Muslim Said Such A Thing That.. And He Converted To Islam!
تاریخ اشاعت
آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ میرا عقیدہ کسی حد تک ڈی-اِزم پر مبنی ہے۔ میں نے تین مہینے صوفیانہ نظام کی مشق کی اور دن میں پانچ وقت کی نماز ادا کی، کبھی کبھی میں نماز پڑھنے اور خدا کا شکر ادا کرنے کے لیے کمرے سے باہر نہیں نکلتا تھا، لیکن کچھ اچھا نہیں ہوا۔ سب کچھ صرف خراب ہو گیا۔ لوگوں کی تقدیر پہلے سے ہی لکھی ہوتی ہے۔ خداتین سالہ بچی کی عصمت دری کا ایساانجام کیوں لکھے گا؟ اور وہ عصمت دری کرنے والے کی ایسی تقدیر کیوں لکھتا ہے؟ میں خالق کو موردِالزام ٹھہراتا ہوں کیونکہ اگر ضروری ہو تو خدا کوہر کسی کی مرضی کو محدود کرنا چاہیے، لیکن کسی قسم کی برائی نہیں ہونی چاہیے۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں اس کے انصاف کا احترام نہیں کرتا۔ کیا آپ ایک عصمت دری کرنے والے کے برابر ہونا چاہتے ہیں؟ اشھد اَن لّاِالٰہ
َاِلااللہ وَاَشھدُ اَنَّ محمدًرسول اللہ کیا یو ٹیوب پر ویڈیو شائع کرنے میں کوئی مسئلہ ہے؟ نہیں ،کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارا آج کا موضوع عقائد کے بارے میں ہے۔ آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ میرا عقیدہ ڈی-ازم پر مبنی ہے۔ میرا مطلب ہے ، کہ میں قبول کرتا ہوں کہ کوئی خالق ہے۔ یہ ایک وسیع کائنات ہے، یہ خود سے وجود میں نہیں آ سکتی۔ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں، لیکن میں یہ بھی کہتا ہوں کہ میں اس کے انصاف کا احترام نہیں کرتا۔ میں نہیں جانتا، اور یہ صرف میرے حسد کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ کچھ لوگ میری عمر کے برابر ہیں جو بی ایم ڈبلیو اور پورش چلاتے ہیں۔ اب میں اُنہیں دیکھتا ہوں۔ اور میں یہ سوال کرتا ہوں کہ کیوں؟ میں یہ کیوں نہیں کر سکتا؟ وہ نماز نہیں پڑھتا، روزہ نہیں رکھتا یا زکوٰۃ نہیں دیتا وغیرہ وغیرہ، میں نہیں جانتا۔
میں اُس وقت یہ سب کام کر رہا تھا۔ یہ باتیں کرتے ہوئے بھی میں اس وقت وہ سب کام انجام دے رہا تھا۔ حتیٰ کہ ان ٹیٹوز کے ساتھ بھی۔۔۔ایک بھائی کا شکریہ۔ میں نے تین ماہ تک صوفیانہ کاموں پر عمل کیا، میں نے دن میں پانچ وقت کی نماز پڑھی، لیکن کچھ بہتر نہیں ہوا۔ سب کچھ بگڑ گیا۔ میں نے سوچا اور کہا: یہ وہ وقت تھا جب میں نماز پڑھنے اور خدا کا شکر ادا کرنے کے لیے کمرے سے نہیں نکلتا تھا۔ لیکن کسی وجہ سے کچھ بھی بہتر نہیں ہوا، اور سب کچھ خراب ہو گیا۔ جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو وہ لوگ جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اور شکر ادا نہیں کیا، وہ لوگ ہمیشہ ترقی کرتے ہیں۔ میں نے کہا: کیا یہ تمہارا انصاف ہے؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں بھی چھوٹے بچوں کی عصمت دری کے واقعات ہوتے ہیں۔ میں نے کہا: اے میرے رب، تو
بہت عظیم ہے،تُو طاقتور ہے اور تُو زبردست ہے، تُو مدد کیوں نہیں کرتا؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قدم بہ قدم یہ آپ کو ڈی-اِزم کی طرف لے گیا؟ ہاں، ہاں، ہم یہ کہہ سکتے ہیں۔ ٹھیک ہے بھائی، میں نے آپ کو بہت مخلص اور ایماندار پایا۔ شکریہ۔ لہٰذا، آپ سچے دل سے بات کر رہے ہیں، اور آپ ایک سیدھی بات کرنے والے شخص لگتے ہیں۔ میں نے پوچھا : ان سوالات کو حل کرنے کے بعد، اگر یہ آپ کو اچھی طرح مطمئن کر دے تو کیا آپ اسلام کی طرف رجوع کرنے پر غور کریں گے اگر ہم اس کی وضاحت کریں اور اس کا منطقی جواب تلاش کر لیں؟ یقیناً ، میرے سوالات کے جوابات ملنے کے بعد، مجھے کیوں نہیں رجوع کرنا چاہیے؟ یہاں تک کہ اگر ایسے واقعات ہوتے ہیں، جیسا کہ آپ نے کہا: کہ "کوئی امیر ہو جاتا ہے، اور اس وقت میں مسلمان ہونے کے باوجود ایک کافر
سے زیادہ غریب ہو سکتا ہوں۔" اور دوسری بات یہ کہ دنیا میں بہت سے جرائم ہوتے ہیں۔ اور آپ نے ذکر کیا کہ یہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں۔ اب جب ہم ان دونوں مسائل کو دیکھتے ہیں تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا وجود اسلام اور قرآن کے باطل ہونے کا ثبوت ہے؟ میرے لیے، ایسا ہی ہے۔ کیونکہ میرا وہ بھائی جس کا میں نے پہلے ذکر کیا تھا، اس نے مجھے بتایا: آپ جتنا زیادہ دین پر ڈٹے رہیں گے اتنا ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے۔ ۔۔۔چیزیں آسان ہو جائیں گی۔ یہ اس نے کہا۔ میں اُس پر یقین کرتے ہوئے اس راستے پر چل نکلا۔ اس راستے پر کچھ نہیں ملا۔ سب کچھ صرف خراب ہو گیا۔ اس کے بعد میرے ذہن میں یہ خیالات آنے لگے۔ میں سمجھ گیا۔ شاید ہم ضروری معانی کو پوری طرح نہیں سمجھا۔ آپ کو پتا ہے کیوں؟ لوگوں کو
