Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Dushman Se Musalman Tak – 10 Conversions Jo Sab Ko Hairan Kar Gaye!

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

اسلام، یہ جارحانہ اور خطرناک مذہب...

یہ سچ نہیں ہوسکتا۔ خدا کے لیے، براہِ کرم۔ کچھ بھی، مگر اسلام نہیں۔ میں ایک ایتھیسٹ تھا۔ میں کسی مذہب کو نہیں مانتا تھا۔ یہ آزادی کو قابو کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ اور جب آپ مذہب کو نکال دیتے ہیں، تو گویا آپ خدا کو بھی نکال دیتے ہیں۔ میں مانتا تھا کہ اگر خدا کا کوئی مذہب ہوتا، تو اس کے ثبوت ہوتے۔ وہ ثبوت ٹھوس، جسمانی اور ظاہر شدہ ہوتے۔ تین سال کے دوران، میں نے یہ چیز بنائی۔ بم۔ میرے شہر میں ایک اسلامی مرکز تھا۔ رمضان میں، جمعہ کی دوپہر۔ وہ سب وہاں موجود تھے۔ اور میں نے سوچا تھا کہ وہاں رکھ دوں گا، رات کے وقت، ایک دن پہلے۔ اور یہ آسان تھا کیونکہ سب مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے۔ جن سے میں نے اسلام کا تاثر لیا تھا، وہ برا نمونہ تھے۔ وہ اسلام نہیں ہے۔ یہ اسلام کے قریب ہے۔ تو میں پڑھتا ہی گیا۔ پڑھتا ہی گیا۔ میرے برے احساسات آہستگی سے ختم ہونے لگے۔ وہ بس چلے گئے۔ میں آسانی سے اسلام سے قائل ہوگیا، مگر اسلام کی بری ساکھ کی وجہ سے مجھے ہچکچاہٹ ہوئی۔ میں نے قرآن پڑھا اور بار بار پڑھتا رہا، اور پھر تیسرے دن تک، میں قرآن میں کھو گیا۔ جیسے کہ میں اسے گھنٹوں پڑھنے کے لیے پُرعزم تھا۔ پھر ہوا کچھ یوں کہ، میرے سیل میٹ نے کہا، "تم ناشتہ سے ہی وہ کتاب پڑھ رہے ہو۔ کیا تم کھاؤ گے یا نہیں؟" اور میں نے سوچا اُف، "میں واقعی اس کتاب میں دھس گیا ہوں۔ کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟ کیوں؟" اسلام سے پہلے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ کس پر ایمان رکھتے تھے؟ میں نے بہت سی مسیحی تعلیمات حاصل کیں، جیسا کہ امریکی بچے کرتےہیں۔ مجھے ان کا علم تھا، مگر سچ بتاؤں تو، میرے اندر ایک قوم پرست نظریہ پروان چڑھ رہا تھا۔ مذہب کا کوئی کردار نہیں تھا۔ یہ بہت افسانوی لگتا تھا، بہت سارا جادو ٹونا، شاید، سمجھ رہے ہو؟ لیکن مجھے اپنے ملک پر یقین تھا، میں لوگوں سے کہتا ہوں، بہتر مثال نہ ہونے کی وجہ سے، پرچم میرا صلیب تھا۔ یہی سب سے اچھی طرح میں بیان کرسکتا ہوں۔ تو میں ایک ساؤتھرن بیپٹسٹ عیسائی تھا۔ میں ایسی جگہ پلا بڑھا جسے "بائبل بیلٹ" کہا جاتا ہے، جہاں چرچز مکڈونلڈز سے بھی زیادہ ہیں۔ میں نے بائبل کی تعلیم حاصل کی۔ میں نوجوانوں کا مذہبی رہنما تھا، میں ایک مبلغ بھی تھا۔ میں نے گواٹیمالا میں ایک مشن میں خدمت انجام دی۔ جب میں نے عیسائیت کو چھوڑا، اس وقت میں ایک ساؤتھرن بیپٹسٹ چرچ میں نوجوانوں کا مذہبی رہنما تھا۔ کچھ عرصے کے لیے،میں ایتھیسٹ تھا اور مذہب میں کوئی مقصد نہیں دکھتا تھا۔ میری سوچ یہ تھی کہ یہ لوگوں کو خوش کرنے اور اپنی مرضی کرنے سے روکنے کا ایک طریقہ ہے۔ یہ آزادی کو قابو کرنے کا ایک ذریعہ تھا، یعنی مذہب۔ اور جب آپ مذہب کو نکال دیتے ہیں، تو گویا آپ خدا کو بھی نکال دیتے ہیں۔ میرا اسلام کی طرف سفر کالج کے آخری سال میں شروع ہوا، جب میں نے فیصلہ کیا کہ میں ایک بیپٹسٹ مبلغ بننا چاہتا ہوں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ کالج چھوڑنے کے بجائے ڈگری مکمل کرکے سیمنری جاؤں۔ لیکن ڈگری مکمل کرنے کے بعد سیمنری جانا ہے۔ تو میرے پاس ایک سال باقی تھا۔ اور اپنے جوش و خروش کی وجہ سے، میں نے اپنے تمام دوستوں کو گھسیٹنا شروع کردیا، ہر اس شخص کو جس سے ملا، مذہبی گفتگو میں لے آتا تھا، تاکہ میں سوچ سکوں کہ میں لوگوں کو بچانے کی مشق کیسے کر سکتا ہوں، ٹھیک ہے؟ پورے مشن کا مقصد یہ ہوتا کہ ان کو عیسائیت میں داخل کروں۔ میں ہمیشہ خدا پر ایمان رکھتا تھا، پہلے دن سے۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی یہ لمحہ نہیں دیکھا کہ، "ہمم، اگر خدا ہی نہ ہو تو کیا ہوگا؟" یہ سوال کبھی میرے دل میں نہیں آیا۔ میں بائبل پڑھ رہا تھا، اور حضرت یعقوب کے بارے میں ایک خاص آیت پڑھ رہا تھا، جہاں حضرت یعقوب کہتے ہیں، پہلی آیت جو میں نے پڑھی وہ یہ تھی، "کوئی انسان خدا کو دیکھ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔" اور میں سوچ رہا تھا، لیکن لوگ تو عیسیٰ کو خدا کہتے تھے، اور سب نے عیسیٰ کو دیکھا ہے، اور انہیں دیکھ کر کسی کی موت نہیں ہوئی۔ تو آیت یہ تھی، "کوئی انسان خدا کو دیکھ کر زندہ نہیں رہ سکتا۔" میں نے صفحہ پلٹا اور حضرت یعقوب کی ایک اور کہانی پڑھی۔ نہ صرف انہوں نے خدا کو دیکھا، بلکہ وہ خدا سے کشتی بھی کر رہا ہے۔ وہ ایک کشتی میں، خدا کی ران پکڑے ہوئے ہے اور خدا سے کہتا ہے، "میں تجھے اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک تُو مجھے برکت نہ دے دے۔" اچھا، ایک منٹ رکو۔ ابھی تو کہا کہ اگر کوئی خدا کو دیکھے، تو کوئی انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ تو پھر حضرت یعقوب کیسے زندہ بچ گئے تھے؟ اور خدا کی ایسی صورت کیوں ہے، جسے آسانی سے پکڑا جا سکے؟ اور وہ خدا، جو سب پر قادر ہے، وہ حضرت یعقوب سے چھوٹ کیوں نہیں سکتا؟ کہانی آگے بڑھتی ہے۔ تو میں نے کیا کیا؟ چودہ سالہ میں نے ہاتھ اٹھایا۔ پادری نے آکر کہا، "میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟" میں نے اسے وہ دو آیتیں دکھائیں، اور اس کا ردعمل یہ تھا، "ہمم، مجھے تو پتا بھی نہیں تھا کہ یہ بائبل میں ہے۔" اور میرا ردِعمل یہ تھا، "کیا؟ لیکن آپ تو بائبل کے پادری ہیں۔ آپ ہی تو ہیں جس نے ہمیں بائبل سکھانی ہے۔" اور میں نے 14 سالہ لڑکے کے طور پر، اس سے پوچھا، "کہ میں اسے کیسے درست کروں؟ میں اسے کیسے سمجھوں؟" میں نے خود کو دوسرے مذاہب کے بارے میں پڑھتے پایا۔ میں نے یہودیت کے بارے میں پڑھا، میں نے ہندوایزم کے بارے میں پڑھا، پانچ منٹ کے لیے۔ میں نے ایک کتاب پڑھی اور فوراً کہا، "یہ تو۔۔۔ نہیں، یہ ممکن نہیں۔" میں مانتا تھا، اگر خدا کا کوئی مذہب ہوتا، تو اس کے ثبوت ہوتے۔ وہ ثبوت ٹھوس، جسمانی اور ظاہر شدہ ہوتے۔ تو میں یہ تمام دوسرے مذاہب پوچھ رہا تھا: یہودیت، ہندومت، بدھ مت، تاؤ ازم، جو کچھ بھی ہو۔ ان سب کے پاس بھی متضاد معلومات ہی تھیں۔ تو، میرے شہر میں ایک اسلامی مرکز تھا۔ میں ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا۔ انہیں دیکھتا تھا۔ میں نے اس جگہ کو پہلے بھی دیکھا تھا۔ کئی کئی بار دیکھا تھا، صرف ایک بار نہیں۔ اگر میں یہاں بم رکھ دوں، تو کیا وہ اسے ڈھونڈ لیں گے؟ میں نہیں چاہتا تھا کہ ایسا ہو۔ تو پچھلی طرف میں نے اس کے لیے ایک اچھا مقام تلاش کیا۔ اور یہ آسان تھا کیونکہ اُس وقت ایک مشترک دشمن تھا: سب مسلمانوں سے نفرت کرتے تھے۔ اور تین سال کے دوران، میں نے یہی کیا۔ میں نے یہ چیز بنائی، بم۔ میں نے اپنا وقت لیا۔ میں ایک بڑا بیان دینا چاہتا تھا۔ اب، بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بہت سی سطحوں پر پاگل پن ہے کیونکہ، تم اس سے کیسے بچ کر نکلو گے؟ میں فرار ہونا نہیں چاہتا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ میں پکڑا جائوں گا۔ جانتا تھا کہ مجھ پر مقدمہ ہوگا اور وہ مجھے سزائے موت دیں گے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں تھا۔ مجھے اپنا پرچم لپٹا تابوت نہیں ملنے والا تھا، مگر میں مانتا تھا، بالآخر، یہی لوگ مجھے بہادر سمجھیں گے کیونکہ میں درست تھا۔ اور میری بیٹی نے مجھے اس مسلم بچے کے بارے میں بتایا جس کے ساتھ وہ اسکول میں پڑھتی تھی۔ اور میں غصے سے بھڑک اٹھا۔ تو میں نے سوچا، "میں نے اپنے خاندان کو مایوس کیا کیونکہ انہیں محفوظ نہیں رکھ سکا۔ میں اسکول میں انہیں مسلمانوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتا۔" یہی میری پوری سوچ تھی۔ میں پگلا گیا تھا۔ اور میری بیٹی، سات سال کی، مجھے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے، جیسے میں نے سب کچھ کھو دیا ہو۔ اور اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر ایسا لگتا تھا، جیسے وہ سوال کر رہی ہو کہ کیا وہ اب مجھے پیار کرتی ہے یا نہیں کیونکہ میں اتنا نسل پرست تھا، یا یوں کہوں، ان لوگوں کے خلاف بہت سخت تھا صرف اس لیے کہ وہ خاص انداز کے دکھتے تھے یا خاص کام کرتے تھے۔ بس یہی بات تھی۔ اس کے بعد، جب میرے منہ سے کچھ سخت الفاظ نکلیں اور یا انہیں نسل پرستانہ الفاظ کہیں، شاید اسے یہی کہنا سب سے درست ہے، تو میں اوپر اپنے بیڈروم میں چلا گیا۔ میں بستر پر بیٹھا اور تھوڑا رونے لگا۔ میں نے کہا، "بھائی، ثبوت تلاش کرنا پڑے گا۔ تمہیں معلوم ہے کہ تم درست ہو۔" میں خود پر یقین کرتا تھا کہ میں ٹھیک ہوں، کیونکہ وہ برے ہیں۔ ہمیں مارنا چاہتے ہیں وہ۔، رائٹ؟ اور، لیکن میرے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا جو اپنی بیٹی کو دکھاؤں۔ میرے پاس نہیں تھا۔ تو مجھے لانا ہوگا۔ میں کہاں سے لاؤں گا؟ مسجد سے۔ اور کہاں سے؟ اور میں وہاں گیا، میں ان سے ملا، اور میں نے خود کو ایسے متعارف کروایا کہ میں کوئی ہوں جو اسلام کے بارے میں جاننا چاہتا ہے۔ پورا جھوٹ تو نہیں تھا، مگر میں نے انہیں اپنی اصل نیت نہیں بتائی۔ تو، آپ جانتے ہیں، میں نے کئی لوگوں سے بات کی…

