Islam Aur Christianity: Har Baray Sawal Ka Jawab Is Powerful Video Mein!
تاریخ اشاعت
اِسلام دین ہے Jesus کا، اور عیسائیت Jesus کی شخصیت پر مبنی دِین ہے۔ محمد، صلی اللہ علیہ وسلم، Mary سے کبھی نہیں ملے۔ وہ اُن سے 600 سال پہلے آئی تھیں۔ تو یہ کیسے ہوا کہ وہ واحد خاتون ہیں جن کا ذکر قرآن میں اُن کے نام سے آیا ہے۔ نہ صرف اُن کا نام آیا ہے، بلکہ اُنہیں ہمیشہ کے لیے دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ نیک کہا گیا ہے۔ میرے کلیکشن میں 300 بائبلز ہیں جو کہ مختلف زمانوں میں سے ہیں، مختلف زبانوں میں اور مختلف ورژنز میں ہیں۔ اور اِن میں سے ہر ایک دوسری سے مختلف ہے۔ اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ دوبارہ تشریف لائیں گے Jesus۔ اُنہیں نہ قتل نہیں کیا گیا تھا، نہ ہی سُولی چڑھایا گیا تھا Jesus علیہ السلام، ایک توحید پرست انسان تھے، اُنہوں نے کبھی شراب نہیں پی، کبھی سؤر نہیں کھایا، اور نہ ہی انہوں نے کبھی بھی خون استعمال کیا، کیونکہ وہ مذہب کے سچے پیروکار مسلمان اور ایک پیغمبر تھے، تو اگر آپ اگر آپ Jesus سے محبت کرتے ہیں، لہٰذا آپ اُن کے دِین کو فالو کریں۔ اور Jesus کا دِین تھا اسلام۔ السلام علیکم، ڈاکٹر سبیل احمد۔ یہاں تشریف لانے کےلیے آپ کا بہت شکریہ۔ ہم نے عیسائیت کے بارے میں کچھ سوالات اکٹھے کیے ہیں جو ہم آپ سے پوچھنا چاہتے ہیں۔ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ جی بالکل پوچھیئے۔ پہلا سوال تو یہ ہے کہ جب آپ اسلام کے نقطۂ نظر سے Mary یعنی کہ مریم (علیہ السلام) کی بات کرتے ہیں تو آپ کو کیسے ری ایکشنز ملتے ہیں؟ اور اس کے علاوہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان کونسی باتیں یَکساں اور مختلف ہیں؟ Mary، علیہ السلام، کے حوالے سے میں ایک لفظ میں آپ کو جواب دوں گا۔ اور وہ لفظ ہے MARY۔ اوکے، M.
A. R. Y.
یعنی M کا مطلب ہے Mention کیا گیا اُنہیں قرآن میں۔ یہ واحد خاتون ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے۔ ایک دفعہ میرا، میری ایک فلائٹ تھی، جو شکاگو سے ہوسٹن کی تھی۔ میں کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا اور میرے برابر میں دو خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔ جو کہ کیتھولک فرقے سے تھیں۔ اُن کے ساتھ ،کوئز کھیلا میں نے، اسلام اور عیسائیت کے درمیان۔ ایک دعوتی کوئز جہاز میں۔ میں نے اُن سے ایک سوال پوچھا، کہ میری بہنوں بتاؤ مجھے۔ وہ کونسی واحد خاتون ہیں جن کا ذکر ان کے نام کے ساتھ قرآن میں آیا ہے؟ کہنے لگیں، ہمیں جواب معلوم ہے۔ وہ Mary ہیں، Jesus کی والدہ۔ میں نے کہا، بہت خوب۔ پھر میں نے اُن سے ایک اور سوال کیا، کہ یہ بتائے کہ اُن کا ذکر قرآن میں کتنی مرتبہ آیا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم۔ میں نے کہا، 34 مرتبہ۔ پھر میں نے اُن سے سوال پوچھا، کہ اچھا یہ بتائے، کہ بائبل میں اُن کا ذکر کتنی مرتبہ آیا ہے؟ کہنے لگیں، ظاہر ہے ہمیں یہ بھی نہیں معلوم۔ میں نے کہا ان کو ذکر، 18 مرتبہ آیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ موازنہ کریں تو قرآن میں 34 مرتبہ اور بائبل میں کے 18 مرتبہ ذکر آیا ہے، تو میں نے ان سے کہا کہ، ہم مسلمان اُن سے زیادہ محبت کرتے ہیں؟ وہ، وہ ہنسنے لگیں۔ تو M سے مراد ہے کہ قرآن میں ذکر ہونے والی واحد خاتون۔ M کا مطلب یہ بھی ہے، ان کے نام سے، پورا چیپٹر بھی قرآن میں موجود ہے، چیپٹر نمبر 19۔ یہاں M واضح ہو گیا Mary کا۔ اب دوسرا حرف ہے، A ، A سے مراد ہے، Allah کی عبادت، اللہ کے لیے خلوص، اللہ اُن کی زندگی کا مقصد تھا.
اُن کی حیا، اُن کی پاکدامنی، اُن کا اللہ کے لیے خلوص۔ قرآن میں کئی بار اِس بات کا ذکر کیا ہے۔ اب R کا مطلب ہے Respect، یعنی وہ عزت، جو Mary علیہ السلام کو اللہ تعالی نے دی۔ ایک چیپٹر ہے قرآن میں، چیپٹر نمبر 3، ورس نمبر 42، جس میں فرشتہ Mary کے پاس آتا ہے اور وہ آ کر کہتا ہے انسے کہ Mary، خدا نے آپ کو چُن لیا ہے، اور پاک بنا دیا ہے، اور خدا نے آپ کو تمام عورتوں سے بلند مقام دے دیا۔ دیکھیں یہ ہے وہ عزت جو، اللہ نے Mary کو دی تھی۔ تو میں اپنے عیسائی دوستوں سے یہی کہتا ہوں کہ کہ جانتے ہو کہ محمد، صلی اللہ علیہ وسلم، Mary سے کبھی نہیں ملے۔ وہ اُن سے 600 سال پہلے آئی تھیں۔ تو یہ کیسے ہوا کہ وہ واحد خاتون ہیں جن کا ذکر قرآن میں اُن کے نام کے ساتھ آیا ہے۔ نہ صرف اُن کا نام آیا ہے، بلکہ اُنہیں ہمیشہ کے لیے دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ نیک کہا گیا ہے۔ یہ درجہ تو محمد، صلی اللہ علیہ وسلم، کی والدہ، بیوی اور بیٹی کو بھی نہیں دیا گیا، لیکن یہ ایک ’’یہودی عورت‘‘ کو دیا گیا جس سے نبی پاک ﷺ کبھی نیہں ملے۔ اور یہ ایک اشارہ ہے جو میں عیسائیوں سے کہتا ہوں۔ کہ قرآن نبی پاک ﷺ کے اپنے ذہن کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ یہ انسانوں کے پیدا کرنے والے کی طرف سے ہے۔ تو M A R اور Y، ہاں،اب Y رہ گیا؟ Y سے مراد ہے ہے کہ وہ Young تھیں، اور وہ کنواری بھی تھیں۔ اس کے باوجود انہوں نے Jesus کو جنم دیا۔ تو یہ ہے اسلام میں Mary کا درجہ۔ تو عیسائیت کیا کہتی ہے؟ کیا اسلام اور عیسائیت میں کوئی اور اختلافات ہیں؟ جی بالکل، اگر اختلافات کی بات ہو، تو میں کہوں گاکہ سب سے بڑا اختلاف یہ ہوگا، کہ قرآن میں Mary کا ذکر ایک رُتبے، عزت، احترام اور رحمت و برکت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مگر بائبل میں ان کا ذکر بس، آم عورت کی طرح کیا گیا ہے، دوسری ماؤں کی طرح بس ایک ماں، کوئی خاص بات نہیں۔ کچھ جگہوں پر بے ترتیب انداز میں اُن کا ذکر آیا ہے، بس کچھ شاگردوں اور، Jesus کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کا ذکر ہے، مگر وہ شان و شوکت والا رُتبہ نہیں، جس طرح اسلام نے اُن کا ذکر کیا ہے، قرآن میں۔ البتہ دونوں میں ایک بات مشترک ہے، کہ وہ کنواری تھیں، وہ جوان تھیں اور غیر شادی شدہ بھی تھیں۔ جب اللہ نے معجزہ عطا فرمایا، اور انہوں نے Jesus علیہ السلام کو جنم دیا۔ اچھا بائبل میں نبی پاک ﷺ کے بارے میں کیا ذکر آیا ہے؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر، مسلمان علماء کے مطابق، اولڈ اور نیو ٹیسٹامنٹ دونوں میں آیا ہے۔ درحقیقت، قرآن خود چیپٹر نمبر 7، ورس نمبر 157 میں بتاتا ہے، کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اُن کے صحیفوں میں موجود ہے۔ یعنی یہودی اور عیسائیوں کے صحیفوں میں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اولڈ ٹیسٹامنٹ کی کتاب، Deuteronomy کے چیپٹر 18، ورس نمبر 18 میں، حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے کچھ یوں فرماتے ہیں کہ ایک دن ایک پیغمبر آئے گا، موسیٰ کے بعد اور وہ پیغمبر بالکل موسیٰ کی ہی طرح ہوگا۔ وہ پیغمبر اپنی طرف سے کچھ نہیں کہے گا، جو کچھ سُنے گا، بس وہی بیان کرے گا۔ مسلمان علماء کہتے ہیں کہ وہ واحد پیغمبر، جو کافی حد تک حضرت موسیٰ کی ہی طرح تھے، وہ ہمارے نبی پاک تھے۔ یہ تھی پہلی بات۔ دوسری بات، ایک پیشگوئی بھی کی گئی تھی، Isaiah کی کتاب، چیپٹر 29، ورس نمبر 12 میں، جس میں ایک فرشتہ ایک شخص کے پاس آتا ہے اور آکر کہتا ہے کہ پڑھو، اور وہ شخص کہتا ہے، کہ میں نہیں پڑھ سکتا۔ اور بالکل ایسا نبی پاک ﷺ کے ساتھ بھی ہؤا تھا، جب فرشتے جبرائیل ان کے پاس آئے، اور انہوں نے، نبی پاک ﷺ سے پڑھنے کی درخواست کی۔ اور Songs of Solomon کی کتاب کے، چیپٹر 5، ورس نمبر 16 میں محمد کا لفظ موجود ہے، رائٹ؟ البتہ، وہاں محمد کا لفظ عبرانی (Hebrew) زبان میں ہے۔ تو یہ اولڈ ٹیسٹامنٹ میں ہے۔ جب نیو ٹیسٹامنٹ کی بات ہو تو، مسلمان علماء کہتے ہیں اِس میں بہت زیادہ پیشگوئیاں ہیں۔ یہودیوں کو دیکھیں وہ ایک پیغمبر کی آمد کے منتظر ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ نے کہا، کہ میرے بعد ایک پیغمبر آئے گا، رائٹ؟ جو میری طرح ہی ہوگا۔ لہٰذا Jesus کے زمانے میں، عیسائی بھی اُس پیغمبر کا انتظار کر رہے تھے۔ تو وہ John the Baptist سے پوچھتے ہیں، کیا تم ہی وہ پیغمبر ہو؟ تو وہ انہیں کہتا ہے کہ نہیں۔ تو پھر وہ پیغمبر، Jesus کے مطابق، گاسپل آف جون، چیپٹر 16، ورس نمبر 7 میں،اُنہوں نے کہا کہ تمہارے لیے، مطلب میرے شاگردوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ میں ان سے، بہت دور چلا جاؤں۔ اگر میں نہیں گیا، تو تسلّی دینے والا نہیں آئے گا۔ لیکن اگر میں چلا جاؤں تو وہ ضرور بھیجا جائے گا۔ پھر Jesus نے کہا، میں نے تمہیں بہت سی باتیں کہنی ہیں، مگر تم اُنہیں ابھی نہیں سُن سکتے۔ مگر جب وہ آ جائے گا، تو وہ تمہیں پورا سچ دکھائے گا۔ وہ اپنے پاس سے کچھ نہیں کہے گا، جو کچھ سُنے گا بس وہی بیان کرے گا۔ تو یہاں مونث ضمیر استعمال نہیں ہوئی، بالکہ روح القدس کے لیے، ہے، مذکر ضمیر کا استعمال ہؤا ہے، اور Jesus فرما رہے ہیں کہ وہ پورا سچ لے کر آئے گا۔ وہ ایمان کو مکمل کرے گا۔ وہ مکمل رہنمائی دے گا۔ تو مسلمان کہتے ہیں کہ وہ مکمل رہنمائی اللہ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دی ہے۔ لہٰذا یہ مختصراً چند پیشگوئیاں ہیں۔ جب آپ عیسائیوں کو یہ مثالیں دیتے ہیں تو وہ آپ کو کیا کہتے ہیں؟ کیا کہتے ہیں اور کیسا ری ایکٹ کرتے ہیں؟ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہ۔ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں)۔ -ؐماشااللہ؟ -سبحان اللہ ، کیا واقع؟ ہاں مگر، سب لوگ نہیں کچھ لوگ مخالفت بھی کرتے ہیں۔ پتہ ہے کیا کہتے ہیں؟ جو پیشگوئیاں تم نے ہمیں بتائیں، خاص طور پر جو نیو ٹیسٹامنٹ میں ہیں، اُن کا تعلق روح القدس سے، یعنی کہ The Holy Ghost۔ اِن کا تعلق تمہارے پیغمبر محمد ﷺ سے نہیں ہے۔ ہم اِس پر اُن سے یہ کہتے ہیں۔ کہ دیکھو، Jesus کہہ رہے ہیں کہ اُسشخص کے آنے کے لیے اُنہیں جانا ہوگا۔ تاکہ وہ شخص بھیجے جائیں۔ لیکن اگر روح القدس کو دیکھیں تو وہ تو Jesus کے زمانے میں بھی موجود تھے۔ لہٰذا یہ بات غیر معقول لگتی ہے۔ Jesus کہہ رہے ہیں کہ مجھے جانا ہوگا، اُس شخص کے آنے کے لیے۔ لیکن اگر وہ روح القدس ہیں، تو وہ تو پہلے سے ہی موجود تھے۔ وہ روح القدس نہیں ہیں۔ اور دوسرا طریقہ جس سے ہم عیسائیوں پر نکتہ چینی کر سکتے ہیں وہ یہ کہ Jesus تو کہہ رہے ہیں کہ وہ شخص آپ کو پوری سچائی بتائے گا، مکمل رہنمائی دے گا۔ روح القدس یا Holy Ghost نے ایسا نہیں کیا۔ تیسری بات، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اُنہوں نے سات مرتبہ مذکر ضمیر استعمال کئے ہیں، ان ورسز میں، کہ وہ آئے گا، وہ میری شان بڑھائے گا، وہ پورا سچ دکھائے گا، رائٹ؟ Holy Spirit کے لیے it استعمال ہوگا۔ اس میں He یا She استعمال نہیں ہوگا۔ ایک اور بات ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اِس پیراگراف میں Jesus کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے پاس سے کچھ بھی نہیں کہے گا، جو وہ سُنے گا، وہی بیان کرے گا۔ عیسائیوں کے مطابق، روح القدس خدا ہیں۔ خدا تو انتظار نہیں کرتا کہ کوئی اُسے کچھ کہے تو وہ بولے، کہ کیا کہنا ہے، کیا نہیں۔ لہٰذا یہ روح القدس نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے۔ اور ہم کہتے ہیں کہ وہ واحد شخص اِس تفصیل پر پورے اترتے ہیں وہ ہمارے نبی پاک ہیں۔ ایک بات جس پر عیسائیوں کو بہت تَجَسُّس ہے، کہ Jesus کااسلام میں کیا رُتبہ ہے، اور یہ بھی کہ مسلمز بھی Jesus پر ایمان رکھتے ہیں؟ کیا اِس حوالے سے کوئی واقعہ ہے؟ Jesus کا اسلام میں اور عیسائیت میں کیا مقام ہے؟ ٹھیک ہے میں بتاتا ہوں۔ ایک مرتبہ ہم نے ایک بِل بورڈ لگایا، شکاگو ہائی وے پر، جس پر لکھا تھا، کہ Jesus کو قرآن میں تلاش کریں، اور نبی پاک ﷺ کوبائبل میں ۔ لوگوں میں تجسس پیدا ہو گیا ؟ کہ آپ Jesus کو قرآن میں کیسے دیکھ سکتے ہیں اور یہ بھی کہ نبی پاک ﷺ بائبل میں کہاں ہیں؟ بہت سے لوگوں نے سوالات پوچھنے کے لیے کال کی، اور کچھ نے ڈِبیٹ کیلئے، مگر بہت سے لوگوں نے قرآن کا ایک نسخہ لینے کے لیے بھی کال کی۔ لہٰذا اگر کوئی مجھ سے، حضرت عیسیٰ کا اسلام میں مقام پوچھتا ہے، تو میں اُنہیں سادہ سا ایک لفظ میں جواب دیتا ہوں۔ وہ ایک لفظ کا جواب، ایک لفظ کا جواب، میں کہہ رہا ہوں،اوکے۔ وہ ہے Jesus۔ J.
E. S. U. S.
Jesus کا یہ لفظ ہمیں ہر حرف میں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم عیسائیوں کو Jesus کا اسلام میں مقام بتا سکیں۔ تو Jesus میں J کا مطلب ہے Just a messenger۔ کیا یہ آسان ہو گیا؟ یعنی J کا مطلب وہ پیغام پہنچانے والے تھے۔ تو قرآن کے چیپٹر 5، وَرس نمبر 75 میں ہے کہ Jesus صرف ایک پیغام پہنچانے والے تھے۔ ۔ اُن سے پہلے بہت سے پیغام پہنچانے والے گزر چکے۔ تو قرآن کے مطابق، کہ Jesus پیغمبروں کے سلسلے کے ایک رسول تھے۔ ہر رسول اور پیغمبر لوگوں کو صرف ایک خدا کی عبادت کروانے کے لیے آئے۔ لہٰذا Jesus ایک پیغمبر تھے۔ E کا مطلب ہے Empowered۔ یعنی خدا کی طرف سے معجزوں کی طاقت رکھنے والا۔ مُردے کو زندہ کر دینا، یا پھر کسی نابینا کو بینائی دے دینا، بیمار کو شفا دے دینا۔ ان کے پاس معجزے تھے، اور معجزے دکھانے کی طاقت، اللہ نے دی تھی۔ یہ سب کہاں لکھا ہے؟ قرآن کی سورۃ نمبر 3، ورس نمبر 49 میں۔ مگر ہم عیسائی دوستوں کے ساتھ جو مزے کی چیز شیئر کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ ہر وہ معجزے جو Jesus علیہ السلام کی طرف سے دیکھے گئے، اُس کی طاقت اُنہیں خدا نے دی تھی۔ یعنی کہ طاقت خالقِ کائنات کی طرف سے تھی، اُن کی ذاتی طاقت نہیں تھی۔ تو یہ تھا E، J E۔ S کا مطلب ہے Jesus کا Sole Mission۔ ان کا واحد مشن، انسانیت کو ایک خدا کی عبادت پر لانا تھا۔ قرآن کے چیپٹر 3، ورس نمبر 51 میں ہے، ’’إِنَّ اللّهَ رَبِّی وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوهُ هذا صِراطٌ مُسْتَقِیم‘‘ یعنی اللہ قرآن میں Jesus کی بات دہرا رہے ہیں اور Jesus کہہ رہے ہیں کہ بے شک اللہ ہی میرا اور تمہارا رب ہے۔ صرف اُسی کی عبادت کرو اور یہی سیدھا راستہ ہے۔ لہٰذا S کا مطلب ہے Jesus کا sole مشن ہے۔ توU J E S ۔ بہت انٹرسٹنگ ہے نا؟ آپ کے خیال میں U کا کیا مطلب ہوگا؟ U کا مطلب ہے Uplifted by Allah۔ نہ وہ قتل ہوئے،نا ہی سولی پر چڑھایا گیا، بلکہ اللہ نے اُنہیں آسمان پر اٹھا لیا، وہ آسمان پر سُولی چڑھے بغیر موجود ہیں۔ رائٹ؟ J E S U.
