Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Roz-e-Qayamat – Pul-e-Sirat | AI Se Banai Gayi Qayamat Ka Din Series - Ep. 3

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

اب ہم قیامت کے روز کے خوفناک منظر کا سامنا کر رہے ہیں۔ دنیا کے خاتمے کے بعد ایک طویل انتظار کے بعد، ایک زوردار آواز آتی ہے۔ اللہ ربّ العزت حضرت اسرافیلؑ کو دوبارہ زندہ کرتے ہیں۔ اور انہیں ایک بار پھر صُور پھونکنے کا حکم دیتے ہیں ۔ پُلِ صراط ۔ جب فیصلے ہو چکے ہیں جہنم پر ایک پل رکھا گیا ہے جو جنت تک پھیلا ہوا ہے ۔ اور اس کی دونوں طرف کُنڈے لٹک رہے ہیں ان کا کام ان لوگوں کو پکڑنا ہے جن کا حکم دیا جائے ۔ نہيں! براہ کرم، میری مدد کریں! نہيں!

اور خدائے رحمت کے سامنے تمام آوازیں دب کر رہ جائیں گی۔ چنانچہ تمہیں پاؤں کی سرسراہٹ کے سوا کچھ سنائی نہیں دے گا۔ آج کے دن ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے، اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے۔ اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ کیا کمائی کیا کرتے تھے ۔ اب دنیا ختم ہو چکی ہے ۔ ایک ایک کرکے.

ملک الموت سمیت تمام فرشتے مر چکے ہیں ۔ لیکن اب، وہ وقت ہے جب سب کچھ حقیقی معنوں میں شروع ہوگا ۔ "اور صور پھونکا جائے گا اور ہم ان سب کو ایک ساتھ جمع کر لیں گے ۔" اور اب دوبارہ زندہ ہو کر سب میدانِ حشر میں جمع ہو رہے ہیں ۔ اوّل انسان سے لے کر ہر وہ شخص جو بھی مر چکا ہے انہیں ایک ایک کر کے دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے ۔ دنیا اب ویسی نہیں رہی جیسے ہم اسے جانتے تھے۔ یہ ایک بالکل مختلف جگہ میں بدل چکی ہے۔ ایک ہموار، لامتناہی میدان جس کا کوئی افق نہیں اتنا بڑا جتنا آپ نے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ وہاں ایک لمبا انتظار ہوگا ۔ ہر ایک کو اس کا نامہ اعمال دے کر حساب کے لیے بلایا جائے گا ۔ اس کے بعد، ان کے تمام اعمال میزان (ترازو) پر تولے جائیں گے ۔ پھر، پل صراط قائم کیا جائے گا اور آخرکار وہ سفر شروع ہوگا جس کا اختتام یا جہنم پر ہوگا یا جنت پر ختم ہوگا ۔ ایک کے بعد ایک ہم ان مراحل میں سے ہر ایک کو دیکھنے جا رہے ہیں ۔ ممکن ہے کچھ لوگوں کو حیرت ہو کہ مُردوں کو کیسے دوبارہ اکٹھا کیا جائے گا ؟ جب وہ گل سڑ کر زمین کے نیچے بکھر چکے ہیں انہیں دوبارہ کیسے اٹھایا جائے گا؟ اس آیت میں، ہمارا رب اس سوال کا ایک خوبصورت جواب دیتا ہے ۔ وہ فرماتا ہے، "ان گلی سڑی ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتا ہے ؟" کہہ دو کہ ان کو وہی زندگی دے گا جس نے انہیں پہلی بار زندہ کیا تھا ۔" "اور وہ ہر طرح کی تخلیق کو خوب جاننے والا ہے۔ " بے شک، کیا وہ خالق جسے ہم کائنات میں اس کے کاموں کے ذریعے جانتے ہیں جو لامتناہی طاقت اور قوت رکھتا ہے اور ہر چیز کو کامل ترتیب میں رکھتا ہے ہمیں ہر موسم بہار میں دوبارہ زندگی کی مثالیں نہیں دکھاتا ؟ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ زمین کے نیچے چھپے ہوئے بیجوں کو کس طرح زندگی دی جاتی ہے وہ اُگ کر کئی رنگوں کے پھولوں میں کِھل اُٹھتے ہیں ؟ کیا آپ اس کے گواہ نہیں ہیں ؟ ایک ایسے کمانڈر کے بارے میں سوچیں جس کے پاس ایک وسیع اور طاقتور فوج موجود ہے ۔ پھر وہ ان سب کو جاکر آرام کرنے کا حکم دے دیتا ہے ۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ کمانڈر اپنے بکھرے ہوئے سپاہیوں کو ایک گھنٹی کی آواز کے ذریعے دوبارہ اکٹھا نہیں کر سکتا؟ اسی طرح اللہ نے انسان کو ان گنت عوامل کو اکٹھا کرکے تخلیق کیا ہے۔ وہ ایک ماں کو پوری دنیا سے جمع کرکے کھانا فراہم کرتا ہے اور اس کے ذریعے وہ اس کے پیٹ میں بچے کو تخلیق کرتا ہے ۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ موت کے بعد جب ہمارے جسم مٹی میں بکھر جائیں تو وہ دوبارہ ہمیں جمع کرکے زندہ نہیں کر سکے گا؟ جیسا کہ آیت کہتی ہے "کیا ہمیں پہلی بار ان کو پیدا کرنا مشکل تھا ؟" لوگ وحشت اور خوف میں اپنی قبروں سے اٹھ رہے ہیں ۔ ایسے گویا کہ وہ گہری نیند سے بیدار ہوئے ہوں۔ ننگے پاؤں اور بے لباس وہ سب کسی ایک طرف تیزی سے دوڑ رہے ہیں ۔ لیکن جس دہشت اور صدمے میں وہ ہیں اس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی طرف مُڑ کر بھی نہیں دیکھ سکتے ۔ کسی کو کوئی اندازہ نہیں کہ کیا کرنا ہے۔ وہ ٹڈی دَل کی طرح بکھر کر ہر سمت دوڑنے لگتے ہیں ۔ درحقیقت، انہیں اس لمحے کے بارے میں پہلے ہی بتایا جا چکا تھا ۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور اپنی قبروں سے نکلیں گے اور ہر طرف پھیلی ہوئی ٹڈیوں کی طرح بلانے والے کی طرف دوڑتے چلے جائیں گے ۔ کافر کہیں گے۔۔۔ "یہ ایک مشکل دن ہے ۔" وہ مؤمن جو خدا کی نافرمانی سے دور رہتے ہیں فخر اور خوشی کے چہروں کے ساتھ چلیں گے یا اپنی سواریوں پر سوار ہوں گے ۔ لیکن وہ لوگ جو قرآن سے رُوگردانی کرتے ہیں انہیں چہروں کے بل گھسیٹ کر میدانِ حشر کی طرف لایا جائے گا ۔ کچھ چہرے نور سے چمک رہے ہوں گے جبکہ دوسرے پسینے میں شرابور ہوں گے ۔ لوگ اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے لگیں گے لیکن بے سود ۔ ہر کوئی اپنے ہی مسائل میں گم ہو گا۔ وہ ایک دوسرے سے بھاگیں گے ۔ کیونکہ ان کے ذہن میں صرف ایک ہی چیز ہوگی اپنے گناہوں سے نجات پانا ۔ مجرم یہ چاہے گا کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کیلئے اپنے بیٹے، اپنی بیوی اور اپنے بھائی کو فدیہ میں دے دے۔ اور اپنے اس خاندان کو بھی جو اسے پناہ دیتا تھا ۔ اور روئے زمین پر جتنے لوگ ہیں سب کو دے کر (فدیہ میں دے کر) خود کو با آسانی بچا لے ۔ براہ کرم مجھے جانے دو!

اگر چاہو تو میری بیوی کو لے جاؤ ۔ اگر چاہو تو میرے دوستوں کو لے جاؤ ۔ دنیا میں کوئی شخص جس کے ساتھ بھی دوستی رکھتا تھا اور جس کی بھی بات سنتا تھا وہ یومِ حساب میں ان لوگوں کو تلاش کرے گا ۔ اگر یہ دوستیاں بُرائی کی راہ پر تھیں تو جیسے ہی وہ انہیں پائے گا وہ ان کا گربیان پکڑ لے گا ۔ جب میں زمین پر تھا تو میں نے تمہاری پیروی کی! میں نے وہ کیا جو تم نے کہا!

