Musa Qur'an mein aur Injil mein–kaunsa zyada tareekhi tor par waazeh hai? Hairat angez inkishaafaat!
تاریخ اشاعت
اُس صبح مصر کی آنکھ ایک ڈراؤنے خواب سے کھلی۔ گھروں سےایک کے بعد ایک چیخیں بلند ہونے لگیں تھیں۔ سپاہی لاتیں مار کر دروازے کھول رہے تھے اور ماؤں سے ان کے بچے زبردستی چھین کر لے جا رہے تھے۔ خدارا، اسے ہاتھ مت لگانا یہ تو صرف ایک دن کا ہے۔ مائیں رو رہی تھیں، گڑگڑا رہی تھیں لیکن کوئی نہیں سن رہا تھا۔ باپ بے بس تھے اور بھائی خوفزدہ تھے۔ یہ ایک قتلِ عام تھا جس کا حکم فرعون نے دیا تھا۔ وہ تمام بچے مظلوم ایمان والوں کے بیٹے تھے۔ ابھی تو ان کے نام بھی نہیں رکھے گئے تھے۔ ایک ماں، اپنے بچے کو گود میں لیے کانپ رہی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی بھی باری نہ آ جائے لیکن اللہ، اس بچے کو اس افراتفری سے بچانے والا تھا ایک بالکل غیر متوقع طریقے سے اور مصر کا مستقبل بدلنے والا تھا۔ تو آخر فرعون نے اتنا ناقابلِ
تصور ظالمانہ حکم کیوں دیا؟ وہ ان بچوں سے اتنا کیوں ڈرتا تھا جو ابھی چلنے کے بھی قابل نہیں تھے؟ ایک ڈراؤنا خواب۔ اس نے اپنی سوچ کے مطابق منصوبہ ترتیب دیا لیکن اللہ کا اپنا ایک منصوبہ تھا۔ جو کسی کی بھی سوچ سے کہیں بڑھ کر تھا۔ اور اس طرح موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان کشمکش کا آغاز ہونا تھا۔ یہ تاریخ کی سب سے عظیم داستانوں میں سے ایک ہے۔ ایک ایسے نبی کی کہانی جنہیں دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی مانتی ہے۔ لیکن اسلام میں ان کا قصہ دوسرے مذاہب میں بیان کی گئی کہانیوں سے مختلف ہے۔ آج ہم ان کی زندگی کے واقعات کو قرآن اور بائبل کے نقطہ نظر سے دیکھیں گے۔ اور ان کی مماثلتوں اور اختلافات کا موازنہ کریں گے۔ ہم یہ بھی جانیں گے کہ کون سا قصہ تاریخی حقائق سے زیادہ قریب ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کا ورثہ۔
جنہیں موزز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ان کے معجزات محل میں گزارے ہوئے سال جادوگروں کے ساتھ ان کا مقابلہ فرعون کا ظالمانہ نظام اور اس کا حتمی انجام۔ اگر آپ تیار ہیں، تو شروع کرتے ہیں۔ یروشلم سے آتی ہوئی ایک بہت بڑی آگ نے مصر کو گھیر لیا جو اُس کے گھروں اور لوگوں کو جلا رہی تھی۔ لیکن اس نےبنی اسرائیل کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ آگ تو تھی لیکن انہیں جلا نہیں رہی تھی۔ فرعون دہشت سے بیدار ہوا پسینے میں شرابور اور سانس پھولی ہوئی تھی۔ یہ ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ اس نے فوراً حکم دیا "کاہنوں کو بلایا جائے فوراً !" وہ جلد از جلد اپنے خواب کی تعبیر جاننا چاہتا تھا۔ اور جب کاہن آئے تو انہوں نے کہا ایک بچہ پیدا ہوگا جو کہ بنی اسرائیل کی قوم میں سےہوگا اور وہ خاتمہ کرے گا فرعون کی حکومت کا۔ اس کا فیصلہ واضح
تھا۔ کہ اس بچے کو مارنا ہی ہوگا۔ چنانچہ اُس صبح بنی اسرائیل کی آنکھ قتلِ عام سے کھلی۔ کہانی کا یہ حصہ اسلامی ذرائع میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ تاہم، عہد نامہ قدیم میں قتلِ عام کی وجہ فرعون کا یہ خوف تھا کہ ایک دن بنی اسرائیل اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور لڑیں گے۔ فرعون ایک خود پسند، مغرور اور ظالم حکمران تھا جو خدا ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ وہ اپنے مفادات کے لیے کچھ بھی کر گزر سکتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ لڑکوں کو مارنے سے اس کی بادشاہت محفوظ رہے گی۔ لیکن وہ یہ بات نہیں جانتا تھا کہ ہر چال کے لیے اللہ کا اپنا منصوبہ ہوتا ہے۔ اللہ اسی بچے کو جسے فرعون شدت سے ڈھونڈ رہا تھا سیدھا اس کے اپنے محل میں لانے والا تھا اور اسی کے ہاتھوں اس بچے کی پرورش کروانے والا تھا۔ انسان چاہے کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ
ہو جب اللہ اس کی بصیرت چھین لیتا ہے تو وہ اپنے سامنے کی چیز بھی نہیں دیکھ پاتا۔ لیکن یہ سب ہونا کیسے تھا؟ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ خوف میں دعا کر رہی تھیں انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام ان کی مدد فرمائی۔ اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی کی کہ اسے دودھ پلاؤ۔ اور جب تمہیں ڈر لگے تو اسے دریا میں ڈال دینا اور نہ ڈرنا نہ غم کرنا۔ ہم اسے یقیناً تمہارے پاس واپس لائیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنائیں گے۔ ذرا سوچئے، کیا آپ اپنے بچے کو ٹوکری میں رکھ کر دریا میں بہا سکتے ہیں؟ بظاہر یہ ایک بہت بڑا خطرہ لگتا تھا لیکن اللہ کی دی ہوئی خبر نے ان کے دل کو سکون بخشا۔ انہوں نے بھروسہ کیا اور اپنے بچے کو ایک ٹوکری میں ڈال کر دریا میں بہا دیا۔ انہوں نے اپنی بیٹی مریم کو بھیجا کہ
وہ دور سے اس پر نظر رکھے۔ اور اللہ، جو ہر لہر کو ایک مقصد کے ساتھ حرکت دیتا ہے اسے دریا کے ذریعے فرعون کے محل تک لے گیا۔ اور جس نے اسے اٹھایا وہ کوئی اور نہیں بلکہ فرعون کی اپنی بیوی، آسیہ تھیں۔ آسیہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ جب انہوں نے ٹوکری میں اس خوبصورت بچے کو دیکھا تو ان کا دل ایسے دھڑکا جیسے پہلے کبھی نہیں دھڑکا تھا۔ انہوں نے فرعون سے کہا، "یہ بچہ میرے اور تمہارے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو۔ شاید یہ ہمارے کام آ جائے یا شاید ہم اسےاپنا بیٹا بنا لیں۔ وہ دونوں آنے والے کل سے بے خبر تھے۔ تاہم، عہد نامہ قدیم کی کتاب Exodusکے مطابق بچے کو فرعون کی بیوی نے نہیں بلکہ اس کی بیٹی نے اٹھایا تھا۔ چنانچہ فرعون بچے کو رکھنے پر راضی ہو گیا۔ لیکن ایک مسئلہ تھا۔ بچہ رو رہا تھا اسے دودھ پلانے
کی ضرورت تھی۔ لیکن جتنی بھی عورتوں کو لایا گیا اس نے کسی کا بھی دودھ نہیں پیا۔ یہاں تک کہ اس کی بہن، جو چھپ کر دیکھ رہی تھی، آگے بڑھی اور بولی کیا میں آپ کو ایک ایسے خاندان کا بتاؤں جو اس کی دیکھ بھال کرے گا؟ پھر وہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے موسیٰ کی والدہ تک پہنچ گئے۔ تو ایک بار پھر، انہوں نے اپنے بچے کو دودھ پلایا۔ وہ اپنے بیٹے سے دوبارہ مل گئیں۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ حقیقت میں کون ہیں۔ لیکن اس وجہ سے، وہ ایک طویل عرصے تک اپنے بچے کے ساتھ رہ سکیں۔ اللہ نے ان سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دیا تھا۔ اب یہ وہ وقت تھا کہ اللہ اپنا دوسرا وعدہ سچ کر دکھائے۔ اور ہم اسے رسولوں میں سے ایک بنائیں گے۔ اب ہم تیزی سے کئی سال آگے چلتے ہیں جب فرعون کے خلاف ان کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے۔ وقت گزرتا گیا انہوں
نے محل کے اندر ہی پرورش پائی۔ لیکن انہوں نے کبھی خود کو باہر کی دنیا سے الگ نہیں کیا۔ وہ دیکھتے تھے کہ دیواروں کے پار لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے محل میں اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کی۔ فوجی قیادت سے لے کر لوگوں کو سنبھالنے تک سماجی مہارتوں سے لے کر ذاتی اخلاقیات تک انہیں کئی شعبوں میں تربیت دی گئی اور وہ ہنر اور کردار دونوں میں بڑھے۔ ان کے ضمیر کی بدولت ان کے آس پاس کی بری مثالیں بھی ان کے لیے سبق بن گئیں۔ ایک خراب ماحول میں پرورش پانے کے باوجود، وہ گناہ سے دور رہے۔ کبھی کبھی، وہ محل سے نکل کر اپنی قوم بنی اسرائیل پر ہونے والے ظلم کو دیکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے ظلم کا مشاہدہ کیا۔ ان تجربات نے ان کے اردگرد کی دنیا کے بارے میں ان کی سمجھ کو تشکیل دیا۔ یہاں تک کہ ایک دن، ایک پریشان
کن واقعے نے انہیں مصر سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ وہ تقریباً مارے جانے والے تھے۔ آٹھ دن تک، وہ صحراؤں اور ویران زمینوں سے گزرتے رہے بغیر کچھ کھائے پیئے۔ آخر کار، وہ مدین کی سرزمین پہنچے اور وہاں آٹھ سے نو سال رہے۔ اسلامی ذرائع کے مطابق، وہ حضرت شعیبؑ کے ساتھ رہے اور ان سے تعلیم حاصل کی۔ لیکن عہد نامہ قدیم کے مطابق وہ جیتھرو نامی ایک کاہن کے ساتھ رہے۔ کہانی کے دونوں ورژن میں وہ مسلسل سیکھتے اور بڑھتے رہے۔ اب، آئیے فرعون کے ساتھ ان کی منفرد جدوجہد کے آغاز کی طرف بڑھتے ہیں اس لمحے کی طرف جب انہیں پہلی وحی ملی اور اس ظالم حکمران کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات ہوئی ہم اب اس رات میں ہیں۔ وہ رات جس نے حضرت موسیٰ کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دیا۔ یہ ایک بہت تاریک سرد اور خاموش رات تھی۔ موسیٰ علیہ السلام
اپنے خاندان کے ساتھ صحرا سے گزر رہے تھے لیکن انہیں نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔ وہ ٹھنڈ میں تھے اور اندھیرے میں ہچکچاتے قدموں سے آگے بڑھ رہے تھے۔ پھر اچانک، انہوں نے کچھ ایسا دیکھا جس نے ان کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا کچھ فاصلے پر ایک درخت جل رہا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر آگ درخت کو نہیں جلا رہی تھی۔ نہ ہوا اسے بجھا پا رہی تھی،اور نہ ہی اس کا دھواں آسمان کی طرف اٹھ رہا تھا۔ انہیں اس کی طرف ایک عجیب سی کشش محسوس ہونے لگی اور محسوس ہوا کہ ضرور کچھ ہونے والا ہے۔ اور پھر، وہ آواز آئی۔ اے موسیٰ، بے شک میں ہی اللہ ہوں تمام جہانوں کا رب۔ کہانی کے دونوں ورژنز کے مطابق موسیٰ علیہ السلام کو ایک پراسرار آگ کے واقعے کے دوران ان کا مشن دیا گیا جو عہد نامہ قدیم میں ایک جھاڑی میں اور قرآن میں ایک
درخت میں نظر آئی۔ میں تمہارے باپ کا خدا ہوں ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا۔ اور ان سے کہا گیا "اپنی لاٹھی نیچے پھینکو۔" لیکن جب انہوں نے اسے سانپ کی طرح حرکت کرتے دیکھا تو وہ پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر بھاگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، "اے موسیٰ آگے آؤ اور ڈرو مت کیونکہ تم ان لوگوں میں سے ہو جو محفوظ ہیں۔ جب انہوں نے سانپ کو اٹھایا تو وہ واپس لاٹھی بن گیا۔ اس بار، ان سے کہا گیا کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈالو۔ جب انہوں نے اسے باہر نکالا تو وہ چمک رہا تھا، روشن سفید۔ یہ وہ دو عظیم معجزات تھے جو وہ فرعون کو دکھانے والے تھے۔ دونوں کہانیوں کے درمیان ایک اہم فرق ان معجزات کے پیچھے کا مقصد تھا۔ قرآن کے مطابق، ہر نبی کی طرح موسیٰ علیہ السلام بھی ایک بھٹکی ہوئی قوم کو ایمان کی دعوت دینے جا رہے
تھے اور غلط کاروں کو سدھارنے کی کوشش کرنے والے تھے۔ اسی لیے یہ معجزات دیے گئے تھے انہیں ایمان لانے کی دعوت دینے کے لیے۔ لیکن عہد نامہ قدیم میں، معجزات کا مقصد بالکل مختلف تھا۔ وہ صرف بنی اسرائیل کو مصر چھوڑنے پر راضی کرنے کے لیے تھے۔ کوئی ایمان لاتا ہے یا نہیں یہ بات بالکل بھی اہم نہیں تھی۔ حضرت موسیٰ کے لیے آگے مشکل دن آنے والے تھے۔ ذرا سوچیں، آپ ایک ایسے حکمران کےسامنے کھڑے ہونے والے ہیں جو خدا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اور آپ اسے بتانے جا رہے ہیں کہ وہ بھی خدا کا ایک بندہ ہی ہے۔ دوسرے بندوں کی طرح۔ اور اسے اللہ کے سامنے سجدہ کرنا چاہیے۔ وہ ایک ایسے ظالم کا سامنا کریں گے جس کا ہر حکم قانون سمجھا جاتا تھا ایک ایسا شخص جو جسے چاہے مار سکتا تھا۔ اور اس سے بڑھ کر، وہ ان لوگوں کو لے کر جانے والے
