Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Ghazwa-E-Khandaq: Madina Ke Yahudiyon Ne Nabi ﷺ Ko Dhoka Diya – Aey Rasool | Ep. 8

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

افق پر اٹھتے گرد و غبار کے بادل آنے والے طوفان کی واضح علامت تھے۔ ابو سفیان کی انتقامی قیادت میں، جزیرہ نما عرب کے کونے کونے سے جمع ہونے والے 10,000 جنگجوؤں کا ایک عظیم لشکر مدینہ کے مضافات تک پہنچ چکا تھا۔ "دس ہزار آدمیوں کی اس فوج کے ساتھ، ہم ان کا وہ حشر کریں گے کہ وہ اپنے پیدا ہونے کے دن کو کوسیں گے!" مشرکین انتقام کی آگ میں جل رہے تھے۔ لیکن انہوں نے اپنے سامنے جو منظر دیکھا اس نے انہیں دنگ کر دیا۔ شہر تک پہنچنے کے لشکر کا واحد راستہ تقریباً 6 کلومیٹر طویل خندق کھود کر بند کر دیا گیا تھا۔ یہ خندقیں ناقابل یقین حد تک چوڑی اور گہری تھیں، جیسے پار نہ کی جا سکنے والی کوئی دیوار۔ آسان فتح کا یقین جو انہیں محسوس ہو رہا تھا وہ اچانک خوف اور بے یقینی میں بدل گیا۔ ایسی دفاعی حکمت عملی کا سامنا کرتے ہوئے، دشمن کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے، کیونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا۔ لیکن بات اس نہج تک کیسے پہنچی؟ اور مسلمانوں نے ایسا منصوبہ کیسے بنایا کہ وہ اس زبردست طاقت کا مقابلہ کر سکیں؟ اور سب سے اہم بات، اب آگے کیا ہونے والا تھا؟ غداریاں، خفیہ سازشیں، اور معجزات۔ آئیے مل کر مشاہدہ کریں، غزوہ خندق کی اس عظیم داستان کا۔ یہ ویڈیو سیریز معتبر اسلامی ذرائع سے لیے گئے سینکڑوں حوالہ جات پر مبنی ہے۔ تمام اے آئی مناظر مستند علمائے کرام کی مشاورت سے تیار کیے گئے ہیں اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ یہودی قبیلے بنو نضیر کو مدینہ سے نکال دیا گیا، ان کی غداری کی سزا کے طور پر۔ ان میں سے کچھ شام چلے گئے جبکہ دیگر خیبر میں جا بسے۔ کسی بھی دوسرے علاقے کی نسبت، خیبر میں یہودیوں کی آبادی سب سے زیادہ تھی۔ لہٰذا، اپنی بڑی تعداد کی وجہ سے، وہ ایک دوسرے کو جنگ کے لیے اکسا رہے تھے۔ اور اسی اعتماد نے انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنا انتقام لینے کی منصوبہ بندی کریں، نبی پاک(ﷺ) اور آپ کے صحابہ کے خلاف۔ لیکن ظاہر ہے، یہ کوئی ایسا کام نہیں تھا جو وہ اکیلے کر سکتے ہوں۔ چنانچہ ،انہوں نے قریش کو منانے کے لیے 19 افراد کا ایک وفد بھیجا تاکہ وہ اور دیگر عرب قبائل مل کر نبی پاک (ﷺ) کے خلاف جنگ کریں۔ وہ سب سے پہلے قریش کے پاس جاتے ہیں، پھر غطفان اور بنو سلیم کے قبائل کے پاس، اور ان کے بعد، کئی دیگر عرب قبائل کے پاس۔ اسی لیے اس جنگ کو غزوہ احزاب بھی کہا جاتا ہے، یعنی اتحادیوں کی جنگ، کیونکہ بہت سے چھوٹے بڑے قبائل، مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے ایک ساتھ جمع ہونے والے تھے۔ منصوبے کے مطابق، اس وفد کی پہلی منزل مکہ تھی۔ کیا آپ کو غزوہ احد کا اختتام یاد ہے؟ ابو سفیان نے نبی پاک (ﷺ) کو چیلنج کیا تھا کہ ان کا دوبارہ سامنا ہوگا، ایک سال بعد بدر کے مقام پر۔ نبی پاک (ﷺ) نے اسے قبول کر لیااور اگلے سال اپنے لشکر کے ساتھ بدر کی طرف روانہ ہوئے۔ لیکن جب آپ وہاں پہنچے تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ قریش کو آپ کا سامنا کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ وہ بدر میں ایک عبرتناک شکست کا سامنا کر چکے تھے، اور تب سے، ابو سفیان انتقام کی شدید آگ میں جل رہا تھا۔ "تو پھر خوش آمدید۔ جو لوگ محمد (ﷺ) کے خلاف جنگ میں ہماری مدد کریں، وہ ہمیں سب سے زیادہ محبوب ہیں۔" اسلام روز بروز پھیل رہا تھا، اور قریش جانتے تھے کہ اب وہ اس کا اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ لہٰذا ان کے پاس اس پیشکش کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ابو سفیان دیکھنا چاہتا تھا کہ یہودی وفد اس مقصد میں واقعی پُرعزم اور سنجیدہ ہے یا نہیں۔ چنانچہ اس نے انہیں آزمانے کا فیصلہ کیا، اور دیکھا کہ وہ تو اس سے بھی زیادہ بے تاب تھے۔ اس نے کہا: "اے یہود کی قوم!

ہمیں محمد کے ساتھ اپنے تنازعے کے بارے میں بتاؤ۔ کس کا دین بہتر ہے، ہمارا یا اس کا؟" "اگر ہمیں اللہ کے سامنے سچ ہی بولنا ہے، تو تم ان سے زیادہ حق کے قریب ہو۔" پھر بھی، دل کی گہرائیوں میں وہ جانتے تھے کہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ مگر پھر بھی، انتقام کی پیاس میں اندھے ہو کر، انہوں نے جھوٹ بولنے سے دریغ نہیں کیا۔ یہودی وفد نے قریش کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور اپنا پہلا حلیف حاصل کر لیا۔ لیکن یہ ان کے لیے کافی نہ تھا۔ مزید حمایت حاصل کرنے کے لیے، وہ قبیلہ غطفان کے پاس گئے، جو مکہ اور نجد کے درمیان آباد تھے۔ اور انہیں قائل کرنے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگا۔ جلد ہی، بنو سلیم بھی ان کے ساتھ ملنے پر رضامند ہو گئے۔ یہ صرف یہودی وفد کی کوششیں نہیں تھیں؛ قریش خود بھی مزید قبائل کو قائل کرنے کے لیے دن رات کام کر رہے تھے۔ پھر انہوں نے قبیلہ احابیش اور ان کے اتحادی قبائل کی حمایت بھی حاصل کر لی۔ ان تمام گروہوں کے ملنے سے، ان کی نفری تقریباً 4,000 تک پہنچ گئی۔ اور مدینہ کے آس پاس کے قبائل کی حمایت حاصل کرنے کے بعد، بنو نضیر اور قریش نے بالآخر 10,000 آدمیوں کا ایک بہت بڑا لشکر جمع کر لیا۔ "دس ہزار آدمیوں کی اس فوج کے ساتھ، ہم ان کا وہ حشر کریں گے کہ وہ اپنے پیدا ہونے کے دن کو کوسیں گے!" جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا، نبی پاک (ﷺ) کو ایک پیغام ملا جو قبیلہ خزاعہ کی طرف سے تھا۔ "وہ آ رہا ہے!