یہاں تربیت گاہ کے طور پر بھیجا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے جب ہم کسی لائبریری میں جاتے ہیں، تو ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ بہت پُرسکون جگہ ہے اور اسے بُری چیز سمجھتے ہیں، ٹھیک ہے؟ ایک لائبریری کو پُر سکون جگہ سمجھا جاتا ہےجو کہ لائبریری کا مقصد ہے۔ یا جب ہم جِم جاتے ہیں تو لوگ ورزش کرتے کرتے تھک جاتے ہیں، اور ہم لوگوں کو فرش پر خون پسینہ بہاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔لیکن ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ بری جگہ ہے۔ اس کے برعکس ہم یہ کہیں گےکہ یہ واقعہ منطقی ہے کیونکہ اس کا مقصد جگہ کو کھولنا ہے۔ لوگ یہاں تربیت کے ذریعے اپنی طاقت بڑھا رہے ہیں، اور ترقی کر رہے ہیں۔ اسی طرح، اس تناظر میں اس دنیا کا آغاز کیا ہے؟ یہ لوگوں کی تعلیم کی سطح کو بڑھانے کے لیے ہے۔ لوگوں کو یہاں روحانی تعلیم اور ترقی کے لیے بھیجا گیا ہے۔
جیسے ایک امتحان۔ جب ہم امتحان کی بنیاد کو دیکھتے ہیں، تو ہم اس کے بارے میں اس طرح سوچ سکتے ہیں: کہ جس طرح جِم میں جسمانی نشوونما ہوتی ہے، مشکلات اور پریشانیاں ہی ترقی کی نشانیاں ہیں۔ پس دنیا کی مصیبتیں لوگوں کی روحانی ترقی کی دلیل ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ ایک اشارہ ہے۔ پھر جب ہم اسے اس زاویے سے دیکھتے ہی، جیسا کہ ہم نے کہا کہ سینما کا خاموش ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یہ اچھا ہے، اس تناظر میں، دنیا میں جو مسائل درپیش ہیں، خاص طور پر جب ان لوگوں کو زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اسلام کو جانتے ہیں اور مسلمان ہیں تو یہ روحانی ترقی کا اشارہ ہے۔ اس جگہ کا مقصد خدا کو پہچاننا ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھ صبر اور آزمائش آپ کی روحانی ترقی کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔ ان سب چیزوں کا ہونا معمول کی بات
ہے۔ دیکھیں کہ آپ نے بنیادی طور یہ کیسے کہا؛ کہ 'جب میں نے اپنی عبادات میں خوب اضافہ کیا تو مجھے الٹا کمی آئی۔' لیکن، اب جیسا کہ ہم نے کہا کہ سیکھنے کے لیے یہاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پس یہ نہ صرف مادی چیزیں ہیں جن کے بارے میں میں بات کر رہا ہوں بلکہ یہ ایک مثال بھی ہے۔ یہ ایک برا واقعہ ہے لیکن میں اس کی مثال دوں گا؛ یہ ایک تین سالہ لڑکی کے بارے میں ہے۔ مثال کے طور پر جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کچھ بُزدل لوگ بچوں کو مخصوص واقعات سے روشناس کراتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ خدا بہت بڑا ہے۔ عظیم خدا یہ کیوں نہیں دیکھتا اور ان بچوں کی مدد کیوں نہیں کرتا؟ تین سالہ بچی کا کیا گناہ ہو سکتا ہے؟ کہ وہ اس طرح کی آزمائش اور مشکلات کا سامنا کرے؟ میں اس موضوع پر آپ سے ایک مخلصانہ سوال کرنا چاہتا
ہوں: اس معاملے میں، آپ کے خیال میں کیا کوئی شخص ذمہ دار اور قصور وار ہے؟ یا اس کا قصور وار کائنات کا خالق اللہ ہے؟ میرے خیال میں قصوروار کائنات کا خالق ہے کیونکہ انسان کی تقدیر پہلے سے ہی طے شدہ ہے۔ تقدیر ایک الگ چیز ہے۔ ہم اس موضوع پر بھی آئیں گے۔ تقدیر کا لکھا ہونا کسی کی مرضی کو ختم نہیں کرتا، ہم اس پر بھی بات کریں گے۔ تو خدا تین سالہ بچی کے لیے ایسی تقدیر اور زیادتی کرنے والے کے لیے بھی ایسی تقدیر کیوں لکھتا ہے؟ میں سمجھ گیا آپ یہ خیال رکھ سکتے ہیں کیونکہ ابھی تقدیر کے موضوع پر بات نہیں ہوئی۔ آئیے اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر جب ہم واقعات کو دیکھتے ہیں، ہاں ، ہم ظلم کو دیکھ سکتے ہیں، ہم لوگوں کو جرائم کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ، اور ہم انہیں ایک دوسرے کو تکلیف پہنچاتے ہوئے بھی دیکھتے
ہیں لیکن جب ہم اس کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انسان خود ظالم ہے۔ کیونکہ انسان کے پاس قوتِ ارادی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، آپ نے آج نیلے رنگ کا سویٹر پہنا ہے۔ کیا آپ نے اس کا انتخاب خود کیا یا کسی نے آپ کو مجبور کیا؟ میں نے خود اسے منتخب کیا۔ تو اسے مرضی کہتے ہیں۔ یہ جزوی مرضی کا ایک ثبوت ہے۔ جیسے،" میں نے بھی آج اسے پہننے کا خود انتخاب کیا"۔ اس وقت، ہمیں جزوی مرضی کے بارے میں سب پتاہوتا ہے۔ جب ہم کسی واقعہ کی طرف دیکھتے ہیں کہ لوگ خود اپنی مرضی سے جرائم کرتے ہیں، ہم پہلے سے ہی سب جانتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے اس انتخاب کے خود ذمہ دار ہیں آئیے ایک مثال کو دیکھتے ہیں: ہم دیکھتےہیں کہ لوگ جرائم کرتے ہیں اور ہم قرآن پر الزام لگا دیتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک ڈاکٹر آپریشن کرنے والے کمرے میں
داخل ہوتا ہے اور جان بوجھ کر لوگوں پر موت کے وار کرتا ہے۔ کیا ہم کبھی طبی کتابوں کو موردِالزام ٹھہراتے ہیں؟ نہیں ، ہم ڈاکٹر کو قصور وار ٹھہرائیں گے۔ ہم ڈاکٹر کو کیوں قصور وار ٹھہراتے ہیں؟ کیونکہ اس کا طبی کتاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت میں ، اس ڈاکٹر نے طبی کتاب کی اطاعت نہیں کی، کیا میں نے ٹھیک کہا؟ اسی طرح، اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچاتا ہے اور جرم کرتا ہے، جیسا کہ عصمت دری اورزیادتی یا قتل، تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخص قرآن پر عمل نہیں کر تا۔ بالکل اس ڈاکٹر کی مثال کی طرح۔ جس طرح ہم نے طبی کتاب کو موردِالزام نہیں ٹھہرایا اسی طرح یہاں بھی قرآن اور اسلام کو موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ انسان ان سب کا ذمہ دار ہے۔ میں اصل میں قرآن یا اسلام پر الزام نہیں لگاتا۔ میں خالق کو