تھے جنہیں اس نے سالوں سے غلام بنا رکھا تھا۔ وہ اس کے اختیار کو چیلنج کرنے والے تھے۔ تو، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس خدائی حکم کا کیا جواب دیا؟ قرآن ہمیں ان کی دعا بتاتا ہے۔ اے میرے رب، میرا سینہ میرے لیے کھول دے اور میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔ اور میرے خاندان میں سے میرا ایک مددگار مقرر فرما دے، ہارون، میرے بھائی کو۔ اس کے ذریعے میری طاقت بڑھا اور اسے میرے کام میں شریک کر۔ اور اللہ نے ان کی دعا کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تمہاری درخواست منظور کر لی گئی اے موسیٰ۔ اب وہ اکیلے نہیں تھے۔ ان کی زبان کی گرہ کھل چکی تھی اور ان کے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا کر دی گئی تھی۔ یقیناً، کوئی بھی اکیلے ایسا مشن نہیں لینا چاہے گا۔ تو عہد نامہ قدیم میں حضرت
موسیٰ نے اس کام پر کیسا ردعمل ظاہر کیا؟ موسیٰ نے خداوند سے کہا اے خداوند، اپنے بندے کو معاف کر۔ میں کبھی بھی فصیح نہیں رہا نہ ماضی میں اور نہ ہی جب سے آپ نے اپنے بندے سے بات کی ہے۔ میں بولنے اور زبان کا سست ہوں۔ ایک اور جگہ، ہم یہ آیت دیکھتے ہیں۔ لیکن موسیٰ نے کہا اے خداوند، اپنے بندے کو معاف کر۔ براہ کرم کسی اور کو بھیج دے۔ اللہ نے انہیں بتایا کہ وہ ہارون کو بطور مددگار ان کے ساتھ بھیجے گا ایک ایسا مددگار، جو ان کا ساتھ دے اور ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اور یوں ان کے مشن کا آغاز ہوا۔ عہد نامہ قدیم میں ایک اور چیز ہے جس نے ہمیشہ سوالات اٹھائے ہیں۔ قصے میں آگے چل کر، مصر چھوڑنے سے پہلے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو ایک عجیب حکم دیا گیا۔ ہر عورت اپنی پڑوسن اور اور اس کے گھر میں رہنے والی کسی
بھی عورت سے چاندی اور سونے کے زیورات اور کپڑے مانگے، جو تم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو پہناؤ گے۔ اس طرح تم مصریوں کو لوٹ لو گے۔ لیکن ایک منٹ رکیے، کیا اللہ واقعی چوری کا حکم دے سکتا ہے؟ اگر ایک نبی کو بھیجنے کی ایک بنیادی وجہ انصاف قائم کرنا تھا تو پھر اس طرح کی بات پہلے ہی حکم میں کیسے آ سکتی ہے؟ یقیناً، یہ ایک ایسی بات ہے جس پر واقعی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آئیے آگے بڑھتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی فرعون سے ملاقات پر آئیں مجھے دونوں صحیفوں کے درمیان ایک معمولی لیکن اہم فرق کا ذکر کرنا ہے لفظ "فرعون" کا استعمال۔ اس لفظ کا اصل مطلب "محل" تھا۔ یہ 14ویں صدی قبل مسیح کے بعد حکمرانوں کے لیے استعمال ہونا شروع ہوا، 18ویں سلطنت کے دوران جو حضرت موسیٰ کے زمانے پر محیط ہے۔ لیکن ان سے چند
صدیاں پہلے مصر میں ایک اور نبی رہتے تھے۔ یاد ہے؟ جی ہاں، یوسف علیہ السلام۔ انہیں جوزیف بھی کہا جاتا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ، ان کے زمانے کے حکمران کی وضاحت کرتے ہوئے عہد نامہ قدیم لفظ "فرعون" استعمال کرتا ہے لیکن قرآن "الملک" کہتا ہے جس کا مطلب ہے "بادشاہ"۔ لیکن تاریخی ریکارڈ کے مطابق لقب "فرعون" حضرت یوسف کے زمانے میں حکمرانوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا۔ کبھی کبھی، ایک لفظ کا انتخاب بھی آپ کے علم کی گہرائی کے بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے۔ خیر، آگے بڑھتے ہیں۔ اور ایک اور تفصیل۔ عہد نامہ قدیم میں جب موسیٰ علیہ السلام اور ان کا خاندان سفر کر رہے تھے لکھا ہے، "راستے میں ایک ٹھکانے پر خداوند موسیٰ سے ملا اور اسے مارنے ہی والا تھا۔ لیکن قرآن میں، موسیٰ علیہ السلام کو ابھی نبوت ملی تھی۔ وہ اب ایک
رسول تھے، جنہیں ان کے رب نے مضبوط کیا، سہارا دیا اور حوصلہ افزائی کی۔ اس لیے قرآن میں ایسی کسی بات کا ذکر نہیں ہے۔ اور آخر کار، دروازے کھل گئے۔ اپنے بھائی ہارون کے ساتھ، حضرت موسیٰ فرعون کے محل میں داخل ہوئے۔ وہ برسوں سے مصر سے بہت دور تھے۔ اور اب، کمرے میں ہر آنکھ ان پر جمی ہوئی تھی۔ اور موسیٰ نے کہا، "اے فرعون، میں تمام جہانوں کے رب کی طرف سے ایک رسول ہوں جس پر لازم ہے کہ اللہ کے بارے میں سچ کے سوا کچھ نہ کہے۔ میں تمہارے رب کی طرف سے واضح ثبوت لے کر آیا ہوں۔ لہٰذا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دو۔" اس کے بعد، موسیٰ اور ہارون علیہ السلام فرعون کے پاس گئے اور کہا، خداوند، اسرائیل کا خدا یہ کہتا ہے میری قوم کو جانے دو تاکہ وہ بیابان میں میرے لیے ایک تہوار منا سکیں۔ فرعون نے کہا، "خداوند کون
ہے کہ میں اس کی بات مانوں، اور بنی اسرائیل کو جانے دوں؟ میں خداوند کو نہیں جانتا، اور میں بنی اسرائیل کو نہیں جانے دوں گا۔" قرآن میں، اللہ کو رب العالمین جیسے ناموں سے بیان کیا گیا ہے۔ یا تمہارا رب، کہا گیا ہے۔ ایسے نام جو سب کو شامل کرتے ہیں۔ وہ آفاقی ہیں۔ لیکن عہد نامہ قدیم میں، "اسرائیل کا خدا نام استعمال ہوتا ہے جو کسی ایک قوم کے لیے مخصوص لگتا ہے۔ جب فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا "تمہارا رب کون ہے؟" انہوں نے اسے بہت طاقتور جوابات دیے۔ قرآن میں مذکور جوابات براہ راست جوابات تھے جنہوں نے مصر کے جھوٹے خداؤں کے نظام کو چیلنج کیا۔ پھر اپنے پیغام کو ثابت کرنے کا لمحہ آیا۔ انہوں نے اپنی لاٹھی زمین پر پھینکی، اور اچانک، وہ ایک بہت بڑے سانپ میں بدل گئی۔ محل میں لوگ خوف سے جم گئےان کی
آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالا اور جب اسے باہر نکالا، تو وہ چمک رہا تھا ایک چمکتی ہوئی روشنی کی طرح خالص سفید۔ ان دنوں، جادو لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتا تھا۔ تو جب انہوں نے اس طرح کے معجزات دیکھائے تو وہ سب حیران رہ گئے۔ تاہم، فرعون غیر معمولی طور پر تیز ذہن کا مالک تھا اور اس میں لوگوں کو بہکانے کی مضبوط صلاحیت تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ہجوم کو کیسے متاثر کرنا ہے۔ اس نے باتیں کرنا شروع کر دیں، توجہ ہٹانے کی کوشش کی، موضوع بدلنے کی کوشش کی۔ ہم نے تمہیں سالوں تک اپنے درمیان پالا اور اب تم ناشکری کر رہے ہو۔ اور پھر، غیر متعلقہ طور پر، اس نے پوچھا "کیا تم نہیں جانتے کہ پچھلی نسلوں کا کیا ہوا؟" وہ قومی فخر کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ
لوگ یہ آسانی سے قبول نہیں کریں گے کہ ان کے آباؤ اجداد غلط ہو سکتے ہیں لیکن موسیٰ علیہ السلام اس کی چال سمجھ گئے۔ انہوں نے جواب دیا، ان کا علم میرے رب کے پاس، ایک کتاب میں درج ہے۔ میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ انہوں نے اسی وقت یہ بات ختم کر دی۔ لیکن فرعون نہیں رکا۔ اس نے حضرت موسیٰؑ کو پاگل کہہ کر ان کا مذاق اڑایا۔ جب اس نے معجزات دیکھے، تو کہا،۔یہ واقعی ایک ماہر جادوگر ہے اور ہجوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پھر وہ اپنے سرداروں کی طرف مڑا اور انہیں اکسایا۔ یہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں تمہاری زمین سے نکالنا چاہتا ہے۔ کیا مشورہ ہے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ لیکن حقیقت میں، موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کو مصر سے باہر لے جانا چاہتے تھے۔ ان کا مصروالوں کو اپنی زمین سے نکالنے کا
کوئی ارادہ نہیں تھا۔ تاہم، عہد نامہ قدیم میں موسیٰ علیہ السلام کے کسی بھی معجزے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے یا اس پہلی ملاقات میں فرعون کی چالوں کا۔ البتہ اس میں فرعون کی ایک مکاری کا ذکر ہے کہ اس نے بنی اسرائیل پر کام کا بوجھ اور بھی بڑھا دیا۔ اور اگر وہ اسے سنبھالنے میں ناکام رہتے تو وہ انہیں اذیت دیتا۔ اس کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ انہیں یہ یقین کرائے کہ موسیٰ ان کی زندگیوں میں مزید مصیبتیں ہی لایا ہے۔ فرعون کی باتیں جادو کی طرح تھیں۔ وہ ایک حقیقی شعبدہ باز تھا۔ وہ چند الفاظ سے ہی، پوری گفتگو کا رخ ایک طرف سے دوسری طرف موڑ سکتا تھا اور لوگوں کو جو چاہے یقین دلا سکتا تھا۔ لیکن پھر بھی، اس کا محل ہل چکا تھا۔ فرعون نے اپنے مشیروں کے ساتھ ایک میٹنگ کی، تاکہ فیصلہ کیا جاسکے کہ آگے کیا کرنا ہے منصوبہ
واضح تھا۔ وہ پورے مصر سے جادوگروں کو اکٹھا کرے گا اور تمام لوگوں کے سامنے ایک مقابلہ منعقد کرے گا۔ اس نے سوچا کہ اس سے ثابت ہو جائے گا کہ موسیٰ علیہ السلام ایک جادوگر سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ دراصل ایک اسٹیج سجا رہا تھا تاکہ پورا مصر ایک حقیقی نبوی معجزے کا گواہ بن سکے۔ جلد ہی، مصر کی پوری قوم انکا پیغام سنے گی اور اپنی آنکھوں سے ثبوت و شواہد دیکھے گی۔ اس نے موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کا دن مقرر کرنے کو کہا۔ لیکن وہؑ ہوشیار تھے۔ انہوں ، نے کہا: تمہاری ملاقات کا وقت زینت کے دن ہے یعنی تہوار کے دن اور لوگوں کو دن چڑھے اکٹھا کیا جائے۔ تاہم، عہد نامہ قدیم میں، ایسے ملک گیر مقابلے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ محل کے اندر ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کے الفاظ میں
ایک بہت ہی دلچسپ بات ہے۔ یہ اس دن کو "یوم الزینۃ" کہتا ہے یعنی "سجاوٹ اور خوبصورتی کا دن۔ اور جب ہم قدیم مصر کے تہواروں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک قومی تہوار ملتا ہے جو اس سے بالکل میل کھاتا ہے، یعنی Opet Festival یہ ایک قومی تہوار تھاجو ہر سال زور و شورسے منایاجاتا تھا۔ گھر سجائے جاتے، مرد اور عورتیں اچھے کپڑے پہنتے، مندر سجائے جاتے بتوں کو آراستہ کیا جاتا اور ان مجسموں کو خوبصورتی سے سجائی گئی سڑکوں سے گزارا جاتا تھا۔ یعنی دوسرے الفاظ میں، حضرت محمد ﷺ کے لیے یہ جاننے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہ جاننا ممکن نہ تھا، قرآن نے اس دن کوایک معجزاتی انداز میں بیان کیا ہے۔ قرآن کے نازل ہونے سے چند صدیاں پہلے قدیم مصری زبان جڑ سے ختم ہو چکی تھی۔ دنیا میں کوئی بھی اسے پڑھنا نہیں جانتا تھا یہ بہت بعد میں
تاریخ میں، ہمارے زمانے کے قریب جا کر سمجھ میں آئی۔ تو، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کسی بھی مصری ذرائع تک رسائی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہم نے اس کی تفصیل اپنی پچھلی ویڈیوز میں سے ایک میں بیان کی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں ہم تفصیل میں نہیں جائیں گے۔ لیکن اگرچہ وہ عہد نامہ قدیم میں مذکور نہیں ہیں قرآن بہت سے دلچسپ جملے استعمال کرتا ہے جو اس دور کی بالکل عکاسی کرتے ہیں۔ قرآن کے مطابق، جادوگروں کے ساتھ مقابلہ تہوار کے دن، صبح کے وسط میں ہوا۔ اور اس وقت کے بارے میں ایک بہت دلچسپ بات ہے۔ قدیم مصری عقیدے میں، جادو کو تہواروں کے دوران اور دن چڑھے یا صبح کے وقت سب سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا تھا تو موسیٰ علیہ السلام نے انہیں اس وقت چیلنج کیا جب وہ خود کو زیادہ مضبوط سمجھتے تھے۔
