Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Taif Mein Do Meel Tak, Nabi Pak ﷺ Par Pathrao Kiya Gaya– AI Se Banayi Gayi – Aey Rasool | Ep. 4

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

تصور کریں ایسی بھوک کا۔۔۔ جہاں آپ اور آپ کے رشتے دار ایک حصار میں قید ہوں، جبکہ باہر والوں کو ایسی کوئی پریشانی نہ ہو۔ بھوک سے بچے بلک رہے ہیں، اور مائیں شدید کرب میں ہیں کیونکہ وہ انہیں چپ کرانے سے قاصر ہیں۔ نہ انہیں خود کھانے کو کچھ مل رہا ہے، نہ ہی بچوں کو کھلانے کے لیے۔ جہاں دیکھیں، لوگ نڈھال نظر آتے ہیں۔ زندہ رہنے کے لیے، کئی روز سے آپ کی خوراک یا تو درختوں کے پتے ہیں یا پھر زمین سے ملنے والا جانور کی کھال کا سوکھا ٹکڑا۔ نہ آپ اپنی بھوک مٹا سکتے ہیں، نہ ہی دوسروں کا پیٹ بھر سکتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں دو ناقابلِ برداشت بوجھ۔ یہ تمام مصائب اور ظلم و ستم نبوت کے ساتویں سال پیش آئے، مکہ کی ایک گھاٹی میں جسے شِعبِ ابی طالب کہا جاتا ہے۔ یہ ویڈیو سیریز معتبر اسلامی ذرائع سے لیے گئے سینکڑوں حوالہ جات پر مبنی ہے۔ تمام اے آئی (AI) مناظر مستند علمائے کرام کی مشاورت سے تیار کیے گئے ہیں اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ ان دنوں مکہ نے مسلمانوں کو بھوک سے تڑپتے دیکھا۔ لیکن یہ کب تک چلتا؟ دو دن؟ تین دن؟ ایک ہفتہ یا مہینہ؟ نہیں، بالکل بھی نہیں۔ یہ سلسلہ تین طویل سالوں تک جاری رہا۔ سالوں تک نبی پاک ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے وہ سختیاں جھیلیں ،جو ہم شاید ایک دن بھی برداشت نہ کر پاتے۔ اس دور کو بعد میں "بائیکاٹ کے سال" کہا گیا۔ آخر ہوا کیا تھا؟ جب سب کچھ بہتر ہوتا محسوس ہو رہا تھا، تو نوبت یہاں تک کیسے پہنچی؟ آئیے ذرا پیچھے چلتے ہیں۔ یہ نبوت کا ساتواں سال تھا، اور مکہ کے بت پرست ابھی تک اسلام کو پھیلنے سے روکنے کا کوئی راستہ نہیں ڈھونڈ سکے تھے۔ تمام تر تشدد اور دباؤ کے باوجود، مسلمانوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ ان کی ہر چال ناکام ہو رہی تھی۔ اور تو اور، وہ حبشہ ہجرت کر جانے والے مسلمانوں کو بھی واپس لانے میں ناکام رہے تھے۔ پھر جب حمزہؓ اور عمرؓ نے اسلام قبول کیا، تو قریش کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔ انہیں احساس ہوا کہ اگر یہی حال رہا تو جلد ہی مکہ پر اسلام کا غلبہ ہوگا۔ اس سب کو ختم کرنے کے لیے، سردارانِ قریش جمع ہوئے اور قسم کھائی۔ "چاہے خفیہ ہو یا اعلانیہ، ہم محمد (ﷺ) کو ضرور قتل کر یں گے۔" "یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں، ہم متفق ہیں۔" ان حالات نے ابو طالب کو بے حد فکرمند کر دیا۔ چنانچہ انہوں نے بنو ہاشم اور بنو المطلب کے خاندانوں کو جمع کیا اور انہیں کہا کہ وہ نبی پاک ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوں اور ہر خطرے سے ان کی حفاظت کریں۔ عبدالمطلب کے کچھ بیٹوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا، لیکن ابو طالب کی پکار سنتے ہی وہ فوراً چلے آئے۔ کیونکہ اس زمانے میں، چاہے کچھ بھی ہو، لوگوں کا مذہب چاہے الگ ہو، خاندانی بندھن بہت مضبوط ہوتے تھے۔ کوئی یہ گوارا نہیں کرتا تھا کہ باہر کا آدمی ان کے رشتہ دار کو نقصان پہنچائے۔ یہ پورے قبیلے کے لیے شرم کی بات ہوتی۔ چنانچہ، تمام بنو ہاشم اور بنو المطلب شِعبِ ابی طالب میں جمع ہوئے اور نبی پاک ﷺ کو اپنی حفاظت میں لے لیا۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس گھاٹی میں نبی ﷺ کو قتل کرنا آسان نہیں ہوگا، قریش دارالندوہ میں جمع ہوئے تاکہ کوئی منصوبہ بنا سکیں۔ اور وہاں جو فیصلہ ہوا اس نے ثابت کر دیا کہ اسلام کے دشمنوں کے دلوں میں رحم نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ ان کے معاہدے کے مطابق: "کوئی بھی بنو ہاشم یا بنو المطلب کی بیٹیوں سے نکاح نہیں کرے گا۔ اور نہ ہی کوئی اپنی بیٹیاں انہیں دے گا۔ نہ انہیں کچھ بیچا جائے گا، اور نہ ہی ان سے کچھ خریدا جائے گا۔ کوئی ان کے گھر نہیں جائے گا، نہ ان کے پاس بیٹھے گا، نہ ملاقات کرے گا، اور نہ ہی ان سے بات کرے گا۔" جب تک وہ قتل کے لیے نبی ﷺ کو حوالے نہیں کرتے، صلح کی کوئی پیشکش قبول نہیں کی جائے گی۔ اور ان پر بالکل بھی رحم نہیں کھایا جائے گا۔ یہ شرائط لکھ لی گئیں۔ اور اس معاہدے کو مقدس درجہ دینے کے لیے، اسے کعبہ کے اندر لٹکا دیا گیا۔ جوان، بوڑھے، مرد، خواتین اور بچے، پورے بنو ہاشم کو شِعبِ ابی طالب میں بائیکاٹ پر مجبور کر دیا گیا۔ نبی ﷺ، خدیجہؓ، ابو طالب، سعد ابن ابی وقاصؓ، حمزہؓ، علیؓ، بنو ہاشم کا ہر ایک فرد معاشرے سے مکمل طور پر کٹ کر رہ گیا۔ سوائے ایک شخص کے: ابو لہب۔ وہ بھی بنو ہاشم سے تھا، مگر اس نے اپنے ہی لوگوں سے الگ ہونا پسند کیا۔ اس کا دل اتنا سیاہ ہو چکا تھا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کی موت کی دعا کرتا۔ وہ مکہ آنے والے قافلوں کو روکتا اور چلاتا: "اے تاجروں!

محمد (ﷺ) کے خاندان کے لیے قیمتیں اتنی بڑھا دو کہ وہ تم سے ایک چیز بھی نہ خرید سکیں۔ تم جانتے ہو کہ میں مالدار ہوں اور اپنی بات کا پکا ہوں۔ اگر تم ایسا کرو گے، تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ تمہیں نقصان نہیں ہوگا۔" اس نے ان کا سارا نقصان پورا کرنے کا وعدہ کیا۔ چنانچہ تاجروں نے اس پر بھروسہ کیا اور قیمتیں کئی گنا بڑھا دیں۔ اور آخرکار، بنو ہاشم کے لوگ خالی ہاتھ اپنے بچوں کے پاس لوٹتے جو بھوک سے بلک رہے ہوتے تھے۔ ان کے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہو چکا تھا۔ اگرچہ کھانا دگنی قیمت پر بیچا جا رہا تھا، پھر بھی انہیں خریدنا پڑتا۔ اور جن کے پاس مالی وسائل تھے وہ اپنی دولت خرچ کرنے سے پیچھے نہ ہٹے۔ نبی پاک ﷺ، ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ ذرا سوچیے۔ حضرت خدیجہؓ کبھی مکہ کی امیر ترین خواتین میں سے تھیں۔ لیکن اب، وہ اپنی ساری دولت بغیر کسی ہچکچاہٹ کے لٹا رہی تھیں۔ ایک طرف خدیجہؓ لوگوں کو بھوک سے بچانے کے لیے اپنی دولت خرچ کر رہی تھیں، اور دوسری طرف ابو لہب، انہیں بھوکا مارنے کے لیے دولت لٹا رہا تھا۔ ظاہری طور پر عمل ایک جیسا لگ رہا تھا۔ دونوں خرچ کر رہے تھے۔ لیکن نیت نے سارا فرق ڈال دیا۔ اپنے خرچ سے، ایک اپنی جنت میں طوبیٰ کے درخت لگا رہی تھیں، جبکہ دوسرا اپنی جہنم میں زقوم کا درخت بو رہا تھا۔ ابوبکر صدیقؓ بھی ایک کامیاب تاجر تھے۔ مگر انہوں نے اپنی ساری دولت ان مظلوم غلاموں کو آزاد کرانے میں لگا دی جنہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ اور پوری زندگی، وہ بار بار اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کرتے رہے۔ اس طرح انہوں نے اللہ کے دین کا ساتھ دیا۔ کسی نے جان سے، کسی نے مال سے، کسی نے اپنے الفاظ سے، کسی نے جوانی سے، اور کسی نے مصائب کے سامنے اپنے صبر اور استقامت سے۔ سورہ التوبہ میں اللہ فرماتا ہے: "بیشک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔" یہ وہی لوگ تھے جو اس وعدے کے حقدار ٹھہرے۔ اس دوران، ابو طالب اپنے بھتیجے کو ہر ممکنہ خطرے سے بچانے کے لیے اضافی کوششیں کر رہے تھے۔ ہر رات، وہ نبی پاک ﷺ کو اپنے بستر پر لیٹنے کو کہتے جہاں سب انہیں دیکھ سکیں۔ مگر جب سب سو جاتے، تو وہ خاموشی سے اپنے بھتیجے کو وہاں سے اٹھاتے اور کسی کو خبر ہوئے بغیر اپنے پاس لے آتے۔ اور نبی پاک ﷺ کی جگہ کسی اور کو لٹا دیتے۔ اس طرح وہ انہیں ہر طرح کے نقصان سے بچانے کی کوشش کرتے رہے۔ ابو طالب بھی ان کے چچا تھے، اور ابو لہب بھی۔ مگر جہاں ایک ان کی حفاظت کر رہا تھا، وہاں دوسرا ان کی موت کا خواہاں تھا۔ ایک اپنے بھتیجے کو بچانے کے لیے ہلکان تھا، جبکہ دوسرا ان پر ظلم ڈھا رہا تھا۔ اور یہ تضاد آخر تک ایسے ہی چلتا رہا۔ بائیکاٹ کے دوران، بنو ہاشم نے اپنا سب کچھ لٹا دیا۔ پھر بھی یہ انہیں بھوک سے بچانے کے لیے کافی نہیں تھا۔ لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود، انہوں نے کبھی ہار نہیں مانی اور آنے والی نسلوں کے لیے، انہوں نے دکھا دیا کہ جب آپ کسی مقصد سے مخلص ہو جائیں تو استقامت کا اصل مطلب کیا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، قریش کا رویہ بالکل الٹ تھا۔ انہوں نے دکھا دیا کہ وہ کفر، ظلم اور بے رحمی میں کس حد تک جا سکتے ہیں۔ ان مشکل دنوں میں، ایک شخص کچھ آٹا خریدنے میں کامیاب ہوا جو تھوڑے بہت وسائل اس کے پاس تھے، اور چھپ کر اسے گھاٹی کے دہانے تک لے آیا۔ یہ شخص حکیم بن حزام تھے، حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے۔ قریش کے ظالمانہ رویے سے دل برداشتہ ہو کر، وہ جتنی مدد کر سکتے تھے کرنے نکلے۔ حکیم جیسے کچھ اور بھی تھے جو اس ظلم سے پریشان تھے، لیکن بت پرستوں کے دباؤ کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کو مدد کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ بلکہ مدد کرنا تو دور، اگر کوئی غلطی سے بھی گھاٹی میں داخل ہوتا، تو اسے سخت ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑتا۔ حکیم نے چھپ کر اندر جانے کی کوشش کی، مگر ابو جہل نے دیکھ لیا اور انہیں کھانا لے جانے سے روک دیا۔ "رکو وہیں!" اس نے انہیں گریبان سے پکڑ لیا۔ اسی لمحے، قریش کے ایک سردار، ابو البختری نے یہ منظر دیکھا۔ وہ ابو جہل کی حرکت پر غصے میں آ گیا۔ اس نے کہا: "تم اسے اپنی پھوپھی تک وہ کھانا پہنچانے سے کیسے روک سکتے ہو جو انہی کا حق ہے؟ راستے سے ہٹو اور اسے جانے دو جہاں یہ جانا چاہتا ہے۔" جب ابو جہل باز نہ آیا، تو اس نے زمین سے ایک ہڈی اٹھائی اور ابو جہل کے سر پر دے ماری، جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ پھر اس نے اسے نیچے گرایا، اور خوب لاتیں ماریں اور وہاں سے چل دیا۔ اس طرح، کبھی کبھار، مومن اور غیر مومن دونوں، چپکے سے کچھ کھانا شِعبِ ابی طالب پہنچا دیتے۔ مگر یہ کبھی کافی نہ ہوتا۔ مشرکین ظاہری طور پر انہیں صرف حج کے موسم میں خرید و فروخت کی اجازت دیتے۔ صرف ایک مہینے کے لیے۔ میں نے "ظاہری طور پر" اس لیے کہا، کیونکہ تب بھی، قریش مسلمانوں کو سامان ملنے سے روکنے کے لیے مختلف طریقے اپناتے۔ تاجروں کو دھمکیاں دی جاتیں کہ انہیں کچھ نہ بیچیں...