ابو سفیان ایک بڑا لشکر لے کر یہاں کا رخ کر رہا ہے!" "کتنے لوگ ہیں؟" "ہزاروں میں۔" "کیا تم نے خود دیکھا ہے؟" "میں وادی میں ان کے دستوں کے پاس سے گزرا، وہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔" نبی پاک (ﷺ) نے فوری طور پر اپنے صحابہ کو جمع کیا تاکہ ان سے مشورہ کر سکیں۔ ہر کوئی اپنی اپنی رائے دے رہا تھا۔ یہاں تک کہ ایک ایسی تجویز آئی جس نے سب کچھ بدل دیا۔ "یا رسول اللہ، ہمارے ہاں فارس میں، جب بھی ہمیں دشمن کے گھڑ سواروں کے حملے کا ڈر ہوتا تھا، تو ہم حفاظت کے لیے اپنے شہر کے گرد خندقیں کھود لیا کرتے تھے۔" یہ بات کہنے والے سلمان فارسی (رضي الله عنه) تھے، جو ایک ایرانی النسل صحابی تھے۔ نبی پاک (ﷺ) اور آپ کے صحابہ نے اس سے پہلے کبھی ایسی حکمتِ عملی کے بارے میں نہیں سنا تھا۔ نبی پاک (ﷺ) کو یہ تجویز معقول لگی اور آپ نے اسے منظور فرما لیا۔ وہ اتنی چوڑی اور گہری خندقیں کھودنے والے تھے کہ گھوڑے بھی انہیں پار نہ کر سکیں۔ لیکن سب سے پہلے، نبی پاک (ﷺ) باہر تشریف لے گئے تاکہ یہ طے کر سکیں کہ خندق کہاں کھودی جانی چاہیے۔ مدینہ کے ایک طرف، آتش فشانی چٹانوں کے وسیع میدان تھے۔ اور دوسری طرف، کھجوروں کے بڑے بڑے باغات تھے۔ لشکر ان دونوں اطراف سے داخل نہیں ہو سکتے تھے۔ اور جنوب کی طرف ایک بڑا پہاڑ تھا، جس کی وجہ سے اس سمت سے بھی آنا ناممکن تھا۔ ایک طرح سے، اللہ تعالیٰ نے مدینہ کو پہلے ہی قدرتی تحفظ میں رکھا ہوا تھا۔ صرف ایک طرف کا راستہ کھلا تھا۔ اور وہیں ایک لمبی خندق کھودی جانی تھی تاکہ دشمن کی شہر تک رسائی کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔ لیکن اسے مکمل کرنے کے لیے ان کے پاس 10 دن سے بھی کم وقت تھا۔ ہر کسی نے اپنی پوری طاقت سے کھدائی شروع کر دی۔ اور ان کی قیادت خود نبی پاک (ﷺ) کر رہے تھے۔ اپنے مبارک ہاتھوں میں کُدال اور بیلچہ لیے، آپ (ﷺ) بھی اپنے صحابہ کے شانہ بشانہ کام کر رہے تھے، اور ساتھ ہی ساتھ ان کی ہمت بھی بڑھا رہے تھے۔ شدید گرمی اور بھوک کے باوجود، وہ سارا دن بغیر آرام کیے کھدائی کرتے رہے۔ بعض اوقات صحابہ عرض کرتے: "یا رسول اللہ (ﷺ)، آپ آرام فرمائیں۔ ہمارا کام کافی ہے۔ آپ کو خود کو تھکانے کی ضرورت نہیں ہے۔" آپ (ﷺ) چاہتے تو کام نہ کرنے کا انتخاب کر سکتے تھے۔ آخرکار، آپ (ﷺ)، اللہ کے رسول تھے، اور کسی کو اس پر کوئی اعتراض بھی نہ ہوتا۔ لیکن یہ آپ (ﷺ) ہی تھے جنہوں نے فرمایا تھا، "قوم کا سردار وہ ہے جو ان کی خدمت کرتا ہے۔" آپ کے لیے بیٹھ کر دیکھنا کام کرنے سے زیادہ مشکل تھا۔ آپ (ﷺ) جانتے تھے کہ اللہ کی برکتیں اور رحمتیں مشقت کے بعد آتی ہیں۔ چنانچہ آپ نے ہر کسی سے بڑھ کر محنت کی۔ اس سال ،عرب شدید خشک سالی اور قحط کی لپیٹ میں تھا۔ بھوک کی شدت برداشت کرنے کے لیے بہت سے مسلمانوں کو اپنے پیٹوں پر پتھر باندھنے پڑے۔ ایسا کر کے، وہ پیٹ بھرے ہونے کے ایک جھوٹے احساس سے اپنی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انتہائی بے بسی کے عالم میں، صحابہ کا ایک گروہ نبی پاک (ﷺ) کے پاس آیا اور آپ کو اپنی اس تکلیف کے بارے میں بتایا۔ لیکن جب انہوں نے اپنے سامنے کا منظر دیکھا، تو ان کے الفاظ ان کے گلے میں ہی پھنس گئے۔ نبی پاک (ﷺ) نے اپنے پیٹ سے کپڑا ہٹایا، تو ایک نہیں، بلکہ دو پتھر زمین پر گرے۔ "کیا آپ نے بھی اپنے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے ہیں؟ بھوک کی وجہ سے؟" آپ (ﷺ) وہی تکلیف برداشت کر رہے تھے، بلکہ ان سے بھی زیادہ۔ ایک دن، جب جابر بن عبداللہ (رضي الله عنه) نے نبی پاک (ﷺ) کو اس حالت میں دیکھا، تو ان سے برداشت نہ ہوا۔ وہ گھر گئے اور اپنی اہلیہ سے کہا: "میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو بھوک سے نڈھال دیکھا ہے۔ ایسی مشقت میں کوئی اور ہوتا تو گر ہی جاتا۔ کیا ہمارے گھر میں کھانے کے لیے کچھ ہے؟" ان کی اہلیہ نے جواب دیا، "اللہ کی قسم، ہمارے پاس اس چھوٹی سی بکری اور چند مٹھی جَو کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔" جابر نے بکری ذبح کی، اور ان کی اہلیہ نے جَو پیس کر آٹا بنایا۔ انہوں نے گوشت ایک ہنڈیا میں ڈالا اور اسے مٹی کے چولہے پر پکنے کے لیے چھوڑ دیا۔ جیسے ہی جابر گھر سے نکلنے لگے، کہ نبی پاک(ﷺ) کو دعوت دے سکیں، تو ان کی اہلیہ نے کہا: "براہِ کرم مجھے رسول اللہ (ﷺ) کے سامنے شرمندہ مت کیجئے گا۔" ان کا مطلب تھا کہ وہ بہت زیادہ لوگوں کو دعوت نہ دیں، کیونکہ انہوں نے جو کھانا تیار کیا تھا وہ صرف چند ہی لوگوں کے لیے کافی تھا۔ جابر ،نبی پاک (ﷺ) کے پاس گئے اور عرض کیا کہ انہوں نے تھوڑا سا کھانا تیار کیا ہے۔ پھر انہوں نے آپ (ﷺ) سے درخواست کی کہ آپ چند صحابہ کے ساتھ تشریف لائیں۔ نبی پاک (ﷺ) نے کچھ ایسا فرمایا جس کی انہیں ہرگز توقع نہ تھی۔ آپ (ﷺ) نے خندق کھودنے والے تمام صحابہ کو آواز دی اور فرمایا: "تمہارے بھائی نے ہماری دعوت کی ہے!" جس بات کا جابر کی اہلیہ کو ڈر تھا وہ اب سچ ہو چکی تھی۔ ان کے پاس صرف چند لوگوں کے لیے کھانا تھا، لیکن اب صحابہ کرام کا پورا لشکر آ رہا تھا۔ جب جابر گھر لوٹے اور اپنی اہلیہ کو بتایا کہ کیا ہوا ہے، تو انہوں نے پوچھا: "کیا نبی پاک (ﷺ) نے آپ سے کھانے کی مقدار پوچھی تھی؟ " "ہاں۔" "تو پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔" انہیں کامل یقین تھا کہ نبی پاک (ﷺ) کچھ ایسا جانتے ہیں جو ہم نہیں جانتے۔ جابر پریشان تھے اور سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیا کریں۔ جب نبی پاک (ﷺ) تشریف لائے، تو آپ نے گوشت اور روٹی میں برکت کے لیے دعا فرمائی۔ پھر آپ نے دس ، دس کر کے صحابہ کو اندر بلایا۔ پھر آپ (ﷺ) نے اپنے دستِ مبارک سے تندور سے روٹی نکالی، اس پر گوشت کا ایک ٹکڑا رکھا، اور خود اپنے ہاتھوں سے ہر صحابی کو پیش کیا۔ ہر کوئی پوری طرح سے پیٹ بھر کر کھا رہا تھا۔ پھر بھی، نہ تو گوشت اور نہ ہی روٹی میں کوئی کمی آئی۔ وہ ویسے ہی برقرار رہے۔ جابر اور ان کی اہلیہ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اس دن کے بارے میں، جابر نے بعد میں فرمایا: "خدا کی قسم، ایک ہزار لوگ آئے اور انہوں نے پیٹ بھر کر کھایا۔ پھر بھی ہماری ہنڈیا اسی طرح ابل رہی تھی اور ہمارے گوندھے ہوئے آٹے سے ویسے ہی روٹیاں بن رہی تھیں۔" ایک ہزار لوگوں نے اس معجزے کا مشاہدہ کیا۔ اور جب اس واقعے کو بار بار بیان کیا گیا، تو ان میں سے کسی ایک نے بھی اس کا انکار نہیں کیا۔ ذرا سوچیں ،جن لوگوں نے اپنی زندگیاں سچائی کے لیے وقف کر دی ہوں وہ کبھی کسی ایسی بات کا ذکر کیسے کر سکتے ہیں جو کبھی ہوئی ہی نہ ہو؟ کیا وہ سب، معاذ اللہ، ایک ہی جھوٹ پر متفق ہو سکتے تھے؟ صحابہ کرام کے نزدیک یہ معجزات واضح حقیقتیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے بارہا اپنے رسول (ﷺ) کے مبارک ہاتھوں سے ایسی برکتیں عطا فرمائیں۔ بے شک، بدر اور تبوک جیسی جنگوں میں، ولیمے کی دعوتوں میں، اور قحط کے وقت میں، ایسے معجزات کا بار بار مشاہدہ کیا گیا۔ کبھی 180 لوگوں نے، کبھی 400 لوگوں نے، اور کبھی تو 1500 سے بھی زیادہ لوگوں نے۔ جب نبی پاک (ﷺ) اور آپ کے صحابہ خندق کھود رہے تھے، تو صحابہ کے سامنے ایک بڑی اور سخت چٹان آ گئی۔ لیکن انہوں نے کتنی ہی کوشش کیوں نہ کی، وہ اسے توڑ نہ سکے۔ چنانچہ انہوں نے فوراً نبی پاک (ﷺ) کو اس کی اطلاع دی۔ نبی پاک (ﷺ) تشریف لائے اور سلمان فارسی کی کدال لی۔ پھر آپ نے "بسم اللہ" پڑھا اور ایک زوردار ضرب چٹان پر لگائی۔ اس ایک ہی ضرب سے، چٹان کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ کر بکھر گیا۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا: "اللہ اکبر!

مجھے شام کی کنجیاں دے دی گئی ہیں۔ خدا کی قسم، میں اس وقت اس کے سرخ محلات دیکھ رہا ہوں۔" آپ نے دوسری بار ضرب لگائی، اور چٹان کا ایک اور تہائی حصہ ٹوٹ گیا۔ پھر آپ نے تکبیر کہی: "اللہ اکبر! مجھے فارس کی کنجیاں دے دی گئی ہیں۔ خدا کی قسم، میں مدائن کا سفید محل دیکھ رہا ہوں۔" جب آپ (ﷺ) نے تیسری بار ضرب لگائی، تو بلند آواز میں فرمایا: "اللہ اکبر!

مجھے یمن کی کنجیاں دے دی گئی ہیں۔ خدا کی قسم، میں اس وقت صنعاء کے دروازے دیکھ رہا ہوں۔" اس آخری ضرب کے ساتھ ہی، چٹان مکمل طور پر ریزہ ریزہ ہو گئی۔ جب مسلمانوں نے یہ خوشخبریاں سنیں، تو ان کا ایمان اور بھی پختہ ہو گیا۔ لیکن منافقین کا کیا حال تھا؟ ان کا کیا ردعمل تھا؟ ایک طنزیہ لہجے میں، انہوں نے کہا: "وہ ہمیں کسریٰ اور قیصر کے خزانوں کا کیسے وعدہ کر سکتے ہیں، جبکہ ہم میں سے کوئی قضاءِ حاجت کے لیے بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتا؟" وہ اردگرد موجود سب کو بددل کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ ذرا غور کیجیے۔ جب یہ وعدے کیے جا رہے تھے، مدینہ کو ایسے دشمن قبائل نے گھیر رکھا تھا، جو مسلمانوں کی پوری آبادی کو ختم کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ مسلمانوں نے ابھی تک قریش کو بھی پوری طرح شکست نہیں دی تھی۔ انہیں اپنے دفاع کے لیے خندق کھودنی پڑی تھی۔ وہ بھوکے، پیاسے اور تھکے ہوئے تھے۔ لیکن، درحقیقت یہ وعدے کرنے والی ذات اللہ کی تھی، جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ اور جو کچھ بھی نبی پاک (ﷺ) نے فرمایا تھا، وہ برحق تھا۔ اور ایک ایک کر کے، وہ وعدہ کی گئی تمام فتوحات سچ ثابت ہوئیں، اور وہ بھی صرف ایک مختصر سے عرصے میں، حضرت عمر اور حضرت عثمان (رضي الله عنهم) کے ادوارِ خلافت میں۔ وہ خندق جس نے مشرکین کی فوج کو دنگ کر دیا تھا، محض چھ دنوں میں مکمل کر لی گئی تھی۔ یہ تقریباً 9 میٹر چوڑی تھی، یعنی تقریباً پانچ آدمیوں کی لمبائی کے برابر۔ اور اس کی گہرائی اس سے تقریباً آدھی تھی۔ یہ اتنی چوڑی تھی کہ ایک ماہر سے ماہر گھڑ سوار بھی اسے چھلانگ لگا کر پار نہیں کر سکتا تھا۔ اس تقریباً 6کلومیٹر لمبی خندق کے ساتھ، صرف ایک چھوٹا سا حصہ اتنا تنگ تھا کہ وہاں سے ایک اکیلا گھڑ سوار گزر سکے۔ "شاید وہ آ رہے ہیں۔" ابو سفیان کی قیادت میں 10,000 مشرکین کا ایک لشکر پہنچ چکا تھا۔ ان کا سامنا پہلے کبھی نا دیکھی جانے والی جنگ کی ایک حکمتِ عملی سے تھا۔ اور یہ ان کے لیے ایک بہت بڑی مایوسی تھی۔ "اپنے گھوڑے روکو!" "یہ کیا ہے؟ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟" "رکو!

اپنے گھوڑے روکو!" انہوں نے سوچا تھا کہ وہ آسانی سے مدینہ میں داخل ہو جائیں گے، گلیوں میں خون بہائیں گے، اور مسلمانوں کو چن چن کر ماریں گے۔ "رکو!

میں نے کہا رکو!" "یہ کیا ہو رہا ہے؟" لیکن پھر بھی، ابو سفیان کا پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اپنی تیاریاں مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے خندق کے اس پار سے تیروں کی بارش شروع کر دی۔ تیر ایک خوفناک سنسناہٹ کے ساتھ ہوا کو چیرتے ہوئے آ رہے تھے اور مسلمانوں پر برس رہے تھے۔ لیکن خندق ان کی توقعات سے کہیں زیادہ بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی۔ انہوں نے کتنی ہی کوشش کیوں نہ کی، وہ اسے ہرگز پار نہ کر سکے۔ اگر آپ کو یاد ہو، خندق کا ایک حصہ ایسا بھی تھا، جو باقی حصوں جتنا چوڑا نہیں تھا۔ کچھ لوگوں نے وہاں سے گزرنے کی کوشش کی، لیکن انہیں پار کرنے سے پہلے ہی مار گرایا گیا۔ مگر عمر بن عبد ود، وہاں سے گزرنے میں کامیاب ہو گیا۔ وہ پورے عرب کے نامور اور خوفناک ترین جنگجوؤں میں سے ایک تھا۔ سر سے پاؤں تک زرہ میں ملبوس، اس نے اپنے گھوڑے کی لگام زور سے کھینچی اور وہ مسلمانوں کے لشکر کے بالکل سامنے آ کر رکا۔ "کون مجھ سے لڑے گا؟" حضرت علی (رضي الله عنه) کھڑے ہوئے اور عرض کیا، "یا رسول اللہ (ﷺ)، مجھے اس سے لڑنے کی اجازت دیجیے۔" حضرت علی (رضي الله عنه) کا عزم دیکھ کر، آپ نے دعا کی، "اے اللہ، اس کی مدد فرما۔" پھر حضرت علی (رضي الله عنه) میدان میں آگے بڑھے۔ "دیکھو، علی...

علی جا رہے ہیں۔" "ذوالفقار۔" "تم کون ہو؟" "میں علی ہوں، ابوطالب کا بیٹا۔" "میں تمہارا خون نہیں بہانا چاہتا۔ تمہارے والد میرے دوست تھے۔" "اللہ کی قسم، لیکن میں تمہارا خون بہانا چاہتا ہوں۔" عمرو غصے سے پاگل ہو گیا۔ اس نے اپنی تلوار نکالی اور گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ لیکن حضرت علی (رضي الله عنه) نے فرمایا: "میں تم سے کیسے لڑ سکتا ہوں جبکہ میں پیدل ہوں اور تم گھوڑے پر سوار ہو؟ نیچے آؤ اور میرا سامنا کرو!" چنانچہ عمرو نیچے اترا اور حضرت علی (رضي الله عنه) کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ "آؤ!

ذرا دیکھیں تم میں کتنا دم ہے۔" حضرت علی (رضي الله عنه) نے اس کے سامنے دو شرطیں رکھیں: "اسلام قبول کر لو، یا واپس چلے جاؤ۔" لیکن عمرو نے دونوں سے انکار کر دیا۔ مقابلے کا آغاز تب ہوا جب عمرو نے پہلا وار کیا۔ حضرت علی نے اسے اپنی ڈھال پر روکا۔ لیکن تلوار ڈھال کو چیرتی ہوئی ان کے سر کو زخمی کر گئی۔ زمین سے گرد و غبار کا ایک بادل اٹھا جس نے ان دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کی وجہ سے کسی کا بھی یہ دیکھنا ناممکن ہو گیا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔ کچھ دیر کے لیے کسی کو سمجھ نہ آیا کہ کیا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ ایک آواز سنائی دی۔ "اللہ اکبر!" عمرو کا سر کٹ کر زمین پر گر چکا تھا۔ وہ آواز حضرت علی (رضي الله عنه) کی تھی۔ جب نبی (ﷺ) اور صحابہ کرام نے تکبیر سنی، تو وہ سمجھ گئے کہ حضرت علی نے عمرو کو شکست دے دی ہے۔ اور ان سب نے مل کر پکارا "اللہ اکبر!" دو یا تین اور آدمیوں نے بھی خندق پار کر کے حضرت علی پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ لیکن موت کے خوف سے، وہ الٹے پاؤں لوٹ گئے۔ دشمن اپنے ان حملوں سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکا۔ لہٰذا انہوں نے محاصرے کی حالت میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے پاس کرنے کو اور کچھ تھا ہی نہیں۔ کئی دنوں تک، دونوں طرف سے فاصلے سے ایک دوسرے پر تیروں کی بارش ہوتی رہی۔ لیکن اس سے جنگ محض اور بھی لمبی کھنچتی چلی گئی۔ اور یہ جتنی لمبی ہوتی گئی، قریش کے لیے اتنی ہی بری ثابت ہوئی۔ کیونکہ موسم ہر گزرتے دن کے ساتھ شدید تر ہوتا جا رہا تھا۔ دن کے وقت جھلسا دینے والی گرمی ہوتی تھی، اور رات کو جما دینے والی سردی۔ نبی پاک (ﷺ) نے تقریباً 500 صحابہ کو مدینہ بھیجا اور شہر کو محفوظ بنایا۔ رات کی شدید سردی میں، آپ (ﷺ) نے ذاتی طور پر پہرہ دیا، خندق کے سب سے تنگ حصے پر، کیونکہ آپ کو اندیشہ تھا کہ دشمن شاید وہاں سے پار کرنے کی کوشش کرے۔ حضرت عائشہ (رضي الله عنها) نے بعد میں فرمایا کہ جب نبی پاک (ﷺ) گھر تشریف لائے، تو آپ سردی سے کانپ رہے تھے۔ چونکہ شہر کے اردگرد کی فصلیں پہلے ہی کاٹی جا چکی تھیں، اس لیے دشمن فوج کے جانوروں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ "چارہ ختم ہو گیا۔ ہم بہت کم لائے تھے۔" اس طرح تو، ان کے جانور ایک ایک کر کے مرنا شروع ہو جائیں گے۔ چونکہ انہوں نے سوچا تھا کہ وہ صرف ایک دو دن لڑیں گے اور آسانی سے جیت جائیں گے، اس لیے وہ اپنے ساتھ بہت کم مقدار میں کھانا لائے تھے۔ اگر حالات ایسے ہی رہے تو وہ زیادہ دیر تک ڈٹے نہیں رہ سکیں گے۔ ابو سفیان اس صورتحال سے واقف تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے آدمیوں کو تیر اندازی تیز کرنے کا حکم دیا۔ یہ اتنا شدید حملہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے ہلنا بھی تقریباً ناممکن ہو گیا۔ پھر قریش کے گھڑ سواروں کا ایک دستہ مسلمانوں کے سامنے خندق کے اس پار پہنچ گیا اور ان پر تیر برسانے لگا۔ ان کا حملہ اتنا بھاری اور مسلسل تھا کہ مسلمانوں کو سورج غروب ہونے تک بغیر کسی وقفے کے خندق کا دفاع کرنا پڑا۔ اور اس کی وجہ سے، نبی (ﷺ) اور صحابہ کرام، عصر کی نماز وقت پر ادا نہ کر سکے۔ نبی پاک (ﷺ) اس قدر جلال میں آئے کہ آپ نے مشرکین کے لشکر کو بددعا دیتے ہوئے فرمایا: "اللہ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے، جس طرح انہوں نے ہمیں عصر کی نماز سے روکا ہے!" پھر آپ نے قضا نماز ادا کی، اور آپ کے صحابہ نے بھی ایسا ہی کیا۔ نبی پاک (ﷺ) نے طائف میں پتھر مارنے والوں کو بھی بددعا نہیں دی تھی۔ لیکن نماز کی اہمیت اتنی زیادہ تھی کہ آپ نے ان لوگوں کے خلاف ایسی بددعا کی جنہوں نے انہیں نماز پڑھنے سے روکا تھا۔ خندق پر اب بھی لڑائی بہت شدید تھی۔ لیکن مشرکین کا لشکر واحد خطرہ نہیں تھا۔ جس بات کا نبی پاک (ﷺ) کو شروع سے ہی اندیشہ تھا، وہ اب سچ ثابت ہو چکی تھی۔ کیا آپ کو ہجرت کے بعد ہونے والا میثاق مدینہ یاد ہے؟ اس معاہدے کے مطابق، مدینہ کے قبیلوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگر شہر پر کبھی حملہ ہوا تو وہ مل کر اس کا دفاع کریں گے۔ لیکن بنو قریظہ نے وہ وعدہ توڑ دیا۔ اور اس سے بھی بری بات یہ کہ انہوں نے دشمن کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک اور بڑی غداری کے مرتکب ہوئے۔ "بنو قریظہ...

نے وعدہ توڑ دیا۔ قلعے...

دو خطرے۔ ہمیں معلوم تھا۔ یہ واضح تھا کہ وہ معاہدہ توڑ دیں گے۔" وہ مدینہ کے جنوبی حصے میں مضبوط قلعوں میں رہتے تھے۔ اور وہیں سے، وہ مسلمانوں کے خلاف حملے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ نبی پاک (ﷺ) نے فوراً سعد بن معاذ (رضي الله عنه) اور کچھ دیگر صحابہ کو ان سے بات کرنے اور انہیں اس فیصلے سے باز رکھنے کی کوشش کے لیے بھیجا لیکن یہودیوں نے اپنا ارادہ بدلنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ وہ مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔ چنانچہ ، اب نہ صرف باہر سے تیر آ رہے تھے، بلکہ جنوب سے یہودی فوجیں بھی مسلمانوں پر سخت دباؤ ڈال رہی تھیں۔ بنو قریظہ کے یہودی مدینہ کے اندر، شہر کی حدود میں رہتے تھے۔ جس کا مطلب تھا کہ مسلمان اب دو طرفہ حملے کے درمیان پھنس جائیں گے۔ اور حالات کو مزید بگاڑنے کے لیے، منافقین ایک بار پھر فتنہ پھیلا رہے تھے اور کہہ رہے تھے: "اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے محض جھوٹے وعدے کیے ہیں۔" اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب میں اس دن کو بیان فرماتا ہے۔ "جب وہ تمہارے اوپر اور تمہارے نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے، اور جب آنکھیں خوف سے پتھرا گئیں اور دل حلق کو آ گئے، اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس موقع پر مومنوں کو آزمایا گیا اور وہ بری طرح ہلا دیے گئے۔" ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کچھ مسلمانوں کے خلاف جا رہا ہے۔ لیکن عین اسی وقت، اللہ نے ان کے لیے نکلنے کا ایک راستہ کھول دیا۔ ایک ایسا موقع جو جنگ کا رخ بدل سکتا تھا۔ غطفان کے قبیلہ اشجع کے سردار، نعیم بن مسعود نے، اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن ابھی کسی کو بتایا نہیں تھا۔ وہ اپنا ایمان ظاہر کرنے کے لیے خفیہ طور پر نبی پاک (ﷺ) کے پاس آئے۔ جیسے ہی انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا اور مسلمان ہوئے، انہوں نے عرض کی: "یا رسول اللہ...