اور اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قرآن اس بھولی ہوئی قدیم مصری تہذیب کی نہایت معجزانہ انداز میں عکاسی کرتا ہے۔ اور ان میں سے کوئی بھی تفصیل عہد نامہ قدیم میں مذکور نہیں ہے۔ ایک اور تفصیل جو عہد نامہ قدیم میں مذکور نہیں ہے وہ فرعون کے آدمیوں میں سے ایک کا نام ہے۔ مقابلے کا دن آنے سے پہلے ایک منظر میں جہاں فرعون اپنے حکام سے بات کر رہا ہے ہم ایک دلچسپ جملہ سنتے ہیں۔ فرعون نے کہا، "اے سردارو، میں اپنے سوا تمہارے لیے کسی اور خدا کو نہیں جانتا ہوں۔ ہامان، میرے لیے آگ جلاؤ تاکہ میں اس میں مٹی کی اینٹیں پکاسکوں پھر میرے لیے ایک اونچی عمارت بناؤ تاکہ میں اپنی اآنکھوں سے موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں۔ اور بے شک، میں سمجھتا ہوں کہ وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ قرآن کی یہ آیت طویل
عرصے تک اسلام کے خلاف اعتراض کے طور پر استعمال کی جاتی رہی؟ جانتے ہیں کیسے؟ ہامان کا نام عہد نامہ قدیم میں بھی آتا ہے لیکن بالکل ہی مختلف وقت اور جگہ پر۔ اسے استعمال کرتے ہوئے، کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ، معاذ اللہ قرآن نے مختلف کہانیوں کو ملا دیا ہے۔ لیکن بعد میں تاریخی دریافتوں نے ثابت کیا کہ یہ قرآنی آیت دراصل ایک معجزہ تھی۔ جب ہم فرعون کے اسے دئے گئے حکم کو دیکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہامان تعمیراتی کام اور پتھر کی کانوں کا انچارج تھا۔ تو حقیقت میں یہ ہامان ہے کون ؟ ہم جس جواب کی تلاش میں ہیں وہ ایک قدیم مصری یادگار پر ملا جو ویانا کے ہوف میوزیم میں رکھی گئی ہے۔ قدیم مصر کے تمام کتبوں کی بنیاد پر ماہرین نے نئے بادشاہت کے دور کے ذاتی ناموں کی ایک لغت تیار کی اور ہامان کا نام بھی اس میں درج
ہے۔ اور اندازہ لگائیں اس کا لقب کیا ہے؟ "پتھر کی کان کے مزدوروں کا سردار،" بالکل ویسے ہی جیسے قرآن نے اسے بیان کیا اس دریافت سے ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پہلے۔ اب قصے کی طرف آتے ہیں مصر کے تمام لوگ میدان میں جمع ہو گئے اور موسیٰؑ پورے مجمعے کو وہ معجزہ دکھانے والے تھے جو اللہ نے انہیں عطا کیا تھا۔ جادوگروں نے ان کی طرف دیکھااور پوچھا "موسیٰ، تم پہلے پھینکو گے، یا ہم پھینکیں؟" انہوں نے جواب دیا "نہیں، تم پہلے پھینکو۔" اور اچانک، ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو سے انہیں ایسے لگیں کہ وہ سانپوں کی طرح حرکت کر رہی تھیں۔ حضرت موسیٰ کے دل میں ذرا سا خوف آیا لیکن اللہ ان کے ساتھ تھا۔ ہم نے کہا، ڈرو مت۔ بے شک صرف تم ہی غالب ہو۔ جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے اسے پھینکو جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ اسے
نگل جائے گا کیونکہ انکا بنایاہوا جادوگر کی چال سے زیادہ کچھ نہیں جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے چاہے وہ کہیں بھی جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی زمین پر پھینکی۔ تمام جادوگر خوفزدہ ہو گئے۔ لاٹھی ایک بہت بڑے سانپ میں بدل چکی تھی اور اس نے تمام جعلی چھوٹے سانپوں کو نگلنا شروع کر دیا۔ وہ ماہر جادوگر تھے، لہٰذا وہ جانتے تھے کہ جادو کیا ہے اور حقیقت کیا ہے۔ وہ تمام جادوگر سجدے میں گر گئے اور اپنے ایمان کا اعلان کر دیا۔ اس صبح، وہ اپنے گھروں سے بالکل مختلف خیالات کے ساتھ نکلے تھے لیکن اب وہ تمام جادوگر بالکل مختلف حالت میں تھے۔ مقابلے سے پہلے جادوگروں نے فرعون سے پوچھا تھا کہ اگر وہ جیت گئے تو انہیں کیا انعام ملے گا اور اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کے سب سے قریبی لوگوں میں شامل ہو جائیں گے۔
یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا کیونکہ فرعون نے ایک ایسا نظام بنایا تھا جہاں عملی طور پر اس کی اپنی نقلی جنت اور جہنم تھی۔ جو لوگ اسے خوش کرتے تھے وہ عیش و عشرت میں رہتے تھے اور وہ جسے چاہتا تھا اسے بدترین حالات میں رکھتا تھا۔ فرعون نے کہا، "تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ میری اجازت کے بغیر اس پر ایمان لے آئے یہ ضرور تمہارا استاد ہوگا جس نے تمہیں جادو سکھایا ہوگا۔ میں یقیناً تم سب کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دوں گا اور تم سب کو کھجور کے درختوں پر سولی چڑھا دوں گا۔ تم واقعی دیکھو گے کہ کس کی سزا زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔ انہوں نے کہا، "اس کی قسم جس نے ہمیں پیدا کیا ہم لوگ تمہیں کبھی بھی ان واضح ثبوتوں پر ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے پاس آئے ہیں۔ تو تمہیں جو فیصلہ کرنا ہے کر لو۔ تم صرف اورصرف اس
دنیاوی زندگی کے معاملات کا فیصلہ کر سکتے ہو۔ بے شک، ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ وہ ذات ہمیں ہمارے گناہوں اور اس جادو کیلیے معاف کر دے جو تم نے ہم سے زبردستی کروائے ہیں۔ اور اللہ بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ جیسے ہی ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوا وہ ہیرو بن گئے اور وہ سب اس دن شہید کر دئے گئے۔ یہ ایک خوفناک صورتحال تھی۔ کچھ مصری جنہوں نے ان واقعات کو دیکھا وہ بھی ایمان لے آئے۔ انہوں نے اپنے پرانے جھوٹے عقائد چھوڑ دیے اور ایک سچے خدا، اللہ کی عبادت کی طرف رجوع کیا۔ قصے کے عہد نامہ قدیم کے ورژن میں جو اپنی لاٹھی پھینکتا ہے وہ موسیٰ نہیں، بلکہ ہارون علیہ السلام ہیں۔ تاہم، اسی متن میں، کہانی میں پہلے وہ معجزہ موسیٰ علیہ اللسلام کو دیا گیا تھا۔ لگتا ہے کہ یہاں کرداروں کے درمیان کچھ الجھاؤ ہے۔
عہد نامہ قدیم میں دیگر واضح اختلافات یہ ہیں کہ یہ واقعہ عوامی نہیں ہے، اور جادوگروں کے ایمان قبول کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اور عہد نامہ قدیم میں، توجہ لوگوں کی ابدی زندگی بچانے پر نہیں؛ بلکہ بنی اسرائیل کی عارضی دنیاوی زندگیوں کو بچانے پر ہے۔ اس دن کے بعد فرعون اور بھی زیادہ ظالم ہو گیا۔ اس نے پھر سے ماؤں سے بچے چھیننا شروع کر دئے۔ بنی اسرائیل کو اور بھی سخت حالات میں کام کرنے پر مجبور کر کے اس نے جو چاہا تھا حاصل کر لیا تھا۔ کہانی کے دونوں ورژنز میں، بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ سے شکایت کی انہوں نے کہا، ہم پر ہمیشہ ظلم ہوا ہے آپ کے آنے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ لیکن ان کا جواب ان دو روایات میں مختلف ہے۔ قرآن کے مطابق، ایک رہنما کے طور پر انہوں نے ان الفاظ سے انہیں تسلی دینے کی کوشش کی
امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنائے گا تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ افسوس، آج ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی اولاد نے کیسے دنیا میں طاقتور عہدے حاصل کیے اور وہ اس کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ شاید اس بارے میں مزید کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، عہد نامہ قدیم کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو متاثر نہیں کر سکے، بلکہ ان سے متاثر ہو رہے تھے۔ اور اس وجہ سے انہوں نے خدا سے باغیانہ لہجے میں گفتگو کی۔ موسیٰ خداوند کے پاس گئے اور کہا 'اے خداوند آپ اس قوم پر مصیبت کیوں لائے؟ کیا مجھے اسی لیے بھیجا تھا؟ جب سے میں فرعون کے پاس بات کرنے گیا ہوں اس نے اس قوم پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ ڈالے ہیں اور آپ نے اپنی قوم کو بالکل بھی نہیں بچایا۔ ایک نبی سے
متوقع پختگی کے مقابلے میں کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ ردعمل جذباتی اور ناپختہ ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے صبر سے فرعون کو ایمان کی دعوت دینا جاری رکھی۔ لیکن فرعون سچائی سے انکار کرتا رہا اسی لئے اللہ اس کی قوم پر آفتیں بھیجتا رہا سیلاب، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک پانی کا خون میں بدلنا خشک سالی اور قحط۔ آج بھی، ہم ان آفات کو ایک تحریری ریکارڈ میں دیکھ سکتے ہیں جو اس زمانے کے ایک مصری کا لکھا ہوا ہے۔ یہ ایک دستاویز ہے جسے کہا جاتا ہے۔Ipuwer Papyrus جو نیدرلینڈز کے نیشنل میوزیم میں رکھی گئی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔اس کی کچھ لائنیں واقعی حیران کن ہیں۔ بے شک، دریا خون ہے پھر بھی لوگ اسے پیتے ہیں۔ لوگ انسانوں سے کتراتے ہیں اور پانی کے لیے ترستے ہیں مطلب ہر کوئی دوسروں سے دور رہتا ہےاور وہ پانی کے لیے بے
چین ہیں۔ درحقیقت، جو کل دیکھا گیا تھا وہ ختم ہو چکا ہے۔ زمین اب خشک اور برباد ہو گئی ہے، جیسے کوئی کھیت جس کی ساری فصل کاٹ لی جائے۔ بالائی مصر اب بنجر ہو گیا ہے۔ پورا محل اپنی آمدنی سے محروم ہے۔ اس میں حق سے گندم اور جو ہنس اور مچھلیاں آتی تھیں۔ تمام جانور، ان کے دل روتے ہیں۔ مویشی کراہتے ہیں۔ درحقیقت ہر طرف اناج ختم ہو گیا ہے۔ نو دن تک محل سے کوئی بھی باہر نہیں نکلا اور کوئی اپنے ساتھی کا چہرہ نہیں دیکھ سکا۔ زمین بغیر روشنی کے ہے۔ "طاعون،" یعنی وبا "پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔" لیکن ان میں سے کوئی بھی آزمائش فرعون یا اسکی قوم کو اپنا طرز بدلنے پر مجبور نہیں کر سکی اب مصر چھوڑنے کا وقت آگیا تھا۔ اللہ کے حکم سے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اکٹھا کیا اور رات کے وقت انہیں خفیہ طور
پر شہر سے باہر لے گئے۔ جب صبح ہوئی، تو فرعون کو احساس ہوا کہ وہ جا چکے ہیں۔ اور ایک بھی نشان باقی نہیں تھا۔ تو وہ جان گیا کہ وہ فرار ہو گئے ہیں۔ اس نے فوراً اپنی فوج کو اکٹھا کیا اور ان کے پیچھے دوڑا۔ دو دن بعد، وہ سمندر تک پہنچے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کیا کریں۔ اور پھر افق پر، انہوں نے ایک فوج کو قریب آتے دیکھا یعنی فرعون اور اس کے سپاہی۔ ہجوم میں خوف پھیل گیا۔ "ہم پکڑے گئے، اے موسیٰ" وہ لوگ چلّائے۔ ان کے سامنے ایک سمندر تھا جو ایک فوج کی طرح خطرناک تھا، اور ان کے پیچھے ایک فوج جو سمندر کی طرح تھی۔ وہ پوری طرح سے گھر چکے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہرگز نہیں میرا رب یقیناً میرے ساتھ ہے۔ وہ میری رہنمائی کرے گا۔ تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی ''اپنی لاٹھی سمندر پر مارو۔ اور سمندر پھٹ گیا۔
ہر حصہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہو گیا۔'' وہ تیزی سے سمندر سے گزر کر دوسری طرف جانے لگے۔ ان کے پیچھے، فرعون اور اس کی فوج بھی سمندر میں داخل ہو گئی اس بات سے بالکل بے خبر کہ وہ سیدھے جال میں جا رہے ہیں ۔ سالوں پہلے کا خواب اب سچ ہو نے والا تھا۔ جب بنی اسرائیل باحفاظت دوسری طرف پہنچ گئے تو سمندر بند ہونے لگا۔ ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرایا۔ پھر فرعون اور اس کے سپاہیوں نے ظلم اور زیادتی سے ان کا پیچھا کیا۔ پھر جب فرعون ڈوب رہا تھا، تو اس نے پکارا'میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی خدا نہیں سوائے اس ذات کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور اب میں فرمانبرداروں میں سے ایک ہوں۔ اس سے کہا گیا، کیا اب تو ایمان لاتا ہے لیکن تم نے ہمیشہ نافرمانی کی اور فساد کرنے والوں میں سے تھے۔ اس دن تک، اسے ایمان لانے