قصور وار ٹھہراتا ہوں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ خدا بہت بڑا اور طاقتور ہے۔ ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ خدا نے ماضی میں پچھلے انبیاء اور لوگوں کی مدد اور رہنمائی کی۔ اور اس نے انہیں سیدھا راستہ دکھایا۔ وہ آج بھی لوگوں کو سیدھا راستہ کیوں نہیں دکھاتا؟ درحقیقت خدا اب بھی لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ وہ ہمیں ہمارے مسائل کا حل دیتا ہے۔ وہ ہمیں قرآن اور سُنت کے ذریعے مثالیں دیتا ہے۔ ہم مسائل کا حل دیکھ سکتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا، لوگ اس ڈاکٹر کی طرح اپنی مرضی کا استعمال کرتے ہوئے 'نہ سننے اور دیکھنے' کا انتخاب کرتے ہیں۔ بہت سے ڈاکٹر صحیح کام کرتے ہیں۔ اور طبی کتاب کا اطلاق کرتے ہیں لیکن بہت سے لوگ ایسا نہیں کرتے کیونکہ لوگوں کے پاس قوت ارادی ہوتی ہے۔ آئیے اس پر بات کرتے ہیں کہ خدا یہاں مداخلت کیوں
نہیں کرتا؟ اگر ہم اس موضوع پر عقلمندی سے بات کریں گے تو ہمیں نظریہ نظر آئےگا۔ مثا ل کے طور پر، اگر کوئی کسی کو چھُری سے مار رہا ہے۔ یاکسی کو مارنے کے لیے بندوق سے گولی چلا رہا ہے۔ جب کوئی دوسرے کو نقصان پہنچانے والا ہو، اور خدا اسے ہمیشہ روکتا رہے، تو کیا ہم صحیح اور غلط انسان میں فرق کر پائیں گے؟ اگر انسان کی مرضی کو ختم کر دیا جائے اور کوئی شخص برائی نہ کر سکے تو کیا آپ میں اور زیادتی کرنے والے شخص میں کوئی فرق رہ جائے گا؟ پھر اچھائی اور برائی کی تمیز نہیں رہے گی۔ کیا آپ ایک ریپ کرنے والے کے برابر ہونا پسند کریں گے؟ نہیں، میں یہ پسند نہیں کروں گا، لیکن میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ: اگر ضروری ہو تو خدا ہر ایک کی مرضی کو محدود کر دے۔ اور کوئی برائی نہ ہو، صرف اچھائی ہی ہو، کوئی برائی نہ کرے اور
کوئی جہنم میں نہ جائے۔ جب ہم اسے اس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں تو اگر لوگوں کی مرضی کو محدود کر دیا جائے تو ایک نیک نیت شخص اور بد دیانت شخص کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا۔ اگر مان لیا جائے کہ انسان اپنی روح کو آلودہ کر چکا ہے۔ تو صحیح اور غلط شخص میں فرق کرنے کا کیا فائدہ ہو گا؟ یہ تب ہوتا ہے جب قوتِ ارادی عمل میں آتی ہے۔ جی ہاں، خدا مداخلت کر سکتا ہے۔ لیکن عام طور پر دیکھا جائے تو خدا کی مداخلت اور جرائم کی روک تھام سے کسی شخص کی مرضی میں خلل پیدا ہو گا۔ اور پھر کیا ہو گا؟ لوگ کہیں گے: " میری مرضی نہیں ہے اس لیے میں قصور وار نہیں ہوں"۔ پھر یہ نظام کیسا ہوگا؟ اس سے مقدمے کی سماعت کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ اور اس سے ایک نیک شخص اور گناہ گار شخص کا درجہ برابر ہو جائے گا۔ آپ نے کہا تھا کہ آپ ایک
جنسی زیادتی کرنے والے شخص کی برابری نہیں چاہتے۔ تو پھر وہ کونسی چیز ہے جو آپ کے اور اس شخص کے درمیان فرق نمایاں کرتی ہے اور آپ کو مختلف درجہ دیتی ہے؟ اچھی نیت والے اور برے نیت والے لوگوں میں کیا فرق ہے؟ یہی انسان کی اپنی قوتِ ارادی کا وجود ہے۔ دوسرے الفاظ میں، قوتِ ارادی سے ہی انسان کی اچھائی اور برائی سامنے آتی ہے۔ ہم اسے ہمدردی سے دیکھتے ہیں۔ یہ باتیں مجھے بھی پریشان کرتی ہیں، اس لیے میں جو کر سکتا ہوں وہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ لیکن یہ ناممکن ہے کہ رحم کرنے والے کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ لیکن جب ہم اسے زیادہ وسیع دائرہ کار سے دیکھتے ہیں تو، جی بالکل، لوگوں کو ستایا جا سکتا ہے۔ آئیے اس انداز میں سوچتے ہیں: مثال کے طور پر، ذرا ایک بہت برے خواب کے بارے میں سوچو۔ کبھی کبھی اس میں کافی وقت بھی
لگتا ہے، ٹھیک ہے؟س ہم فرض کرتے ہیں کہ آپ نے ایک خوفناک خواب دیکھا جو آپ کے خیالوں میں 80 سال تک چلتا رہا۔ لیکن جیسے ہی آپ اس خواب سے بیدار ہوتے ہیں تو کیا آپ ایک کپ پانی پینے کے بعد سب کچھ بھول نہیں جاتے؟ ہم اسے خواب کہتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔ اگر ایک گلاس پانی پینے سے خدا ہمیں اس درد سے نجات دلا سکتا ہے جو ہم نے خواب میں دیکھا تھا اور خواب میں سوچا تھا کہ یہ 80 سال طویل ہے تو وہ خدا ہمیں ابدی جنت کے بدلے اس دنیا کی پریشانیوں کو بھُلانے کیسے نہیں دے سکتا؟ ہم ابدی جنت کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ خدا اپنے تمام بندوں سے یکساں محبت کرتا ہے، کیا ایسا ہی ہے؟ تو پھر وہ کیوں چاہتا ہے کہ لوگوں میں بَد روح ہو؟ اگر وہ چاہتا تو کسی کو بُرا انسان نہیں بناتا۔ خدا اچھا ہی چاہتا ہے، لیکن