اگر کوئی ایسا کام ہے جو میں کر سکتا ہوں، تو بس مجھے حکم دیں۔" ایک ایسا شخص جس نے ابھی ایمان کی حلاوت چکھی ہو، وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ جب نبی (ﷺ) نے ان کا عزم دیکھا، تو آپ نے اسے ایک موقع میں بدل دیا۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا: "دشمن کے پاس جاؤ اور ان کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے جو تم کر سکتے ہو کرو۔" نعیم بالکل سمجھ گئے کہ ان سے کیا کہا جا رہا ہے۔ نعیم خاموشی سے دشمن کے تینوں گروہوں میں اس طرح گھل مل گئے، جیسے انہوں نے کبھی اسلام قبول ہی نہ کیا ہو۔ وہ سب سے پہلے بنو قریظہ کے پاس گئے اور ان کے دلوں میں شک ڈال دیا۔ "اگر قریش اور غطفان مسلمانوں کو شکست دینے میں ناکام رہے، تو وہ اپنے گھر چلے جائیں گے اور تمہیں اکیلا چھوڑ دیں گے۔ اور پھر محمد (ﷺ) آسانی سے تمہیں سزا دے سکیں گے۔ اگر تم ایسا نہیں چاہتے، تو قریش اور غطفان سے کہو کہ وہ اپنے کچھ آدمی تمہیں بطور یرغمال دیں۔ اس طرح، وہ تم سے غداری نہیں کریں گے، کیونکہ وہ کبھی اپنے لوگوں کو کھونے کا خطرہ نہیں مول لیں گے۔" اس کے بعد، نعیم قریش کے پاس گئے اور کہا: "بنو قریظہ کو مسلمانوں پر حملہ کرنے کے اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہے، اور انہوں نے ان کے ساتھ ایک خفیہ معاہدہ کر لیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے کہ، معاہدہ توڑنے کی معافی کے بدلے میں، وہ قریش کے 70 آدمیوں کو پکڑ کر قتل کرنے کے لیے ان کے حوالے کر دیں گے۔ اس لیے اگر یہودی تمہارے آدمیوں کی یرغمالی مانگیں، تو ایسی کوئی بھی بات مت ماننا۔" پھر وہ غطفان کے پاس گئے اور انہیں بھی اسی طرح خبردار کیا۔ اگر یہودی یرغمالی مانگیں، تو ایسا مت کرنا۔ چونکہ نعیم کا اپنا تعلق غطفان سے تھا، اس لیے کسی نے ان پر شک نہیں کیا۔ اور انہوں نے ان کا مشورہ فوراً مان لیا۔ نعیم کی بات پر عمل کرتے ہوئے، بنو قریظہ نے قریش اور غطفان سے یرغمالی طلب کیے تاکہ اپنی سلامتی کو یقینی بنا سکیں۔ اب مشرکین کو یقین ہو گیا کہ نعیم سچ کہہ رہے تھے۔ اور ظاہر ہے، انہوں نے کسی کو بھی حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں، اس دن کے بارے میں ابو سفیان کہتا تھا، "اگر انہوں نے مجھ سے بکری کا ایک بچہ بھی مانگا ہوتا، تو میں وہ بھی نہ دیتا۔" اور یوں منصوبہ کامیاب ہو گیا۔ ان کا اتحاد بداعتمادی سے بدل چکا تھا۔ محاصرہ کافی لمبے عرصے تک چل چکا تھا، اور ان کا اتحاد ٹوٹنا شروع ہو گیا تھا۔ مسلمان اور دشمن کی فوجیں دونوں تھک چکی تھیں۔ بھوک، پیاس، اور سردی نے دونوں اطراف کو ان کی برداشت کی حد تک پہنچا دیا تھا۔ لیکن ان کے درمیان ایک فرق تھا۔ مسلمان اپنی طاقت اللہ سے حاصل کر رہے تھے، جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، وہ ذات جو ہر چیز پر قادر ہے۔ جبکہ دوسری طرف کے لوگ، بے جان بتوں پر بھروسہ کر رہے تھے، ایسے پتھروں پر جن کے پاس کوئی طاقت نہیں تھی۔ نبی پاک (ﷺ) جاننا چاہتے تھے کہ دشمن کی فوج کیا کر رہی ہے اور ان کے کیا منصوبے ہیں۔ اس رات، آپ نے کسی کو ان کے کیمپ میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ آپ (ﷺ) نے اپنے اردگرد پہرہ دینے والے مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے گروہ سے پوچھا: "کون میرے لیے ان لوگوں کی خبر لائے گا، اور اللہ اسے قیامت کے دن میرا ساتھی بنائے گا؟" آپ سوچ رہے ہوں گے، کیا عظیم اعزاز ہے!

کون اسے حاصل نہیں کرنا چاہے گا؟ لیکن رات اتنی سخت تھی کہ کسی نے جواب نہیں دیا۔ حذیفہ بن یمان (رضي الله عنه)، جو اس رات وہاں موجود تھے، بعد میں فرماتے تھے، "ہم نے خود کو کپڑے کے ٹکڑوں میں لپیٹ رکھا تھا، اور خون جما دینے والی سردی کی وجہ سے بس اپنی جگہ پر ہی رہنے کی کوشش کر رہے تھے، بھوک اور رات کے خوف کے عالم میں۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی اندھیری رات یا اتنی تیز ہوا کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اتنا اندھیرا تھا کہ ہم اپنی انگلیوں کے پوروں تک کو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اور ہوا باد لوں کی طرح گرج رہی تھی۔" جب کسی نے جواب نہیں دیا، تو نبی پاک (ﷺ) نے حذیفہ (رضي الله عنه) کو پکارا۔ "جاؤ اور میرے لیے دشمن کے بارے میں خبر لے کر آؤ۔" حذیفہ (رضي الله عنه) نہیں جانتے تھے کہ کیا کریں۔ وہ اس جمادینے والی سردی میں کیسے جا سکتے تھے؟ پھر نبی پاک (ﷺ) نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ "اے اللہ، اس کی حفاظت فرما اس کے آگے سے، اس کے پیچھے سے، اس کی دائیں طرف سے، اس کی بائیں طرف سے، اس کے اوپر سے، اور اس کے نیچے سے۔" حذیفہ (رضي الله عنه) نے فرمایا، "اسی لمحے، میرے اندر کا سارا خوف دور ہو گیا۔ اور میری سردی بھی ختم ہو گئی۔" پھر نبی پاک (ﷺ) نے مجھ سے فرمایا: "حذیفہ، جب تک تم میرے پاس واپس نہ آ جاؤ، ایسا کوئی کام نہ کرنا جس سے وہ چوکنے ہو جائیں۔ کوئی تیر نہ چلانا، کوئی پتھر نہ پھینکنا، اور کسی نیزے یا تلوار سے وار نہ کرنا۔" حذیفہ پھر خاموشی سے قریش کے خیموں میں داخل ہو گئے۔ وہاں انہوں نے قریش کے سردار، ابو سفیان کو دیکھا، جو آگ تاپ رہا تھا۔ حذیفہ اس کے پیچھے تھے۔ ان کی کمان اور تیر تیار تھا۔ ان کا سردار بالکل وہیں موجود تھا۔ ایک ہی وار سے، وہ دشمن کو ایک بڑا دھچکا لگا سکتے تھے۔ لیکن انہیں یاد آ گیا جو نبی پاک (ﷺ) نے فرمایا تھا اور انہوں نے خود کو روکے رکھا۔ درحقیقت اس کے پیچھے ایک حکمتِ الٰہی تھی۔ اللہ اپنے اس بندے کی حفاظت فرما رہا تھا جسے وہ بعد میں اسلام کی ہدایت دینے والا تھا، تاکہ وہ کفر کی حالت میں نہ مرے۔ پھر حذیفہ ہجوم کے مزید قریب ہوئے اور ان کے درمیان گھل مل گئے۔ ابو سفیان ایک اہم فیصلے کا اعلان کرنے ہی والا تھا۔ لیکن اس کے ذہن میں ایک شک پیدا ہوا۔ چونکہ اتنا اندھیرا تھا کہ کسی کو پہچاننا ناممکن تھا، اس لیے اس نے ایک احتیاطی تدبیر کی۔ "اپنے ساتھ والے آدمی کا ہاتھ پکڑو اور اس کا نام پوچھو۔" حذیفہ تقریباً پکڑے ہی گئے تھے۔ لیکن اللہ نے ان کے دل میں ایک ترکیب ڈالی۔ جبکہ باقی سب نے صرف اپنے ساتھ والے شخص کو پکڑا، انہوں نے جلدی سے اپنے دائیں والے آدمی کا بھی ہاتھ پکڑ لیا اور بائیں والے کا بھی، اور غصے سے پوچھا: "تم کون ہو؟" ان دونوں نے اپنے نام بتائے، اور یوں کسی نے ان پر توجہ نہ دی۔ "میرے لوگو!

اس ہوا نے ہماری ہر چیز تباہ کر دی ہے۔ ہمارے گھوڑے اور اونٹ مرنا شروع ہو گئے ہیں۔ اپنا سامان باندھو اور فوراً نکلو!

کیونکہ میں نے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔" حذیفہ کو خبر مل گئی اور وہ واپس لوٹے۔ انہیں اب بھی کوئی سردی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ جیسے ہی وہ نبی پاک (ﷺ) کے پاس آئے، انہیں سردی محسوس ہونے لگی۔ انہوں نے نبی پاک (ﷺ) کو گہری عاجزی کے ساتھ اپنے رب سے دعا کرتے ہوئے پایا۔ اور جب آپ (ﷺ) کو ان کی طرف سے خوشخبری ملی، تو نبی پاک (ﷺ) نے بہت سکون محسوس کیا۔ بالآخر، دشمن پسپا ہونے والا تھا۔ پھر ایک رات، اللہ تعالیٰ نے اتنی تیز ہوا بھیجی کہ صحرا کی ریت ہوا میں اڑنے لگی اور مشرکین کے خیمے اکھڑ گئے۔ طوفان نے ان کے چہروں پر ریت اڑا دی، اور ان کے گھوڑے اور اونٹ گھبراہٹ کا شکار ہو کر، ہر طرف بھاگنے لگے۔ ہر طرف مکمل افراتفری پھیل گئی۔ دشمن کی فوج کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ بدحواسی اور خوف کے عالم میں، وہ پیچھے ہٹنے لگے اور مڑ کر دیکھے بغیر ہی بھاگ کھڑے ہوئے۔ سورۃ الاحزاب اس لمحے کو یوں بیان کرتی ہے: "اے ایمان والو!

اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو جب تم پر فوجیں حاوی ہوئیں، تو ہم نے ان پر ایک آندھی بھیج دی اور ایسے لشکر بھیجے جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔" محاصرہ ختم ہو چکا تھا، اور دشمن کو بھگا دیا گیا تھا۔ لیکن جنہوں نے مسلمانوں سے غداری کی تھی وہ اب بھی مدینہ کے اندر موجود تھے۔ ان کی غداری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ نبی پاک (ﷺ) ابھی خندق سے واپس ہی تشریف لائے تھے اور آپ نے ابھی اپنی زرہ بھی نہیں اتاری تھی کہ اچانک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے سامنے حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: "یا رسول اللہ، کیا آپ نے اپنے ہتھیار رکھ دیے ہیں؟" نبی پاک (ﷺ) نے جواب دیا، "ہاں، ہم نے رکھ دیے ہیں۔" پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا: "لیکن ہم نے اپنے ہتھیار ابھی نہیں رکھے۔ تو اب ان کی طرف نکلیے۔" جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ اگلا ہدف بالکل واضح تھا: بنو قریظہ۔ یہودی بھی جانتے تھے کہ ان کی غداری کو بغیر سزا کے نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا: "خدا کی قسم، اب محمد ہمارا رخ کریں گے۔" اور وہ اپنے مضبوط قلعوں میں بند ہو گئے۔ ان دیواروں کے پیچھے خود کو محفوظ سمجھتے ہوئے، وہ نبی پاک (ﷺ) کی شان میں گستاخیاں کرنے لگے۔ ان کا ہتھیار ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وہ اس وعدے پر بھروسہ کر رہے تھے جو مدینہ کے منافقین نے ان سے کیا تھا۔ منافقین نے خفیہ طور پر انہیں یہ پیغام بھیجا تھا: "مدینہ چھوڑ کر مت جانا۔ ہم ہر چیز میں تمہاری مدد کریں گے۔" لیکن ایک بات جو یہودی بھول گئے تھے۔ منافق کبھی اپنے وعدے پورے نہیں کرتے۔ اسی لمحے ،وہاں دو آدمی اچانک سے چلائے، "یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں ابن ہیبان نے ہمیں بتایا تھا۔ ان سے جنگ مت کرو۔" یہ لوگ کون تھے؟ اور یہ ابن ہیبان کون تھا جس کے بارے میں وہ بات کر رہے تھے؟ اس نے کیا پیشین گوئی کی تھی؟ ابن ہیبان ایک یہودی عالم تھا جو مدینہ آیا تھا، نبی پاک (ﷺ) کی بعثت سے پہلے۔ اس نے کہا تھا: "نبی کی آمد کا وقت قریب ہے۔ اور یہ وہی جگہ ہے جہاں وہ ہجرت کر کے آئیں گے۔" نبی پاک (ﷺ) کی بعثت سے بہت پہلے، اس نے بنو نضیر کو آپ کے بارے میں بتا دیا تھا۔ اور پھر وہیں اس کا انتقال ہو گیا۔ جب اس نے یہ الفاظ کہے، تو دو بھائی، اسید اور ثعلبہ، بھی وہیں موجود تھے اور انہوں نے اسے صاف سنا تھا۔ اور اب، انہوں نے ان دونوں بھائیوں کی بات کو نظر انداز کر دیا۔ بنو قریظہ اپنے قلعوں کے اندر پھنس چکے تھے۔ منافقین سے انہیں جس مدد کی امید تھی وہ بھی نہیں آ رہی تھی۔ اور بالآخر انہیں احساس ہو گیا کہ یہ محاصرہ ختم ہونے والا نہیں ہے۔ چنانچہ مایوسی کے عالم میں، انہوں نے نبی پاک (ﷺ) سے مذاکرات کی درخواست کی۔ "خدا کی قسم، ہم تب تک ہتھیار نہیں ڈالیں گے، جب تک تم ہماری شرائط نہیں مان لیتے!" لیکن آپ کا جواب دوٹوک تھا۔ "نہیں۔ تمہارے پاس بغیر کسی شرط کے ہتھیار ڈالنے اور میرا فیصلہ ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔" یہ احساس ہونے پر کہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں، یہودیوں نے بالآخر ہتھیار ڈال دیے۔ بنو قریظہ نے ایک کے بعد ایک جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ پہلے انہوں نے اپنا معاہدہ توڑا، اور دشمن کا ساتھ دیا۔ اور اس پر بھی، معافی مانگنے کے بجائے، انہوں نے نبی پاک (ﷺ) کی شان میں گستاخیاں کیں۔ ان کی اس تمام غداری کے باوجود، نبی پاک (ﷺ) نے ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ آپ نے ہدایت فرمائی کہ سزا پر عمل درآمد کیا جائے۔ خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے، نہ کہ غصے یا انتقام کی خاطر۔ کیونکہ اسلامی قانون میں، سزاؤں پر عمل درآمد میں ذاتی جذبات کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سن کر شاید حیرت ہو، لیکن جب انہیں سزائے موت دی جانے والی تھی، تو آپ نے حکم دیا کہ انہیں کھانا، پانی اور دودھ دیا جائے۔ وہ ایک انتہائی گرم دن تھا، اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ انہیں اس چلچلاتی دھوپ میں سزائے موت دی جائے۔ آپ نے فرمایا: "سورج کی تپش اور تلوار کی گرمی کو ایک ساتھ نہ ملاؤ۔" سبحان اللہ۔ غزوہ خندق مسلمانوں کے لیے ایک اہم موڑ تھا۔ تینوں یہودی قبائل کو مدینہ سے نکال دیا گیا تھا، اور اب مشرکین کا بھی کوئی خطرہ نہیں رہا تھا۔ نبی(ﷺ) نے فرمایا: "اس جنگ کے بعد، ہم ان پر حملہ کرنے جائیں گے، اور وہ ہم پر حملہ کرنے نہیں آئیں گے۔" اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ مشرکین اس کے بعد کبھی اپنی طاقت بحال نہیں کر سکے، جبکہ مسلمان ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے گئے، پورے جزیرہ نما عرب میں۔ ہجرت کے پانچویں سال، نبی (ﷺ) کو خبر ملی کہ قبیلہ بنو المصطلق نے مدینہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کو اپنے لیے خطرہ سمجھنا شروع کر دیا ہے، اور وہ مسلمانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ جیسے ہی نبی پاک (ﷺ) نے یہ سنا، آپ نے اپنے تقریباً 700 صحابہ کو اکٹھا کیا۔ اور سورج نکلنے کے بعد، وہ اس مقام تک پہنچ گئے جہاں بنو المصطلق نے اپنا پڑاؤ ڈالا ہوا تھا۔ وہ قبیلہ بالکل بھی تیار نہیں تھا۔ پھر نبی پاک (ﷺ) نے اپنی فوج کو جنگی صفوں میں ترتیب دیا، اور اچانک حملے کے ساتھ، انہوں نے اس خطرے کا خاتمہ کر دیا۔ دشمن کو شکست ہو چکی تھی۔ لیکن فوج کے اندر، اس سے بھی زیادہ خطرناک دشمن موجود تھا۔ مدینہ واپسی کے راستے میں، کچھ غیر متوقع مسائل کھڑے ہونے والے تھے۔ اور ان سب کا مرکز منافقین کا سردار تھا، عبداللہ بن ابی بن سلول۔ اگر وہ مدینہ میں ہی رہتا جبکہ نبی پاک (ﷺ) باہر ہوتے، تو وہ کوئی مصیبت اور بے امنی کھڑی کر سکتا تھا۔ اسی لیے نبی پاک (ﷺ) اسے اس مہم میں اپنے ساتھ لے گئے۔ جب وہ مسلمانوں کے ساتھ ہوتا تھا، تو وہ نبی پاک (ﷺ) کی تعریفیں کرتا اور حمایت دکھاتا، لیکن جب وہ اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ اکیلا ہوتا، تو وہ اسلام کے خلاف باتیں کرتا اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتا۔ اس کے اور اس جیسے لوگوں کے بارے میں، اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے: "جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، 'ہم ایمان لائے'؛ لیکن جب وہ اپنے شیاطین کے پاس اکیلے ہوتے ہیں، تو کہتے ہیں، 'ہم تو تمہارے ساتھ ہیں' ہم تو محض ہنسی کرتے ہیں۔ “ ہر جمعہ کو، وہ مسجد نبوی آتا اور مسلمانوں کے درمیان بیٹھتا تھا۔ وہ نبی پاک (ﷺ) کا خطبہ سنتا، اور جب خطبہ ختم ہوتا، تو وہ اچانک کھڑا ہو جاتا اور پکار کر کہتا: "اے لوگو!

اس رسول کی مدد کرو جسے اللہ نے تمہارے درمیان بھیجا ہے!

ان کے ذریعے، اللہ نے تمہیں عزت دی ہے، تمہیں برتر اور غالب کیا ہے۔ لہٰذا ان کی بات سنو، ان کا احترام کرو، اور اطاعت کرو۔" وہ ہر جمعہ بالکل ایسا ہی کرتا تھا۔ غزوہ احد کے دن تک، جب وہ 300 آدمیوں کو لشکر سے الگ کر کے لے گیا۔ عام طور پر، جب اسے کسی فوجی مہم میں شامل ہونے کے لیے بلایا جاتا، تو وہ نہیں جاتا تھا۔ وہ پیچھے رہ جانے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ لیتا تھا۔ لیکن اس بار اس نے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ اسے کوئی حقیقی خطرہ نظر نہیں آیا اور دراصل وہ مال غنیمت کے چکر میں تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ، وہ کوئی مسئلہ کھڑا کرنے کا موقع تلاش کر رہا تھا اور ان مسلمانوں کے درمیان دراڑ ڈالنے کا موقع دیکھ رہا تھا، جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتے جا رہے تھے۔ اور ایسا موقع اسے دوبارہ ملنے والا تھا۔ تو ان میں سے پہلا واقعہ کیا تھا؟ مہم سے واپسی کے راستے میں، مسلم لشکر نے ایک کنویں کے پاس پڑاؤ ڈالا۔ ہر کوئی باری باری پانی نکال رہا تھا۔ لیکن ایک چھوٹا سا جھگڑا منافقین کے لیے ایک موقع بن گیا۔ جب مہاجرین میں سے جہجاہ بن مسعود (رضي الله عنه) اور انصار میں سے سنان بن وبر (رضي الله عنه) ایک ہی کنویں سے پانی نکال رہے تھے، تو ان کے درمیان بحث چھڑ گئی۔ پھر بات بڑھنے لگی، اور جہجاہ غصے میں سنان کی طرف بڑھے۔ یہ دیکھ کر، سنان پکارے: "اے انصار!

تم کہاں ہو؟ آؤ اور میری مدد کرو!" دیکھتے ہی دیکھتے، انصار اور مہاجرین، جنہوں نے بھائی چارے کی بہترین مثالیں قائم کی تھیں، ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہو گئے۔ منافقین کا سردار، عبداللہ بن ابی، اسے فتنہ پھیلانے کا بہترین موقع مل گیا تھا، اور اس نے اس موقع کا فائدہ اٹھانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ "اے انصار!