"تم انہیں کچھ نہیں بیچو گے، سمجھے گئے؟" ...یا پھر ان کا سارا مال خرید لیا جاتا تاکہ مسلمانوں کے لیے کچھ باقی نہ رہے۔ چونکہ بنو ہاشم سے کوئی تجارت نہیں کرتا تھا، اس لیے ان کی آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہ تھا۔ جو کچھ ان کے پاس تھا وہ پہلے ہی کھا چکے تھے۔ اب نوبت یہاں تک آ گئی تھی کہ بچے بھوک سے بلکتے۔ مگر وہ ظالم، جن کے دل سیاہ ہو چکے تھے، ان چیخوں پر کان نہ دھرتے، بلکہ کچھ تو اس سے لطف اندوز ہوتے۔ سعد ابن ابی وقاصؓ ان مسلمانوں میں سے ایک تھے جو اس آزمائش سے گزرے۔ ایک رات، بھوک کی وجہ سے نیند نہ آئی تو وہ باہر نکلے۔ بعد میں، انہوں نے ان الفاظ میں واقعہ بیان کیا: "مجھے کانٹوں میں اونٹ کی کھال کا ایک ٹکڑا ملا۔ میں نے اسے اٹھایا، دھوپ میں سکھایا، اور کئی دنوں تک میں اسی سوکھے ٹکڑے پر زندہ رہا۔" کچھ لوگوں نے جانوروں کی کھال کھا کر زندہ رہنے کی کوشش کی، جبکہ کچھ درختوں کے پتے کھاتے رہے۔ بھوک اور مصائب کے تین طویل سال اسی طرح گزر گئے۔ مگر صورتحال ٹس سے مس نہ ہوئی۔ لیکن ابھی بھی کچھ لوگ ایسے تھے جن کا ضمیر زندہ تھا۔ دراصل، ان میں سے کچھ تو شروع ہی سے پریشان تھے۔ جس شخص نے معاہدے کی شرائط لکھی تھیں، وہ منصور بن عکرمہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس دن کے بعد سے، اس کا وہ ہاتھ شل ہو گیا جس سے اس نے لکھا تھا۔ جب یہ ہوا، تو کچھ لوگوں نے کہا: "منصور پر آفت اس لیے آئی کیونکہ ہم نے بنو ہاشم پر ظلم کیا۔" لیکن قریش کے ڈر سے وہ خاموش رہے۔ وہ انتظار کر رہے تھے کہ کوئی تو پہل کرے۔ اور یہ پہل بالاآخر پانچ آدمیوں نے کی۔ ابو البختری، مطعم بن عدی، ہشام بن عمرو، زہیر بن ابی امیہ، اور زمعہ بن اسود۔ یہ لوگ اکٹھے ہوئے اور ایک منصوبہ بنایا۔ اگلے دن، وہ کعبہ جائیں گے جب وہاں ہجوم ہوگا، اور ہر ایک الگ الگ کونے میں کھڑا ہوگا، ایسا ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ایک دوسرے سے بے خبر ہیں۔ مختلف اطراف سے ایک ہی مطالبے کی آوازیں اٹھا کر، وہ اس ظالمانہ معاہدے کو پھاڑنے کا مطالبہ کریں گے۔ اگلے دن، وہ پانچوں کعبہ گئے اور ہجوم میں مختلف جگہوں پر گھل مل گئے۔ زہیر نے سب سے پہلے آواز اٹھائی۔ "اے قریش!

