Mashhoor Asian Model Musalman Ban Gayi! – “Main Ghulaam Thi; Islam Ne Mujhe Azadi Di!”
تاریخ اشاعت
میں امریکہ میں پلی بڑھی۔ میرے والد پریسبیٹریئن چرچ کے پادری ہیں چاہے جانے یا مشہور ہونے پر، آپ کی زندگی بہت قید ہو جاتی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ سب آپ کے اختیار میں ہے، اور زندگی بہت پُرکشش لگتی ہے مگر حقیقت میں آپ بندھ جاتے ہیں، جیسے میں ایک ایجنسی کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ اور مجھے لگتا تھا جیسے وہ ایجنسی میری روح چُوس رہی ہے۔ میری اپنی کوئی چوائس نہیں رہ گئی تھی۔ مجھے اپنا آپ خالی محسوس ہوتا تھا۔ میں کون ہوں؟ علیزا کون ہے؟ اب مجھے کچھ معلوم نہ رہا تھا۔ میں ایک غلام تھی۔ میں اپنے اندر ڈپریشن کا ابھرتا ہوا طوفان محسوس کر سکتی تھی۔ مجھے لگا کہ میرے اندر اندھیرا پھیلتا جا رہا ہے اور مجھے فوری روحانیت کی ضرورت ہے۔ اُسی دوران، میری ملائیشیا میں ایک شخص سے دوستی ہوئی جو روزانہ پانچ وقت کے نمازی تھے۔ تو اُنہوں نے مجھے کچھ پمفلٹس دیے۔ تو ایک کے بعد دوسرا پمفلٹ میرا ذہن بدل رہا تھا۔ اور پھر آخر میں وہ کہنے لگے، علیزا تم تو بہت کچھ جانتی ہو۔ شاید تمہیں مسلمان ہو جانا چاہیے۔ اگر اللہ چاہتا ہے کہ میں ایسا کروں، تو میں اِسے روک نہیں سکتی۔ میں نے خود کو ہلکا پھلکا محسوس کیا، بہت ہلکا پھلکا۔ اور یہی آزادی تھی۔ علیزا کِم کون ہیں؟ کیا آپ مختصراً بتا سکتی ہیں؟ میں ایک تھائی امریکی ہوں۔ میری پیدائش ایند اوکلاہوما میں ہوئی جو کہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے اور وہ بھی ایک پادری کے گھر ۔ میری پیدائش ایند اوکلاہوما میں ہوئی جو کہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے میرے والد پریسبیٹیرین چرچ کے پادری ہیں۔ میں امریکہ میں پلی بڑھی۔ میں اپنی ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد، تھائی لینڈ چلی گئی جہاں مجھے مِس تھائی لینڈ کے مقابلۂ حُسن میں شامل ہونے کا موقع ملا اور وہیں سے میں نے اداکاری اور ماڈلنگ شروع کی، پھر بالآخر میں ملائیشیا آ گئی، جہاں ١٢ سال پہلے مسلمان ہوئی۔ الحمدللہ ۔ عقیدے کے لحاظ سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ میں ایک عیسائی، کٹر عیسائی خاندان میں پیدا ہوئی تھی۔ میرے والد پریسبیٹیرین پادری ہیں۔ میرے دادا بھی پادری تھے، میرے چاچا بھی پادری تھے، اور تھائی لینڈ میں اُن کا مذہبی مقام کافی بلند تھا۔ جب میں اوکلاہوما میں پیدا ہوئی تب میرے والد علمِ الٰہیات (تھیولوجی) میں پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔ یوں میری پرورش بڑی حد تک چرچ کے ماحول میں ہوئی۔ میں نے تین سال کی عمر میں چرچ کے گائیگی گروپ میں گانا شروع کیا، یوں عیسائیت کا مذہب ہمیشہ میری زندگی کا حصہ رہا۔ میں ہر اتوار چرچ جایا کرتی تھی۔ یہاں تک کہ کالج میں بھی، میں ایک مسیحی گائیکی گروپ میں گاتی تھی۔ لہٰذا عیسائیت ، روحانیت اور خدا پر ایمان میرے لیے نہایت اہم چیزیں تھیں۔ مجھے اپنے امتحانات کے دن بھی یاد ہیں۔ میں سوچتی کہ او، میری تیاری پوری نہیں، مگر میرے پاس صلیب ہے، میں اُسے ساتھ لے جاتی اور اُسے اپنے ڈیسک پر رکھ دیتی، اگر میرا پرچہ اچھا ہوتا، تو میں سمجھتی کہ یہ خدا کا کرم ہے۔ یعنی میں بہت مذہبی لڑکی تھی، مگر میں نے ہمیشہ خدا کی عبادت کی۔ میں نے کبھی جیسس (عیسیٰ )کی عبادت نہیں کی۔ میرا دل ہی نہیں مانتا تھا۔ وہ کیا تھا جس کی وجہ سے آپ میں اپنے عقائد پر اعتراض پیدا ہوا؟ یہ سب تب شروع ہوا جب مجھے تھوڑی بہت شہرت ملنے لگی۔ دراصل، میں ١٢ سال کی عمر سے ٹی وی پر آ رہی ہوں۔ یہ دنیا میرے لیے مانوس اور جانی پہچانی تھی۔ میرا خیال ہے میری والدہ کو میرا ترقی کرنا اور تھوڑا بہت بے تکلف اور کھل کر رہنا پسند تھا۔ جب اُنہوں نے دیکھا کہ میری زبان میں روانی آگئی ہے، تو میں بچوں کی ماڈلنگ وغیرہ میں آ گئی۔ جب میں نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرلی، تو ’’چھٹیاں‘‘ گزارنے اپنے والد کے ساتھ واپس تھائی لینڈ چلی گئی۔ جب میں تھائی لینڈ پہنچی، تو میرے والد نے فیصلہ کیا کہ، فیصلہ نہیں کیا، بلکہ اُنہیں ایک کاروباری سفر پر جنیوا جانا پڑ گیا، اور مجھے دو ہفتوں کے لیے اکیلا چھوڑ دیا۔ تو اسی دوران وہاں ایک، مِس تھائی لینڈ کے مقابلۂ حُسن کے لیے ایک اشتہار جاری ہوا۔ میں نے سوچا یہ تو میرے لیے مفت کی دو ہفتے کی چھٹیاں ہیں۔ میرے والد تو جا چکے ہیں تو کیوں نہ میں بھی اِن خوشگوار چھٹیوں کو غنیمت جانوں۔ تو میں نے حصہ لے لیا، ، مگر میرا قد زیادہ لمبا نہیں اِس لیے سوچتی رہی کہ یہ میرے لیے ممکن نہیں، تو میں نے حصہ لے لیا، مگر میرا قد زیادہ لمبا نہیں اِس لیے سوچتی رہی کہ یہ میرے لیے ممکن نہیں، پھر سوچا چلو مفت میں۔ کھانا پینا تو ہو جائے گا۔ مگر میں ٹاپ فائیو میں پہنچ گئی، اور میں سوچ رہی تھی کہ میں کیا کر رہی ہوں؟ لیکن اِس سے میرے لیے کئی دروازے کھل گئے۔ میں نے اِس مقابلے میں حصہ لیا اور پھر ٹی وی کمرشلز کرنے لگی، اور درحقیقت اِنہی ٹی وی کمرشلز نے مجھے ملائیشیا پہنچایا۔ یعنی میں ملائیشیا بھی کمرشل کرنے گئی تھی۔ وہاں میں نے ریئلیٹی شو وغیرہ کیے۔ پھر میں ایک ٹیلی مووی میں آ گئی، یہ فلم تھی جو ٹی وی کے لیے بنائی گئی تھی، اور یہ ایک ویمپائر مووی تھی۔ اور میری ٹیم مسلمانوں کی تھی۔ اوراُس وقت میری سوچ بالکل امریکی تھی، اور جب میں یہاں آئی تب بھی مذہب وغیرہ کے بارے میں کوئی سوچ نہ تھی۔ میرے ذہن میں یہ نہیں آیا کہ اسکارف پہننے والی یہ عورتیں مسلمان ہیں۔ میں نے سوچا یہاں کا فیشن ہے۔ میرے ذہن میں یہ بھی نہیں آیا کہ ڈاڑھی والے مرد مسلمان ہیں۔ سوچا انہیں چہرے پر بال رکھنا پسند ہوگا۔ میں نے کچھ سوچا ہی نہیں۔ پھر جب میں سیٹ پر پہنچی تو مجھے یہ سمجھ نہ آیا کہ میری ٹیم، ڈائریکٹر اور باقی اداکار سب دن میں کھاتے پیتے کیوں نہیں؟ اور پھر رات میں اتنا زیادہ کھاتے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ رمضان ہے۔ یہ معلوم نہیں تھا، ہاں اتنا پتہ تھا کہ وہ کھاتے نہیں تھے۔ مجھے کھانے کو کہتے، مگر خود نہیں کھاتے تھے۔ میں نے سوچا یہ تو عجیب بات ہے۔ شاید میں اِس کی مثال یوں دے سکتی ہوں کہ کبھی کبھار ہم دیکھتے ہیں کہ ہالی ووڈ کے اداکار تھوڑی شہرت ملنے کے بعد ڈپریشن یا اِس سے بھی بدتر کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔ اور آپ سوچتے ہیں کہ آخر کیوں؟ تمہارے پاس تو سب کچھ ہے۔ اتنا کچھ تو ہے۔ پھر یہ کیا کر رہے ہو؟ تو میں نے ایسا ہی محسوس کرنا شروع کیا میرے دل میں سوال آتا تھا کہ لوگ مجھے جاننا یا مجھ سے دوستی کرنا میری ذات کی وجہ سے چاہتے ہیں یا صرف میری ظاہری شخصیت کی بنیاد پر؟ اور صرف یہی نہیں، کیونکہ جب آپ ایک خاص سطح پر پہنچ جاتے یا پھر مشہور ہو جاتے ہیں تو آپ کی زندگی بہت قید ہو جاتی ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ سب آپ کے اختیار میں ہے، اور زندگی بہت پُرکشش لگتی ہے، مگر حقیقت میں آپ بندھ جاتے ہیں، جیسے میں ایک ایجنسی کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔ اور مجھے لگتا تھا جیسے وہ ایجنسی میری روح چُوس رہی ہے، مجھے کھا رہی ہے۔ کیونکہ تصور کریں، جب آپ ایک خاص سطح پر پہنچ جاتے ہیں، خاص طور پر کمرشل ماڈلنگ کی انڈسٹری میں، آپ صبح جاگتے ہیں، سیدھے سیٹ پر چلے جاتے ہیں، نہ بال بنانے کی ضرورت، نہ کچھ اور کرنے کی۔ بس سیٹ پر پہنچ جائیں چاہے پاجامہ یا کچھ بھی پہن رکھا ہو۔ جیسے ہی میں جا کر بیٹھتی، کوئی آ کر میرے بال سنوار دیتا، کوئی آ کر کپڑے پکڑا دیتا، کوئی میرا میک اَپ کر دیتا، کوئی آ کر مجھے کھانا دے جاتا۔ میری اپنی کوئی چوائس نہیں رہ گئی تھی یہاں تک کہ مجھے یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ مجھے کس طرح کے انڈے پسند ہیں یا پھر مجھے کس طرح کا ہیئر کٹ چاہیے۔ بلکہ اگر سیٹ پر ہیئر کٹ کروا بھی لیتی تو کلائنٹ آ کر کہتا اوہ، ‘‘ہمیں ایسے بال نہیں پسند’’ اور وہ سیلون سے کسی کو بلا کر وہیں دوبارہ میرے بال کاٹتے۔ تو مجھے اپنا آپ خالی محسوس ہوتا تھا۔ میں کون ہوں؟ علیزا کون ہے؟ اب مجھے کچھ معلوم نہ رہا تھا۔ اپنی پسند کا لباس پہننا بھی میرے اختیار میں نہ تھا۔ تو مجھے لگتا تھا جیسے میری زندگی بکھر رہی ہے اور میں اندر سے بالکل خالی تھی محسوس ہوتا تھا کہ جیسے میرا میرا وجود ختم ہونے والا ہے۔ اور حقیقت یہی ہے، اگر سچ بتاؤں تو میں خوشی کا مطلب ہی بھول گئی تھی۔ مجھے یہ علم ہی نہ رہا کہ میں کون ہوں۔ میرے احساسات بھی میرے نہ رہے کیونکہ میرے احساسات اسکرپٹ کے تابع ہو گئے۔ اگر اُس دن مجھے اداس ہونا ہوتا تو میں اداس ہو جاتی۔ اگر کسی دن مجھے خوش ہونا ہوتا، تو خوش ہو جاتی۔ مجھے اپنے احساسات کا ہی نہیں پتہ تھا۔ میں بغیر اجازت اپنے ناخن بھی نہیں کاٹ سکتی تھی۔ اپنی اِسکن کی رنگت میں معمولی سی تبدیلی بھی بتا کر کرنی پڑتی کیونکہ پھر میک اَپ بدلنا پڑتا تھا، اور میں ۳۰۰ گرام وزن بھی گھٹا یا بڑھا نہیں سکتی تھی کیونکہ اس سے میرے چہرے کے خدوخال اور جسمانی ساخت بدل جاتی۔ میں ایک غلام تھی۔ میں بالکل خالی اور گمشدہ ہو گئی تھی۔ ہمیشہ یہی سوچتی کہ میں کون ہوں؟ ایک پُراعتماد امریکی لڑکی سے بدل کر میں اپنے اندر ڈپریشن کا ابھرتا ہوا طوفان محسوس کر سکتی تھی۔ مجھے لگا کہ میرے اندر اندھیرا پھیلتا جا رہا ہے اور مجھے روحانیت کی ضرورت ہے۔ تو چونکہ میں ایک پادری کی بیٹی تھی، لہٰذا میں نے عیسائیت کا مطالعہ شروع کیا اور میں نے اتنی زیادہ کتابیں خرید لیں کہ میرے والد مجھ سے پوچھنے لگے ’’کیا تم نے سیمینری میں داخلہ لے لیا ہے؟ تم پادری بننے کا سوچ رہی ہو یا کیا معاملہ ہے؟‘‘ تو میں نے ڈھیروں کتابیں خریدیں یہ سوچتے ہوئے کہ میں نے بچپن سے ہی ہمیشہ خدا پر بھروسہ کیا ہے۔ اب میں خود کو مذہب پر مضبوطی سے جماؤں گی۔ تو میں نے سوچا، ٹھیک ہے، مگر اب میں ایک بالغ کی حیثیت سے یہ کروں گی ایک بچی کی طرح نہیں جو کسی بھی واعظ کی بات سن لیتی ہے، میں یہ کام ٹھیک طرح سے کروں گی۔ میں اِس پر ریسرچ کروں گی۔ تو میں نے پڑھنا شروع کیا۔ اور آپ کو سچ بتاؤں کہ میں پڑھنے کی عادی بالکل بھی نہیں ہوں بالکل بھی نہیں۔ مگر یہی وہ وقت تھا جب اللہ سبحانه وتعالى نے میرے سفر پر میری رہنمائی شروع کی، کیونکہ میرا ماننا تھا کہ اگر میں قدیم ترین چرچ کو ڈھونڈ لوں، میرا مشن یہی تھا، میں قدیم ترین چرچ ڈھونڈوں گی اور جانوں گی کہ وہ کیسے عبادت کرتے تھے، میں بھی خدا کی عبادت ایسے ہی کروں گی کیونکہ خدا صرف اِسی طرح راضی ہوگا۔ کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ عیسائیت میں بہت سے فرقے ہیں۔ اُس وقت میں، پورے ۲۰۰ مختلف فرقے تھے۔ میں نے کہا، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ ان میں سے ایک ہی ہوگا جو سب سے بہتر ہوگا۔ اور جب میں نے تاریخ پڑھی کہ کس طرح بائبل کو جمع کیا گیا تھا، تو میں نے سوچا، ذرا ایک منٹ ٹھہرو، لوگوں کا ایک گروپ کیسے یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ کتاب کے اندر کیا آئے گا اور کیا نہیں یہ کام تو خدا کا ہے۔ یہ کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں؟ بڑی عجیب بات ہے۔ لوگ کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کتاب میں کیا ڈالنا ہے اور کیا نکالنا ہے؟ یہ تو چونکانے والی بات ہے۔ ناممکن۔ میں تو بائبل پر بھروسہ نہیں کر سکتی۔ پھر سوچا، اوکے، مجھے اِس بارے میں زیادہ نہیں سوچنا چاہیے۔ یہ بات مجھے لرزا رہی ہے۔ تو میں نے بائبل کو ایک طرف رکھا اور سوچا، بائبل کو دیکھنا چھوڑو۔ تاریخ کی کتابیں دیکھتی ہوں۔ ظاہر ہے، عیسائیت کی تاریخ بہت خونی ہے۔ میں نے سوچا کہ اگر لوگوں کو قائل کرنے اور ایمان لانے پر مجبور کرنے کے لیے اتنا قتلِ عام کرنا پڑے تو یہ ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ تو بائبل بھی مسترد، تاریخ بھی مسترد۔ سوچنے لگی کہ اب کیا کروں؟ ایک عیسائی لڑکی کی حیثیت سے، میں عبادت تو کر سکتی ہوں، مگر صرف یہی نہیں، مجھے تب ڈانس کرنا بھی پسند تھا۔ اگر میں کسی رات، مثلاً ہفتے کی رات ڈانس کرنے جاتی، اور اپنی مرضی سے جو چاہے پہنتی اور وہاں جو چاہے کرتی، اور پھر اگلی صبح چرچ جاتی، تو سوچتی کہ کیا یہ ٹھیک ہے؟ بالکل بھی ٹھیک نہیں۔ تو میں سوچ رہی تھی کہ مجھ میں خامیاں موجود ہیں۔ معلوم نہیں تھا کہ میں اِن کمزوریوں کے ساتھ مطمئن ہوں یا نہیں۔ کوشش تھی کہ اِس بارے میں نہ سوچوں مگر مجھے یقین نہ تھا کہ میرا طرزِ عمل ٹھیک ہے۔ میں نے تب تک عیسائیت کو بالکل چھوڑا نہیں تھا۔ سوچا کہ مزید ریسرچ کی ضرورت ہے۔ اُسی دوران، میری ملائیشیا میں ایک شخص سے دوستی ہوئی جو روزانہ پانچ وقت نماز پڑھتے تھے۔ اِس سے پہلے، مجھے کوئی ایسا نہیں ملا تھا جو پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہو۔ میرے دوستوں میں، کوئی بھی ایسا نہیں تھا۔ اور میں اپنے اُس دوست کو دیکھتی جو کہ ، ماشاء اللہ (جیسا اللہ نے چاہا) مکمل، جسمانی عبادت کرتے تھے وہ بھی دن میں پانچ بار اور میں اُن کی طرف دیکھتی اور سوچتی، میں ایک پادری کی بیٹی ہوں۔ میں پانچ مرتبہ عبادت نہیں کرتی۔ اگر میں دو مہینے بھی عبادت کرنا بھول جاؤں تو کوئی فرق نہیں پڑتا، ہے ناں؟ تو اُسی دوست نے مجھے مشورہ دیا کہ میں اُن کے ساتھ ایک کلاس میں جاؤں، جس کلاس میں وہ بھی جا رہے تھے۔ اور وہ کلاس شیخ حسین یی کے اسلامک سینٹر میں ہوتی تھی۔ میں اُنہیں نہیں جانتی تھی۔ میں کافی خوفزدہ تھی۔ میں کیا پہنوں گی؟ میں تو ایک ماڈل ہوں۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ میرے پاس کوئی مناسب لباس موجود ہو۔ تو پھر میں شیخ حسین کے اسلامک سینٹر گئی۔ اُنہوں نے مجھے کچھ پمفلٹس دیے اور میں آپ کو بتاؤں وہ پمفلٹس ایسے لگ رہے تھے جیسے اللہ نے خود میرے لیے ترتیب دیے ہوں۔ مجھے ایسا ہی محسوس ہوا۔ پہلا پمفلٹ، مجھے آج بھی یاد ہے، اُس کا نام تھا اناتو ۔ اناتو آسٹریلیا کے آبورجینل باشندوں کا خدا ہے۔ اور اناتو کی موجودگی کی وجہ یہ تھی کیونکہ اُن کے خدا کا تصور یہ ہے کہ جو نہ کھاتا ہے اور نہ ٹوائلٹ جاتا ہے۔ یعنی یہ تصور توحید (ایک خدا) کی طرف رہنمائی کر رہا تھا۔ تو ایک کے بعد دوسرا پمفلٹ میرا ذہن بدل رہا تھا اور وہ مجھے بہت آسان لگے۔ وہ پیغمبروں کے قصے سنا رہے تھے، اور میں سوچ رہی تھی، یہ سب سُنا سُنا لگ رہا ہیں۔ میں یہ نہ سمجھ پائی کہ ابراہم دراصل ابراہیم ہیں۔ یہ بھی نہ سمجھ پائی کہ موسز موسیٰ ہیں۔ نہیں سمجھ پائی۔ اُس وقت عربی میرے لیے بہت اجنبی اور بیگانی زبان تھی۔ کبھی کبھار لوگ پوچھتے ہیں آپ تو ایک ماڈل تھیں، آپ اِس انڈسٹری وغیرہ میں تھیں۔ کیا یہ سب مشکل تھا؟ ہرگز نہیں۔ ایک ماڈل کے طور پر بھی، میں عام ماڈلز جیسی نہیں تھی۔ میں موج مستی، پارٹی وغیرہ کے لیے نہیں جاتی تھی۔ میں بس ایک کونے میں بیٹھ کر کتاب کا مطالعہ کرتی اور اپنی باری کا انتظار کرتی تھی۔ تو میں سوچ رہی تھی، اور درحقیقت جو کچھ بھی میں پڑھ رہی تھی وہ میری ذات سے ہم آہنگ اور میری ویلیوز کے مطابق تھا۔ مجھے ہمیشہ ایسا لگتا تھا کہ میں کسی ایسے مقام پر ہوں جو میری فطرت کے مطابق نہیں۔ ہاں، میں ماڈلنگ اور اداکاری میں تھی اور بہت سے لوگ اِس انڈسٹری کی آرزو رکھتے ہیں، اور میں خوش نصیب تھی کہ میں وہاں تھی، مگر وہاں مجھے اپنی شخصیت کبھی اپنی نہیں لگی۔ جب میں نے یہ پمفلٹس پڑھنا شروع کیے، مجھے محسوس ہوا ان میں لکھی اصولی باتیں مجھ سے بہت مطابقت رکھتی ہیں۔ لہٰذا توحید (ایک خدا کا تصور) توحید کو سمجھنا اتنا مشکل بھی نہ تھا تمام حصے گویا، ایک پزل کی طرح ایک دوسرے سے جڑ رہے تھے۔ مجھے لگتا ہے اسلام ایک تصور کی طرح ہے۔ یعنی میں سمجھ سکتی تھی کہ آدم علیہ السلام تک کے زمانے سے پوری انسانی تاریخ میں اسلام اور مسلمان موجود رہے۔ لہٰذا اب مجھے سوچنا پڑا— اور میرے خیال میں ضرورت سے زیادہ سوچنا مجھ میں کامل پسندی اور علم دوست پہلو ہے— میں ایک اچھی مسلمان بننا چاہتی ہوں؟ کیا میں بن سکتی ہوں؟ میں نہیں چاہتی کہ مسلمان بنتے ہی فوراً گناہ شروع کر دوں۔ اُس وقت میری یہ سوچ تھی۔ تو میں نے سوچا، اوکے، مجھے کچھ چیزیں سیکھنی ہوں گی۔ میں نے سوچا، مجھے عربی سیکھنی ہوگی، عبادت کا طریقہ اور دوسری چیزیں سیکھنی ہوں گی۔ اور تبھی میرا استاد شریف سے رابطہ ہوا ہاں ایسا ہی ہوا تھا۔ اُس دن اُنہوں نے مجھ سے اِس موضوع پر زیادہ سنجیدگی سے بات چیت شروع کی، میں نے الخادم سے ایک والنٹیئر کی خدمات لی تھیں۔ میں نے سوچا تھا، مجھے جاننا چاہیے کہ یہ لوگ صبح کتنی جلدی جاگتے ہیں، اور حجاب حجاب پہننے میں انہیں کتنا وقت لگتا ہے؟ ضرور وقت لگتا ہوگا۔ کیا انہیں گرمی نہیں لگتی؟ اور یہ روزہ کیسے رکھتے ہیں؟ کیونکہ اُس وقت، میں اِس سے بھی زیادہ دُبلی تھی۔ میں سوچتی تھی کہ میں بہت دُبلی تھی۔ میں روزہ کیسے رکھ سکتی ہوں؟ کیا میں بیمار ہو جاؤں گی؟ تو میں نے سوچا، ، میں ایک ہفتے کے لیے کسی عورت کے پاس رہوں گی۔ میں اُس کے گھر صبح ۵ بجے جاؤں گی۔ اور اُس کے ہر عمل کو دہراؤں گی اور دیکھوں گی کہ میں یہ کر سکتی ہوں یا نہیں۔ تو مجھے اُس دن اپنی والنٹیئر سے ملنا تھا، مگر وہ اتوار کا دن تھا، جو عام کلاس کا دن تھا۔ لہٰذا میں پہلے کلاس میں گئی اور وہاں استاد نے پہلے مجھ سے بات کی۔ کہنے لگے، "علیزا تم اب تک کیا جان چکی ہو؟ "کیا تم بات کرنا چاہتی ہو؟ میں دل میں سوچ رہی تھی، استاد، میں پہلے ہی اپنی ریسرچ کر چکی ہوں۔ میں تو پہلے ہی خود کو مسلمان سمجھ رہی ہوں۔ بات کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر وہ اتنے نرم مزاج تھے کہ میں نے سوچا، اوکے، چلو اِن کے ساتھ جا کر بیٹھتی ہوں اور بات کر لیتی ہوں۔ تو ہم شیخ حسین کے گھر میں داخل ہوئے، وہاں جا کر ہم بیٹھے اور میری وہ ساری باتیں سننے لگے جو میں ابھی آپ کو بتا رہی تھی، اور پھر آخر میں وہ کہنے لگے، ’’ارے علیزا تم تو بہت کچھ جانتی ہو۔ ‘‘تمہیں مسلمان ہو جانا چاہیے ۔ اور میں سوچنے لگی، مجھے اگلے ۱۵ منٹ میں ایک والنٹیئرسے ملاقات کرنی ہے۔ میں نے سوچا آج نہیں۔ اُنہوں نے پوچھا تمہیں کیا چیز روک رہی ہے؟ تو میں نے بتایا، مجھے لگتا ہے کہ مجھے عربی سیکھنی چاہیے، اور قرآن پڑھنا چاہیے، اور عبادت کا طریقہ بھی سیکھنا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے کم از کم کچھ حدیثیں (پیغمبر ﷺ کی باتیں) یاد ہوں۔ وہ مجھے دیکھ رہے تھے، پھر اُنہوں نے ایک سوال پوچھا جو مجھے یاد ہے، اور میرے خیال میں وہ یہ جان گئے تھے اُنہوں نے میری کامل پسندی کو بھانپ لیا تھا۔ وہ کہنے لگے، اچھا، تمہارے خیال میں تمہیں ان سب کاموں میں کتنا وقت لگے گا؟ بیس سال ، تیس سال ، پچاس سال اور پھر— اور مجھے نہیں پتہ کہ آپ کو یا ناظرین کو یہ بات کتنی بے وقوفانہ لگے گی— مگر اُس بات نے مجھے رُلا دیا، مگر یہ یاد رہے کہ میں کوئی تین مہینے یا زیادہ عرصے سے تحقیقی مطالعہ کر رہی تھی، اور پھر، ہاں۔ مجھے علم کی بھی شدید ضرورت تھی۔ میں سیکھنا چاہتی تھی تاکہ ایک اچھی مسلمان بن سکوں۔ تو اُنہوں نے کہا، علیزا کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تم ایک مسلمان کے لیے علم کی جو سطح چاہتی ہو وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے؟ تو یہ بات میرے دل میں اتر گئی میں اِس سے متاثر ہوئی اور صدمہ بھی ہوا۔ اور اُس وقت میں رو رہی تھی، کیونکہ مجھے یہ صدمہ تھا کہ میں پرفیکٹ نہیں بن سکتی۔ مگر مجھے بات سمجھ آ گئی تھی۔ اُس لمحے، مجھے بات سمجھ آ گئی۔ اور الله سبحانه وتعالى نے میرے دل میں یہ پہلی بات ڈالی کہ دیکھو علیزا اگر الله سبحانه و تعالى تمہیں اِس سفر پر لے آیا ہے اور تمہیں بتا چکا ہے کہ تم اپنی پوری زندگی مسلمان ہی رہی ہو، تو کیا لگتا ہے؟ وہ تمہارے والد کے حوالے سے تمہاری مدد نہیں کرے گا؟ کیا وہ تمہاری فیملی کے حوالے سے تمہاری مدد نہیں کرے گا؟ اس سے مجھے سکون پہنچا۔ اور پھر میں نے سوچا، استاد ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ میں اُس وقت جو کچھ بھی کہہ رہی تھی وہ تھوڑا بہت دکھاوا تھا۔ اپنی معلومات کا دکھاوا، اپنے احساسات کا دکھاوا، مگر یہ محض زبانی باتیں تھی۔ صرف ہونٹوں سے نکلی ہوئی باتیں۔ اور جب تک میں نے کلمۂ شہادت نہیں پڑھا (ایمان کی گواہی نہیں دی)، میں نے سوائے باتوں کے اور کچھ نہیں کیا، صرف چند باتیں۔ تو اللہ مجھے وہ علم عطا کیوں کرے کہ جب میں اُس کے آگے جھکنے کے لیے قدم ہی نہیں اٹھا سکتی؟ میں سمجھ گئی تھی۔ تو جب میں شدید جذبات میں رو رہی تھی کیونکہ میرا خیال ہے ماشاء اللہ (جیسا اللہ نے چاہا)، ظاہر ہے استاد نے کئی لوگوں کو کلمہ پڑھایا تھا، تو شاید اُنہوں نے دیکھا کہ میں زیادہ گہرائی سے سمجھ رہی ہوں۔ "پھر اُنہوں نے پوچھا، ’’کیا تم تیار ہو؟ وہ بات چیت بالکل اچانک ہوئی تھی، میں تو اپنی والنٹیئر سے ملنے والی تھی۔ مگر مجھے سمجھ آ گئی تھی۔ جب اُنہوں نے مجھ سے پوچھا تو آخری چیز میں نے یہ سوچی، اگر اللہ چاہتا ہے کہ میں ایسا کروں، تو میں اِسے روک نہیں سکتی۔ اگر اللہ مجھ سے یہ چاہتا ہے، تو یہ ہو کر رہے گا۔ تو میں نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔ کیسا احساس تھا؟ وہ احساس، اب بھی مجھ میں ہے۔ جب آپ عربی میں کلمہ پڑھتے ہیں، تو ذرا شک سا رہتا ہے کیونکہ یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ تلفظ صحیح ادا ہو رہا ہے یا نہیں۔ مگر جب میں نے انگلش میں پڑھا، تو مجھے اس کا حقیقی احساس ملا۔ ایک سنسنی سی محسوس ہوئی جو سر سے شروع ہو کر ریڑھ کی ہڈی سے ہوتی ہوئی پورے جسم میں پھیل گئی۔ اور مجھے اب بھی اپنے گٹھنوں اور پیروں میں یہ محسوس ہو رہی ہے۔ آپ ایک لہر سی محسوس کرتے ہیں، گویا کہ آپ کی پرانی زندگی الوداع ہو رہی ہو۔ پرانی زندگی رخصت ہو جاتی ہے، اور نئی زندگی سر سے پیر تک، اوپر سے نیچے تک سما جاتی ہے جیسے کہ آدم علیہ السلام میں سر سے لے کر پیر تک روح پھونک دی گئی تھی۔ میں نے اِسے محسوس کیا۔ اور جب یہ میرے پیروں تک پہنچی، تو جیسے کہ جب ٹی وی اسٹیشن بند ہو جائے تو بِیپ کی آوازآتی ہے نا اس طرح بِیپ___؟ میرے کانوں نے سنا بِیپ___۔ یہاں تک کہ میری نظر کے سامنے جیسے گلابی سا رنگ آ گیا۔ یا یوں کہیں کہ میری نظر میں کوئی تبدیلی آ گئی۔ اور پھر میں نے خود کو ہلکا بہت ہلکا محسوس کیا، بہت زیادہ، ۔ کیا بتاؤں کہ کتنا ہلکا پھلکا احساس تھا۔ اور پھر اِس کے فوراً بعد، عصر (سہ پہر کی نماز) کے لیے اذان ہو گئی۔ اور میں وضو کے لیے چلی گئی، یہ جانے بغیر کہ وضو کیسے کرتے ہیں۔ کسی نے بتایا، ’’ یوں کرو، ایسے کرو، ایسے نہ کرو۔ اوکے، ایسے کرو۔‘‘ اور پھر میں فوراً الخادم میں نماز کے ہال میں چلی گئی اور وہاں اپنی ایک دوست کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔ پوری نماز میں، اِس طرح سے۔ بس یوں ہی، بس اس طرح ہی کرتی رہی۔ اور وہ میری پہلی نماز تھی اور جہاں تک مجھے یاد ہے, تب سے میں نے کوئی نماز نہیں چھوڑی۔ تو پہلا سجدہ جو میں نے کیا وہ اُسی شام مغرب کی نماز میں تھا۔ میں اپنی والنٹیئرسے ملنے اُس کی دوستوں کے پاس گئی۔ وہ پانچ عورتیں تھیں۔ جن میں سے چار نو مسلم تھیں۔ ہم ایک کیفے میں ملے اور پھر اُس کے بعد، ہم اُن میں سے ایک کے گھر مغرب کی نماز کے لیے گئے۔ تو میرا پہلا امام (نماز پڑھانے والا) ایک مرد تھا، اور میری دوسری امام ایک عورت تھی۔ اور اُن چاروں نو مسلموں نے مجھے اُس وقت سجدہ سجدہ کرنا سکھایا، آخری سجدہ تھوڑا لمبا رکھنا، اور اُس آخری سجدے میں دعا مانگنا کیونکہ اللہ اِس حالت کی دعا کو قبول فرماتا ہے۔ اور میں آپ کو وہ دعا بتاؤں گی جو میں نے اُس سال کے ختم ہونے تک اپنی ہر نماز میں مانگی تھی۔ اور مجھے اُس کا ایک ایک لفظ یاد ہے کیونکہ میں نے ہر نماز میں وہ مانگی تھی۔ اے اللہ، پلیز ’’میرے والدین مجھے اپنی مسلمان بیٹی کے طور پر قبول کر لیں‘‘۔ ویسے میں جب بھی اپنے مسلمان ہونے کی کہانی سناتی ہوں تو پہلا سوال یہی ہوتا ہے، اچھا تو تمہارے والد اور والدہ کا کیا ہوا؟ اور میں آپ کو بتاؤں کہ دعا میں واقعی بہت طاقت ہے کیونکہ میں تب بھی بہت خوفزدہ تھی۔ بہت فکرمند تھی۔ پھر دسمبر کا وہ بڑا دن آ گیا جب مجھے اپنے والد کو بتانا تھا کہ میں مسلمان ہو چکی ہوں۔ یہ اللہ سے میرا وعدہ تھا۔ لہٰذا میں اُنہیں ڈنر کے لیے لے گئی۔ پیٹ بھرا ہو تو انسان خوش ہوتا ہے۔ تو یہ میری حکمتِ عملی تھی۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ میں نے پورا ایک سال دعا کی تھی، وہی دعا جو میں نے ابھی بتائی ’’یا رب، پلیز، پلیز میرے والدین مجھے مسلمان بیٹی کے طور پر قبول کر لیں"۔ یہ دعا کرتی رہی، بار بار کرتی رہی، میں نے اِسے نہیں چھوڑا۔ اور میٹھی ڈش ختم ہوتے وقت، میں نے ہمت جمع کی اور اپنے والد سے کہا، ‘‘ابو، مجھے آپ کو اپنے اور اسلام کے بارے میں کچھ بتانا ہے۔’’ یہ سن کر وہ کہنے لگے، ‘‘اوکے، علیزا تمہیں کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔’’ اوہ، نو۔ مگر اس کے بعد، میرے والد نے خوبصورت ترین الفاظ کہے، انتہائی خوبصورت الفاظ۔ کہنے لگے، ’’علیزا ایک بات کہوں؟ اگر تم میری طرح ابراہم کے خدا کو مانتی ہو تو میں خوش ہوں اس بات سے۔ اور اگر یہ مذہب تمہارے دل میں سما گیا ہے اور تمہیں سکون دیتا ہے، تو ٹھیک ہے۔ تم اِس پر قائم رہو۔ اور تمہیں میرے یا اپنی ماں کے حوالے سے، یا اپنے خاندان کے حوالے سے ‘‘فکرمند ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ پھر اُنہوں نے پوری لِسٹ گنوائی کہ ہمارے خاندان میں بدھسٹ ، کیتھولکس ،اور پروٹیسٹنٹس بھی ہیں، تو اب ایک مسلمان بھی ہے لہٰذا کوئی مسئلے والی بات نہیں ہے۔ یہ اتنے خوبصورت ترین، اتنے خوبصورت اور نرم، اتنے پیارے الفاظ تھے۔ اور ظاہر ہے، اگلا سوال میری والدہ کے بارے میں ہوتا ہے کہ اُن کا کیا ہوا؟۔ میری والدہ تب امریکہ میں تھیں۔ اور میرا پلان یہ تھا، چونکہ میں ایک ہوشیار بیٹی ہوں، اِس لیے میرا پلان ابو کو بتانا تھا کیونکہ ابو کا مزاج نرم تھا، اور وہ مجھ سے ملنے کے بعد، ہمیشہ میری والدہ سے ملنے جاتے تھے۔ میری والدہ اُس وقت بوسٹن میں رہ رہی تھیں۔ اُنہیں گردے کی بیماری تھی لہٰذا وہاں اپنی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔ تو پلان یہی تھا کہ میں ابو کو بتاؤں گی اور ابو امی کو ۔ تو میرے والد بوسٹن کے لیے روانہ ہو گئے، اور وہاں پہنچتے ہی اُنہوں نے مجھے فون کیا اور اپنی خیریت بتائی۔ میں نے سوچا، اوکے، کل ابو مجھے بتائیں گے کہ انہوں نے امی کو سب کچھ بتا دیا ہے۔ ایک دن گزر گیا، دو دن گزر گئے۔ میں نے سوچا، مجھے خود امی کو نہیں بتانا چاہیے۔ امی مجھ سے بہت سارے سوالات کریں گی۔ مگر پانچ دن گزر گئے، پانچ دن گزر گئے تھے ۔ اور پھر مجھے مجھے اپنے والد سے پوچھنا پڑا، ’’ابو، میری بات سنیں، کیا آپ نے امی کو بتا دیا؟ وہ کچھ کہہ تو نہیں رہیں‘‘۔ اور اُنہوں نے بے پرواہی سے کہا، ’’ہاں، میں نے بتا دیا کوئی مسئلہ نہیں ۔ امی سے بات کرو گی اس بارے میں"؟ میں نے کہا، ’’نہیں، نہیں، نہیں، میں اِس بارے میں بات نہیں کر سکتی ‘‘۔ تو میرے والدین کی کہانی اتنی زیادہ آسان ہے۔ بہت ہی زیادہ آسان۔ اور مجھے پورا، پورا، پورا، کامل یقین ہے اِس کی وجہ صرف اور صرف دعا ہے۔ اس لیے ہمیں کبھی بھی، کبھی بھی دُعا کا دامن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے جب تک آپ کو وہ چیز نہ مل جائے دعا کرتے رہیں۔ جب میں مسلمان ہوئی تو مجھے احساس ہوا کہ میری ایک فیملی ہے۔ مجھے پہلی بار ایسی فیملی ملی تھی جسے یہ پرواہ نہ تھی کہ میں پڑھائی میں کیسی ہوں، جسے یہ پرواہ نہیں تھی کہ میرا ماضی کیسا تھا۔ بس میرا ایک مسلمان بہن ہونا ہی اُن کے لیے کافی تھا اِسی رشتے سے وہ مجھ پر مہربان تھیں، یہاں تک کہ میرے مشکل حالات میں بھی۔ مجھے یہ کبھی نصیب نہ ہوا تھا۔ میں اکلوتی اولاد ہوں۔ میں تنہا بڑی ہوئی۔ میرا ایک خاندان ہے۔ اور اگرچہ شروع میں مجھے اِس کا احساس نہیں ہوا، میں سوچتی تھی کہ سب ایک دوسرے کو بہن، بھائی کیوں کہتے ہیں؟ پہلے مجھے احساس نہیں ہوا، مگر اب کسی بھی حجاب والی کو دیکھ کر دل کہتا ہے یہ میری بہن ہے۔ مجھے یہ پرواہ نہیں کہ وہ کہاں سے ہے۔ میں اُسے نہیں جانتی مگر وہ میری بہن ہے۔ جب میں تھائی لینڈ میں راستے سے گزرتی ہوں تو کبھی پتہ نہیں چلتا کہ فلاں مسلمان ہے یا نہیں، مگر کوئی بھائی پاس سے گزرتا ہے اور آواز آتی ہے ’’السلام علیکم ‘‘(آپ پر سلامتی ہو)۔ اور میں جواب دیتی ہوں ’’وعلیکم السلام (اور آپ پر بھی)‘‘۔ جب اسلام میری زندگی میں آیا، تو ظاہر ہے سب سے پہلے میں نے اُس کی ویلیوز کو اپنایا۔ پھر میں نے اپنی شخصیت اور لباس کو اس کے مطابق ڈھالا ۔ اور پھر میں نے دیکھا کہ حجاب کے ساتھ لوگ اب میری آواز سنتے ہیں۔ لوگ اب میری بات کو اہمیت دیتے ہیں۔ لوگ اب میری ذہانت کو سنتے ہیں، جس کی مجھے بہت خواہش تھی کیونکہ میں اِسے کسی سے شیئر نہیں کر سکتی تھی۔ میں اپنی آواز کا اظہار نہیں کر سکتی تھی۔ اور یہ تھی آزادی۔ یہ اُس غلامی سے آزادی تھی۔ تو اسلام آزادی ہے، ذہن کی آزادی، رائے کی آزادی، یہ آزادی کہ میں خود فیصلہ کروں کہ کون کیا دیکھے اور میں کیا پہنوں۔ ایک نو مسلم خاتون کی حیثیت سے، کیا آپ سمجھتی ہیں کہ یہ مذہب عورتوں کی حیثیت اور مقام کو گھٹاتا ہے؟ اوکے تو، یہ دراصل ایک غلط فہمی ہے کہ اسلام عورتوں کی توہین کرتا ہے، اُن کی حیثیت گھٹاتا ہے اور اُن پر ظلم کرتا ہے۔ میں یہی کہوں گی کہ یہ بات حقیقت سے بہت دور ہے۔ ہاں، میں تسلیم کروں گی کہ بعض دفعہ کچھ جگہوں پر رسم و رواج کے سائے اسلام کی عملی صورتوں پر پڑ جاتے ہیں، لیکن اگر ہم خالص اسلام کو دیکھیں، تو مجھے مردوں پر رحم آتا ہے، واقعی۔ مجھے مردوں کے حوالے سے دکھ ہوتا ہے کیونکہ یہ مرد ہی ہیں جو کمانے کے لیے جاتے ہیں اور جن پر بہت زیادہ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، جبکہ حقیقت میں اللہ سُبحانہ و تعالیٰ نے عورتوں کو تو بہت آرام اور آسانیوں میں رکھا ہے۔ مردوں پر ذمہ داری ہے کہ وہ عورتوں کا مالی، جسمانی، ذہنی، ہر لحاظ سے خیال رکھیں۔ عورتیں، مردوں کے لیے کھانا بھی پکائیں تو یہ اُن کا احسان ہوتا ہے، کپڑے دھوئیں تو یہ بھی اُن کا احسان ہوتا ہے۔ اور ظاہر ہے، اللہ کو خوش کرنے کے لیے ہم اُنہیں خوش کرتے ہیں۔ مگر اسلام میں، بطور عورت، اگر آپ دینی تعلیمات پر عمل کرنے والے مردوں کے درمیان ہیں تو ماشاء اللہ (جیسا اللہ نے چاہا)، ماشاء اللہ آپ پر ظلم نہیں ہو رہا۔ میری ...
میرا مطلب میری بات سنی جاتی ہے، مجھے دیکھا جاتا ہے، میں حفاظت میں رہتی ہوں، اگر میں دین پر عمل پیرا مردوں کے درمیان ہوں۔ خدایا، وہ وقت بھی تھا جب میں ایک اسلامی این جی او میں کام کر رہی تھی، ایک اسلامی این جی او اور ہم باری باری تفکرہ (یاد دہانی) دیا کرتے تھے۔ جب میری باری ہوتی، تو سارے مرد اِدھر اُدھر یا نیچے دیکھ رہے ہوتے تھے۔ وہ مجھے اتنی عزت دیتے کہ مجھے آنکھ بھر کر نہیں دیکھتے تھے۔ وہ میرے الفاظ سنتے تھے، میری دی گئی یاد دہانی کو سنتے تھے، وہ سب میری کافی عزّت کرتے تھے۔ یہاں تک کہ میں ایک امریکی ریسٹورینٹ چِلّیز میں کھانے کے لیے جاتی ملائیشیا میں حلال ملتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں وہاں تھی اور ویٹر کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا۔ جیسے ہی اُس نے مجھے دیکھا، ’’ہیلو!‘‘ اور نیچے ٹیبل کو دیکھنے لگا۔ ’’ہیلو میڈم، میں کیا خدمت کر سکتا ہوں؟‘‘ وہ پورا وقت ٹیبل کو ہی دیکھتا رہا۔ اُس نے مجھے اتنا احترام دیا ماشاء اللہ (جیسا اللہ نے چاہا)۔ سینکڑوں لائف اسٹائلز اور مذاہب میں سے صرف اسلام ہی کا انتخاب کیوں؟ تو یہ بھی بڑے سوالوں میں سے ایک ہے: اسلام ہی کیوں؟ میرا جواب یہ ہوتا ہے کیونکہ مجھے شریعت (اسلامی قانون) پسند ہے۔ مجھے اِس کے قوانین پسند ہیں۔ اور ہر کوئی اِس بات پر حیران ہوتا ہے، ’’تمہیں قوانین پسند ہیں؟ ہمیں تو قوانین پسند نہیں میرے پیدائشی مسلمان دوست یہ بات کہتے ہیں۔ آخر تم یہ کیا باتیں کر رہی ہو؟‘‘ تو پتہ ہے میں کیا کہتی ہوں؟ میں بالکل کھوئی ہوئی اور خالی اور بالکل نا مکمل زندگی گزار رہی تھی اور ہلکی پھلکی شہرت والے لائف اسٹائل میں جی رہی تھی، لہٰذا مجھے فرق صاف نظر آ رہا ہے۔ پہلے تو معلوم ہی نہ تھا کہ میں کیا کر رہی ہوں، کیا صحیح ہے اور کیا غلط، مگر اب سب کچھ واضح ہے، اب معلوم ہوگیا ہے کہ کیا صحیح ہے، اور کیا نہیں ہے، اور درمیان کی کیا صورت ہے، جب تک کہ آپ اسلام کے خلاف کوئی عمل نہ کر رہے ہوں، الحمدللہ (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)۔ اب سب کچھ واضح ہے۔ میں اپنی زندگی کو ترتیب دینا جان گئی ۔ میں جانتی ہوں کہ کیا کرنا ہے۔ لہٰذا مجھے قوانین پسند ہیں۔ اور جب کچھ قوانین ایسے ہوں جنہیں ہم نہ سمجھتے ہوں، جیسے کہ گواہی میں ایک مرد دو عورتوں کے برابر کیوں ہے؟ آخر کیوں؟ تو ہر سوال کا اچھا جواب ہوتا ہے۔ ہمیشہ معقول وجہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی لڑکی اپنی اہمیت اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو خوبصورت لگنے میں یا صرف شہرت یا اسی طرح کی چیزوں میں ڈھونڈنا چاہے، تو آپ اُسے کیا کہنا چاہیں گی؟ خود سے یہ سوال پوچھیں کہ کیا یہ چیزیں واقعی آپ کو خوش کر دیں گی، کیونکہ جب آپ میک اَپ کرتی ہیں، بال سنوارتی ہیں، اچھے کپڑے، زیورات وغیرہ پہنتی ہیں، تو اگر اِس پر واقعی سنجیدگی سے سوچیں، تو آپ اپنی خوشی کی چابی دوسروں کے ہاتھ میں دے رہی ہوتی ہیں۔ آپ خوش ہونے کے لیے دوسروں کی تعریف اور قبولیت پر انحصار کرتی ہیں، گویا آپ کی خوشی اُن کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ویلیو اُن کے پاس ہے۔ اور شہرت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا شہرت واقعی آپ کو خوشی دے سکے گی؟ شہرت بھی ایک بیرونی چیز ہے۔ شہرت بھی دوسروں کی طرف سے آتی ہے۔ آپ اُس وقت تک مشہور نہیں ہو سکتیں جب تک کہ دوسرے آپ کو نہ بتائیں کہ آپ عظیم ہیں۔ تو کیا آپ اپنے لیے بس یہی کچھ چاہتی ہیں؟ ہو سکتا ہے، مگر مشہور ہونے کے اور بھی طریقے ہیں۔ آپ فرشتوں میں بھی مشہور ہو سکتی ہیں۔ اوکے، وہ شہرت نظر نہیں آتی۔ آپ نیکی کے کاموں کی وجہ سے بھی مشہور ہو سکتی ہیں۔ آپ اپنی اچھائی کی وجہ سے بھی نام ,نام کما سکتی ہیں۔ اگر آپ مجھے کہیں کہ تم چاہے جیسی بھی نظر آؤ پھر بھی پُراعتماد رہ سکتی ہو، اور پھر بھی اپنی آواز بلند کر سکتی ہو، دلچسپی کی علامت بن سکتی ہو، اپنے آپ پر فخر کر سکتی ہو، تو شاید، میں مان جاؤں گی, ہاں۔ اپنی اصل قیمت اپنے اندر تلاش کرو اور اسلام کا مطالعہ کرو، کیونکہ اسلام ہی ہے جو تمہیں تمہاری عزت واپس لوٹائے گا۔ اسلام ہی ہے جو تمہیں تمہاری آواز واپس دے گا، وہی تمہارا وقار واپس لوٹائے گا، تمہیں یہ احساس دلائے گا کہ تم صرف کپڑوں اور بالوں تک محدود نہیں ہو۔ اپنے اندر تلاش کرو اور اِن جوابات کو ڈھونڈتی رہو اور جواب پانے تک ہار مت مانو۔