لوگوں کو 'جزوی مرضی' کی نعمت سے نوزا گیا ہے تا کہ وہ اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کریں۔ لوگ اس 'جزوی مرضی' کو اپنی چاہت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً آگ کا وجود ایک خوشگوار چیز ہے، ہے نا؟ کیونکہ یہ ہماری ضروریات کو پورا کرتی ہے، اس لیے یہ اچھی ہے۔ اس کے بہت سے فائدے ہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنی قوتِ ارادی سے آگ تک پہنچ جائے اور جان بوجھ کر اپنا ہاتھ جلا دے، تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں: کہ "آگ کا وجود ایک بری چیز ہے"؟ ہم نہیں کہہ سکتے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ بہت ہی غیر مناسب بات ہو گی۔ یہ اُس شخص کا قصور ہو گا۔ اسی طرح قوتِ ارادی اور جزوی قوتِ ارادی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ نیکی کرنے والے اور برائی کرنے والے لوگوں میں فرق کیا جاتا ہے، اور اسی قوتِ ارادی کا وجود ہی لوگوں کو انسانیت کے درجے پر
فائز کرتا ہے اور ان کی قدر کرتا ہے۔ لیکن ، جیسے کوئی شخص آگ میں ہاتھ ڈالتا ہے یا کسی کو چھرا گھونپتا ہے؛ اور اگر وہ کسی کو قتل کر کے یا نقصان پہنچا کر اس قوتِ ارادی کا غلط استعمال کرتا ہے تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں: کہ قوتِ ارادی کی تخلیق بُری اور غیر اخلاقی چیز ہے اور خدا ایسا کیوں کرنا چاہتا ہے؟ بالکل اسی طرح جیسے آگ کی مثال تھی۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے، ٹھیک ہے نا؟ جب ہم اس کو ایسے نظریے سے دیکھیں گے تو ہم یہ کہیں گے: کہ جی ہاں ، اس کی تخلیق بہت اچھی ہے اور اس کے بڑے فائدے ہیں لیکن یہاں کےلوگ خراب ہیں۔ لیکن، جیسا کہ ہم نے کہا کہ اس زندگی کے بعد آخرت کی زندگی ہے۔ اور جنت میں ابدی خوشی اچھے لوگوں کی منتظر ہے۔ اور وہ لوگ جن کا آپ نے ذکر کیا اور جن سے ہمیں بہت غصہ آتا ہے۔۔ انہیں انصاف کے ساتھ سزا
دی جائے گی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے سلطان کا جنت اور جہنم کے ساتھ انصاف کرنا۔ کیا میں آپ کو قسمت کے بارے میں بتاؤں؟ میں اسے اس طرح بیان کرتا ہوں کہ تقدیر کے بارے میں خدا ہی جانتا ہے۔ ہم بعض اوقات جاننے کے عمل کو اور دخل اندازی کو آپس میں الجھا دیتے ہیں۔ جس طرح سورج کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہم کہتے ہیں کہ ایک پیلا ہے اور ایک سرخ ہے۔ یہ دو مختلف خصوصیات ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا نام العلیم بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس نام کا مطلب ہے " جاننے والا"۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نام کا مطلب ہے "قسمت کو جاننے والا"۔ اس کا دوسرا نام القادر ہے۔ اس نام کا مطلب ہم "تخلیق کرنے والا" کے طور پر لے سکتے ہیں۔ خدا سب جانتا ہے لیکن کیا وہ ہمارے ساتھ مداخلت کر رہا ہے؟ ہم دو مختلف تصورات کو آپس میں الجھا
رہے ہیں۔ یہ سورج کے دو مختلف رنگوں کی طرح ہی ہے۔ خدا کے نام العلیم اور القادر یہ دونوں الگ الگ نام ہیں۔ پھر ہم یہ کہیں گے: کہ یہ حقیقت ہے کہ خدا سب کچھ جانتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمارے کام میں مداخلت کرتا ہے یا ہمیں کسی کام کے لیے مجبور کرتا ہے۔ ان ناموں کے اندر مختلف خصوصیات ہیں۔ تو پھر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری قسمت میں تو سب کچھ پہلے سے لکھا ہوا ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ نہیں، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ خدا نے یہ سب ہماری قسمت میں لکھا ہے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ہم یہ کام کریں گے۔ چلیں ایک چھوٹی سی مثال کے ساتھ بات کا اختتام کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ دو کاریں مخالف سمت سے آ رہی ہیں۔ ہم ریاضی کے مطابق حساب لگاتے ہیں ۔ ہم اس کا حساب لگاتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ وہ کاریں آٹھ
سیکنڈ میں ٹکرا جائیں گی۔ آپ نے یہ ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھ دیا، اور کاروں کا تصادم ہو گیا۔ ظاہرہے کہ یہ ہونا ہی تھا۔ چونکہ آپ نے یہ سب اس کاغذ پر لکھا ہے، تو کیا لوگ آپ کے پاس آ کر یہ کہہ سکتے ہیں؛ "کہ ہم اس لیے ٹکرا گئے ہیں کیونکہ آپ نے اس کاغذ پر لکھا تھا۔ اس لیے آپ مجرم ہو" وہ یہ سب نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ پہلے سے ہی ظاہر تھا کہ ایسا ہو گا۔ قطعی طور پر آپ نے پہلے ہی اپنے علم سے اس کی شناخت کر لی تھی، اور آپ نے اس کو اپنے علم کے مطابق لکھا تھا۔ آپ کی تحریر آپ کے علم پر منحصر تھی۔ علم کا انحصار کسی چیز کے معلوم ہونے پر ہے۔ اسی طرح ہماری تقدیر کے بارے میں خدا کا لکھنا بھی ہماری زندگی کے ان واقعات پر منحصر ہے۔ ہم ایسا اس لیے نہیں کرتے کیونکہ خدا جانتا ہے بلکہ اس لیے کرتے ہیں کیونکہ خدا جانتا