اور آخری S کا مطلب Second coming۔ عیسائی سن کر حیران رہ جائیں گے کہ کیا واقعی ہم اُن کا دوبارہ آنا مانتے ہیں؟ تو یہ وہ طریقے ہیں جس سے میں اسلام کو سمجھاتا ہوں، یہ یاد کرنا بھی آسان ہے، اور ترتیب سے بھی ہے، جس کا اختتام دوسری بار آنے پر ہوتا ہے۔ تو اسلام میں Jesus کا یہ مقام ہے۔ اُنہیں نا تو سُولی پر چڑھایا گیا، نا قتل کیا گیا۔ بالکہ،آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔ ہاں، قرآن کے مطابق، سورۃ نمبر 4، سورۃ النساء (عورتیں)، ورس نمبر 157 میں۔ اللہ فرما رہا ہے، میں ترجمہ بتا رہا ہوں کہ یہ لوگ فخر سے کہتے ہیں کہ اِنہوں نے Mary کے بیٹے Jesus، مسیح کو قتل کر دیا۔ لیکن انہوں نے قتل نہیں کیا، نہ ہی اُنہیں سُولی پر چڑھایا۔ بس معاملہ اِن پر ایسا ظاہر کیا گیا۔ اور پھر اللہ فرماتا ہے کہ Jesus کو میں نے اٹھا لیا تھا۔ نہ تو سُولی پر چڑھایا گیا، نا ہی قتل کیا گیا۔ تو یہ بھی ایک اختلافی بات ہے، مگر Jesus کے بارے میں اللہ نے یہی کہا ہے۔ تو اُنہیں قتل کیوں نہیں کیا گیا اور آسمانوں پہ کیوں اٹھا لیا گیا؟ کیا اِس وجہ سے وہ دوبارہ آئیں گے؟ ہاں تو اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ دوبارہ تشریف لائیں گے Jesus۔ اُنہیں قتل نہیں کیا گیا تھا، نہ ہی سُولی چڑھایا گیا تھا کیونکہ عیسائی علماء کے مطابق، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ Jesus کے صلیب پر، موت کا مطلب ہے، عیسائیوں کے لیے نجات۔ لہٰذا ہم یہ یقین نہیں رکھتے کہ کسی شخص کی موت یا زندگی نجات کا ذریعہ ہو سکتی ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرما رہا ہے کہ، کہ اُن کی وفات نہیں ہوئی۔ لیکن اگر فرض بھی کرلیں کہ وہ مرگئے، تو بھی اِس سے نجات نہیں ہو سکتی۔ مگر حقیقت میں ایسا ہوا تھا کہ اللہ نے Jesus کو خود اوپر اٹھا لیا تھا۔ اُنہیں دنیا میں واپس بھیجا جائے گا۔ اور پھر دوسری بار جب وہ دنیا میں بھیجے جائیں گے، تو کچھ چیزیں ترتیب سے ہوں گی۔ تو اہمیں یہ بتائیں، جب وہ آئیں گے تو کیا کچھ ہوگا؟ کیا وہ بطور رسول آئیں گے؟ جب Jesus دوبارہ آئیں گے، اور ظاہر ہے کسی کو بھی اُس وقت کا علم نہیں ہے، کہ وہ کس وقت، کس دن، یا پھر، کس سال آئیں گے دوبارہ۔ مگر امام بخاری، امام مسلم کے کلیکشن میں ایسی بہت سی مستند روایات ہیں۔ جو دراصل حدیث ہیں، یعنی حضرت محمد ﷺ کی کہی ہوئی باتیں ہیں، جنہیں شروع کے مسلمانوں نے جمع کرلیا۔ تو نبی پاک ﷺ کی تقریباً 14 مستند روایات ہیں جو Jesus علیہ السلام کی دوسری مرتبہ آمد کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہیں، رائٹ؟ تو وہ دمشق کے شہر میں تشریف لائیں گے۔ اور وہ فجر کی نماز کا وقت ہوگا۔ مسلم دن میں پانچ نمازیں پڑھتے ہیں، اور یہ دن کی پہلی نماز ہوتی ہے۔ اس وقت وہ آسمان سے اتر رہے ہوں گے۔ وہ دمشق کے مشرقی جانب ایک سفید مسجد کے مینار پر اتریں گے۔ وہ نیچے آئیں گے اور وہ وقت مسلمانوں کی نماز کا ہوگا۔ اور مسلمان اُنہیں دیکھ کر بالکل حیران رہ جائیں گے، اور کہہ رہے ہونگے کہ، خوش آمدید Jesus، ہم آپ کے منتظر تھے۔ اور ان سے یہ بھی کہیں گے کہ، کیوں نہ آپ ہی نماز پڑھائیں؟ اور پھر Jesus کہیں گے کہ یہ جو، آپ کا امام یہاں موجود ہے وہی نماز پڑھائے گا۔ یعنی مطلب یہ کہ Jesus ایک پیغمبر یا نئے رسول کے طور پر نہیں آئیں گے۔ بالکہ وہ، نبی پاک ﷺ کی شریعت (اسلامی قانون) کے فالوور کی حیثیت سے آئیں گے۔ اور پھر مزید تفصیل ہے کہ کیا کچھ ہوگا۔ اُن کی اپنی پوری فوج ہوگی جو اینٹی کرائسٹ یعنی دجّال سے لڑے گی۔ خدا کی طاقت سے، اینٹی کرائسٹ کو شکست ہوگی۔ پھر Jesus پوری دنیا پر حکومت کریں گے۔ کچھ سالوں کیلئے۔ اُس وقت ہر کوئی مسلمان ہوگا۔ مسلم کا مطلب ہے ہر وہ شخص جو اللہ کے آگے جھکتا ہے۔ Jesus شادی کریں گے۔ اور پھر وہ، چلے جائیں گے، پلگرمج کے لئے، یعنی حج کرنے، مکّہ میں۔ پھر آخر میں اُن کی قدرتی طور پر وفات ہوجائگی۔ آخرت کی زندگی کا اسلامی عقیدہ عیسائیت سے کیسے مختلف ہے؟ جنت، جہنم، روزِ جزا و سزا وغیرہ۔ اچھا سوال ہے۔ نجات کا تصور، اور آخرت کا تصور، بہت سی باتیں ایک جیسی ہیں مگر ان میں بہت زیادہ اختلافات بھی ہیں۔ ایک جیسی باتوں میں ایک تو یہ ہے۔ عیسائیوں کے مطابق، دوبارہ زندہ کیے جانے کا ایک دن آئے گا اور ایک دن فیصلے کا آئے گا۔ مگر فیصلے کے دن، ایسا نہیں ہوگا کہ خدا کے بجائے،Jesus لوگوں سے ان کا حساب لے رہے ہوں گے۔ مگر اسلام کے مطابق، اللہ علیم ہے، وہ سب کچھ جانتا ہے، وہ سب کچھ دیکھتا ہے، وہ بڑی حِکمت والا ہے، اُسے ہر چیز کا پورا پورا علم ہے۔ اِس لیے وہی واحد ہستی ہے جو انسانیت کا حساب لینے کے لیے موزوں ہے، نہ کہ Jesus۔ کیونکہ Jesus کے پاس اِتنا علم نہیں، وہ تو پیغمبر تھے، وہ ایک انسان تھے۔ اُنہیں ہر چیز کا علم نہیں ہے۔ تو یہ بڑے اختلافات میں سے ایک ہے۔ اور دوسرا بڑا اختلاف، جنت الفردوس کی تفصیل میں ہے، جوکہ قرآن اور بائبل میں مختلف ہے۔ بائبل میں اس کے بارے میں تفصیل سے نہیں لکھا گیا ہے۔ جنت کے متعلق لیکن قرآن میں پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ اِس میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جیسے محلات، کپڑوں درخت، اور لوگوں کے، اوراُن کی آپس میں بات چیت کے بارے میں۔ اِس میں بیان کیا گیا ہے، تمام شاندار انعامات اور ہماری بیویوں اور فیملیز کے بارے میں۔ مگر بائبل میں صرف ایک چیز بیان کی گئی ہے کہ جنت میں جنتیوں کا خدا سے براہِ راست رابطہ ہوگا۔ مگر اِس سے، دل میں بہت سارے سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اُس ہمیشہ کی زندگی میں اِس کے کیا معانی ہیں؟ کیا آپ بس بیٹھے ہوں گے اور وہاں خدا ہوگا، آپ کیا کر رہے ہوں گے؟ قرآن اسکا تسلی بخش جواب دیتا ہے ہمیں، کہ وہاں کیا ہوگا۔ سارے انعامات تفصیل سے بتاتا ہے، رائٹ؟ تو یہ ایک فرق ہے۔ دوسرا بڑا فرق جہنم کا تصور۔ کچھ عیسائی اِس سے حقیقی جہنم مراد لیتے ہیں، کہ وہاں سزا اور اَذِیّت ہوگی۔ مگر زیادہ تر عیسائی یہ کہتے ہیں کہ جہنم, دراصل، جدائی کی جگہ ہوگی، جہاں پر خالق اور مخلوق کے الگ ہوں گے ۔ لہٰذا وہ جدائی لوگوں میں بے بسی، مایوسی کے ساتھ ساتھ، بے بسی بھی پیدا کرے گی۔ مگر جہنم کا اسلامی تصور یہ ہے کہ یہ ایسے لوگوں کے لیے ایک سزا کی ایک جگہ ہوگی جو خدا کو نہیں مانتے تھے۔ کئی نشانیاں اور، کئی وارننگز اُن کے پاس آنے کے باوجود، اُنہوں نے خدا کا انکار کیا، اور غلط کام کیے، اُنہوں نے شرک کیا (یعنی خدا کے ساتھ پارٹنرز جوڑے)، رائٹ؟ اُنہوں نے اپنے رب کے بجائے کسی اور کی عبادت کی یا پھر عبادت میں رب کے ساتھ کسی اور کو بھی شریک کر لیا۔ تو جہنم کی اِس جگہ کو قرآن میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ ہم سب کو جہنم کی آگ سے بچائے اور ہمیں جنت میں داخل فرمائے۔ تو کیا عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسلمان جہنم میں جائیں گے؟ دیکھیں جس طرح عیسائیون کے عقائد ہوتے ہیں، اس طرح،مسلمانوں کے 6 بنیادی عقائد، پانچ ارکانِ اور دیگر فرائض ہوتے ہیں، اگر کوئی شخص اسلامی عقائد سے متفق نہیں ہوتا اور اُن پر عمل نہیں کرتا، تو پھر شاید اُس شخص کو سزا مل سکتی ہے۔ یا پھر کوئی شخص اس دنیا میں رہتے ہوئے اسلام پر ایمان نا لائے، جبکہ اسے وارننگز اور علم مل رہا ہو۔ تو پتہ ہے ہم کیا کہتے ہیں؟ کہ یہی وہ معیار ہے جو اُس شخص کو جہنم میں لے جائے گا۔ اور عیسائیوں کے مطابق، اگر کوئی شخص یہ نہیں مانتا کہ Jesus خدا ہیں، خدا کے بیٹے، یا ٹرینیٹی کا حصہ ہیں، یا اُنہوں نے انسانیت کی نجات کے لیے اپنی جان نہیں دی، اگر کوئی شخص Jesus کے اِس تصور کو نہیں مانتا، تو وہ شخص جہنم کی آگ میں جائے گا۔ لہٰذا وہ کہتے ہیں کہ مسلمان جہنم میں جائیں گے اگر وہ Jesus پر ایمان نہیں لاتے، یا وہ، جو ان کا مقصد نہیں مانتے۔ تو ہاں وہ یہ، وہ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان جہنم میں جائیں گے اگر اُنہوں نے Jesus کو رب یا نجات دہندہ نہ مانا تو۔ مگر خود بائبل سے ہی ہم اُنہیں بتا سکتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ Jesus کے مطابق کہی ہوئی بات نہیں ہے۔ میرا خیال سے کہ یہ اہم ترین پوائنٹس میں سے ایک ہے۔ کیوںکہ Jesus کے مطابق تو نجات کا راستہ یہ ہے کہ انسان صحیح عقیدہ رکھے اور اپنی زندگی میں اچھے اعمال کرے۔ اسلام بھی یہی کہتا ہے۔ قرآن کے چیپٹر 2، ورس نمبر 25 میں، اللہ فرما رہا ہے، جس کا ترجمہ ہے، جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کیے ہیں اُن کو خوشخبری دے دو کہ اُن کے لیے ایسے باغات تیار ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں تو ایک شخص Jesus کے پاس آیا، یہ بائبل میں لکھا ہے، اور اس نے Jesus کے پاس آکے عرض کی، اس شخص کا سوال بہت اہم اور بنیادی تھا، یہ نیوٹیسٹامنٹ میں لکھا ہے، جو پہلی gospel تھی، جو کہ ہے Gospel of Matthew، چیپٹر 19، ورس 16 اور اِس سے آگے تک ہے۔ ایک شخص Jesus کے پاس آیا اور اُن سے سوال پوچھا، کہ اے اچھے آقا، میں ایسا کیا کروں جس سے میں جنت میں جاسکوں؟ یہاں ڈائریکٹ جواب بنتا ہے تو Jesus نے جواب دیا کہ، تم مجھے اچھا کیوں کہہ رہے ہو؟ سوائے خدا کے کوئی بھی اچھا نہیں ہے۔ تو Jesus خدا نہیں ہو سکتے، اس بات کے مطابق کیونکہ Jesus نے خود کہا، کہ خدا کوئی اور ہستی ہے، جو مکمل اچھائی رکھتا ہے، میں اچھا نہیں ہوں۔ پھر اُنہوں نے سوال کا جواب دیا۔ Jesus نے کہا، اگر تمہیں ہمیشہ کی زندگی چاہیے، اور تم جنت میں جانا چاہتے ہو، تو احکامات پر عمل کرو۔ Jesus کو تو یہ کہنا چاہیے تھا، کہ تم بس کچھ دن انتظار کرو، کچھ ہفتے،اور کچھ مہینے، میں مرنے والا ہوں، وہ لوگ مجھے صلیب پر لٹکائیں گے، یقین کر لینا کہ میں مر چکا ہوں، پھر میں دوبارہ زندہ ہوں گا اور یہی جنت کا راستہ ہے۔ اُنہوں نے ایسا نہیں کہا۔ یہ نظریہ تو لوگوں نے بعد میں بنا لیا۔ کہ Jesus نے کیا کہا ہے، اُنہوں نے کہا کہ اگر تم جنت میں جانا چاہتے ہو، تو احکامات پر عمل کرو۔ تو پھر اُس شخص نے پوچھا، کہ کون سے احکامات؟ Jesus نے اس شخص کو کہا کہ اولڈ کے احکامات، مطلب اولڈ ٹیسٹامنٹ کے۔ اُن کا اشارہ دس احکامات (Ten Commandments) کی طرف تھا۔ اور وہ دس احکامات،اولڈ ٹیسٹامنٹ میں، Exodus کی کتاب میں، چیپٹر 20، ورس نمبر 3 میں موجود ہیں۔ کہ صرف ایک خدا کو مانو اور اُسی کی عبادت کرو۔ اور باقی نو احکامات اچھے کام کے بارے میں ہیں۔ خدا کے نام کی توہین نہ کرو، اپنے والدین کا احترام کرو، پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرو، جھوٹ مت بولو، دھوکا مت دو، قتل مت کرو، بس اچھے اعمال کرو۔ تو جب آپ دس احکامات کو دیکھتے ہیں، تو پہلا حکم ہے کہ ایک خدا پر ایمان لاؤ۔ باقی احکامات کا تعلق اچھے اعمال کرنے سے ہے۔ تو Jesus علیہ السلام کے مطابق، یعنی بائبل بھی یہی کہتی ہے، کہ کسی شخص کو جنت میں جانے کے لیے صحیح عقیدہ کے ساتھ اچھے اعمال کرنے ہونگے۔ عیسائیت کے مطابق، Jesus نے انسانیت کی نجات اور اُن کے گناہوں کی معافی کے لیے اپنی قربانی دی۔ کیا یہ عقیدہ غلط ہے؟ Jesus کو اپنی نجات کے لیے نجات دہندہ کے طور پر قبول کیوں نہیں کرنا چاہئیے؟ دیکھیں یہ، ویسے، بہت سے پہلوؤں سے غلط ہے۔ کیوںکہ یہ لاجکل پوائنٹ آف ویو سے بھی غلط ہے کہ کیوں Jesus کی موت، پوری انسانیت کو نجات دلا دے گی۔ میں گاڑی چلا کر اپنے گھر سے یہاں آیا ہوں۔ دیکھیں اگر میں اسپیڈ لِمِٹ سے زیادہ تیز گاڑی چلاتا ہوں، تو میں ہی وہ شخص ہونگا جسے پولیس کو پکڑے گی، اور مجھے ہی اس کا حرجانہ بھرنا ہوگا اس کا ٹکٹ بھرنا ہوگا۔ ناکہ میری بیوی، میرے پڑوسی، یا میرے والدین بھرینگے۔ تو، لاجکلی، اگر کوئی شخص مر جائے، تو اُس شخص کی موت پر ایمان لا کر دوسرے شخص کو نجات کیسے مل سکتی ہے؟ اسلام کے مطابق، اور لاجک کے مطابق، اسلام یہ کہتا ہے کہ جیسا کروگے ویسا ہی پاؤ گے۔ یعنی اگر اچھے عمل کرو گے تو اچھا انعام ملے گا۔ اگر برا کرو گے، تو توبہ کرنے پر معافی مل جائے گی، ورنہ اِس کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ اسلام میں نجات کا تصور عقلی اور سمجھ میں آنے والا ہے۔ دنیا کے ہر عدالتی نظام میں وہ اپناتے ہیں، احتساب کا تصور جو اسلام کے مطابق ہے۔ جو تم کرو گے، اگر کوئی مجرم کوئی جرم کرے گا، تو اُسے ہی سزا دی جائے گی، کسی اور کو بالکل نہیں۔ لہٰذا، عقلی نقطۂ نظر سے، عیسائیوں کا نجات کا تصور نہایت غیر معقول ہے۔ اور روحانی پوائنٹ آف ویو سے، جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، Jesus نے کہا کہ نجات کا راستہ، جنت میں جانے کا راستہ، اچھا اور صحیح صحیح عقیدہ رکھنا اور اچھے اعمال کرنا۔ جوکہ Matthew میں چیپٹر 19، ورس نمبر 16 سے لے کر آگے تک ہے۔ تو ہم جس زاویے سے بھی دیکھیں، یہاں تک کہ اولڈ ٹیسٹامنٹ میں بھی یہی ہے، رائٹ؟ اولڈ ٹیسٹامنٹ بھی یہی کہتا ہے کہ جیسا تم کرو گے، ویسا ہی پاؤ گے۔ Ezekiel کی کتاب میں بھی درج ہے۔ تو اولڈ ٹیسٹامنٹ میں ہے کہ، Jesus نے کہا، جوکہ قرآن بھی کہتا ہے، عقل کہتی ہے، اور ہر عدالتی نظام بھی کہتا ہے کہ جس نے غلط کیا ہے سزا بھی اُسے ہی ملنی چاہیے اور جس نے اچھا کام کیا ہے، انعام بھی اُسے ہی ملنا چاہیے۔ تواِس لیے اصلی گناہ کا تصور غیر معقول ہے، ایسا ہی ہے ناں؟ دیکھیں اصلی گناہ کے مطابق، آدم اور حوا نے ایک ایسا کام کیا تھا جس سے اللہ کی نافرمانی ہوئی، انہوں نے سیب کھا لیا تھا لیا تھا اور اُس کے درخت کے پاس گئے تھے، اور اُس کی سزا یہ ملی کہ آدم اور حوا کی نسل سے آنے والی ہر اولاد، اور ہر بچہ اِسی اصلی گناہ کا بوجھ لے کر پیدا ہوں گے۔ مگر عقلی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو، مجھے اس کی سزا کیوں ملے گی؟ جو گناہ میرے والدین نے کیا تھا؟ کوئی بھی عدالتی نظام اِس تصور کو نہیں مانتا کہ بچوں کو سزا دی جائے والدین کے گناہ کی۔ اسلام اِس بارے میں کیا کہتا ہے، اسلام اِسے اصلی گناہ نہیں مانتا، بلکہ اسلام اصلی اچھائی کی بات کرتا ہے۔ کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ، ہر اولاد ایک پاک صاف دل لے کر پیدا ہوتی ہے، ایک صاف تختی کی طرح بالکل معصوم، پاک، کسی داغ کے بغیر۔ تب تک جب تک آپ بالغ ہو جاتے ہیں، اور پھر اگر آپ اچھا کام کرتے ہیں، تو انعام دیا جائے گا، اگر برا کام کریں گے تو اِس کی سزا ملے گی۔ لہٰذا اسلامی تصور کے مطابق، جب آدم اور حوا سے یہ گناہ ہوا تھا، جب اُن سے وہ غلطی ہوئی تھی، تو دونوں نے خدا سے توبہ کی، کہ اے خدا، پلیز ہمیں معاف کر دو۔ اور خدا نے معاف کر دیا۔ بات ختم ہوگئی۔ اس لئے ہر بچہ ایک اصلی اچھائی کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے کئی موقعوں پر، بارہا یہ جواب دیا ہے، مسجد کے اوپن ہاؤسز میں عیسائی حضرات جب یہ سوال کرتے تھے تو وہ ہر بار یہی کہتے ہیں کہ سبیل آپ نے نجات کے اسلامی تصور کے بارے میں جو بات کہی ،وہ بالکل لاجکل ہے اور ہمیں سمجھ میں آتی ہے۔ تو عیسائی پوچھتے ہیں کہ، خدا نے پھر بائبل کو محفوظ کیوں نہیں رکھا؟ تو کیوں حفاضت نہیں کی اللہ نےانجیل کی جو، Jesus کو دی گئی؟(Gospel)، زبور جو ڈیوڈ کو دی گئی (Psalms)، تورات جو کہ موسیٰ کو عطا کی گئی (Torah)، اور وہ اسکرولز جو ابراہم کو دیے گئے۔ خدا حفاظت کر سکتا تھا، اور اس کے اصل نسخے اب بھی ہمارے ساتھ موجود ہوتے، رائٹ؟ خدا یہ کر سکتا تھا، اُس کے پاس قدرت ہے۔ وہ اس کی طاقت رکھتا ہے۔ اُسے ایسا کرنا ہی نہیں تھا کیونکہ وحی کی وہ باتیں صرف اُنہی لوگوں کے لیے تھیں، اُسی زمانے کے لیے تھیں۔ اُس میں صرف محدود حد تک رہنمائی تھی۔ یعنی اُن میں محدود شریعتیں تھیں۔ وہ شریعت سارے زمانے کے سب لوگوں پر اپلائی نہیں ہو سکتی تھیں۔ شریعت کا مطلب رہنمائی، ٹھیک ہے؟ مثال کے طور پر، میں آپ کو ایک سادہ سی مثال دیتا ہوں۔ آپ کے پاس ناروے کا آئین ہے۔ ناروے کا آئین صرف ناروے کے لوگوں کے لیے لکھا گیا تھا، صرف ان 5 ملین لوگوں کے لیے، جو جغرافیائی طور پر، اُن کے کلچر کے مطابق، اور اُنکے بیک گراؤنڈ کے لحاظ سے لکھا گیا۔ ناروے کا آئین، صرف ناروے کے لوگوں پر اپلائے ہوتا ہے۔ وہ امیرکا کے لوگوں یا بھارت، یا افریقہ کے لوگوں پر اپلائی نہیں ہوتا۔ اِسی طرح امیرکا کا آئین دوسرے ملکوں کے اوپر اپلائی نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ مخصوص پہلو کے لحاظ سے لکھا گیا ہے۔ مگر تصور کریں کہ اگر کوئی ایسا آئین ہو جو پوری دنیا پر اپلائی ہو سکتا ہو، تمام کلچرز، تمام نسلوں، تمام زمانوں پر۔ تو قرآن کی مثال اس ہی طرح ہے، اگر دوسری کتابوں کا موازنہ کریں، تو جیسے ناروے اور US کا آئین الگ الگ ہے، اسی طرح بائبل، اولڈ اور نیو ٹیسٹامنٹ بھی مختلف ہیں۔ اگر خدا انجیل (Gospel) کو محفوظ کر بھی لیتا، یا پھر Jesus کو دی ہوئی وحی کو محفوظ کر لیتا، تب بھی وہ آج کے زمانے کے لیے کافی نہیں تھی۔ نا ہی ہمیں آنے والے تمام مسائل کے لیے کافی ہوتی۔ لہٰذا اُس کا دائرہ محدود تھا، وہ صرف اُن لوگوں کیلئے اور اُس زمانے کے لیے تھی۔ اِسی وجہ سے، اللہ نے اپنی حکمت سے، اُس کی ذمہداری یا اسکی حفاظت کا وعدہ نہیں کیا۔ مگر قرآن پوری انسانیت کے لیے، اور سارے زمانوں کے لیے، ہر زمانے کے مسئلے کےحل کے لیے، ہر کلچر اور انسانیت کی ہر نسل کے لیے ہے، اور چونکہ یہ آخری وحی ہے، تو اسی لیے اللہ نے اِس کی حفاظت کا وعدہ کیاہے۔ مسلمان مانتے ہیں کہ قرآن محفوظ ہے، مگر بائبل میں تبدیلی ہو چکی ہے۔ تو اِس کی کیا وجہ ہے؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں؟ یہ بہت بڑا دعویٰ ہے۔ یہ بہت بڑا دعویٰ ہے اور اس دعوے کا ثبوت بھی بہت بڑا ہونا چاہیے، ٹھیک کہا ناں؟ چلیں فوراً قرآن کی طرف آتے ہیں۔ دیکھیں اللہ نے یہ پیشگوئی کی ہے قرآن میں، چیپٹر 15، وَرس نمبر 9، حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر یہ پیغام ہم نے اتارا ہے، اور ہم ہی اِس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ لہٰذا اِس کی حفاظت کرنے کے، دو طریقہ کار ہیں۔ ایک حافظے میں،اپنے لوگوں کے ذہنوں کے اندر۔ دیکھیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلمکے پاس وحی آئی، وہ سب سے پہلے پہلے حافظ بنے پورے قرآن شریف کے۔ آپ کے صحابہ نے قرآن کو یاد کیا اور اپنے بعد والوں کو سِکھایا اور ہوتے ہوتے ہم نے بھی یہی سیکھا۔ تو کئی سلسلے میں یہ ذہنوں میں محفوظ ہو رہا ہے، 1400 سال سے بغیر کسی گیپ کے ہر ایک نشل می ہر ایک نسل میں ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے اِسے حفظ کیا، یعنی اسے زبانی یاد کیا۔ اور ہماری نسل میں،یعنی 2021 میں، لوگ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ تَقْرِيبًا15 ملین حافظِ قرآن اس دنیا میں موجود ہیں۔ اور بائبل کے کتنے ہیں؟ اصل زبان کے؟ زیرو۔ میں اصل زبان کہہ رہا ہوں، رائٹ؟ Aramaic زبان میں یا پھر قدیم کلاسیکل عبرانی اولڈ ٹیسٹامنٹ (Hebrew) زبان میں۔ ایک جانب بائبل کا کوئی حافظ نہیں، اور دوسری طرف 15 ملین حافظ ہیں قرآن کے۔ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ حفاظت کا ایک طریقہ ہے، یعنی قرآن کو حفظ کرنا، رائٹ؟ اور ہم اِس کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ ایک عیسائی آ سکتا ہے جو جانتا ہو کہ قرآن کو کیسے پڑھا جاتا ہے ، وہ قرآن کو کھولے اور میرا بیٹاآئے گا جو کہ، حافظ قرآن ہے، ماشاء اللہ، رائٹ؟ اِس کا بھی حفظ مکمل ہونے والا ہے۔ تو وہ دوسری جانب دیکھ رہا ہوگا اُس کے پاس نہ کوئی فون ہوگا، نہ کوئی گیجیٹ ہوگا، وہ اپنے حافظے سے قرآن پڑھنا شروع کرے گا۔ اور وہ عیسائی جو عربی پڑھنا جانتا ہے، وہ قرآن میں دیکھ سکتا ہے، اُس میں وہی لکھا ہوگا جو کہ میرا بیٹا یوسف تلاوت کرے گا۔ ایک سادہ سا ایکسپیریمنٹ۔ ٹھیک ہے۔ دوسرا طریقہ قرآن نازل ہونے کے بعد سے اُس وقت سے محفوظ ہے، جب نبی پاک کو، الٌلہ تعالیٰ نے لکھنا پڑھنا نہیں سکھایا تھا۔ جب بھی اُن پر وحی نازل ہوتی، تو اُن کے پاس 55 سے 77 کاتب ہوتے۔ وہ اُن کے پاس آتے، اور ان سے فرماتے، کہ یہ آیت لکھو، اور یہ سوۃ لکھو، میرے سامنے، کاتب جب لکھ لیتے اس کے بعد ان سے فرماتے کہ جو تم نے لکھا ہے، اسے مجھے پڑھ کر سناؤ تاکہ یقین ہو جائے کہ جو کچھ اُنہوں نے کہا تھا وہی لکھا ہوا ہے۔ تو اِس طرح سے پورا قرآن لکھا گیا تھا اور پورا یاد کیا گیا تھا۔ اگر لکھنے والے کوئی غلطی کر دیتے، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ لوگ پرنٹنگ پریس سے پہلے، لوگ اپنے ہاتھوں سے لکھا کرتے تھے کاپیز پر تو ان سے غلطیاں ہوجاتی تھیں۔ اگر قرآن کے لکھے ہوئے نسخے میں کوئی غلطی ہوتی، تو قرآن کو یاد کرنے والے یعنی حُفّاظ قرآن، اس غلطی کی تصدیق کرنے کے بعد،وہ اس کا پتہ لگاتے، اور اُسے فوراً ٹھیک کر لیتے، یوں وہ نسخہ بھی بالکل اصل کے مطابق ہو جاتا تھا۔ لہٰذا قرآن کا ایک ڈبل چیک اینڈ بیلنس سسٹم ہے، جو کسی اور کتاب کا نہیں تھا۔ لہٰذا یہ ثبوت ہے کہ قرآن کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ اور ہمارے پاس حضرت محمد ﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک قرآن کے نسخے موجود ہیں۔ اویسے اِن میں سے ایک برمنگھم قرآن بھی ہے، جو اُنہیں ملا تھا برمنگھم میں ایک لائبریری سے ۔ تو اِس طرح سے ہم اُنہیں بتا سکتے ہیں کہ قرآن کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ یہ صرف اندھا اعتماد نہیں ہے، بلکہ اِس کے پیچھے ثبوت موجود ہے۔ اور بائبل کے بارے میں کیا کہیں گے؟ لوگ اِس طرح سوچ سکتے ہیں کہ تم مسلمان یہ الزام لگاتے ہو کہ بائبل تبدیل ہو گئی ہے۔ ٹھیک ہے تو پھر ثبوت کیا ہے؟ کس نے اِسے تبدیل کیا؟ اور کب کیا؟ کونسی تبدیلیاں کی گئیں؟ Jesus علیہ السلام، جب تفصیل سے بتا رہے تھے، رہنمائی کے بارے میں، ایک خدا کے بارے میں، نجات کے بارے میں ،تو اُس وقت اُسے کوئی نہیں لکھ رہا تھا۔ کوئی بائبل کا تاریخ دان یہ نہیں کہتا کہ Jesus کے الفاظ کو Jesus کے زمانے میں لکھا گیا تھا۔ یہ تو Jesus کے دنیا سے جانے کے بعد، اور کئی دہائیاں کے بعد، لوگوں نے اُنہیں یاد کیا اور لکھنا شروع کردیا۔ تو تَقْرِيبًا30 سے سال60 کے درمیان کاوقفہ آیا، Jesus کے جانے اور انکے لکھنے کے درمیان۔ اور عیسائیوں کے مطابق، جن لوگوں نے اِسے لکھا، وہ چار gospels، جو کہ Jesus کے زمانے کے نہیں تھے۔ وہ لوگ گمنام مصنفین تھے۔ اور انہوں نے جس زبان میں لکھا تھا، وہ زبان بھی Jesus کی نہیں تھی۔ دیکھیں، انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق، Jesus Aramaic زبان بولتے تھے۔ مگر جو اصل تحریر تھی نیو ٹیسٹامنٹ کی وہ تھی یونانی زبان میں۔ جبکہ مسلمانوں کے لیے، قرآن لکھا گیا عربی زبان میں، یاد کیا گیا عربی میں ، ظاہر بھی عربی میں ہوا، جب ہم نمازوں میں اِسے پڑھتے ہیں تو عربی میں پڑھتے ہیں۔ مگر اُنہیں یہ چیز میسر نہیں تھی۔ لہٰذا بائبل، نیو ٹیسٹامنٹ، کو لکھا گیا یونانی میں ، لیکن Jesus کی لینگوج تھی Aramaic، رائٹ؟ تو اُن کے اِن تمام گیپس کو دیکھیں۔ Jesus کے زمانے میں نہیں لکھا گیا، جب لکھا گیا تو کسی اور زبان میں، ایسے لوگوں نے لکھا جو اُن کے شاگرد نہیں تھے یا اُنہیں دیکھا نہیں تھا، اور پھر اس میں بھی سال در سال تبدیلیاں ہوتی گئیں۔ اور اِس میں بہت سی تبدیلیاں کرنے کی وجہ یہ ہے۔ ذرا تصور کریں۔ آپ کے پاس ایک بائبل کا ایک نسخہ ہے، تو پھر کسی شخص کو اِسے اپنے پاس لکھنا، اتارنا، کاپی کرنا پڑے گا۔ کیونکہ بائبل کے کوئی حافظ تو ہیں نہیں، تو یہ شخص کاپی کرتے ہوئے کوئی ایک غلطی کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے اُس کی یادداشت کمزور ہو، یا ہوسکتا ہے کہ وہ تھکا ہوا ہو۔ یا پھر روشنی نہ ہو۔ اب جب وہ کاپی کرے گا، تو وہ کاپی اِس اصل نسخے کی طرح نہیں ہوگی کیونکہ اب اِس میں ایک غلطی موجود ہے۔ اب اگر کوئی اِس کاپی سے ایک اور کاپی بناتا ہے، تو وہ غلطی تو کاپی ہوگی ہی، ساتھ میں مزید غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا آپ جتنی کاپیاں بناتے جائیں گے اتنی ہی غلطیاں بڑھتی جائیں گی۔ اب ایک طریقہ ہے انہیں یہ بتانے کا کہ، بائبل تبدیل ہوچکی ہے، چونکہ میں بائبلز کی کلیکشن کرتا ہوں اور۔ میرے کلیکشن میں 300 بائبلز ہیں، ہاں۔ کبھی میری لائبریری تشریف لائیں۔ جو کہ مختلف زمانوں میں سے ہیں، مختلف زبانوں میں اور مختلف ورژنز میں ہیں۔ اور اِن میں سے ہر ایک دوسری سے مختلف ہے۔ مسال کے طور پر جیسا کہ آپ کے پاس بائبل کا کنگ جیمز ورژن ہے جو کہ آیا ہے،سن 1611 میں جوانگلینڈ کے کنگ جیمز کی نگرانی میں تیار اور شائع ہوا تھا۔ تو اُس بائبل کو 1881 سے 1885 میں ریوائِز کیا گیا کیونکہ اِس میں غلطیاں تھیں اور اِسے قدیم نسخوں سے کاپی نہیں کیا گیا تھا۔ لہٰذا اُنہوں نے اسے ریوائز کیا 1881 میں۔ پھر ِاس میں بھی کچھ غلطیاں رہ گئیں، لہٰذا انہوں نے اسے ریوائز کیا سن 1901 میں، جسے امریکن اسٹینڈرڈ ورژن کہتے ہیں۔ اِس میں غلطیاں تھیں، کیونکہ لوگوں نے نئے نسخے دریافت کرنا شروع کر دیے تھے۔ اور نئے نسخے، بالکل مختلف تھے اِس بائبل سے، لہٰذا اُنہیں اپ ڈیٹ کرتے رہنا پڑا۔ اور میں چند مثالیں دوں گا، ٹھیک ہے؟ اچھا بائبل کے 1901 والے ورژن، یعنی امریکن اسٹینڈرڈ ورژن، میں غلطیاں تھیں، لہٰذا اُنہوں نے دوبارہ ریوائِز کیا 1952 میں۔ اچھا پھر اس میں بھی غلطیاں تھیں، لہٰذا انہوں نے دوبارہ ریوائِز کیا گیا 1971 میں۔NASB اِس میں بھی غلطیاں تھیں، دوبارہ ریوائز کیا گیا 1989 میں، اور پھر 2020 میں۔ اوراس کے بعد 2021 میں بھی۔ تو اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ سبیل بھائی آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ بات دراصل یہ ہے کہ، ٹھیک ہے، ان کے پاس ایک بائبل ہے، لیکن اگر اُنہیں نئے نسخے مل جاتے ہیں، تو اُنہیں اِس بائبل کو اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے، نہ صرف اِس کے ترجمے کو نہیں، بلکہ اِس کے مضامین کو۔ تو وہ کونسی ورسز ہوں گی جنہیں لوگوں نے بائبل میں تبدیل کر دیا ہوگا؟ اگر آپ بائبل کے کنک جیمز ورژن کو دیکھیں، نیو ٹیسٹامنٹ میں، یعنی دوسری بک میں، جوکہ ہے Gospel of Mark ،چیپٹر نمبر 16 میں، میں بہت ساری معلومات دے رہا ہوں امید ہے آپ پوری توجہ دے رہے ہوں گے۔ ایک نیا ٹیسٹامنٹ، یعنی دوسری gospel، چیپٹر نمبر 16، اِس کے اندر 20 ورسِز ہیں کنگ جیمز ورژن کے اندر۔ یہ تو ایک بائبل کی بات ہوئی۔ اب جو بائبل میرے پاس ہے، جوکہ بائبل کا 1952 کا ورژن ہے، gospel of Mark کے، چیپٹر 16 میں، اِس میں 20 ورسِز ہیں، جبکہ اِس والی میں صرف 8 ورسِز ہیں۔ واؤ۔ آپ جانتے ہیں لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے؟ کہ مسلمان ورژن کا مطلب ترجمے سمجھ رہے ہوں۔ نہیں، ترجمہ تو ہمارے سمجھنے کے لیے ہوتا ہے۔ ترجمے کا مطلب تو ہے مثلاً انگلش سے ترکش زبان میں ترجمہ کرنا، ٹھیک؟ ترجمہ تو اِسے کہتے ہیں۔ ورژن کا مطلب ہے آپ نے بدل دیا اصل الفاظ کو ، اور آپ نے بدل دیا اِس میں لکھی ہوئی اصل باتوں کو۔ اِس ورژن میں بہت زیادہ جملے ہیں،ب اور اِس ورژن میں بہت کم جملے ہیں۔ تو یہ ایک مثال ہوگئی، ٹھیک؟ آسان سی مثال۔ ایک اور مثال لیتے ہیں کہ Gospel of John میں، جو کہ th4 گوسپل ہے، چیپٹر نمبر 7 مین، ورس نمبر 53، اِس میں ایک فاحشہ عورت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کیسے لوگ اُسے سنگسار کرنے کے لیے اُس کے گرد جمع ہوئے تھے۔ اور Jesus وہاں آئے اور اُنہوں نے کہا، کہ جو گناہوں سے پاک ہیں وہ پہلا پتھر پھینکیں، رائٹ؟ آپ نے یہ کہانی سنی ہوگی۔ یہ کہانی قدیم نسخوں میں بالکل بھی موجود نہیں ہے۔ کنک جیمز ورژن میں موجود ہے۔ بائبل کے RSV ورژن کے مطابق، یہ کہانی بعد میں شامل کی گئی ہے، یہ قدیم نسخوں میں موجود نہیں ہے۔ یعنی کسی نے بعد میں اِسے شامل کر لیاتھا۔ ایک چھوٹی مثال اور دیتا ہوں۔ John کے پہلے خط میں، چیپٹر 5، وَرس نمبر 7، کنگ جیمز ورژن کے مطابق آسمان میں تین گواہی دینے والے ہیں، وہ باپ،اور بیٹا، اور روح القدس۔ یہ تو کنگ جیمز ورژن میں لکھا ہے۔ جبکہ بائبل کے نئے ورژنز میں، اُنہوں نے اِسے نکال دیا کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ کسی نے اِسے بعد میں شامل کیا تھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ گزشتہ صدیوں کے دوران یونانی نسخوں میں، لوگوں نے چیزیں شامل بھی کی ہیں، اور انہوں نے نکالی بھی ہیں۔ اِس وجہ سے، ہم کہتے ہیں کہ اصل بائبل چینج ہو چکی ہے۔ عیسائیوں کے لیے الجھن یہی ہے کہ اُن کے پاس نہ تو اصل بائبل ہے، نہ ہی اُن کے پاس حُفّاظ، یعنی بائبل یاد کرنے والے ہیں، اُن کے پاس صرف یہ نسخے ہیں اور ہر نسخہ دوسرے سے مختلف ہے۔ لہٰذا وہ اپنے مطابق پوری کوشش کرتے ہیں، اور ووٹوں کی اکثریت پر فیصلے کرتے ہیں، کہ کونسے جملے یہاں آنے چاہئیں، اور کونسے جملے وہاں آنے چاہئیں۔ اِس طرح بائبل کو تیار کیا جاتا ہے۔ تو مسلمان جب یہ بات کہتے ہیں، کہ بائبلز تبدیل ہو چکی ہے، اور قرآن محفوظ ہے، تو ہمارے پاس ایک پکا، تصدیق شدہ ثبوت موجود ہوتا ہے۔ تو کیا صرف یہی چار بائبلز ہیں جو لکھی گئیں اور Jesus کے زمانے میں دیگر بائبلز بھی موجود تھیں؟ ہوا یہ کہ جب Jesus کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا تھا 33 سال کی عمر میں تو کسی نے بھی اُن کی تعلیمات کے حوالے سے کچھ بھی نہیں لکھا۔ اِس کے کئی دہائیوں بعد، لوگوں نے لکھنا شروع کیا، بہت سی gospels ۔ تو gospel کی تعریف یہ ہے کہ وہ بایوگرافی ہے Jesus علیہ السلام کی لہٰذا بہت سے لوگوں نے بایوگرافی لکھی Jesus پیغمبر کی ۔ بظاہر صرف Matthew، Mark، Luke اور John ہی نہیں، بلکہ اور بہت سی gospels لکھی گئی تھیں۔ کچھ لوگ اِن کی تعداد 77، کچھ 100 اور 200 بھی بتاتے ہیں۔ تو ہوا کچھ یوں کہ تمام اصل روحانی اولادیں Jesus کی، اور اُن کے شاگرد وہ لوگ دنیا کے چاروں کونوں میں گئے، تاکہ توحید پرست عقیدے کی تعلیم دے سکیں،جو انہیں جیززسے میلیں۔ تو یہ عیسائی یا یہ اصل شاگرد، جب وہ گئے رومی سلطنت میں ، جب وہ فارس میں گئے، اور جب وہ مصر میں گئے، اور جب گئے وہ برصغیر ہندوستان میں، اور گئے چائنہ میں، تو اُن جگہوں اور اُن کلچرز میں، ٹرینیٹی، مختلف شکلوں اور مختلف طریقوں میں رائج ہو چکی تھی۔ تو لہٰذا بدقسمتی سے، کرائسٹ کے توحید پرست فالوورز نے توحید پرستی کو قائم نہ رکھا اور اِس میں شامل کر دیا ٹرینیٹی کو ۔ تو چنانچہ کچھ ہوا یوں رومی سلطنت میں، وہاں دو گروپس بن گئے تھے عیسائیوں کے ، ایک ٹرینیٹیرین کرسچنز، اور دوسرے توحید پرست کرسچنز، اور آپ کہہ ُاُنھیں سکتے ہیں یونیٹیرین کرسچنز، ٹھیک؟ اب وہاں ٹرینیٹیرینز تھے اور یونیٹیرینز تھے۔ ان کے درمیان لڑائی اور اختلافات ہوتے رہتے تھے۔ تو Constantine جو شہنشاہ تھا روم کا ، جو کہ ویسے کافر بھی تھا۔ تو اُس نے کہا کہ اِن لوگوں میں ہم آہنگی ہونی چاہیے تو چلو ان کو ایک کرتے ہیں۔ اُس نے سارے عیسائی بشپس کو بلایا۔ اور ایک کونسل بنائی جسے کہتے ہیں Council of Nicaea۔ اُس میں اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ Jesus فادر کے برابر ہیں۔ جانتے ہیں؟ اِس سے پہلے ایسا نہیں تھا، ٹھیک ہے؟ اب یہ اِن کے ایمان کو حصہ بن گیا ہے۔ اچھاجب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو gospels وہاں موجود تھیں بہت سی اقسام کی ، اور عیسائی یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ کونسی غلط ہے، اور کونسی صحیح۔ مگر یہ سب، ٹرینیٹی کا عقیدہ ایمان کا حصہ بن گیا تھا۔ پھر اُنہیں طے کرنا پڑا کہ اصل بائبل کونسی ہے، وہ انہوں نے سال 367 عیسوی میں کیا دیکھیں Jesus کے جانے کے کتنے سال بعد۔ 367 عیسوی میں، اُنہوں نے ٹرینیٹیرین عقیدوں کو شامل کیا اور صرف منتخب کیا اُنہی gospels کو جو عیسائیوں کے ٹرینیٹیرین عقیدے کے عین مطابق تھیں۔ سال 367 میں، یعنی Jesus کے جانے کے 300 سال کے بعد وہ gospels جو مطابق تھیں ٹرینیٹی کے ،اُنھوں یے اُسے بائبل میں شامل کر دیا۔ جو اُس کے مطابق نہیں تھیں، وہ اُنہوں نے پھینک دیں۔ تو اور بھی بہت سی gospels تھیں، جیسے کہ مثال کے طور پر، Gospel of Thomas، یہ لوگ نام لیتے ہیں Gospel of Barnabas اور دیگرGospels کا، جو یہ کہتی تھیں کہ Jesus صرف ایک پیغمبر ہیں، خدا صرف ایک ہے، اور Jesus کو موت نہیں آئی، ٹھیک؟ یعنی نجات کا وہی تصور جو اسلام دیتا ہے۔ اُن تمام gospels کو پھینک دیا گیا، اُنہیں بلیک لسٹ کر دیا، اُن پر پابندی لگا دی گئی، اور صرف اُنہی gospels کو شامل کیا گیا جو ٹرینیٹی کے مطابق تھیں۔ تو پھر یہ ٹرینیٹی کا عقیدہ اُنہوں نے کہاں سے لیا؟ کیا وہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے؟ جن کے وہ عیسائیت سے پہلے ممبر ہوا کرتے تھے؟ تو ٹرینیٹی، یعنی ٹرینیٹی کا تصور، واقعی موجود تھا، دوسرے کلچرز میں ۔ مگر صرف ٹرینیٹی ہی نہیں، رائٹ؟ کیونکہ آپ جانتے ہیں کچھ کلچرز نے خدا کا تصور اِس حد تک کمزور کر دیا، کہ وہ پوجنے لگے ، انسانوں کو، جانوروں کو بتوں کو، اور پھر وہی ٹرینیٹیرین تصور۔ مثلاً ہندوؤں میں اب بھی ٹرینیٹی کا تصور موجود ہے۔ اُن میں برہما جو خالقِ کائنات ہے، اُس کے بعد ہے وِشنو۔ پھر ان میں شِیوا ہے، جو بچانے اور تباہ کرنے والا ہے۔ مصر کے کلچر میں بھی، ایسا ہی ٹرینیٹی کا تصور موجود تھا، رومی سلطنت رائٹ؟ فارس کی ۔ یعنی توحید پرستی کو کمزور کر دیا گیا تھا۔ یعنی مثال کع طور پر انڈیا میں، اچھا میرا تعلق بھی وہی سے ہے۔ میں وہی پلا بڑھا وہی پیدا ہوا۔ میں دیکھا کرتا تھا کہ کچھ مسلمان مرنے والوں کی قبر پر جاتے اور وہاں گھیرا بنا لیتے۔ میں سمجھا کہ یہ مسلمان ہیں۔ ار اس کے بعد وہ سجدہ کیا کرتے تھے؟ مرنے والوں کی قبر پر، اور وہ خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں کیونکہ اُنہیں علم نہیں ہے، وہ دِین میں نئی چیز ایجاد کر رہے ہیں۔ بالکل اِسی طرح، جب کرائسٹ کے یہ ابتدائی فالوورز اِن دیگر کلچرز سے ملے، تو وہ مائل ہونے لگے اُن کلچرز کی طرف، اُن کے لائف اسٹائل کی طرف، اوراُن کے عقیدے کی طرف ، ایسے اُنہوں نے توحید پرستی کو کمزور کر دیا اور ٹرینیٹیرین تصورات کو شامل کر لیا۔ لہٰذا شروع میں ماضی کے کچھ کلچرز میں، یہاں تک کہ یہودی کلچر میں بھی، وہ نیک لوگوں کو خدا کا بیٹا کہا کرتے تھے، جو پاک ھوگا وہ خدا کا بیٹا ہوگا۔ حقیقی معنوں میں نہیں، بلکہ علامتی طور پر کہا کرتے تھے مگر پھر کرائسٹ کے فالوورز منظرِ عام پر آئے اور اُنہوں نے کہا، دوسرے کلچرز میں، اِن کے پاس خدا کے بیٹے ہیں۔ اِن کے پاس خدا کے بیٹے ہیں تو پتہ ہے اُنہوں نے کیا سوچا، کہ شاید Jesus بھی خدا کے بیٹے ہیں۔ لہٰذا جو چیز علامتی معنوں میں تھی اُس کو اُنہوں نے حقیقی معنی دے دیے۔ لہٰذا جب اُنہوں نے حقیقی معنوں میں سمجھ لیا خدا کاایک بیٹا ہے ، تو پھر بیٹے میں خدا کی کچھ خصوصیات ہونا بھی ضروری تھیں۔ یعنی بیٹا بھی خدا ہونا چاہیے۔ پھر اُنہوں نے ایک اور ہستی کو شامل کیا جسے روح القدس کہا۔ دیکھیں، روحِ خداوندی ایک علامتی انداز ہے، خدا کی روح، دراصل خدا ہی ہے۔ مگر اُنہوں نے روحِ خداوندی کو ایک الگ شخص بنا دیا اور اُسے خدائی صفات دے دیں۔ تو پتہ ہے اب وہ کیا کہتے ہیں؟ اگر فادر خدا ہے، تو بیٹے میں بھی خدائی صفات ہیں، اور روح القدس میں بھی خدائی صفات موجود ہیں۔ ہو سکتا ہے اُن کلچرز کی طرح، خدا کو تین لوگوں میں بانٹ دیا گیا ہو۔ تو اِس طرح ٹرینیٹی کا تصور، کئی صدیاں گزرنے کے بعد ،Jesus کے دنیا سے جانے کے یہ ٹرینیٹی کا لازمی حصہ بن گیا عیسائی مذہب کے ایمان کا جزء بن گیا۔ اچھا یہ انتہائی عقلی دلائل ہیں، مگر بہت سے عیسائی کہتے ہیں کہ مجھے عیسائیت میں روحانیت ملی ہے اور مجھے خدا سے ایک ربط محسوس ہوتا ہے۔ تو پھر میں کیوں اپنا عقیدہ بدلوں؟ یا بدلنے کی ضرورت کیا ہے؟ میں کہوں گا کہ تین وجہ سے کسی بھی شخص کو اپنا عقیدہ بدل کر عیسائیت سے اسلام میں آ جانا چاہیے، رائٹ؟ تین سادہ سی وجوہات، فورا۔ سب سے پہلی وجہ، صرف اِس لیے کہ کوئی شخص اگر بہتر یا روحانیت یا اچھا محسوس کرے خاص عقیدے میں ، اُس عقیدے کی سچائی کا معیار بالکل نہیں ہے۔ ایک ہندو جب مندر جاتا ہے، تو وہ بھی یہی کہہ سکتا ہے کہ میں روحانیت محسوس کرتا ہوں، رائٹ؟ مجھے اچھا محسوس ہوتا ہے، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہی صحیح عقیدہ ہے۔ احساسات حقیقت نہیں جیسا کہ لوگ کہتے ہیں۔ ایک بُدھسٹ بھی یہی بات کہہ سکتا ہے، ایک یہودی بھی یہی کہہ سکتا ہے مسلمان بھی یہی بات کہتے ہیں۔ صرف ہمارے کہنے سے وہ چیز صحیح نہیں ہو جاتی۔ احساسات، رائٹ؟ جو کہ ہم سب میں ہوتے ہیں۔ لہٰذا اسے اپنی سوچ پر مبنی دلیل کہا جاتا ہے۔ اپنی سوچ پر مبنی؟ یہ احساسات ہیں، ہم احساسات پر نہیں حقائق پر چلتے ہیں۔ چلیں اب حقائق کی بات کرتے ہیں، دو چیزیں ہیں۔ نمبر ایک، دیکھیں ہمارے لیےصحیح عقیدے کا ایک معیار یہ ہے کہ عقیدے میں خدا کا صحیح تصور ہونا چاہیے۔ اگر خدا کا تصور صحیح ہے، تو باقی ہر چیز مکمل ترتیب میں آ جاتی ہے۔ اوراگر خدا کا تصور غلط ہے، تو باقی سب بے معنی ہو جاتا ہے۔ لہٰذا خدا کا وہ تصور جو اسلام دیتا ہے، کہ وہ ایک اور بالکل اکیلا ہے، کائنات کا بنانے والا ایک ہے، اُس کی بے مثال صفات ہیں، اُس کا کوئی شریک نہیں، کوئی ٹرینیٹی نہیں، بالکل ایک اور اکیلا۔ خدا کے اِسی تصور کی تبلیغ ہر پیغمبر نے، ہر رسول نے کی یہاں تک کہ بائبل میں بھی یہی ہے۔ میں اپنے عیسائی اور یہودی دوستوں سے کہتا ہوں، اگر آپ ابراہیم علیہ السلام کو دیکھیں، اولڈ ٹیسٹامنٹ میں، تو وہ توحید پرست تھے، وہ ٹرینیٹیرین نہیں تھے۔ موسیٰ علیہ السلام ٹرینیٹیرین نہیں تھے، اُنہوں نے توحید پرستی کی تبلیغ کی، اور باقی پیغمبروں نے بھی، یہاں تک کہ Jesus نے بھی توحید کی تعلیم دی۔ Jesus بھی ٹرینیٹیرین نہیں تھے۔ تو یہ وہ دوسری وجہ ہے کہ عیسائیوں کو اسلام پر غور کرنا چاہیے کیونکہ اسلام نے توحید کو کو دوبارہ زندہ کیا جس کی تبلیغ کی تھی Jesus نے اور تمام پیغمبروں نے۔ اور تیسری اہم وجہ یہ ہے کہ اگر میں ایک سیکولر سوچ رکھتا ہوں، میرے سامنے موجود ہیں اسلام، عیسائیت، یہودیوت، ہندو ازم ، اور اب میں کوئی مذہب چُننا چاہوں، تو میرے لیے ایک معیار یہ ہوگا۔ انسانیت بہت زیادہ مسائل سے گزر رہی ہے۔ ہمیں نسل پرستی کا، فیملی کا نظام ختم ہونے کا، اخلاقی ویلیوز، نسل کشی، خودکشی، جوا، اور مسائل کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست کا سامنا ہے۔ اب اس کا حل کیا ہے؟ تو صحیح مذہب اور عقیدے کا ایک معیار یہ ہے کہ اگر وہ مذہب خدا کی طرف سے ہے، تو وہ پریکٹیکل، قابلِ عمل، فائدے مند حل پیش کرے گا ہر مسئلے کا ۔ لہٰذا اگر دیکھیں آپ نیو ٹیسٹامنٹ کو تو وہ اِس پر بات نہیں کرتا کہووہ مکمل اور جامع، حل کونسے ہیں؟ جو کہ معاشی سسٹم کو، پولٹکل سسٹم کو، عدالتی سسٹم،فیملی سسٹم کو ، ازدواجی سسٹم کو حل کرے ؟ نیو ٹیسٹامنٹ میں ہمیں ضرورت ہے، اور وہ نیو ٹیسٹامنٹ میں نہیں ہے ۔ اولڈ ٹیسٹامنٹ میں کچھ حد تک موجود ہیں مگر وہ صرف موجود ہیں یہودیوں کے لیے، وہ محدود، وقتی اور مخصوص لوگوں اور مخصوص قوم کے لیے ہیں۔ ہمیں حل چاہئیں، مگر وہاں نہیں ملتے۔ وہ حل، ہندو ویداس میں بھی یہ موجود نہیں ہیں۔ بُدھسٹ صحیفوں میں بھی نہیں ہیں وہ، رائٹ؟ انسانیت، 8 بلین لوگ، اِن مسائل کا حل چاہتے ہیں، رہنمائی چاہتے ہیں۔ صرف انسانی عقلی نقطۂ نظر سے، اُن کے پاس حل نہیں ہیں۔ پریکٹیکل حل، رائٹ؟ صرف یہی نہیں کہ پڑوسی سے محبت کرو، محبت سے مراد کیا ہے؟ اِس حوالے سے پورا تفصیلی حل ہونا چاہیے۔ اسلام کے پاس یہ حل موجود ہیں۔ قرآن میں، جوکہ انسانیت کے لیے اللہ کا کلام ہے، اور سنت میں، پیغمبر محمد ﷺ کے کیے گئے کاموں کی مثال موجود ہے۔ انسانیت کو اِن کی ضرورت ہے، یہ حل اُن کے پاس نہیں ہیں، مگر اسلام فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا اِن تین وجوہات سے، عقلی، شعوری نقطۂ نظر سے اسلام ہی صحیح مذہب ہے۔ اچھا آپ کہتے ہیں کہ پچھلے پیغمبر، میرا مطلب اولڈ ٹیسٹامنٹ کے پیغمبروں نے ایک خدا کے تصور اور ایک خدا پر ایمان کی تعلیم دی۔ اور آپ نے یہ بھی کہا کہ Jesus نے بھی یہی بات کہی۔ تو عیسائیوں کے مطابق، اُن پیغمبروں کے ساتھ کیا ہوگا؟ کیونکہ وہ Jesus پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ Jesus کیونکہ اُن کے بعد آئے تھے۔ تو اُن پیغمبروں کے ساتھ کیا ہوگا؟ Jesus علیہ السلام سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے پاس نجات کا کونسا راستہ ہے؟ اُن کی نجات کا راستہ وہی ہے جو نجات کا راستہ ہونا چاہیے، یعنی صحیح عقیدہ رکھنا، اچھے اعمال کرنا۔ اگر کوئی گناہ ہو جائے، تو معافی کے لیے خدا سے توبہ کریں گے۔ یہ واضح بات ہے، کیونکہ وہ لوگ جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھے، جو موسیٰ علیہ السلام کے اصل فالوورز تھے، ہم اُنہیں مسلمان کہتے ہیں۔ وہ خدا پر ایمان رکھتے تھے۔ لہٰذا عربی میں ہم اُنہیں جو لفظ دیتے ہیں، وہ لفظ ہے مُسلم۔ تو کوئی بھی شخص جو موسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتا تھا اور خدا کی دی ہوئی کتاب تورات (Torah) پر عمل کرتا تھا اور اِس پر عمل کی پوری کوشش کرتا تھا، اللہ سے توبہ کرتا تھا،گناہ پر معافی کے لیے ہم کہتے ہیں کہ ایسا شخص اللہ کی رحمت سے جنت میں جائے گا۔ گزرے ہوئے زمانے کے لوگ، جوابراہم، سولومن، ڈیوڈ، اسماعیل، اسحاق علیھم السلام کی قومیں تھیں، اب، انتہائی اہم بات، یہاں تک کے Jesus کے زمانے میں بھی، ہم کہتے ہیں کہ جس نے بھی Jesus کو پیغمبر مانا اور ایک خدا پر ایمان رکھا، خدا کے حکم پر عمل کیا، اور انجیل (Gospel) پر عمل کیا، جوکہ خدا کی طرف سے آئی حو Jesus اور اُن کے شاگردوں کو دی گئی وحی تھی، تو ہم کہتے ہیں کہ ایسا شخص مسلم ہے، وہ فالوور تھا کرائسٹ کا ، اور اُس کے لیے نجات کا راستہ ایک خدا پر ایمان رکھنا، Jesus کو پیغمبر ماننا، اور عمل کرنا تھا تورات (Torah) اور انجیل (Gospel) پر ۔ بائبل میں ایک بڑی حیرت انگیز بات لکھی ہے، اچھا؟ میں اِسے حیرت انگیز کیوں کہ رہا؟ تو ایک شخص کو مسلمان ہونے کے لیے، مثلاً اب فرض کریں کہ اگر کوئی شخص مسجد آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں قرآن پڑھتا ہوں اور میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ تو اُسے کلمۂ شہادت (ایمان کا اعلان) پڑھنا ہوگا۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ جو زمانہ تھا jesus کا، اپکا کیا خیال ہے یہی کلمہ ہوتا تھا؟ اس وقت Jesus اللہ کے رسول تھے، رائٹ؟ اس وقت تھا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور Jesus اللہ کے رسول ہیں۔ آپ کو بائبل میں یہ مل جائے گا۔ Jesus فرماتے ہیں کہ اگر تم ہمیشہ کی زندگی میں جانا چاہتے ہو، اگر تم جنت میں جانا چاہتے ہو، تو، اُنہوں نے خدا کی طرف اشارہ کرکے کہا، جان لو کہ صرف تُو ہی سچا خدا ہے، اور Jesus کو خدا نے بھیجا ہے پیغمبر بنا کر۔ واؤ۔یہ شہادت (ایمان کا اعلان) بائبل میں موجود ہے اور Jesus کہہ رہے ہیں کہ جنت میں جانے کا یہی راستہ ہے کہ علم رکھا جائے پڑھا جائے شہادت kw۔ تو کیا نبی پاک ﷺ، اولڈ اور نیو ٹیسٹامنٹ کو کاپی کرکے قرآن نہیں لکھ سکتے تھے؟ اوکے، تو سوال یہ ہے کہ، بہت سے لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ قرآن کو بائبل سے کاپی کیا گیا ہے۔ بہت سے طریقےکار ہیں جن کے ذریعے ہم اِس الزام کو مسترد یا غلط ثابت کر سکتے ہیں۔ ایک بات تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کو بائبل سے کاپی نہیں کیا گیا تھا کیونکہ محمد ﷺ کو اللہ نے نہیں سکھایا تھا لکھنا اور پڑھن۔ اگر وہ اِسے لکھنا چاہتے، تب بھی وہ نہیں پڑھ سکتے تھے بائبل کو، کیہ اسے کاپی کرتے۔ پہلی بات۔ لہٰذا قرآن کے چیپٹر 7، ورس نمبر 157 میں ہے، کہ وہ اُمّی (غیر پڑھے لکھے) پیغمبر تھے، انہیں پڑھنے لکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ دوسری بات ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اُس وقت کوئی بھی مکمل بائبل موجود نیہں تھی جسکا عربی میں ترجمہ ہوا ہو جسے دیکھ کر وہ کاپی کرتے۔ پہلی بار جب ترجمہ مکمکل ہوااولڈ ٹیسٹامنٹ کا وہ تقریباً 900 صدی عیسوی میں مکمل ہوا تھا، جو یہودی عالم نے، اسکا نام تھاSadiyya Gaon تو نبی پاک ﷺ کے زمانے میں، یعنی ساتویں صدی عیسوی میں، اس یہودی بائبل کا عربی میں ترجمہ نہیں ہوا تھا۔ اور اگر نیو ٹیسٹامنٹ کی بات کریں تو، 1600 عیسویں تک ترجمہ نہیں ہوا تھا۔ لہٰذا عربی میں پوری بائبل موجود ہی نہ تھی، جسے دیکھ کر نبی پاک ﷺ کاپی کرتے، رائٹ؟ کیونکہ اُس کا عربی میں ترجمہ نہیں ہوا تھا۔ تیسری بات ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے مضامین موجود ہیں بائبل میں جو کہ قرآن میں نہیں ہیں، اور قرآن کے مضامین بائبل میں نہیں ہیں۔ اِس سے میری کیا مراد ہے؟ مثلاً قرآن کے اندر ایک واقعہ ہے فرعون کے واقعہ حوالے سے۔ بائبل میں، فرعون کے قصے کا ذکر کیا گیا ہے، مگر قرآن نے پورا واقعہ بیان کیا ہے۔ مثال۔ بائبل میں Exodus کی کتاب، چیپٹر نمبر تین میں قصہ بیان ہوا ہے کہ فرعون اور اُس کی فوج موسیٰ علیہ السلام کا پیچھا کرتی ہے اور پھر وہ سمندر میں ڈوب جانی ہیں۔ قرآن میں بھی یہی قصہ ہے، مگر پھر قرآن کہتا ہے، فرعون کے ڈوب جانے کے بعد، اُس کے جسم کو بعد کے لوگوں کی عبرت کے لیے محفوظ کر دیا جائے گا۔ تو اب ہم نے دریافت کر لیا فرعون کا جسم کو اور آٹوپسی کرنے والے لوگوں نے کہا ہے، معلوم ہے ناں؟ یہ وہی فرعون ہے جو موسیٰ کے زمانے میں تھا۔ توآپ دیکھیں قرآن میں اضافی معلومات موجود ہیں۔ لہٰذا نبی پاک ﷺ اگر بائبل سے اِسے کاپی کر رہے ہوتے، تو پھر اُنھیں وہ اضافی اور بالکل درست معلومات کس نے دیں، جنہیں ہمارے زمانے کے اسکالرز نے اب دریافت کیا ہے۔ نمبر دو۔ قرآن اور کس بارے میں بات کرتا ہے؟ نوح۔ طوفانِ نوح کے بارے میں۔ بائبل بھی طوفان کے بارے میں بتاتا ہے، قرآن بھی طوفان کے بارے میں بتاتا ہے۔ بائبل کے مطابق، یہ ایک عالمی طوفان تھا۔ Book of Genesis، چیپٹر 7، ورس نمبر 21 میں ہے، پوری دنیا پانی میں ڈوب گئی تھی۔ ہر کوئی ہلاک ہو گیا تھا سوائے ان لوگوں کے جو کشتی میں سوار تھے ۔ یہ چیپٹر 7، ورس نمبر 21 میں یہ لکھا ہے۔ بائبل، اولڈ ٹیسٹامنٹ کی بُک آف Genesis میں، اب قرآن بھی طوفان کے بارے بتاتا ہے، مگر قرآن کہتا ہے کہ یہ کسی ایک مقام پر آیا تھا۔ صرف ان لوگوں کے لئے جو، تھے مخالف نوح علیہ سلام کے۔ وہ لوگ جو انکا اور انکی تعلیمات کا مذیق اڑاتے تھے، اور اللہ سے دور ھو گئے تھے،انہیں خدا نے سزا دی تھی، اب آپ کے پاس ایک بائبل کا قصہ ہے، اور ایک قرآن کا قصہ ہے، اور آرکیالجسٹس حمایت کرتے ہیں، قرآن کے قصے کی سائنس صحیح کہتی ہے قرآنی قصے کو ، رائٹ؟ نمبر تین، وہ اکسٹرا معلومات کس نے دیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو؟ نمبر تین، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن میں سائنسی حقائق موجود ہیں۔ 500 سے زیادہ سائنسی حقائق، اور غلطی زیرو۔ بائبل میں یہ نہیں ہیں، لیکن قرآن میں ہیں۔ لہٰذا، وہی بات کہ اگر قرآن کو کاپی کیا گیا ہوتا بائبل سے، تو پھر کس نے وہ اضافی قرآنی حقائق سائنسی حقائق دیے قرآن میں؟۔ تو یہ بھی ایک وجہ ہے، رائٹ؟ تو ایک سادہ سی مثال میں یہ دے سکتا ہوں کہ فرض کریں آپ کے دو اسٹوڈینٹس ہیں۔ سٹوڈنٹ، مثال کے طور پر ڈیوڈ D گریڈ، بِل گیٹس B گریڈ ، ٹھیک ہے؟ رائٹ؟ اب، فرض کریں، فائنل ایگزام میں ڈیوڈ اگر برابر میں بیٹھا ہے بل کے اور وہ بل کے تمام جوابات کو کاپی کر رہا ہے۔ اور پھر بل کو ملتا ہے B grade فرض کریں 80٪ آپ کے خیال میں ڈیوڈ کو کتنے ملیں گے؟ وہ بالکل وہی جوابات کاپی کر رہا ہے؟ تو B گریڈ ملے گا رائٹ؟ کیونکہ ڈیوڈ صرف بل کےحیح جوابات ہی کاپی نہیں کر رہا بلکہ وہ صحیح کے ساتھ غلط جوابات بھی کاپی کر رہا تھا۔ لہٰذا اگر قرآن کاپی ہوتا بلئبل سے تو پھر قرآن میں بھی ساری غلطیاں کاپی ہوتیں جو کہ موجود ہیں بائبل میں بائبل کی ساری غلطیاں، تمام کمی بیشیاں بلئبل کیں، مگر ایسا نہیں ہوا۔ قرآن میں زیرو غلطیاں ہیں۔ جبکہ بائبل میں بہت ساری ہیں۔ تو وہ کون تھا جس نے صرف اور صرف صحیح چیزیں لیں، جس نے درست چیزوں کو لی سائنس اب اِسے ثابت کرتی ہے۔ تو اِس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ سائنسی نقطۂ نظر سے، آرکیولوجیکل نقطۂ نظر سے، روحانی نقطۂ نظر سے، تاریخی نقطۂ نظر سے، قرآن بذاتِ خود نازل ہوا تھا، اور اِسے بائبل سے کاپی نہیں کیا گیا تھا، رائٹ؟ مگر پھر کچھ لوگ پتہ ہے کیا کہہ سکتے ہیں؟ کہ بہت سی باتیں ایک جیسی ہیں قرآن اور بائبل کی اِس وجہ سے، اِسے کاپی شدہ کہا جاتا ہے۔ تو میں اُن سے یہ کہتا ہوں۔ بائبل کو بھی اُسی ہستی نے نازل کیا تھا جس نے قرآن کو نازل کیا ہے، یعنی اللہ نے۔ مگر بائبل تبدیل کر دی گئی ہے، کچھ اصل باتیں اُس میں رہ گئی ہیں، پھر اللہ نے آخری وحی بھیجی اور اِس میں بھی کچھ باتیں وہی ہیں جو بائبل میں تھیں۔ ایسا اِس لیے نہیں کہ ایک کتاب دوسری سے کاپی کی گئ ہے، بلکہ بھیجنے والی ذات ایک ہی ہے۔ چلیں اِسے عقلی دلیل سے سمجھتے ہیں، رائٹ؟ اگر لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کو بائبل سے کاپی کیا گیا تھا، تو ہم کہہ سکتے ہیں، اوکے، فائن، نیو ٹیسٹامنٹ اور اولڈ ٹیسٹامنٹ میں کچھ باتیں ایک جیسی ہیں، تو کیا ہم یہ کہیں کہ اب عیسائی مانتے ہیں کہ عیسائی مصنفین نے یہودی مصنفین کو کاپی کیا تھا؟ کیا اُنہوں نے یہودی مصنفین کی لباتیں چوری کیں ہیں؟ یہاں ہم کیوں رُک جاتے ہیں؟ اولڈ ٹیسٹامنٹ کے کچھ مضامین ہندو ویداس سے ملتے جلتے ہیں۔ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اولڈ ٹیسٹامنٹ کے مصنفین نے ہندوؤں کو کاپی کیا، اُن کا کونٹینٹ چُرایا؟ یہاں ہم کیوں کچھ نہیں کہتے؟ ہندو ویداس میں بہت سی باتیں ملتی جُلتی ہیں babylonian صحیفوں سے مگر ہم وہاں خاموش رہتے ہیں، رائٹ؟ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ قرآن اُس ذات کے ذریعے نازل ہوا یعنی کہ اللہ اور بائبل میں کچھ اصل باتیں رہ گئی ہیں جو اُسی ذات، یعنی اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔ تو ایک ہی ہستی سے نازل ہوئیں اس لئے باتیں ملتی جُلتی نہ کہ یہ وجہ ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے کاپی کر لیا۔ صدیوں سے، یہودی مسیحا، کرائسٹ کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن جب Jesus آئے تو اُنہوں نے اُن کا انکار کر دیا۔ اور اِس کتاب میں بھی حضرت محمد ﷺ کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ مگر جب عیسائی نبی پاک ﷺ کا انکار کرتے ہیں، تو کیا اُن کا یہ عمل یہودیوں جیسا نہیں؟ ہاں، بالکل کچھ باتیں ایک جیسی ہوسکتی ہیں۔ کہ کیوں عیسائی انکار کرتے ہیں نبی پاکﷺ کا اور یہودیوں نے کیوںی انکار کیا نہ صرف Jesus کو، بلکہ محمد ﷺ کا بھی انکار کیا، رائٹ؟ یہ جو یہودی سکالز ہیں مخصوص معیار تلاش کرتے ہیں۔ اپنے مسیحا میں کہ مسیحا داؤدؑ کی طرح بادشاہ ہوگا مسیحا ایک فوجی لیڈر کی طرح ہوگا۔ مسیحا فوج کے ساتھ حکمرانی کرے گا، رائٹ؟ اُس کی وسیع سلطنت ہوگی۔ تو جب اُنھون نے jesus کو دیکھا۔ ایک شخص جو دکھنے میں کمزور تھا جس کا لوگ مذاق اڑاتے تھے، جسے مانتے نہیں تھے، نہ ہی کوئی آرمی تھی اور نہ ہی کوئی طاقت تو اُن کے ذہن کے مطابق، جانتے ہیں وہ کیا سوچتے ہیں؟ یہ مسیحا نہیں ہو سکتا کیونکہ اُن کی بائبل کے مطابق، کہ مسیحا کے لیے اِن معیارات کا ہونا ضروری ہے۔ یہ بنیادی وجہ تھی کہ اُنہوں نے Jesus علیہ السلام کا انکار کیا۔ اب اُنہوں نے محمدﷺ کا انکار کیا یعنی کہ یہودیوں نے بعض اوقات غرور تکبر کی وجہ سے ۔ شاید وہ یہ سوچتے ہیں کہ تمام پیغمبر جو آئے تھے وہ سب نسل تھی اسحاق کی ، اور اُن کے خیال میں وہ چُنے ہوئے لوگ ہیں۔ کتابیں اُن کو دی گئیں، پیغمبر اُن کو دیے گئے، وہ بہترین لوگ ہیں۔ لیکن جو آُنہون نے دیکھا پیارے نبی پاکﷺ کو جو اسماعیل علیہ السلام کی ، نسل سے تشریف لائے تھے۔ جو کہ تشریف لائے تھے اسمائیلؑ کی نسل میں سے تو بدقسمتی سے، غرور تکبر کی وجہ سے، اُنہوں نے اُن کا انکار کیا۔ حالانکہ وہ اپنے صحیفوں میں نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ کچھ یہودوں نے اسلام قبول بھی کیا، مگر مجموعی طور پر اُنہوں نے بالکل اُسی طرح انکار کیا جس طرح Jesus علیہ السلام کا انکار کیا تھا۔ اب، عیسائی نبی پاک ﷺ کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ اُن کے مطابق، بائبل ایک مکمل کتاب ہے جس میں حقائق موجود ہیں اُن کے مطابق نجات کا راستہ واضح ہے، Jesus آئے، وہ وفات پا گئے۔ اور قصہ یہاں پر ختم ہو گیا۔ کوئی نیاشخص نہیں، کوئی نیا رہنما نہیں آئے گا جو بائبل کی رہنمائی میں اضافہ کرے۔ اِس لیے وہ کہتے ہیں کہ بائبل کافی ہے،ہمارے Jesus کافی ہیں، اور اتنی رہنمائی کافی ہے، اسی لئے نئے رسول اور نئے پیغمبر کے آنے کی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اِسی وجہ سے، وہ پیغمبر محمد ﷺ کا انکار کرتے ہیں۔ مگر جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا، بہت سے سائنسی حقائق میں اولڈ ٹیسٹامنٹ اور نیو ٹیسٹامنٹ میں نشانیاں موجود ہیں کہ، ایک پیغمبر دنیا میں تشریف لائنگے جو ہونگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ اگر کوئی مخلص یہودی یا مخلص عیسائی اِن پیشگوئیوں پر غور کرے، تو آنھیں ساری نشانیاں واضح ہوجائیں گی محمدﷺ کے تشریف لانے کیں اور ہدایت جو اللہ نے اُن کے ذریعے دی، وہ توحید پرستی جو اللہ نے اُنہیں عطا کی، ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا)، اگر واقعی وہ سچے اور مخلص ہوں، تو وہ اُنہیں پیغمبر مان لیں گے اور اسلام کا مذہب اپنا لیں گے جو اللہ کی طرف سے لایا یا عطا کیا گیا ہے۔ آخر میں، ہو سکتا ہے کوئی عیسائی آپ کو دیکھ رہا ہو اور وہ کہے کہ، ٹھیک ہے، اسلام عقل پر پورا اترتا ہے، مگر ، میں Jesus کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ میں Jesus سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں، میں اُنہیں چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اگر میں مسلمان ہو گیا تو Jesus کے ساتھ میرے تعلق اور رشتے کا کیا ہوگا؟ اگر کوئی عیسائی یہ کہے کہ اسلام اچھا ہے، دل کو بھاتا ہے، مگر کیا مجھے Jesus کو چھوڑنا پڑے گا؟ مجھے Jesus سے پیار ہے۔ میں کہوں گا آپ Jesus کو بھی اپنے ساتھ لائیں اور اُنکی شخصیت کو مکمل کریں آپ کو Jesus کو بالکل نہیں چھوڑنا ہوگا۔ بلکہ اب آپ Jesus کو ویسے ہی مان رہے ہوں گے جیسے کہ وہ تھے۔ وہ ایک عظیم انسان و پیغمبر تھے۔ بائبل میں کئی مرتبہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ ایک عظیم الشان پیغمبر تھے، رائٹ؟ Matthew 13:57، John 4:44، Mark 6:4، Luke 13:33۔ تو اگر آپ Jesus سے محبت کرتے ہیں تو اُن کی باتوں پر عمل کریں۔ وہ ایک توحید پرست انسان تھے، آپ اُن کی یہ شخصیت اپنے ساتھ لے آئیں۔ اور آپ یہ حقیقت لا سکتے ہیں کہ Jesus ایک پیغمبر تھے، قرآن بھی یہی کہتا ہے، اور آپ لباس بھی پہن سکتے ہیں جیسا کہ jesus کا تھا۔ اُن کی ڈاڑھی تھی، وہ باحیا لباس پہنتے تھے۔ آپ اپنے ساتھ وہ ساری باتیں لا سکتے ہیں جو Jesus علیہ السلام اپنے شاگردوں سے کہا کرتے تھے۔ مسلمان بھی وہی باتیں کہتے ہیں، آپ وہ اپنے ساتھ لا سکتے ہیں۔ آپ یہ بھی اپنے ساتھ لاسکتے ہیں کہ jesus روزہ رکھتے تھے۔ 40 دن اور 40 راتیں بالکل ایسے ہی جیسے مسلمان روزے رکھتے ہیں، آپوہ اپنے ساتھ لاسکتے ہیں اور وہ بہترین چیز جو آپ اپنے ساتھ لا سکتے ہیں وہ Jesus کا عبادت کرنے کا طریقہ ہے۔ وہ خود خدا کے آگے سجدہ کرتے تھے اور خدا کی عبادت کیا کرتے تھے۔ وہ خدا کے محتاج تھے۔ آپ اپنے ساتھ یہ بھی لا سکتے ہیں کیونکہ مسلمان بھی یہی سب کرتے ہیں۔ آپ Jesus کو کھوئیں گے نہیں، اپنے ساتھ رکھیں گے، بلکہ اُن کی شخصیت میں کچھ اور بھی کچھ اور بہتر، کچھ ایسا جو خالق کی طرف سے دیا گیا ہے۔ Jesus علیہ السلام نے کبھی شراب نہیں پی، کبھی سؤر کا گوشت نہیں کھایا، نہ ہی کبھی خون کا استعمال کیا، کیونکہ وہ مذہب کے سچے پیروکار تھے، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک مسلمان ایک پیغمبر تھے جو خدا کے احکامات پر مکمل طور پر عمل کرتے تھے وہ احکامات جو کہ آللہ نے موسیٰؑ کو دیے لہزا اولڈ ٹیسٹامنٹ میں لکھا ہے۔ وہ سؤر نہیں کھاتے تھے، جو کہ اولڈ ٹیسٹامنٹ کی بُک leviticus تھی خون استعمال نہیں کرتے تھے، اور بھی بہت سے احکامات وہاں موجود ہیں۔ اور Jesus نے اللہ کے رسول کی حیثیت سے کیا کہا، اُنھوں نے کہا کہ نئی ٹیسٹامنٹ جو کہ سب سے پہلی gospel تھی the gospel of mattew چیپٹر نمبر 5 ورس نمبر 17 اور اس کے بعد سے لکھا ہے کہ میں نہ شریعت کو منسوخ کرنے آیا ہوں اور نہ نبیوں کو، بلکہ اِسے پورا کرنے آیا ہوں۔ اور جو کوئی اولڈ ٹیسٹامنٹ کے قانون سے کسی ایک حصے کو بھی نکالے گا، وہ آسمانی بادشاہی میں سب سے کم درجے کا شمار ہوگا۔ اور جو اِن قوانین کو قائم رکھے گا، وہ آسمانی بادشاہی میں بلند ترین درجے پر ہوگا۔ اور اِن قوانین میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سؤر کا گوشت نہ کھاؤ، خون استعمال نہ کرو یہی وہ قوانین ہیں جنہیں ہم شریعت (اسلامی قانون) کہتے ہیں، یعنی حلال قوانین۔ تو اگر آپ کو Jesus سے محبت ہے تو آپ یہ چیزیں چھوڑ دیں گے کیونکہ مسلمانوں نے بھی اِنہیں چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ Jesus سے محبت کرتے ہیں، تو اُن کے دِین کو فالو کریں۔ Jesus کا دِین اسلام تھا اور ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں دینِ اسلام میں جو کے آپ کو اور تمام انسانیت کو دیا گیا ہے۔ اِسی میں نجات ہے اور اِسی میں آپ کا فائدہ ہے۔ جزاک اللہ خیراً (اللہ آپ کو بہترین انعام عطا فرمائے)۔ آپ کے جوابات کا بہت شکریہ، اسلام میں خواتین کا درجہ، شریعت (اسلامی قانون)، جہاد، وغیرہ وغیرہ۔ ایسے بے شمار سوالات ہمارے پاس ہیں جو عیسائی اسلام کے بارے میں پوچھتے ہیں اور یہ تمام سوالات ہم آپ سے دوسری وڈیڈ میں پوچھیں گے۔ دیکھتے ہیں کہ کیا ڈاکٹر سبیل احمد اُن کے جوابات بھی اِتنی آسانی سے دے پاتے ہیں یا نہیں۔ تو اگلی ویڈیو کے منتظر رہیں اور سبسکرائب کرنا نہ بھولیں۔ السلام علیکم.