میرا مطلب میری بات سنی جاتی ہے، مجھے دیکھا جاتا ہے، میں حفاظت میں رہتی ہوں، اگر میں دین پر عمل پیرا مردوں کے درمیان ہوں۔ خدایا، وہ وقت بھی تھا جب میں ایک اسلامی این جی او میں کام کر رہی تھی، ایک اسلامی این جی او اور ہم باری باری تفکرہ (یاد دہانی) دیا کرتے تھے۔ جب میری باری ہوتی، تو سارے مرد اِدھر اُدھر یا نیچے دیکھ رہے ہوتے تھے۔ وہ مجھے اتنی عزت دیتے کہ مجھے آنکھ بھر کر نہیں دیکھتے تھے۔ وہ میرے الفاظ سنتے تھے، میری دی گئی یاد دہانی کو سنتے تھے، وہ سب میری کافی عزّت کرتے تھے۔ یہاں تک کہ میں ایک امریکی ریسٹورینٹ چِلّیز میں کھانے کے لیے جاتی ملائیشیا میں حلال ملتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں وہاں تھی اور ویٹر کا تعلق بنگلہ دیش سے تھا۔ جیسے ہی اُس نے مجھے دیکھا، ’’ہیلو!‘‘ اور نیچے ٹیبل کو دیکھنے لگا۔ ’’ہیلو میڈم، میں کیا خدمت کر سکتا ہوں؟‘‘ وہ پورا وقت ٹیبل کو ہی دیکھتا رہا۔ اُس نے مجھے اتنا احترام دیا ماشاء اللہ (جیسا اللہ نے چاہا)۔ سینکڑوں لائف اسٹائلز اور مذاہب میں سے صرف اسلام ہی کا انتخاب کیوں؟ تو یہ بھی بڑے سوالوں میں سے ایک ہے: اسلام ہی کیوں؟ میرا جواب یہ ہوتا ہے کیونکہ مجھے شریعت (اسلامی قانون) پسند ہے۔ مجھے اِس کے قوانین پسند ہیں۔ اور ہر کوئی اِس بات پر حیران ہوتا ہے، ’’تمہیں قوانین پسند ہیں؟ ہمیں تو قوانین پسند نہیں میرے پیدائشی مسلمان دوست یہ بات کہتے ہیں۔ آخر تم یہ کیا باتیں کر رہی ہو؟‘‘ تو پتہ ہے میں کیا کہتی ہوں؟ میں بالکل کھوئی ہوئی اور خالی اور بالکل نا مکمل زندگی گزار رہی تھی اور ہلکی پھلکی شہرت والے لائف اسٹائل میں جی رہی تھی، لہٰذا مجھے فرق صاف نظر آ رہا ہے۔ پہلے تو معلوم ہی نہ تھا کہ میں کیا کر رہی ہوں، کیا صحیح ہے اور کیا غلط، مگر اب سب کچھ واضح ہے، اب معلوم ہوگیا ہے کہ کیا صحیح ہے، اور کیا نہیں ہے، اور درمیان کی کیا صورت ہے، جب تک کہ آپ اسلام کے خلاف کوئی عمل نہ کر رہے ہوں، الحمدللہ (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)۔ اب سب کچھ واضح ہے۔ میں اپنی زندگی کو ترتیب دینا جان گئی ۔ میں جانتی ہوں کہ کیا کرنا ہے۔ لہٰذا مجھے قوانین پسند ہیں۔ اور جب کچھ قوانین ایسے ہوں جنہیں ہم نہ سمجھتے ہوں، جیسے کہ گواہی میں ایک مرد دو عورتوں کے برابر کیوں ہے؟ آخر کیوں؟ تو ہر سوال کا اچھا جواب ہوتا ہے۔ ہمیشہ معقول وجہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی لڑکی اپنی اہمیت اپنے ارد گرد موجود لوگوں کو خوبصورت لگنے میں یا صرف شہرت یا اسی طرح کی چیزوں میں ڈھونڈنا چاہے، تو آپ اُسے کیا کہنا چاہیں گی؟ خود سے یہ سوال پوچھیں کہ کیا یہ چیزیں واقعی آپ کو خوش کر دیں گی، کیونکہ جب آپ میک اَپ کرتی ہیں، بال سنوارتی ہیں، اچھے کپڑے، زیورات وغیرہ پہنتی ہیں، تو اگر اِس پر واقعی سنجیدگی سے سوچیں، تو آپ اپنی خوشی کی چابی دوسروں کے ہاتھ میں دے رہی ہوتی ہیں۔ آپ خوش ہونے کے لیے دوسروں کی تعریف اور قبولیت پر انحصار کرتی ہیں، گویا آپ کی خوشی اُن کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ویلیو اُن کے پاس ہے۔ اور شہرت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا شہرت واقعی آپ کو خوشی دے سکے گی؟ شہرت بھی ایک بیرونی چیز ہے۔ شہرت بھی دوسروں کی طرف سے آتی ہے۔ آپ اُس وقت تک مشہور نہیں ہو سکتیں جب تک کہ دوسرے آپ کو نہ بتائیں کہ آپ عظیم ہیں۔ تو کیا آپ اپنے لیے بس یہی کچھ چاہتی ہیں؟ ہو سکتا ہے، مگر مشہور ہونے کے اور بھی طریقے ہیں۔ آپ فرشتوں میں بھی مشہور ہو سکتی ہیں۔ اوکے، وہ شہرت نظر نہیں آتی۔ آپ نیکی کے کاموں کی وجہ سے بھی مشہور ہو سکتی ہیں۔ آپ اپنی اچھائی کی وجہ سے بھی نام ,نام کما سکتی ہیں۔ اگر آپ مجھے کہیں کہ تم چاہے جیسی بھی نظر آؤ پھر بھی پُراعتماد رہ سکتی ہو، اور پھر بھی اپنی آواز بلند کر سکتی ہو، دلچسپی کی علامت بن سکتی ہو، اپنے آپ پر فخر کر سکتی ہو، تو شاید، میں مان جاؤں گی, ہاں۔ اپنی اصل قیمت اپنے اندر تلاش کرو اور اسلام کا مطالعہ کرو، کیونکہ اسلام ہی ہے جو تمہیں تمہاری عزت واپس لوٹائے گا۔ اسلام ہی ہے جو تمہیں تمہاری آواز واپس دے گا، وہی تمہارا وقار واپس لوٹائے گا، تمہیں یہ احساس دلائے گا کہ تم صرف کپڑوں اور بالوں تک محدود نہیں ہو۔ اپنے اندر تلاش کرو اور اِن جوابات کو ڈھونڈتی رہو اور جواب پانے تک ہار مت مانو۔