ہے کہ ہم کیا کریں گے اور وہ اسی کے مطابق لکھتا ہے، جیسا کہ پچھلی مثال میں واضح کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں تقدیر کے معاملے پر اسی طرح غور کرنا چاہیے۔ لہٰذا، اگر کوئی شخص جرم کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری اُسی شخص پر عائد ہوتی ہے۔ کیا اب آپ کو یہ سب چیزیں واضح ہیں؟ جی ہاں بالکل واضح ہیں۔ اللہ کا شکر ہے۔ میں سمجھ گیا ہوں۔ یہ اب واقعی واضح ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ مجھے ہمیشہ خدا پر یقین رہا ہے۔ اتنی بڑی کائنات اپنے طور پر وجود میں نہیں آ سکتی۔ اور یہ کسی بھی طرح ممکن نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ سوالات تھے جنہوں نے مجھے الجھایا ہوا تھا۔ آپ کیا کہتے ہیں ، کیا ہم آج کے دن کو مبارک دن بنائیں گے؟ آئیے کرتے ہیں، آئیے کرتے ہیں۔ آپ کو کلمہ شہادت یاد ہے نا؟ یقیناً ، بے شک۔ اشھد اَن لّاِالٰہ
َاِلااللہ وَاَشھدُ اَنَّ محمدًرسول اللہ
َاِلااللہ وَاَشھدُ اَنَّ محمدًرسول اللہ کیا یو ٹیوب پر ویڈیو شائع کرنے میں کوئی مسئلہ ہے؟ نہیں ،کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارا آج کا موضوع عقائد کے بارے میں ہے۔ آپ کا عقیدہ کیا ہے؟ میرا عقیدہ ڈی-ازم پر مبنی ہے۔ میرا مطلب ہے ، کہ میں قبول کرتا ہوں کہ کوئی خالق ہے۔ یہ ایک وسیع کائنات ہے، یہ خود سے وجود میں نہیں آ سکتی۔ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں، لیکن میں یہ بھی کہتا ہوں کہ میں اس کے انصاف کا احترام نہیں کرتا۔ میں نہیں جانتا، اور یہ صرف میرے حسد کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ کچھ لوگ میری عمر کے برابر ہیں جو بی ایم ڈبلیو اور پورش چلاتے ہیں۔ اب میں اُنہیں دیکھتا ہوں۔ اور میں یہ سوال کرتا ہوں کہ کیوں؟ میں یہ کیوں نہیں کر سکتا؟ وہ نماز نہیں پڑھتا، روزہ نہیں رکھتا یا زکوٰۃ نہیں دیتا وغیرہ وغیرہ، میں نہیں جانتا۔
میں اُس وقت یہ سب کام کر رہا تھا۔ یہ باتیں کرتے ہوئے بھی میں اس وقت وہ سب کام انجام دے رہا تھا۔ حتیٰ کہ ان ٹیٹوز کے ساتھ بھی۔۔۔ایک بھائی کا شکریہ۔ میں نے تین ماہ تک صوفیانہ کاموں پر عمل کیا، میں نے دن میں پانچ وقت کی نماز پڑھی، لیکن کچھ بہتر نہیں ہوا۔ سب کچھ بگڑ گیا۔ میں نے سوچا اور کہا: یہ وہ وقت تھا جب میں نماز پڑھنے اور خدا کا شکر ادا کرنے کے لیے کمرے سے نہیں نکلتا تھا۔ لیکن کسی وجہ سے کچھ بھی بہتر نہیں ہوا، اور سب کچھ خراب ہو گیا۔ جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو وہ لوگ جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اور شکر ادا نہیں کیا، وہ لوگ ہمیشہ ترقی کرتے ہیں۔ میں نے کہا: کیا یہ تمہارا انصاف ہے؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں بھی چھوٹے بچوں کی عصمت دری کے واقعات ہوتے ہیں۔ میں نے کہا: اے میرے رب، تو
بہت عظیم ہے،تُو طاقتور ہے اور تُو زبردست ہے، تُو مدد کیوں نہیں کرتا؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قدم بہ قدم یہ آپ کو ڈی-اِزم کی طرف لے گیا؟ ہاں، ہاں، ہم یہ کہہ سکتے ہیں۔ ٹھیک ہے بھائی، میں نے آپ کو بہت مخلص اور ایماندار پایا۔ شکریہ۔ لہٰذا، آپ سچے دل سے بات کر رہے ہیں، اور آپ ایک سیدھی بات کرنے والے شخص لگتے ہیں۔ میں نے پوچھا : ان سوالات کو حل کرنے کے بعد، اگر یہ آپ کو اچھی طرح مطمئن کر دے تو کیا آپ اسلام کی طرف رجوع کرنے پر غور کریں گے اگر ہم اس کی وضاحت کریں اور اس کا منطقی جواب تلاش کر لیں؟ یقیناً ، میرے سوالات کے جوابات ملنے کے بعد، مجھے کیوں نہیں رجوع کرنا چاہیے؟ یہاں تک کہ اگر ایسے واقعات ہوتے ہیں، جیسا کہ آپ نے کہا: کہ "کوئی امیر ہو جاتا ہے، اور اس وقت میں مسلمان ہونے کے باوجود ایک کافر
سے زیادہ غریب ہو سکتا ہوں۔" اور دوسری بات یہ کہ دنیا میں بہت سے جرائم ہوتے ہیں۔ اور آپ نے ذکر کیا کہ یہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں۔ اب جب ہم ان دونوں مسائل کو دیکھتے ہیں تو کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا وجود اسلام اور قرآن کے باطل ہونے کا ثبوت ہے؟ میرے لیے، ایسا ہی ہے۔ کیونکہ میرا وہ بھائی جس کا میں نے پہلے ذکر کیا تھا، اس نے مجھے بتایا: آپ جتنا زیادہ دین پر ڈٹے رہیں گے اتنا ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے۔ ۔۔۔چیزیں آسان ہو جائیں گی۔ یہ اس نے کہا۔ میں اُس پر یقین کرتے ہوئے اس راستے پر چل نکلا۔ اس راستے پر کچھ نہیں ملا۔ سب کچھ صرف خراب ہو گیا۔ اس کے بعد میرے ذہن میں یہ خیالات آنے لگے۔ میں سمجھ گیا۔ شاید ہم ضروری معانی کو پوری طرح نہیں سمجھا۔ آپ کو پتا ہے کیوں؟ لوگوں کو
یہاں تربیت گاہ کے طور پر بھیجا گیا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے جب ہم کسی لائبریری میں جاتے ہیں، تو ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ بہت پُرسکون جگہ ہے اور اسے بُری چیز سمجھتے ہیں، ٹھیک ہے؟ ایک لائبریری کو پُر سکون جگہ سمجھا جاتا ہےجو کہ لائبریری کا مقصد ہے۔ یا جب ہم جِم جاتے ہیں تو لوگ ورزش کرتے کرتے تھک جاتے ہیں، اور ہم لوگوں کو فرش پر خون پسینہ بہاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔لیکن ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ بری جگہ ہے۔ اس کے برعکس ہم یہ کہیں گےکہ یہ واقعہ منطقی ہے کیونکہ اس کا مقصد جگہ کو کھولنا ہے۔ لوگ یہاں تربیت کے ذریعے اپنی طاقت بڑھا رہے ہیں، اور ترقی کر رہے ہیں۔ اسی طرح، اس تناظر میں اس دنیا کا آغاز کیا ہے؟ یہ لوگوں کی تعلیم کی سطح کو بڑھانے کے لیے ہے۔ لوگوں کو یہاں روحانی تعلیم اور ترقی کے لیے بھیجا گیا ہے۔