کیا جو ہم کر رہے ہیں وہ کسی انسان کو زیب دیتا ہے؟ ہم تو ہر نعمت کے مزے لوٹ رہیں ہیں، اور بنو ہاشم تباہی کے دہانے پر ہوں، کیا تمہیں یہ گوارا ہے؟ اس معاہدے کو ٹوٹنا ہی چاہیے!" پھر زمعہ بن اسود بول اٹھا۔ "زہیر سچ کہہ رہا ہے۔ جب یہ تحریر لکھی گئی تھی، ہم تب بھی اس پر راضی نہیں تھے۔ اب اس ظلم کو ختم کرنے کا وقت آگیا ہے!" ایک ایک کر کے، سب نے اپنی اپنی جگہ سے اس نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائی۔ مجمع بڑھتا گیا، اور اعتراض کی آوازیں بلند ہوتی گئیں۔ ابو جہل نے یہ کہہ کر بات ٹالنے کی کوشش کی کہ یہ سب منصوبہ بندی ہے، مگر کسی نے اس کی نہ سنی۔ اس واقعے نے معاہدے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا اور بائیکاٹ کے خاتمے کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ لیکن وہ اصل واقعہ جس نے اسے ختم کیا وہ یہ تھا: اللہ کے حکم سے، ایک کیڑا (دیمک) اس صفحے پر بھیجا گیا جو کعبہ کے اندر لٹکا ہوا تھا۔ اس ننھے کیڑے نے پورا صفحہ کھا لیا، سوائے "باسمک اللھم" (تیرے نام سے، اے اللہ)کے۔ جبرائیلؑ نے نبی ﷺ کو اس کی خبر دی، اور آپ نے فوراً یہ خوشخبری اپنے چچا ابو طالب کو سنائی۔ اور جیسے ہی ابو طالب نے یہ سنا، انہوں نے بنو ہاشم کے نوجوانوں کو جمع کیا اور قریش کے سرداروں سے ملنے گئے۔ پھر انہوں نے یہ تجویز پیش کی: "میرے بھتیجے نے جو مجھے بتایا ہے اس کے مطابق، اللہ نے اس صحیفے پر ایک کیڑا بھیجا ہے جو تم نے کعبہ میں لٹکایا تھا۔ اس نے اللہ کے نام کے سوا سب کچھ کھا لیا ہے۔ اس نے ظلم، قطع رحمی اور بہتان کے سارے الفاظ مٹا دیے ہیں۔ اب جاؤ اور خود دیکھ لو۔ اگر میرے بھتیجے کی بات سچ ہے، تو اب اس ظلم اور زیادتی کو روک دو۔ لیکن اگر وہ جھوٹ بول رہا ہے، تو میں خود اسے تمہارے حوالے کر دوں گا۔ پھر چاہے تم اسے مارو یا چھوڑو، اختیار تمہارا ہوگا۔" اگرچہ قریش نے پہلے ان کی بات کا یقین نہیں کیا، مگر انہیں ڈر تھا کہ کہیں یہ سچ نہ ہو۔ پھر ابو طالب نے یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ خبر جھوٹی نکلی تو وہ محمد ﷺ کو حوالے کر دیں گے۔ چنانچہ وہ تیزی سے کعبہ کی طرف بڑھے۔ ہمیشہ کی طرح دروازہ مقفل تھا۔ انہوں نے اسے کھولا، اندر گئے ، اور دیوار پر لٹکے صحیفے کو دیکھا۔ اور دیکھا کہ ایک بار پھر، اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو جھوٹا ثابت نہیں ہونے دیا۔ اپنی آنکھوں سے انہوں نے وہی دیکھا جو ابو طالب نے بیان کیا تھا۔ مگر حیران ہونے کے باوجود، انہوں نے اسے معجزہ ماننے سے انکار کر دیا۔ الٹا کہنے لگے: "یہ بھی جادو کے سوا کچھ نہیں۔" اس واقعے کے بعد، لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ معاہدہ منسوخ ہو چکا ہے، اور بائیکاٹ ختم ہو گیا۔ تو، بائیکاٹ ختم ہونے کے بعد کیا ہوا؟ ان تین سالوں میں، نبی پاک ﷺ صرف ان مسافروں تک پیغام پہنچا سکے جو مکہ آتے تھے۔ وہ اپنے الفاظ سے اسلام کو زیادہ پھیلا نہ سکے۔ لیکن اپنے صبر اور جدوجہد سے، انہوں نے کئی دلوں میں ایمان کے بیج بو دیے۔ ان کے مقصد میں ان کی اخلاص کو دیکھ کر، کئی لوگ ان کے پاس آئے اور کھلے عام ایمان کا اقرار کیا۔ یہاں ذرا سوچتے ہیں کہ قریش جنہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب دیکھا تھا وہ کیا سوچ رہے ہوں گے۔ نبی پاک ﷺ، جو کبھی مکہ کے معزز ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے، اب ان پر جھوٹا اور جادوگر ہونے کا الزام لگایا جا رہا تھا۔ انہوں نے دولت اور مرتبے کی تمام پیشکشیں ٹھکرا دیں، اور شدید مظالم برداشت کیے۔ کیا کوئی جھوٹ کے لیے یہ سب جھیل سکتا ہے؟ جھوٹ ہمیشہ کسی نہ کسی ذاتی مفاد سے جڑا ہوتا ہے۔ مگر نبی پاک ﷺ کی زندگی میں، سوائے آزمائش کے کچھ نہ تھا۔ جہاں جھوٹے پکڑے جانے کے ڈر میں رہتے ہیں اور آسائش ڈھونڈتے ہیں، وہیں یہ ہستی قربانی اور جدوجہد کی زندگی گزار رہی تھی۔ اگر ان کا مقصد دنیاوی فائدہ ہوتا، تو وہ دوسرے طریقوں سے باآسانی اعلیٰ ترین مقام پا سکتے تھے۔ لیکن ان کا حقیقی مقصد صرف اللہ کے دین کو پھیلانا اور لوگوں کو ابدی خوشی کی راہ دکھانا تھا۔ دوسری طرف، اسے حضرت خدیجہؓ کے نظریے سے دیکھیں۔ انہوں نے یہ سب سہنا کیوں پسند کیا؟ انہوں نے اپنی ساری دولت اس مقصد پر کیوں لٹا دی؟ اگر انہوں نے نبی پاک ﷺ میں سچائی نہ دیکھی ہوتی، تو کیا وہ یہ سب اتنی خوشی سے قبول کرتیں؟ وہ ان کے سب سے قریب تھیں۔ وہ انہیں کسی بھی دوسرے سے بہتر جانتی تھیں۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو۔ معاذ اللہ، اگر وہ جھوٹ بول رہے ہوتے، تو کیا وہ سب سے پہلے اسے بھانپ نہ لیتیں؟ اور اگر انہیں ذرا سا بھی شک ہوتا، تو کیا وہ اتنی سختیاں برداشت کرتیں؟ اور یہ صرف خدیجہؓ نہیں تھیں۔ پوری زندگی، دوست اور دشمن دونوں نے ان کے ہر قول و فعل کو گہری نظر سے دیکھا۔ مگر انہیں کبھی جھوٹ کا شائبہ تک نہ ملا۔ ہم اس ہستی کی بات کر رہے ہیں جس کا مشاہدہ اتنی باریکی سے کیا گیا کہ پانی کے گلاس کو ختم کرنے کے لیے، لیے گئے گھونٹ بھی گنے گئے۔ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ ایک دیہاتی برسوں تک بادشاہ بننے کا ڈھونگ کرے اور پکڑا نہ جائے، اسی طرح اللہ کا رسول بننے کا ڈھونگ کرنا کسی کے لیے بھی ناممکن تھا۔ وہ ہستی جو کردار اور اخلاق کی بلندی پر ہو۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ جھوٹ کے سہارے سے کوئی سچا ترین، اور بہترین کردار کا حامل نظر آئے؟ کیا ایسا کردار 23 سال تک بنا کسی غلطی کے، بنا پکڑے جانے کے نبھایا جا سکتا ہے؟ ان میں جھوٹ کا ہلکا سا بھی شائبہ نہ مل سکا۔ اور اسی لیے جنہوں نے سچ دیکھا، ایمان لے آئے، جبکہ جنہوں نے آنکھیں بند کر لیں، وہ اپنی دشمنی میں آگے بڑھتے رہے۔ بائیکاٹ کے خاتمے کے ساتھ، نبیِ پاک ﷺ نے سکھ کا سانس لیا۔ لیکن ایک اور آزمائش شروع ہونے والی تھی۔ نبی پاک ﷺ کے پیارے چچا، ابو طالب سخت بیمار ہو گئے۔ جب نبی پاک ﷺ نے اپنے چچا کی حالت سنی، تو انہیں شدید صدمہ پہنچا۔ ابو طالب نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا تھا، مکہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور دھمکیوں کے آگے کبھی پیچھے نہ ہٹے۔ لیکن اب، وہ آخری سفر پر روانہ تھے۔ اور انہوں نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کے لیے دل دہلا دینے والی تھی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایمان ہی ابدی کامیابی کی واحد کنجی ہے۔ سو وہ اپنے چچا کے بسترِ مرگ پر ان کے پاس رہے، اور ہر ممکن کوشش کی کہ دیر ہونے سے قبل وہ اسلام قبول کر لیں۔ دوسری طرف، مکہ کے مشرکین بھی فکرمند ہونے لگے۔ کیونکہ اگر ابو طالب فوت ہو جاتے، تو ان کے اور نبی پاک ﷺ کے درمیان کوئی درمیانی واسطہ نہ رہتا۔ سو وہ چاہتے تھے کہ ان کی موت سے پہلے معاملہ طے ہو جائے۔ وہ بار بار ابو طالب کے پاس آتے، اور مطالبہ کرتے کہ وہ اپنے بھتیجے کو اس مشن سے روکیں۔ ان کی باتیں سننے کے بعد، ایک دن ابو طالب نے رسول اللہ ﷺ کو بلایا اور کہا: "اے بھتیجے، تمہاری قوم کے لوگ آئے ہیں۔ ان کا تم سے کچھ تقاضا ہے، اور بدلے میں تمہیں کچھ دینے کو تیار ہیں۔" تو نبی پاک ﷺ نے جواب دیا: "تو پھر، میرے چچا، میں ان سے جو چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ وہ بس ایک کلمہ مان لیں، اور اس ایک کلمے سے، وہ تمام عرب اور عجم پر حکمرانی کر سکتے ہیں۔" سب تجسس سے بھر گئے۔ وہ ایک کلمہ کیا تھا؟ ابو جہل آگے بڑھا اور نبی ﷺ سے کہا: "بتاؤ وہ کلمہ کیا ہے، اور اس ایک کلمے کے بدلے، ہم تمہیں دس اور دیں گے۔" پھر نبی پاک ﷺ نے وہ کلمہ بیان کیا جس کا سب کو انتظار تھا۔ "کہو لا الہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) اور ان بتوں کو اپنے ہاتھوں سے پھینک دو جن کی تم پوجا کرتے ہو۔" اگرچہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ "ایک کلمے کے بدلے دس دیں گے،" مگر یہ ایک کلمہ ہی ان سب پر بہت بھاری تھا۔ انہیں یہ بات بالکل پسند نہیں آئی۔ "اے محمد!

کیا تم اِن سارے خداؤں کو صرف ایک خدا میں بدلنا چاہتے ہو؟ ہمیں تمہاری بات پر سخت حیرت ہے۔" چنانچہ، اپنا مقصد حاصل نہ ہونے پر وہ وہاں سے چلے گئے۔ قریش کے جانے کے بعد، ابو طالب نے کہا: "اے میرے بھتیجے، اللہ کی قسم، تم نے ان سے جو کہا مجھے اس میں کچھ بھی حق اور انصاف کے خلاف نہیں لگا۔" یہ سن کر، پیغمبر ﷺ کو امید ہوئی کہ شاید ان کے چچا اسلام قبول کر لیں۔ انہوں نے فرمایا: "اے میرے چچا، کم از کم آپ کہہ دیجیے لا الہ الا اللہ، تاکہ میں آخرت میں آپ کی سفارش کر سکوں۔" لیکن افسوس، ان کے چچا نے وہ جواب نہیں دیا جس سے ان کے دل کو قرار آتا۔ اس کے بجائے، انہوں نے کہا: "اے بھتیجے، اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میرے مرنے کے بعد، لوگ تمہیں اور ہمارے آباؤ اجداد کو برا بھلا کہیں گے، اور یہ کہ قریش یہ سمجھیں گے کہ میں نے کلمہ شہادت صرف موت کے ڈر سے پڑھا ہے، تو میں وہ کہہ دیتا جو تم چاہتے ہو۔" اس طرح، اسلام کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر بھی، لوگوں کے ردعمل کے خوف نے ابو طالب کو روک دیا۔ اور افسوس کہ انہوں نے ایمان قبول نہ کیا۔ پھر بھی، نبی پاک ﷺ ان سے کہتے رہے: "اے میرے چچا، کہہ دیجیے لا الہ الا اللہ تاکہ میں آخرت میں آپ کی شفاعت کر سکوں۔" مگر جہاں وہ انہیں منانے کی کوشش کر رہے تھے، وہاں ابو جہل اور عبداللہ بن امیہ بھی موجود تھے۔ "سنو ابو طالب!

