب کچھ سنتی ہے۔ اور جیسے ہی لوگ قبرستان سے باہر نکلنا شروع کرتے ہیں، روح ان کے قدموں کی آواز بھی سنتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "قبر تک میت کے پیچھے جانے والی چیزیں کل تین ہیں اس کا خاندان، اس کا مال، اور اس کے اعمال۔ خاندان اور مال قبر سے واپس آ جاتے ہیں، مگر اس کے اعمال اس کے ساتھ رہتے ہیں۔" اگر مرنے والا نیک ہو، تو وہ نہیں چاہتا کہ تدفین میں وقت لگے۔ وہ جلد از جلد قبر کی زندگی کی نعمتوں تک پہنچنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ شخص بدکردار ہو، تو وہ تدفین میں زیادہ وقت چاہے گا۔ وہ دوستیاں جو آپ کے ساتھ آپ کی قبر تک چل کر آئیں وہ اب ختم ہو چکی ہیں۔ اب آپ اکیلے ہیں۔ اور اب، عالم برزخ (درمیانی عالم) شروع ہوتا ہے۔ عالم برزخ ایک علیحدہ دنیا ہے، اس زندگی اور آخرت کے درمیان ایک بیریئر۔ یہ موت سے شروع ہوتا ہے اور قیامت کے ساتھ ختم ہوتا ہے۔ یہ آخرت کی انتظار گاہ کی طرح ہے۔ خواہ کوئی شخص سمندر میں ڈوب جائے اور غائب ہو جائے یا جلا دیا جائے اور اس کی راکھ بکھر جائے، روح محفوظ رہتی ہے، بالکل ویسی ہی جیسے وہ تھی۔ اللہ کے علم سے چھپنا ممکن نہیں ہے۔ ہر ایک کے ساتھ اس کے حق کے مطابق برتاؤ کیا جائے گا۔ اس مرحلے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے: "جب ایک مومن دنیا سے جانے والا ہوتا ہے اور اگلی دنیا کی طرف بڑھتا ہے، جنت سے فرشتے آتے ہیں جن کے چہرے سورج کی طرح چمکتے ہیں اور ان کے پاس جنت کا ایک کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے، اور وہ اتنی دور بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک آنکھ دیکھ سکتی ہے۔ پھر ملک الموت آتے ہیں اور اس کے سرہانے بیٹھ کر کہتے ہیں، 'اے پاکیزہ روح، اپنے رب کی مغفرت اور خوشنودی کی طرف نکل آؤ۔ پھر وہ روح آسانی سے نکل آتی ہے، اور وہ اسے دیکھتے ہیں۔ اور جب وہ دیکھتے ہیں، دوسرے فرشتے فوراً ملک الموت سے روح لے لیتے ہیں، اسے پلک جھپکنے جتنی دیر کے لیے بھی ان کے ہاتھ میں نہیں چھوڑتے۔ پھر وہ اسے اس کفن اور اس خوشبو میں رکھ دیتے ہیں۔ اور اس میں سے ایسی خوشبو نکلتی ہے جیسے زمین پر پائے جانے والے سب سے میٹھے مشک جیسی پھر وہ اسے آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔ فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے وہ گزرتے ہیں، پوچھتا ہے، 'یہ کون سی پاکیزہ روح ہے؟' وہ فرشتے جو روح کو اٹھائے ہوتے ہیں جواب میں اسے بہترین ناموں سے پکارتے ہیں جن سے اسے اس دنیا میں پکارا جاتا تھا۔ جب وہ آسمانوں پر پہنچتے ہیں، تو تمام دروازے ان کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔ جب وہ ہر آسمان سے گزرتے ساتویں آسمان پر پہنچتے ہیں، تو فرشتے روح کو سلام کرتے ہیں۔ پھر اللہ فرماتا ہے، 'میرے بندے کا نامہ اعمال علّیین میں درج کرو صالحین کا رجسٹر، اور اسے زمین پر واپس لے جاؤ۔ کیونکہ میں نے انسان کو اس سے پیدا کیا، میں انہیں اسی میں لوٹاؤں گا، اور اسی سے میں انہیں دوسری بار نکالوں گا۔' پھر اسے اس کی قبر میں لوٹا دیا جاتا ہے، عالم برزخ میں، اور وہاں، منکر اور نکیر نامی دو فرشتے سوال کرنے کے لیے آتے ہیں۔" من ربک؟ تمہارا رب کون ہے؟ میرا رب اللہ ہے، جس کی میں نے اپنی زندگی میں عبادت کی۔ تمہارا دین کیا ہے؟ میرا دین اسلام ہے۔ یہ کون ہستی ہیں جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ یہ اللہ کے رسول ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ ایک سچا مومن اس طرح ان تمام سوالوں کا جواب دیتا ہے اور صحیح جواب دیتا ہے۔ وہ تمام نمازیں جو ایک مومن نے اپنی زندگی میں ادا کیں اور وہ تمام نیک اعمال جو اس نے کیے اس کی قبر میں اس کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ جب منکر اور نکیر اس سے سوال کرنے آتے ہیں، اورنور سے بنا ہوا ایک وجود آتا ہے اور اس کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے۔ یہ وہ نمازیں ہیں جو وہ اپنی زندگی میں ادا کرتا ہے۔ پھر اس کے دوسرے نیک اعمال یکے بعد دیگرے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس کا روزہ اس کے دائیں طرف، اس کی زکوٰۃ اس کے بائیں طرف، اور اس کے تمام دوسرے نیک اعمال اس کے قدموں کے پاس جمع ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اسے بچانے کے لیے اپنی جگہ پر کھڑا ہو جاتا ہے، قبر کو اس کی ہڈیوں کو کچلنے،اسے تکلیف دینے، یا اسے کسی بھی پریشانی سے بچانے کے لیے روکتا ہے۔ سوالات کے بعد، جب مومن صحیح جواب دے دیتا ہے، تو اس کے لیے جنت کی ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔ پھر اللہ حکم دیتا ہے کہ اس کی قبر کو وہاں تک پھیلا دیا جائے جہاں تک آنکھ دیکھ سکتی ہے، اور اس کے لیے جنت کے بستروں میں سے ایک بستر تیار کیا جائے۔ پھر، اس کی قبر کے ایک طرف، ایک کھڑکی کھلتی ہے، اور اسے جنت کے مناظر دکھائے جاتے ہیں، جو کہ تمام مومنوں کا ابدی گھر ہے۔ اس کا دل سکون سے بھر جاتا ہے، اور وہ قیامت کے دن تک جنت کو دیکھتا رہتا ہے۔ لیکن ایک دوسرا رُخ بھی ہے، وہ دردناک والا جو ان لوگوں کا انتظار کر رہا ہے جو ایمان کے بغیر مرتے ہیں اور جن کی زندگیاں کبیرہ گناہوں سے بھری ہوئی تھیں۔ مجھے یہاں سے باہر نکالو!

من ربک؟ تمہارا رب کون ہے؟ مجھے یہاں سے باہر نکالو!

تمہارا دین کیا ہے؟ یہ کون ہستی ہیں جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ قبر میں، جواب دماغ نہیں دیتا؛ بلکہ دل دیتا ہے۔ مرنے والا، اللہ کی نظر میں اپنے مرتبے کے مطابق جواب دیتا ہے۔ اگر مرنے والے نے اللہ کے دین اور اس کے رسول کا انکار کیا، تو وہ ان سوالات کا جواب نہیں دے پائے گا۔ اگرچہ وہ مسلمان تھا، اگر اس نے گناہوں سے بھری زندگی گزاری، تو جواب دینے کی کوشش کرتے وقت اس کی زبان کام نہیں کرے گی۔ کچھ لوگوں کے لیے، یہ فرشتوں کے ساتھ ایک دوستانہ گفتگو بن جاتی ہے، لیکن دوسروں کے لیے، یہ ایک دردناک تفتیش میں بدل جاتی ہے۔ جہنم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور اسے اندر کا عذاب دکھایا جاتا ہے۔ اور وہ قبر کا عذاب برداشت کرنا شروع کر دیتا ہے۔ جہنم کی جلتی ہوئی گرمی اور بو اس تک پہنچتی ہے۔ اس کی قبر تنگ ہو جاتی ہے اور اسے کچلنا شروع کر دیتی ہے۔ پھر ایک تاریک چہرے اور گندے کپڑوں والا آدمی بدکار روح کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور کہتا ہے، "یہ وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔" روح خوف سے پوچھتی ہے، "تم کون ہو؟" "میں تمہارے برے اعمال ہوں: سُود جو تم نے لیا، غیبت جو تم نے کی، وہ حرام چیزیں جنہیں تم نے دیکھا۔ اب تم کیوں ڈر رہے ہو؟ کیا میں وہی نہیں جو تم نے ان تمام سالوں میں چاہا؟ دیکھو میں یہاں ہوں، بالکل تمہارے سامنے کھڑا ہوں۔" اس پر وہ دعا کرتا ہے، "میرے رب، قیامت کو آنے سے روک لے!" حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بنو نجار کے ایک باغ میں گئے۔ آپﷺ اپنی سواری پر تشریف فرما تھے۔ اچانک، سواری بدک گئی اور قریب تھا کہ آپﷺ کو گرا دے۔ ہم نے دیکھا تو وہاں قریب ہی چند قبریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، 'یہاں دفن کیے گئے لوگ قبر میں عذاب سے گزر رہے ہیں۔ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ تم اپنے مُردوں کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کا عذاب سننے دے جیسا کہ میں سنتا ہوں۔' پھر آپ نے اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف موڑا اور فرمایا، 'اللہ کی پناہ مانگو قبر کے عذاب سے۔'" اور یہ ہے۔۔۔ آپ کا نیا گھر۔ وہاں اوپر، سب کچھ روشن اور رنگوں سے بھرا ہوا تھا، لیکن یہاں، گھپ اندھیرا ہے۔ سب کچھ بہت تیزی سے ختم ہو گیاہے، ہے نا؟ یا تو آپ کہیں گے، "اے اللہ، براہ مہربانی مجھے ایک اور موقع دے، میرا وعدہ ہے میں خود کو سدھار لوں گا،" جیسے اللہ نے پہلے آپ کو بہت سے مواقع نہیں دیے آپ کی زندگی کے ہر ایک دن۔ یا آپ کہیں گے، "اے رب، تمام تعریف اور شکر تیرے ہی لیے ہے،" کیونکہ آپ نے ایسی زندگی نہیں گزاری جو آپ کے لیے آخرت میں مصیبت کا سبب بنے۔ آپ حرام (ممنوعہ چیزوں) سے دُور رہے، اور آپ نے اپنے فرائض پورے کیے۔ اس دنیا میں آپ کی ذمہ داری کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اب، آپ اپنا انعام حاصل کرنے کے راستے پر ہیں، اور یہ قبر آپ کا اوّلین پڑاؤ ہے۔ اگر یہ ویڈیو آپ تک پہنچتی ہے، تو آپ یقین کر سکتے ہیں کہ یہ کوئی حادثہ نہیں ہے۔ اللہ نے اسے آپ کے سامنے لایا اور آپ کو اسے آخر تک دیکھنے کی رہنمائی کی۔ آپ جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کچھ تبدیلی کریں۔ تو کیا آپ بدلے میں اس کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھائیں گے؟ یہ آپ کی زندگی میں فیصلہ کرنے کا وقت ہے۔ اگر آپ نماز نہیں پڑھتے، تو اسے نماز شروع کرنے کا لمحہ بنائیں۔ ہماری مکمل طور پر مفت صلاۃ (نماز) ایپ کے ساتھ بغیر کسی اشتہار کے، آپ پانچ وقت کی نمازوں کو اپنی زندگی کا ایک مستقل حصہ بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ اپنے ایمان کو مضبوط اور اپنے اسلامی علم میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، تو ہم نے آپ کے لیے اس چینل پر بہت سی ویڈیوز تیار کی ہیں۔ آپ انہیں ایک منظم طریقے سے دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ عربی میں قرآن پڑھنا نہیں جانتے، تو ہم نے ایک ایپ تیار کی ہے جسے Lamellif Quran کہتے ہیں، جہاں آپ جلدی، آسانی سے اور مفت میں سیکھ سکتے ہیں۔ اور اگر آپ قرآن کے معانی کو زیادہ گہرائی سے جاننا چاہتے ہیں، تو آپ ہماری ایپ، Kopgit، ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، آپ جب ہدف مقرر کرتے ہیں، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، ہر چیز بدلنا شروع ہو جائے گی۔ تو اب کیا ہوگا؟ قبر میں ایک طویل وقت تک انتظار کرنے کے بعد، آپ ایک ایسی آواز سے ہل جائیں گے جو آپ نے پہلے کبھی نہیں سنی ہوگی۔ یہ اس سب سے بڑی آفت کی آواز ہوگی جو دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ کیونکہ وہ گھڑی جو ہر روح سے متعلق ہے، بالآخر آ چکی ہے۔ دنیا کا اختتام۔ اگلی قسط میں، آپ اس دنیا کے آخری دن کا مشاہدہ کریں گے، جو AI کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ دیکھتے رہیے۔ کیا آپ نے کچھ محسوس کیا ہے؟ اس ویڈیو کو دیکھتے ہوئے، آپ کو کوئی اشتہار نظر نہیں آتا۔ کیونکہ Towards Eternity ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، ہم یہ ویڈیوز صرف آپ کی سپورٹ کے ذریعے ہی تیار کر سکتے ہیں۔ اگر آپ اس نیک کام کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو Towards Eternity کو عطیہ دیں اور اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