کے بہت سے مواقع دیے گئے تھے۔ ایک کے بعد ایک آفت اس پر بھیجی گئی۔ اور ہر بار، اس نے اپنے اعمال پر پچھتاوے کا دعویٰ کیا اور موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ ان سے یہ مصیبت اٹھا لے۔ لیکن جیسے ہی حالات بہتر ہوتے وہ ویسا ہی ہو جاتا جیسا پہلے تھا۔ اس طرح کے جھوٹے ایمان نے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ فرعون اور اس کی فوج پوری طرح سے تباہ ہو گئی۔ جب قرآن قصے کے اس حصے کو بیان کرتا ہے تو وہ ایک حیران کن جملہ استعمال کرتا ہے "نہ آسمان اور زمین ان پر روئے،" یعنی ان پر آہ و بکا نہیں کی۔ لیکن قرآن ایسی بات کیوں کہے گا؟ جب ہم قدیم مصر کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک چونکا دینے والا جواب ملتا ہے۔ ان دنوں، یہ مانا جاتا تھا کہ جب کوئی فرعون مرتا ہے تو آسمان اور زمین اس کے لیے روتے
ہیں۔ یہ عقیدہ پانچویں سلطنت کے اہرام کے متون میں پایا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، "آسمان تمہارے لیے روتا ہے زمین تمہارے لیے کانپتی ہے۔" جب ان متون تک کوئی رسائی بالکل بھی نہیں تھی قرآن معجزانہ طور پر وہی الفاظ استعمال کرتا ہے جو وہ استعمال کرتے تھے۔ اور ایک بار پھر، اس میں سے کچھ بھی عہد نامہ قدیم میں مذکور نہیں ہے۔ ایک اور تفصیل جو اس میں شامل نہیں ہے وہ یہ ہے کہ فرعون کے جسم کا کیا ہوگا۔ قرآن میں سورہ یونس کی آیت نمبر 92 میں اللہ فرماتا ہے کہ وہ فرعون کے جسم کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک نشانی اور سبق کے طور پر محفوظ رکھے گا۔ اور جو چیز واقعی قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ دو دریافتیں اس آیت سے بالکل میل کھاتی ہیں۔ یہ پہلی ہے۔ سن1896 میں، مصر میں آثار قدیمہ کی تحقیق کے دوران گیبیلین کے علاقے میں چھ
لاشیں ساحل پر بہہ کر آئی تھیبس سے تقریباً 4 کلومیٹر جنوب میں۔ یہ حیران کن تھا کیونکہ یہ لاشیں کئی صدیوں پرانی تھیں پھر بھی وہ سڑی نہیں تھیں۔ اور یہاں سب سے چونکا دینے والا حصہ ہے وہ ایک ایسی حالت میں پڑی تھیں جو بالکل سجدے کی طرح لگ رہی تھی۔ ان لاشوں کو لایا گیا اور اب وہ برطانیہ کے برٹش میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں جہاں اب ہر روز سینکڑوں لوگ انہیں دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ اگرچہ انہیں حنوط نہیں کیا گیا تھا تب بھی وہ لاشیں معجزاتی طور پر ایسی تھیں کہ ان کے جسم صدیوں تک بالکل محفوظ رہے۔ یہ فرعون کے جسم کے بارے میں پہلی تھیوری ہے لیکن دوسری وہ ہے جو اس قرآنی آیت کو واقعی ناقابل تردید بناتی ہے۔ تو، وہ کیا ہے؟ 19ویں صدی کی ابتداء سے، ماہرین آثار قدیمہ نے مصر کے مختلف حصوں میں فرعون کی ممیاں
دریافت کرنا شروع کی۔ آج، تمام فرعون جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰؑ کے زمانے میں تھے۔ دنیا بھر کے عجائب گھروں میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ تو، اگر اس کا جسم صدیوں بعد نہیں بلکہ واقعے کے فوراً بعد ساحل پر ملا تو محل کے لوگوں نے اسے ضرور اٹھا لیا ہوگا اور اسے ممی بنا دیا ہوگا جیسا کہ دوسروں کے ساتھ کیا۔ تو چاہے فرعون سن 1896 میں ملنے والی ان چھ لاشوں میں سے ایک تھا یا اس کا جسم اسی زمانے میں مل گیااور حنوط کر دیا گیا۔ دونوں صورتوں میں، اسے محفوظ رکھا گیا ہے اور آنے والی نسلوں کو دکھایا گیا ہے جیسا کہ قرآن نے کہا تھا۔ یقیناً، جب قرآن نازل ہوا تھا تو کسی کو کوئی اندازہ نہیں تھا کہ قدیم مصری حنوط کرکے جسموں کو محفوظ رکھا کرتےتھے۔ بنی اسرائیل کو ایک معجزے کے ذریعے فرعون کے ظلم سے
بچا لیا گیا تھا اور انہوں نے آزادی کی طرف اپنے پہلے قدم اٹھائے تھے۔ اور صحرا میں ایک نئی زندگی شروع ہو چکی تھی۔ لیکن وہ ایک ایسی قوم تھی جو اپنا راستہ بھٹک چکی تھی۔ ان کی سب سے بڑی ضرورت خدائی رہنمائی تھی۔ تو اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو کوہ سینا پر اکیلے بلایا تاکہ انہیں وحی عطا کرے۔ یہ کوئی عام ملاقات نہیں تھی۔ آسمانوں اور زمین کے رب کی طرف سے عظیم ترین الہامی کتابوں میں سے ایک تورات، اس دن دی جانی تھی۔ پہلے، اللہ نے اس ملاقات کو تیس دن کے لیے مقرر کیا۔ تو حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو مطلع کیا اور اللہ سے ملنے چلے گئے۔ لیکن جب موسیٰ علیہ السلام انہیں چھوڑ گئے تو آزمائش کے طور پر اللہ نے اس وقت میں دس دن اور بڑھا دیے۔ اور جب وہ اپنے وعدے کے وقت پر واپس نہیں آئے تو ان کی قوم کے اندر گہرائی میں چھپی
ہوئی چیز ابھرنے لگی۔ وہ کلیم اللہ تھے وہ جو اللہ سے براہ راست بات کرتے تھے۔ اس پہاڑ پر ایک بہت گہرا اور پراسرار تجربہ ہوا۔ اور آخر میں، اللہ نے انہیں پتھر کی تختیوں پر لکھا ہوا عہد دیا۔ حضرت موسیٰؑ اپنی قوم کے پاس واپس جانے کے لیے بہت پرجوش تھے۔ لیکن جب وہ نیچے آئے، تو ان کی قوم ایک گہری مایوس کن حالت میں تھی۔ وہی لوگ جنہوں نے اللہ کے اتنے معجزات دیکھے تھے اب ایک سونے کے بچھڑے کے مجسمے کی پوجا کر رہے تھے۔ وہ اتنے غصے میں آئے کہ انہوں نے تختیاں زمین پر پھینک دیں، جیسے کہہ رہے ہوں کہ تم اللہ سے ایسا پیغام پانے کے لائق نہیں ہو۔ پہاڑ پر جانے سے پہلے، انہوں نے حضرت ہارونؑ کو بطور نگران چھوڑا تھا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے بھائی انہیں نہیں روک سکے تو موسیٰؑ نے انہیں ان کی داڑھی سے پکڑا اور
وضاحت طلب کی۔ لیکن یہ بت آخر بنایا کس نے تھا؟ عہد نامہ قدیم میں اس کا جواب کافی چونکا دینے والا ہے: خود حضرت ہارونؑ نے۔ لیکن وہ ایک نبی تھے جنہیں لوگوں کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے سے روکنے کیلئے بھیجا گیا تھا لاکھوں لوگوں میں سے اللہ کا منتخب کردہ ایک شخص کیسے ایک ایسا گناہ کر سکتا ہے جس کی جرأت ایک عام مؤمن بھی نہیں کرے گا؟ افسوس، یہ ایک واضح جھوٹ تھا جو ان لوگوں نے گھڑا تھا جن کے پاس صدیوں تک عہد نامہ قدیم کو بدلنے کی طاقت تھی۔ لیکن قرآن ایک بالکل مختلف قصہ سناتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجسمہ بنانے والا سامری نامی ایک شخص تھا۔ یہ کہہ کر، یہ نہ صرف اللہ کے ایک نبی کو ایسے خوفناک الزام سے بری کرتا ہے بلکہ ایک اور آثار قدیمہ کا معجزہ بھی ظاہر کرتا ہے۔ اور، یہ معجزہ کیا ہے؟ جب موسیٰ علیہ السلام دور
تھے تو ایک سامری نامی یہ شخص آگے بڑھا۔ اس نے لوگوں سے کہا "میں تمہارے لیے خدا کا مجسمہ بناتا ہوں۔" تو انہوں نے اسے اپنا سارا سونا دے دیا۔ سامری نے اس سونے کو پگھلا کر ایک سونے کا بچھڑا بنادیا۔ لیکن وہ یہیں نہیں رکا۔ اس نے اس میں ایک سوراخ بھی بنایا اور اس سوراخ سے ایک عجیب آواز نکلی جیسے بچھڑا آواز نکال رہا ہو۔ اب یہاں ایک دلچسپ بات ہے۔ یہ نام، سامری، عہد نامہ قدیم میں کہیں نہیں ملتا ہے۔ لیکن قدیم مصری ذرائع میں، نو کاہنوں کا ایک گروہ ہے جسے سمیریو کہا جاتا ہے جنہیں سمیر یا سیم کاہن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کاہن "منہ کھولنے" نامی تقریبات میں حصہ لیتے تھے جہاں وہ ایسا دکھاتے تھے جیسے کوئی مجسمہ یا حتیٰ کہ کوئی مردہ شخص بول رہا ہو۔ وہ ایک وہم پیدا کر دیتے تھے۔ اب ذرا سوچیں، ایک سونے کا بچھڑا جو
آواز نکالتا ہے اور اسے بنانے والے کا نام بالکل سمیریو جیسا ہی لگتا ہے۔ کیا یہ کچھ زیادہ ہی مماثلت نہیں رکھتے؟ موسیٰ علیہ السلام کی کوششوں سے بنی اسرائیل سیدھے راستے پر واپس آ گئے۔ لیکن یہ پہلی بار نہیں تھا کہ انہوں نے ان کی ناشکری کی تھی اور نہ ہی یہ آخری بار ہوگا۔ وہ 40 لمبے سال صحرا میں بھٹکتے پھریں گے۔ ایسے وقت بھی آئے جب انہوں نے اللہ کا حکم موسیٰ علیہ السلام سے سنا تو انہوں نے ان سے کہا "کیا آپ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں؟" دوسری بار اللہ نے ان کے لئے آسمان سے بہتر ترین کھانا اتارا لیکن وہ شکایت کرتےاور کہتے کیا ہر روز ہم لوگ یہی کھائیں گے؟ ہمیں کچھ اور چاہیے۔" ایک ایسا وقت آیا جب اللہ نے انہیں ایک ظالم قوم دکھائی اور انہیں لڑنے کا حکم دیا۔ لیکن انہوں نے اپنے نبی سے کہا تم اور تمہارا رب جا
کر لڑو۔ ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔" انہوں نے یہ نہیں کہا "ہمارا رب"، انہوں نے کہا، "تمہارا رب۔" ان کی نافرمانی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ حضرت موسیٰؑ نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور کہا میرے رب، میرا اختیار اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر نہیں۔ بنی اسرائیل کا خواب اور ان کا حتمی مقصد یروشلم کی سرزمین تک پہنچنا اور اسے اپنا گھر بنانا تھا۔ یہ حضرت موسیٰؑ کے سب سے بڑے خوابوں میں سے ایک تھا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اس سرزمین کی گہری محبت میں گزاری۔ لیکن اپنی قوم کی مسلسل نافرمانی اور بزدلی کی وجہ سے وہ اس خواب کو پورا کرنے سے پہلے ہی وفات پا گئے جس کی وہ زندگی بھر خواہش کرتے رہے۔ یہ دل دہلا دینے والا تھا، ایک ایسا درد جسے الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ اگرچہ ہم نے اس قصے کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہی
بیان کیا ہے توایک بات اب تک واضح ہو جانی چاہیے عہد نامہ قدیم میں موجود ورژن تبدیل شدہ ہے، تحریف کی گئی ہے۔ اور اس میں ایسے دعوے اور صفات شامل ہیں جو اللہ اور اس کے نبیوں کے شایان شان نہیں۔ کیا اللہ واقعی چوری کا حکم دے گا؟ کیا کوئی نبی کبھی خدا سے بغاوت کرے گا یا اس پر ناانصافی کا الزام لگائے گا؟ کیا کوئی نبی سونے کا بت بنائے گااور لوگوں کو اس کی پوجا کی دعوت دے گا؟ اور اب، دیکھیں کہ قرآن اس کے بجائے کیا دیتا ہے معجزات کا ایک سلسلہ جو شک سے بالاتر ہو کر دکھاتا ہے کہ یہ واقعی اللہ کا کلام ہے۔ ان باتوں کے بارے میں سوچیں جن پر ہم نے بات کی ہے۔ جبکہ عہد نامہ قدیم ہر مصری حکمران کو "فرعون" کہتا ہے اور قرآن ہر حکمران کے لیے ان کے وقت کے مطابق صحیح لقب استعمال کرتا ہے۔ قرآن "سجاوٹ اور خوبصورتی کا
دن" کا جملہ استعمال کرتا ہے اور یہ ایک حقیقی تہوار سے بالکل میل کھاتا ہے جو کہ اس وقت قدیم مصر میں منایا جاتا تھا۔ یہ ہامان کا ذکر بالکل اسی کردار میں کرتا ہے جو اس کے تاریخ میں تھا پتھر کی کانوں اور تعمیراتی کاموں کا انتظام کرنے والا۔ یہ مصر میں آنے والی آفات کے بارے میں ایک کے بعد ایک بتاتا ہے۔ اس آیت میں، "نہ آسمان نہ زمین ان پر روئے،" یہ قدیم مصری عقائد کا واضح حوالہ دیتا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ فرعون کا جسم محفوظ رکھا جائے گا۔ سامری کا نام ذکر کر کے قرآن اس وقت کے ایک کاہنوں کے گروہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سات معجزات۔ اس وقت کی ایک واضح اور تفصیلی تصویر پیش کر کے اللہ نے ہمیں دکھایا کہ وہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے جو واقع ہوئی۔ اس نے لوگوں کے درمیان گفتگو کو بھی شامل کیا اس بات کو بالکل واضح کرتے