جیسے ایک امتحان۔ جب ہم امتحان کی بنیاد کو دیکھتے ہیں، تو ہم اس کے بارے میں اس طرح سوچ سکتے ہیں: کہ جس طرح جِم میں جسمانی نشوونما ہوتی ہے، مشکلات اور پریشانیاں ہی ترقی کی نشانیاں ہیں۔ پس دنیا کی مصیبتیں لوگوں کی روحانی ترقی کی دلیل ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ ایک اشارہ ہے۔ پھر جب ہم اسے اس زاویے سے دیکھتے ہی، جیسا کہ ہم نے کہا کہ سینما کا خاموش ہونا اس بات کی علامت ہے کہ یہ اچھا ہے، اس تناظر میں، دنیا میں جو مسائل درپیش ہیں، خاص طور پر جب ان لوگوں کو زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اسلام کو جانتے ہیں اور مسلمان ہیں تو یہ روحانی ترقی کا اشارہ ہے۔ اس جگہ کا مقصد خدا کو پہچاننا ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھ صبر اور آزمائش آپ کی روحانی ترقی کو آگے بڑھانے کا ذریعہ ہیں۔ ان سب چیزوں کا ہونا معمول کی بات
ہے۔ دیکھیں کہ آپ نے بنیادی طور یہ کیسے کہا؛ کہ 'جب میں نے اپنی عبادات میں خوب اضافہ کیا تو مجھے الٹا کمی آئی۔' لیکن، اب جیسا کہ ہم نے کہا کہ سیکھنے کے لیے یہاں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پس یہ نہ صرف مادی چیزیں ہیں جن کے بارے میں میں بات کر رہا ہوں بلکہ یہ ایک مثال بھی ہے۔ یہ ایک برا واقعہ ہے لیکن میں اس کی مثال دوں گا؛ یہ ایک تین سالہ لڑکی کے بارے میں ہے۔ مثال کے طور پر جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کچھ بُزدل لوگ بچوں کو مخصوص واقعات سے روشناس کراتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ خدا بہت بڑا ہے۔ عظیم خدا یہ کیوں نہیں دیکھتا اور ان بچوں کی مدد کیوں نہیں کرتا؟ تین سالہ بچی کا کیا گناہ ہو سکتا ہے؟ کہ وہ اس طرح کی آزمائش اور مشکلات کا سامنا کرے؟ میں اس موضوع پر آپ سے ایک مخلصانہ سوال کرنا چاہتا
ہوں: اس معاملے میں، آپ کے خیال میں کیا کوئی شخص ذمہ دار اور قصور وار ہے؟ یا اس کا قصور وار کائنات کا خالق اللہ ہے؟ میرے خیال میں قصوروار کائنات کا خالق ہے کیونکہ انسان کی تقدیر پہلے سے ہی طے شدہ ہے۔ تقدیر ایک الگ چیز ہے۔ ہم اس موضوع پر بھی آئیں گے۔ تقدیر کا لکھا ہونا کسی کی مرضی کو ختم نہیں کرتا، ہم اس پر بھی بات کریں گے۔ تو خدا تین سالہ بچی کے لیے ایسی تقدیر اور زیادتی کرنے والے کے لیے بھی ایسی تقدیر کیوں لکھتا ہے؟ میں سمجھ گیا آپ یہ خیال رکھ سکتے ہیں کیونکہ ابھی تقدیر کے موضوع پر بات نہیں ہوئی۔ آئیے اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر جب ہم واقعات کو دیکھتے ہیں، ہاں ، ہم ظلم کو دیکھ سکتے ہیں، ہم لوگوں کو جرائم کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ، اور ہم انہیں ایک دوسرے کو تکلیف پہنچاتے ہوئے بھی دیکھتے
ہیں لیکن جب ہم اس کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ انسان خود ظالم ہے۔ کیونکہ انسان کے پاس قوتِ ارادی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، آپ نے آج نیلے رنگ کا سویٹر پہنا ہے۔ کیا آپ نے اس کا انتخاب خود کیا یا کسی نے آپ کو مجبور کیا؟ میں نے خود اسے منتخب کیا۔ تو اسے مرضی کہتے ہیں۔ یہ جزوی مرضی کا ایک ثبوت ہے۔ جیسے،" میں نے بھی آج اسے پہننے کا خود انتخاب کیا"۔ اس وقت، ہمیں جزوی مرضی کے بارے میں سب پتاہوتا ہے۔ جب ہم کسی واقعہ کی طرف دیکھتے ہیں کہ لوگ خود اپنی مرضی سے جرائم کرتے ہیں، ہم پہلے سے ہی سب جانتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے اس انتخاب کے خود ذمہ دار ہیں آئیے ایک مثال کو دیکھتے ہیں: ہم دیکھتےہیں کہ لوگ جرائم کرتے ہیں اور ہم قرآن پر الزام لگا دیتے ہیں۔ فرض کریں کہ ایک ڈاکٹر آپریشن کرنے والے کمرے میں
داخل ہوتا ہے اور جان بوجھ کر لوگوں پر موت کے وار کرتا ہے۔ کیا ہم کبھی طبی کتابوں کو موردِالزام ٹھہراتے ہیں؟ نہیں ، ہم ڈاکٹر کو قصور وار ٹھہرائیں گے۔ ہم ڈاکٹر کو کیوں قصور وار ٹھہراتے ہیں؟ کیونکہ اس کا طبی کتاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت میں ، اس ڈاکٹر نے طبی کتاب کی اطاعت نہیں کی، کیا میں نے ٹھیک کہا؟ اسی طرح، اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچاتا ہے اور جرم کرتا ہے، جیسا کہ عصمت دری اورزیادتی یا قتل، تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ شخص قرآن پر عمل نہیں کر تا۔ بالکل اس ڈاکٹر کی مثال کی طرح۔ جس طرح ہم نے طبی کتاب کو موردِالزام نہیں ٹھہرایا اسی طرح یہاں بھی قرآن اور اسلام کو موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ انسان ان سب کا ذمہ دار ہے۔ میں اصل میں قرآن یا اسلام پر الزام نہیں لگاتا۔ میں خالق کو