ان مہاجرین نے تمہارے ذریعے طاقت اور عزت پائی، اور اب یہ تمہارے ساتھ تکبر اور گستاخی سے پیش آ رہے ہیں۔ تم نے انہیں اپنے شہر میں خوش آمدید کہا اور رہنے کی جگہ دی۔ تم نے اپنی دولت اور خوراک ان کے ساتھ بانٹی۔ تم خود ہی اپنی ہونے والی ذلت کے ذمہ دار ہو گے۔ خدا کی قسم، اگر ہم مدینہ واپس گئے تو زیادہ عزت والا سب سے ذلیل کو نکال باہر کرے گا۔" اس کا اشارہ، معاذ اللہ، نبی پاک (ﷺ) اور مہاجرین کی طرف تھا۔ ان اشتعال انگیز باتوں نے پہلے سے کشیدہ ماحول کو مزید بگاڑ دیا۔ اور جب نبی پاک (ﷺ) کو اس واقعے کی خبر ملی، تو آپ فوراً اپنے صحابہ کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ نے غصے سے فرمایا: "یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟" اور یہ دیکھ کر کہ انصار اور مہاجرین آپس میں الجھ پڑے ہیں اتنی چھوٹی سی بات پر، آپ نے فرمایا: "جاہلیت کی اس پکار کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ گندگی ہے!" آپ نے یہ سخت تنبیہ اس لیے فرمائی کیونکہ اس سب کی وجہ ایک قسم کا قبائلی غرور، عصبیت، اور مادی برتری کا احساس تھا۔ لیکن اسلام میں برتری کا معیار صرف تقویٰ ہے؛ یعنی اللہ کا ڈر رکھنا، گناہوں سے بچنا، اور اس کے احکامات کی پیروی کرنا۔ نبی پاک (ﷺ) کے ان الفاظ نے صحابہ کے دلوں پر گہرا اثر کیا۔ اور سنان نے جہجاہ کو معاف کر دیا۔ جو لوگ اس طرح اپنی قومیت پر فخر کرتے ہیں، ان کے لیے نبی پاک (ﷺ) نے بعد میں فرمایا: "وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی طرف بلائے۔ وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی خاطر لڑے۔ اور وہ ہم میں سے نہیں جو عصبیت پر مرے۔" اس واقعے کے بعد، نبی (ﷺ) نے ایک غیر معمولی فیصلہ فرمایا۔ دن کے گرم ترین اوقات میں، آپ نے مسلم لشکر کو مدینہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔ اس دن تک، وہ کبھی ایسی چلچلاتی دھوپ میں روانہ نہیں ہوئے تھے۔ لیکن نبی پاک (ﷺ) کے اس حکم کے پیچھے ایک حکمت تھی۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ کے صحابہ عبداللہ بن ابی کی باتوں کے بارے میں گفتگو نہ کریں۔ وہ دوپہر کو روانہ ہوئے، اور صبح کی پہلی کرن تک نہیں رکے۔ وہ اتنے تھکے ہوئے اور نیند سے نڈھال تھے کہ مشکل سے ہی کھڑے ہو پا رہے تھے۔ وہ جہاں تھے وہیں گر پڑے، اور فوراً گہری نیند سو گئے۔ اس طرح، ان کے ذہن بٹ گئے، اور اس طرح اس مسئلے کو مزید بڑھنے سے روک دیا گیا۔ اس واقعے کے ذریعے، نبی پاک (ﷺ) نے ہمیں ایک لازوال سبق سکھایا۔ ایک مسلمان کو ہمیشہ خود کو مصروف رکھنا چاہیے۔ کبھی فارغ نہیں بیٹھنا چاہیے۔ کیونکہ فارغ بیٹھنا اور سستی، حرام لذتوں کے دروازے کھولتی ہے اور بالآخر گناہوں کی طرف لے جاتی ہے۔ اور کیا منافقین کے سردار نے اس واقعے کے بعد شرارتیں کرنا چھوڑ دیں؟ بالکل نہیں۔ وہ اب بھی فتنہ پھیلانے کے لیے کسی اور موقع کی تلاش میں تھا۔ اور جلد ہی، اسے دوسرا موقع مل گیا۔ اس بار، اس نے نبی پاک (ﷺ) کے اپنے اہل خانہ پر تہمت لگانے کی جسارت کی۔ جب لشکر مدینہ کی طرف واپس جا رہا تھا، انہوں نے دور سے دو لوگوں کو اپنے ساتھ ملنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا۔ ان میں سے ایک اونٹ پر سوار تھا، اور دوسرا اس کی لگام پکڑے ساتھ پیدل چل رہا تھا۔ اونٹ پر سوار ہستی ہماری ماں حضرت عائشہ (رضي الله عنها) تھیں۔ اور اس کی لگام پکڑنے والے صفوان بن معطل (رضي الله عنه) تھے۔ عبداللہ بن ابی نے اس منظر کو توڑ مروڑ کر ایک ہولناک تہمت تراشی، نبی پاک (ﷺ) کی پاک دامن اور باوقار زوجہ پرکی۔ "خدا کی قسم، وہ اس سے بچ نہیں پایا۔ اور نہ ہی وہ اس سے بچ پائی۔" اس کا مطلب یہ تھا کہ، معاذ اللہ، ان کے درمیان کچھ ہوا ہے۔ اور ان الفاظ کے ساتھ، اس نے افواہ اور فتنے کا آغاز کیا۔ وہ خوفناک الزام لشکر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچنے لگا۔ لیکن اس کے پیچھے حقیقت کیا تھی؟ آئیے پیچھے چلتے ہیں کہ یہ سب شروع کیسے ہوا۔ نبی پاک (ﷺ) جب بھی کسی مہم پر جاتے، تو اپنی ازواج میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھ لے جاتے۔ اس بار، جو آپ کے ساتھ تھیں، وہ ہماری ماں حضرت عائشہ (رضي الله عنها) تھیں۔ جب صحابہ آرام کر رہے تھے، حضرت عائشہ لشکر سے دور چلی گئیں، قضائے حاجت کے لیے۔ جب وہ واپس آئیں، تو لشکر روانگی کی تیاری کر رہا تھا۔ لیکن اسی لمحے، انہیں احساس ہوا کہ ان کا ہار غائب ہے۔ یہ سوچ کر کہ لشکر ان کے بغیر روانہ نہیں ہوگا، وہ اسے تلاش کرنے کے لیے اسی جگہ واپس گئیں جہاں وہ ابھی گئی تھیں۔ لیکن اسے ڈھونڈنے میں انہیں کچھ وقت لگ گیا۔ اور تب تک، لشکر آگے بڑھ چکا تھا، یہ جانے بغیر کہ وہ ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ اس زمانے میں، اپنے پردے کی حفاظت کے لیے، خواتین ڈھکے ہوئے، خیمے نما کجاووں میں سفر کرتی تھیں، جنہیں اونٹوں پر رکھا جاتا تھا اور اسے ہودج کہا جاتا تھا۔ چونکہ ہماری ماں حضرت عائشہ وزن میں ہلکی تھیں، ہودج اٹھانے والے صحابہ کو یہ احساس ہی نہ ہوا کہ وہ اندر موجود نہیں ہیں۔ اور وہ روانہ ہو گئے۔ جب ہماری ماں واپس آئیں، تو انہوں نے دیکھا کہ لشکر جا چکا ہے۔ چونکہ صحرا میں اکیلے سفر کرنا خطرناک تھا، انہوں نے وہیں رکنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے سوچا، "جب انہیں میرے نہ ہونے کا احساس ہوگا تو وہ مجھے لینے واپس آ جائیں گے۔" اور کچھ دیر بعد، وہ سو گئیں۔ جب وہ سو رہی تھیں، دور سے کوئی آہستہ آہستہ قریب آیا۔ یہ صفوان بن معطل (رضي الله عنه) تھے۔ صفوان لشکر کی چھوڑی ہوئی کوئی بھی چیز جمع کرنے کے ذمہ دار تھے۔ وہ ہمیشہ پیچھے رہتے تھے تاکہ جو کچھ گر گیا ہو یا چھوٹ گیا ہو ،اسے اٹھا لیں، اور اسے اگلے پڑاؤ تک لے آئیں۔ اس دن بھی، وہ لشکر کے روانہ ہونے کے بعد علاقے کا جائزہ لینے آئے تھے، اور انہوں نے کسی کو زمین پر سوتے ہوئے دیکھا۔ جب انہیں احساس ہوا کہ یہ ہماری ماں حضرت عائشہ ہیں، تو انہوں نے کہا: "إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ (بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں، اور بے شک ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے)۔" ان کی آواز سن کر، حضرت عائشہ (رضي الله عنها) بیدار ہو گئیں۔ بغیر ایک لفظ کہے، صفوان نے اپنا اونٹ بٹھایا اور پھر ایک طرف ہٹ گئے تاکہ وہ آرام سے اور پردے کے ساتھ اس پر سوار ہو سکیں۔ پھر انہوں نے اونٹ کی لگام پکڑی اور اسے لشکر کے پڑاؤ کی طرف لے کر چلنے لگے۔ کئی گھنٹوں بعد، وہ بالآخر لشکر سے جا ملے۔ اور جب عبداللہ بن ابی نے یہ دیکھا، تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اسے ایک موقع کے طور پر استعمال کرے گا۔ نبی پاک (ﷺ) اور آپ کے مشن کو نقصان پہنچانے کے لیے۔ یہ تہمت ایک شخص سے دوسرے شخص تک پھیلنے لگی۔ اور جلد ہی، مدینہ کا پورا شہر اس کی وجہ سے ہل کر رہ گیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تین جلیل القدر صحابہ بھی، اس تہمت پر یقین کر بیٹھے اور اس کے بارے میں بات کرنے لگے۔ جب مدینہ بھر میں یہ فتنہ پھیل رہا تھا، ہماری ماں حضرت عائشہ کو بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ کیونکہ مہم سے واپس آنے کے فوراً بعد، وہ شدید بیمار پڑ گئیں اور انہیں کچھ عرصے کے لیے بستر پر رہنا پڑا۔ چونکہ وہ نہیں جانتی تھیں کہ کیا باتیں ہو رہی ہیں، اس لیے وہ الزامات کی تردید نہیں کر سکیں اور نہ ہی اپنا دفاع کر سکیں۔ یہ واضح تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک اور آزمائش تھی۔ بالکل اسی طرح کی جیسے غزوہ احد کے دوران آئی تھی۔ یاد ہے وہ افراتفری جو تب پھیلی تھی جب ایک مشرک نے چلّا کر کہا: "میں نے محمد کو قتل کر دیا!" "میں نے محمد کو قتل کر دیا!" "میں نے محمد کو قتل کر دیا!" جبکہ حقیقت میں، نبی پاک (ﷺ) ایک گڑھے میں پھنس گئے تھے۔ اس وقت، صحابہ کرام کو آزمایا گیا تھا کہ میدان جنگ میں کون ثابت قدم رہتا ہے، اور کون پیٹھ پھیرتا ہے۔ لیکن اب، آزمائش مختلف تھی۔ یہ اس بارے میں تھی کہ کون ایسی افواہ پھیلانے میں حصہ لے گا، جسے انہوں نے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو، اور کون اس سے دور رہے گا۔ اللہ نے حضرت عائشہ (رضي الله عنها) کو اس سب سے بالکل بے خبر رکھا تھا جو کہا جا رہا تھا۔ جیسے جیسے وقت گزرا، وہ لوگ جنہوں نے کہا تھا "جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے، یہ محض ایک بہتان ہے" اور وہ لوگ جنہوں نے اسے پھیلانے میں مدد کی، ایک ایک کر کے سامنے آ گئے۔ یہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی، جسے صرف حضرت عائشہ (رضي الله عنها) جیسی مضبوط خاتون ہی برداشت کر سکتی تھیں۔ ہماری ماں کو ابھی تک کچھ معلوم نہیں تھا۔ لیکن انہوں نے اپنے تئیں نبی پاک (ﷺ) کے رویے میں ایک تبدیلی محسوس کرنا شروع کر دی۔ آپ (ﷺ) پہلے جیسا پیار اور توجہ نہیں دے رہے تھے۔ آپ ان کا نام بھی نہیں لیتے تھے۔ اس کے بجائے، جب آپ حضرت عائشہ کی خیریت جاننا چاہتے، تو ان کی والدہ سے پوچھتے، "تمہاری مریضہ کیسی ہے؟" یہ دوری والا رویہ حضرت عائشہ (رضي الله عنها) کے دل پر بہت بھاری گزرتا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھیں کہ نبی پاک (ﷺ) ان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کر رہے تھے۔ تقریباً 20 دن بعد، وہ بالآخر اتنی صحت یاب ہو گئیں کہ بستر سے اٹھ سکیں، اور مسطح بن اثاثہ کی والدہ کے ساتھ باہر گئیں۔ جب حضرت عائشہ (رضي الله عنها) نے اپنے بارے میں افواہیں سنیں، تو انہیں اتنا گہرا صدمہ پہنچا کہ وہ کانپیں، گریں اور بے ہوش ہو گئیں۔ اس کے بعد کے دنوں میں، وہ اتنا روئیں کہ ان کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئی۔ جب وہ اپنے والدین کے گھر پہنچیں، تو انہوں نے کہا: "امی، دیکھیں لوگ میرے خلاف کیا باتیں کر رہے ہیں۔ اور آپ نے یہ سب مجھ سے چھپائے رکھا؟" اور پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں۔ ان کی والدہ نے انہیں تسلی دینے کی کوشش کی۔ اس وقت، حضرت ابو بکر (رضي الله عنه) چھت پر قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے۔ جب انہوں نے اپنی بیٹی کو روتے ہوئے سنا، تو وہ نیچے آئے، ان کے پاس بیٹھے، اور انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی۔ ان کا دل اپنی بیٹی کی پاک دامنی پر پختہ یقین سے بھرا ہوا تھا۔ لیکن پورا گھر شدید غم میں ڈوبا ہوا تھا اس ہولناک تہمت کی وجہ سے۔ یہ ان سخت ترین آزمائشوں میں سے ایک تھی جن سے کوئی عورت کبھی گزر سکتی ہے۔ اگرچہ وہ اپنا دفاع کرنے کی کوشش بھی کرتیں، تب بھی ہر کوئی وہ تہمت پہلے ہی سن چکا تھا۔ اور کچھ نے تو اس پر یقین بھی کر لیا تھا۔ باوجود اس کے کہ ان میں سے کسی نے بھی اپنی آنکھوں سے کچھ نہیں دیکھا تھا۔ وہ صرف دوسروں کی کہی ہوئی باتوں کو دہرانے میں شامل ہو گئے تھے۔ بظاہر، یہ محض کچھ الفاظ کہنے کی بات تھی۔ یہ ایک چھوٹی سی بات لگ رہی تھی۔ لیکن حقیقت میں، اس کا بوجھ، اللہ کے ہاں اس کا حساب بہت بڑا تھا۔ اسی واقعے نے ثابت کیا کہ زبان کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ اور کیوں کسی پر زنا کی تہمت لگانا، سات کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ محض ایک لفظ سے بے شمار خاندانوں کا سکون برباد کیا جا سکتا ہے۔ اس بات کا ذرا سا بھی اشارہ نہیں تھا کہ حضرت عائشہ (رضي الله عنها) قصوروار تھیں۔ لیکن منافقین بس باتیں کرنے سے باز نہیں آ رہے تھے۔ وہ دن حضرت عائشہ (رضي الله عنها) کے لیے کسی بھی اور تکلیف سے زیادہ کٹھن تھا، جس سے وہ کبھی گزری ہوں۔ نہ میرے آنسو تھمتے تھے، اور نہ ہی میں سو پاتی تھی۔ میں اتنا روئی کہ مجھے لگا، روتے روتے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ انہیں اس حالت میں دیکھ کر ایک انصاری خاتون آئیں اور اجازت مانگی کہ وہ ان کے ساتھ رہیں اور ان کے ساتھ مل کر روئیں۔ جب حضرت عائشہ نے اجازت دی، تو وہ دونوں مل کر روئیں۔ اس دوران، عبداللہ بن ابی، جس نے اس تہمت کی شروعات کی تھی اور اس تمام دکھ کا باعث بنا تھا، اس صورتحال سے خوش تھا۔ اس نے جو چاہا تھا وہ پا لیا تھا۔ اس نے ایک خوفناک جھوٹ سے مسلمانوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ جہاں بھی جاتا، اسی کے بارے میں بات کرتا رہتا، اور مزید پھیلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا۔ نبی پاک (ﷺ) بخوبی جانتے تھے کہ آپ کی پیاری زوجہ عائشہ ایسے کسی بھی الزام سے بالکل پاک ہیں۔ لیکن ایک ایسی ظالمانہ اور جھوٹی تہمت کو لوگوں کے درمیان اتنی تیزی سے پھیلتے دیکھنا آپ کے دل پر بہت بھاری گزر رہا تھا۔ اور ان تکلیف دہ دنوں میں، آپ بغیر کسی ثبوت کے ہماری ماں حضرت عائشہ کا دفاع نہیں کر سکتے تھے۔ اگر آپ ایسا کرتے، تو منافقین آپ پر الزام لگاتے کہ آپ اپنی محبت اور لگاؤ کی وجہ سے اپنی بیوی کی طرف داری کر رہے ہیں۔ اور یہ ایک نبی کے انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھا۔ اور وہ نام نہاد مسلمان تعداد میں کم نہیں تھے۔ چنانچہ نبی پاک (ﷺ) کے پاس انتظار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ آپ اللہ کی طرف سے وحی کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن اس الٰہی آزمائش کے تحت، وہ وحی پورے ایک مہینے تک نازل نہیں ہوئی۔ کیا یہ طویل انتظار ایک بار پھر یہ ثابت نہیں کرتا کہ آپ سچے نبی تھے؟ کہ آپ پر وحی صرف اللہ کی طرف سے ہی آتی تھی؟ اگر نبی (ﷺ) اپنے نفس یا خواہش سے بولتے، اگر معاذ اللہ، آپ نے قرآن کی آیات خود سے بنائی ہوتیں، تو کیا آپ پورے ایک مہینے تک خود کو ایسی مشکل میں ڈالتے؟ 30 دن تو دور کی بات، آپ 30 منٹ میں کوئی بھی آیت بنا لیتے اور اسی وقت معاملے کو ختم کر دیتے۔ معاذ اللہ۔ لیکن اپنی تمام تر تکلیف کے باوجود، آپ نے صبر کے ساتھ وحی کے نزول کا انتظار کیا۔ نبی پاک (ﷺ) حضرت عائشہ کے والدین کے گھر تشریف لے گئے۔ آپ نے اپنی زوجہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا: "اے عائشہ!