مجھے کئی لوگوں سے ملوایا گیا، وہ جمعہ کا دن تھا۔ میں جانتا تھا کہ وہ جمعہ کے دن وہاں ہوں گے۔ میں نے وہاں پہ خطبہ سنا، خطبہ رائٹ؟ اور میں نے کہا، " یہ اچھا لگ رہا ہے!" کیونکہ میں یہاں پر ہوں اسی لیے وہ ایسا کہہ رہے ہیں، مجھے پتہ ہے۔ شاید وہ لوگ، لوگوں کو تہہ خانہ میں پکڑ کے رکھے ہوتے ہیں پروپیگنڈہ ویڈیوز کے لیے میں جانتا تھا۔ یعنی، یہ وہ چیزیں تھیں جو میرے ذہن میں چل رہی تھیں، پھر انہوں نے مجھے ایک قرآن دیا۔ اور مجھے کہا گیا کہ اسے گھر لے جاؤ، پڑھو، جب سوال ہوں تو واپس آجاؤ۔ میں اس وقت بہت خوش تھا، کیونکہ میرے دماغ میں، یہ آیا جیسے مجھے ابھی برائی کا مقدس جام دے دیا گیا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ کوئی اسے میرے لیے سمجھائے۔ واہ۔ یہ جیک پاٹ سے بھی بہتر ہے۔ مجھے کبھی بھی ذہین آدمی نہیں کہا گیا۔ لیکن اچانک دماغ میں روشنی ہوئی۔ یقیناً، جن لوگوں سے میں نے اسلام کا تاثر لیا تھا وہ ایک برا نمونہ تھے۔ وہ اسلام نہیں تھا۔ یہ اسلام کے زیادہ قریب ہے۔ تو میں پڑھتا رہا، پڑھتا رہا۔ تو میری وہ نفرت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی۔ وہ بس مٹتی گئی۔ اور میں قرآن کی کچھ آیات تک پہنچا، جیسے کہ،آپ جانتے ہیں؟ اللہ نے ہمیں مختلف قوموں اور قبیلوں میں بنایا تاکہ ہم ایک دوسرے سے سیکھیں، نہ کہ نفرت کریں۔ اوہ، اچھا، میں یہ بات یہاں دیکھ سکتا ہوں کیونکہ یہ شخص مقامی حکومت میں شامل ہے اور روٹری کلب اور باقی اداروں میں بھی۔ اوہ، اچھا، میں سمجھ گیا۔ تو سب کچھ ایسے ہی چلنے لگا۔ اور میں نے اسے پڑھا اور بس…

اس کی زبان، قرآن کا انداز میرے لیے بالکل انوکھا تھا۔ اور میں نے سوچا، جس طرح یہ کتاب لکھی گئی ہے، با کمال ہے۔ تو پھر میں قرآن پڑھتا رہا، پڑھتا رہا، اور پھر، تیسرے دن، میں واقعی قرآن میں کھو گیا۔ جیسے کہ میں اسے گھنٹوں پڑھنے کے لئے پُرعزم تھا۔ پھر ہوا کچھ یوں کہ میرے سیل میٹ نے کہا، "بات سنو اوہ بھائی ، رات کا کھانا نہیں کھاؤ گے؟" میں نے کہا، "رات کا؟" میں نے قرآن سے نظر اٹھائی۔ اور کہا، "کھانا؟" پھر وہ بولا، "ہاں، تم ناشتے سے ہی وہ کتاب پڑھ رہے ہو۔ کیا تم کھانے والے ہو یا نہیں؟" میں نے کہا، "ہاں، شاید کھانا چاہیے۔" میں نے قرآن بند کیا اور چلا گیا۔ اور میں نے سوچا اُف، "میں واقعی اس کتاب میں دھس گیا ہوں۔ کیوں؟ کیوں؟" قرآن کے معجزات لامحدود ہیں۔ کوئی ایک سب سے بڑا معجزہ نہیں ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں قرآن کی زبان کے معجزے بارے میں بات کررہا ہوں، لیکن نہیں، زبان ان میں سے صرف ایک ہے۔ اور ایک ماہرِ نفسیات کے لیے کسی آیت میں نفس کا ذکر اس کا معجزہ ہوتا ہے۔ جیولوجسٹ کے لیے کچھ اور، مؤرخ کے لیے کچھ اور۔ سوشیالوجسٹ کے لیے کچھ اور، فلسفی کے لیے کچھ اور۔ وہ ان کے لیے معجزہ ہوتا ہے۔ لسانیات کے ماہر کے لیے کچھ اور۔ موازنہ ادیان کے ماہر کے لیے کچھ اور۔ قران کے معجزات اصل میں اس پر منحصر کرتے ہیں کہ کون ان کے پاس آتا ہے دیکھیں، یہ قرآن کے معجزے کا سب سے عجیب پہلو ہے کہ۔ یہ صرف ایک لاٹھی نہیں جو سانپ میں بن گئی ہو، ٹھیک؟ بلکہ ہر انسان کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنا معجزہ اس کتاب میں پائے۔۔ یہ سچ کیسے ہو سکتا ہے؟ اور میں نے اپنے آپ سے ہی کہا، "پلیز، خدا، پلیز۔ یہ ہرگز سچ نہ ہو۔ سب کچھ چلے گا مگر اسلام نہیں۔ کچھ اور چن لو، مگر اسلام نہیں۔" یہی سچ کیوں ہونا تھا؟ ہاں۔ کیونکہ میں نے کہا، "نہیں۔ میں اس مذہب کی پیروی کیسے کر سکتا ہوں؟" میں جانتا تھا کہ مغرب میں اسلام کی تصویر کیسی ہے۔ اور میں نے اپنے آپ سے کہا، "اگر میں اپنے والدین اور اپنے دوستوں کو بتاؤں، اگر میں کسی کو بھی کہوں کہ میں مسلمان ہوں، ناممکن ہے۔" تو اسی لیے میں اسلام پر فوراً قائل ہوگیا، آسانی سے مگر اسلام کی بُری ساکھ کی وجہ سے مجھے ہچکچاہٹ ہوئی۔ میں جمعہ کے دن اسلامی مرکز واپس گیا اور دو افراد سے ملا، وہی دو افراد جن سے میری پہلے ملاقات ہوئی تھی، اب ان کے ساتھ کچھ تعلق سا بن گیا تھا۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا، "میں ایمان لانا چاہتا ہوں۔" سچی کہانی ہے۔ وہ دونوں ساتھ ساتھ کھڑے تھے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، پھر میری طرف دیکھا، اور دونوں نے ایک ساتھ کہا، "نہیں۔" سچی بات ہے۔ اوہ میرے خدا۔ میں حیران رہ گیا۔ میں نے کہا، "کیا مطلب ہے آپ کا کہ نہیں؟" انہوں نے کہا، "بھائی، ابھی تمہیں اور سیکھنا ہے۔" پھر وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، پھر مجھے دیکھتے ہیں۔ "اچھا، چلو۔" سچی بات ہے۔ وہ کافی اچھا لمحہ تھا۔ جب ہم اس سے گزر رہے تھے یونو، تو ہم نے انگریزی میں پڑھا، اور پھر ہم نے عربی میں پڑھا۔ اور پھر اسی دن، جمعہ کو، 1991 میں، میں نے پڑھا، (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں)." اور میں مسلمان ہو گیا۔ میں اپنے حجام کے پاس جا رہا تھا۔ مجھے یاد ہے میں حجام کی دکان پر تھا۔ اور میں نے کہا ، "سنو، یہ آذان کا وقت ہے نا؟ ابھی ظہر کا وقت ہوگیا ہے، سہی کہا نا میں نے؟" اس نے کہا، "ہاں، مگر…" وہ بولا، "کیا تم مسلمان ہوچکے ہو؟" میں نے کہا، "نہیں، مگر میں پانچ نمازیں پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں کیونکہ مجھے اس سے سکون ملتا ہے اور میں قریب محسوس کرتا ہوں،" میں نے کہا۔ "میں بہت قریب آچکا ہوں۔" پھر اس نے مجھ سے کچھ پوچھا ایسی بات جس کی شاید مجھے اس وقت اشد ضرورت تھی۔ اس نے کہا، "اگر تم کل مر جاؤ تو پھر؟ یا پھر اگر آج ہی مر جاؤ تو؟ کیا تم بحیثیت مسلمان مرو گے؟ یا پھر ایک کافر کی موت مرنا چاہو گے؟" اور، سبحان اللہ، اسی بات نے مجھے سوچ میں ڈال دیا۔ اور مجھے اس وقت اس بات کا کوئی جواب نہیں سوجا، مگر حجام کی دوکان سے، واپسی گھر جاتے ہوئے ، میں خود سے یہ سوال پوچھ رہا تھا، "ہاں، میں کب مرجائوں گا؟ میں کیسے مروں گا؟ میں کہاں جاؤں؟" میرا مطلب ہے، کبھی کبھی موت سب سے بڑی یاد دہانی ہوتی ہے۔ اور مجھے یاد ہے، راستے میں گھر جاتے ہوئے میں نے اپنے دوستوں کو فون کیا ، "کل، میں کلمہ پڑھنا چاہتا ہوں۔ اسلام قبول کروں گا۔" "مجھے یقین ہو چکا ہے۔" جب میں ایمان لے آیا تو یہ میری دس مہینے کی محنت اور لگن تھی۔ ایک اندرونی کشمکش تھی، اندرونی جدوجہد، یہ جانتے ہوئے کہ یہ سچ ہے، لیکن کبھی کبھی میں بہانے ڈھونڈتا کہ اسے قبول نہ کروں۔ دس مہینے تک۔ یہ ایسا تھا جیسے، دس ماہ تک خود سے جنگ لڑرہا تھا میں۔ اور اچانک وہ جنگ ختم ہو گئی۔ اور جیسے ہر جنگ میں، خوشی ہوتی ہے کہ ختم ہو گئی۔ لیکن یہاں، ایسا محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ تم ہارے ہو۔ بلکہ ایسا لگ رہا تھا کہ تم جیتے ہو۔ میرا دل یہی محسوس کررہا تھا۔ یہ بالکل صحیح فیصلہ تھا۔ میں نے خود سے سوال کیا، "ایمان لانے میں اتنا وقت کیوں لگا دیا؟ " میں ایک دکان پر کام کرتا اور جب نماز کا وقت ہوتا، تو میں دوڑ کر نیچے جاتا، جوتوں کے گودام میں، جلدی سے نماز پڑھتا اور واپس آجاتا۔ عصر کے وقت، پھر جاتا، آجاتا، پھر بار بار یہی ہوتا۔ میں نے نماز باقاعدگی سے پڑھنا شروع کی۔ میرے ساتھی سب ہسپانوی تھے، وہ مجھے نومان نہیں، علی کہتے تھے۔ "کہتے تھے او علی تم کیا کر رہے ہو؟ اتنے عجیب کیوں ہو گئے ہو؟ میری طرف کیوں نہیں دیکھتے ہو؟" پھر میں نے بتایا، " نماز پڑھ رہا ہوں۔" "او بھائی، تم خدا سے بات کر رہے ہو؟ کیا تم اسے کہہ سکتے ہو کہ پروموشن کروا دے؟ میری تنخواہ بڑھنی چاہیے۔" اس کے بعد پھر وہ مجھ سے سوالات کرنے لگے لیکن مجھے تو اسلام کے بارے میں کچھ نہیں پتا تھا۔ مگر میرے دوست یعنی کہ ڈومینیکن، پورٹو ریکن، کیوبن دوست محلے میں، ساتھی ملازم کہتے تھے، "تو مطلب…

کیا میں جہنم جا رہا ہوں؟ کیا میں…؟" میں نے کہا، "مجھے نہیں پتا۔" پھر وہ بولا، "سنو، تم سور تو نہیں کھا سکتے نا؟" میں تو ابھی کھا رہا ہوں۔ تمہیں کیسا لگ رہا ہے؟" وہ ایسے ہی باتیں کرتے تھے۔ بہت مزے کی باتیں۔ اسی کے ساتھ ایک مزے کی بات بھی ہے، کیونکہ جب میں نے شہادت لی، تب بھی میں نے اپنی بیوی کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ اسے معلوم تھا میں مسجد جا رہا ہوں، لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ کیوں۔ اور پھر میں وہاں گیا اور ایمان لے آیا۔ گھر آیا اور صوفے پر ایسے بیٹھا جیسے یونو۔ میں نے کہا، "ہاں، ابھی تو کام سے واپس آیا ہوں"، بس وہی ایک جملہ تھا، رائٹ؟ اور وہ کہتی ہے، "کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا؟" وہ فکرمند تھی میں کچھ عجیب نہ کر بیٹھوں۔ اسے کچھ اندازہ نہیں تھا۔ میں نے کہا، "نہیں، سب بہت اچھا ہے۔" اس نے کہا، " ٹھیک ہے، اوکے۔" میں نے اسے دیکھا اور کہا، "میں مسلمان ہوں۔" یہ بھی ایک سچی بات ہے، مزاحیا ہے لیکن بالکل سچ ہے۔ تو پھر اس نے کہا، "کیا؟" میں نے کہا، "ہاں، میں ایمان لے آیا۔" اس نے کہا، "کیا لے آئے؟" تو میرے اسلام کے ابتدائی علم میں، میں نے اسے سمجھانے کی پوری کوشش کی، رائٹ؟ بپٹزم کی مثال دے کر۔ اوکے۔ اور وہ بس کھڑی تھی، سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی۔ پھر اس نے کہا، "میں تمہیں ابھی ایک بات بتا دوں، میں اپنے سر پر کچھ نہیں ڈالوں گی۔" میں نے کہا، "ٹھیک ہے، تم مسلمان نہیں ہو، میں نے سوچا ہی نہیں کہ یہ کوئی بات چیت کا موضوع ہے۔ ٹھیک ہے۔" پھر کچھ دیر بعد وہ واپس آکر کہتی ہے، "سنو، اگر تمہیں ایک سے زیادہ بیویاں چاہئیں، تو میں اُن میں سے ایک نہیں ہوں گی۔" میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا، کہ یہ والی بھی چاہیے یا نہیں۔" تو، پھر وہ بھی ایمان لے آئی۔ ہم یونیورسٹی سے نکل آئے۔ میں اب بھی حیران تھا، لیکن مجھے مذاق پسند ہے۔ مجھے مذاق کرنا اچھا لگتا ہے۔ تو میں ڈرائیو کرتے ہوئے اسے دیکھ رہا ہوں اور کہتا ہوں، "تو تم اب مسلم ہو…

اس لئے اب میں ایک سے زیادہ بیویاں…" وہ غصے سے بالکل لال ہوگئ تھی۔ پھر اس نے مجھے غصے سے کہا، "مجھ سے گاڑی مت روکوانا!" میں نے کہا، " ڈرائیو میں کر رہا ہوں!

گاڑی تم نہیں میں روک سکتا ہوں!" اس نے کہا، "میں روک لوں گی۔" میں نے کہا، " جیسا تم کہو۔" میری موجودہ بیوی، جو 34 سال سے میرے ساتھ ہے، اس وقت کالج میں تھی، ہم شادی شدہ نہیں تھے۔ ہم گریجویشن کے بعد شادی کرنے والے تھے لیکن ہم تین سال سے ساتھ تھے۔ ہم منگنی کر چکے تھے، شادی کی تاریخ بھی طے تھی۔ میں دماغی طور پے اسلام پر ریسرچ کر رہا تھا۔ اور اسے لگ رہا تھا کہ میں بیپٹسٹ پادری بنوں گا۔ لیکن میں تو مسلمان ہونے والا تھا، آل رائٹ؟ لیکن میں کسی سے بات نہیں کر رہا تھا۔ میں بس اندر ہی اندر یہ سب کر رہا تھا۔ پھر جب میں مسجد گیا، شہادت لی اور گھر واپس آیا، اور کہا، " تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔" اس نے کہا، "کیا؟" "میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں ہے۔" بلکہ میں شہادت لے کر مسلمان ہو چکا ہوں۔ اُس کا چہرہ مجھے دیکھ رہا تھا، پھر اس نے کہا "ہائے!" کیا؟" "تم نے کیا کیا؟" میں نے کہا، "میں مسلمان ہو گیا ہوں۔" اس نے کہا، "تم نے ایسا کیوں کیا..." اور وہ چیخنے چلانے لگی۔ ناراض ہوگئی۔ کہنے لگی، "مجھے سمجھ نہیں آ رہا...

یہ سب کہاں سے آیا؟" "میں نہیں کرنے والی..." اور اُس نے ایک لمبی لسٹ بنانی شروع کر دی کہ وہ یہ کھبی نہیں کرے گی۔ میں نے کہا، "آرام سے رہو۔ بس میرے لیے خوش ہو جاؤ۔ تم بھلے کچھ بھی کرتی رہو، رائٹ؟ یہ میرے لیے ہے۔" پھر وہ پُرسکون ہوگئی۔ پھر میں نے ایک کتاب اُٹھائی، حلال اور حرام، ٹھیک ہے؟ تو میں پڑھ رہا تھا اور مجھے جلد پتہ چل گیا کہ مسلمان سود کا لین دین نہیں کرتے۔ اور میں فائنانس کی ڈگری کے ساتھ گریجویٹ ہوا تھا۔ میں انٹرسٹ ریٹس میں اسپیشلائز کرتا تھا، کہ پیسے سے پیسہ کیسے بنایا جائے۔ اور اب میں بیپٹسٹ منسٹر بھی نہیں رہنے والا تھا۔ تو میں نے سوچا، "ٹھیک ہے، اب میں کیا کرنے والا ہوں؟" پھر میں نے دیکھنا شروع کیا کہ جو بھی نوکری مل سکے۔ اور مجھے ایک ٹرکنگ سیلز ریپ کی جاب مل گئی۔ تو میرا کام تھا بزنسز سے کہنا، "ہمارے ٹرک لائنز استعمال کرے سامان بھیجنے کے لیے" اور بس آمدنی کے لیے وہ کام شروع کیا۔ حلال اور حرام والی کتاب میں یہ بھی لکھا تھا کہ "مسلمان سور کا گوشت نہیں کھاتے۔" تو میں نے اپنی بیوی سے کہا، "میں نے کچھ سیکھا۔" اس نے کہا، "کیا؟" میں نے کہا، "مسلمان سور نہیں کھاتے۔" "تو جب بھی اس سے کھانا بناؤ مجھے مت دینا میں نہیں کھائوں گا" اس نے کہا، "کیا یہ آخر تمہیں کیا ہوگیا..." مایوسی سے دیکھا اور ناراض بھی ہوئی۔ اور جیسا میں کسی فرقے میں شامل ہوگیا ہوں، وہ ایسا ہی سوچنےلگی۔ اور اس نے کہا، "میں یہ سب نہیں کرنے والی،" اور بتاتی گئی کہ وہ کیا نہیں کرے گی۔ میں نے کہا، "تم میری طرف سے اپنی فکر مت کرو۔ بس مجھے خوش رہنے دو۔" میں نے آگے کے چند صفحات پڑھے تو لکھا تھا کہ مسلمان مرد سونا نہیں پہنتے۔ میں منگنی میں ملی سونے کی انگوٹھی پہنا ہوا تھا۔ میں اُس کے پاس گیا اور کہا، "کیا ہم یہ انگوٹھی بدل کر چاندی کی لے سکتے ہیں؟" اس نے اپنی منگنی کی انگوٹھی اُتاری اور کمرے کے اُس پار پھینک دی۔ وہ بہت غصہ ہوئی، پھرپُرسکون ہوگئی، اس نےکہا، نہیں کبھی نہیں..." میں نے کہا، "چلو ٹھیک ہے، اوکے۔ مختصر یہ کہ آخر میں ہم نے...