تمہیں اپنے آباؤ اجداد کے دین سے پھرنے کی کوئی ضرورت نہیں" لیکن نبی پاک ﷺ انہیں بار بار کلمہ پڑھنے کی دعوت دیتے رہے۔ اور آخر میں، اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے، ابو طالب نے کہا: "یہ عبدالمطلب کے دین پر ہے۔" اور چل بسے۔ اس وقت وہ (80) سال کے تھے۔ نبی پاک ﷺ نے اپنے اندر ایک گہرا خلا محسوس کیا۔ ابو طالب کی حمایت انمول تھی ان کے لئے۔ آٹھ سال کی عمر سے، وہ اپنے چچا کی زیرِ کفالت تھے۔ تمام دباؤ کے باوجود، ابو طالب ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑے رہے، ہمیشہ شفقت اور محبت سے پیش آئے۔ مگر ان کی محبت اور ہمدردی محمد ﷺ سے بحیثیت بھتیجے کی تھی، نہ کہ بحیثیت اللہ کے رسول۔ اور یوں، بغیر کلمہ شہادت پڑھے، وہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔ نبی پاک ﷺ اب اس بھاری غم کے ساتھ تنہا رہ گئے تھے۔ آپ کچھ عرصہ گھر میں رہے اور باہر نہیں نکلے۔ ابو طالب کی وفات کے صرف تین دن بعد، ہماری ماں خدیجہؓ بھی شدید بیمار ہو گئیں۔ ابھی چچا کا غم نبی پاک ﷺ کے دل میں تازہ ہی تھا، کہ اب انہیں اپنی پیاری بیوی کی بیماری نے انہیں ہلا کر رکھ دیا، جو ان کی زندگی کی سب سے قریبی ساتھی تھیں۔ بائیکاٹ کے طویل سالوں نے انہیں بہت کمزور اور نڈھال کر دیا تھا۔ وہ 65 سال کی تھیں۔ نبی پاک ﷺ بالکل ان کے ساتھ موجود تھے، ان کی تکلیف کم کرنے کی کوشش میں۔ وہ انہیں سکون پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے تھے، مگر دن بدن، ان کی حالت بگڑتی جا رہی تھی۔ یہ واضح ہوتا جا رہا تھا کہ بیماری کس طرف لے جا رہی ہے۔ یہ ان کی عزیز ترین رفیقہ کے آخری دن تھے، جس نے 25 سال تک ان کا ساتھ نبھایا۔ خدیجہؓ نے اپنی زندگی کے بہترین دن اور بہترین سال نبی پاک ﷺ کے ساتھ گزارے۔ یہ ایک ایسا بندھن تھا جس میں پچھتاوے کا کوئی لمحہ نہیں تھا۔ مشکل ترین وقتوں میں، انہوں نے نبی پاک ﷺ کو تسلی اور سہارا دیا۔ ہر خوشی اور غم میں، آپ ﷺ نے انہیں ہمیشہ اپنے ساتھ پایا۔ خدیجہؓ ان کی جائے پناہ تھیں، جن کی طرف وہ ہمیشہ رجوع کرتے۔ پہلی وحی کی رات، نبی پاک ﷺ نے ان سے کہا تھا: "مجھے کمبل اوڑھا دو، مجھے کمبل اوڑھا دو۔" اور اب، خدیجہؓ کو اوڑھانے کی باری نبی پاک ﷺ کی تھی۔ خواتین میں سب سے بہترین، حضرت خدیجہؓ، سن 619 عیسوی میں، 65 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ بعد میں، نبی پاک ﷺ فرمایا کرتے: "اپنے زمانے کی بہترین خاتون مریم تھیں، عیسیٰ کی والدہ، اور اس زمانے کی بہترین خاتون خدیجہ ہیں۔" یہ صدمے نبی پاک ﷺ کے لیے اتنے بھاری تھے کہ انہوں نے خود اس سال کا نام "عام الحزن" رکھا۔ گویا ان کے دونوں سہارے ٹوٹ چکے تھے۔ ابو طالب کی حمایت کے بغیر، قریش کو اب موقع مل گیا تھا کہ وہ اپنی توہین اور ظلم پہلے سے زیادہ آزادی سے جاری رکھیں۔ جیسے جیسے دن بدن ظلم و ستم بڑھتا گیا، نبی پاک ﷺ کے لیے مکہ میں اپنا مشن جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔ نبی پاک ﷺ کی 10 سالہ کوششوں کے باوجود، قریش میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ اور جب تک مسلمان اقلیت میں تھے، ان کے رویوں میں تبدیلی کا امکان بھی نظر نہیں آتا تھا۔ وہ آگے بڑھنے کا نیا راستہ تلاش کر رہے تھے۔ ایک نئی سرزمین ،جہاں اسلام آسانی سے پھیل سکے اور زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ وہ دن آ گیا۔ وہ دن جسے نبی پاک ﷺ نے "میری زندگی کا سخت ترین دن" قرار دیا۔ ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: "لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش نبیوں کی ہوتی ہے، پھر ان کی جو ان کے بعد افضل ہیں، اور پھر ان کی جو ان کے بعد بہتر ہیں، ان کے دین کے مطابق۔" انسان تیز بارش میں پھنس جانے کا تصور کر سکتا ہے۔ جہاں بارش سیلاب کی طرح برس رہی ہو۔ لیکن پتھروں کی بارش میں گھر جانے کا تصور کوئی نہیں کر سکتا۔ ان گنت پتھر برس رہے ہوں، ہر ایک جسم پر تکلیف دہ ضرب لگا رہا ہو، اور چھپنے کی کوئی جگہ نہ ہو۔ کیا اس کا تصور بھی خوفناک نہیں؟ تو، یہ سخت ترین آزمائش پیش آنے والی تھی خود نبی پاک ﷺ کے ساتھ۔ انہیں ایسے ظلم کا سامنا کرنا تھا جس کی مثال نہ تھی۔ یہ سب ان کی امت کے لیے تھا۔ وہ ایسی تکلیف اٹھانے والے تھے جو پہلے کبھی نہ اٹھائی تھی۔ وہ لہولہان ہونے والے تھے، اور اس تاریک دن کو وہ "میری زندگی کا سخت ترین دن" کہیں گے۔ یہ دردناک سفر، طائف کا سفر تھا۔ پہلی وحی کو دس سال گزر چکے تھے۔ نبی پاک ﷺ ہر ممکن طریقہ آزما چکے تھے۔ اس کے باوجود، مسلمانوں کی تعداد تقریباً 300 تھی۔ کچھ مکہ میں تھے، کچھ حبشہ میں، اور چند دوسرے قبائل میں۔ وہ ایک دوسرے سے جدا تھے۔ قریش کی دشمنی کے ہوتے ہوئے، ان کے لیے امن سے اکٹھے رہنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ مکہ کی آبادی کے مقابلے میں، وہ دسواں حصہ بھی نہیں تھے۔ اور جزیرہ نما عرب میں، وہ اور بھی چھوٹی اقلیت تھے۔ لیکن مقصد کبھی بھی اس خطے تک محدود نہیں تھا۔ یہ تو پوری دنیا کے لیے تھا۔ نبی پاک ﷺ کی 10 سالہ کوششوں کے باوجود، قریش میں کوئی تبدیلی نہ آئی۔ اور جب تک مسلمان اقلیت میں تھے، ان کے رویے میں تبدیلی کا امکان بھی نظر نہیں آتا تھا۔ وہ آگے بڑھنے کا نیا راستہ تلاش کر رہے تھے۔ ایک نئی سرزمین جہاں اسلام آسانی سے پھیل سکے اور زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ یہ نئی سرزمین مکہ کے قریب ہونی چاہیے تھی، اور قریش سے بھی اس کا گہرا تعلق ہونا چاہیے تھا۔ اس سے ان کے لیے اسلام قبول کرنا زیادہ آسان ہو جاتا۔ اور اسی وجہ سے، نبی پاک ﷺ نے طائف کا انتخاب کیا۔ ایک شہر جو مکہ سے تقریباً 120 کلومیٹر دور تھا۔ یہ اپنے انگوروں اور باغات کے لیے مشہور تھا۔ اور اس کے قریش کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات تھے۔ تو اگر طائف اسلام قبول کر لیتا، تو مکہ میں اسے پھیلانا بھی آسان ہو جاتا۔ اسی امید کے ساتھ، نبی پاک ﷺ اپنے منہ بولے بیٹے زیدؓ کو ساتھ لے کر طائف کے لیے پیدل روانہ ہوئے۔ طائف میں، تین بھائی اقتدار میں تھے: عبدیالیل، مسعود، اور حبیب۔ نبی پاک ﷺ پہلے ان تین بااثر شخصیات سے ملنا چاہتے تھے۔ چنانچہ وہ ان کے پاس گئے۔ انہوں نے ان کے سامنے اعلان کیا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر انہیں اسلام کی دعوت دی اور اس دین کو پھیلانے میں ان کی مدد مانگی۔ انہیں ایک بہت بڑا موقع دیا گیا تھا۔ کیونکہ اگر وہ ایمان لے آتے، تو علاقے کے بہت سے لوگ ان کی پیروی کرتے۔ اس کے بعد، قریش کے لیے بھی اسلام قبول کرنا آسان ہو جاتا۔ وہ تمام بند دروازے کھولنے کی کنجی بن سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے اس موقع کو مکمل طور پر ٹھکرا دیا۔ اور تو اور، وہ تکبر کے ساتھ نبی پاک ﷺ کا مذاق اڑانے لگے۔ انہوں نے قریش سے بھی بدتر باتیں کہیں۔ "اگر اللہ نے تمہیں نبی بنایا ہے، تو میں جا کے کعبہ کے غلاف پھاڑ دوں گا۔" یہ ایک انتہائی سخت بات تھی۔ عربوں کے لیے، اس کا مطلب ذلت کے انتہائی گہرے گڑھے میں گرنا تھا۔ "کیا اللہ کو نبی بنا کر بھیجنے کے لیے تمہارے سوا کوئی نہ ملا؟" "اللہ کی قسم، میں تم سے ہرگز بات نہیں کروں گا، کیونکہ اگر تم واقعی اللہ کے نبی ہو جیسا کہ تم دعویٰ کرتے ہو، تو میں تمہیں رد کر کے خود کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ اور اگر تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، تو پھر میرے پاس تم سے بات کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔" ان کے دل سیاہ ہو چکے تھے۔ اور ان کا ہر لفظ ہمارے نبی پاک ﷺ کے دل کو گہرا دکھ پہنچا رہا تھا۔ آپ وہاں دس دن رہے، گھر گھر جا کر، طائف کے سرداروں سے بات کی۔ اپنا مشن سمجھایا، مگر جواب ہمیشہ ایک ہی تھا۔ اور جب سرداروں نے ماننے سے انکار کیا، تو ان کی عوام بھی دور رہی۔ نوبت یہاں تک آ گئی کہ وہ نبی پاک ﷺ کو مزید برداشت کرنے کو تیار نہ تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ کہیں نوجوان اپنا ارادہ نہ بدل لیں۔ تو انہوں نے کہا: "نکل جاؤ ہماری زمین سے!