قصور وار ٹھہراتا ہوں۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ خدا بہت بڑا اور طاقتور ہے۔ ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ خدا نے ماضی میں پچھلے انبیاء اور لوگوں کی مدد اور رہنمائی کی۔ اور اس نے انہیں سیدھا راستہ دکھایا۔ وہ آج بھی لوگوں کو سیدھا راستہ کیوں نہیں دکھاتا؟ درحقیقت خدا اب بھی لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ وہ ہمیں ہمارے مسائل کا حل دیتا ہے۔ وہ ہمیں قرآن اور سُنت کے ذریعے مثالیں دیتا ہے۔ ہم مسائل کا حل دیکھ سکتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے کہا، لوگ اس ڈاکٹر کی طرح اپنی مرضی کا استعمال کرتے ہوئے 'نہ سننے اور دیکھنے' کا انتخاب کرتے ہیں۔ بہت سے ڈاکٹر صحیح کام کرتے ہیں۔ اور طبی کتاب کا اطلاق کرتے ہیں لیکن بہت سے لوگ ایسا نہیں کرتے کیونکہ لوگوں کے پاس قوت ارادی ہوتی ہے۔ آئیے اس پر بات کرتے ہیں کہ خدا یہاں مداخلت کیوں
نہیں کرتا؟ اگر ہم اس موضوع پر عقلمندی سے بات کریں گے تو ہمیں نظریہ نظر آئےگا۔ مثا ل کے طور پر، اگر کوئی کسی کو چھُری سے مار رہا ہے۔ یاکسی کو مارنے کے لیے بندوق سے گولی چلا رہا ہے۔ جب کوئی دوسرے کو نقصان پہنچانے والا ہو، اور خدا اسے ہمیشہ روکتا رہے، تو کیا ہم صحیح اور غلط انسان میں فرق کر پائیں گے؟ اگر انسان کی مرضی کو ختم کر دیا جائے اور کوئی شخص برائی نہ کر سکے تو کیا آپ میں اور زیادتی کرنے والے شخص میں کوئی فرق رہ جائے گا؟ پھر اچھائی اور برائی کی تمیز نہیں رہے گی۔ کیا آپ ایک ریپ کرنے والے کے برابر ہونا پسند کریں گے؟ نہیں، میں یہ پسند نہیں کروں گا، لیکن میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ: اگر ضروری ہو تو خدا ہر ایک کی مرضی کو محدود کر دے۔ اور کوئی برائی نہ ہو، صرف اچھائی ہی ہو، کوئی برائی نہ کرے اور
کوئی جہنم میں نہ جائے۔ جب ہم اسے اس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں تو اگر لوگوں کی مرضی کو محدود کر دیا جائے تو ایک نیک نیت شخص اور بد دیانت شخص کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا۔ اگر مان لیا جائے کہ انسان اپنی روح کو آلودہ کر چکا ہے۔ تو صحیح اور غلط شخص میں فرق کرنے کا کیا فائدہ ہو گا؟ یہ تب ہوتا ہے جب قوتِ ارادی عمل میں آتی ہے۔ جی ہاں، خدا مداخلت کر سکتا ہے۔ لیکن عام طور پر دیکھا جائے تو خدا کی مداخلت اور جرائم کی روک تھام سے کسی شخص کی مرضی میں خلل پیدا ہو گا۔ اور پھر کیا ہو گا؟ لوگ کہیں گے: " میری مرضی نہیں ہے اس لیے میں قصور وار نہیں ہوں"۔ پھر یہ نظام کیسا ہوگا؟ اس سے مقدمے کی سماعت کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا۔ اور اس سے ایک نیک شخص اور گناہ گار شخص کا درجہ برابر ہو جائے گا۔ آپ نے کہا تھا کہ آپ ایک
جنسی زیادتی کرنے والے شخص کی برابری نہیں چاہتے۔ تو پھر وہ کونسی چیز ہے جو آپ کے اور اس شخص کے درمیان فرق نمایاں کرتی ہے اور آپ کو مختلف درجہ دیتی ہے؟ اچھی نیت والے اور برے نیت والے لوگوں میں کیا فرق ہے؟ یہی انسان کی اپنی قوتِ ارادی کا وجود ہے۔ دوسرے الفاظ میں، قوتِ ارادی سے ہی انسان کی اچھائی اور برائی سامنے آتی ہے۔ ہم اسے ہمدردی سے دیکھتے ہیں۔ یہ باتیں مجھے بھی پریشان کرتی ہیں، اس لیے میں جو کر سکتا ہوں وہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ لیکن یہ ناممکن ہے کہ رحم کرنے والے کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ لیکن جب ہم اسے زیادہ وسیع دائرہ کار سے دیکھتے ہیں تو، جی بالکل، لوگوں کو ستایا جا سکتا ہے۔ آئیے اس انداز میں سوچتے ہیں: مثال کے طور پر، ذرا ایک بہت برے خواب کے بارے میں سوچو۔ کبھی کبھی اس میں کافی وقت بھی
لگتا ہے، ٹھیک ہے؟س ہم فرض کرتے ہیں کہ آپ نے ایک خوفناک خواب دیکھا جو آپ کے خیالوں میں 80 سال تک چلتا رہا۔ لیکن جیسے ہی آپ اس خواب سے بیدار ہوتے ہیں تو کیا آپ ایک کپ پانی پینے کے بعد سب کچھ بھول نہیں جاتے؟ ہم اسے خواب کہتے ہیں اور بھول جاتے ہیں۔ اگر ایک گلاس پانی پینے سے خدا ہمیں اس درد سے نجات دلا سکتا ہے جو ہم نے خواب میں دیکھا تھا اور خواب میں سوچا تھا کہ یہ 80 سال طویل ہے تو وہ خدا ہمیں ابدی جنت کے بدلے اس دنیا کی پریشانیوں کو بھُلانے کیسے نہیں دے سکتا؟ ہم ابدی جنت کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ خدا اپنے تمام بندوں سے یکساں محبت کرتا ہے، کیا ایسا ہی ہے؟ تو پھر وہ کیوں چاہتا ہے کہ لوگوں میں بَد روح ہو؟ اگر وہ چاہتا تو کسی کو بُرا انسان نہیں بناتا۔ خدا اچھا ہی چاہتا ہے، لیکن
لوگوں کو 'جزوی مرضی' کی نعمت سے نوزا گیا ہے تا کہ وہ اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کریں۔ لوگ اس 'جزوی مرضی' کو اپنی چاہت کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً آگ کا وجود ایک خوشگوار چیز ہے، ہے نا؟ کیونکہ یہ ہماری ضروریات کو پورا کرتی ہے، اس لیے یہ اچھی ہے۔ اس کے بہت سے فائدے ہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنی قوتِ ارادی سے آگ تک پہنچ جائے اور جان بوجھ کر اپنا ہاتھ جلا دے، تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں: کہ "آگ کا وجود ایک بری چیز ہے"؟ ہم نہیں کہہ سکتے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ بہت ہی غیر مناسب بات ہو گی۔ یہ اُس شخص کا قصور ہو گا۔ اسی طرح قوتِ ارادی اور جزوی قوتِ ارادی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ نیکی کرنے والے اور برائی کرنے والے لوگوں میں فرق کیا جاتا ہے، اور اسی قوتِ ارادی کا وجود ہی لوگوں کو انسانیت کے درجے پر