مجھے تمہارے بارے میں ایسی اور ایسی باتیں بتائی گئی ہیں۔ اگر تم بے گناہ ہو، تو اللہ تمہاری پاک دامنی ظاہر فرما دے گا۔ اور اگر تم سے کوئی گناہ ہوا ہے، تو اللہ سے معافی مانگو اور اس کے حضور توبہ کرو۔" "اللہ کی قسم، میں جانتی ہوں کہ آپ نے وہ سب سن لیا جو لوگ کہہ رہے ہیں۔ اور وہ باتیں آپ کے ذہن میں بٹھا دی گئی ہیں، اور آپ نے انہیں سچ مان لیا ہے۔ اب اگر میں آپ سے کہوں کہ میں بے گناہ ہوں، اور اللہ جانتا ہے کہ میں بے گناہ ہوں، تو آپ میرا یقین نہیں کریں گے۔ اور اگر میں جھوٹ موٹ آپ کے سامنے اقرار کر لوں کہ میں قصوروار ہوں، اور اللہ جانتا ہے کہ میں پاک دامن ہوں، تو آپ میری بات مان لیں گے۔ خدا کی قسم، مجھے اپنے اور آپ کے لیے کوئی مثال نہیں ملتی سوائے یوسف (علیہ السلام) کے والد کے، جب انہوں نے فرمایا تھا، 'پس صبرِ جمیل ہی میرے لیے بہتر ہے۔ جو باتیں تم بنا رہے ہو ان پر اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں۔'" اور انہوں نے بالکل ایسا ہی کیا۔ انہوں نے صبر کیا، اور آنکھوں میں آنسو لیے، اللہ کی طرف رجوع کیا اور اس کی مدد طلب کی۔ حضرت عائشہ (رضي الله عنها) نے ابھی اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ اچانک نبی پاک (ﷺ) پر ایک مختلف سی کیفیت طاری ہو گئی۔ آپ کی مبارک پیشانی سے پسینے کے قطرے ٹپکنے لگے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ انتظار کے وہ طویل دن بالآخر ختم ہو چکے تھے۔ اللہ کا پیغام، وحی، نازل ہو رہی تھی۔ لیکن ہماری ماں حضرت عائشہ کو ذرا بھی پریشانی محسوس نہیں ہوئی۔ انہیں مکمل یقین تھا کہ اللہ اپنا انصاف دکھائے گا اور ان کی پاک دامنی جلد ہی سب پر واضح ہو جائے گی۔ جب وحی کے نزول کی یہ کیفیت بالآخر نبی (ﷺ) سے ہٹی، تو آپ کے مبارک چہرے پر ایک بڑی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ پھر آپ نے حضرت عائشہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: "اے عائشہ!