جہاں جانا چاہتے ہو جاؤ۔ مگر واپس مت آنا۔ جب تمہارے اپنے لوگ اور تمہارے قبیلے نے تمہاری بات نہ مانی، تو تم ہمارے پاس بھاگ آئے۔ اللہ کی قسم، ہم بھی تم سے اتنا ہی دور رہیں گے جتنا ہو سکے، اور ہم تمہارا مطالبہ ہرگز نہیں مانیں گے۔" کیا کسی قبیلے کا ہر عمل اتنا تکلیف دہ ہو سکتا ہے؟ لیکن یہ وہ بدترین ظلم نہیں تھا جو وہ کرنے والے تھے۔ انہوں نے اوباشوں اور ہر عمر کے بچوں کو جمع کیا اور گلیوں کے کنارے قطار میں کھڑا کر دیا۔ ان کے ہاتھ پتھروں سے بھرے تھے۔ اس تاریک دن، نبی پاک ﷺ نے وہ منظر دیکھا جس کی انہیں کبھی توقع نہ تھی۔ اور پھر، انہوں نے بے رحمی سے پتھراؤ شروع کر دیا۔ پتھر، تھوک، گالیاں اور قہقہے۔ یہ ایک خوفناک لمحہ تھا۔ وہ ان کے پیچھے بھاگ رہے تھے، اور مسلسل پتھر برسا رہے تھے۔ ہم نہیں جانتے کہ اس دن نبی پاک ﷺ نے کیسے الفاظ سنے، کیونکہ وہ ان کے لیے اتنے تکلیف دہ تھے کہ دوبارہ زبان پر نہ لا سکے۔ زیدؓ نے اپنے جسم سے نبی پاک ﷺ کو بچانے کی کوشش کی۔ مگر سب بے سود تھا۔ ہر طرف سے پتھر آ رہے تھے۔ وہ پکار اٹھے: "اے طائف کے لوگوں!

کیا تمہیں احساس ہے کہ جس شخص کو تم پتھر مار رہے ہو وہ ایک نبی ہے" انہیں خود کو لگنے والے پتھروں کی پرواہ نہ تھی، مگر جو پتھر نبی پاک ﷺ کو لگ رہے تھے وہ انہیں گہرا زخم دے رہے تھے۔ نبی پاک ﷺ اور زیدؓ دونوں لہولہان تھے۔ "یا رسول اللہ!

کیا آپ ٹھیک ہیں؟" کچھ دیر بعد، درد کی شدت اتنی بڑھ گئی کہ نبی کریم ﷺ کو بیٹھنا پڑ گیا۔ ذرا سوچیے۔ ایک 50 سالہ شخص اس حال سے گزر رہا تھا۔ وہ جوان نہیں تھے۔ ان میں چلنے کی طاقت نہ رہی تھی۔ پھر بھی ظالم باز نہ آئے۔ انہوں نے اس خستہ حالت میں انہیں دوبارہ کھڑا کیا اور ایک بار پھر پتھروں کی بارش کر دی۔ وہ ہنس رہے تھے اور خوب مزے لے رہے تھے۔ ان کی ٹانگیں خون میں لت پت تھیں۔ ہر پتھر ایک درد تھا، اور ہر قدم ایک نئی اذیت۔ ہر بار جب وہ گرتے، طائف کے لوگ انہیں اٹھاتے تاکہ مزید پتھر مار سکیں۔ یہی عمل بار بار دہرایا گیا۔ اور یہ سلسلہ ڈھائی کلومیٹر تک جاری رہا۔ یعنی 3 ہزار سے بھی زائد قدم۔ تصور کر سکتے ہیں؟ زیدؓ کا سر پھٹ چکا تھا۔ پھر بھی وہ نبی پاک ﷺ کے بارے میں سوچتے رہے کہ: "کاش یہ پتھر صرف مجھے ہی لگتے۔" آخرکار، راستے کے اختتام پر، انہیں ایک باغ نظر آیا اور انہوں نے تیزی سے اندر پناہ لے لی۔ صرف اسی طرح وہ جان بچانے میں کامیاب ہوئے۔ وہ نڈھال تھے اور مکمل طور پر خون میں لت پت۔ زید بن حارثہ کا دل کٹ رہا تھا جب بھی وہ نبی پاک ﷺ کی طرف دیکھتے۔ اور دل کیسے نہ کٹتا؟ آپ کے نبی، آپ کے سامنے خون میں نہائے ہوں، اور آپ کچھ نہ کر سکیں۔ باغ کے کنارے، آخر انہیں سانس لینے کا موقع ملا۔ انہوں نے اپنے زخم دھوئے اور خود کو صاف کیا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہاں نبی پاک ﷺ نے اور کیا کیا؟ وہ جانتے تھے کہ حقیقی سکون صرف اپنے رب کے حضور ہی مل سکتا ہے۔ تو انہوں نے وضو کیا، دو رکعت نماز پڑھی، اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا دیے۔ انہوں نے اپنا سارا درد اور ظلم کی شکایت اپنے رب کے سامنے رکھ دی۔ "اے اللہ، میں تجھ سے ہی اپنی کمزوری، اپنی بے بسی، اور لوگوں کی نظر میں اپنی رسوائی کا شکوہ کرتا ہوں۔ اے اللہ، تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ تو کمزوروں کا رب ہے۔ تو مجھے کس کے حوالے کر رہا ہے؟ کسی اجنبی کے جو مجھ سے سختی سے پیش آئے، یا کسی قریبی کے جسے تو نے مجھ پر طاقت دی ہے؟ یا اللہ!