اب مجھے بتاؤ کہ میں کیا کروں؟ لیکن وہ پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر بھاگ جائیں گے ۔ وہ اپنے پیر و کاروں کو دیکھنا بھی نہیں چاہیں گے۔ اور ان کے پیروکار پشیمان ہوں گے ۔ اور پیروکار کہیں گے۔ کاش ہمیں ایک بار پھر دنیا میں لوٹنے کا موقع دے دیا جائے تو ہم بھی ان (پیشواؤں) سے لاتعلقی کا اعلان کریں گے جس طرح انہوں نے ہمارے ساتھ کیا۔ آہستہ آہستہ، کچھ نام آپ کے ذہن میں بھی آنے لگتے ہیں ۔ کچھ ایسے لوگ ہیں جن کا آپ کو اس دن سامنا کرنا پڑے گا اگرچہ آپ کو ان سے ملنے کی کوئی خواہش نہیں ۔ لیکن فرار کی کوئی راہ نہیں ہے ۔ تمام انسانیت ایک بڑی قطار میں کھڑی ہوئی ہوگی۔ اور اب، یہ انتظار کا وقت ہے ۔ لوگ حیران ہوں گے کہ یہ انتظار کتنا لمبا چلے گا کیونکہ صورتحال ناقابلِ برداشت ہوگی ۔ اس دن، سورج پہلے سے کہیں زیادہ لوگوں کے قریب لایا جائے گا ۔ جبکہ وہ دنیا میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ کی دھوپ میں بھی نہیں کھڑے ہو سکتے تھے ۔ لوگوں کو اس دن جھلسا دینے والے سورج کے نیچے ایک بہت طویل عرصے تک انتظار کرنا پڑے گا۔ اپنے گناہوں کے بوجھ کے مطابق ہر کوئی اس طرح پسینے میں ڈوبا ہوگا جیسا پہلے کبھی نہیں ہوا ۔ لیکن کیا بالکل بھی سایہ نہیں ہوگا ؟ ہمارے پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پہلے ہی خوشخبری سنا دی تھی ان لوگوں کو، جو سائے میں ہوں گے ۔ انہوں نے فرمایا "اس دن جب اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ سات قسم کے لوگوں کو اپنا سایہ عطا کرے گا ایک عادل حکمران ، ایک نوجوان جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ایک وہ شخص جس کا دل مسجدوں سے جڑا ہوا ہو وہ دو شخص جو صرف اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں اور وہ صرف اللہ کے لیے ملتے اور جدا ہوتے ہوں ۔ اور ایک ایسا شخص جو ایک حسین و جمیل عورت کی ناجائز تعلقات کی دعوت کو رد کر دے اور کہے کہ 'میں اللہ سے ڈرتا ہوں'۔ ایک ایسا شخص جو اتنی خاموشی سے صدقہ دے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتا نہ چلے کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا دیا۔ اور ایک شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر جائیں" ۔ ایک اور حدیث میں خوشخبری یوں دی گئی ہے کہ جو شخص کسی قرض دار کو جو تنگی میں" ہو مہلت دے یا تمام یا کچھ قرض معاف کر دے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اپنے عرش کے سائے میں پناہ دے گا جب اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا" ۔ انتظار بہت طویل عرصے تک جاری رہے گا ۔ لیکن حساب شروع نہیں ہوگا ۔ یہاں تک کہ ایک وقت آئے گا جب لوگ اس صورتحال سے نجات دلانے کے لیے کسی کو بے تابی سے تلاش کریں گے ۔ سب سے پہلے وہ حضرت آدم علیہ السلام، ابو البشر کے پاس جائیں گے ۔ پھر حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) کے پاس جائیں گے ۔ اگرچہ وہ سب سے عظیم انبیاء میں سے ہیں لیکن ہر ایک کہے گا "نفسی، نفسی (یعنی میں، میں) ۔" ایک ایسا شدید دن کہ انبیاءؑ بھی صرف اپنے آپ کو بچانے میں مصروف ہوں گے ۔ سبحان اللہ ۔ ان میں سے کوئی بھی خود کو اللہ سے یہ درخواست کرنے کے لائق نہیں سمجھے گا ۔ ہر ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرے گا یہاں تک کہ آخر کار ہمیں نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا جائے گا ۔ اور آخر میں وہ اللہ سے جو دعا کریں گے جس کے بعد حساب شروع ہو جائے گا ۔ لیکن اس کے بعد جو کچھ شروع ہوگا وہ پہلے کی ہر چیز سے زیادہ سخت ہوگا۔ عظیم حساب سے پہلے ہر کوئی ایک قطار میں کھڑا ہوگا ۔ پھر بائیں طرف سے ایک خوفناک گرج سنائی دے گی جس سے ہر کوئی ڈر کر کانپ اٹھے گا ۔ جہنم جہنم کی آگ اپنے تمام غصے اور طاقت سے ظاہر ہوگی بے صبری سے دہک رہی ہوگی کیونکہ اس کے سامنے وہ لوگ کھڑے ہوں گے جنہوں نے بے شمار ظلم اور خوفناک گناہ کیے جنہوں نے اللہ اور اس کے نبی کو جھٹلایا جنہوں نے ایمان والوں کا مذاق اڑایا اور جنہوں نے سینکڑوں بے گناہ لوگوں کو قتل کیا۔ خوفزدہ ہو کر وہ صرف بے بسی سے گھور ہی سکیں گے۔ اور دائیں طرف جنت اپنی تمام خوبصورتی اور شان و شوکت کے ساتھ ظاہر ہونا شروع ہو جائے گی۔ وہ لوگ جو دنیا میں اللہ پر ایمان لائے اور اس کے نبی کی بات مانی وہ خوشی سے انتظار کر رہے ہوں گے۔ اپنے حساب سے پہلے، راستے میں آپ کو ایک چونکا دینے والا منظر نظر آتا ہے ۔ دنیا میں ایک بھیڑ نے ایک مرتبہ ایک حاملہ بھیڑ کو سینگ مارا تھا جس سے اس بھیڑ کا بچہ ضائع ہو گیا تھا اس دن ان دونوں بھیڑوں کو آمنے سامنے لایا جائے گا تاکہ قصاص لیا جائے اور دوسری بھیڑ کے ساتھ بالکل ایسا ہی کیا جائے گا۔ اس لمحے، آپ کو حقیقی معنوں میں احساس ہوگا کہ چھوٹی سے چھوٹی چیزیں بھی جنہیں آپ غیر اہم سمجھتے تھے ان کا بھی حساب لیا جائے گا۔ تو جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ (جزا) دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی وه اسے دیکھ لے گا اب، ہر ایک کو اس کا نامۂ اعمال دیا جائے گا۔ اہل جنت اسے دائیں طرف سے حاصل کریں گے جبکہ اہل جہنم اسے بائیں طرف سے یا پیچھے سے حاصل کریں گے۔ جن کا نامہ اعمال دائیں طرف سے دیا جائے گا انہیں اصحاب الیمین کہا جاتا ہے اور جن کو نامۂ اعمال بائیں طرف یا پیچھے سے دیا جائے گا انہیں اصحاب الشمال کہا جاتا ہے (بائیں طرف والے)۔ اور اعمال نامہ ان کے سامنے رکھا جائے گا اور بدکار اس میں لکھی ہوئی باتوں سے ڈر رہے ہوں گے۔ اور کہیں گے۔۔۔ "ہائے!

افسوس ہم پر!

یہ کیسا ریکارڈ ہے اس نے چھوٹے یا بڑے کسی عمل کو بھی بغیر حساب کے نہیں چھوڑا"۔ ہر وہ عمل جو انہوں نے کیا تھا ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا ۔ آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔ کاش میں نے کبھی شیطان کی پیروی نہ کی ہوتی ۔ پلیز، میں معافی چاہتا ہوں۔ مجھے ایک اور موقع دے دیں ۔ کاش میں نے اپنے نفس کی پیروی نہ کی ہوتی۔ "کاش میں مٹی ہو گیا ہوتا۔۔۔" جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے جب انہیں ان کے اعمال نامے ملیں گے تو قرآن اس کو اس طرح بیان کرتا ہے "جس کسی کو اس کی کتاب دائیں ہاتھ میں دی جائے گی، وہ کہے گا۔۔۔ 'یہ لو میری کتاب، اسے پڑھو۔ میں جانتا تھا کہ حساب کا سامنا کرنا پڑےگا’۔ اور اس طرح وہ ایک خوشگوار زندگی میں ہوگا۔ اتنے خوفناک دن کے ہوتے ہوئے کیا ہمیں اس خوشی اور آرام کو حاصل کرنے کے لئے حرام کاموں سے دور نہیں رہنا چاہیے؟ تمام تر دہشت کے باوجود اس دن کسی شخص سے جو سوال کیا جائے گا وہ بالکل سیدھا سا ہے جو زندگی گزار کر آئے ہو جو آخرت کے مقابلے میں تقریباً کچھ بھی نہیں ہے وہ حرام کاموں سے دُور رہ کر گزاری یا نہیں۔ بہرحال، جو بھی اپنی زندگی حرام میں گزارتا ہے وہ حقیقی خوشی کا ذائقہ کبھی نہیں چکھ سکتا۔ اللہ تعالیٰ کافروں سے پوچھے گا "تم زمین پر کتنے سال رہے ؟" تو وہ کہیں گے ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے ہیں۔ گننے والوں سے پوچھ لو ۔" اللہ فرمائے گا (وہاں) تم بہت ہی کم رہے ہو۔ کاش تم جانتے ہوتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے میں دنیا کی زندگی خریدی۔ تو ان سے نہ ہی عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ہی ان کی مدد کی جائے گی۔ اور اب وہ، جنہوں نے ایمان لانے سے انکار کیا جو کافر ہیں وہ عنقریب جہنم میں ڈالے جائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، کبھی نہیں نکالے نہیں جائیں گے ۔ اپنے کفر اور اس ظلم کے مطابق جو وہ کرتے تھے ۔ ان کی سزا اس سے بھی زیادہ سخت ہوگی۔ لیکن شاید اس سے بدترین یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو کبھی نہیں دیکھ سکیں گے جس نے انہیں پیدا کیا ۔ اب صرف ایک مرحلہ باقی ہے پُل صراط ۔ جو جہنم کے اوپر بنایا گیا ہے اور جنت کی طرف جاتا ہے ۔ متقی مومن، گنہگار کافر، اللہ کا انکار کرنے والا ہر کوئی اس پل پر آئے گا ۔ جنت تک پہنچنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اس پل کو عبور کرنے والے پہلے لوگ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی امت ہونگے ۔ ہر کوئی اپنے اعمال کے مطابق اس پل کو عبور کرے گا۔ کچھ بجلی کی طرح گزر جائیں گے کچھ ہوا کی طرح ۔ کچھ چل بھی نہیں سکیں گے اور رینگ کر پار کرنے کی کوشش کریں گے۔ صراط کے دونوں اطراف میں کنڈے لٹک رہے ہوں گے جنہیں مخصوص لوگوں کو پکڑنے کا حکم دیا جائے گا۔ نہيں!

براہ کرم، میری مدد کریں! نہيں!

کچھ ان کنڈوں سے زخمی اور خراش زدہ ہو کر بچ نکلیں گے جبکہ کچھ پکڑ لیے جائیں گے اور جہنم میں پھینک دیے جائیں گے۔ جہنم کبھی مطمئن نہیں ہوتی ۔ جب اس سے پوچھا جاتا ہے، کہ "کیا تم بھر گئی ہو؟ تو وہ چلّاتی ہے "ھَلْ مِن مَّزِید" کیا کچھ اور ہے؟ اس کی ساری ہولناکی کے ساتھ جہنم ہمارے قدموں کے نیچے ہے ہماری آنکھوں کے سامنے بھڑک رہی ہے ۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ اسے نہ دیکھیں اور پل پر چلتے رہیں ۔ پھر ہم اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیکھتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ اپنے گناہوں پر افسوس کر رہے ہیں جبکہ کچھ جہنم میں گر رہے ہیں ۔ اور وہاں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے دنیا میں اپنی آخرت کو یاد رکھا ۔ وہ بغیر کسی تکلیف کے پُل کو تیزی سے پار کر لیتے ہیں ۔ نیک لوگوں کو جہنم کو دکھانے کا مقصد انہیں ڈرانا نہیں ہے ۔ بلکہ ان کی خوشی کو اور بھی زیادہ بڑھانا ہے۔ انہیں دکھایا جاتا ہے کہ خوفناک جگہ سے انہیں بچا لیا گیا ہے ۔ وہ ایک لمحے میں گزر جاتے ہیں ۔ ان کی تڑپ بالآخر ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے ابدی گھر، تک پہنچ جاتے ہیں، یعنی جنت ۔ جبکہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے کوئی ہے جو غم اور ہمدردی کے ساتھ دعا کر رہا ہے ۔ جس نے اپنی ساری زندگی، اپنی امت کی طرف رحمت سے دیکھا اور ان کے لئے دعا کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)۔ اَے میرے رب، "سلامتی عطا کر"، وہ اہلِ ایمان کیلئے دعا کر رہے ہیں ۔ اس دن ہماری مشکل ہمارا حساب ہوگا لیکن ان کی مشکل اپنی امت کو اس حالت میں دیکھنا ہوگا ۔ ان لوگوں کو دیکھنا جنہیں ان کے نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے گئے ہونگے پل صراط میں ان کی حالت اور ان کا ایک ایک کر کے جہنم میں گرنا ۔ دوسری طرف انہیں تسلی ہوگی، ان لوگوں کو دیکھ کر جو جنت کے دروازوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ آخر کار، جہنم نے ان لوگوں کو لے لیا جو اس کے مستحق تھے ۔ اور اب وقت آگیا ہے کہ جنت اپنے لوگوں کا استقبال کرے۔ ”اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے تھے، انہیں جنت کی طرف گروہوں کی شکل میں لے جایا جائے گا۔ جب وہ قریب پہنچیں گے تو جنت کے دروازے ان کیلئے کھولے جا چکے ہوں گے اور اس کے محافظ ان سے کہیں گے ”سلام ہو آپ پر“۔ خوب رہے آپ لوگ اب اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کیلئے آ جائیے۔ ان شاءاللہ اگر ہم کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس پورے سفر کے اختتام پر ہم جس جگہ پہنچیں گے وہ اتنی خوبصورت ہے کہ ہمارے پروردگار کے الفاظ میں جنت ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھا” نہ کسی کان نے اسے سنا اور نہ کسی انسان نے کبھی اس کا تصور کیا ۔ اور اب، ابدی خوشی کی سرزمین میں داخل ہو رہے ہیں ۔ جہاں ہم ہمیشہ رہیں گے اور ہر قسم کی خوشیوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ اور سب سے بڑھ کر، ہمیں سب سے بڑی نعمت حاصل ہوگی اللہ کا دیدار۔ اگر یہ ویڈیو آپ تک پہنچی ہے تو مان لیں کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ اللہ اسے آپ کے سامنے لایا، اور اسے آخر تک دیکھنے میں آپ کی رہنمائی کی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کیوں ؟ کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کچھ بدلیں۔ تو کیا آپ بدلے میں اس کی طرف ایک قدم بھی نہیں اٹھائیں گے ؟ یہ وقت ہے کہ آپ اپنی زندگی کیلئے فیصلہ کریں ۔ اگر آپ نماز نہیں پڑھتے تو اسی وقت نماز شروع کردیں ۔ ہماری مکمل طور پر مفت اور اشتہارات کے بغیر صلاۃ (نماز) ایپ کے ساتھ آپ پانچ نمازوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا سکتے ہیں ۔ اگر آپ اپنے ایمان کو مضبوط اور اپنے اسلامی علم کو وسیع کرنا چاہتے ہیں تو ہم نے آپ کے لیے اس چینل پر بہت سی ویڈیوز تیار کی ہیں ۔ آپ انہیں دیکھنے کے لئے ایک ہدف مقرر کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو عربی میں قرآن پڑھنا نہیں آتا تو ہم نے “لیم الیف قرآن” کے نام سے ایک ایپ تیار کی ہے جس سے آپ جلدی، آسانی اور مفت میں قرآن پڑھنا سیکھ سکتے ہیں ۔ اور اگر آپ قرآن کے معنوں کو مزید گہرائی سے جاننا چاہتے ہیں تو آپ ہماری تفسیر پڑھنے والی ایپ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ ایک بار جب آپ اپنے لیے ایک ہدف مقرر کر لیں گے، چاہے وہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو تو سب کچھ بدلنا شروع ہو جائے گا ۔ تو جنت حقیقت میں کیسی ہے؟ کیا نعمتیں ہمارا انتظار کر رہی ہیں ؟ ان سب کے جوابات چوتھے اور آخری حصے میں ہوں گے ۔ جنت و جہنم اے آئی کے ذریعے منظر کشی۔ ملتے ہیں ۔ کیا آپ نے کچھ محسوس کیا؟ جب آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو، آپ کو کوئی اشتہار نظر نہیں آتا۔ کیونکہ "ٹوورڈز ایٹرنیٹی" ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے۔ ہم صرف آپ کی مدد سے یہ ویڈیوز بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ اس نیکی میں حصہ لینا چاہتے ہیں، تو ہمیں عطیہ کریں اور اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