اللہ نے تمہاری پاک دامنی کا اعلان کر دیا ہے!" جو آیات نازل ہوئیں ان میں اللہ نے فرمایا: "بے شک جو لوگ یہ بڑا بہتان لائے ہیں وہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہیں۔ اسے اپنے حق میں برا مت سمجھو؛ بلکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ ان میں سے ہر شخص نے جتنا گناہ کمایا، اس کا اتنا ہی حصہ ہے، اور جس شخص نے ان میں سے اس کا سب سے بڑا بوجھ اٹھایا اس کے لیے عذابِ عظیم ہے۔" وہ غم جو دنوں سے گھر میں چھایا ہوا تھا بالآخر دور ہو گیا۔ نبی (ﷺ)، حضرت عائشہ، اور ان کے والدین سب نے سکون کا گہرا سانس لیا۔ ایک پورے مہینے کی تکلیف اور انتظار کے بعد، ان آیات نے بالآخر حضرت عائشہ کی پاک دامنی کی تصدیق کر دی تھی۔ اور اس کے ساتھ ہی، وہ فتنہ جو پورے مدینہ میں پھیل چکا تھا بالآخر ختم ہو گیا۔ سچائی بالآخر سامنے آ گئی۔ مجھے یقین ہے عائشہ اب خوش اور پرسکون ہوں گی۔ الحمد للہ۔ ان آیات کے بعد جنہوں نے حضرت عائشہ (رضي الله عنها) کو پاک ثابت کیا اور الزام لگانے والے کی سزا بیان کی، مزید آیات نازل ہوئیں۔ اس بار، ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے یہ تہمت پھیلائی تھی۔ "جب تم اسے ایک زبان سے دوسری زبان پر لا رہے تھے، اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہیں تھا، تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے جبکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی۔" چونکہ تہمت لگانا ایک گناہ تھا، کسی کی عزت اور حقوق کی خلاف ورزی تھی، اس لیے انہیں اس کی سزا بھگتنی تھی۔ جن تین صحابہ نے افواہ پر یقین کیا اور اسے دہرایا تھا، اور اس طرح نادانستہ طور پر اس کے پھیلنے میں مدد کی تھی، انہیں نبی پاک (ﷺ) کے سامنے بلایا گیا۔ "رسول اللہ (ﷺ) تم کو بلا رہے ہیں۔" وہ آہستہ آہستہ اندر آئے، اور ان کے دل ندامت سے بھرے ہوئے تھے۔ نبی پاک (ﷺ) نے نہ تو کوئی غصہ دکھایا اور نہ ہی ان کے لیے دل میں کوئی رنجش رکھی۔ لیکن تہمت لگانے اور اس میں حصہ لینے کی سزا، اسلام میں بالکل واضح تھی۔ ان میں سے ہر ایک کو سب کے سامنے 80 کوڑے مارے گئے۔ یہ سزا محض ان کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے مدینہ کے لیے ایک اہم سبق ثابت ہوئی۔ جن لوگوں نے اس سزا کا مشاہدہ کیا وہ پھر کبھی کسی ایسی چیز کے بارے میں بات نہیں کریں گے جس کا انہیں علم نہ ہو۔ نہ صرف اس واقعے کے لیے، بلکہ بڑے جرائم کے لیے بھی، اسلام نے واضح قوانین اور سزائیں متعارف کروائیں تاکہ لوگوں کو ان کے ارتکاب سے روکا جا سکے۔ ان کا بنیادی مقصد عبرت اور روک تھام تھا۔ اور اس کے نتیجے میں جرائم کی شرح ناقابلِ یقین حد تک کم رہی۔ لیکن اس سے بڑھ کر، ان قوانین اور سزاؤں کے ذریعے، اللہ دراصل اپنے بندوں کو ایک کہیں زیادہ بری چیز سے بچا رہا تھا: آخرت کے عذاب سے۔ اور جب ان قوانین کو نافذ کیا جا رہا تھا، تو کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کی گئی۔ ہر کوئی برابر تھا۔ طاقتور کو کمزور پر یا امیر کو غریب پر، یا آزاد کو غلام پر کوئی برتری حاصل نہیں تھی۔ مثال کے طور پر، مدینہ میں چوری کا ایک واقعہ پیش آیا۔ اور قبیلہ بنو مخزوم کے ایک گروہ نے ایک ایسی عورت کی سفارش کرنے کی کوشش کی جس نے کچھ چوری کیا تھا، اور نبی پاک (ﷺ) سے درخواست کی کہ اس پر سزا نافذ نہ کریں۔ جب نبی پاک (ﷺ) نے یہ سنا، تو آپ بہت ناراض ہوئے۔ آپ کھڑے ہوئے اور یہ خطبہ دیا: "اے لوگو!

تم سے پہلے کی قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ جب ان میں کوئی معزز شخص چوری کرتا، تو وہ اسے چھوڑ دیتے تھے۔ لیکن جب ان میں سے کوئی کمزور شخص چوری کرتا، تو وہ اس پر سزا نافذ کرتے تھے۔ خدا کی قسم، اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی، تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔" تو عبداللہ بن ابی کا کیا بنا؟ وہ شخص جس نے اس سارے فتنے کی بنیاد رکھی تھی۔ کیا اسے سزا نہیں دی گئی؟ اور جب اس نے شرارت کی، تو وہ صرف اسی ایک واقعے تک محدود نہیں تھی۔ غزوہ احد یاد ہے؟ اس نے اپنی دھوکے بازی پر مبنی باتوں سے، مسلم لشکر کے لگ بھگ 300 فوجیوں کو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی واپس لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ درپردہ مشرکین اور یہودیوں کے ساتھ مل کر کام کرتا تھا، اور مسلسل مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتا رہتا تھا۔ وہ مسلمانوں کے درمیان فتنہ پھیلاتا، تاکہ ان کے درمیان بھائی چارے کا رشتہ توڑ سکے۔ بے شک نبی پاک (ﷺ) سب کچھ جانتے تھے کہ منافقین کا یہ سردار کیا کر رہا ہے۔ لیکن آپ نے صبر کا دامن تھامے رکھا اور خاموش رہے۔ ایک دن، حضرت عمر (رضي الله عنه) اس حد تک پہنچ گئے کہ وہ عبداللہ بن ابی کے پیدا کردہ فتنوں کو مزید برداشت نہ کر سکے، چنانچہ وہ نبی پاک (ﷺ) کے پاس گئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ، مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کا سر قلم کر دوں!" لیکن نبی پاک (ﷺ) کے جواب سے وہ حکمت ظاہر ہوئی جو آپ کے صبر کے پیچھے تھی۔ آپ نے فرمایا، "اسے چھوڑ دو۔ ورنہ، لوگ کہیں گے کہ محمد (ﷺ) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں۔" اگر آپ کو یاد ہو، نبی (ﷺ) کی ہجرت سے پہلے، عبداللہ بن ابی مدینہ کا بادشاہ بننے والا تھا۔ اس نے تو اپنے لیے ایک تاج بھی بنوا لیا تھا۔ اور لوگوں میں اس کی اتنی عزت تھی۔ نبی پاک (ﷺ) جانتے تھے کہ لوگ اب بھی ابن ابی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ اپنی منافقت اتنی چالاکی سے چھپا رہا تھا کہ بہت سے لوگ اسے ایک سچا مسلمان سمجھتے تھے۔ ایک ایسا شخص جس پر وہ بھروسہ کر سکیں۔ اگر نبی پاک (ﷺ) اسے قتل کرنے کا حکم دے دیتے، تو افواہیں پھیل سکتیں کہ محمد (ﷺ) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ جو قبائل مسلمان ہونے کا سوچ رہے تھے وہ یہ کہہ کر ڈر جاتے کہ، "جب وہ چاہیں گے، ہمیں بھی قتل کر دیں گے۔" اور اس لیے، اس سے بچنے کے لیے، نبی پاک (ﷺ) نے صبر کو ترجیح دی۔ سالوں بعد، آپ نے اپنے اس فیصلے کا پھل دیکھا، تہمت کے اس واقعے کے چار سال بعد۔ ہجرت کے 9ویں سال، عبداللہ بن ابی بیمار پڑا اور بالآخر مر گیا۔ اس کا بیٹا عبداللہ، ایک نیک اور سچے مسلمان تھے۔ وہ نبی پاک (ﷺ) کے پاس آئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ، براہِ کرم مجھے اپنی قمیض عطا فرما دیں، تاکہ میں اسے اپنے والد کے کفن کے طور پر استعمال کر سکوں۔" پھر انہوں نے نبی پاک (ﷺ) سے درخواست کی کہ وہ اس کے جنازے کی نماز پڑھائیں اور ان کے والد کی مغفرت کی دعا کریں۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک بیٹے کے لیے یہ کتنا مشکل رہا ہوگا؟ اس کا باپ اسلام کے سب سے بڑے دشمنوں میں سے ایک تھا، اس لمحے سے جب سے نبی پاک (ﷺ) نے مدینہ میں قدم رکھا تھا۔ پھر بھی، واقعی حیران کن بات یہ ہے کہ نبی پاک (ﷺ) نے انہیں انکار نہیں کیا۔ آپ نے عبداللہ بن ابی کے کفن کے لیے اپنی قمیض دے دی۔ جب آپ کو بتایا گیا کہ جنازے کے لیے سب کچھ تیار ہے، تو آپ تشریف لے گئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ تدفین کے لیے اس کی قبر تک چل کر بھی گئے۔ صحابہ کرام حیران تھے۔ نبی پاک (ﷺ) ایک ایسے شخص کی نمازِ جنازہ کیوں پڑھائیں گے، جس نے اپنی پوری زندگی اسلام کے خلاف سازشیں کرنے میں گزار دی؟ آپ ایسے شخص پر اتنی مہربانی کیوں دکھائیں گے، جس نے ہر موقع پر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہو؟ اس کے پیچھے ضرور کوئی وجہ، کوئی گہری حکمت ہونی تھی۔ اور یقیناً وہ تھی۔ "اے اللہ کے رسول، آپ نے اسے وہ قمیض کیوں دی جو آپ پہنے ہوئے تھے؟" جب آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو نبی پاک (ﷺ) نے فرمایا: "میری قمیض اور میری دعا اسے اللہ کے عذاب سے نہیں بچائیں گی۔ لیکن مجھے امید ہے کہ اس کے ذریعے، اس کے قبیلے کے ایک ہزار لوگ اسلام قبول کر لیں گے۔" اور واقعی، اس عمل نے عبداللہ بن ابی کے ارد گرد کے لوگوں پر گہرا اثر ڈالا۔ کچھ روایات کے مطابق، اس دن نبی پاک (ﷺ) کے صبر اور شفقت کی وجہ سے، تقریباً 1,000 لوگوں نے سچے دل سے اسلام قبول کر لیا۔ سبحان اللہ۔ سالوں سے، مسلمان کعبہ کی زیارت کو ترس رہے تھے۔ اور اب، وہ وقت بالآخر آ چکا تھا۔ "کیا ہم واقعی مکہ جا رہے ہیں؟" "ہاں۔" یہ ایک ایسا سفر ہوگا جس کا آغاز اس خواب کی وجہ سے ہوگا جو نبی پاک (ﷺ) دیکھیں گے۔ لیکن یہ سفر اس طرح ختم ہوگا، جس کی کسی نے توقع بھی نہیں کی تھی۔ "تو پھر، تم یہاں ہمارے قیدی بن کر رہو گے!" اور مسلمان خود کو ایک ایسے معاہدے کو قبول کرتے ہوئے پائیں گے، جسے وہ کبھی قبول نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ کیسا معاہدہ تھا؟ اور اس شاندار سفر میں کیا ہوا؟ ان شاء اللہ، ہم یہ سب اگلی قسط میں دیکھیں گے۔ ہمارے ساتھ جڑے رہیے۔