فائز کرتا ہے اور ان کی قدر کرتا ہے۔ لیکن ، جیسے کوئی شخص آگ میں ہاتھ ڈالتا ہے یا کسی کو چھرا گھونپتا ہے؛ اور اگر وہ کسی کو قتل کر کے یا نقصان پہنچا کر اس قوتِ ارادی کا غلط استعمال کرتا ہے تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں: کہ قوتِ ارادی کی تخلیق بُری اور غیر اخلاقی چیز ہے اور خدا ایسا کیوں کرنا چاہتا ہے؟ بالکل اسی طرح جیسے آگ کی مثال تھی۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے، ٹھیک ہے نا؟ جب ہم اس کو ایسے نظریے سے دیکھیں گے تو ہم یہ کہیں گے: کہ جی ہاں ، اس کی تخلیق بہت اچھی ہے اور اس کے بڑے فائدے ہیں لیکن یہاں کےلوگ خراب ہیں۔ لیکن، جیسا کہ ہم نے کہا کہ اس زندگی کے بعد آخرت کی زندگی ہے۔ اور جنت میں ابدی خوشی اچھے لوگوں کی منتظر ہے۔ اور وہ لوگ جن کا آپ نے ذکر کیا اور جن سے ہمیں بہت غصہ آتا ہے۔۔ انہیں انصاف کے ساتھ سزا
دی جائے گی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے سلطان کا جنت اور جہنم کے ساتھ انصاف کرنا۔ کیا میں آپ کو قسمت کے بارے میں بتاؤں؟ میں اسے اس طرح بیان کرتا ہوں کہ تقدیر کے بارے میں خدا ہی جانتا ہے۔ ہم بعض اوقات جاننے کے عمل کو اور دخل اندازی کو آپس میں الجھا دیتے ہیں۔ جس طرح سورج کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ہم کہتے ہیں کہ ایک پیلا ہے اور ایک سرخ ہے۔ یہ دو مختلف خصوصیات ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا نام العلیم بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس نام کا مطلب ہے " جاننے والا"۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس نام کا مطلب ہے "قسمت کو جاننے والا"۔ اس کا دوسرا نام القادر ہے۔ اس نام کا مطلب ہم "تخلیق کرنے والا" کے طور پر لے سکتے ہیں۔ خدا سب جانتا ہے لیکن کیا وہ ہمارے ساتھ مداخلت کر رہا ہے؟ ہم دو مختلف تصورات کو آپس میں الجھا
رہے ہیں۔ یہ سورج کے دو مختلف رنگوں کی طرح ہی ہے۔ خدا کے نام العلیم اور القادر یہ دونوں الگ الگ نام ہیں۔ پھر ہم یہ کہیں گے: کہ یہ حقیقت ہے کہ خدا سب کچھ جانتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہمارے کام میں مداخلت کرتا ہے یا ہمیں کسی کام کے لیے مجبور کرتا ہے۔ ان ناموں کے اندر مختلف خصوصیات ہیں۔ تو پھر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری قسمت میں تو سب کچھ پہلے سے لکھا ہوا ہے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ نہیں، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ خدا نے یہ سب ہماری قسمت میں لکھا ہے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ہم یہ کام کریں گے۔ چلیں ایک چھوٹی سی مثال کے ساتھ بات کا اختتام کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ دو کاریں مخالف سمت سے آ رہی ہیں۔ ہم ریاضی کے مطابق حساب لگاتے ہیں ۔ ہم اس کا حساب لگاتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ وہ کاریں آٹھ
سیکنڈ میں ٹکرا جائیں گی۔ آپ نے یہ ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھ دیا، اور کاروں کا تصادم ہو گیا۔ ظاہرہے کہ یہ ہونا ہی تھا۔ چونکہ آپ نے یہ سب اس کاغذ پر لکھا ہے، تو کیا لوگ آپ کے پاس آ کر یہ کہہ سکتے ہیں؛ "کہ ہم اس لیے ٹکرا گئے ہیں کیونکہ آپ نے اس کاغذ پر لکھا تھا۔ اس لیے آپ مجرم ہو" وہ یہ سب نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ پہلے سے ہی ظاہر تھا کہ ایسا ہو گا۔ قطعی طور پر آپ نے پہلے ہی اپنے علم سے اس کی شناخت کر لی تھی، اور آپ نے اس کو اپنے علم کے مطابق لکھا تھا۔ آپ کی تحریر آپ کے علم پر منحصر تھی۔ علم کا انحصار کسی چیز کے معلوم ہونے پر ہے۔ اسی طرح ہماری تقدیر کے بارے میں خدا کا لکھنا بھی ہماری زندگی کے ان واقعات پر منحصر ہے۔ ہم ایسا اس لیے نہیں کرتے کیونکہ خدا جانتا ہے بلکہ اس لیے کرتے ہیں کیونکہ خدا جانتا
ہے کہ ہم کیا کریں گے اور وہ اسی کے مطابق لکھتا ہے، جیسا کہ پچھلی مثال میں واضح کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں تقدیر کے معاملے پر اسی طرح غور کرنا چاہیے۔ لہٰذا، اگر کوئی شخص جرم کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری اُسی شخص پر عائد ہوتی ہے۔ کیا اب آپ کو یہ سب چیزیں واضح ہیں؟ جی ہاں بالکل واضح ہیں۔ اللہ کا شکر ہے۔ میں سمجھ گیا ہوں۔ یہ اب واقعی واضح ہیں۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ مجھے ہمیشہ خدا پر یقین رہا ہے۔ اتنی بڑی کائنات اپنے طور پر وجود میں نہیں آ سکتی۔ اور یہ کسی بھی طرح ممکن نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ سوالات تھے جنہوں نے مجھے الجھایا ہوا تھا۔ آپ کیا کہتے ہیں ، کیا ہم آج کے دن کو مبارک دن بنائیں گے؟ آئیے کرتے ہیں، آئیے کرتے ہیں۔ آپ کو کلمہ شہادت یاد ہے نا؟ یقیناً ، بے شک۔ اشھد اَن لّاِالٰہ
َاِلااللہ وَاَشھدُ اَنَّ محمدًرسول اللہ