ہوئے کہ اس کے علم سے کوئی بھی چیز باہر نہیں۔ یہ ہر چیز کا احاطہ کرتا ہے۔ تو، ان تمام واضح ثبوتوں کے بعد اگر کوئی پھر بھی سچائی سے آنکھیں بند کرنے کا انتخاب کرتا ہے تو وہ اس فرعون سے کیسے مختلف ہوگا جس کے بارے میں ہم نے بات کی؟ تو، ہم اس کہانی میں کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم ان جادوگروں کی طرح ہیں جنہوں نے سچ دیکھتے ہی سر تسلیم خم کر دیا؟ یا ہم اس فرعون کی طرح ہیں جس نے اپنی آنکھوں سے حق کو دیکھ کر بھی اس کا انکار کر دیا؟ کیا ہم اس ماں کی طرح ہیں جس نے اللہ کی طرف سے آئی بات پر اتنا گہرا بھروسہ کیا کہ مکمل طور پراطاعت کرتے ہوئے اپنے بچے کو ٹوکری میں رکھ دیا؟ یا ہم ان لوگوں کی طرح ہیں جن کے دل سچائی سے اندھے ہو گئے اور انہوں نے اللہ کے نبی سے منہ موڑ لیا؟ اب یا تو صرف ابدی خوشی ہے یا ابدی نقصان ابدی
جنت ہے یا ابدی جہنم۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
تصور ظالمانہ حکم کیوں دیا؟ وہ ان بچوں سے اتنا کیوں ڈرتا تھا جو ابھی چلنے کے بھی قابل نہیں تھے؟ ایک ڈراؤنا خواب۔ اس نے اپنی سوچ کے مطابق منصوبہ ترتیب دیا لیکن اللہ کا اپنا ایک منصوبہ تھا۔ جو کسی کی بھی سوچ سے کہیں بڑھ کر تھا۔ اور اس طرح موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان کشمکش کا آغاز ہونا تھا۔ یہ تاریخ کی سب سے عظیم داستانوں میں سے ایک ہے۔ ایک ایسے نبی کی کہانی جنہیں دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی مانتی ہے۔ لیکن اسلام میں ان کا قصہ دوسرے مذاہب میں بیان کی گئی کہانیوں سے مختلف ہے۔ آج ہم ان کی زندگی کے واقعات کو قرآن اور بائبل کے نقطہ نظر سے دیکھیں گے۔ اور ان کی مماثلتوں اور اختلافات کا موازنہ کریں گے۔ ہم یہ بھی جانیں گے کہ کون سا قصہ تاریخی حقائق سے زیادہ قریب ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کا ورثہ۔
جنہیں موزز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ان کے معجزات محل میں گزارے ہوئے سال جادوگروں کے ساتھ ان کا مقابلہ فرعون کا ظالمانہ نظام اور اس کا حتمی انجام۔ اگر آپ تیار ہیں، تو شروع کرتے ہیں۔ یروشلم سے آتی ہوئی ایک بہت بڑی آگ نے مصر کو گھیر لیا جو اُس کے گھروں اور لوگوں کو جلا رہی تھی۔ لیکن اس نےبنی اسرائیل کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔ آگ تو تھی لیکن انہیں جلا نہیں رہی تھی۔ فرعون دہشت سے بیدار ہوا پسینے میں شرابور اور سانس پھولی ہوئی تھی۔ یہ ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ اس نے فوراً حکم دیا "کاہنوں کو بلایا جائے فوراً !" وہ جلد از جلد اپنے خواب کی تعبیر جاننا چاہتا تھا۔ اور جب کاہن آئے تو انہوں نے کہا ایک بچہ پیدا ہوگا جو کہ بنی اسرائیل کی قوم میں سےہوگا اور وہ خاتمہ کرے گا فرعون کی حکومت کا۔ اس کا فیصلہ واضح
تھا۔ کہ اس بچے کو مارنا ہی ہوگا۔ چنانچہ اُس صبح بنی اسرائیل کی آنکھ قتلِ عام سے کھلی۔ کہانی کا یہ حصہ اسلامی ذرائع میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ تاہم، عہد نامہ قدیم میں قتلِ عام کی وجہ فرعون کا یہ خوف تھا کہ ایک دن بنی اسرائیل اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور لڑیں گے۔ فرعون ایک خود پسند، مغرور اور ظالم حکمران تھا جو خدا ہونے کا دعویٰ کرتا تھا۔ وہ اپنے مفادات کے لیے کچھ بھی کر گزر سکتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ لڑکوں کو مارنے سے اس کی بادشاہت محفوظ رہے گی۔ لیکن وہ یہ بات نہیں جانتا تھا کہ ہر چال کے لیے اللہ کا اپنا منصوبہ ہوتا ہے۔ اللہ اسی بچے کو جسے فرعون شدت سے ڈھونڈ رہا تھا سیدھا اس کے اپنے محل میں لانے والا تھا اور اسی کے ہاتھوں اس بچے کی پرورش کروانے والا تھا۔ انسان چاہے کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ
ہو جب اللہ اس کی بصیرت چھین لیتا ہے تو وہ اپنے سامنے کی چیز بھی نہیں دیکھ پاتا۔ لیکن یہ سب ہونا کیسے تھا؟ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ خوف میں دعا کر رہی تھیں انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام ان کی مدد فرمائی۔ اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی کی کہ اسے دودھ پلاؤ۔ اور جب تمہیں ڈر لگے تو اسے دریا میں ڈال دینا اور نہ ڈرنا نہ غم کرنا۔ ہم اسے یقیناً تمہارے پاس واپس لائیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنائیں گے۔ ذرا سوچئے، کیا آپ اپنے بچے کو ٹوکری میں رکھ کر دریا میں بہا سکتے ہیں؟ بظاہر یہ ایک بہت بڑا خطرہ لگتا تھا لیکن اللہ کی دی ہوئی خبر نے ان کے دل کو سکون بخشا۔ انہوں نے بھروسہ کیا اور اپنے بچے کو ایک ٹوکری میں ڈال کر دریا میں بہا دیا۔ انہوں نے اپنی بیٹی مریم کو بھیجا کہ
وہ دور سے اس پر نظر رکھے۔ اور اللہ، جو ہر لہر کو ایک مقصد کے ساتھ حرکت دیتا ہے اسے دریا کے ذریعے فرعون کے محل تک لے گیا۔ اور جس نے اسے اٹھایا وہ کوئی اور نہیں بلکہ فرعون کی اپنی بیوی، آسیہ تھیں۔ آسیہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ جب انہوں نے ٹوکری میں اس خوبصورت بچے کو دیکھا تو ان کا دل ایسے دھڑکا جیسے پہلے کبھی نہیں دھڑکا تھا۔ انہوں نے فرعون سے کہا، "یہ بچہ میرے اور تمہارے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ اسے قتل نہ کرو۔ شاید یہ ہمارے کام آ جائے یا شاید ہم اسےاپنا بیٹا بنا لیں۔ وہ دونوں آنے والے کل سے بے خبر تھے۔ تاہم، عہد نامہ قدیم کی کتاب Exodusکے مطابق بچے کو فرعون کی بیوی نے نہیں بلکہ اس کی بیٹی نے اٹھایا تھا۔ چنانچہ فرعون بچے کو رکھنے پر راضی ہو گیا۔ لیکن ایک مسئلہ تھا۔ بچہ رو رہا تھا اسے دودھ پلانے
کی ضرورت تھی۔ لیکن جتنی بھی عورتوں کو لایا گیا اس نے کسی کا بھی دودھ نہیں پیا۔ یہاں تک کہ اس کی بہن، جو چھپ کر دیکھ رہی تھی، آگے بڑھی اور بولی کیا میں آپ کو ایک ایسے خاندان کا بتاؤں جو اس کی دیکھ بھال کرے گا؟ پھر وہ اس کے پیچھے چلتے ہوئے موسیٰ کی والدہ تک پہنچ گئے۔ تو ایک بار پھر، انہوں نے اپنے بچے کو دودھ پلایا۔ وہ اپنے بیٹے سے دوبارہ مل گئیں۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ حقیقت میں کون ہیں۔ لیکن اس وجہ سے، وہ ایک طویل عرصے تک اپنے بچے کے ساتھ رہ سکیں۔ اللہ نے ان سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کر دیا تھا۔ اب یہ وہ وقت تھا کہ اللہ اپنا دوسرا وعدہ سچ کر دکھائے۔ اور ہم اسے رسولوں میں سے ایک بنائیں گے۔ اب ہم تیزی سے کئی سال آگے چلتے ہیں جب فرعون کے خلاف ان کی جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے۔ وقت گزرتا گیا انہوں
نے محل کے اندر ہی پرورش پائی۔ لیکن انہوں نے کبھی خود کو باہر کی دنیا سے الگ نہیں کیا۔ وہ دیکھتے تھے کہ دیواروں کے پار لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے محل میں اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کی۔ فوجی قیادت سے لے کر لوگوں کو سنبھالنے تک سماجی مہارتوں سے لے کر ذاتی اخلاقیات تک انہیں کئی شعبوں میں تربیت دی گئی اور وہ ہنر اور کردار دونوں میں بڑھے۔ ان کے ضمیر کی بدولت ان کے آس پاس کی بری مثالیں بھی ان کے لیے سبق بن گئیں۔ ایک خراب ماحول میں پرورش پانے کے باوجود، وہ گناہ سے دور رہے۔ کبھی کبھی، وہ محل سے نکل کر اپنی قوم بنی اسرائیل پر ہونے والے ظلم کو دیکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی آنکھوں سے ظلم کا مشاہدہ کیا۔ ان تجربات نے ان کے اردگرد کی دنیا کے بارے میں ان کی سمجھ کو تشکیل دیا۔ یہاں تک کہ ایک دن، ایک پریشان
کن واقعے نے انہیں مصر سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ وہ تقریباً مارے جانے والے تھے۔ آٹھ دن تک، وہ صحراؤں اور ویران زمینوں سے گزرتے رہے بغیر کچھ کھائے پیئے۔ آخر کار، وہ مدین کی سرزمین پہنچے اور وہاں آٹھ سے نو سال رہے۔ اسلامی ذرائع کے مطابق، وہ حضرت شعیبؑ کے ساتھ رہے اور ان سے تعلیم حاصل کی۔ لیکن عہد نامہ قدیم کے مطابق وہ جیتھرو نامی ایک کاہن کے ساتھ رہے۔ کہانی کے دونوں ورژن میں وہ مسلسل سیکھتے اور بڑھتے رہے۔ اب، آئیے فرعون کے ساتھ ان کی منفرد جدوجہد کے آغاز کی طرف بڑھتے ہیں اس لمحے کی طرف جب انہیں پہلی وحی ملی اور اس ظالم حکمران کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات ہوئی ہم اب اس رات میں ہیں۔ وہ رات جس نے حضرت موسیٰ کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دیا۔ یہ ایک بہت تاریک سرد اور خاموش رات تھی۔ موسیٰ علیہ السلام
اپنے خاندان کے ساتھ صحرا سے گزر رہے تھے لیکن انہیں نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں۔ وہ ٹھنڈ میں تھے اور اندھیرے میں ہچکچاتے قدموں سے آگے بڑھ رہے تھے۔ پھر اچانک، انہوں نے کچھ ایسا دیکھا جس نے ان کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا کچھ فاصلے پر ایک درخت جل رہا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر آگ درخت کو نہیں جلا رہی تھی۔ نہ ہوا اسے بجھا پا رہی تھی،اور نہ ہی اس کا دھواں آسمان کی طرف اٹھ رہا تھا۔ انہیں اس کی طرف ایک عجیب سی کشش محسوس ہونے لگی اور محسوس ہوا کہ ضرور کچھ ہونے والا ہے۔ اور پھر، وہ آواز آئی۔ اے موسیٰ، بے شک میں ہی اللہ ہوں تمام جہانوں کا رب۔ کہانی کے دونوں ورژنز کے مطابق موسیٰ علیہ السلام کو ایک پراسرار آگ کے واقعے کے دوران ان کا مشن دیا گیا جو عہد نامہ قدیم میں ایک جھاڑی میں اور قرآن میں ایک
درخت میں نظر آئی۔ میں تمہارے باپ کا خدا ہوں ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا۔ اور ان سے کہا گیا "اپنی لاٹھی نیچے پھینکو۔" لیکن جب انہوں نے اسے سانپ کی طرح حرکت کرتے دیکھا تو وہ پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر بھاگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، "اے موسیٰ آگے آؤ اور ڈرو مت کیونکہ تم ان لوگوں میں سے ہو جو محفوظ ہیں۔ جب انہوں نے سانپ کو اٹھایا تو وہ واپس لاٹھی بن گیا۔ اس بار، ان سے کہا گیا کہ اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈالو۔ جب انہوں نے اسے باہر نکالا تو وہ چمک رہا تھا، روشن سفید۔ یہ وہ دو عظیم معجزات تھے جو وہ فرعون کو دکھانے والے تھے۔ دونوں کہانیوں کے درمیان ایک اہم فرق ان معجزات کے پیچھے کا مقصد تھا۔ قرآن کے مطابق، ہر نبی کی طرح موسیٰ علیہ السلام بھی ایک بھٹکی ہوئی قوم کو ایمان کی دعوت دینے جا رہے
تھے اور غلط کاروں کو سدھارنے کی کوشش کرنے والے تھے۔ اسی لیے یہ معجزات دیے گئے تھے انہیں ایمان لانے کی دعوت دینے کے لیے۔ لیکن عہد نامہ قدیم میں، معجزات کا مقصد بالکل مختلف تھا۔ وہ صرف بنی اسرائیل کو مصر چھوڑنے پر راضی کرنے کے لیے تھے۔ کوئی ایمان لاتا ہے یا نہیں یہ بات بالکل بھی اہم نہیں تھی۔ حضرت موسیٰ کے لیے آگے مشکل دن آنے والے تھے۔ ذرا سوچیں، آپ ایک ایسے حکمران کےسامنے کھڑے ہونے والے ہیں جو خدا ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اور آپ اسے بتانے جا رہے ہیں کہ وہ بھی خدا کا ایک بندہ ہی ہے۔ دوسرے بندوں کی طرح۔ اور اسے اللہ کے سامنے سجدہ کرنا چاہیے۔ وہ ایک ایسے ظالم کا سامنا کریں گے جس کا ہر حکم قانون سمجھا جاتا تھا ایک ایسا شخص جو جسے چاہے مار سکتا تھا۔ اور اس سے بڑھ کر، وہ ان لوگوں کو لے کر جانے والے