اگر تو مجھ سے ناراض نہیں، تو مجھے کوئی پروا نہیں۔ مگر تیری عافیت میرے لیے زیادہ وسیع ہے۔" ایسے لمحے میں بھی، انہوں نے صرف اللہ کی رضا کا سوچا۔ انہوں نے بغاوت نہیں کی۔ اس کے بجائے، وہ کمی اپنے اندر تلاش کر رہے تھے۔ یہ دنیا آزمائش کی جگہ تھی۔ اور ہر مشکل میں، وہ صرف اپنے مالک کی پناہ مانگتے رہے۔ انہوں نے ہمیشہ اللہ کا بندہ ہونے کا حق اعلیٰ ترین سطح پر ادا کیا۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہے: "اے ایمان والو، صبر اور نماز سے مدد لو۔ بیشک، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔" تو نبی پاک ﷺ نے یہی کیا۔ انہوں نے صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد مانگی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بڑی مدد ہمیشہ صبر کے نتیجے میں آتی ہے۔ ابھی وہ نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ انہیں ایک شخص کھڑا نظر آیا۔ اسے اس باغ کے مالکوں نے بھیجا تھا جہاں انہوں نے پناہ لی تھی۔ مگر مالک کون تھے؟ مکہ کے دو بھائی، عتبہ اور شیبہ۔ انہوں نے جو ہوا وہ دیکھ لیا تھا، اور انہیں نبی پاک ﷺ پر ترس آ گیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے غلام عداس کے ہاتھ انگوروں کی ایک پلیٹ بھیجی۔ "عداس، یہ انگور ان کے پاس لے جاؤ۔" اس وقت نبی پاک ﷺ کی طلب کا تصور کیجیے۔ مگر اس حال میں بھی، وہ ایک بات نہیں بھولے: باغ اور انگوروں کے حقیقی مالک کو۔ انہوں نے "بسم اللہ" (اللہ کے نام سے) کہا اور کھانا شروع کیا۔ عداس کو یہ لفظ بہت عجیب لگا۔ اس نے کہا: "اللہ کی قسم، اس علاقے کے لوگ ایسے الفاظ نہیں جانتے، نہ بولتے ہیں۔" نبی پاک ﷺ نے اس کا تجسس بھانپ لیا اور اس کا نام پوچھا۔ پھر پوچھا: "اے عداس، تم کہاں سے ہو؟" "میں نینویٰ سے ہوں۔" نبی پاک نے فرمایا: "تو تم یونس بن متیٰ کے شہر سے ہو۔" عداس اور بھی حیران ہوا اور پوچھا: "آپ یونس بن متیٰ کو کیسے جانتے ہیں؟" اس کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر، نبی پاک ﷺ نے فرمایا: "یونس بن متیٰ نبی تھے، اور دیگر تمام انبیاء کی طرح، وہ میرے بھائی ہیں۔" جو اس نے دیکھا اور سنا، اس سے اس کا دل نور سے بھر گیا۔ اسے یقین ہو گیا کہ نبی پاک ﷺ سچے دین کے ساتھ آئے ہیں۔ اس نے کہا: "اشھد ان لا الہ الا اللہ، و اشھد ان محمدا رسول اللہ" (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد اللہ کے رسول ہیں)۔ عین اس لمحے، اس ایک شخص کی نجات نے نبی پاک ﷺ کو ان کی تمام تکالیف بھلا دیں۔ ان کی عزت پر حملہ، وہ گالیاں جو انہوں نے سنیں، اس طویل راستے پر ملنے والی بے مثال اذیت۔۔۔ صرف ایک آدمی کی گواہی نے پل بھر میں ان کا سارا درد مٹا دیا۔ بعد میں، نبی پاک ﷺ نے فرمایا: "اللہ کی قسم، اگر تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے، تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔" یعنی، یہ اس وقت کی سب سے قیمتی دولت سے بڑھ کر ہے۔ نبی پاک ﷺ اور زید بن حارثہؓ مکہ کی طرف لوٹے۔ نبی پاک ﷺ گہری سوچ میں تھے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ مکہ واپسی پر حالات آسان نہیں ہوں گے۔ انہیں یقین تھا کہ جب قریش طائف کے واقعے کے بارے میں سنیں گے، تو وہ اپنا دباؤ مزید بڑھا دیں گے۔ جب وہ ان خیالات کے ساتھ سفر کر رہے تھے، تو جبرائیلؑ بادلوں سے نمودار ہوئے اور کہا: "بیشک اللہ نے سن لیا ہے جو آپ کی قوم نے آپ سے کہا۔ اس نے آپ کے پاس پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے۔ آپ اسے جو چاہیں ان کے بارے میں حکم دے سکتے ہیں۔" پھر پہاڑوں کے فرشتے نے کہا کہ اگر اللہ کے رسول ﷺ چاہیں، تو وہ مشرکین کو ابو قبیس اور قعیقعان کے پہاڑوں کے بیچ پیس سکتا ہے۔ لیکن نبی پاک ﷺ نے جواب دیا: "نہیں، میں ایسا نہیں چاہتا۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے ایسی قوم پیدا کرے جو صرف اسی کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔" اب، تصور کریں کہ ڈھائی کلومیٹر تک پتھر مارے جائیں، اور آپ کچھ نہ کر سکیں۔ اگر ہمیں وہ پیشکش کی جاتی جو جبرائیل نے کی، تو ہم میں سے کتنے غصے میں آ کر اسے قبول نہ کر لیتے؟ لیکن وہ رحمت اور شفقت کے پیغمبر تھے۔ انہوں نے اپنا درد اور بدلے کی خواہش ایک طرف رکھی اور اس کے بجائے اس امکان کا سوچا کہ شاید طائف کے لوگ ایک دن اسلام قبول کر لیں۔ اگرچہ یہ یقینی نہیں تھا، مگر صرف امید ہی ان کے لیے کافی تھی۔ اور یہ آیت نبی پاک ﷺ کے اس پہلو کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے: "اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔" چنانچہ، اللہ نے ان کی امید رائیگاں نہ کی، اور وقت کے ساتھ، طائف کے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ نبوت کے گیارہویں سال، رجب کی 27 ویں رات تھی۔ نبی پاک ﷺ اپنی چچا زاد بہن امِ ہانی کے گھر تھے۔ ان تمام مصائب کے بعد جو انہوں نے جھیلے، وہ آرام کرنے اور طاقت بحال کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ گزشتہ 11 سال بالکل بھی آسان نہیں تھے۔ مظالم، توہین، ہر طرح کی اذیت، سالوں کا بائیکاٹ، عام الحزن اور طائف۔ ان کا واحد سہارا اللہ تھا۔ اور تنہائی کے اس لمحے میں، انہوں نے اسے پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کیا۔ وہ سو رہے تھے، اس بات سے بے خبر کہ کیا ہونے والا ہے۔ جبرائیلؑ عظیم حکم موصول کر چکے تھے اور نبی پاک ﷺ کی طرف راستے میں تھے۔ انسانی تاریخ کے عظیم ترین معجزات میں سے ایک رونما ہونے والا تھا۔ جب اللہ کا بندہ اپنی تاریک ترین گھڑی میں تھا، وہ اسے عظیم ترین تسلی عطا کرنے والا تھا۔ کیا اس کا نظام ہمیشہ ایسے ہی نہیں چلتا؟ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ اچانک، جبرائیلؑ ظاہر ہوئے اور نبی پاک ﷺ کو بیدار کیا۔ لیکن یہ ملاقات دوسروں سے مختلف تھی۔ اللہ اپنے محبوب ترین بندے کو اپنے حضور بلا رہا تھا۔ تمام سختیاں برداشت کرنے کے بعد، اب نبی پاک ﷺ کو ایک ایسی ملاقات کے لیے بلایا جا رہا تھا جو ان کے دل کو قرار اور روح کو سکون بخشے گی۔ سفر کے لیے، جبرائیلؑ 'براق ' نامی سواری لائے۔ اور نبی پاک ﷺ کو اس پر سوار کیا۔ اور منزل مسجدِ اقصیٰ تھی، جہاں سینکڑوں انبیاء کبھی رہ چکے تھے۔ اور اس طرح یہ منفرد سفر شروع ہوا۔ مسجد الحرام اور مسجد اقصیٰ کے درمیان کا فاصلہ تقریباً 1500 کلومیٹر تھا۔ ان دنوں، ایسے سفر میں تقریباً 30 دن لگتے تھے۔ لیکن یہ کوئی عام سفر نہیں تھا۔ اللہ کے حکم سے، نبی پاک ﷺ وہاں چند سیکنڈز میں پہنچ گئے۔ چونکہ اللہ ہی زمان و مکاں کا مالک ہے، وہ جیسے چاہے انہیں موڑ سکتا ہے۔ فطرت کے قوانین ہم پر لاگو ہوتے ہیں، نہ کہ اس ذات پر جس نے انہیں بنایا اور قائم رکھا۔ جب رسول پاک ﷺ مسجد اقصیٰ پہنچے، تو انہوں نے ایک حیرت انگیز منظر دیکھا۔ تاریخ میں آنے والے تمام انبیاء کرام وہاں ان کے سامنے موجود تھے۔ رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور تمام انبیاء کی امامت کی۔ تصور کریں، ہر وہ نبی جو کبھی دنیا میں آیا، اور سب سے آگے، نبی پاک ﷺ نے باجماعت دو رکعت نماز پڑھائی۔ اور یوں، انہوں نے تمام انبیاء کی امتوں کی ذمہ داری سنبھالی اور قیامت تک کے لیے تمام انسانیت کے رہنما بن گئے۔ جس لمحے جبرائیل نے نبی پاک ﷺ کو بیدار کیا، وہاں سے لے کر اس مقام تک اسے ہم "اسراء" یعنی رات کا سفر کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، اسراء کا اختتام ہوا۔ اور اگلا مرحلہ شروع ہونے والا تھا۔ معراج۔ پھر جبرائیل نے نبی پاک ﷺ کو "حجرِ معلق" پر کھڑا کیا۔ اور وہاں سے، آسمانوں کا سفر شروع ہوا۔ اللہ کے رسول ساتوں آسمانوں سے گزرنے والے تھے۔ اور ہر آسمان پر، وہ مختلف مناظر دیکھیں گے، تخلیق کی پوری کائنات کا مشاہدہ کریں گے، اور اللہ کے ناموں کی شان و شوکت دیکھیں گے۔ وہ ان تمام انبیاء سے ملیں گے اور بات کریں گے جنہیں وہ اپنا بھائی کہتے تھے۔ پھر، وہ كعبةً كوسين تک بلندی پر جائیں گے۔ اور آخر میں، انہیں وہ اعزاز بخشا جائے گا جو اس سے پہلے کسی بندے کو نہیں ملا۔ وہ ایک اور جہان میں داخل ہوں گے اور اللہ عزوجل سے ملاقات کریں گے۔ جب میں معراج کے بارے میں پڑھ رہا تھا، تو میں نے سوچا: اس رات کیا کیا غیر معمولی واقعات پیش آئے۔ پھر ایک اور خیال آیا۔ اللہ کی قدرت کے سامنے ان میں سے کوئی بھی چیز مشکل کیسے ہو سکتی ہے؟ اس نے آسمان بنایا اور اسے ان گنت ستاروں سے سجایا، جو ریت کے ذروں سے بھی زیادہ ہیں۔ وہ سیاروں کو زبردست رفتار سے گھماتا ہے۔ پھر بھی، جب وہ زمین کو گھماتا ہے، تو اس پر کوئی چیز بکھرتی نہیں۔ وہ اسے کسی اور آسمانی جسم سے ٹکرانے نہیں دیتا۔ وہ ایک ستارہ اتنی ہی آسانی سے بناتا ہے جتنی آسانی سے ایک پھول۔ اور وہ ایک پھول کو اتنی ہی کاریگری سے بناتا ہے جتنا کہ ایک سیارہ۔ ہر بہار میں، وہ مردہ زمین کو دوبارہ زندہ کرتا ہے اور لاکھوں انواع کو بغیر کسی گڑبڑ کے کامل نظام کے ساتھ زندہ رکھتا ہے۔ اور یہ سب کرتے ہوئے، وہ ایک ننھے سے پسو کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت بھی نہیں بھولتا۔ اسے بھی اس کا رزق عطا کرتا ہے۔ اس کا کوئی ایک کام اسے دوسرا کام کرنے سے نہیں روکتا۔ وہ لاتعداد مخلوقات کی لاتعداد ضروریات ایک ساتھ پوری کرتا ہے۔ تو، ایسی طاقت کے آگے کیا چیز مشکل ہو سکتی ہے؟ کیا اس کے لیے یہ مشکل ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے رسول ﷺ کے جسمِ اطہر کو ایسے سفر پر لے جائے؟ ہرگز نہیں۔ معاذ اللہ۔ آخرکار، جو کچھ دکھایا جانا تھا وہ دیکھنے کے بعد، نبی پاک ﷺ واپس لوٹے۔ ایک بار پھر، جبرائیلؑ کے ساتھ، وہ آسمانوں سے مسجد الحرام اترے، اور وہاں سے، واپس اپنے بستر پر۔ نبی پاک ﷺ کو ابھی تک اسلام کے لیے نئی سرزمین نہیں مل سکی تھی۔ تو، اب وہ کیا کرتے؟ یہ نبوت کا گیارہواں سال تھا۔ انہوں نے پیغام پہنچانا نہیں چھوڑا، جبکہ ان کے دشمن اپنی ضد اور دباؤ سے باز نہیں آئے۔ اور پھر، حج کا موسم آیا۔ اس سال بھی، ہزاروں لوگ مکہ آئے جزیرہ نما عرب کے مختلف حصوں سے حج کے لیے۔ یہ نبی پاک ﷺ کے لیے ایک موقع ہو سکتا تھا۔ وہ ایک ایک کر کے، مکہ آنے والے قبائلی سرداروں سے ملنے والے تھے اور انہیں اسلام کی دعوت دینے والے تھے۔ اور اللہ اپنے رسول کی محنت ضائع نہیں ہونے دیتا۔ وہ ان کے سامنے 6 شاندار آدمی لانے والا تھا۔ اور یہ 6 آدمی کس چیز کا پیش خیمہ بنیں گے؟ یہ ہم وقت آنے پر دیکھیں گے۔ لیکن فی الحال، یہ جان لیں کہ ان چھے لوگوں کو ڈھونڈنا بھی آسان نہیں تھا۔ نبی پاک ﷺ حج کے موسم میں انتھک محنت کر رہے تھے، جو تقریباً ایک مہینے تک جاری رہنا تھا۔ وہ دس سے زائد قبائل کے خیموں میں گئے، ایک کے بعد ایک، اپنا تعارف کرایا اور اپنا مشن سمجھایا۔ آپ ایسے قبیلے کی تلاش میں تھے جو اسلام کا ساتھ دے اور ہجرت کے لیے جگہ فراہم کرے۔ ساتھ ہی، آپ نے لوگوں کو کھلے عام دعوت دینا نہیں چھوڑا۔ آپ فرماتے: "اے لوگو!