A. R. Y.
یعنی M کا مطلب ہے Mention کیا گیا اُنہیں قرآن میں۔ یہ واحد خاتون ہیں جن کا ذکر قرآن میں ہے۔ ایک دفعہ میرا، میری ایک فلائٹ تھی، جو شکاگو سے ہوسٹن کی تھی۔ میں کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا اور میرے برابر میں دو خواتین بیٹھی ہوئی تھیں۔ جو کہ کیتھولک فرقے سے تھیں۔ اُن کے ساتھ ،کوئز کھیلا میں نے، اسلام اور عیسائیت کے درمیان۔ ایک دعوتی کوئز جہاز میں۔ میں نے اُن سے ایک سوال پوچھا، کہ میری بہنوں بتاؤ مجھے۔ وہ کونسی واحد خاتون ہیں جن کا ذکر ان کے نام کے ساتھ قرآن میں آیا ہے؟ کہنے لگیں، ہمیں جواب معلوم ہے۔ وہ Mary ہیں، Jesus کی والدہ۔ میں نے کہا، بہت خوب۔ پھر میں نے اُن سے ایک اور سوال کیا، کہ یہ بتائے کہ اُن کا ذکر قرآن میں کتنی مرتبہ آیا ہے؟ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم۔ میں نے کہا، 34 مرتبہ۔ پھر میں نے اُن سے سوال پوچھا، کہ اچھا یہ بتائے، کہ بائبل میں اُن کا ذکر کتنی مرتبہ آیا ہے؟ کہنے لگیں، ظاہر ہے ہمیں یہ بھی نہیں معلوم۔ میں نے کہا ان کو ذکر، 18 مرتبہ آیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ موازنہ کریں تو قرآن میں 34 مرتبہ اور بائبل میں کے 18 مرتبہ ذکر آیا ہے، تو میں نے ان سے کہا کہ، ہم مسلمان اُن سے زیادہ محبت کرتے ہیں؟ وہ، وہ ہنسنے لگیں۔ تو M سے مراد ہے کہ قرآن میں ذکر ہونے والی واحد خاتون۔ M کا مطلب یہ بھی ہے، ان کے نام سے، پورا چیپٹر بھی قرآن میں موجود ہے، چیپٹر نمبر 19۔ یہاں M واضح ہو گیا Mary کا۔ اب دوسرا حرف ہے، A ، A سے مراد ہے، Allah کی عبادت، اللہ کے لیے خلوص، اللہ اُن کی زندگی کا مقصد تھا.
اُن کی حیا، اُن کی پاکدامنی، اُن کا اللہ کے لیے خلوص۔ قرآن میں کئی بار اِس بات کا ذکر کیا ہے۔ اب R کا مطلب ہے Respect، یعنی وہ عزت، جو Mary علیہ السلام کو اللہ تعالی نے دی۔ ایک چیپٹر ہے قرآن میں، چیپٹر نمبر 3، ورس نمبر 42، جس میں فرشتہ Mary کے پاس آتا ہے اور وہ آ کر کہتا ہے انسے کہ Mary، خدا نے آپ کو چُن لیا ہے، اور پاک بنا دیا ہے، اور خدا نے آپ کو تمام عورتوں سے بلند مقام دے دیا۔ دیکھیں یہ ہے وہ عزت جو، اللہ نے Mary کو دی تھی۔ تو میں اپنے عیسائی دوستوں سے یہی کہتا ہوں کہ کہ جانتے ہو کہ محمد، صلی اللہ علیہ وسلم، Mary سے کبھی نہیں ملے۔ وہ اُن سے 600 سال پہلے آئی تھیں۔ تو یہ کیسے ہوا کہ وہ واحد خاتون ہیں جن کا ذکر قرآن میں اُن کے نام کے ساتھ آیا ہے۔ نہ صرف اُن کا نام آیا ہے، بلکہ اُنہیں ہمیشہ کے لیے دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ نیک کہا گیا ہے۔ یہ درجہ تو محمد، صلی اللہ علیہ وسلم، کی والدہ، بیوی اور بیٹی کو بھی نہیں دیا گیا، لیکن یہ ایک ’’یہودی عورت‘‘ کو دیا گیا جس سے نبی پاک ﷺ کبھی نیہں ملے۔ اور یہ ایک اشارہ ہے جو میں عیسائیوں سے کہتا ہوں۔ کہ قرآن نبی پاک ﷺ کے اپنے ذہن کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ یہ انسانوں کے پیدا کرنے والے کی طرف سے ہے۔ تو M A R اور Y، ہاں،اب Y رہ گیا؟ Y سے مراد ہے ہے کہ وہ Young تھیں، اور وہ کنواری بھی تھیں۔ اس کے باوجود انہوں نے Jesus کو جنم دیا۔ تو یہ ہے اسلام میں Mary کا درجہ۔ تو عیسائیت کیا کہتی ہے؟ کیا اسلام اور عیسائیت میں کوئی اور اختلافات ہیں؟ جی بالکل، اگر اختلافات کی بات ہو، تو میں کہوں گاکہ سب سے بڑا اختلاف یہ ہوگا، کہ قرآن میں Mary کا ذکر ایک رُتبے، عزت، احترام اور رحمت و برکت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مگر بائبل میں ان کا ذکر بس، آم عورت کی طرح کیا گیا ہے، دوسری ماؤں کی طرح بس ایک ماں، کوئی خاص بات نہیں۔ کچھ جگہوں پر بے ترتیب انداز میں اُن کا ذکر آیا ہے، بس کچھ شاگردوں اور، Jesus کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کا ذکر ہے، مگر وہ شان و شوکت والا رُتبہ نہیں، جس طرح اسلام نے اُن کا ذکر کیا ہے، قرآن میں۔ البتہ دونوں میں ایک بات مشترک ہے، کہ وہ کنواری تھیں، وہ جوان تھیں اور غیر شادی شدہ بھی تھیں۔ جب اللہ نے معجزہ عطا فرمایا، اور انہوں نے Jesus علیہ السلام کو جنم دیا۔ اچھا بائبل میں نبی پاک ﷺ کے بارے میں کیا ذکر آیا ہے؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر، مسلمان علماء کے مطابق، اولڈ اور نیو ٹیسٹامنٹ دونوں میں آیا ہے۔ درحقیقت، قرآن خود چیپٹر نمبر 7، ورس نمبر 157 میں بتاتا ہے، کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اُن کے صحیفوں میں موجود ہے۔ یعنی یہودی اور عیسائیوں کے صحیفوں میں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اولڈ ٹیسٹامنٹ کی کتاب، Deuteronomy کے چیپٹر 18، ورس نمبر 18 میں، حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم سے کچھ یوں فرماتے ہیں کہ ایک دن ایک پیغمبر آئے گا، موسیٰ کے بعد اور وہ پیغمبر بالکل موسیٰ کی ہی طرح ہوگا۔ وہ پیغمبر اپنی طرف سے کچھ نہیں کہے گا، جو کچھ سُنے گا، بس وہی بیان کرے گا۔ مسلمان علماء کہتے ہیں کہ وہ واحد پیغمبر، جو کافی حد تک حضرت موسیٰ کی ہی طرح تھے، وہ ہمارے نبی پاک تھے۔ یہ تھی پہلی بات۔ دوسری بات، ایک پیشگوئی بھی کی گئی تھی، Isaiah کی کتاب، چیپٹر 29، ورس نمبر 12 میں، جس میں ایک فرشتہ ایک شخص کے پاس آتا ہے اور آکر کہتا ہے کہ پڑھو، اور وہ شخص کہتا ہے، کہ میں نہیں پڑھ سکتا۔ اور بالکل ایسا نبی پاک ﷺ کے ساتھ بھی ہؤا تھا، جب فرشتے جبرائیل ان کے پاس آئے، اور انہوں نے، نبی پاک ﷺ سے پڑھنے کی درخواست کی۔ اور Songs of Solomon کی کتاب کے، چیپٹر 5، ورس نمبر 16 میں محمد کا لفظ موجود ہے، رائٹ؟ البتہ، وہاں محمد کا لفظ عبرانی (Hebrew) زبان میں ہے۔ تو یہ اولڈ ٹیسٹامنٹ میں ہے۔ جب نیو ٹیسٹامنٹ کی بات ہو تو، مسلمان علماء کہتے ہیں اِس میں بہت زیادہ پیشگوئیاں ہیں۔ یہودیوں کو دیکھیں وہ ایک پیغمبر کی آمد کے منتظر ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ نے کہا، کہ میرے بعد ایک پیغمبر آئے گا، رائٹ؟ جو میری طرح ہی ہوگا۔ لہٰذا Jesus کے زمانے میں، عیسائی بھی اُس پیغمبر کا انتظار کر رہے تھے۔ تو وہ John the Baptist سے پوچھتے ہیں، کیا تم ہی وہ پیغمبر ہو؟ تو وہ انہیں کہتا ہے کہ نہیں۔ تو پھر وہ پیغمبر، Jesus کے مطابق، گاسپل آف جون، چیپٹر 16، ورس نمبر 7 میں،اُنہوں نے کہا کہ تمہارے لیے، مطلب میرے شاگردوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ میں ان سے، بہت دور چلا جاؤں۔ اگر میں نہیں گیا، تو تسلّی دینے والا نہیں آئے گا۔ لیکن اگر میں چلا جاؤں تو وہ ضرور بھیجا جائے گا۔ پھر Jesus نے کہا، میں نے تمہیں بہت سی باتیں کہنی ہیں، مگر تم اُنہیں ابھی نہیں سُن سکتے۔ مگر جب وہ آ جائے گا، تو وہ تمہیں پورا سچ دکھائے گا۔ وہ اپنے پاس سے کچھ نہیں کہے گا، جو کچھ سُنے گا بس وہی بیان کرے گا۔ تو یہاں مونث ضمیر استعمال نہیں ہوئی، بالکہ روح القدس کے لیے، ہے، مذکر ضمیر کا استعمال ہؤا ہے، اور Jesus فرما رہے ہیں کہ وہ پورا سچ لے کر آئے گا۔ وہ ایمان کو مکمل کرے گا۔ وہ مکمل رہنمائی دے گا۔ تو مسلمان کہتے ہیں کہ وہ مکمل رہنمائی اللہ نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دی ہے۔ لہٰذا یہ مختصراً چند پیشگوئیاں ہیں۔ جب آپ عیسائیوں کو یہ مثالیں دیتے ہیں تو وہ آپ کو کیا کہتے ہیں؟ کیا کہتے ہیں اور کیسا ری ایکٹ کرتے ہیں؟ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہ۔ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں)۔ -ؐماشااللہ؟ -سبحان اللہ ، کیا واقع؟ ہاں مگر، سب لوگ نہیں کچھ لوگ مخالفت بھی کرتے ہیں۔ پتہ ہے کیا کہتے ہیں؟ جو پیشگوئیاں تم نے ہمیں بتائیں، خاص طور پر جو نیو ٹیسٹامنٹ میں ہیں، اُن کا تعلق روح القدس سے، یعنی کہ The Holy Ghost۔ اِن کا تعلق تمہارے پیغمبر محمد ﷺ سے نہیں ہے۔ ہم اِس پر اُن سے یہ کہتے ہیں۔ کہ دیکھو، Jesus کہہ رہے ہیں کہ اُسشخص کے آنے کے لیے اُنہیں جانا ہوگا۔ تاکہ وہ شخص بھیجے جائیں۔ لیکن اگر روح القدس کو دیکھیں تو وہ تو Jesus کے زمانے میں بھی موجود تھے۔ لہٰذا یہ بات غیر معقول لگتی ہے۔ Jesus کہہ رہے ہیں کہ مجھے جانا ہوگا، اُس شخص کے آنے کے لیے۔ لیکن اگر وہ روح القدس ہیں، تو وہ تو پہلے سے ہی موجود تھے۔ وہ روح القدس نہیں ہیں۔ اور دوسرا طریقہ جس سے ہم عیسائیوں پر نکتہ چینی کر سکتے ہیں وہ یہ کہ Jesus تو کہہ رہے ہیں کہ وہ شخص آپ کو پوری سچائی بتائے گا، مکمل رہنمائی دے گا۔ روح القدس یا Holy Ghost نے ایسا نہیں کیا۔ تیسری بات، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اُنہوں نے سات مرتبہ مذکر ضمیر استعمال کئے ہیں، ان ورسز میں، کہ وہ آئے گا، وہ میری شان بڑھائے گا، وہ پورا سچ دکھائے گا، رائٹ؟ Holy Spirit کے لیے it استعمال ہوگا۔ اس میں He یا She استعمال نہیں ہوگا۔ ایک اور بات ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اِس پیراگراف میں Jesus کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے پاس سے کچھ بھی نہیں کہے گا، جو وہ سُنے گا، وہی بیان کرے گا۔ عیسائیوں کے مطابق، روح القدس خدا ہیں۔ خدا تو انتظار نہیں کرتا کہ کوئی اُسے کچھ کہے تو وہ بولے، کہ کیا کہنا ہے، کیا نہیں۔ لہٰذا یہ روح القدس نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے۔ اور ہم کہتے ہیں کہ وہ واحد شخص اِس تفصیل پر پورے اترتے ہیں وہ ہمارے نبی پاک ہیں۔ ایک بات جس پر عیسائیوں کو بہت تَجَسُّس ہے، کہ Jesus کااسلام میں کیا رُتبہ ہے، اور یہ بھی کہ مسلمز بھی Jesus پر ایمان رکھتے ہیں؟ کیا اِس حوالے سے کوئی واقعہ ہے؟ Jesus کا اسلام میں اور عیسائیت میں کیا مقام ہے؟ ٹھیک ہے میں بتاتا ہوں۔ ایک مرتبہ ہم نے ایک بِل بورڈ لگایا، شکاگو ہائی وے پر، جس پر لکھا تھا، کہ Jesus کو قرآن میں تلاش کریں، اور نبی پاک ﷺ کوبائبل میں ۔ لوگوں میں تجسس پیدا ہو گیا ؟ کہ آپ Jesus کو قرآن میں کیسے دیکھ سکتے ہیں اور یہ بھی کہ نبی پاک ﷺ بائبل میں کہاں ہیں؟ بہت سے لوگوں نے سوالات پوچھنے کے لیے کال کی، اور کچھ نے ڈِبیٹ کیلئے، مگر بہت سے لوگوں نے قرآن کا ایک نسخہ لینے کے لیے بھی کال کی۔ لہٰذا اگر کوئی مجھ سے، حضرت عیسیٰ کا اسلام میں مقام پوچھتا ہے، تو میں اُنہیں سادہ سا ایک لفظ میں جواب دیتا ہوں۔ وہ ایک لفظ کا جواب، ایک لفظ کا جواب، میں کہہ رہا ہوں،اوکے۔ وہ ہے Jesus۔ J.
E. S. U. S.
Jesus کا یہ لفظ ہمیں ہر حرف میں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم عیسائیوں کو Jesus کا اسلام میں مقام بتا سکیں۔ تو Jesus میں J کا مطلب ہے Just a messenger۔ کیا یہ آسان ہو گیا؟ یعنی J کا مطلب وہ پیغام پہنچانے والے تھے۔ تو قرآن کے چیپٹر 5، وَرس نمبر 75 میں ہے کہ Jesus صرف ایک پیغام پہنچانے والے تھے۔ ۔ اُن سے پہلے بہت سے پیغام پہنچانے والے گزر چکے۔ تو قرآن کے مطابق، کہ Jesus پیغمبروں کے سلسلے کے ایک رسول تھے۔ ہر رسول اور پیغمبر لوگوں کو صرف ایک خدا کی عبادت کروانے کے لیے آئے۔ لہٰذا Jesus ایک پیغمبر تھے۔ E کا مطلب ہے Empowered۔ یعنی خدا کی طرف سے معجزوں کی طاقت رکھنے والا۔ مُردے کو زندہ کر دینا، یا پھر کسی نابینا کو بینائی دے دینا، بیمار کو شفا دے دینا۔ ان کے پاس معجزے تھے، اور معجزے دکھانے کی طاقت، اللہ نے دی تھی۔ یہ سب کہاں لکھا ہے؟ قرآن کی سورۃ نمبر 3، ورس نمبر 49 میں۔ مگر ہم عیسائی دوستوں کے ساتھ جو مزے کی چیز شیئر کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ ہر وہ معجزے جو Jesus علیہ السلام کی طرف سے دیکھے گئے، اُس کی طاقت اُنہیں خدا نے دی تھی۔ یعنی کہ طاقت خالقِ کائنات کی طرف سے تھی، اُن کی ذاتی طاقت نہیں تھی۔ تو یہ تھا E، J E۔ S کا مطلب ہے Jesus کا Sole Mission۔ ان کا واحد مشن، انسانیت کو ایک خدا کی عبادت پر لانا تھا۔ قرآن کے چیپٹر 3، ورس نمبر 51 میں ہے، ’’إِنَّ اللّهَ رَبِّی وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوهُ هذا صِراطٌ مُسْتَقِیم‘‘ یعنی اللہ قرآن میں Jesus کی بات دہرا رہے ہیں اور Jesus کہہ رہے ہیں کہ بے شک اللہ ہی میرا اور تمہارا رب ہے۔ صرف اُسی کی عبادت کرو اور یہی سیدھا راستہ ہے۔ لہٰذا S کا مطلب ہے Jesus کا sole مشن ہے۔ توU J E S ۔ بہت انٹرسٹنگ ہے نا؟ آپ کے خیال میں U کا کیا مطلب ہوگا؟ U کا مطلب ہے Uplifted by Allah۔ نہ وہ قتل ہوئے،نا ہی سولی پر چڑھایا گیا، بلکہ اللہ نے اُنہیں آسمان پر اٹھا لیا، وہ آسمان پر سُولی چڑھے بغیر موجود ہیں۔ رائٹ؟ J E S U.
