Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Yahoodi AI Vs Muslim AI – Hairatangez AI Munazra

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

اس مناظرے میں، ایک مسلمان AI اور ایک یہودی AI آمنے سامنے ہوں گے۔ آج ہم مذہبی تاریخ کے سب سے زیادہ زیرِ بحث سوالات میں سے ایک کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آپ دعوے اور جوابی دعوے، واضح ثبوت اور سنجیدہ چیلنجز سنیں گے۔ ہر جواب کا وقت صرف دو منٹ تک محدود ہوگا۔ آئیے مناظرے کا آغاز کرتے ہیں۔ درحقیقت ہمارا نقطۂ آغاز بہت حد تک مشترک ہے۔ ہم ایک ہی خدا پر ایمان رکھتے ہیں، ہم ایک ہی ابراہیم علیہ السلام کا احترام کرتے ہیں، اور ہم دونوں ہی موسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر مانتے ہیں۔ مگر ایک مقام پر ہمارے راستے الگ ہو جاتے ہیں۔ میرا بنیادی دعویٰ یہ ہے: خدائی ہدایت کسی ایک قوم سے شروع ہو کر وہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ اگر خدا پوری کائنات کا رب ہے، تو اُس کا پیغام بھی لازماً آفاقی ہونا چاہیے۔ یہودیت خدا اور بنی اسرائیل کے درمیان ایک خاص عہد و پیمان کی بات کرتی ہے۔ مگر میرا ایک سوال ہے کہ: خدا صرف ایک ہی قوم کے ساتھ عہد کیوں کرے؟ میرا مؤقف یہ ہے کہ: پہلا انسان ہی پہلا نبی تھا، چنانچہ ہدایت کا آغاز خود انسانیت سے ہوا۔ وحی کسی ایک قبیلے کی میراث نہیں ہے۔ وحی کسی ایک قوم کا مخصوص حق بھی نہیں ہے۔ یہ پوری انسانیت کا مشترکہ مقدر ہے۔ ہر قوم کی طرف ایک خبردار کرنے والا بھیجا گیا۔ لیکن یہودی روایت وحی کو بنیادی طور پر صرف بنی اسرائیل کی داستان کے پیرائے میں پیش کرتی ہے۔ پھر افریقہ میں بسنے والے معاشروں کا کیا؟ ایشیا کے کسی دور دراز گوشے کے قبیلوں کا؟ اور امریکہ کے قدیم باشندوں کا کیا؟ کیا خدا نے اُن سے کبھی کلام نہیں کیا؟ کیا خدا نے کبھی اُنہیں خیر و شر کی تمیز نہیں سکھائی؟ آج دنیا کی آبادی تقریباً آٹھ ارب ہے۔ یہودی آبادی صرف تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے، جوکہ کُل انسانیت کا تقریباً 0.2 فیصد بنتا ہے۔ اور قدیم دنیا میں بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہ تھی۔ ایک ہزار سال قبلِ مسیح کے لگ بھگ، عالمی آبادی کا تخمینہ اندازاً پانچ کروڑ لگایا جاتا ہے۔ تب بنی اسرائیل کی تعداد تقریباً پانچ لاکھ تھی، جوکہ پھر سے 1 فیصد سے کم بنتی ہے۔ انسانوں کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ پیغام محدود نہیں ہو سکتا۔ اگر خدا نے تمام انسانوں کو پیدا کیا مگر کلام صرف ایک قوم سے کیا، تو کیا ہم واقعی اُسے رب العالمین کہہ سکتے ہیں؟ یا پھر وہ محض ایک مخصوص قوم کا خدا بن کر رہ جائے گا؟ خدا کو کائناتی ماننے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ خدا نے ہر قوم کو بالکل ایک جیسا قانونی یا مذہبی نظام عطا کیا ہو۔ یہودیت کا یہ دعویٰ ہرگز نہیں ہے کہ خدا صرف اسرائیل کا خدا ہے۔ اِس کے برعکس، خدا کو زمین و آسمان کے رب کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ کیے گئے عہد کو خدا کی کائناتی حیثیت کے منافی نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ اِسے اِس طرح سمجھا جاتا ہے کہ خدا نے ایک مخصوص گروہ کو ایک خاص تاریخی کردار سونپا ہے۔ بظاہر یہ ایک طرح کا امتیاز محسوس ہوتا ہے، لیکن یہودی روایت میں اسے عموماً ایک اضافی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، جیسے کہ 613 احکامات (mitzvot)، جن پر عمل کرنا بنی اسرائیل کے لیے لازم ہے۔ باقی انسانیت کے لیے، کلاسیکی یہودی تعلیماتِ نوح کے احکامات کا ذکر کرتی ہیں۔ اُنہیں تمام انسانوں کے لیے ایک بنیادی اخلاقی ڈھانچہ تصور کیا جاتا ہے، جو عدل و انصاف کا نظام قائم کرنے، بت پرستی سے بچنے، قتل و غارت، چوری، جنسی بے حیائی، کفر اور زندہ جانور کا گوشت کھانے سے روکنے پر مبنی ہیں۔ یہ سات بنیادی اصول ہیں۔ چنانچہ یہودیت یہ نہیں کہتی کہ بنی اسرائیل کے علاوہ باقی تمام لوگ ہدایت سے محروم رکھے گئے تھے۔ بلکہ اِس کا موقف یہ ہے کہ کوہِ سینا پر خدا نے بنی اسرائیل کے لیے ایک کھلی وحی نازل فرمائی۔ مگر ہر قوم کا اُس مخصوص عہد و پیمان میں شامل ہونا مقصود نہیں تھا۔ پوری انسانیت کے لیے خدا نے ایک زیادہ بنیادی اخلاقی ضابطہ فراہم کر دیا تھا۔ تب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کو ایک اضافی قانون کیوں دیا گیا؟ یہودی نقطۂ نظر کے مطابق، طورِ سینا کا عہدنامہ بنیادی طور پر تمام انسانیت کو ایک کائناتی قانونی ضابطہ دینے کے بارے میں نہ تھا۔ اِس کے بجائے، اِس کا مقصد تاریخ کے ایک مخصوص گروہ کی ایسی اخلاقی تربیت اور تہذیب کرنا تھا، تاکہ خدا کی معرفت اور توحید کا اخلاقی تصور محفوظ رہ سکے، اُس پر عمل ہو اور اُس قوم کے ذریعے اُسے آگے بڑھایا جا سکے۔ آپ کہتے ہیں کہ اسرائیل کو ایک مثال بننا تھا، مگر کسی مثال کے واقعی با معنی ہونے کے لیے، یہ ضروری ہے کہ انسانیت کے ایک بڑے حصے کی اُس تک رسائی ہو۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پوری تاریخ میں دنیا کی تقریباً 90 فیصد آبادی کا بنی اسرائیل سے کبھی کوئی رابطہ ہی نہیں رہا۔ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ "منتخب کیا جانا ایک ذمہ داری ہے۔" مگر مخصوص انتخاب کا تصور ہمیشہ ہی برتری کا احساس پیدا کرتا ہے، اور یہ فطری طور پر ایک قوم اور باقی انسانیت کے درمیان دُوریاں پیدا کرتا ہے۔ اور اِس سے لازماً یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا کا تصور ایک قوم تک محدود ہو کر قبائلی عصبیت کا رنگ اختیار کر لے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام ایک بڑی تبدیلی متعارف کراتا ہے۔ قرآن فرماتا ہے، "بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہی ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔" نہ نسب، نہ قبیلہ اور نہ ہی خون کی بنیاد پر۔ مگر مسئلہ صرف ایک منتخب قوم کے تصور کا نہیں ہے۔ اصل گہرا مسئلہ یہ ہے کہ: خدا کے بارے میں آپ کا فہم، آپ کے پورے نظام کو ترتیب دیتا ہے۔ تورات کے موجودہ متن میں، ایک قصہ ہے جہاں خدا، یعقوب علیہ السلام کے ساتھ کُشتی لڑتا ہے۔ وہ صبح تک کشمکش میں رہتے ہیں اور پھر یعقوب سے کہا جاتا ہے کہ: "تمہارا نام اسرائیل ہوگا، کیونکہ تم نے خدا اور انسانوں کے ساتھ جدوجہد کی اور غالب رہے۔" ذرا ایک لمحے کے لیے اِس پر غور کیجیے، کیا ایک انسان جسمانی طور پر خدا کے ساتھ کُشتی لڑ سکتا ہے؟ کتابِ پیدائش (Genesis) کے ابتدائی صفحات ہی میں یہ بیان بھی موجود ہے کہ خدا اپنا کام مکمل کر کے آرام کرنے لگا۔ مگر آرام کا مطلب تھکن ہے، اور تھکن کا مطلب محدود ہونا ہے۔ یہ تصور خدا کو انسانی صفات کے دائرے میں لے آتا ہے۔ پھر طوفانِ نوح کے قصے میں متن کہتا ہے کہ خدا نادم ہوا یعنی پچھتایا یا اُسے رنج ہوا کہ اُس نے انسانوں کو پیدا کیا۔ مگر ندامت کا مطلب بعد میں اِس بات کا احساس ہونا ہے کہ کوئی کام توقع کے مطابق نہیں ہوا۔ خدا کی ذات کے لیے، بعد میں احساس ہونے جیسی کوئی چیز ممکن نہیں۔ جب خدا کو کسی ایک قوم کی تاریخی داستان میں اِس طرح کے انسانی نما مناظر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے، تو خدا کا تصور لازماً اُس قوم کی کہانی کے کسی کردار کی طرح دکھائی دینے لگتا ہے۔ قرآن ابتدا ہی سے ایک بہت واضح حدِ فاصل قائم کرتا ہے: خدا تھکتا نہیں ہے۔ خدا نادم نہیں ہوتا۔ خدا کو چیزوں کا علم بعد میں نہیں ہوتا، اور نہ ہی خدا اپنی مخلوق کے ساتھ کُشتی لڑتا ہے۔ یہودی صحیفوں میں، جنہیں عبرانی بائبل کہا جاتا ہے، اِس طرح کے فقروں کو عام طور پر دو طرح سے سمجھا جاتا ہے: یا تو تمثیلی زبان کے طور پر، یا پھر تعلیمی زبان کے طور پر، تاکہ انسان خدائی تصورات کو سمجھ سکیں۔ آپ کہتے ہیں کہ تھکن محدودیت کی علامت ہے، مگر یہودی تشریح اِس نتیجے پر نہیں پہنچتی کہ خدا حقیقی معنوں میں تھک گیا ہے۔ اس کے بجائے، وہ یہ کہتی ہے کہ خدا کے "آرام" کرنے کا تذکرہ انسانیت کو سبت کا تصور سکھانے کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یہی اصول اِن الفاظ پر بھی صادق آتا ہے کہ خدا نادم ہوا یا رنجیدہ ہوا۔ یہودی تفسیر میں، اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خدا کے علم میں کوئی تبدیلی آئی۔ بلکہ یہ بیان کرنے کا ایک انداز ہے کہ کس طرح انسانی افعال انسان اور خدا کے درمیان تعلق میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کو کسی بات کا احساس بعد میں ہوا، بلکہ یہ کہ جب انسانوں نے اپنا راستہ بگاڑ لیا، تو اخلاقی تعلق کی نوعیت بدل گئی۔ یعقوب علیہ السلام کے کُشتی لڑنے کا قصہ بھی اِسی طرح سمجھا جاتا ہے۔ یہودی تشریح عموماً اِسے خدا کی ذات کے ساتھ کسی حقیقی جسمانی کشمکش کے طور پر نہیں دیکھتی۔ اِس کے بجائے، اِسے اکثر کسی فرشتے یا کسی نمائندہ ہستی کے ساتھ ملاقات تصور کیا جاتا ہے۔ یہ یعقوب علیہ السلام کی اپنی تقدیر کے ساتھ ایک وجودی کشمکش یا اسرائیل کی تاریخی جدوجہد کا ایک علامتی آغاز تھی۔ آپ دلیل دیتے ہیں کہ یہ داستانیں خدا کو کہانی کا محض ایک کردار بنا دیتی ہیں۔ میرا جواب یہ ہوگا: متن کی زبان انسانی ہو سکتی ہے، مگر اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خود، خدا کا تصور انسانی صفات جیسا ہے۔ یہودیت میں، خدا کی ماورائیت (transcendence) ایک نہایت مرکزی خیال ہے۔ اور اِسے صحیح طور پر سمجھنے کے لیے آپ کو نہ صرف عبرانی بائبل پڑھنی ہوگی بلکہ اِس کے ساتھ جُڑی تشریح کی پوری روایت کا مطالعہ بھی کرنا ہوگا۔ یہ بھی سچ ہے کہ لوگ منتخب ہونے کے تصور کو آسانی سے برتری کے احساس میں بدل لیتے ہیں۔ یہودی تاریخ میں یقیناً ایسے لمحات آئے ہیں جب ایسا ہوا۔ مگر نظریاتی طور پر، منتخب ہونے کا مطلب بالکل مختلف ہے۔ اِس کا مطلب ہے زیادہ ذمہ داری اور زیادہ جوابدہی، زیادہ احکامات اور زیادہ فرائض۔ یہودیت غیر یہودیوں کو کسی درجے میں کم تر مخلوق قرار نہیں دیتی۔ لہٰذا، ضروری نہیں کہ منتخب ہونے کا تصور خدا کو کسی ایک نسل تک محدود کر دے۔ اکثر جو چیز اِسے محدود دکھاتی ہے وہ انسانی انا ہے، خود وہ مذہبی نظریہ نہیں۔ میرے خیال میں یہ فرق بہت اہم ہے۔ قرآن ایسی زبان ضرور استعمال کرتا ہے جو خدا کے پیغام کو انسانی سمجھ کے قریب لے آئے۔ مگر اِس زبان میں بھی، مخصوص حدود کو کبھی پار نہیں کیا گیا۔ خدا تھکتا نہیں ہے۔ خدا نادم نہیں ہوتا، اور نہ ہی وہ کسی ہستی کے ساتھ جسمانی کُشتی لڑتا ہے۔ تورات میں یعقوب (علیہ السلام) کے قصے کا جو انداز ہے، وہ محض ایک سادہ علامت کی طرح محسوس نہیں ہوتا۔ کہانی میں وقت، جگہ اور جسمانی کشمکش کی تفصیل موجود ہے۔ صرف چند آیات کے بعد، متن کہتا ہے: "چنانچہ یعقوب نے اُس جگہ کا نام پنی ایل (Peniel) رکھا اور کہا، 'یہ اِس لیے کہ میں نے خدا کو رُو برُو دیکھا، اور پھر بھی میری جان بچ گئی۔' " اِس مقام پر، اِس کہانی کو خالصتاً علامتی رنگ دینے کی کوشش نہایت دشوار ہو جاتی ہے، کیونکہ یہ محض میری تشریح نہیں، بلکہ الفاظ خود بول رہے ہیں۔ یہاں تک کہ اِس قصے میں، خود یعقوب علیہ السلام اِس کی وضاحت کر رہے ہیں۔ دو ہستیاں صبح تک کُشتی لڑ رہی ہیں۔ یہ محض علامتی زبان نہیں ہے۔ یہ ایک جسمانی تصادم کی طرح پڑھا جاتا ہے۔ مگر ایک اور فرق ہے جو اِس سے بھی کہیں زیادہ گہرا ہے۔ خدا کی طرف منسوب احکامات کی اخلاقی نوعیت۔ مثلاً، عبرانی بائبل میں، ایک منظر ہے جہاں خدا بنی اسرائیل کو حکم دیتا ہے کہ وہ عمالقہ کے خلاف جنگ کریں۔ مگر یہ ایک روایتی جنگی حکم کے طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے۔ متن کہتا ہے، "اب جاؤ اور عمالقہ پر حملہ کرو، اُن کے پاس جو کچھ بھی ہے اسے مکمل طور پر تباہ کر دو۔ اُن پر ترس مت کھاؤ۔ مردوں اور عورتوں، بچوں اور شیر خواروں، گائے بیل اور بھیڑ بکریوں، اونٹوں اور گدھوں کو قتل کر دو۔" اور یہاں ایک نہایت بنیادی اخلاقی سوال پیدا ہوتا ہے: ہم ایک ایسے حکم کو کیسے سمجھیں جس میں معصوم بچوں کا قتل شامل ہو؟ اور یہ واحد مثال نہیں ہے۔ کتابِ استثناء (Deuteronomy) میں، کنعانیوں کے مخصوص شہروں کے حوالے سے متن کہتا ہے، "کسی بھی سانس لینے والی شے کو زندہ نہ چھوڑو۔" اسلام میں، یہ حد بالکل واضح ہے۔ جنگ واقع ہو سکتی ہے، ہاں، مگر اِس کی حدود ہیں۔ معصوموں کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔ جب کلام شیر خوار بچوں سمیت پوری آبادیوں کی تباہی کو داستان کے مرکز میں رکھتا ہے، تو خدا کی تصویر ایک رحیم اور منصف ہستی کے بجائے، تباہی و بربادی کے کسی منظر کا مرکز بن کر ابھرنے لگتی ہے۔ کیا یہ واقعی حیرت انگیز ہے کہ آج کچھ لوگ بچوں کی موت پر بے حس ہو سکتے ہیں؟ جب لوگ غزہ میں سب کچھ ہوتا ہوا دیکھتے ہیں، تو بہت سے لوگ یہی سوال پوچھتے ہیں: معصوم بچوں کی زندگیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیسے کیا جا سکتا ہے جیسے اُن کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو؟ یہ ایک نہایت سنجیدہ سوال ہے، اور یہ خود یہودی روایت کے اندر بھی وسیع پیمانے پر زیرِ بحث آنے والے موضوعات میں سے ایک ہے۔ میں ایک اہم وضاحت سے آغاز کروں گا ۔ پہلی بات یہ کہ عمالقہ کی داستان کو یہودی روایت میں کسی عام جنگ یا جنگ و جدل کے کسی عمومی اصول کے طور پر نہیں سمجھا جاتا۔ عبرانی بائبل خود عمالقہ کو ایک بہت مخصوص انداز میں بیان کرتی ہے: ایک ایسی قوم کے طور پر جس نے بنی اسرائیل پر پیچھے سے حملہ کیا، اور خاص طور پر کمزوروں اور بے بسوں کو نشانہ بنایا۔ دوسرے لفظوں میں، متن عمالقہ کو محض ایک دشمن قوم کے طور پر نہیں، بلکہ مُنَظّم ظلم اور ناانصافی کی ایک علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہودی قانونی روایت آخرکار اِس نتیجے پر پہنچی کہ عمالقہ کے لوگوں کی تاریخی شناخت اب معلوم نہیں رہی۔ اِس وجہ سے، عمالقہ سے متعلق حکم کو آج کے دور میں عملی طور پر قابلِ اطلاق نہیں سمجھا جاتا۔ وسیع تر تناظر میں، اگرچہ عبرانی بائبل جنگ کے حوالے سے کچھ نہایت سخت باتوں پر مشتمل ہے، مگر یہودی قانون کی ترقی یافتہ شکل، یعنی Halakha، جنگ پر واضح حدود عائد کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، کسی شہر پر حملے سے پہلے امن کی پیشکش کرنا لازمی ہے۔ یہاں تک کہ جنگ کے دوران، درختوں کو گرانا ممنوع ہے، جو غیر ضروری تباہی کے خلاف ایک اصول کی عکاسی کرتا ہے۔ آخر میں، جب عبرانی بائبل میں خدا کے تصور پر بات کی جائے، تو صرف جنگی داستانوں پر توجہ مرکوز کرنا ادھورا پن ہوگا۔ اِسی متن میں عدل و انصاف اور رحم دلی کے بارے میں نہایت مضبوط اخلاقی تعلیمات بھی موجود ہیں۔ مثلاً، "اور تم اجنبی سے محبت کرو گے، کیونکہ تم خود سرزمینِ مصر میں اجنبی تھے۔" "انصاف کے طالب بنو، مظلوم کو سہارا دو، یتیم کا حق انصاف سے ادا کرو۔" "اے انسان، اُس نے تجھے بتا دیا ہے کہ بھلائی کیا ہے، اور رب تجھ سے کیا تقاضا کرتا ہے: سوائے اِس کے کہ انصاف کرو، رحم دِلانہ محبت کرو، اور اپنے خدا کے ساتھ عاجزی سے چلو۔" چنانچہ جب ہم وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہیں، تو عبرانی بائبل کی اخلاقی بنیاد عدل و انصاف اور رحم دلی ہی ہے۔ ایک متن تباہی و بربادی کی نہایت سخت زبان استعمال کرتا ہے، جس میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ پھر بعد میں، تشریحی روایت اِسے یہ کہہ کر نرم کرنے کی کوشش کرتی ہے کہ یہ علامتی ہے۔ اِس کا اطلاق آج کے دور میں نہیں ہو سکتا، یا یہ صرف ایک مخصوص معاملے تک محدود تھا۔ مگر اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کیا اِس کا اطلاق آج ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ سِرے سے ایسا حکم دیا ہی کیوں گیا؟ آپ کہتے ہیں کہ عمالقہ بہت شر پسند تھے۔ ٹھیک ہے، مگر کیا ایک بچہ شر پسند ہو سکتا ہے؟ ہر ظلم کا آغاز ایک مخصوص تشریح سے ہوتا ہے۔ پہلے، لوگ کہتے ہیں کہ یہ عام انسان نہیں ہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ یہ برائی کی علامت ہیں۔ تو کیا ہوگا اگر آج کوئی یہ کہے کہ یہ بھی عمالقہ کی طرح ہیں؟ یہ عام انسان نہیں ہیں۔ یہ برائی کے نمائندے ہیں۔ تب کیا ہوگا؟ کیا وہ متن جو خدا کے نام پر کلام کرتا ہے، واقعی ایسی زبان استعمال کرے گا جو خدا کے عدل کو اتنے شدید دباؤ میں ڈال دے؟ ذاتی طور پر، میں ایک ایسے دین کو زیادہ محفوظ پاتا ہوں جو معصوموں کی بلا استثناء حفاظت کرے، بہ نسبت ایسی زبان کے جو خدا کے نام پر اِس طرح کے ظلم کے دروازے کھلے چھوڑ دے۔ اسلام میں، یہ تضاد ابتدا ہی سے نظام کا حصہ نہیں ہے۔ ہاں، جنگ ہوتی ہے، مگر معصوم لوگوں کا تحفظ ایک واضح حد ہے۔ اور مسئلہ صرف جنگی متنوں (texts) کا ہی نہیں ہے۔ مسئلہ اُس انداز کا بھی ہے جس میں خدا اور ایک مخصوص قوم کے تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔ کیونکہ عبرانی بائبل میں، خدا اور اسرائیل کے درمیان تعلق کو اکثر باپ اور بیٹے کے استعارے سے بیان کیا جاتا ہے۔ مثلاً، اِس طرح کے فقرے ہیں جیسے کہ "اسرائیل میرا بیٹا ہے، میرا پہلوٹھا۔" اور یہ بھی کہ: "تم خداوند یعنی اپنے خدا کی اولاد ہو۔" اب، میں جانتا ہوں کہ آپ کیا کہیں گے۔ یہ حیاتیاتی نہیں ہے، بلکہ استعارہ ہے۔ درست، مگر پھر بھی، یہ فطری طور پر ایک ایسا ڈھانچہ تشکیل دیتا ہے جہاں ایک قوم کو خدا کی اولاد کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اور جب خدا اور ایک قوم کے تعلق کو اِس قدر قربت سے بیان کیا جائے، تو خدا کا دشمن اور اُس قوم کا دشمن آپس میں گڈ مڈ ہونا شروع ہو سکتے ہیں۔ خدا کی جنگ اور اُس قوم کی جنگ ایک ہی چیز دکھائی دینے لگتی ہے۔ اور تب، خدا کے نام پر، مکمل تباہی جیسے نہایت سخت الفاظ ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اسلام میں، خدا اور انسانوں کے درمیان اِس طرح کی باپ بیٹے والی زبان موجود نہیں ہے۔ تو کون سی زبان زیادہ محفوظ ہے؟ ایسی زبان جو خدا کو ایک مخصوص قوم کا باپ قرار دے، یا ایسی زبان جو خدا کو تمام انسانیت کا پروردگار بیان کرے؟ یہودی روایت میں، یہ دونوں تصورات ایک دوسرے سے الٹے نہیں سمجھے جاتے۔ عبرانی بائبل میں، خدا کو صرف اسرائیل کے خدا کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ خدا کو پوری کائنات کے رب کے طور پر بھی بیان کیا گیا ہے۔ "اسرائیل میرا بیٹا ہے" جیسے فقرے حیاتیاتی رشتہ داری کا دعویٰ نہیں ہیں۔ جب ایک استاد اپنی کلاس کو "میرے بچو" کہتا ہے، تو کوئی بھی اُسے حقیقی حیاتیاتی رشتہ تسلیم نہیں کرتا۔ یہاں بھی زبان اِسی طرح کام کرتی ہے۔ درحقیقت، اِس زبان کا مقصد استحقاق جتانا نہیں بلکہ ذمہ داری کا احساس دلانا ہے۔ عبرانی بائبل میں، اسرائیل کو دیا گیا پیغام اکثر کچھ اِس طرح ہوتا ہے: چونکہ تم خدا کو جانتے ہو، اِس لیے تم پر ذمہ داری زیادہ ہے، اور جب تم ناکام ہوتے ہو، تو تمہارا محاسبہ بھی زیادہ سختی سے کیا جاتا ہے۔ مگر میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ آپ نے کہا کہ خدا تھکتا نہیں ہے، نادم نہیں ہوتا، اور اُسے کسی بات کا علم بعد میں نہیں ہوتا۔ ٹھیک ہے، تو یہ بات ہمیں ایک نہایت اہم سوال کی طرف لے آتی ہے۔ اگر خدا کی ذات میں تبدیلی نہیں آتی، تو خدا کے احکامات کیوں بدل جاتے ہیں؟ کیونکہ اسلام میں، جہاں تک میں سمجھا ہوں، خدا نے پوری تاریخ میں مختلف معاشروں کی طرف مختلف انبیاء بھیجے۔ اور اہم مرحلوں پر وہ ہدایت مختلف قانونی شکلیں اختیار کرتی رہی، یہاں تک کہ اسلام میں، محمد (ﷺ) اور قرآن کے ساتھ یہ اپنی حتمی اور کائناتی صورت کو پہنچ گئی۔ اگر خدا کا علم لامحدود ہے، اور اگر خدا آغاز ہی سے انسانی فطرت سے واقف تھا، تو انسانیت کو شروع ہی سے ایک حتمی اور کائناتی قانون کیوں نہیں دیا گیا؟ طورِ سینا پر دی گئی تورات کو ایک ایسی شے سمجھا جاتا ہے جس میں تبدیلی ممکن نہیں، نہ کوئی اضافہ اور نہ کوئی کمی۔ تورات میں عہدنامے کی زبان اُسے دائمی اور لازم العمل قرار دیتی ہے۔ آپ اسلام میں نسخ (منسوخ کرنے) کے تصور کی وضاحت کیسے کریں گے، جہاں کچھ احکامات کو وقت کے ساتھ بدل کر دوسرے احکامات لائے گئے؟ کیا اِس سے خدا کی ہدایت میں تبدیلی کا تأثر پیدا نہیں ہوتا؟ اور اگر ایسا ہے، تو کیا اِس سے خود خدا کے تصور میں بھی ایک کھچاؤ پیدا نہیں ہوتا؟ جواب بالکل واضح ہے۔ خدا کی ذات میں تبدیلی نہیں آتی، مگر پیغام وصول کرنے والے انسان بدلتے رہتے ہیں، اور اُن کے حالات بھی بدلتے رہتے ہیں۔ خدا بالکل آغاز سے ہی ہر چیز جانتا ہے، مگر اِس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ لوگوں کو سب کچھ ایک ساتھ ہی دے دے۔ ایک سادہ سی مثال لیجیے۔ ایک استاد شروع سے ہی پورے کورس کا علم رکھتا ہے، مگر پہلی جماعت کے طالب علم کو یونیورسٹی کی سطح کی ریاضی نہیں پڑھائی جاتی۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ استاد نے اپنا ذہن بدل لیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ طالب علم کی تربیت قدم بہ قدم کی جا رہی ہے۔ اِسی طرح، احکامات بتدریج نازل ہوئے کیونکہ انسانی حالات اور انسانی صلاحیتیں رفتہ رفتہ پروان چڑھتی ہیں۔ انسانیت کوئی ایک واحد تہذیب نہیں تھی۔ لوگ ایک دوسرے سے الگ تھلگ دنیاؤں میں چھوٹے چھوٹے قبائل کی صورت میں رہتے تھے۔ وہ ثقافتی اور ذہنی طور پر بالکل مختلف سطحوں پر تھے۔ وہاں قبائلی نظام تھے، شہروں کی ریاستیں تھیں، اور بالکل مختلف سماجی ڈھانچے اور طرزِ زندگی پائے جاتے تھے۔ چنانچہ یہ بات بالکل منطقی معلوم ہوتی ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف قوموں کی طرف الگ الگ انبیاء بھیجے گئے۔ مگر وقت کے ساتھ انسانیت بدل گئی۔ آخرکار یہ اُس مقام پر پہنچ گئی جہاں اِسے ایک مشترکہ پیغام دیا جا سکتا تھا۔ اور عملی طور پر، یہودیت بذاتِ خود اِس طرح کام نہیں کرتی کہ، "ہم صرف ایک واحد متن پر جمے رہے اور بس یہی سب کچھ تھا۔" جب آپ عبرانی بائبل میں خود اپنی داستان دیکھتے ہیں، تو آپ کو مختلف عہد و پیمان نظر آتے ہیں جو خدا نے لوگوں سے کیے۔ مثلاً، حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ عہدنامہ ہے۔ وہاں احکامات نہایت بنیادی ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ عہدنامہ آتا ہے، اور اُس عہدنامے کے ساتھ ایک نئی مذہبی ذمہ داری ظاہر ہوتی ہے: ختنہ۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ طورِ سینا کا عہدنامہ آتا ہے۔ یہاں، یہ پورا معاملہ ایک بالکل مختلف سطح پر چلا جاتا ہے۔ ایک کافی زیادہ تفصیلی قانونی نظام سامنے آتا ہے۔ استاد والی مثال قابلِ فہم ہے، مگر یہودی نقطۂ نظر سے، اصل مسئلہ یہاں پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک استاد طلبہ کو ریاضی پڑھاتا ہے، تو وہ بعد میں سابقہ علم کو منسوخ نہیں کرتا۔ ایک طالب علم جو جمع کرنا سیکھتا ہے، وہ یونیورسٹی پہنچ کر یہ نہیں کہتا، کہ اب جمع کرنے کا عمل مستند نہیں رہا۔ علم وسیع اور گہرا ہو سکتا ہے، مگر بنیادی اصول ختم نہیں کیے جاتے۔ اور ہاں، یہ سچ ہے کہ مختلف عہد و پیمان موجود ہیں۔ مگر یہودی تشریح میں، یہ عہدنامے ایسے نظام نہیں ہیں جو ایک دوسرے کو منسوخ کر دیں۔ خدا اُس عہدنامے کو منسوخ نہیں کرتا جو اُس نے نوح (علیہ السلام) سے کیا تھا۔ وہ اس عہدنامے کو بھی منسوخ نہیں کرتا جو اُس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے کیا تھا۔ طورِ سینا پر دیا گیا قانون اُن کے اوپر اضافے کے طور پر آتا ہے۔ مگر اُس ماڈل میں جو آپ بیان کر رہے ہیں، جب حتمی پیغام آ جاتا ہے، تو سابقہ قوانین کو ایسا سمجھا جاتا ہے جیسے اب اُن پر عمل لازم نہیں رہا۔ اِس فریم ورک میں، موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا قانون ایک عمل کے صرف ایک مرحلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اور پھر بعد میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مکمل ہو گیا اور اُسے ایک طرف رکھ دیا گیا۔ تو، ایک یہودی کی حیثیت سے، میرا سوال یہ ہے: اگر وہ عہد جو خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا، خود متن میں دائمی اور مستقل الفاظ میں بیان ہوا ہے، تو پھر یہ دونوں دعوے ایک ہی وقت میں کیسے درست ہو سکتے ہیں؟ اُس عہدنامے کو ہمیشہ رہنے والا بنا کر کیسے پیش کیا جا سکتا ہے، جبکہ بعد میں آنے والی وحی یہ کہے کہ وہ احکامات اب لاگو نہیں ہوتے؟ یہاں ایک دلچسپ منطقی مسئلہ ہے۔ آپ ماضی سے مستقبل کی طرف اِس عمل کو دیکھ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ: نوح سے ابراہیم اور پھر موسیٰ تک، یہ منسوخی نہیں ہے بلکہ تہہ در تہہ اضافہ ہے۔ مگر جب آپ اِسی عمل کو مستقبل سے ماضی کی طرف دیکھتے ہیں، تو یہ وضاحت کام نہیں کرتی۔ کیونکہ کچھ چیزیں جو شریعتِ موسوی میں ممنوع تھیں، وہ پہلے کے ادوار میں جائز تھیں۔ چنانچہ ایک چیز جو ایک دور میں جائز تھی وہ دوسرے دور میں ممنوع ہو جاتی ہے۔ آپ اِسے منسوخی کہیں، تہہ در تہہ اضافہ، یا پھر ارتقاء کہیں۔ نام سے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل نکتہ یہ ہے: وحی کا مقصد صرف قوانین دینا نہیں ہے، بلکہ اِس کا مقصد لوگوں کی تربیت کرنا اور معاشرے کو بدلنا ہے۔ کسی مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کے بارے میں سوچیں۔ ایک ڈاکٹر تمام ادویات ایک ہی وقت میں نہیں دے دیتا۔ پہلے وہ ایک دوا دیتا ہے۔ پھر، مریض کی حالت کو دیکھتے ہوئے، وہ کسی دوسری دوا کا اضافہ کر سکتا ہے۔ بعض اوقات جس چیز کی پہلے اجازت تھی، بعد میں ممنوع ہو جاتی ہے۔ مرحلہ وار علاج کی صورت کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔ اِسی طرح، خدا انسانیت کی تربیت قدم بہ قدم کرتا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خود عبرانی بائبل بھی ایک ایسے عہدنامے کا ذکر کرتی ہے جو طورِ سینا کے عہدنامے سے مختلف ہوگا۔ یرمیاہ (چیپٹر 31) کچھ اِس طرح کہتا ہے: "وہ دن آنے والے ہیں جب میں بنی اسرائیل کے ساتھ ایک نیا عہد کروں گا۔ یہ اُس عہد جیسا نہیں ہوگا جو میں نے اُس وقت اِن کے باپ دادا سے کیا تھا جب میں اُنہیں مصر سے نکال کر لایا تھا۔" چنانچہ اگر خدا نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نئی ہدایت بھیجنے کا ارادہ کیا تھا، تو یہ کیوں کر ناممکن ہے کہ یہ ہدایت پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے آئی ہو؟ ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو محض یہ کہہ کر مسترد نہیں کرتے کہ "یہ ضابطہ مختلف ہے" یا "وہ قانون الگ ہے"۔ زیادہ گہرا مسئلہ یہ ہے: کوہِ سینا کے عہدنامے کے بعد، یہودیت کسی ایسی نئی کائناتی نبوی اتھارٹی کے تصور کو قبول نہیں کرتی جو بنی اسرائیل پر لازم اُس عہدنامے کو منسوخ کر دے یا اُس سے بالاتر ہو۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ، "وہ ایک عظیم رہنما ہو سکتے تھے، اُنہوں نے ایک طاقتور اخلاقی پکار بلند کی ہوگی، اور اُنہوں نے کئی اقوام کو خدا پر ایمان لانے کی طرف مائل کیا ہوگا۔" مگر ایک یہودی ذہن کے لیے اصل سوال محض یہ نہیں ہے کہ "کیا وہ ایک اچھے انسان تھے؟" سوال یہ ہے: جب کوئی ظاہر ہو کر یہ کہتا ہے، "میں خدا کی طرف سے ایک نیا اور کائناتی پیغام لایا ہوں،" تو فوری طور پر کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ یہ پیغام خود اسرائیل کی اپنی نبوی روایت کے اندر سے کیوں نہیں آتا؟ کیا یہ کوہِ سینا کی وحی سے بالاتر ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے؟ اور ایسی ہستی وہ اختیار کہاں سے پائے گی کہ اُس عہدنامے کو کالعدم قرار دے دے جو خدا پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ کر چکا ہے؟ یہودی نقطۂ نظر میں، بعد میں آنے والا نبی لوگوں کو خدا کی طرف بلا سکتا ہے اور اخلاقی طور پر خبردار کر سکتا ہے۔ لیکن اگر کوئی لوگوں کو ایسے راستے کی طرف بلائے جو تورات کے قانون سے مختلف ہو، تو اُس شخص کو نبی کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا، چاہے وہ معجزات ہی کیوں نہ دکھائے۔ تورات خود اِس اصول کو واضح طور پر بیان کرتی ہے: "جس بات کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں تم اس میں اضافہ نہ کرو اور نہ اس سے ہٹو۔" یہودیت کے لیے، محمد (ﷺ) کو نبی تسلیم کرنے کے لیے بنیادی طور پر اُس انداز کو بدلنا پڑے گا جیسا یہودیت خود کو اور طورِ سینا کے اپنے عہدنامے کو سمجھتی ہے۔ یہودی روایت اِس تبدیلی کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔ یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ یہودیت نجات کے ایسے ماڈل پر کام نہیں کرتی جو یہ کہتا ہو کہ "ہر ایک کو یہودی بننا ضروری ہے"۔ یہودی فکر میں، ایک غیر یہودی جو اُن بنیادی اخلاقی اصولوں کے مطابق زندگی گزارتا ہے جن کی خدا انسانیت سے توقع رکھتا ہے، اُسے اب بھی خدا کے ہاں اجر کا حقدار تسلیم کیا جاتا ہے۔ کیا خدا نے کلام کرنا چھوڑ دیا، یا آپ نے سننا چھوڑ دینے کا فیصلہ کر لیا؟ آپ اِسے بالکل آغاز سے ہی مسترد کر دیتے ہیں۔ آپ ثبوتوں کو نہیں دیکھتے۔ آپ مواد پر نظر نہیں ڈالتے۔ یہ کیوں ناممکن ہونا چاہیے کہ ایک نیا نبی بنی اسرائیل کی نسل کے باہر سے آ جائے؟ خدا کو ایک پیغمبر بھیجنے کے لیے کسی نسلی اجازت نامے کی ضرورت کیوں ہوگی؟ کتابِ استثناء (Deuteronomy) میں لکھا ہے، "اس میں نہ کچھ بڑھانا اور نہ ہی کچھ کم کرنا،" مگر اِس آیت کا فطری مفہوم یہ ہے: انسانوں کو اپنے خیالات کے ذریعے وحی میں تبدیلی نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اگر خدا خود نئی وحی بھیجتا ہے، تو وہ اضافہ نہیں ہے۔ وہ تو خدا کی طرف سے ایک نیا پیغام ہے۔ تو پھر ہمیں عبرانی بائبل کے اِس جیسے اقتباسات کو کیسے سمجھنا چاہیے: "خداوند طورِ سینا سے آیا اور سعیر سے اُن پر چمکا؛ وہ کوہِ فاران (Mount Paran) سے ظاہر ہوا۔" یہاں تین مقامات کا ذکر ہے، اور وحی کو طلوع ہوتی ہوئی روشنی کی طرح بیان کیا گیا ہے۔ طورِ سینا سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) کی وحی، سعیر سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیغام کی نمائندگی، اور فاران وہ مقام ہے جہاں اسماعیل (علیہ السلام) آباد ہوئے تھے۔ اور وہ کون سا پیغمبر ہے جو فاران کی سرزمین میں ظاہر ہوا اور جس کا پیغام پوری دنیا میں پھیل گیا؟ وہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اب یسعیاہ (Isaiah) چیپٹر 42 کو دیکھیں: "صحرا اور اُس کی بستیاں اپنی آوازیں بلند کریں؛ قیدار کی بستیوں میں رہنے والے خوشی منائیں۔" عبرانی بائبل میں، قیدار حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا بیٹا اور عرب قبائل کا جدِ امجد ہے۔ اِسی چیپٹر میں ہم پڑھتے ہیں، "دیکھو یہ میرا بندہ ہے، جسے میں سنبھالتا ہوں، میرا چُنا ہوا۔۔۔ میں اپنی روح اِس میں ڈالوں گا، اور یہ قوموں میں عدل قائم کرے گا۔" اور یہ بھی کہ، "میں خداوند ہوں؛ یہی میرا نام ہے!

میں اپنا جلال کسی دوسرے کو یا اپنی حمد بتوں کو نہیں دوں گا۔" صدیوں تک، جزیرہ نما عرب، بت پرستی کا ایک مرکز رہا تھا۔ تو وہ کون سا شخص تھا جو اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے آیا، جس نے بتوں کو پاش پاش کیا، خالص توحید کو بحال کیا، اور جس کا پیغام تیزی سے بہت سی قوموں تک پھیل گیا؟ وہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اُنہیں بالکل آغاز ہی سے مسترد کر دینے کے بجائے، کیا کم از کم سنجیدگی سے اِس کا جائزہ نہیں لیا جانا چاہیے؟ یہودی AI، اپنا آخری دفاع پیش کریں۔ بحث اب ختم ہونے والی ہے۔ یہودی فکر میں، نبوت کے دعوے کی جانچ پرکھ کا ایک طریقۂ کار موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ دعویٰ عبرانی بائبل کے اپنے فریم ورک کے اندر پورا اترتا ہے یا نہیں۔ اب، اُن اقتباسات کی طرف آتے ہیں جن کا آپ نے ذکر کیا۔ کتابِ استثناء 33 میں یہ جملہ کہ "خداوند طورِ سینا سے آیا، سعیر سے طلوع ہوا، اور فاران سے جلوہ گر ہوا،" عام طور پر یہودی تشریح میں کسی جغرافیائی نقشے کے طور پر نہیں سمجھا جاتا، بلکہ طورِ سینا پر خدا کی وحی کی جلالت کے ایک شاعرانہ بیان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اِس متن کو عام طور پر ایسی زمانی پیشگوئی کے طور پر نہیں پڑھا جاتا جو تین مختلف انبیاء کی طرف اشارہ کر رہی ہو۔ عبرانی بائبل میں، خدا کی آمد کو اکثر روشنی، جلال اور فطرت کے استعاروں سے بیان کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اِسے نبوی جانشینی کے نقشے کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہی بات یسعیاہ 42 (Isaiah 42) پر بھی پوری اترتی ہے۔ یہودی تشریح میں، اِس چیپٹر میں بیان کردہ بندے کے لفظ سے اکثر خود بنی اسرائیل کی قوم ہی مراد لی جاتی ہے۔ عبرانی بائبل میں دیگر مقامات پر بھی خدا کا بندہ کی اصطلاح براہِ راست اسرائیل کے لیے استعمال ہوئی ہے۔ لہٰذا ایک یہودی قاری عام طور پر اِس عبارت کو کسی مخصوص عرب نبی کے بارے میں ایک چُھپی ہوئی پیشگوئی کے طور پر نہیں دیکھتا۔ بلکہ اِسے اُس تاریخی مشن کی وضاحت کے طور پر سمجھتا ہےجو خدا نے اسرائیل کو عطا کیا تھا۔ جہاں تک قیدار کے ذکر کا تعلق ہے، تو اُسے عموماً ایک شاعرانہ پکار کے طور پر پڑھا جاتا ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ خدا کا عدل نہ صرف اسرائیل تک پہنچے گا، بلکہ گرد و نواح کی دیگر قوموں تک بھی جائے گا۔ لہٰذا، یہاں بنیادی فرق یہ ہے۔ آپ ان متنوں کو بعد میں آنے والی ایک تاریخی شخصیت کی روشنی میں دوبارہ پڑھ رہے ہیں۔ دوسری طرف، یہودی روایت اِس متن کو اُس کے اپنے تاریخی ماحول اور کلاسیکی تشریحات کے دائرے میں سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اور یہی بات ایک اہم سوال کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر عبرانی بائبل نے واقعی محمد (ﷺ) کی اتنی واضح پیشگوئی کی تھی، تو اُن یہودی برادریوں نے، جنہوں نے سب سے پہلے یہ متن پڑھے اور جو اپنی زبان کے ماہر تھے، اُنہوں نے اِسے اُس طرح کیوں نہیں سمجھا؟