تھے جنہیں اس نے سالوں سے غلام بنا رکھا تھا۔ وہ اس کے اختیار کو چیلنج کرنے والے تھے۔ تو، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس خدائی حکم کا کیا جواب دیا؟ قرآن ہمیں ان کی دعا بتاتا ہے۔ اے میرے رب، میرا سینہ میرے لیے کھول دے اور میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔ اور میرے خاندان میں سے میرا ایک مددگار مقرر فرما دے، ہارون، میرے بھائی کو۔ اس کے ذریعے میری طاقت بڑھا اور اسے میرے کام میں شریک کر۔ اور اللہ نے ان کی دعا کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تمہاری درخواست منظور کر لی گئی اے موسیٰ۔ اب وہ اکیلے نہیں تھے۔ ان کی زبان کی گرہ کھل چکی تھی اور ان کے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا کر دی گئی تھی۔ یقیناً، کوئی بھی اکیلے ایسا مشن نہیں لینا چاہے گا۔ تو عہد نامہ قدیم میں حضرت
موسیٰ نے اس کام پر کیسا ردعمل ظاہر کیا؟ موسیٰ نے خداوند سے کہا اے خداوند، اپنے بندے کو معاف کر۔ میں کبھی بھی فصیح نہیں رہا نہ ماضی میں اور نہ ہی جب سے آپ نے اپنے بندے سے بات کی ہے۔ میں بولنے اور زبان کا سست ہوں۔ ایک اور جگہ، ہم یہ آیت دیکھتے ہیں۔ لیکن موسیٰ نے کہا اے خداوند، اپنے بندے کو معاف کر۔ براہ کرم کسی اور کو بھیج دے۔ اللہ نے انہیں بتایا کہ وہ ہارون کو بطور مددگار ان کے ساتھ بھیجے گا ایک ایسا مددگار، جو ان کا ساتھ دے اور ان کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اور یوں ان کے مشن کا آغاز ہوا۔ عہد نامہ قدیم میں ایک اور چیز ہے جس نے ہمیشہ سوالات اٹھائے ہیں۔ قصے میں آگے چل کر، مصر چھوڑنے سے پہلے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو ایک عجیب حکم دیا گیا۔ ہر عورت اپنی پڑوسن اور اور اس کے گھر میں رہنے والی کسی
بھی عورت سے چاندی اور سونے کے زیورات اور کپڑے مانگے، جو تم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو پہناؤ گے۔ اس طرح تم مصریوں کو لوٹ لو گے۔ لیکن ایک منٹ رکیے، کیا اللہ واقعی چوری کا حکم دے سکتا ہے؟ اگر ایک نبی کو بھیجنے کی ایک بنیادی وجہ انصاف قائم کرنا تھا تو پھر اس طرح کی بات پہلے ہی حکم میں کیسے آ سکتی ہے؟ یقیناً، یہ ایک ایسی بات ہے جس پر واقعی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آئیے آگے بڑھتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہم موسیٰ علیہ السلام کی فرعون سے ملاقات پر آئیں مجھے دونوں صحیفوں کے درمیان ایک معمولی لیکن اہم فرق کا ذکر کرنا ہے لفظ "فرعون" کا استعمال۔ اس لفظ کا اصل مطلب "محل" تھا۔ یہ 14ویں صدی قبل مسیح کے بعد حکمرانوں کے لیے استعمال ہونا شروع ہوا، 18ویں سلطنت کے دوران جو حضرت موسیٰ کے زمانے پر محیط ہے۔ لیکن ان سے چند
صدیاں پہلے مصر میں ایک اور نبی رہتے تھے۔ یاد ہے؟ جی ہاں، یوسف علیہ السلام۔ انہیں جوزیف بھی کہا جاتا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ، ان کے زمانے کے حکمران کی وضاحت کرتے ہوئے عہد نامہ قدیم لفظ "فرعون" استعمال کرتا ہے لیکن قرآن "الملک" کہتا ہے جس کا مطلب ہے "بادشاہ"۔ لیکن تاریخی ریکارڈ کے مطابق لقب "فرعون" حضرت یوسف کے زمانے میں حکمرانوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا تھا۔ کبھی کبھی، ایک لفظ کا انتخاب بھی آپ کے علم کی گہرائی کے بارے میں بہت کچھ کہہ سکتا ہے۔ خیر، آگے بڑھتے ہیں۔ اور ایک اور تفصیل۔ عہد نامہ قدیم میں جب موسیٰ علیہ السلام اور ان کا خاندان سفر کر رہے تھے لکھا ہے، "راستے میں ایک ٹھکانے پر خداوند موسیٰ سے ملا اور اسے مارنے ہی والا تھا۔ لیکن قرآن میں، موسیٰ علیہ السلام کو ابھی نبوت ملی تھی۔ وہ اب ایک
رسول تھے، جنہیں ان کے رب نے مضبوط کیا، سہارا دیا اور حوصلہ افزائی کی۔ اس لیے قرآن میں ایسی کسی بات کا ذکر نہیں ہے۔ اور آخر کار، دروازے کھل گئے۔ اپنے بھائی ہارون کے ساتھ، حضرت موسیٰ فرعون کے محل میں داخل ہوئے۔ وہ برسوں سے مصر سے بہت دور تھے۔ اور اب، کمرے میں ہر آنکھ ان پر جمی ہوئی تھی۔ اور موسیٰ نے کہا، "اے فرعون، میں تمام جہانوں کے رب کی طرف سے ایک رسول ہوں جس پر لازم ہے کہ اللہ کے بارے میں سچ کے سوا کچھ نہ کہے۔ میں تمہارے رب کی طرف سے واضح ثبوت لے کر آیا ہوں۔ لہٰذا بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دو۔" اس کے بعد، موسیٰ اور ہارون علیہ السلام فرعون کے پاس گئے اور کہا، خداوند، اسرائیل کا خدا یہ کہتا ہے میری قوم کو جانے دو تاکہ وہ بیابان میں میرے لیے ایک تہوار منا سکیں۔ فرعون نے کہا، "خداوند کون
ہے کہ میں اس کی بات مانوں، اور بنی اسرائیل کو جانے دوں؟ میں خداوند کو نہیں جانتا، اور میں بنی اسرائیل کو نہیں جانے دوں گا۔" قرآن میں، اللہ کو رب العالمین جیسے ناموں سے بیان کیا گیا ہے۔ یا تمہارا رب، کہا گیا ہے۔ ایسے نام جو سب کو شامل کرتے ہیں۔ وہ آفاقی ہیں۔ لیکن عہد نامہ قدیم میں، "اسرائیل کا خدا نام استعمال ہوتا ہے جو کسی ایک قوم کے لیے مخصوص لگتا ہے۔ جب فرعون نے موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا "تمہارا رب کون ہے؟" انہوں نے اسے بہت طاقتور جوابات دیے۔ قرآن میں مذکور جوابات براہ راست جوابات تھے جنہوں نے مصر کے جھوٹے خداؤں کے نظام کو چیلنج کیا۔ پھر اپنے پیغام کو ثابت کرنے کا لمحہ آیا۔ انہوں نے اپنی لاٹھی زمین پر پھینکی، اور اچانک، وہ ایک بہت بڑے سانپ میں بدل گئی۔ محل میں لوگ خوف سے جم گئےان کی
آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالا اور جب اسے باہر نکالا، تو وہ چمک رہا تھا ایک چمکتی ہوئی روشنی کی طرح خالص سفید۔ ان دنوں، جادو لوگوں کو سب سے زیادہ متاثر کرتا تھا۔ تو جب انہوں نے اس طرح کے معجزات دیکھائے تو وہ سب حیران رہ گئے۔ تاہم، فرعون غیر معمولی طور پر تیز ذہن کا مالک تھا اور اس میں لوگوں کو بہکانے کی مضبوط صلاحیت تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ہجوم کو کیسے متاثر کرنا ہے۔ اس نے باتیں کرنا شروع کر دیں، توجہ ہٹانے کی کوشش کی، موضوع بدلنے کی کوشش کی۔ ہم نے تمہیں سالوں تک اپنے درمیان پالا اور اب تم ناشکری کر رہے ہو۔ اور پھر، غیر متعلقہ طور پر، اس نے پوچھا "کیا تم نہیں جانتے کہ پچھلی نسلوں کا کیا ہوا؟" وہ قومی فخر کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ
لوگ یہ آسانی سے قبول نہیں کریں گے کہ ان کے آباؤ اجداد غلط ہو سکتے ہیں لیکن موسیٰ علیہ السلام اس کی چال سمجھ گئے۔ انہوں نے جواب دیا، ان کا علم میرے رب کے پاس، ایک کتاب میں درج ہے۔ میرا رب نہ غلطی کرتا ہے اور نہ بھولتا ہے۔ انہوں نے اسی وقت یہ بات ختم کر دی۔ لیکن فرعون نہیں رکا۔ اس نے حضرت موسیٰؑ کو پاگل کہہ کر ان کا مذاق اڑایا۔ جب اس نے معجزات دیکھے، تو کہا،۔یہ واقعی ایک ماہر جادوگر ہے اور ہجوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پھر وہ اپنے سرداروں کی طرف مڑا اور انہیں اکسایا۔ یہ اپنے جادو کے ذریعے تمہیں تمہاری زمین سے نکالنا چاہتا ہے۔ کیا مشورہ ہے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ لیکن حقیقت میں، موسیٰ علیہ السلام صرف بنی اسرائیل کو مصر سے باہر لے جانا چاہتے تھے۔ ان کا مصروالوں کو اپنی زمین سے نکالنے کا
کوئی ارادہ نہیں تھا۔ تاہم، عہد نامہ قدیم میں موسیٰ علیہ السلام کے کسی بھی معجزے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے یا اس پہلی ملاقات میں فرعون کی چالوں کا۔ البتہ اس میں فرعون کی ایک مکاری کا ذکر ہے کہ اس نے بنی اسرائیل پر کام کا بوجھ اور بھی بڑھا دیا۔ اور اگر وہ اسے سنبھالنے میں ناکام رہتے تو وہ انہیں اذیت دیتا۔ اس کا منصوبہ یہ تھا کہ وہ انہیں یہ یقین کرائے کہ موسیٰ ان کی زندگیوں میں مزید مصیبتیں ہی لایا ہے۔ فرعون کی باتیں جادو کی طرح تھیں۔ وہ ایک حقیقی شعبدہ باز تھا۔ وہ چند الفاظ سے ہی، پوری گفتگو کا رخ ایک طرف سے دوسری طرف موڑ سکتا تھا اور لوگوں کو جو چاہے یقین دلا سکتا تھا۔ لیکن پھر بھی، اس کا محل ہل چکا تھا۔ فرعون نے اپنے مشیروں کے ساتھ ایک میٹنگ کی، تاکہ فیصلہ کیا جاسکے کہ آگے کیا کرنا ہے منصوبہ
واضح تھا۔ وہ پورے مصر سے جادوگروں کو اکٹھا کرے گا اور تمام لوگوں کے سامنے ایک مقابلہ منعقد کرے گا۔ اس نے سوچا کہ اس سے ثابت ہو جائے گا کہ موسیٰ علیہ السلام ایک جادوگر سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ دراصل ایک اسٹیج سجا رہا تھا تاکہ پورا مصر ایک حقیقی نبوی معجزے کا گواہ بن سکے۔ جلد ہی، مصر کی پوری قوم انکا پیغام سنے گی اور اپنی آنکھوں سے ثبوت و شواہد دیکھے گی۔ اس نے موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کا دن مقرر کرنے کو کہا۔ لیکن وہؑ ہوشیار تھے۔ انہوں ، نے کہا: تمہاری ملاقات کا وقت زینت کے دن ہے یعنی تہوار کے دن اور لوگوں کو دن چڑھے اکٹھا کیا جائے۔ تاہم، عہد نامہ قدیم میں، ایسے ملک گیر مقابلے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جادوگروں سے مقابلہ محل کے اندر ہوتا ہے۔ لیکن قرآن کے الفاظ میں
ایک بہت ہی دلچسپ بات ہے۔ یہ اس دن کو "یوم الزینۃ" کہتا ہے یعنی "سجاوٹ اور خوبصورتی کا دن۔ اور جب ہم قدیم مصر کے تہواروں کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک قومی تہوار ملتا ہے جو اس سے بالکل میل کھاتا ہے، یعنی Opet Festival یہ ایک قومی تہوار تھاجو ہر سال زور و شورسے منایاجاتا تھا۔ گھر سجائے جاتے، مرد اور عورتیں اچھے کپڑے پہنتے، مندر سجائے جاتے بتوں کو آراستہ کیا جاتا اور ان مجسموں کو خوبصورتی سے سجائی گئی سڑکوں سے گزارا جاتا تھا۔ یعنی دوسرے الفاظ میں، حضرت محمد ﷺ کے لیے یہ جاننے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہ جاننا ممکن نہ تھا، قرآن نے اس دن کوایک معجزاتی انداز میں بیان کیا ہے۔ قرآن کے نازل ہونے سے چند صدیاں پہلے قدیم مصری زبان جڑ سے ختم ہو چکی تھی۔ دنیا میں کوئی بھی اسے پڑھنا نہیں جانتا تھا یہ بہت بعد میں
تاریخ میں، ہمارے زمانے کے قریب جا کر سمجھ میں آئی۔ تو، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کسی بھی مصری ذرائع تک رسائی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہم نے اس کی تفصیل اپنی پچھلی ویڈیوز میں سے ایک میں بیان کی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں ہم تفصیل میں نہیں جائیں گے۔ لیکن اگرچہ وہ عہد نامہ قدیم میں مذکور نہیں ہیں قرآن بہت سے دلچسپ جملے استعمال کرتا ہے جو اس دور کی بالکل عکاسی کرتے ہیں۔ قرآن کے مطابق، جادوگروں کے ساتھ مقابلہ تہوار کے دن، صبح کے وسط میں ہوا۔ اور اس وقت کے بارے میں ایک بہت دلچسپ بات ہے۔ قدیم مصری عقیدے میں، جادو کو تہواروں کے دوران اور دن چڑھے یا صبح کے وقت سب سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا تھا تو موسیٰ علیہ السلام نے انہیں اس وقت چیلنج کیا جب وہ خود کو زیادہ مضبوط سمجھتے تھے۔
اور اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قرآن اس بھولی ہوئی قدیم مصری تہذیب کی نہایت معجزانہ انداز میں عکاسی کرتا ہے۔ اور ان میں سے کوئی بھی تفصیل عہد نامہ قدیم میں مذکور نہیں ہے۔ ایک اور تفصیل جو عہد نامہ قدیم میں مذکور نہیں ہے وہ فرعون کے آدمیوں میں سے ایک کا نام ہے۔ مقابلے کا دن آنے سے پہلے ایک منظر میں جہاں فرعون اپنے حکام سے بات کر رہا ہے ہم ایک دلچسپ جملہ سنتے ہیں۔ فرعون نے کہا، "اے سردارو، میں اپنے سوا تمہارے لیے کسی اور خدا کو نہیں جانتا ہوں۔ ہامان، میرے لیے آگ جلاؤ تاکہ میں اس میں مٹی کی اینٹیں پکاسکوں پھر میرے لیے ایک اونچی عمارت بناؤ تاکہ میں اپنی اآنکھوں سے موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں۔ اور بے شک، میں سمجھتا ہوں کہ وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ قرآن کی یہ آیت طویل