میں نے اُسے منایا کہ مسجد چلتے ہیں اور اسلام کے مطابق نکاح کرتے ہیں۔ اور پھر میں چرچ گیا اور وہ شادی بھی پوری کی جو ہم نے پہلے پلان کی تھی۔ یعنی دو شادیاں ہوئیں۔ لیکن وہ مجھے برداشت کر رہی تھی۔ وہ مجھے پسند کرتی تھی، مگر اُس کے خیال میں میں جو کچھ کر رہا تھا وہ عجیب تھا۔ میں کچھ اور حلقوں (اسلامی تعلیم کے اجتماعات)گیا، اور ایک دن جب گھر آیا تو اس نے کہا، "کہ میں تیار ہوں۔" میں نے کہا، "کس کے لیے؟" "مسلمان ہونے کے لیے۔ لیکن میں یہ نہیں کرنے والی..." اور اُس نے ایک فہرست دی کہ وہ کیا کیا نہیں کرے گی۔ میں نے کہا، "ارے، یہ تو میرے حق میں ہے۔ ٹھیک ہے، تم مسلمان ہونا چاہتی ہو..." وہ مسلمان ہوگئی۔ مختصر یہ کہ اُس نے جو بھی کہا تھا کہ کبھی نہیں کرے گی، آج وہ سب کرتی ہے۔ میں نے اپنے والد کو کال کی، جیسے میں ہمیشہ کرتا تھا، اور اُنہیں بتایا کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں۔ اور میرے والد بہت بڑے عیسائی اور بہت سخت طبیعت کے حامل تھے۔ اور انہوں نے کہا، "تم نے کیا کیا؟" میں نے کہا، "میں مسلمان ہوگیا ہوں۔" "تم چاند کے خدا کی پوجا کرتے ہو؟" اور میں نے کہا، "نہیں، میں کسی چاند کے خدا یا چاند کی عبادت نہیں کرتا، میں ایک اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ عیسیٰؑ کے خدا کی، موسیٰؑ اور ابراہیمؑ کے خدا کی۔" تو انہوں نے کہا، "نہیں، تم ایسا نہیں کرسکتے نہیں۔ نہیں، بالکل نہیں…" "سنو، تم اس اسلام میں پڑ گئے ہو،" اور انہوں نے ایک بہت بری گالی دی۔ اور انہوں نے مجھے ایک الٹی میٹم دیا۔ انہوں نے کہا، "دیکھو، تمہاری چھ ہندسوں کی آمدنی ہے؟" "تمہاری چھ ہندسوں کی وراثت بھی ہے؟ یہ سب ختم ہو جائے گا۔" جو چیزیں تمہیں میرے بعد ملنی تھیں، وہ سب ختم۔" میرا خاندان پیٹرولیم انڈسٹری میں ہے، اس لیے بہت خوشحال ہے۔ اور میں نے کہا، "کیا آپ مجھے بے دخل کرنے جا رہے ہیں؟" انہوں نے کہا، "اگر آج کے بعد تم اسلام پر اصرار کرو گے،، تو تم میرے لیے مر جاؤ گے۔" تمہاری ساری وراثت ختم ہوجائے گی۔" انہوں نے کہا، "بیٹے، مجھے آزمانا مت۔ میں کل اپنے وکیل کے پاس جاؤں گا اور وصیت بدل دوں گا، اور تم بالکل بے بس رہ جاؤ گے۔" تمہارے پاس کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں رہے گا، اور میری طرف سے تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔ تم میرے لیے مرگئے ہو، اور اپنے بہن بھائیوں کے لیے بھی مرگئے ہو۔ سب ختم۔ تو ابھی جو بھی کہنا ہے احتیاط سے کہو۔ کیا اب تم اسلام چھوڑو گے یا پھر تم اس جعلی مذہب میں رہو گے؟" میں نے کہا، "جواب دینے سے پہلے، مجھے کچھ بتانے دیں۔" میں آپ کی ہر بات مانے کو تیار ہوں سوائے اس ایک بات کے۔" انہوں نے کہا، "کیوں؟ میری آنکھوں کے سامنے مرنے سے پہلے مجھے سمجھاؤ۔" میں نے کہا، "پاپا، مجھے اپنا فیصلہ خود کرنا ہوگا۔ چھ ہندسوں کی وراثت سے زیادہ بھی کچھ ہے۔" جائیداد سے بڑھ کر بھی کچھ ہے میرے لئے۔ اس زندگی کے بعد بھی کچھ ہے۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے، اس زندگی کی۔" لہٰذا نجات کے معاملے میں، آپ اپنی دولت رکھیں مجھے نہیں چاہئے۔" اسے میرے بہن بھائیوں کو دے دیں، یا چیریٹی کو دے دیں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔" میں اصرار کرتا ہوں کہ میں مسلمان بنوں اور مسلمان ہی رہوں۔" اور آج میں یہاں ہوں، 32 سال بعد، مسلمان ہوں۔ الحمد للہ۔ تو اس کے بعد میں نے مسلمان بننے اور مسلمان رہنے پر اصرار کیا۔ اور تقریباً دو ہفتے کے بعد مجھے ایک خط ملا۔ انہوں نے ویسا ہی کیا جیسا انہوں نے کہا تھا۔ وہ اپنے وکیل کے پاس گئے تھے۔ جس رقم کی مجھے وراثت ملنی تھی وہ $600,000 تھی۔ اور وہ بھی ابتدائی نائنٹس کا دور تھا۔ اس لیے یہ ایک قابلِ ذکر رقم تھی۔ تو میں اس پر قیمت کیوں لگاتا؟ مجھے فرق نہیں پڑتا کہ $600 ملین ہو۔" دیکھیں،آپ، میں سب، دو گز کی قبر میں ہی دفنائے جائیں گے ۔ اور ہم سب کے سب اللہ کے سامنے ہی حاضر ہوں گے، وہ واحد، برحق ہے۔ اور ہم سے یہ پوچھا جائے گا، کہ ہم نے زندگی میں کیا کیا۔ تو میرے دادا کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ وہ ہسپتال میں تھے، اور میں پنساکولا، فلوریڈا سے واپس آیا تھا، جہاں میں رہتا تھا، تاکہ ان کے ساتھ رہ سکوں۔ ہسپتالوں میں ایک ویٹنگ روم ہوتا ہے اور وہاں ایک ٹیلیفون ہوتا ہے، ہمیشہ کوئی نہ کوئی اس کے قریب بیٹھا ہوتا ہے، جو سب خاندان والوں کے لیے جواب دیتا ہے جن کے مریض آپریشن میں ہوتے ہیں۔ تو میں وہاں بیٹھا تھا، تو میرے اسلامی بھائیوں کو یہ پتہ تھا کہ میرے دادا بیمار ہیں۔ وہاں ایک سعودی بھائی تھے، ان کا نام محمد العتیبی تھا، وہ بیٹھے تھے، اور فون بجا، اور میری خالہ، جو ہمارے خاندان میں سب سے بلند آواز والی ہیں، ان کی آواز میلوں تک جاتی ہے۔ فون بجا اور انہوں نے فون اٹھایا۔ مجھے بات چیت کا علم نہیں تھا۔ میں بس سوچ رہا تھا کہ اس نے کہا ہوگا کہ، "کیا ہارون وہاں ہے؟" اور پھر میری خالہ بولیں، "ہارون!