کہو لا الہ الا اللہ اور تم کامیاب ہو جاؤ گے!" جہاں بھی آپ جاتے، یہ آواز سننے والے سننے کے لیے آتے، اور ہجوم ان کے گرد جمع ہو جاتا۔ پھر بھی، ایک آواز نے بھی ان کی پکار کا جواب نہ دیا۔ صرف ایک آواز سنائی دیتی۔ کوئی جو سائے کی طرح ان کا پیچھا کرتا۔ مگر اس کا مقصد نہ تو نبی پاک ﷺ کی حمایت تھا اور نہ ہی حق کی تلاش۔ وہ خیمے خیمے جا کر چلاتا: "محمد نے اپنے آباؤ اجداد کا دین چھوڑ دیا ہے! یہ جھوٹی باتیں کر رہا ہے!

اس کی بات مت ماننا!" یہ آواز آپ کے چچا، ابو لہب کی تھی۔ اب تک، اس کی زندگی کا مقصد نبی پاک ﷺ کو جھٹلانا اور اسلام کے خلاف لڑنا بن چکا تھا۔ وہ بوڑھا ہو چکا تھا اور اس کا ماننا تھا کہ موت کے بعد وہ ختم ہو جائے گا۔ پھر بھی نفرت میں وہ اتنا اندھا تھا کہ اپنی ساری زندگی اسی راستے پر لگا رہا تھا۔ اس کی لگن دیکھ کر، کوئی بھی یہ پوچھے بنا نہیں رہ سکا: اگر وہ باطل مقصد کے لیے اتنی محنت کر سکتا ہے، تو میں اللہ کے دین کے لیے کتنی محنت کر رہا ہوں؟ جو کہ حتمی سچائی ہے۔ کچھ قبائلی سرداروں نے نبی پاک ﷺ کو حقارت سے دیکھا اور ان کے خلاف بات کی۔ کچھ اپنے آباؤ اجداد کا راستہ نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ اور دوسرے اس ڈر سے پیچھے ہٹ گئے کہ دوسرے قبائل ان کے خلاف ہو جائیں گے۔ جس خیمے میں بھی وہ داخل ہوئے، انہیں انکار ہی ملا۔ پھر بھی انہوں نے امید نہیں ہاری، اور اگلے خیمے کی طرف بڑھ گئے۔ تمام قبائل میں سے، سب سے مثبت جواب شیبان بن ثعلبہ کے بیٹوں سے ملا۔ جب نبی پاک ﷺ نے انہیں قرآن کی آیات سنائیں، تو ان کا ایک سردار متاثر ہوا اور بولا: "اللہ کی قسم، اے قریشی بھائی!

تم نے ہمیں اعلیٰ ترین اخلاق اور بہترین اعمال کی دعوت دی ہے۔ جن لوگوں نے تمہیں جھوٹا کہا، انہوں نے تم پر بہتان لگایا اور مخالفت کی۔" پھر دوسرا سردار بولا: "اے ہمارے قریشی بھائی!

میں نے تمہاری بات غور سے سنی اور میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔" ان جوابات نے نبی پاک ﷺ کو بہت پرامید کر دیا۔ کیا انہیں آخرکار اسلام کے لیے نیا گھر مل گیا تھا؟ کیا اب تمام تکالیف ختم ہونے والی تھیں؟ لیکن تبھی ایک اور قبائلی سردار بول اٹھا۔ "میری رائے میں، انجام پر غور کیے بغیر جس کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو، ہمارا دین چھوڑ کر تمہارے دین کی پیروی کرنا ناقص فیصلہ، غلطی، بیوقوفی اور کوتاہ نظری کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔" جب اس نے یہ کہا، تو باقی سرداروں کی رائے بھی بدل گئی۔ بنو شیبان نے وہ سرزمین بننے کا موقع گنوا دیا جہاں اسلام پھیل سکتا تھا۔ جو وہ نہیں چاہتے تھے وہ یہ تھا کہ یہ عظیم مقصد وہ لوگ آگے نہیں لے کر گئے جنہوں نے نفع نقصان کا حساب لگایا، بلکہ وہ جو قربانی دینے کے لیے تیار تھے۔ اور اس دن کے بعد سے، یہ سلسلہ ایسے ہی چلنا تھا۔ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی پانے والے وہی ہوں گے جو قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ پھر بھی، آپ ﷺ صابر رہے۔ اور ہر بار، وہ نئے قبیلے کی طرف مڑے اور پیغام پہنچایا۔ کچھ لوگوں کو ان کی بات معقول لگی، مگر وہ کہتے: "ہم اگلے سال آئیں گے اور تب آکر ہم آپ سے بیعت کریں گے۔" وہ کائنات کے اہم ترین معاملوں کو ٹال رہے تھے۔ وہی مقصد جس کے لیے انہیں دنیا میں بھیجا گیا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ اور جیسے جیسے وقت گزرا، ان کی ابتدائی دلچسپی ختم ہو گئی اور انہوں نے بیعت کا ارادہ ترک کر دیا۔ ان میں سے کچھ تو اگلا سال دیکھ بھی نہ سکے۔ انہوں نے اپنی تاخیر کی بھاری قیمت چکائی۔ کچھ کے لیے، واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔ دن یوں ہی گزرتے گئے، اور حج کا موسم ختم ہونے کو تھا۔ لیکن نبی پاک ﷺ کو اب بھی وہ نہیں ملا تھا جس کی انہیں امید تھی۔ مگر ہر خزاں کے بعد بہار ہے، اور ہر رات کے بعد سویرا۔ تو ایک دن، عقبہ نامی جگہ پر انہیں وہ 6 نوجوان ملے۔ پہلے، انہوں نے پوچھا کہ وہ کون ہیں۔ نوجوانوں نے کہا: "ہم قبیلہ خزرج سے ہیں۔" یہ مدینہ کے دو بڑے قبیلوں میں سے ایک تھا، جسے اس وقت یثرب کہا جاتا تھا۔ نبی پاک ﷺ نے پوچھا: "کیا تم یہودیوں کے پڑوسی اور حلیف ہو؟" نوجوانوں نے جواب دیا: "جی ہاں۔" اس پر، نبی ﷺ نے فرمایا: "کیا ہم بیٹھ کر کچھ دیر بات کریں؟" وہ راضی ہو گئے، اور سب اکٹھے بیٹھ گئے۔ نبی پاک نے قرآن کی آیات تلاوت کیں اور انہیں اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھنے اور اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام نوجوانوں کو عجیب جانا پہچانا سا لگا۔ انہیں یثرب میں یہودیوں سے اپنے جھگڑے یاد آئے۔ یہودی اکثر آخری نبی کے آنے کا ذکر کرتے تھے، اور کہتے کہ جب وہ آئیں گے تو وہ ان کی پیروی کریں گے اور اس طرح عربوں پر غالب آ جائیں گے۔ ان چھے نوجوانوں کو احساس ہوا کہ وہ آخری نبی ان کے بالکل سامنے کھڑے ہیں۔ انہوں نے آپس میں کہا: "اللہ کی قسم، یہ وہی نبی ہیں جن کے بارے میں یہودی ہمیں بتاتے رہے ہیں۔ ہمیں ان پر ایمان لانے میں ان سے پہل کرنی چاہیے۔" فوراً، رسول اللہ کے سامنے، انہوں نے کلمہ پڑھ لیا۔ اسعد بن زرارہ۔ عوف بن حارث۔ رافع بن مالک۔ قطبہ بن عامر۔ عقبہ بن عامر۔ جابر بن عبداللہ۔ اللہ ان سب سے راضی ہو۔ درجنوں خیموں اور ہزاروں لوگوں میں سے، صرف یہ چھے نوجوان تھے۔ وہ مدینہ کے پہلے مسلمان بنے۔ اور جیسا کہ مکہ میں ہوا، مدینہ میں بھی، یہ مشن سب سے پہلے نوجوانوں کے ہاتھوں پھیلا۔ نوجوانوں نے نبی پاک ﷺ سے یثرب، یعنی مدینہ واپس جانے کی اجازت مانگی تاکہ اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دیں۔ روانہ ہونے سے پہلے، انہوں نے ایک سال بعد دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا، اور یثرب کے لیے نکل پڑے۔ جب وہ اپنے شہر واپس پہنچے، تو مومن صرف وہ چھے افراد ہی نہیں تھے۔ بلکہ وہ چھے گھرانے تھے۔ کیونکہ پیغام سننے کے بعد، ان کے خاندانوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے دوسروں کے دلوں میں بھی ایمان کے بیج بونا شروع کیے۔ اور دن بدن، مومنوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ یہاں تک کہ سال ختم ہونے سے پہلے، کئی گھروں میں، لوگ اسلام کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ اور اب، ان کی ملاقات کا وقت آ گیا تھا۔ یثرب کے نوجوانوں نے اپنا وعدہ پورا کیا اور مکہ واپس آئے۔ لیکن اس بار، وہ بارہ تھے۔ مگر کیا ایک سال میں صرف اتنے ہی لوگ ایمان لائے تھے؟ نہیں، اور بھی تھے۔ ایک رات، وہ چپکے سے عقبہ نامی گھاٹی میں نبی پاک ﷺ کے ساتھ جمع ہوئے۔ یہ نبوت کا بارہواں سال تھا۔ اس تاریخی ملاقات میں، نبی پاک ﷺ نے چھے اصولوں پر ان سے بیعت لی۔ "ہم اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ ہم چوری نہیں کریں گے۔ ہم بدکاری نہیں کریں گے۔ ہم اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے۔ ہم کسی پر بہتان نہیں باندھیں گے۔ اور ہم تمام نیک کاموں میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کریں گے۔" اس عہد کے بعد، وہ یثرب لوٹ گئے۔ لیکن انہیں کسی کی ضرورت تھی۔ ایک معلم جو نہ صرف انہیں قرآن پڑھائے اور سمجھائے بلکہ انہیں اسلام کے آداب اور احکام بھی سکھائے۔ نبی پاک نے ان کی درخواست قبول کی اور مصعب بن عمیرؓ کو یثرب بھیجنے کے لیے منتخب کیا۔ مصعب اپنی ذہانت، نرم مزاجی، مہربان دل، اور شیریں بیانی کے لیے مشہور تھے۔ وہ اسلام کی دعوت کا مشن بہترین طریقے سے انجام دینے والے تھے۔ جب وہ مدینہ پہنچے، تو اسعد بن زرارہ کے گھر ٹھہرے، جو جلد ہی شہر میں اسلام کا مرکز بن گیا۔ اپنے نرم الفاظ اور دلنشین انداز سے، وہ آنے والوں کو اسلام سمجھاتے اور قرآن کی آیات سناتے۔ بہت سے لوگ اس پیغام سے متاثر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ لیکن جہاں کچھ پسند کرنے والے تھے، وہاں ناپسند کرنے والے بھی تھے۔ ایک دن، مصعب اور اسعد ایک کنویں کے پاس بیٹھے، اپنے گرد جمع ہجوم کو اسلام سمجھا رہے تھے۔ ایک قبائلی سردار نوجوانوں کے چہروں پر تجسس دیکھ کر پریشان ہو گیا۔ قبیلہ اوس، مدینہ کے دو عرب قبائل، میں سے ایک تھا، اور اس کے ایک قبیلے کے سردار سعد بن معاذ تھے۔ انہوں نے اور ان کے قریبی دوست، اسید بن حضیر نے کارروائی کرنے کا فیصلہ لیا۔ وہ سخت غصے میں تھے۔ اسید نے اپنا نیزہ اٹھایا، مضبوطی سے پکڑا، اور ان کی طرف گئے۔ اونچی آواز میں چلائے: "تم ہمارے پاس کیوں آئے ہو؟ تم ہمارے کمزور اور سادہ لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہو اور گمراہ کر رہے ہو۔ اگر اپنی جان پیاری ہے، تو فوراً یہاں سے چلے جاؤ۔" لیکن مصعب نے غیر معمولی سکون اور وقار کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا: "ذرا رکیے۔ بس بیٹھ کر ہماری بات سن لیجیے، ہمارا مقصد سمجھ لیجیے۔ اگر پسند آئے، تو قبول کر لیں۔ اور اگر نہ آئے، تو آپ ہمیں روک سکتے ہیں۔" اسید کو ایسے جواب کی توقع نہ تھی۔ انہوں نے اپنا جنگجوانہ انداز چھوڑا اور کہا: "بات تو انصاف کی ہے۔" پھر وہ بیٹھ گئے۔ مصعب نے اسلام سمجھانا شروع کیا اور قرآن کی کچھ آیات تلاوت کیں۔ اس دن، اسید پوری طرح قائل ہو گئے۔ چنانچہ انہوں نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گئے۔ جو کوئی بھی ایمان کی مٹھاس چکھ لیتا ہے وہ اسے اپنے تک نہیں رکھنا چاہتا۔ وہ اسے دوسروں کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔ تو اسید نے کہا: "میں جا کر تمہارے پاس کسی کو بھیجتا ہوں۔ اگر وہ بھی ایمان لے آیا، تو اس علاقے میں کوئی ایسا نہیں بچے گا جو ایمان نہ لائے۔" قرآن میں ایسا نور تھا کہ کئی جو غصے میں آتے وہ دل میں سکون لیے واپس لوٹتے۔ اسید ،سعد بن معاذ کے پاس واپس گئے، مگر انہیں یہ نہیں بتایا کہ وہ مسلمان ہو چکے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ کہتے کہ "میں ایمان لے آیا ہوں،" تو سعد شاید غصے میں آ جاتے اور سخت ردعمل دیتے۔ اس کے بجائے، انہوں نے کہا کہ وہ جا کر خود ان سے بات کریں۔ اور اس طرح، انہوں نے سعد کو مصعب کے پاس بھیجا۔ جب سعد مصعب اور اسعد کے پاس آئے، تو چلائے: "اے اسعد!