عرصے تک اسلام کے خلاف اعتراض کے طور پر استعمال کی جاتی رہی؟ جانتے ہیں کیسے؟ ہامان کا نام عہد نامہ قدیم میں بھی آتا ہے لیکن بالکل ہی مختلف وقت اور جگہ پر۔ اسے استعمال کرتے ہوئے، کچھ لوگوں نے دعویٰ کیا کہ، معاذ اللہ قرآن نے مختلف کہانیوں کو ملا دیا ہے۔ لیکن بعد میں تاریخی دریافتوں نے ثابت کیا کہ یہ قرآنی آیت دراصل ایک معجزہ تھی۔ جب ہم فرعون کے اسے دئے گئے حکم کو دیکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہامان تعمیراتی کام اور پتھر کی کانوں کا انچارج تھا۔ تو حقیقت میں یہ ہامان ہے کون ؟ ہم جس جواب کی تلاش میں ہیں وہ ایک قدیم مصری یادگار پر ملا جو ویانا کے ہوف میوزیم میں رکھی گئی ہے۔ قدیم مصر کے تمام کتبوں کی بنیاد پر ماہرین نے نئے بادشاہت کے دور کے ذاتی ناموں کی ایک لغت تیار کی اور ہامان کا نام بھی اس میں درج
ہے۔ اور اندازہ لگائیں اس کا لقب کیا ہے؟ "پتھر کی کان کے مزدوروں کا سردار،" بالکل ویسے ہی جیسے قرآن نے اسے بیان کیا اس دریافت سے ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پہلے۔ اب قصے کی طرف آتے ہیں مصر کے تمام لوگ میدان میں جمع ہو گئے اور موسیٰؑ پورے مجمعے کو وہ معجزہ دکھانے والے تھے جو اللہ نے انہیں عطا کیا تھا۔ جادوگروں نے ان کی طرف دیکھااور پوچھا "موسیٰ، تم پہلے پھینکو گے، یا ہم پھینکیں؟" انہوں نے جواب دیا "نہیں، تم پہلے پھینکو۔" اور اچانک، ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو سے انہیں ایسے لگیں کہ وہ سانپوں کی طرح حرکت کر رہی تھیں۔ حضرت موسیٰ کے دل میں ذرا سا خوف آیا لیکن اللہ ان کے ساتھ تھا۔ ہم نے کہا، ڈرو مت۔ بے شک صرف تم ہی غالب ہو۔ جو تمہارے دائیں ہاتھ میں ہے اسے پھینکو جو کچھ انہوں نے بنایا ہے یہ اسے
نگل جائے گا کیونکہ انکا بنایاہوا جادوگر کی چال سے زیادہ کچھ نہیں جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے چاہے وہ کہیں بھی جائیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی لاٹھی زمین پر پھینکی۔ تمام جادوگر خوفزدہ ہو گئے۔ لاٹھی ایک بہت بڑے سانپ میں بدل چکی تھی اور اس نے تمام جعلی چھوٹے سانپوں کو نگلنا شروع کر دیا۔ وہ ماہر جادوگر تھے، لہٰذا وہ جانتے تھے کہ جادو کیا ہے اور حقیقت کیا ہے۔ وہ تمام جادوگر سجدے میں گر گئے اور اپنے ایمان کا اعلان کر دیا۔ اس صبح، وہ اپنے گھروں سے بالکل مختلف خیالات کے ساتھ نکلے تھے لیکن اب وہ تمام جادوگر بالکل مختلف حالت میں تھے۔ مقابلے سے پہلے جادوگروں نے فرعون سے پوچھا تھا کہ اگر وہ جیت گئے تو انہیں کیا انعام ملے گا اور اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کے سب سے قریبی لوگوں میں شامل ہو جائیں گے۔
یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا کیونکہ فرعون نے ایک ایسا نظام بنایا تھا جہاں عملی طور پر اس کی اپنی نقلی جنت اور جہنم تھی۔ جو لوگ اسے خوش کرتے تھے وہ عیش و عشرت میں رہتے تھے اور وہ جسے چاہتا تھا اسے بدترین حالات میں رکھتا تھا۔ فرعون نے کہا، "تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ میری اجازت کے بغیر اس پر ایمان لے آئے یہ ضرور تمہارا استاد ہوگا جس نے تمہیں جادو سکھایا ہوگا۔ میں یقیناً تم سب کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دوں گا اور تم سب کو کھجور کے درختوں پر سولی چڑھا دوں گا۔ تم واقعی دیکھو گے کہ کس کی سزا زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔ انہوں نے کہا، "اس کی قسم جس نے ہمیں پیدا کیا ہم لوگ تمہیں کبھی بھی ان واضح ثبوتوں پر ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے پاس آئے ہیں۔ تو تمہیں جو فیصلہ کرنا ہے کر لو۔ تم صرف اورصرف اس
دنیاوی زندگی کے معاملات کا فیصلہ کر سکتے ہو۔ بے شک، ہم اپنے رب پر ایمان لائے ہیں تاکہ وہ ذات ہمیں ہمارے گناہوں اور اس جادو کیلیے معاف کر دے جو تم نے ہم سے زبردستی کروائے ہیں۔ اور اللہ بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ جیسے ہی ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوا وہ ہیرو بن گئے اور وہ سب اس دن شہید کر دئے گئے۔ یہ ایک خوفناک صورتحال تھی۔ کچھ مصری جنہوں نے ان واقعات کو دیکھا وہ بھی ایمان لے آئے۔ انہوں نے اپنے پرانے جھوٹے عقائد چھوڑ دیے اور ایک سچے خدا، اللہ کی عبادت کی طرف رجوع کیا۔ قصے کے عہد نامہ قدیم کے ورژن میں جو اپنی لاٹھی پھینکتا ہے وہ موسیٰ نہیں، بلکہ ہارون علیہ السلام ہیں۔ تاہم، اسی متن میں، کہانی میں پہلے وہ معجزہ موسیٰ علیہ اللسلام کو دیا گیا تھا۔ لگتا ہے کہ یہاں کرداروں کے درمیان کچھ الجھاؤ ہے۔
عہد نامہ قدیم میں دیگر واضح اختلافات یہ ہیں کہ یہ واقعہ عوامی نہیں ہے، اور جادوگروں کے ایمان قبول کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اور عہد نامہ قدیم میں، توجہ لوگوں کی ابدی زندگی بچانے پر نہیں؛ بلکہ بنی اسرائیل کی عارضی دنیاوی زندگیوں کو بچانے پر ہے۔ اس دن کے بعد فرعون اور بھی زیادہ ظالم ہو گیا۔ اس نے پھر سے ماؤں سے بچے چھیننا شروع کر دئے۔ بنی اسرائیل کو اور بھی سخت حالات میں کام کرنے پر مجبور کر کے اس نے جو چاہا تھا حاصل کر لیا تھا۔ کہانی کے دونوں ورژنز میں، بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰؑ سے شکایت کی انہوں نے کہا، ہم پر ہمیشہ ظلم ہوا ہے آپ کے آنے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ لیکن ان کا جواب ان دو روایات میں مختلف ہے۔ قرآن کے مطابق، ایک رہنما کے طور پر انہوں نے ان الفاظ سے انہیں تسلی دینے کی کوشش کی
امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنائے گا تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ افسوس، آج ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ ان کی اولاد نے کیسے دنیا میں طاقتور عہدے حاصل کیے اور وہ اس کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ شاید اس بارے میں مزید کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم، عہد نامہ قدیم کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو متاثر نہیں کر سکے، بلکہ ان سے متاثر ہو رہے تھے۔ اور اس وجہ سے انہوں نے خدا سے باغیانہ لہجے میں گفتگو کی۔ موسیٰ خداوند کے پاس گئے اور کہا 'اے خداوند آپ اس قوم پر مصیبت کیوں لائے؟ کیا مجھے اسی لیے بھیجا تھا؟ جب سے میں فرعون کے پاس بات کرنے گیا ہوں اس نے اس قوم پر مصیبتوں کے پہاڑ توڑ ڈالے ہیں اور آپ نے اپنی قوم کو بالکل بھی نہیں بچایا۔ ایک نبی سے
متوقع پختگی کے مقابلے میں کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ ردعمل جذباتی اور ناپختہ ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے صبر سے فرعون کو ایمان کی دعوت دینا جاری رکھی۔ لیکن فرعون سچائی سے انکار کرتا رہا اسی لئے اللہ اس کی قوم پر آفتیں بھیجتا رہا سیلاب، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک پانی کا خون میں بدلنا خشک سالی اور قحط۔ آج بھی، ہم ان آفات کو ایک تحریری ریکارڈ میں دیکھ سکتے ہیں جو اس زمانے کے ایک مصری کا لکھا ہوا ہے۔ یہ ایک دستاویز ہے جسے کہا جاتا ہے۔Ipuwer Papyrus جو نیدرلینڈز کے نیشنل میوزیم میں رکھی گئی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔اس کی کچھ لائنیں واقعی حیران کن ہیں۔ بے شک، دریا خون ہے پھر بھی لوگ اسے پیتے ہیں۔ لوگ انسانوں سے کتراتے ہیں اور پانی کے لیے ترستے ہیں مطلب ہر کوئی دوسروں سے دور رہتا ہےاور وہ پانی کے لیے بے
چین ہیں۔ درحقیقت، جو کل دیکھا گیا تھا وہ ختم ہو چکا ہے۔ زمین اب خشک اور برباد ہو گئی ہے، جیسے کوئی کھیت جس کی ساری فصل کاٹ لی جائے۔ بالائی مصر اب بنجر ہو گیا ہے۔ پورا محل اپنی آمدنی سے محروم ہے۔ اس میں حق سے گندم اور جو ہنس اور مچھلیاں آتی تھیں۔ تمام جانور، ان کے دل روتے ہیں۔ مویشی کراہتے ہیں۔ درحقیقت ہر طرف اناج ختم ہو گیا ہے۔ نو دن تک محل سے کوئی بھی باہر نہیں نکلا اور کوئی اپنے ساتھی کا چہرہ نہیں دیکھ سکا۔ زمین بغیر روشنی کے ہے۔ "طاعون،" یعنی وبا "پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔" لیکن ان میں سے کوئی بھی آزمائش فرعون یا اسکی قوم کو اپنا طرز بدلنے پر مجبور نہیں کر سکی اب مصر چھوڑنے کا وقت آگیا تھا۔ اللہ کے حکم سے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو اکٹھا کیا اور رات کے وقت انہیں خفیہ طور
پر شہر سے باہر لے گئے۔ جب صبح ہوئی، تو فرعون کو احساس ہوا کہ وہ جا چکے ہیں۔ اور ایک بھی نشان باقی نہیں تھا۔ تو وہ جان گیا کہ وہ فرار ہو گئے ہیں۔ اس نے فوراً اپنی فوج کو اکٹھا کیا اور ان کے پیچھے دوڑا۔ دو دن بعد، وہ سمندر تک پہنچے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ کیا کریں۔ اور پھر افق پر، انہوں نے ایک فوج کو قریب آتے دیکھا یعنی فرعون اور اس کے سپاہی۔ ہجوم میں خوف پھیل گیا۔ "ہم پکڑے گئے، اے موسیٰ" وہ لوگ چلّائے۔ ان کے سامنے ایک سمندر تھا جو ایک فوج کی طرح خطرناک تھا، اور ان کے پیچھے ایک فوج جو سمندر کی طرح تھی۔ وہ پوری طرح سے گھر چکے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہرگز نہیں میرا رب یقیناً میرے ساتھ ہے۔ وہ میری رہنمائی کرے گا۔ تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی ''اپنی لاٹھی سمندر پر مارو۔ اور سمندر پھٹ گیا۔
ہر حصہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہو گیا۔'' وہ تیزی سے سمندر سے گزر کر دوسری طرف جانے لگے۔ ان کے پیچھے، فرعون اور اس کی فوج بھی سمندر میں داخل ہو گئی اس بات سے بالکل بے خبر کہ وہ سیدھے جال میں جا رہے ہیں ۔ سالوں پہلے کا خواب اب سچ ہو نے والا تھا۔ جب بنی اسرائیل باحفاظت دوسری طرف پہنچ گئے تو سمندر بند ہونے لگا۔ ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرایا۔ پھر فرعون اور اس کے سپاہیوں نے ظلم اور زیادتی سے ان کا پیچھا کیا۔ پھر جب فرعون ڈوب رہا تھا، تو اس نے پکارا'میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی خدا نہیں سوائے اس ذات کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور اب میں فرمانبرداروں میں سے ایک ہوں۔ اس سے کہا گیا، کیا اب تو ایمان لاتا ہے لیکن تم نے ہمیشہ نافرمانی کی اور فساد کرنے والوں میں سے تھے۔ اس دن تک، اسے ایمان لانے
کے بہت سے مواقع دیے گئے تھے۔ ایک کے بعد ایک آفت اس پر بھیجی گئی۔ اور ہر بار، اس نے اپنے اعمال پر پچھتاوے کا دعویٰ کیا اور موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ وہ اپنے رب سے دعا کریں کہ ان سے یہ مصیبت اٹھا لے۔ لیکن جیسے ہی حالات بہتر ہوتے وہ ویسا ہی ہو جاتا جیسا پہلے تھا۔ اس طرح کے جھوٹے ایمان نے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ فرعون اور اس کی فوج پوری طرح سے تباہ ہو گئی۔ جب قرآن قصے کے اس حصے کو بیان کرتا ہے تو وہ ایک حیران کن جملہ استعمال کرتا ہے "نہ آسمان اور زمین ان پر روئے،" یعنی ان پر آہ و بکا نہیں کی۔ لیکن قرآن ایسی بات کیوں کہے گا؟ جب ہم قدیم مصر کی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک چونکا دینے والا جواب ملتا ہے۔ ان دنوں، یہ مانا جاتا تھا کہ جب کوئی فرعون مرتا ہے تو آسمان اور زمین اس کے لیے روتے