ہارون!

کیا یہاں کوئی ہارون ہے یا ہارون کی فیملی؟" اور میں بس اپنی کرسی میں دبک گیا۔ اور پھر محمد نے کہا، "اوہ ٹھہرو۔ کارلی؟ کارلی؟ کیا ۔۔ کیا وہاں کارلی ہے؟" اور پھر میری خالہ کو تجسس ہوا۔ وہ حیران ہو گئیں۔ پھر میں نے فون سنا، "ہاں؟ کارلی؟ اسلام؟" "تو، اسلام؟" "ہہ۔" وہ ایسا کرتی ہیں اور فون مجھے دے دیتی ہیں اور میں کہتا ہوں، "جی، ہیلو۔ وعلیکم السلام۔ ہاں۔ ٹھیک ہے۔ مجھے جانا ہے۔ خدا حافظ۔" تو اس وقت، میرے پورے خاندان کو ایک ہی وقت میں سب پتہ چل گیا۔ سب جان گئے۔ اور ان سب کا ردِعمل صرف یہی تھا، "ہہ۔" یعنی بہت ہی سادہ سا۔ کیا کبھی کوئی غیرمعمولی واقعہ ہوا ہے جس میں آپ نے محسوس کیا ہو کہ آپ کا اللہ سے خاص تعلق ہے؟ جب میں جیل سے باہر آیا، تو ایک شرط یہ تھی کہ میرے پاس نوکری ہو۔ اگر میری کسی حرکت پر مجھے فائر کیا جاتا، تو وہ میری پروبیشن کی خلاف ورزی سمجھی جاتی۔ اور پھر مجھے واپس دو سال کے لئے جیل بھیج دیا جاتا۔ تو جب میں جیل سے نکلا، میں نے تعمیرات کا کام ڈھونڈ لیا۔ پہلا جمعہ جو آیا، میں نے باس سے کہا کہ جب سب لوگ لنچ کریں گے، کیونکہ ہمارے پاس ایک گھنٹے کا لنچ بریک تھا، تو میں نے کہا، "میں، لنچ کے بجائے، باہر جانا چاہتا ہوں..." تقریباً تین میل دور۔ " جمعے کی نماز کے لیے۔ وہ جانتے تھے میں مسلمان ہوں۔ انہوں نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ میں نے کہا، "جمعے کی نماز کے لیے جاؤں گا۔" اس نے کہا، "تم باہر نہیں جا سکتے ۔" میں نے اس سے کہا، "کہ میں اجازت نہیں مانگ رہا۔ بلکہ بتا رہا ہوں کہ میں نماز کے لئے باہر جائوں گا۔" اس نے کہا، "اگر تم باہر گئے، تو میں تمہیں نکال دوں گا۔ اور زمہ دار تم خود ہوگے۔" تو میرے پاس دو راستے تھے: کہ نوکری پر رہوں اور اللہ کے حکم کی نافرمانی کروں، یا جمعہ پڑھنے جاؤں۔ اور پتہ ہے میں نے کہا ؟ میں نے دین سیکھنے کے لیے چار سال جیل میں گزارے تاکہ صحیح کام کر سکوں۔ تو میں صحیح کام کروں گا۔" نکل گیا وہاں سے۔ کہا، "ٹھیک ہے، نوکری رکھ لو۔ میں جا رہا ہوں۔" پھر میں جمعہ پڑھنے گیا اور بہت دعا کی۔ جمعہ کے دوران میں نے کہا، "یا اللہ، میں یہاں صرف تیری اطاعت کے لیے آیا ہوں، تو میری مدد فرما۔" جمعہ کے بعد ایک نوجوان میرے پاس آیا۔ اس نے کہا، "بھائی ، کیا آپ کے پاس نوکری ہے؟" میں نے کہا، "ہاں،، آج تک تھی۔ میں نے آج ہی کام چھوڑ دیا ہے یہاں آنے کے لیے نوکری کو خیر باد کہہ دیا۔" اس نے کہا، "میرے والد" جو کہ امام ہیں، "انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ اس پیزا شاپ پر کام کرنا پسند کریں گے؟" میں نے کہا، "بالکل کیوں نہیں۔" تو انہوں نے مجھے نوکری دے دی، میں اسی دن شروع کردی۔ پیسے بھی اس سے ڈبل تھے جو میں کنسٹرکشن سائٹ پر کما رہا تھا۔ نوکری چھوڑدی دوسری نوکری بھی مل گئی، بس دو گھنٹے میں۔ جب آپ اللہ کے لیے کوئی کام کرتے ہیں، "تو وہ دروازے کھول دیتا ہے۔" وہ آپ کے لیے راستہ بنا دیتا ہے۔ صحیح کام کرنا کبھی کبھی ڈراؤنا ہوتا ہے، لیکن وہ رات میری زندگی کی سب سے خوبصورت راتوں میں سے ایک تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی سب سے بہترین صفت، جو آپ کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے، وہ کیا ہے؟ ان کی رحمت، خاص طور پر وہ وقت جب وہ طائف سے واپس آ رہے تھے۔ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے گئے تھے، لیکن ان پر پتھر برسائے گئے۔ ان کے خلاف بدسلوکی کی گئی۔ پھر جب پہاڑوں کے فرشتے نے پیشکش کی کہ کیا ان لوگوں کو میں کچل دوں، تو آپ ﷺ نے کہا، سبحان اللہ، "ایسا نہ کرو۔ شاید ان کے بعد آنے والی نسلیں ایک اللہ پر ایمان لے آئیں۔" یہی چیز مجھے متاثر کرتی ہے۔ نبیِ کریم ﷺ کی سب سے زیادہ متاثر کن صفت ان کی رحمت تھی۔ جب میں نے یہ تمام واقعات پڑھے کہ لوگوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا، پھر ان کے خلاف جنگ کی، کئی لڑائیاں ہوئیں۔ اور پھر جب وہ مکہ واپس آئے تو فتح کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ اور میں نے اس کا موازنہ تاریخ کی دوسری مثالوں کے ساتھ کیا۔ جب کوئی شخص اس طرح کے سلوک کا شکار ہو، اور واپس فتحیاب ہوکر آئے، تو وہ عام طور پر وہ دشمنوں سے کیسا سلوک کرتا ہے؟ نبیِ پاک ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور لوگ ان کے اردگرد جمع ہوگئے۔ انہوں نے پوچھا، "تم کیا سمجھتے ہو میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا؟" انہوں نے کہا، "ہم آپ کو جانتے ہیں، ہم آپ سے بھلائی کی توقع رکھتے ہیں۔" اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا، "ٹھیک ہے، جاؤ، تم سب آزاد ہو۔" یہ سب انسان کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ اگر کبھی ہماری زندگی میں جب ہم پر گلی میں حملہ ہو، چاہے زبانی یا جسمانی، ہم فوراً بدلہ لینا چاہتے ہیں، یہ فطری ردعمل ہے۔ لیکن باربار، باربار، باربار برداشت کرنا اور صرف پیغام کے لیے صبر کرنا، کیونکہ وہ تمام انسانوں کے لیے مثال تھے، انہوں نے اپنی انا کو حاوی نہیں کیا۔ ہم کرتیں ہیں یہ۔ میں اسلام کی مثال نہیں ہوں، میں تو بس ایک عام مسلمان ہوں۔ ان کی وہ صلاحیت کہ اتنی مختلف شخصیات کو متاثر کیا۔ جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ہم انہیں ایک گروہ سمجھتے ہیں، لیکن وہ مختلف تھے۔ کچھ لوگ بہت ہی جذباتی اور فطری لیڈر تھے۔ کچھ لوگ محتاط اور خاموش تھے۔ کچھ لوگ ملنسار تھے، کچھ تنہا پسند۔ کچھ لوگ ذہین اور علمی تھے، کچھ جذباتی تھے۔ ہر طرح کی شخصیت تھی۔ اور پھر بھی، انہوں نے نہ صرف سب کو متاثر کیا، بلکہ سب کو آپس میں جوڑ دیا، وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے۔ یہ کیسے ممکن ہوا؟ یہ رسول اللہ ﷺ کی سب سے حیرت انگیز چیزوں میں سے ایک ہے۔ کہ آپ ﷺ نے لوگوں کے درمیان ایسا رشتہ بنایا جس نے پوری دنیا بدل دی۔ ان کی زندگی کے متعلق پڑھ کر یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ وہ ایک ایسے شخص تھے جن پر کوئی بھی الزام نہیں لگایا جا سکتا تھا، وہ ہمیشہ صحیح کام ہی سر انجام دیتے تھے۔ یہی سب سے اہم بات تھی۔ میں ہمیشہ سے ایک پرفیکشنسٹ رہا ہوں، اورہمیشہ صحیح کام کرنا چاہتا ہوں۔ اور میں جب غلطی کر بیٹھتا ہوں تو بہت دکھی ہوتا ہوں۔ اور اس لیے ایسے عظیم انسان کی باریکیاں جاننا، ایک ایک لمحے کی تفصیل پڑھنا، یہ جاننا کہ بہترین انسان کیسے بننا ہے۔ میرے لیے یہی شفا کا ذریعہ تھا۔ ان کے حالات کو پڑھ کر مجھے راستہ ملا کہ بہترین انسان کیسے بن سکتا ہوں۔ اور جب میں ان کے بارے میں یہ سب روایات پڑھتا ہوں، ان کی کہانیاں سنتا ہوں، اور ان کو جانتا ہوں، تو ان کی پوری زندگی میرے لیے شفا ہے۔ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے؟ دو بار۔ واقعی؟ الحمدللہ۔ میں صحرا میں تھا۔ اور میں نے بہت دور سےدیکھا…

انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا، "میں چاہتا ہوں تم دوسروں سے ملو۔" پھر وہ بیٹھ گئے، اور میں ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ اور پھر انہوں نے کہا، "یہ دیکھو یہ ابو بکر صدیق ہیں۔" پھر کہا، "یہاں عمر بن خطاب ہیں، اور یہ ہین عثمان بن عفان ، اور یہ ہیں علی بن ابی طالب۔ یہ سب تم سے محبت کرتے ہیں۔" اور میں نے خواب میں سوچا، "ایسا کیوں ہے؟ میں تو کچھ بھی نہیں، مجھ سے محبت کیوں کرتے ہیں۔" لیکن الحمدللہ، یہ میری زندگی کے بہترین خوابوں میں سے ایک تھا۔ اور میں، میں محبت کرتا ہوں یا رسول اللہ ﷺ۔۔ اگر آپ کو موقع ملے کہ دنیا کے تمام غیر مسلموں سے بات کریں، تو آپ ان سے چند لمحوں میں کیا کہنا چاہیں گے؟ دنیا کے تمام غیر مسلموں کو کچھ کہنے کے لیے۔ میں قرآن کی ایک آیت پیش کروں گا: "کیا تم سمجھتے ہو ہم نے تمہیں صرف کھیل اور تفریح کے لیے پیدا کیا ہے، اور تم ہماری طرف واپس نہیں لائے جاؤ گے؟" اگر تم اپنے دل کے اندر جھانکو تو یقیناً تمہیں معلوم ہوگا کہ ایک ہی خدا ہے۔ اور وہ یہ کائنات یوں ہی نہیں بنا سکتا تھا۔ اس کے پیچھے کوئی مقصد ضرور ہے۔ جاؤ اور تلاش کرو کہ اس کائنات کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے۔