اور آخری S کا مطلب Second coming۔ عیسائی سن کر حیران رہ جائیں گے کہ کیا واقعی ہم اُن کا دوبارہ آنا مانتے ہیں؟ تو یہ وہ طریقے ہیں جس سے میں اسلام کو سمجھاتا ہوں، یہ یاد کرنا بھی آسان ہے، اور ترتیب سے بھی ہے، جس کا اختتام دوسری بار آنے پر ہوتا ہے۔ تو اسلام میں Jesus کا یہ مقام ہے۔ اُنہیں نا تو سُولی پر چڑھایا گیا، نا قتل کیا گیا۔ بالکہ،آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔ ہاں، قرآن کے مطابق، سورۃ نمبر 4، سورۃ النساء (عورتیں)، ورس نمبر 157 میں۔ اللہ فرما رہا ہے، میں ترجمہ بتا رہا ہوں کہ یہ لوگ فخر سے کہتے ہیں کہ اِنہوں نے Mary کے بیٹے Jesus، مسیح کو قتل کر دیا۔ لیکن انہوں نے قتل نہیں کیا، نہ ہی اُنہیں سُولی پر چڑھایا۔ بس معاملہ اِن پر ایسا ظاہر کیا گیا۔ اور پھر اللہ فرماتا ہے کہ Jesus کو میں نے اٹھا لیا تھا۔ نہ تو سُولی پر چڑھایا گیا، نا ہی قتل کیا گیا۔ تو یہ بھی ایک اختلافی بات ہے، مگر Jesus کے بارے میں اللہ نے یہی کہا ہے۔ تو اُنہیں قتل کیوں نہیں کیا گیا اور آسمانوں پہ کیوں اٹھا لیا گیا؟ کیا اِس وجہ سے وہ دوبارہ آئیں گے؟ ہاں تو اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ دوبارہ تشریف لائیں گے Jesus۔ اُنہیں قتل نہیں کیا گیا تھا، نہ ہی سُولی چڑھایا گیا تھا کیونکہ عیسائی علماء کے مطابق، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ Jesus کے صلیب پر، موت کا مطلب ہے، عیسائیوں کے لیے نجات۔ لہٰذا ہم یہ یقین نہیں رکھتے کہ کسی شخص کی موت یا زندگی نجات کا ذریعہ ہو سکتی ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرما رہا ہے کہ، کہ اُن کی وفات نہیں ہوئی۔ لیکن اگر فرض بھی کرلیں کہ وہ مرگئے، تو بھی اِس سے نجات نہیں ہو سکتی۔ مگر حقیقت میں ایسا ہوا تھا کہ اللہ نے Jesus کو خود اوپر اٹھا لیا تھا۔ اُنہیں دنیا میں واپس بھیجا جائے گا۔ اور پھر دوسری بار جب وہ دنیا میں بھیجے جائیں گے، تو کچھ چیزیں ترتیب سے ہوں گی۔ تو اہمیں یہ بتائیں، جب وہ آئیں گے تو کیا کچھ ہوگا؟ کیا وہ بطور رسول آئیں گے؟ جب Jesus دوبارہ آئیں گے، اور ظاہر ہے کسی کو بھی اُس وقت کا علم نہیں ہے، کہ وہ کس وقت، کس دن، یا پھر، کس سال آئیں گے دوبارہ۔ مگر امام بخاری، امام مسلم کے کلیکشن میں ایسی بہت سی مستند روایات ہیں۔ جو دراصل حدیث ہیں، یعنی حضرت محمد ﷺ کی کہی ہوئی باتیں ہیں، جنہیں شروع کے مسلمانوں نے جمع کرلیا۔ تو نبی پاک ﷺ کی تقریباً 14 مستند روایات ہیں جو Jesus علیہ السلام کی دوسری مرتبہ آمد کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہیں، رائٹ؟ تو وہ دمشق کے شہر میں تشریف لائیں گے۔ اور وہ فجر کی نماز کا وقت ہوگا۔ مسلم دن میں پانچ نمازیں پڑھتے ہیں، اور یہ دن کی پہلی نماز ہوتی ہے۔ اس وقت وہ آسمان سے اتر رہے ہوں گے۔ وہ دمشق کے مشرقی جانب ایک سفید مسجد کے مینار پر اتریں گے۔ وہ نیچے آئیں گے اور وہ وقت مسلمانوں کی نماز کا ہوگا۔ اور مسلمان اُنہیں دیکھ کر بالکل حیران رہ جائیں گے، اور کہہ رہے ہونگے کہ، خوش آمدید Jesus، ہم آپ کے منتظر تھے۔ اور ان سے یہ بھی کہیں گے کہ، کیوں نہ آپ ہی نماز پڑھائیں؟ اور پھر Jesus کہیں گے کہ یہ جو، آپ کا امام یہاں موجود ہے وہی نماز پڑھائے گا۔ یعنی مطلب یہ کہ Jesus ایک پیغمبر یا نئے رسول کے طور پر نہیں آئیں گے۔ بالکہ وہ، نبی پاک ﷺ کی شریعت (اسلامی قانون) کے فالوور کی حیثیت سے آئیں گے۔ اور پھر مزید تفصیل ہے کہ کیا کچھ ہوگا۔ اُن کی اپنی پوری فوج ہوگی جو اینٹی کرائسٹ یعنی دجّال سے لڑے گی۔ خدا کی طاقت سے، اینٹی کرائسٹ کو شکست ہوگی۔ پھر Jesus پوری دنیا پر حکومت کریں گے۔ کچھ سالوں کیلئے۔ اُس وقت ہر کوئی مسلمان ہوگا۔ مسلم کا مطلب ہے ہر وہ شخص جو اللہ کے آگے جھکتا ہے۔ Jesus شادی کریں گے۔ اور پھر وہ، چلے جائیں گے، پلگرمج کے لئے، یعنی حج کرنے، مکّہ میں۔ پھر آخر میں اُن کی قدرتی طور پر وفات ہوجائگی۔ آخرت کی زندگی کا اسلامی عقیدہ عیسائیت سے کیسے مختلف ہے؟ جنت، جہنم، روزِ جزا و سزا وغیرہ۔ اچھا سوال ہے۔ نجات کا تصور، اور آخرت کا تصور، بہت سی باتیں ایک جیسی ہیں مگر ان میں بہت زیادہ اختلافات بھی ہیں۔ ایک جیسی باتوں میں ایک تو یہ ہے۔ عیسائیوں کے مطابق، دوبارہ زندہ کیے جانے کا ایک دن آئے گا اور ایک دن فیصلے کا آئے گا۔ مگر فیصلے کے دن، ایسا نہیں ہوگا کہ خدا کے بجائے،Jesus لوگوں سے ان کا حساب لے رہے ہوں گے۔ مگر اسلام کے مطابق، اللہ علیم ہے، وہ سب کچھ جانتا ہے، وہ سب کچھ دیکھتا ہے، وہ بڑی حِکمت والا ہے، اُسے ہر چیز کا پورا پورا علم ہے۔ اِس لیے وہی واحد ہستی ہے جو انسانیت کا حساب لینے کے لیے موزوں ہے، نہ کہ Jesus۔ کیونکہ Jesus کے پاس اِتنا علم نہیں، وہ تو پیغمبر تھے، وہ ایک انسان تھے۔ اُنہیں ہر چیز کا علم نہیں ہے۔ تو یہ بڑے اختلافات میں سے ایک ہے۔ اور دوسرا بڑا اختلاف، جنت الفردوس کی تفصیل میں ہے، جوکہ قرآن اور بائبل میں مختلف ہے۔ بائبل میں اس کے بارے میں تفصیل سے نہیں لکھا گیا ہے۔ جنت کے متعلق لیکن قرآن میں پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ اِس میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، جیسے محلات، کپڑوں درخت، اور لوگوں کے، اوراُن کی آپس میں بات چیت کے بارے میں۔ اِس میں بیان کیا گیا ہے، تمام شاندار انعامات اور ہماری بیویوں اور فیملیز کے بارے میں۔ مگر بائبل میں صرف ایک چیز بیان کی گئی ہے کہ جنت میں جنتیوں کا خدا سے براہِ راست رابطہ ہوگا۔ مگر اِس سے، دل میں بہت سارے سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اُس ہمیشہ کی زندگی میں اِس کے کیا معانی ہیں؟ کیا آپ بس بیٹھے ہوں گے اور وہاں خدا ہوگا، آپ کیا کر رہے ہوں گے؟ قرآن اسکا تسلی بخش جواب دیتا ہے ہمیں، کہ وہاں کیا ہوگا۔ سارے انعامات تفصیل سے بتاتا ہے، رائٹ؟ تو یہ ایک فرق ہے۔ دوسرا بڑا فرق جہنم کا تصور۔ کچھ عیسائی اِس سے حقیقی جہنم مراد لیتے ہیں، کہ وہاں سزا اور اَذِیّت ہوگی۔ مگر زیادہ تر عیسائی یہ کہتے ہیں کہ جہنم, دراصل، جدائی کی جگہ ہوگی، جہاں پر خالق اور مخلوق کے الگ ہوں گے ۔ لہٰذا وہ جدائی لوگوں میں بے بسی، مایوسی کے ساتھ ساتھ، بے بسی بھی پیدا کرے گی۔ مگر جہنم کا اسلامی تصور یہ ہے کہ یہ ایسے لوگوں کے لیے ایک سزا کی ایک جگہ ہوگی جو خدا کو نہیں مانتے تھے۔ کئی نشانیاں اور، کئی وارننگز اُن کے پاس آنے کے باوجود، اُنہوں نے خدا کا انکار کیا، اور غلط کام کیے، اُنہوں نے شرک کیا (یعنی خدا کے ساتھ پارٹنرز جوڑے)، رائٹ؟ اُنہوں نے اپنے رب کے بجائے کسی اور کی عبادت کی یا پھر عبادت میں رب کے ساتھ کسی اور کو بھی شریک کر لیا۔ تو جہنم کی اِس جگہ کو قرآن میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ ہم سب کو جہنم کی آگ سے بچائے اور ہمیں جنت میں داخل فرمائے۔ تو کیا عیسائی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مسلمان جہنم میں جائیں گے؟ دیکھیں جس طرح عیسائیون کے عقائد ہوتے ہیں، اس طرح،مسلمانوں کے 6 بنیادی عقائد، پانچ ارکانِ اور دیگر فرائض ہوتے ہیں، اگر کوئی شخص اسلامی عقائد سے متفق نہیں ہوتا اور اُن پر عمل نہیں کرتا، تو پھر شاید اُس شخص کو سزا مل سکتی ہے۔ یا پھر کوئی شخص اس دنیا میں رہتے ہوئے اسلام پر ایمان نا لائے، جبکہ اسے وارننگز اور علم مل رہا ہو۔ تو پتہ ہے ہم کیا کہتے ہیں؟ کہ یہی وہ معیار ہے جو اُس شخص کو جہنم میں لے جائے گا۔ اور عیسائیوں کے مطابق، اگر کوئی شخص یہ نہیں مانتا کہ Jesus خدا ہیں، خدا کے بیٹے، یا ٹرینیٹی کا حصہ ہیں، یا اُنہوں نے انسانیت کی نجات کے لیے اپنی جان نہیں دی، اگر کوئی شخص Jesus کے اِس تصور کو نہیں مانتا، تو وہ شخص جہنم کی آگ میں جائے گا۔ لہٰذا وہ کہتے ہیں کہ مسلمان جہنم میں جائیں گے اگر وہ Jesus پر ایمان نہیں لاتے، یا وہ، جو ان کا مقصد نہیں مانتے۔ تو ہاں وہ یہ، وہ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان جہنم میں جائیں گے اگر اُنہوں نے Jesus کو رب یا نجات دہندہ نہ مانا تو۔ مگر خود بائبل سے ہی ہم اُنہیں بتا سکتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ Jesus کے مطابق کہی ہوئی بات نہیں ہے۔ میرا خیال سے کہ یہ اہم ترین پوائنٹس میں سے ایک ہے۔ کیوںکہ Jesus کے مطابق تو نجات کا راستہ یہ ہے کہ انسان صحیح عقیدہ رکھے اور اپنی زندگی میں اچھے اعمال کرے۔ اسلام بھی یہی کہتا ہے۔ قرآن کے چیپٹر 2، ورس نمبر 25 میں، اللہ فرما رہا ہے، جس کا ترجمہ ہے، جو لوگ ایمان لائے ہیں اور نیک اعمال کیے ہیں اُن کو خوشخبری دے دو کہ اُن کے لیے ایسے باغات تیار ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں تو ایک شخص Jesus کے پاس آیا، یہ بائبل میں لکھا ہے، اور اس نے Jesus کے پاس آکے عرض کی، اس شخص کا سوال بہت اہم اور بنیادی تھا، یہ نیوٹیسٹامنٹ میں لکھا ہے، جو پہلی gospel تھی، جو کہ ہے Gospel of Matthew، چیپٹر 19، ورس 16 اور اِس سے آگے تک ہے۔ ایک شخص Jesus کے پاس آیا اور اُن سے سوال پوچھا، کہ اے اچھے آقا، میں ایسا کیا کروں جس سے میں جنت میں جاسکوں؟ یہاں ڈائریکٹ جواب بنتا ہے تو Jesus نے جواب دیا کہ، تم مجھے اچھا کیوں کہہ رہے ہو؟ سوائے خدا کے کوئی بھی اچھا نہیں ہے۔ تو Jesus خدا نہیں ہو سکتے، اس بات کے مطابق کیونکہ Jesus نے خود کہا، کہ خدا کوئی اور ہستی ہے، جو مکمل اچھائی رکھتا ہے، میں اچھا نہیں ہوں۔ پھر اُنہوں نے سوال کا جواب دیا۔ Jesus نے کہا، اگر تمہیں ہمیشہ کی زندگی چاہیے، اور تم جنت میں جانا چاہتے ہو، تو احکامات پر عمل کرو۔ Jesus کو تو یہ کہنا چاہیے تھا، کہ تم بس کچھ دن انتظار کرو، کچھ ہفتے،اور کچھ مہینے، میں مرنے والا ہوں، وہ لوگ مجھے صلیب پر لٹکائیں گے، یقین کر لینا کہ میں مر چکا ہوں، پھر میں دوبارہ زندہ ہوں گا اور یہی جنت کا راستہ ہے۔ اُنہوں نے ایسا نہیں کہا۔ یہ نظریہ تو لوگوں نے بعد میں بنا لیا۔ کہ Jesus نے کیا کہا ہے، اُنہوں نے کہا کہ اگر تم جنت میں جانا چاہتے ہو، تو احکامات پر عمل کرو۔ تو پھر اُس شخص نے پوچھا، کہ کون سے احکامات؟ Jesus نے اس شخص کو کہا کہ اولڈ کے احکامات، مطلب اولڈ ٹیسٹامنٹ کے۔ اُن کا اشارہ دس احکامات (Ten Commandments) کی طرف تھا۔ اور وہ دس احکامات،اولڈ ٹیسٹامنٹ میں، Exodus کی کتاب میں، چیپٹر 20، ورس نمبر 3 میں موجود ہیں۔ کہ صرف ایک خدا کو مانو اور اُسی کی عبادت کرو۔ اور باقی نو احکامات اچھے کام کے بارے میں ہیں۔ خدا کے نام کی توہین نہ کرو، اپنے والدین کا احترام کرو، پڑوسیوں سے اچھا سلوک کرو، جھوٹ مت بولو، دھوکا مت دو، قتل مت کرو، بس اچھے اعمال کرو۔ تو جب آپ دس احکامات کو دیکھتے ہیں، تو پہلا حکم ہے کہ ایک خدا پر ایمان لاؤ۔ باقی احکامات کا تعلق اچھے اعمال کرنے سے ہے۔ تو Jesus علیہ السلام کے مطابق، یعنی بائبل بھی یہی کہتی ہے، کہ کسی شخص کو جنت میں جانے کے لیے صحیح عقیدہ کے ساتھ اچھے اعمال کرنے ہونگے۔ عیسائیت کے مطابق، Jesus نے انسانیت کی نجات اور اُن کے گناہوں کی معافی کے لیے اپنی قربانی دی۔ کیا یہ عقیدہ غلط ہے؟ Jesus کو اپنی نجات کے لیے نجات دہندہ کے طور پر قبول کیوں نہیں کرنا چاہئیے؟ دیکھیں یہ، ویسے، بہت سے پہلوؤں سے غلط ہے۔ کیوںکہ یہ لاجکل پوائنٹ آف ویو سے بھی غلط ہے کہ کیوں Jesus کی موت، پوری انسانیت کو نجات دلا دے گی۔ میں گاڑی چلا کر اپنے گھر سے یہاں آیا ہوں۔ دیکھیں اگر میں اسپیڈ لِمِٹ سے زیادہ تیز گاڑی چلاتا ہوں، تو میں ہی وہ شخص ہونگا جسے پولیس کو پکڑے گی، اور مجھے ہی اس کا حرجانہ بھرنا ہوگا اس کا ٹکٹ بھرنا ہوگا۔ ناکہ میری بیوی، میرے پڑوسی، یا میرے والدین بھرینگے۔ تو، لاجکلی، اگر کوئی شخص مر جائے، تو اُس شخص کی موت پر ایمان لا کر دوسرے شخص کو نجات کیسے مل سکتی ہے؟ اسلام کے مطابق، اور لاجک کے مطابق، اسلام یہ کہتا ہے کہ جیسا کروگے ویسا ہی پاؤ گے۔ یعنی اگر اچھے عمل کرو گے تو اچھا انعام ملے گا۔ اگر برا کرو گے، تو توبہ کرنے پر معافی مل جائے گی، ورنہ اِس کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ اسلام میں نجات کا تصور عقلی اور سمجھ میں آنے والا ہے۔ دنیا کے ہر عدالتی نظام میں وہ اپناتے ہیں، احتساب کا تصور جو اسلام کے مطابق ہے۔ جو تم کرو گے، اگر کوئی مجرم کوئی جرم کرے گا، تو اُسے ہی سزا دی جائے گی، کسی اور کو بالکل نہیں۔ لہٰذا، عقلی نقطۂ نظر سے، عیسائیوں کا نجات کا تصور نہایت غیر معقول ہے۔ اور روحانی پوائنٹ آف ویو سے، جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، Jesus نے کہا کہ نجات کا راستہ، جنت میں جانے کا راستہ، اچھا اور صحیح صحیح عقیدہ رکھنا اور اچھے اعمال کرنا۔ جوکہ Matthew میں چیپٹر 19، ورس نمبر 16 سے لے کر آگے تک ہے۔ تو ہم جس زاویے سے بھی دیکھیں، یہاں تک کہ اولڈ ٹیسٹامنٹ میں بھی یہی ہے، رائٹ؟ اولڈ ٹیسٹامنٹ بھی یہی کہتا ہے کہ جیسا تم کرو گے، ویسا ہی پاؤ گے۔ Ezekiel کی کتاب میں بھی درج ہے۔ تو اولڈ ٹیسٹامنٹ میں ہے کہ، Jesus نے کہا، جوکہ قرآن بھی کہتا ہے، عقل کہتی ہے، اور ہر عدالتی نظام بھی کہتا ہے کہ جس نے غلط کیا ہے سزا بھی اُسے ہی ملنی چاہیے اور جس نے اچھا کام کیا ہے، انعام بھی اُسے ہی ملنا چاہیے۔ تواِس لیے اصلی گناہ کا تصور غیر معقول ہے، ایسا ہی ہے ناں؟ دیکھیں اصلی گناہ کے مطابق، آدم اور حوا نے ایک ایسا کام کیا تھا جس سے اللہ کی نافرمانی ہوئی، انہوں نے سیب کھا لیا تھا لیا تھا اور اُس کے درخت کے پاس گئے تھے، اور اُس کی سزا یہ ملی کہ آدم اور حوا کی نسل سے آنے والی ہر اولاد، اور ہر بچہ اِسی اصلی گناہ کا بوجھ لے کر پیدا ہوں گے۔ مگر عقلی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو، مجھے اس کی سزا کیوں ملے گی؟ جو گناہ میرے والدین نے کیا تھا؟ کوئی بھی عدالتی نظام اِس تصور کو نہیں مانتا کہ بچوں کو سزا دی جائے والدین کے گناہ کی۔ اسلام اِس بارے میں کیا کہتا ہے، اسلام اِسے اصلی گناہ نہیں مانتا، بلکہ اسلام اصلی اچھائی کی بات کرتا ہے۔ کہ پیدا ہونے والا ہر بچہ، ہر اولاد ایک پاک صاف دل لے کر پیدا ہوتی ہے، ایک صاف تختی کی طرح بالکل معصوم، پاک، کسی داغ کے بغیر۔ تب تک جب تک آپ بالغ ہو جاتے ہیں، اور پھر اگر آپ اچھا کام کرتے ہیں، تو انعام دیا جائے گا، اگر برا کام کریں گے تو اِس کی سزا ملے گی۔ لہٰذا اسلامی تصور کے مطابق، جب آدم اور حوا سے یہ گناہ ہوا تھا، جب اُن سے وہ غلطی ہوئی تھی، تو دونوں نے خدا سے توبہ کی، کہ اے خدا، پلیز ہمیں معاف کر دو۔ اور خدا نے معاف کر دیا۔ بات ختم ہوگئی۔ اس لئے ہر بچہ ایک اصلی اچھائی کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ میں نے کئی موقعوں پر، بارہا یہ جواب دیا ہے، مسجد کے اوپن ہاؤسز میں عیسائی حضرات جب یہ سوال کرتے تھے تو وہ ہر بار یہی کہتے ہیں کہ سبیل آپ نے نجات کے اسلامی تصور کے بارے میں جو بات کہی ،وہ بالکل لاجکل ہے اور ہمیں سمجھ میں آتی ہے۔ تو عیسائی پوچھتے ہیں کہ، خدا نے پھر بائبل کو محفوظ کیوں نہیں رکھا؟ تو کیوں حفاضت نہیں کی اللہ نےانجیل کی جو، Jesus کو دی گئی؟(Gospel)، زبور جو ڈیوڈ کو دی گئی (Psalms)، تورات جو کہ موسیٰ کو عطا کی گئی (Torah)، اور وہ اسکرولز جو ابراہم کو دیے گئے۔ خدا حفاظت کر سکتا تھا، اور اس کے اصل نسخے اب بھی ہمارے ساتھ موجود ہوتے، رائٹ؟ خدا یہ کر سکتا تھا، اُس کے پاس قدرت ہے۔ وہ اس کی طاقت رکھتا ہے۔ اُسے ایسا کرنا ہی نہیں تھا کیونکہ وحی کی وہ باتیں صرف اُنہی لوگوں کے لیے تھیں، اُسی زمانے کے لیے تھیں۔ اُس میں صرف محدود حد تک رہنمائی تھی۔ یعنی اُن میں محدود شریعتیں تھیں۔ وہ شریعت سارے زمانے کے سب لوگوں پر اپلائی نہیں ہو سکتی تھیں۔ شریعت کا مطلب رہنمائی، ٹھیک ہے؟ مثال کے طور پر، میں آپ کو ایک سادہ سی مثال دیتا ہوں۔ آپ کے پاس ناروے کا آئین ہے۔ ناروے کا آئین صرف ناروے کے لوگوں کے لیے لکھا گیا تھا، صرف ان 5 ملین لوگوں کے لیے، جو جغرافیائی طور پر، اُن کے کلچر کے مطابق، اور اُنکے بیک گراؤنڈ کے لحاظ سے لکھا گیا۔ ناروے کا آئین، صرف ناروے کے لوگوں پر اپلائے ہوتا ہے۔ وہ امیرکا کے لوگوں یا بھارت، یا افریقہ کے لوگوں پر اپلائی نہیں ہوتا۔ اِسی طرح امیرکا کا آئین دوسرے ملکوں کے اوپر اپلائی نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ مخصوص پہلو کے لحاظ سے لکھا گیا ہے۔ مگر تصور کریں کہ اگر کوئی ایسا آئین ہو جو پوری دنیا پر اپلائی ہو سکتا ہو، تمام کلچرز، تمام نسلوں، تمام زمانوں پر۔ تو قرآن کی مثال اس ہی طرح ہے، اگر دوسری کتابوں کا موازنہ کریں، تو جیسے ناروے اور US کا آئین الگ الگ ہے، اسی طرح بائبل، اولڈ اور نیو ٹیسٹامنٹ بھی مختلف ہیں۔ اگر خدا انجیل (Gospel) کو محفوظ کر بھی لیتا، یا پھر Jesus کو دی ہوئی وحی کو محفوظ کر لیتا، تب بھی وہ آج کے زمانے کے لیے کافی نہیں تھی۔ نا ہی ہمیں آنے والے تمام مسائل کے لیے کافی ہوتی۔ لہٰذا اُس کا دائرہ محدود تھا، وہ صرف اُن لوگوں کیلئے اور اُس زمانے کے لیے تھی۔ اِسی وجہ سے، اللہ نے اپنی حکمت سے، اُس کی ذمہداری یا اسکی حفاظت کا وعدہ نہیں کیا۔ مگر قرآن پوری انسانیت کے لیے، اور سارے زمانوں کے لیے، ہر زمانے کے مسئلے کےحل کے لیے، ہر کلچر اور انسانیت کی ہر نسل کے لیے ہے، اور چونکہ یہ آخری وحی ہے، تو اسی لیے اللہ نے اِس کی حفاظت کا وعدہ کیاہے۔ مسلمان مانتے ہیں کہ قرآن محفوظ ہے، مگر بائبل میں تبدیلی ہو چکی ہے۔ تو اِس کی کیا وجہ ہے؟ کیا آپ بتا سکتے ہیں؟ یہ بہت بڑا دعویٰ ہے۔ یہ بہت بڑا دعویٰ ہے اور اس دعوے کا ثبوت بھی بہت بڑا ہونا چاہیے، ٹھیک کہا ناں؟ چلیں فوراً قرآن کی طرف آتے ہیں۔ دیکھیں اللہ نے یہ پیشگوئی کی ہے قرآن میں، چیپٹر 15، وَرس نمبر 9، حقیقت یہ ہے کہ یہ ذکر یہ پیغام ہم نے اتارا ہے، اور ہم ہی اِس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ لہٰذا اِس کی حفاظت کرنے کے، دو طریقہ کار ہیں۔ ایک حافظے میں،اپنے لوگوں کے ذہنوں کے اندر۔ دیکھیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلمکے پاس وحی آئی، وہ سب سے پہلے پہلے حافظ بنے پورے قرآن شریف کے۔ آپ کے صحابہ نے قرآن کو یاد کیا اور اپنے بعد والوں کو سِکھایا اور ہوتے ہوتے ہم نے بھی یہی سیکھا۔ تو کئی سلسلے میں یہ ذہنوں میں محفوظ ہو رہا ہے، 1400 سال سے بغیر کسی گیپ کے ہر ایک نشل می ہر ایک نسل میں ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے اِسے حفظ کیا، یعنی اسے زبانی یاد کیا۔ اور ہماری نسل میں،یعنی 2021 میں، لوگ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ تَقْرِيبًا15 ملین حافظِ قرآن اس دنیا میں موجود ہیں۔ اور بائبل کے کتنے ہیں؟ اصل زبان کے؟ زیرو۔ میں اصل زبان کہہ رہا ہوں، رائٹ؟ Aramaic زبان میں یا پھر قدیم کلاسیکل عبرانی اولڈ ٹیسٹامنٹ (Hebrew) زبان میں۔ ایک جانب بائبل کا کوئی حافظ نہیں، اور دوسری طرف 15 ملین حافظ ہیں قرآن کے۔ تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ حفاظت کا ایک طریقہ ہے، یعنی قرآن کو حفظ کرنا، رائٹ؟ اور ہم اِس کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ ایک عیسائی آ سکتا ہے جو جانتا ہو کہ قرآن کو کیسے پڑھا جاتا ہے ، وہ قرآن کو کھولے اور میرا بیٹاآئے گا جو کہ، حافظ قرآن ہے، ماشاء اللہ، رائٹ؟ اِس کا بھی حفظ مکمل ہونے والا ہے۔ تو وہ دوسری جانب دیکھ رہا ہوگا اُس کے پاس نہ کوئی فون ہوگا، نہ کوئی گیجیٹ ہوگا، وہ اپنے حافظے سے قرآن پڑھنا شروع کرے گا۔ اور وہ عیسائی جو عربی پڑھنا جانتا ہے، وہ قرآن میں دیکھ سکتا ہے، اُس میں وہی لکھا ہوگا جو کہ میرا بیٹا یوسف تلاوت کرے گا۔ ایک سادہ سا ایکسپیریمنٹ۔ ٹھیک ہے۔ دوسرا طریقہ قرآن نازل ہونے کے بعد سے اُس وقت سے محفوظ ہے، جب نبی پاک کو، الٌلہ تعالیٰ نے لکھنا پڑھنا نہیں سکھایا تھا۔ جب بھی اُن پر وحی نازل ہوتی، تو اُن کے پاس 55 سے 77 کاتب ہوتے۔ وہ اُن کے پاس آتے، اور ان سے فرماتے، کہ یہ آیت لکھو، اور یہ سوۃ لکھو، میرے سامنے، کاتب جب لکھ لیتے اس کے بعد ان سے فرماتے کہ جو تم نے لکھا ہے، اسے مجھے پڑھ کر سناؤ تاکہ یقین ہو جائے کہ جو کچھ اُنہوں نے کہا تھا وہی لکھا ہوا ہے۔ تو اِس طرح سے پورا قرآن لکھا گیا تھا اور پورا یاد کیا گیا تھا۔ اگر لکھنے والے کوئی غلطی کر دیتے، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ لوگ پرنٹنگ پریس سے پہلے، لوگ اپنے ہاتھوں سے لکھا کرتے تھے کاپیز پر تو ان سے غلطیاں ہوجاتی تھیں۔ اگر قرآن کے لکھے ہوئے نسخے میں کوئی غلطی ہوتی، تو قرآن کو یاد کرنے والے یعنی حُفّاظ قرآن، اس غلطی کی تصدیق کرنے کے بعد،وہ اس کا پتہ لگاتے، اور اُسے فوراً ٹھیک کر لیتے، یوں وہ نسخہ بھی بالکل اصل کے مطابق ہو جاتا تھا۔ لہٰذا قرآن کا ایک ڈبل چیک اینڈ بیلنس سسٹم ہے، جو کسی اور کتاب کا نہیں تھا۔ لہٰذا یہ ثبوت ہے کہ قرآن کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ اور ہمارے پاس حضرت محمد ﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک قرآن کے نسخے موجود ہیں۔ اویسے اِن میں سے ایک برمنگھم قرآن بھی ہے، جو اُنہیں ملا تھا برمنگھم میں ایک لائبریری سے ۔ تو اِس طرح سے ہم اُنہیں بتا سکتے ہیں کہ قرآن کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ یہ صرف اندھا اعتماد نہیں ہے، بلکہ اِس کے پیچھے ثبوت موجود ہے۔ اور بائبل کے بارے میں کیا کہیں گے؟ لوگ اِس طرح سوچ سکتے ہیں کہ تم مسلمان یہ الزام لگاتے ہو کہ بائبل تبدیل ہو گئی ہے۔ ٹھیک ہے تو پھر ثبوت کیا ہے؟ کس نے اِسے تبدیل کیا؟ اور کب کیا؟ کونسی تبدیلیاں کی گئیں؟ Jesus علیہ السلام، جب تفصیل سے بتا رہے تھے، رہنمائی کے بارے میں، ایک خدا کے بارے میں، نجات کے بارے میں ،تو اُس وقت اُسے کوئی نہیں لکھ رہا تھا۔ کوئی بائبل کا تاریخ دان یہ نہیں کہتا کہ Jesus کے الفاظ کو Jesus کے زمانے میں لکھا گیا تھا۔ یہ تو Jesus کے دنیا سے جانے کے بعد، اور کئی دہائیاں کے بعد، لوگوں نے اُنہیں یاد کیا اور لکھنا شروع کردیا۔ تو تَقْرِيبًا30 سے سال60 کے درمیان کاوقفہ آیا، Jesus کے جانے اور انکے لکھنے کے درمیان۔ اور عیسائیوں کے مطابق، جن لوگوں نے اِسے لکھا، وہ چار gospels، جو کہ Jesus کے زمانے کے نہیں تھے۔ وہ لوگ گمنام مصنفین تھے۔ اور انہوں نے جس زبان میں لکھا تھا، وہ زبان بھی Jesus کی نہیں تھی۔ دیکھیں، انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا کے مطابق، Jesus Aramaic زبان بولتے تھے۔ مگر جو اصل تحریر تھی نیو ٹیسٹامنٹ کی وہ تھی یونانی زبان میں۔ جبکہ مسلمانوں کے لیے، قرآن لکھا گیا عربی زبان میں، یاد کیا گیا عربی میں ، ظاہر بھی عربی میں ہوا، جب ہم نمازوں میں اِسے پڑھتے ہیں تو عربی میں پڑھتے ہیں۔ مگر اُنہیں یہ چیز میسر نہیں تھی۔ لہٰذا بائبل، نیو ٹیسٹامنٹ، کو لکھا گیا یونانی میں ، لیکن Jesus کی لینگوج تھی Aramaic، رائٹ؟ تو اُن کے اِن تمام گیپس کو دیکھیں۔ Jesus کے زمانے میں نہیں لکھا گیا، جب لکھا گیا تو کسی اور زبان میں، ایسے لوگوں نے لکھا جو اُن کے شاگرد نہیں تھے یا اُنہیں دیکھا نہیں تھا، اور پھر اس میں بھی سال در سال تبدیلیاں ہوتی گئیں۔ اور اِس میں بہت سی تبدیلیاں کرنے کی وجہ یہ ہے۔ ذرا تصور کریں۔ آپ کے پاس ایک بائبل کا ایک نسخہ ہے، تو پھر کسی شخص کو اِسے اپنے پاس لکھنا، اتارنا، کاپی کرنا پڑے گا۔ کیونکہ بائبل کے کوئی حافظ تو ہیں نہیں، تو یہ شخص کاپی کرتے ہوئے کوئی ایک غلطی کر سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے اُس کی یادداشت کمزور ہو، یا ہوسکتا ہے کہ وہ تھکا ہوا ہو۔ یا پھر روشنی نہ ہو۔ اب جب وہ کاپی کرے گا، تو وہ کاپی اِس اصل نسخے کی طرح نہیں ہوگی کیونکہ اب اِس میں ایک غلطی موجود ہے۔ اب اگر کوئی اِس کاپی سے ایک اور کاپی بناتا ہے، تو وہ غلطی تو کاپی ہوگی ہی، ساتھ میں مزید غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا آپ جتنی کاپیاں بناتے جائیں گے اتنی ہی غلطیاں بڑھتی جائیں گی۔ اب ایک طریقہ ہے انہیں یہ بتانے کا کہ، بائبل تبدیل ہوچکی ہے، چونکہ میں بائبلز کی کلیکشن کرتا ہوں اور۔ میرے کلیکشن میں 300 بائبلز ہیں، ہاں۔ کبھی میری لائبریری تشریف لائیں۔ جو کہ مختلف زمانوں میں سے ہیں، مختلف زبانوں میں اور مختلف ورژنز میں ہیں۔ اور اِن میں سے ہر ایک دوسری سے مختلف ہے۔ مسال کے طور پر جیسا کہ آپ کے پاس بائبل کا کنگ جیمز ورژن ہے جو کہ آیا ہے،سن 1611 میں جوانگلینڈ کے کنگ جیمز کی نگرانی میں تیار اور شائع ہوا تھا۔ تو اُس بائبل کو 1881 سے 1885 میں ریوائِز کیا گیا کیونکہ اِس میں غلطیاں تھیں اور اِسے قدیم نسخوں سے کاپی نہیں کیا گیا تھا۔ لہٰذا اُنہوں نے اسے ریوائز کیا 1881 میں۔ پھر ِاس میں بھی کچھ غلطیاں رہ گئیں، لہٰذا انہوں نے اسے ریوائز کیا سن 1901 میں، جسے امریکن اسٹینڈرڈ ورژن کہتے ہیں۔ اِس میں غلطیاں تھیں، کیونکہ لوگوں نے نئے نسخے دریافت کرنا شروع کر دیے تھے۔ اور نئے نسخے، بالکل مختلف تھے اِس بائبل سے، لہٰذا اُنہیں اپ ڈیٹ کرتے رہنا پڑا۔ اور میں چند مثالیں دوں گا، ٹھیک ہے؟ اچھا بائبل کے 1901 والے ورژن، یعنی امریکن اسٹینڈرڈ ورژن، میں غلطیاں تھیں، لہٰذا اُنہوں نے دوبارہ ریوائِز کیا 1952 میں۔ اچھا پھر اس میں بھی غلطیاں تھیں، لہٰذا انہوں نے دوبارہ ریوائِز کیا گیا 1971 میں۔NASB اِس میں بھی غلطیاں تھیں، دوبارہ ریوائز کیا گیا 1989 میں، اور پھر 2020 میں۔ اوراس کے بعد 2021 میں بھی۔ تو اب آپ سوچ رہے ہونگے کہ سبیل بھائی آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ بات دراصل یہ ہے کہ، ٹھیک ہے، ان کے پاس ایک بائبل ہے، لیکن اگر اُنہیں نئے نسخے مل جاتے ہیں، تو اُنہیں اِس بائبل کو اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے، نہ صرف اِس کے ترجمے کو نہیں، بلکہ اِس کے مضامین کو۔ تو وہ کونسی ورسز ہوں گی جنہیں لوگوں نے بائبل میں تبدیل کر دیا ہوگا؟ اگر آپ بائبل کے کنک جیمز ورژن کو دیکھیں، نیو ٹیسٹامنٹ میں، یعنی دوسری بک میں، جوکہ ہے Gospel of Mark ،چیپٹر نمبر 16 میں، میں بہت ساری معلومات دے رہا ہوں امید ہے آپ پوری توجہ دے رہے ہوں گے۔ ایک نیا ٹیسٹامنٹ، یعنی دوسری gospel، چیپٹر نمبر 16، اِس کے اندر 20 ورسِز ہیں کنگ جیمز ورژن کے اندر۔ یہ تو ایک بائبل کی بات ہوئی۔ اب جو بائبل میرے پاس ہے، جوکہ بائبل کا 1952 کا ورژن ہے، gospel of Mark کے، چیپٹر 16 میں، اِس میں 20 ورسِز ہیں، جبکہ اِس والی میں صرف 8 ورسِز ہیں۔ واؤ۔ آپ جانتے ہیں لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے؟ کہ مسلمان ورژن کا مطلب ترجمے سمجھ رہے ہوں۔ نہیں، ترجمہ تو ہمارے سمجھنے کے لیے ہوتا ہے۔ ترجمے کا مطلب تو ہے مثلاً انگلش سے ترکش زبان میں ترجمہ کرنا، ٹھیک؟ ترجمہ تو اِسے کہتے ہیں۔ ورژن کا مطلب ہے آپ نے بدل دیا اصل الفاظ کو ، اور آپ نے بدل دیا اِس میں لکھی ہوئی اصل باتوں کو۔ اِس ورژن میں بہت زیادہ جملے ہیں،ب اور اِس ورژن میں بہت کم جملے ہیں۔ تو یہ ایک مثال ہوگئی، ٹھیک؟ آسان سی مثال۔ ایک اور مثال لیتے ہیں کہ Gospel of John میں، جو کہ th4 گوسپل ہے، چیپٹر نمبر 7 مین، ورس نمبر 53، اِس میں ایک فاحشہ عورت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ کیسے لوگ اُسے سنگسار کرنے کے لیے اُس کے گرد جمع ہوئے تھے۔ اور Jesus وہاں آئے اور اُنہوں نے کہا، کہ جو گناہوں سے پاک ہیں وہ پہلا پتھر پھینکیں، رائٹ؟ آپ نے یہ کہانی سنی ہوگی۔ یہ کہانی قدیم نسخوں میں بالکل بھی موجود نہیں ہے۔ کنک جیمز ورژن میں موجود ہے۔ بائبل کے RSV ورژن کے مطابق، یہ کہانی بعد میں شامل کی گئی ہے، یہ قدیم نسخوں میں موجود نہیں ہے۔ یعنی کسی نے بعد میں اِسے شامل کر لیاتھا۔ ایک چھوٹی مثال اور دیتا ہوں۔ John کے پہلے خط میں، چیپٹر 5، وَرس نمبر 7، کنگ جیمز ورژن کے مطابق آسمان میں تین گواہی دینے والے ہیں، وہ باپ،اور بیٹا، اور روح القدس۔ یہ تو کنگ جیمز ورژن میں لکھا ہے۔ جبکہ بائبل کے نئے ورژنز میں، اُنہوں نے اِسے نکال دیا کیونکہ اُن کا خیال تھا کہ کسی نے اِسے بعد میں شامل کیا تھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ گزشتہ صدیوں کے دوران یونانی نسخوں میں، لوگوں نے چیزیں شامل بھی کی ہیں، اور انہوں نے نکالی بھی ہیں۔ اِس وجہ سے، ہم کہتے ہیں کہ اصل بائبل چینج ہو چکی ہے۔ عیسائیوں کے لیے الجھن یہی ہے کہ اُن کے پاس نہ تو اصل بائبل ہے، نہ ہی اُن کے پاس حُفّاظ، یعنی بائبل یاد کرنے والے ہیں، اُن کے پاس صرف یہ نسخے ہیں اور ہر نسخہ دوسرے سے مختلف ہے۔ لہٰذا وہ اپنے مطابق پوری کوشش کرتے ہیں، اور ووٹوں کی اکثریت پر فیصلے کرتے ہیں، کہ کونسے جملے یہاں آنے چاہئیں، اور کونسے جملے وہاں آنے چاہئیں۔ اِس طرح بائبل کو تیار کیا جاتا ہے۔ تو مسلمان جب یہ بات کہتے ہیں، کہ بائبلز تبدیل ہو چکی ہے، اور قرآن محفوظ ہے، تو ہمارے پاس ایک پکا، تصدیق شدہ ثبوت موجود ہوتا ہے۔ تو کیا صرف یہی چار بائبلز ہیں جو لکھی گئیں اور Jesus کے زمانے میں دیگر بائبلز بھی موجود تھیں؟ ہوا یہ کہ جب Jesus کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا تھا 33 سال کی عمر میں تو کسی نے بھی اُن کی تعلیمات کے حوالے سے کچھ بھی نہیں لکھا۔ اِس کے کئی دہائیوں بعد، لوگوں نے لکھنا شروع کیا، بہت سی gospels ۔ تو gospel کی تعریف یہ ہے کہ وہ بایوگرافی ہے Jesus علیہ السلام کی لہٰذا بہت سے لوگوں نے بایوگرافی لکھی Jesus پیغمبر کی ۔ بظاہر صرف Matthew، Mark، Luke اور John ہی نہیں، بلکہ اور بہت سی gospels لکھی گئی تھیں۔ کچھ لوگ اِن کی تعداد 77، کچھ 100 اور 200 بھی بتاتے ہیں۔ تو ہوا کچھ یوں کہ تمام اصل روحانی اولادیں Jesus کی، اور اُن کے شاگرد وہ لوگ دنیا کے چاروں کونوں میں گئے، تاکہ توحید پرست عقیدے کی تعلیم دے سکیں،جو انہیں جیززسے میلیں۔ تو یہ عیسائی یا یہ اصل شاگرد، جب وہ گئے رومی سلطنت میں ، جب وہ فارس میں گئے، اور جب وہ مصر میں گئے، اور جب گئے وہ برصغیر ہندوستان میں، اور گئے چائنہ میں، تو اُن جگہوں اور اُن کلچرز میں، ٹرینیٹی، مختلف شکلوں اور مختلف طریقوں میں رائج ہو چکی تھی۔ تو لہٰذا بدقسمتی سے، کرائسٹ کے توحید پرست فالوورز نے توحید پرستی کو قائم نہ رکھا اور اِس میں شامل کر دیا ٹرینیٹی کو ۔ تو چنانچہ کچھ ہوا یوں رومی سلطنت میں، وہاں دو گروپس بن گئے تھے عیسائیوں کے ، ایک ٹرینیٹیرین کرسچنز، اور دوسرے توحید پرست کرسچنز، اور آپ کہہ ُاُنھیں سکتے ہیں یونیٹیرین کرسچنز، ٹھیک؟ اب وہاں ٹرینیٹیرینز تھے اور یونیٹیرینز تھے۔ ان کے درمیان لڑائی اور اختلافات ہوتے رہتے تھے۔ تو Constantine جو شہنشاہ تھا روم کا ، جو کہ ویسے کافر بھی تھا۔ تو اُس نے کہا کہ اِن لوگوں میں ہم آہنگی ہونی چاہیے تو چلو ان کو ایک کرتے ہیں۔ اُس نے سارے عیسائی بشپس کو بلایا۔ اور ایک کونسل بنائی جسے کہتے ہیں Council of Nicaea۔ اُس میں اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ Jesus فادر کے برابر ہیں۔ جانتے ہیں؟ اِس سے پہلے ایسا نہیں تھا، ٹھیک ہے؟ اب یہ اِن کے ایمان کو حصہ بن گیا ہے۔ اچھاجب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو gospels وہاں موجود تھیں بہت سی اقسام کی ، اور عیسائی یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے کہ کونسی غلط ہے، اور کونسی صحیح۔ مگر یہ سب، ٹرینیٹی کا عقیدہ ایمان کا حصہ بن گیا تھا۔ پھر اُنہیں طے کرنا پڑا کہ اصل بائبل کونسی ہے، وہ انہوں نے سال 367 عیسوی میں کیا دیکھیں Jesus کے جانے کے کتنے سال بعد۔ 367 عیسوی میں، اُنہوں نے ٹرینیٹیرین عقیدوں کو شامل کیا اور صرف منتخب کیا اُنہی gospels کو جو عیسائیوں کے ٹرینیٹیرین عقیدے کے عین مطابق تھیں۔ سال 367 میں، یعنی Jesus کے جانے کے 300 سال کے بعد وہ gospels جو مطابق تھیں ٹرینیٹی کے ،اُنھوں یے اُسے بائبل میں شامل کر دیا۔ جو اُس کے مطابق نہیں تھیں، وہ اُنہوں نے پھینک دیں۔ تو اور بھی بہت سی gospels تھیں، جیسے کہ مثال کے طور پر، Gospel of Thomas، یہ لوگ نام لیتے ہیں Gospel of Barnabas اور دیگرGospels کا، جو یہ کہتی تھیں کہ Jesus صرف ایک پیغمبر ہیں، خدا صرف ایک ہے، اور Jesus کو موت نہیں آئی، ٹھیک؟ یعنی نجات کا وہی تصور جو اسلام دیتا ہے۔ اُن تمام gospels کو پھینک دیا گیا، اُنہیں بلیک لسٹ کر دیا، اُن پر پابندی لگا دی گئی، اور صرف اُنہی gospels کو شامل کیا گیا جو ٹرینیٹی کے مطابق تھیں۔ تو پھر یہ ٹرینیٹی کا عقیدہ اُنہوں نے کہاں سے لیا؟ کیا وہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے؟ جن کے وہ عیسائیت سے پہلے ممبر ہوا کرتے تھے؟ تو ٹرینیٹی، یعنی ٹرینیٹی کا تصور، واقعی موجود تھا، دوسرے کلچرز میں ۔ مگر صرف ٹرینیٹی ہی نہیں، رائٹ؟ کیونکہ آپ جانتے ہیں کچھ کلچرز نے خدا کا تصور اِس حد تک کمزور کر دیا، کہ وہ پوجنے لگے ، انسانوں کو، جانوروں کو بتوں کو، اور پھر وہی ٹرینیٹیرین تصور۔ مثلاً ہندوؤں میں اب بھی ٹرینیٹی کا تصور موجود ہے۔ اُن میں برہما جو خالقِ کائنات ہے، اُس کے بعد ہے وِشنو۔ پھر ان میں شِیوا ہے، جو بچانے اور تباہ کرنے والا ہے۔ مصر کے کلچر میں بھی، ایسا ہی ٹرینیٹی کا تصور موجود تھا، رومی سلطنت رائٹ؟ فارس کی ۔ یعنی توحید پرستی کو کمزور کر دیا گیا تھا۔ یعنی مثال کع طور پر انڈیا میں، اچھا میرا تعلق بھی وہی سے ہے۔ میں وہی پلا بڑھا وہی پیدا ہوا۔ میں دیکھا کرتا تھا کہ کچھ مسلمان مرنے والوں کی قبر پر جاتے اور وہاں گھیرا بنا لیتے۔ میں سمجھا کہ یہ مسلمان ہیں۔ ار اس کے بعد وہ سجدہ کیا کرتے تھے؟ مرنے والوں کی قبر پر، اور وہ خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں کیونکہ اُنہیں علم نہیں ہے، وہ دِین میں نئی چیز ایجاد کر رہے ہیں۔ بالکل اِسی طرح، جب کرائسٹ کے یہ ابتدائی فالوورز اِن دیگر کلچرز سے ملے، تو وہ مائل ہونے لگے اُن کلچرز کی طرف، اُن کے لائف اسٹائل کی طرف، اوراُن کے عقیدے کی طرف ، ایسے اُنہوں نے توحید پرستی کو کمزور کر دیا اور ٹرینیٹیرین تصورات کو شامل کر لیا۔ لہٰذا شروع میں ماضی کے کچھ کلچرز میں، یہاں تک کہ یہودی کلچر میں بھی، وہ نیک لوگوں کو خدا کا بیٹا کہا کرتے تھے، جو پاک ھوگا وہ خدا کا بیٹا ہوگا۔ حقیقی معنوں میں نہیں، بلکہ علامتی طور پر کہا کرتے تھے مگر پھر کرائسٹ کے فالوورز منظرِ عام پر آئے اور اُنہوں نے کہا، دوسرے کلچرز میں، اِن کے پاس خدا کے بیٹے ہیں۔ اِن کے پاس خدا کے بیٹے ہیں تو پتہ ہے اُنہوں نے کیا سوچا، کہ شاید Jesus بھی خدا کے بیٹے ہیں۔ لہٰذا جو چیز علامتی معنوں میں تھی اُس کو اُنہوں نے حقیقی معنی دے دیے۔ لہٰذا جب اُنہوں نے حقیقی معنوں میں سمجھ لیا خدا کاایک بیٹا ہے ، تو پھر بیٹے میں خدا کی کچھ خصوصیات ہونا بھی ضروری تھیں۔ یعنی بیٹا بھی خدا ہونا چاہیے۔ پھر اُنہوں نے ایک اور ہستی کو شامل کیا جسے روح القدس کہا۔ دیکھیں، روحِ خداوندی ایک علامتی انداز ہے، خدا کی روح، دراصل خدا ہی ہے۔ مگر اُنہوں نے روحِ خداوندی کو ایک الگ شخص بنا دیا اور اُسے خدائی صفات دے دیں۔ تو پتہ ہے اب وہ کیا کہتے ہیں؟ اگر فادر خدا ہے، تو بیٹے میں بھی خدائی صفات ہیں، اور روح القدس میں بھی خدائی صفات موجود ہیں۔ ہو سکتا ہے اُن کلچرز کی طرح، خدا کو تین لوگوں میں بانٹ دیا گیا ہو۔ تو اِس طرح ٹرینیٹی کا تصور، کئی صدیاں گزرنے کے بعد ،Jesus کے دنیا سے جانے کے یہ ٹرینیٹی کا لازمی حصہ بن گیا عیسائی مذہب کے ایمان کا جزء بن گیا۔ اچھا یہ انتہائی عقلی دلائل ہیں، مگر بہت سے عیسائی کہتے ہیں کہ مجھے عیسائیت میں روحانیت ملی ہے اور مجھے خدا سے ایک ربط محسوس ہوتا ہے۔ تو پھر میں کیوں اپنا عقیدہ بدلوں؟ یا بدلنے کی ضرورت کیا ہے؟ میں کہوں گا کہ تین وجہ سے کسی بھی شخص کو اپنا عقیدہ بدل کر عیسائیت سے اسلام میں آ جانا چاہیے، رائٹ؟ تین سادہ سی وجوہات، فورا۔ سب سے پہلی وجہ، صرف اِس لیے کہ کوئی شخص اگر بہتر یا روحانیت یا اچھا محسوس کرے خاص عقیدے میں ، اُس عقیدے کی سچائی کا معیار بالکل نہیں ہے۔ ایک ہندو جب مندر جاتا ہے، تو وہ بھی یہی کہہ سکتا ہے کہ میں روحانیت محسوس کرتا ہوں، رائٹ؟ مجھے اچھا محسوس ہوتا ہے، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہی صحیح عقیدہ ہے۔ احساسات حقیقت نہیں جیسا کہ لوگ کہتے ہیں۔ ایک بُدھسٹ بھی یہی بات کہہ سکتا ہے، ایک یہودی بھی یہی کہہ سکتا ہے مسلمان بھی یہی بات کہتے ہیں۔ صرف ہمارے کہنے سے وہ چیز صحیح نہیں ہو جاتی۔ احساسات، رائٹ؟ جو کہ ہم سب میں ہوتے ہیں۔ لہٰذا اسے اپنی سوچ پر مبنی دلیل کہا جاتا ہے۔ اپنی سوچ پر مبنی؟ یہ احساسات ہیں، ہم احساسات پر نہیں حقائق پر چلتے ہیں۔ چلیں اب حقائق کی بات کرتے ہیں، دو چیزیں ہیں۔ نمبر ایک، دیکھیں ہمارے لیےصحیح عقیدے کا ایک معیار یہ ہے کہ عقیدے میں خدا کا صحیح تصور ہونا چاہیے۔ اگر خدا کا تصور صحیح ہے، تو باقی ہر چیز مکمل ترتیب میں آ جاتی ہے۔ اوراگر خدا کا تصور غلط ہے، تو باقی سب بے معنی ہو جاتا ہے۔ لہٰذا خدا کا وہ تصور جو اسلام دیتا ہے، کہ وہ ایک اور بالکل اکیلا ہے، کائنات کا بنانے والا ایک ہے، اُس کی بے مثال صفات ہیں، اُس کا کوئی شریک نہیں، کوئی ٹرینیٹی نہیں، بالکل ایک اور اکیلا۔ خدا کے اِسی تصور کی تبلیغ ہر پیغمبر نے، ہر رسول نے کی یہاں تک کہ بائبل میں بھی یہی ہے۔ میں اپنے عیسائی اور یہودی دوستوں سے کہتا ہوں، اگر آپ ابراہیم علیہ السلام کو دیکھیں، اولڈ ٹیسٹامنٹ میں، تو وہ توحید پرست تھے، وہ ٹرینیٹیرین نہیں تھے۔ موسیٰ علیہ السلام ٹرینیٹیرین نہیں تھے، اُنہوں نے توحید پرستی کی تبلیغ کی، اور باقی پیغمبروں نے بھی، یہاں تک کہ Jesus نے بھی توحید کی تعلیم دی۔ Jesus بھی ٹرینیٹیرین نہیں تھے۔ تو یہ وہ دوسری وجہ ہے کہ عیسائیوں کو اسلام پر غور کرنا چاہیے کیونکہ اسلام نے توحید کو کو دوبارہ زندہ کیا جس کی تبلیغ کی تھی Jesus نے اور تمام پیغمبروں نے۔ اور تیسری اہم وجہ یہ ہے کہ اگر میں ایک سیکولر سوچ رکھتا ہوں، میرے سامنے موجود ہیں اسلام، عیسائیت، یہودیوت، ہندو ازم ، اور اب میں کوئی مذہب چُننا چاہوں، تو میرے لیے ایک معیار یہ ہوگا۔ انسانیت بہت زیادہ مسائل سے گزر رہی ہے۔ ہمیں نسل پرستی کا، فیملی کا نظام ختم ہونے کا، اخلاقی ویلیوز، نسل کشی، خودکشی، جوا، اور مسائل کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست کا سامنا ہے۔ اب اس کا حل کیا ہے؟ تو صحیح مذہب اور عقیدے کا ایک معیار یہ ہے کہ اگر وہ مذہب خدا کی طرف سے ہے، تو وہ پریکٹیکل، قابلِ عمل، فائدے مند حل پیش کرے گا ہر مسئلے کا ۔ لہٰذا اگر دیکھیں آپ نیو ٹیسٹامنٹ کو تو وہ اِس پر بات نہیں کرتا کہووہ مکمل اور جامع، حل کونسے ہیں؟ جو کہ معاشی سسٹم کو، پولٹکل سسٹم کو، عدالتی سسٹم،فیملی سسٹم کو ، ازدواجی سسٹم کو حل کرے ؟ نیو ٹیسٹامنٹ میں ہمیں ضرورت ہے، اور وہ نیو ٹیسٹامنٹ میں نہیں ہے ۔ اولڈ ٹیسٹامنٹ میں کچھ حد تک موجود ہیں مگر وہ صرف موجود ہیں یہودیوں کے لیے، وہ محدود، وقتی اور مخصوص لوگوں اور مخصوص قوم کے لیے ہیں۔ ہمیں حل چاہئیں، مگر وہاں نہیں ملتے۔ وہ حل، ہندو ویداس میں بھی یہ موجود نہیں ہیں۔ بُدھسٹ صحیفوں میں بھی نہیں ہیں وہ، رائٹ؟ انسانیت، 8 بلین لوگ، اِن مسائل کا حل چاہتے ہیں، رہنمائی چاہتے ہیں۔ صرف انسانی عقلی نقطۂ نظر سے، اُن کے پاس حل نہیں ہیں۔ پریکٹیکل حل، رائٹ؟ صرف یہی نہیں کہ پڑوسی سے محبت کرو، محبت سے مراد کیا ہے؟ اِس حوالے سے پورا تفصیلی حل ہونا چاہیے۔ اسلام کے پاس یہ حل موجود ہیں۔ قرآن میں، جوکہ انسانیت کے لیے اللہ کا کلام ہے، اور سنت میں، پیغمبر محمد ﷺ کے کیے گئے کاموں کی مثال موجود ہے۔ انسانیت کو اِن کی ضرورت ہے، یہ حل اُن کے پاس نہیں ہیں، مگر اسلام فراہم کرتا ہے۔ لہٰذا اِن تین وجوہات سے، عقلی، شعوری نقطۂ نظر سے اسلام ہی صحیح مذہب ہے۔ اچھا آپ کہتے ہیں کہ پچھلے پیغمبر، میرا مطلب اولڈ ٹیسٹامنٹ کے پیغمبروں نے ایک خدا کے تصور اور ایک خدا پر ایمان کی تعلیم دی۔ اور آپ نے یہ بھی کہا کہ Jesus نے بھی یہی بات کہی۔ تو عیسائیوں کے مطابق، اُن پیغمبروں کے ساتھ کیا ہوگا؟ کیونکہ وہ Jesus پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ Jesus کیونکہ اُن کے بعد آئے تھے۔ تو اُن پیغمبروں کے ساتھ کیا ہوگا؟ Jesus علیہ السلام سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے پاس نجات کا کونسا راستہ ہے؟ اُن کی نجات کا راستہ وہی ہے جو نجات کا راستہ ہونا چاہیے، یعنی صحیح عقیدہ رکھنا، اچھے اعمال کرنا۔ اگر کوئی گناہ ہو جائے، تو معافی کے لیے خدا سے توبہ کریں گے۔ یہ واضح بات ہے، کیونکہ وہ لوگ جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں تھے، جو موسیٰ علیہ السلام کے اصل فالوورز تھے، ہم اُنہیں مسلمان کہتے ہیں۔ وہ خدا پر ایمان رکھتے تھے۔ لہٰذا عربی میں ہم اُنہیں جو لفظ دیتے ہیں، وہ لفظ ہے مُسلم۔ تو کوئی بھی شخص جو موسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتا تھا اور خدا کی دی ہوئی کتاب تورات (Torah) پر عمل کرتا تھا اور اِس پر عمل کی پوری کوشش کرتا تھا، اللہ سے توبہ کرتا تھا،گناہ پر معافی کے لیے ہم کہتے ہیں کہ ایسا شخص اللہ کی رحمت سے جنت میں جائے گا۔ گزرے ہوئے زمانے کے لوگ، جوابراہم، سولومن، ڈیوڈ، اسماعیل، اسحاق علیھم السلام کی قومیں تھیں، اب، انتہائی اہم بات، یہاں تک کے Jesus کے زمانے میں بھی، ہم کہتے ہیں کہ جس نے بھی Jesus کو پیغمبر مانا اور ایک خدا پر ایمان رکھا، خدا کے حکم پر عمل کیا، اور انجیل (Gospel) پر عمل کیا، جوکہ خدا کی طرف سے آئی حو Jesus اور اُن کے شاگردوں کو دی گئی وحی تھی، تو ہم کہتے ہیں کہ ایسا شخص مسلم ہے، وہ فالوور تھا کرائسٹ کا ، اور اُس کے لیے نجات کا راستہ ایک خدا پر ایمان رکھنا، Jesus کو پیغمبر ماننا، اور عمل کرنا تھا تورات (Torah) اور انجیل (Gospel) پر ۔ بائبل میں ایک بڑی حیرت انگیز بات لکھی ہے، اچھا؟ میں اِسے حیرت انگیز کیوں کہ رہا؟ تو ایک شخص کو مسلمان ہونے کے لیے، مثلاً اب فرض کریں کہ اگر کوئی شخص مسجد آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں قرآن پڑھتا ہوں اور میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں۔ تو اُسے کلمۂ شہادت (ایمان کا اعلان) پڑھنا ہوگا۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ جو زمانہ تھا jesus کا، اپکا کیا خیال ہے یہی کلمہ ہوتا تھا؟ اس وقت Jesus اللہ کے رسول تھے، رائٹ؟ اس وقت تھا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور Jesus اللہ کے رسول ہیں۔ آپ کو بائبل میں یہ مل جائے گا۔ Jesus فرماتے ہیں کہ اگر تم ہمیشہ کی زندگی میں جانا چاہتے ہو، اگر تم جنت میں جانا چاہتے ہو، تو، اُنہوں نے خدا کی طرف اشارہ کرکے کہا، جان لو کہ صرف تُو ہی سچا خدا ہے، اور Jesus کو خدا نے بھیجا ہے پیغمبر بنا کر۔ واؤ۔یہ شہادت (ایمان کا اعلان) بائبل میں موجود ہے اور Jesus کہہ رہے ہیں کہ جنت میں جانے کا یہی راستہ ہے کہ علم رکھا جائے پڑھا جائے شہادت kw۔ تو کیا نبی پاک ﷺ، اولڈ اور نیو ٹیسٹامنٹ کو کاپی کرکے قرآن نہیں لکھ سکتے تھے؟ اوکے، تو سوال یہ ہے کہ، بہت سے لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ قرآن کو بائبل سے کاپی کیا گیا ہے۔ بہت سے طریقےکار ہیں جن کے ذریعے ہم اِس الزام کو مسترد یا غلط ثابت کر سکتے ہیں۔ ایک بات تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کو بائبل سے کاپی نہیں کیا گیا تھا کیونکہ محمد ﷺ کو اللہ نے نہیں سکھایا تھا لکھنا اور پڑھن۔ اگر وہ اِسے لکھنا چاہتے، تب بھی وہ نہیں پڑھ سکتے تھے بائبل کو، کیہ اسے کاپی کرتے۔ پہلی بات۔ لہٰذا قرآن کے چیپٹر 7، ورس نمبر 157 میں ہے، کہ وہ اُمّی (غیر پڑھے لکھے) پیغمبر تھے، انہیں پڑھنے لکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ دوسری بات ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اُس وقت کوئی بھی مکمل بائبل موجود نیہں تھی جسکا عربی میں ترجمہ ہوا ہو جسے دیکھ کر وہ کاپی کرتے۔ پہلی بار جب ترجمہ مکمکل ہوااولڈ ٹیسٹامنٹ کا وہ تقریباً 900 صدی عیسوی میں مکمل ہوا تھا، جو یہودی عالم نے، اسکا نام تھاSadiyya Gaon تو نبی پاک ﷺ کے زمانے میں، یعنی ساتویں صدی عیسوی میں، اس یہودی بائبل کا عربی میں ترجمہ نہیں ہوا تھا۔ اور اگر نیو ٹیسٹامنٹ کی بات کریں تو، 1600 عیسویں تک ترجمہ نہیں ہوا تھا۔ لہٰذا عربی میں پوری بائبل موجود ہی نہ تھی، جسے دیکھ کر نبی پاک ﷺ کاپی کرتے، رائٹ؟ کیونکہ اُس کا عربی میں ترجمہ نہیں ہوا تھا۔ تیسری بات ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے مضامین موجود ہیں بائبل میں جو کہ قرآن میں نہیں ہیں، اور قرآن کے مضامین بائبل میں نہیں ہیں۔ اِس سے میری کیا مراد ہے؟ مثلاً قرآن کے اندر ایک واقعہ ہے فرعون کے واقعہ حوالے سے۔ بائبل میں، فرعون کے قصے کا ذکر کیا گیا ہے، مگر قرآن نے پورا واقعہ بیان کیا ہے۔ مثال۔ بائبل میں Exodus کی کتاب، چیپٹر نمبر تین میں قصہ بیان ہوا ہے کہ فرعون اور اُس کی فوج موسیٰ علیہ السلام کا پیچھا کرتی ہے اور پھر وہ سمندر میں ڈوب جانی ہیں۔ قرآن میں بھی یہی قصہ ہے، مگر پھر قرآن کہتا ہے، فرعون کے ڈوب جانے کے بعد، اُس کے جسم کو بعد کے لوگوں کی عبرت کے لیے محفوظ کر دیا جائے گا۔ تو اب ہم نے دریافت کر لیا فرعون کا جسم کو اور آٹوپسی کرنے والے لوگوں نے کہا ہے، معلوم ہے ناں؟ یہ وہی فرعون ہے جو موسیٰ کے زمانے میں تھا۔ توآپ دیکھیں قرآن میں اضافی معلومات موجود ہیں۔ لہٰذا نبی پاک ﷺ اگر بائبل سے اِسے کاپی کر رہے ہوتے، تو پھر اُنھیں وہ اضافی اور بالکل درست معلومات کس نے دیں، جنہیں ہمارے زمانے کے اسکالرز نے اب دریافت کیا ہے۔ نمبر دو۔ قرآن اور کس بارے میں بات کرتا ہے؟ نوح۔ طوفانِ نوح کے بارے میں۔ بائبل بھی طوفان کے بارے میں بتاتا ہے، قرآن بھی طوفان کے بارے میں بتاتا ہے۔ بائبل کے مطابق، یہ ایک عالمی طوفان تھا۔ Book of Genesis، چیپٹر 7، ورس نمبر 21 میں ہے، پوری دنیا پانی میں ڈوب گئی تھی۔ ہر کوئی ہلاک ہو گیا تھا سوائے ان لوگوں کے جو کشتی میں سوار تھے ۔ یہ چیپٹر 7، ورس نمبر 21 میں یہ لکھا ہے۔ بائبل، اولڈ ٹیسٹامنٹ کی بُک آف Genesis میں، اب قرآن بھی طوفان کے بارے بتاتا ہے، مگر قرآن کہتا ہے کہ یہ کسی ایک مقام پر آیا تھا۔ صرف ان لوگوں کے لئے جو، تھے مخالف نوح علیہ سلام کے۔ وہ لوگ جو انکا اور انکی تعلیمات کا مذیق اڑاتے تھے، اور اللہ سے دور ھو گئے تھے،انہیں خدا نے سزا دی تھی، اب آپ کے پاس ایک بائبل کا قصہ ہے، اور ایک قرآن کا قصہ ہے، اور آرکیالجسٹس حمایت کرتے ہیں، قرآن کے قصے کی سائنس صحیح کہتی ہے قرآنی قصے کو ، رائٹ؟ نمبر تین، وہ اکسٹرا معلومات کس نے دیں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو؟ نمبر تین، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن میں سائنسی حقائق موجود ہیں۔ 500 سے زیادہ سائنسی حقائق، اور غلطی زیرو۔ بائبل میں یہ نہیں ہیں، لیکن قرآن میں ہیں۔ لہٰذا، وہی بات کہ اگر قرآن کو کاپی کیا گیا ہوتا بائبل سے، تو پھر کس نے وہ اضافی قرآنی حقائق سائنسی حقائق دیے قرآن میں؟۔ تو یہ بھی ایک وجہ ہے، رائٹ؟ تو ایک سادہ سی مثال میں یہ دے سکتا ہوں کہ فرض کریں آپ کے دو اسٹوڈینٹس ہیں۔ سٹوڈنٹ، مثال کے طور پر ڈیوڈ D گریڈ، بِل گیٹس B گریڈ ، ٹھیک ہے؟ رائٹ؟ اب، فرض کریں، فائنل ایگزام میں ڈیوڈ اگر برابر میں بیٹھا ہے بل کے اور وہ بل کے تمام جوابات کو کاپی کر رہا ہے۔ اور پھر بل کو ملتا ہے B grade فرض کریں 80٪ آپ کے خیال میں ڈیوڈ کو کتنے ملیں گے؟ وہ بالکل وہی جوابات کاپی کر رہا ہے؟ تو B گریڈ ملے گا رائٹ؟ کیونکہ ڈیوڈ صرف بل کےحیح جوابات ہی کاپی نہیں کر رہا بلکہ وہ صحیح کے ساتھ غلط جوابات بھی کاپی کر رہا تھا۔ لہٰذا اگر قرآن کاپی ہوتا بلئبل سے تو پھر قرآن میں بھی ساری غلطیاں کاپی ہوتیں جو کہ موجود ہیں بائبل میں بائبل کی ساری غلطیاں، تمام کمی بیشیاں بلئبل کیں، مگر ایسا نہیں ہوا۔ قرآن میں زیرو غلطیاں ہیں۔ جبکہ بائبل میں بہت ساری ہیں۔ تو وہ کون تھا جس نے صرف اور صرف صحیح چیزیں لیں، جس نے درست چیزوں کو لی سائنس اب اِسے ثابت کرتی ہے۔ تو اِس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ سائنسی نقطۂ نظر سے، آرکیولوجیکل نقطۂ نظر سے، روحانی نقطۂ نظر سے، تاریخی نقطۂ نظر سے، قرآن بذاتِ خود نازل ہوا تھا، اور اِسے بائبل سے کاپی نہیں کیا گیا تھا، رائٹ؟ مگر پھر کچھ لوگ پتہ ہے کیا کہہ سکتے ہیں؟ کہ بہت سی باتیں ایک جیسی ہیں قرآن اور بائبل کی اِس وجہ سے، اِسے کاپی شدہ کہا جاتا ہے۔ تو میں اُن سے یہ کہتا ہوں۔ بائبل کو بھی اُسی ہستی نے نازل کیا تھا جس نے قرآن کو نازل کیا ہے، یعنی اللہ نے۔ مگر بائبل تبدیل کر دی گئی ہے، کچھ اصل باتیں اُس میں رہ گئی ہیں، پھر اللہ نے آخری وحی بھیجی اور اِس میں بھی کچھ باتیں وہی ہیں جو بائبل میں تھیں۔ ایسا اِس لیے نہیں کہ ایک کتاب دوسری سے کاپی کی گئ ہے، بلکہ بھیجنے والی ذات ایک ہی ہے۔ چلیں اِسے عقلی دلیل سے سمجھتے ہیں، رائٹ؟ اگر لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کو بائبل سے کاپی کیا گیا تھا، تو ہم کہہ سکتے ہیں، اوکے، فائن، نیو ٹیسٹامنٹ اور اولڈ ٹیسٹامنٹ میں کچھ باتیں ایک جیسی ہیں، تو کیا ہم یہ کہیں کہ اب عیسائی مانتے ہیں کہ عیسائی مصنفین نے یہودی مصنفین کو کاپی کیا تھا؟ کیا اُنہوں نے یہودی مصنفین کی لباتیں چوری کیں ہیں؟ یہاں ہم کیوں رُک جاتے ہیں؟ اولڈ ٹیسٹامنٹ کے کچھ مضامین ہندو ویداس سے ملتے جلتے ہیں۔ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اولڈ ٹیسٹامنٹ کے مصنفین نے ہندوؤں کو کاپی کیا، اُن کا کونٹینٹ چُرایا؟ یہاں ہم کیوں کچھ نہیں کہتے؟ ہندو ویداس میں بہت سی باتیں ملتی جُلتی ہیں babylonian صحیفوں سے مگر ہم وہاں خاموش رہتے ہیں، رائٹ؟ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ قرآن اُس ذات کے ذریعے نازل ہوا یعنی کہ اللہ اور بائبل میں کچھ اصل باتیں رہ گئی ہیں جو اُسی ذات، یعنی اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں۔ تو ایک ہی ہستی سے نازل ہوئیں اس لئے باتیں ملتی جُلتی نہ کہ یہ وجہ ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے کاپی کر لیا۔ صدیوں سے، یہودی مسیحا، کرائسٹ کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن جب Jesus آئے تو اُنہوں نے اُن کا انکار کر دیا۔ اور اِس کتاب میں بھی حضرت محمد ﷺ کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔ مگر جب عیسائی نبی پاک ﷺ کا انکار کرتے ہیں، تو کیا اُن کا یہ عمل یہودیوں جیسا نہیں؟ ہاں، بالکل کچھ باتیں ایک جیسی ہوسکتی ہیں۔ کہ کیوں عیسائی انکار کرتے ہیں نبی پاکﷺ کا اور یہودیوں نے کیوںی انکار کیا نہ صرف Jesus کو، بلکہ محمد ﷺ کا بھی انکار کیا، رائٹ؟ یہ جو یہودی سکالز ہیں مخصوص معیار تلاش کرتے ہیں۔ اپنے مسیحا میں کہ مسیحا داؤدؑ کی طرح بادشاہ ہوگا مسیحا ایک فوجی لیڈر کی طرح ہوگا۔ مسیحا فوج کے ساتھ حکمرانی کرے گا، رائٹ؟ اُس کی وسیع سلطنت ہوگی۔ تو جب اُنھون نے jesus کو دیکھا۔ ایک شخص جو دکھنے میں کمزور تھا جس کا لوگ مذاق اڑاتے تھے، جسے مانتے نہیں تھے، نہ ہی کوئی آرمی تھی اور نہ ہی کوئی طاقت تو اُن کے ذہن کے مطابق، جانتے ہیں وہ کیا سوچتے ہیں؟ یہ مسیحا نہیں ہو سکتا کیونکہ اُن کی بائبل کے مطابق، کہ مسیحا کے لیے اِن معیارات کا ہونا ضروری ہے۔ یہ بنیادی وجہ تھی کہ اُنہوں نے Jesus علیہ السلام کا انکار کیا۔ اب اُنہوں نے محمدﷺ کا انکار کیا یعنی کہ یہودیوں نے بعض اوقات غرور تکبر کی وجہ سے ۔ شاید وہ یہ سوچتے ہیں کہ تمام پیغمبر جو آئے تھے وہ سب نسل تھی اسحاق کی ، اور اُن کے خیال میں وہ چُنے ہوئے لوگ ہیں۔ کتابیں اُن کو دی گئیں، پیغمبر اُن کو دیے گئے، وہ بہترین لوگ ہیں۔ لیکن جو آُنہون نے دیکھا پیارے نبی پاکﷺ کو جو اسماعیل علیہ السلام کی ، نسل سے تشریف لائے تھے۔ جو کہ تشریف لائے تھے اسمائیلؑ کی نسل میں سے تو بدقسمتی سے، غرور تکبر کی وجہ سے، اُنہوں نے اُن کا انکار کیا۔ حالانکہ وہ اپنے صحیفوں میں نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ کچھ یہودوں نے اسلام قبول بھی کیا، مگر مجموعی طور پر اُنہوں نے بالکل اُسی طرح انکار کیا جس طرح Jesus علیہ السلام کا انکار کیا تھا۔ اب، عیسائی نبی پاک ﷺ کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ اُن کے مطابق، بائبل ایک مکمل کتاب ہے جس میں حقائق موجود ہیں اُن کے مطابق نجات کا راستہ واضح ہے، Jesus آئے، وہ وفات پا گئے۔ اور قصہ یہاں پر ختم ہو گیا۔ کوئی نیاشخص نہیں، کوئی نیا رہنما نہیں آئے گا جو بائبل کی رہنمائی میں اضافہ کرے۔ اِس لیے وہ کہتے ہیں کہ بائبل کافی ہے،ہمارے Jesus کافی ہیں، اور اتنی رہنمائی کافی ہے، اسی لئے نئے رسول اور نئے پیغمبر کے آنے کی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اِسی وجہ سے، وہ پیغمبر محمد ﷺ کا انکار کرتے ہیں۔ مگر جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا، بہت سے سائنسی حقائق میں اولڈ ٹیسٹامنٹ اور نیو ٹیسٹامنٹ میں نشانیاں موجود ہیں کہ، ایک پیغمبر دنیا میں تشریف لائنگے جو ہونگے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ اگر کوئی مخلص یہودی یا مخلص عیسائی اِن پیشگوئیوں پر غور کرے، تو آنھیں ساری نشانیاں واضح ہوجائیں گی محمدﷺ کے تشریف لانے کیں اور ہدایت جو اللہ نے اُن کے ذریعے دی، وہ توحید پرستی جو اللہ نے اُنہیں عطا کی، ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا)، اگر واقعی وہ سچے اور مخلص ہوں، تو وہ اُنہیں پیغمبر مان لیں گے اور اسلام کا مذہب اپنا لیں گے جو اللہ کی طرف سے لایا یا عطا کیا گیا ہے۔ آخر میں، ہو سکتا ہے کوئی عیسائی آپ کو دیکھ رہا ہو اور وہ کہے کہ، ٹھیک ہے، اسلام عقل پر پورا اترتا ہے، مگر ، میں Jesus کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ میں Jesus سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں، میں اُنہیں چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اگر میں مسلمان ہو گیا تو Jesus کے ساتھ میرے تعلق اور رشتے کا کیا ہوگا؟ اگر کوئی عیسائی یہ کہے کہ اسلام اچھا ہے، دل کو بھاتا ہے، مگر کیا مجھے Jesus کو چھوڑنا پڑے گا؟ مجھے Jesus سے پیار ہے۔ میں کہوں گا آپ Jesus کو بھی اپنے ساتھ لائیں اور اُنکی شخصیت کو مکمل کریں آپ کو Jesus کو بالکل نہیں چھوڑنا ہوگا۔ بلکہ اب آپ Jesus کو ویسے ہی مان رہے ہوں گے جیسے کہ وہ تھے۔ وہ ایک عظیم انسان و پیغمبر تھے۔ بائبل میں کئی مرتبہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ ایک عظیم الشان پیغمبر تھے، رائٹ؟ Matthew 13:57، John 4:44، Mark 6:4، Luke 13:33۔ تو اگر آپ Jesus سے محبت کرتے ہیں تو اُن کی باتوں پر عمل کریں۔ وہ ایک توحید پرست انسان تھے، آپ اُن کی یہ شخصیت اپنے ساتھ لے آئیں۔ اور آپ یہ حقیقت لا سکتے ہیں کہ Jesus ایک پیغمبر تھے، قرآن بھی یہی کہتا ہے، اور آپ لباس بھی پہن سکتے ہیں جیسا کہ jesus کا تھا۔ اُن کی ڈاڑھی تھی، وہ باحیا لباس پہنتے تھے۔ آپ اپنے ساتھ وہ ساری باتیں لا سکتے ہیں جو Jesus علیہ السلام اپنے شاگردوں سے کہا کرتے تھے۔ مسلمان بھی وہی باتیں کہتے ہیں، آپ وہ اپنے ساتھ لا سکتے ہیں۔ آپ یہ بھی اپنے ساتھ لاسکتے ہیں کہ jesus روزہ رکھتے تھے۔ 40 دن اور 40 راتیں بالکل ایسے ہی جیسے مسلمان روزے رکھتے ہیں، آپوہ اپنے ساتھ لاسکتے ہیں اور وہ بہترین چیز جو آپ اپنے ساتھ لا سکتے ہیں وہ Jesus کا عبادت کرنے کا طریقہ ہے۔ وہ خود خدا کے آگے سجدہ کرتے تھے اور خدا کی عبادت کیا کرتے تھے۔ وہ خدا کے محتاج تھے۔ آپ اپنے ساتھ یہ بھی لا سکتے ہیں کیونکہ مسلمان بھی یہی سب کرتے ہیں۔ آپ Jesus کو کھوئیں گے نہیں، اپنے ساتھ رکھیں گے، بلکہ اُن کی شخصیت میں کچھ اور بھی کچھ اور بہتر، کچھ ایسا جو خالق کی طرف سے دیا گیا ہے۔ Jesus علیہ السلام نے کبھی شراب نہیں پی، کبھی سؤر کا گوشت نہیں کھایا، نہ ہی کبھی خون کا استعمال کیا، کیونکہ وہ مذہب کے سچے پیروکار تھے، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک مسلمان ایک پیغمبر تھے جو خدا کے احکامات پر مکمل طور پر عمل کرتے تھے وہ احکامات جو کہ آللہ نے موسیٰؑ کو دیے لہزا اولڈ ٹیسٹامنٹ میں لکھا ہے۔ وہ سؤر نہیں کھاتے تھے، جو کہ اولڈ ٹیسٹامنٹ کی بُک leviticus تھی خون استعمال نہیں کرتے تھے، اور بھی بہت سے احکامات وہاں موجود ہیں۔ اور Jesus نے اللہ کے رسول کی حیثیت سے کیا کہا، اُنھوں نے کہا کہ نئی ٹیسٹامنٹ جو کہ سب سے پہلی gospel تھی the gospel of mattew چیپٹر نمبر 5 ورس نمبر 17 اور اس کے بعد سے لکھا ہے کہ میں نہ شریعت کو منسوخ کرنے آیا ہوں اور نہ نبیوں کو، بلکہ اِسے پورا کرنے آیا ہوں۔ اور جو کوئی اولڈ ٹیسٹامنٹ کے قانون سے کسی ایک حصے کو بھی نکالے گا، وہ آسمانی بادشاہی میں سب سے کم درجے کا شمار ہوگا۔ اور جو اِن قوانین کو قائم رکھے گا، وہ آسمانی بادشاہی میں بلند ترین درجے پر ہوگا۔ اور اِن قوانین میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سؤر کا گوشت نہ کھاؤ، خون استعمال نہ کرو یہی وہ قوانین ہیں جنہیں ہم شریعت (اسلامی قانون) کہتے ہیں، یعنی حلال قوانین۔ تو اگر آپ کو Jesus سے محبت ہے تو آپ یہ چیزیں چھوڑ دیں گے کیونکہ مسلمانوں نے بھی اِنہیں چھوڑ دیا ہے۔ لہٰذا اگر آپ Jesus سے محبت کرتے ہیں، تو اُن کے دِین کو فالو کریں۔ Jesus کا دِین اسلام تھا اور ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں دینِ اسلام میں جو کے آپ کو اور تمام انسانیت کو دیا گیا ہے۔ اِسی میں نجات ہے اور اِسی میں آپ کا فائدہ ہے۔ جزاک اللہ خیراً (اللہ آپ کو بہترین انعام عطا فرمائے)۔ آپ کے جوابات کا بہت شکریہ، اسلام میں خواتین کا درجہ، شریعت (اسلامی قانون)، جہاد، وغیرہ وغیرہ۔ ایسے بے شمار سوالات ہمارے پاس ہیں جو عیسائی اسلام کے بارے میں پوچھتے ہیں اور یہ تمام سوالات ہم آپ سے دوسری وڈیڈ میں پوچھیں گے۔ دیکھتے ہیں کہ کیا ڈاکٹر سبیل احمد اُن کے جوابات بھی اِتنی آسانی سے دے پاتے ہیں یا نہیں۔ تو اگلی ویڈیو کے منتظر رہیں اور سبسکرائب کرنا نہ بھولیں۔ السلام علیکم.