ہیں۔ یہ عقیدہ پانچویں سلطنت کے اہرام کے متون میں پایا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، "آسمان تمہارے لیے روتا ہے زمین تمہارے لیے کانپتی ہے۔" جب ان متون تک کوئی رسائی بالکل بھی نہیں تھی قرآن معجزانہ طور پر وہی الفاظ استعمال کرتا ہے جو وہ استعمال کرتے تھے۔ اور ایک بار پھر، اس میں سے کچھ بھی عہد نامہ قدیم میں مذکور نہیں ہے۔ ایک اور تفصیل جو اس میں شامل نہیں ہے وہ یہ ہے کہ فرعون کے جسم کا کیا ہوگا۔ قرآن میں سورہ یونس کی آیت نمبر 92 میں اللہ فرماتا ہے کہ وہ فرعون کے جسم کو آنے والی نسلوں کے لیے ایک نشانی اور سبق کے طور پر محفوظ رکھے گا۔ اور جو چیز واقعی قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ دو دریافتیں اس آیت سے بالکل میل کھاتی ہیں۔ یہ پہلی ہے۔ سن1896 میں، مصر میں آثار قدیمہ کی تحقیق کے دوران گیبیلین کے علاقے میں چھ
لاشیں ساحل پر بہہ کر آئی تھیبس سے تقریباً 4 کلومیٹر جنوب میں۔ یہ حیران کن تھا کیونکہ یہ لاشیں کئی صدیوں پرانی تھیں پھر بھی وہ سڑی نہیں تھیں۔ اور یہاں سب سے چونکا دینے والا حصہ ہے وہ ایک ایسی حالت میں پڑی تھیں جو بالکل سجدے کی طرح لگ رہی تھی۔ ان لاشوں کو لایا گیا اور اب وہ برطانیہ کے برٹش میوزیم میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں جہاں اب ہر روز سینکڑوں لوگ انہیں دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ اگرچہ انہیں حنوط نہیں کیا گیا تھا تب بھی وہ لاشیں معجزاتی طور پر ایسی تھیں کہ ان کے جسم صدیوں تک بالکل محفوظ رہے۔ یہ فرعون کے جسم کے بارے میں پہلی تھیوری ہے لیکن دوسری وہ ہے جو اس قرآنی آیت کو واقعی ناقابل تردید بناتی ہے۔ تو، وہ کیا ہے؟ 19ویں صدی کی ابتداء سے، ماہرین آثار قدیمہ نے مصر کے مختلف حصوں میں فرعون کی ممیاں
دریافت کرنا شروع کی۔ آج، تمام فرعون جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ حضرت موسیٰؑ کے زمانے میں تھے۔ دنیا بھر کے عجائب گھروں میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔ تو، اگر اس کا جسم صدیوں بعد نہیں بلکہ واقعے کے فوراً بعد ساحل پر ملا تو محل کے لوگوں نے اسے ضرور اٹھا لیا ہوگا اور اسے ممی بنا دیا ہوگا جیسا کہ دوسروں کے ساتھ کیا۔ تو چاہے فرعون سن 1896 میں ملنے والی ان چھ لاشوں میں سے ایک تھا یا اس کا جسم اسی زمانے میں مل گیااور حنوط کر دیا گیا۔ دونوں صورتوں میں، اسے محفوظ رکھا گیا ہے اور آنے والی نسلوں کو دکھایا گیا ہے جیسا کہ قرآن نے کہا تھا۔ یقیناً، جب قرآن نازل ہوا تھا تو کسی کو کوئی اندازہ نہیں تھا کہ قدیم مصری حنوط کرکے جسموں کو محفوظ رکھا کرتےتھے۔ بنی اسرائیل کو ایک معجزے کے ذریعے فرعون کے ظلم سے
بچا لیا گیا تھا اور انہوں نے آزادی کی طرف اپنے پہلے قدم اٹھائے تھے۔ اور صحرا میں ایک نئی زندگی شروع ہو چکی تھی۔ لیکن وہ ایک ایسی قوم تھی جو اپنا راستہ بھٹک چکی تھی۔ ان کی سب سے بڑی ضرورت خدائی رہنمائی تھی۔ تو اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو کوہ سینا پر اکیلے بلایا تاکہ انہیں وحی عطا کرے۔ یہ کوئی عام ملاقات نہیں تھی۔ آسمانوں اور زمین کے رب کی طرف سے عظیم ترین الہامی کتابوں میں سے ایک تورات، اس دن دی جانی تھی۔ پہلے، اللہ نے اس ملاقات کو تیس دن کے لیے مقرر کیا۔ تو حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو مطلع کیا اور اللہ سے ملنے چلے گئے۔ لیکن جب موسیٰ علیہ السلام انہیں چھوڑ گئے تو آزمائش کے طور پر اللہ نے اس وقت میں دس دن اور بڑھا دیے۔ اور جب وہ اپنے وعدے کے وقت پر واپس نہیں آئے تو ان کی قوم کے اندر گہرائی میں چھپی
ہوئی چیز ابھرنے لگی۔ وہ کلیم اللہ تھے وہ جو اللہ سے براہ راست بات کرتے تھے۔ اس پہاڑ پر ایک بہت گہرا اور پراسرار تجربہ ہوا۔ اور آخر میں، اللہ نے انہیں پتھر کی تختیوں پر لکھا ہوا عہد دیا۔ حضرت موسیٰؑ اپنی قوم کے پاس واپس جانے کے لیے بہت پرجوش تھے۔ لیکن جب وہ نیچے آئے، تو ان کی قوم ایک گہری مایوس کن حالت میں تھی۔ وہی لوگ جنہوں نے اللہ کے اتنے معجزات دیکھے تھے اب ایک سونے کے بچھڑے کے مجسمے کی پوجا کر رہے تھے۔ وہ اتنے غصے میں آئے کہ انہوں نے تختیاں زمین پر پھینک دیں، جیسے کہہ رہے ہوں کہ تم اللہ سے ایسا پیغام پانے کے لائق نہیں ہو۔ پہاڑ پر جانے سے پہلے، انہوں نے حضرت ہارونؑ کو بطور نگران چھوڑا تھا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے بھائی انہیں نہیں روک سکے تو موسیٰؑ نے انہیں ان کی داڑھی سے پکڑا اور
وضاحت طلب کی۔ لیکن یہ بت آخر بنایا کس نے تھا؟ عہد نامہ قدیم میں اس کا جواب کافی چونکا دینے والا ہے: خود حضرت ہارونؑ نے۔ لیکن وہ ایک نبی تھے جنہیں لوگوں کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے سے روکنے کیلئے بھیجا گیا تھا لاکھوں لوگوں میں سے اللہ کا منتخب کردہ ایک شخص کیسے ایک ایسا گناہ کر سکتا ہے جس کی جرأت ایک عام مؤمن بھی نہیں کرے گا؟ افسوس، یہ ایک واضح جھوٹ تھا جو ان لوگوں نے گھڑا تھا جن کے پاس صدیوں تک عہد نامہ قدیم کو بدلنے کی طاقت تھی۔ لیکن قرآن ایک بالکل مختلف قصہ سناتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجسمہ بنانے والا سامری نامی ایک شخص تھا۔ یہ کہہ کر، یہ نہ صرف اللہ کے ایک نبی کو ایسے خوفناک الزام سے بری کرتا ہے بلکہ ایک اور آثار قدیمہ کا معجزہ بھی ظاہر کرتا ہے۔ اور، یہ معجزہ کیا ہے؟ جب موسیٰ علیہ السلام دور
تھے تو ایک سامری نامی یہ شخص آگے بڑھا۔ اس نے لوگوں سے کہا "میں تمہارے لیے خدا کا مجسمہ بناتا ہوں۔" تو انہوں نے اسے اپنا سارا سونا دے دیا۔ سامری نے اس سونے کو پگھلا کر ایک سونے کا بچھڑا بنادیا۔ لیکن وہ یہیں نہیں رکا۔ اس نے اس میں ایک سوراخ بھی بنایا اور اس سوراخ سے ایک عجیب آواز نکلی جیسے بچھڑا آواز نکال رہا ہو۔ اب یہاں ایک دلچسپ بات ہے۔ یہ نام، سامری، عہد نامہ قدیم میں کہیں نہیں ملتا ہے۔ لیکن قدیم مصری ذرائع میں، نو کاہنوں کا ایک گروہ ہے جسے سمیریو کہا جاتا ہے جنہیں سمیر یا سیم کاہن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کاہن "منہ کھولنے" نامی تقریبات میں حصہ لیتے تھے جہاں وہ ایسا دکھاتے تھے جیسے کوئی مجسمہ یا حتیٰ کہ کوئی مردہ شخص بول رہا ہو۔ وہ ایک وہم پیدا کر دیتے تھے۔ اب ذرا سوچیں، ایک سونے کا بچھڑا جو
آواز نکالتا ہے اور اسے بنانے والے کا نام بالکل سمیریو جیسا ہی لگتا ہے۔ کیا یہ کچھ زیادہ ہی مماثلت نہیں رکھتے؟ موسیٰ علیہ السلام کی کوششوں سے بنی اسرائیل سیدھے راستے پر واپس آ گئے۔ لیکن یہ پہلی بار نہیں تھا کہ انہوں نے ان کی ناشکری کی تھی اور نہ ہی یہ آخری بار ہوگا۔ وہ 40 لمبے سال صحرا میں بھٹکتے پھریں گے۔ ایسے وقت بھی آئے جب انہوں نے اللہ کا حکم موسیٰ علیہ السلام سے سنا تو انہوں نے ان سے کہا "کیا آپ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں؟" دوسری بار اللہ نے ان کے لئے آسمان سے بہتر ترین کھانا اتارا لیکن وہ شکایت کرتےاور کہتے کیا ہر روز ہم لوگ یہی کھائیں گے؟ ہمیں کچھ اور چاہیے۔" ایک ایسا وقت آیا جب اللہ نے انہیں ایک ظالم قوم دکھائی اور انہیں لڑنے کا حکم دیا۔ لیکن انہوں نے اپنے نبی سے کہا تم اور تمہارا رب جا
کر لڑو۔ ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔" انہوں نے یہ نہیں کہا "ہمارا رب"، انہوں نے کہا، "تمہارا رب۔" ان کی نافرمانی اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ حضرت موسیٰؑ نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور کہا میرے رب، میرا اختیار اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر نہیں۔ بنی اسرائیل کا خواب اور ان کا حتمی مقصد یروشلم کی سرزمین تک پہنچنا اور اسے اپنا گھر بنانا تھا۔ یہ حضرت موسیٰؑ کے سب سے بڑے خوابوں میں سے ایک تھا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی اس سرزمین کی گہری محبت میں گزاری۔ لیکن اپنی قوم کی مسلسل نافرمانی اور بزدلی کی وجہ سے وہ اس خواب کو پورا کرنے سے پہلے ہی وفات پا گئے جس کی وہ زندگی بھر خواہش کرتے رہے۔ یہ دل دہلا دینے والا تھا، ایک ایسا درد جسے الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ اگرچہ ہم نے اس قصے کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہی
بیان کیا ہے توایک بات اب تک واضح ہو جانی چاہیے عہد نامہ قدیم میں موجود ورژن تبدیل شدہ ہے، تحریف کی گئی ہے۔ اور اس میں ایسے دعوے اور صفات شامل ہیں جو اللہ اور اس کے نبیوں کے شایان شان نہیں۔ کیا اللہ واقعی چوری کا حکم دے گا؟ کیا کوئی نبی کبھی خدا سے بغاوت کرے گا یا اس پر ناانصافی کا الزام لگائے گا؟ کیا کوئی نبی سونے کا بت بنائے گااور لوگوں کو اس کی پوجا کی دعوت دے گا؟ اور اب، دیکھیں کہ قرآن اس کے بجائے کیا دیتا ہے معجزات کا ایک سلسلہ جو شک سے بالاتر ہو کر دکھاتا ہے کہ یہ واقعی اللہ کا کلام ہے۔ ان باتوں کے بارے میں سوچیں جن پر ہم نے بات کی ہے۔ جبکہ عہد نامہ قدیم ہر مصری حکمران کو "فرعون" کہتا ہے اور قرآن ہر حکمران کے لیے ان کے وقت کے مطابق صحیح لقب استعمال کرتا ہے۔ قرآن "سجاوٹ اور خوبصورتی کا
دن" کا جملہ استعمال کرتا ہے اور یہ ایک حقیقی تہوار سے بالکل میل کھاتا ہے جو کہ اس وقت قدیم مصر میں منایا جاتا تھا۔ یہ ہامان کا ذکر بالکل اسی کردار میں کرتا ہے جو اس کے تاریخ میں تھا پتھر کی کانوں اور تعمیراتی کاموں کا انتظام کرنے والا۔ یہ مصر میں آنے والی آفات کے بارے میں ایک کے بعد ایک بتاتا ہے۔ اس آیت میں، "نہ آسمان نہ زمین ان پر روئے،" یہ قدیم مصری عقائد کا واضح حوالہ دیتا ہے۔ یہ کہتا ہے کہ فرعون کا جسم محفوظ رکھا جائے گا۔ سامری کا نام ذکر کر کے قرآن اس وقت کے ایک کاہنوں کے گروہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سات معجزات۔ اس وقت کی ایک واضح اور تفصیلی تصویر پیش کر کے اللہ نے ہمیں دکھایا کہ وہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے جو واقع ہوئی۔ اس نے لوگوں کے درمیان گفتگو کو بھی شامل کیا اس بات کو بالکل واضح کرتے
ہوئے کہ اس کے علم سے کوئی بھی چیز باہر نہیں۔ یہ ہر چیز کا احاطہ کرتا ہے۔ تو، ان تمام واضح ثبوتوں کے بعد اگر کوئی پھر بھی سچائی سے آنکھیں بند کرنے کا انتخاب کرتا ہے تو وہ اس فرعون سے کیسے مختلف ہوگا جس کے بارے میں ہم نے بات کی؟ تو، ہم اس کہانی میں کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم ان جادوگروں کی طرح ہیں جنہوں نے سچ دیکھتے ہی سر تسلیم خم کر دیا؟ یا ہم اس فرعون کی طرح ہیں جس نے اپنی آنکھوں سے حق کو دیکھ کر بھی اس کا انکار کر دیا؟ کیا ہم اس ماں کی طرح ہیں جس نے اللہ کی طرف سے آئی بات پر اتنا گہرا بھروسہ کیا کہ مکمل طور پراطاعت کرتے ہوئے اپنے بچے کو ٹوکری میں رکھ دیا؟ یا ہم ان لوگوں کی طرح ہیں جن کے دل سچائی سے اندھے ہو گئے اور انہوں نے اللہ کے نبی سے منہ موڑ لیا؟ اب یا تو صرف ابدی خوشی ہے یا ابدی نقصان ابدی
جنت ہے یا ابدی جہنم۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