اگر ہمارے درمیان خاندانی رشتہ نہ ہوتا، تو میں کبھی برداشت نہ کرتا جو ذلت آمیز چیزیں تم ہمارے قبیلے میں لائے ہو۔" اسی پرسکون انداز کے ساتھ، مصعب نے سعد کو دعوت دی کہ وہ سنیں اور سمجھنے کی کوشش کریں۔ سعد مان گئے، بیٹھ گئے، اور سننے لگے۔ مصعب نے سمجھایا کہ اسلام کیا ہے، نبی پاک ﷺ کے لائے ہوئے دین کی خوبصورتی بیان کی، اور سورہ الزخرف کی ابتدائی آیات تلاوت کیں۔ سعد بھی قرآن کی سچائیوں سے شدید متاثر ہوئے۔ انہوں نے ایسے الفاظ پہلے کبھی نہیں سنے تھے۔ انہوں نے پوچھا: "اس دین میں داخل ہونے کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا؟" مصعب نے اسلام کے اصول اور آداب سمجھائے۔ اور وہیں اسی وقت، قبیلہ اوس کے سردار، سعد، کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد، وہ سیدھے اپنے قبیلے کے پاس گئے اور انہیں جمع کیا۔ انہوں نے پوچھا: "تم مجھے کیسا جانتے ہو؟" "آپ ہمارے سردار ہیں، اور ہم میں سب سے معزز ہیں۔" "تو پھر اللہ کے رسول ﷺ پر ایمان لے آؤ۔ اگر تم ایسا نہیں کرتے، تو میں تم سے دوبارہ کبھی بات نہیں کروں گا۔" ان الفاظ پر، بنو عبد الاشہل کا پورا خاندان اسلام لے آیا۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ، و اشھد ان محمدا رسول اللہ۔ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد اللہ کے رسول ہیں)۔ سوائے ایک آدمی کے جس نے بعد میں اسلام قبول کیا۔ ان بااثر شخصیات کے مسلمان ہونے سے، دعوتِ اسلام کا مشن مضبوط ہو گیا۔ یثرب میں، اب کئی گھروں میں اسلام کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اس سال کے آخر میں، مصعب بن عمیرؓ 75 مسلمانوں کے ساتھ مکہ آئے۔ نبی پاک ﷺ کو مدینہ کے حالات سے آگاہ کرنے اور حج ادا کرنے کے لیے۔ توجہ سے بچنے کے لیے، مصعب بن عمیرؓ پہلے اکیلے نبی ﷺ سے ملنے گئے اور بتایا کہ یثرب میں اسلام کیسے پھیل رہا ہے۔ پھر انہوں نے رات کو عقبہ میں ملنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن نبی پاک ﷺ نے انہیں ایک ہدایت دی۔ اگر مقررہ وقت پر کوئی سو رہا ہو، تو اسے جگایا نہ جائے۔ اور اگر کوئی دیر سے آئے، تو اس کا انتظار نہ کیا جائے۔ کیونکہ اگر کوئی ایک رات کی نیند بھی قربان نہیں کر سکتا، تو وہ اس اجتماع کا حصہ نہیں بن سکتا۔ تو، پھر کیا کوئی سویا رہا یا دیر سے آیا؟ نہیں۔ تمام 75 کے 75 لوگ وہاں موجود تھے، بالکل وقت پر، بلا استثنیٰ۔ اور نبی پاک ﷺ اپنے چچا عباس کے ساتھ تشریف لائے۔ انہوں نے ابھی اسلام قبول نہیں کیا تھا، لیکن وہ اپنے بھتیجے کو اکیلا نہیں بھیجنا چاہتے تھے۔ عباس نے مدینہ کے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: "تم ان پر ایمان لائے ہو اور جو یہ لائے ہیں اسے قبول کیا ہے۔ میرا خیال ہے تم جانتے ہو کہ تم ایک بھاری بوجھ اٹھا رہے ہو۔ ایک ایسا بوجھ جو مشکل بھی ہے اور بڑی ذمہ داری بھی۔ تو، کیا تم انہیں ان کے دشمنوں سے بچا پاؤ گے؟ کیا تم میں اتنی طاقت ہے کہ تمام عربوں کے سامنے ڈٹ جاؤ جو تم پر ایسے ٹوٹ پڑیں گے جیسے ایک ہی کمان سے نکلے تیر؟ اگر تم اپنے اندر یہ طاقت پاتے ہو، تو مجھے مزید کچھ نہیں کہنا۔ لیکن اگر، انہیں یہاں سے لے جانے کے بعد، تم مشکل آنے پر انہیں چھوڑ دو گے، تو ابھی اس بیعت سے پیچھے ہٹ جاؤ۔ انہیں اپنے وطن میں ہی، ہمارے درمیان رہنے دو۔" مدینہ کے مسلمانوں کے رہنما، اسعد بن زرارہ نے، نبی پاک ﷺ سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ جس دین کی دعوت دی گئی وہ مشکل ہے، مگر انہوں نے اسے قبول کیا ہے اور وہ ہر حال میں نبی پاک ﷺ کی حفاظت کریں گے۔ پھر انہوں نے کہا: "یا رسول اللہ، آپ اپنے لیے ہم سے جو عہد چاہیں لے لیں، اور اپنے رب کے لیے جو شرط چاہیں رکھ لیں۔" اس پر، نبی پاک ﷺ نے کچھ آیات تلاوت کیں اور فرمایا: "اللہ تعالیٰ کے بارے میں میری شرط یہ ہے: تم صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اور اپنے لیے میں یہ چاہتا ہوں کہ تم گواہی دو کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور میری حفاظت ایسے ہی کرو جیسے تم اپنی جانوں، اپنے بچوں اور اپنی عورتوں کی کرتے ہو۔" اس لمحے، عبداللہ بن رواحہؓ نے پوچھا: "یا رسول اللہ ﷺ!

اگر ہم ویسا ہی کریں جیسا آپ نے فرمایا، تو ہمارے لیے کیا ہے؟" نبی ﷺ نے جواب دیا: "جنت۔" ہمیشہ رہنے والی جنت۔ اس زندگی کے 60 یا 70 سال اسلام کی حدود میں گزارنے کے بدلے۔ یہ سب سے بڑا اور سب سے نفع بخش سودا تھا جو کوئی کر سکتا تھا۔ ان کے دل خوشی اور حوصلے سے بھر گئے۔ انہوں نے کہا: "تو پھر یہ واقعی بہترین اور منافع بخش سودا ہے۔" اور اپنی باقی زندگی، انہوں نے اپنے وعدے کا پاس رکھا۔ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے شہر کے دروازے کھلتے دیکھ سکتے تھے، جہاں وہ اسلام کو زیادہ آسانی سے پھیلا سکیں گے۔ یہ ایک عظیم الشان سفر کا آغاز تھا۔ اب بس مکہ چھوڑنے کے لیے اللہ کے حکم کا انتظار تھا۔ اور وہ اجازت جلد ہی آنے والی تھی۔ اور وہ مبارک سفر شروع ہوگا جو اسلامی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ راستے میں آنے والی تمام کٹھن مشکلات، اور ہمت سے لڑی گئی لڑائیاں، اور گہرے ایمان اور توکل کے ساتھ جھیلی گئی آزمائشیں۔ ہم ایک ایسے سفر کے گواہ بنیں گے جس کا ہر قدم انمول اسباق رکھتا ہے۔ یہ سب کچھ اگلی قسط میں ہمارا منتظر ہے۔ جڑے رہیے گا۔