Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Is Video Ke Baad Koi Bhi Shak-Parast Nahi Reh Sakta!

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

ہو سکتا ہے، کسی نے یہ ویڈیو YouTube پر اَپلوڈ ہی نہ کی ہو۔ ہم کبھی یہ نہیں جان سکتے۔ یہ کتنی بے معنی بات لگتی ہے، ہے ناں؟ آپ کا یہ ویڈیو دیکھنا ہی اِس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ کسی نے اِسے ضرور اَپلوڈ کیا ہے۔ لہٰذا، شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ صرف اِس لیے کہ آپ اَپلوڈر کو نہیں دیکھ سکتے کیا اِس کا مطلب ہے کہ وہ ہے ہی نہیں؟ یا اِس کا یہ مطلب ہے کہ ہمیں اُس کے ہونے یا نہ ہونے کا علم نہیں ہو سکتا؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ کائنات کا بھی یہی معاملہ ہے۔ بالکل اِس ویڈیو کی طرح، جب یہ کائنات بھی بن چکی ہے، تو کوئی کیسے کہہ سکتا ہے، ’’ہم نہیں جان سکتے کہ اِسے بنانے والا ہے بھی یا نہیں‘‘؟ یہ بات بالکل غیر معقول لگتی ہے۔ خالق کا وجود صرف عقیدے کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے ہمیں ثبوت، دلیل، اور عقل کی بنیاد پر قبول کرنا ہوگا۔ اَیگناسٹِکس کہتے ہیں، ’’ہم کبھی نہیں جان سکتے کہ خدا ہے بھی یا نہیں۔‘‘ مگر اِس میں ایک عجیب نکتے کی بات ہے۔ وہ صرف ویڈیو دیکھ ہی نہیں رہے؛ بلکہ وہ تو اِس کے اندر موجود ہیں۔ کوئی بھی چیز یا تو وجود رکھتی ہے یا نہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بیچ کی کوئی حالت نہیں ہوتی۔ تو جب کوئی کہتا ہے، ’’میں تو درمیان کی راہ پر ہوں،‘‘ تو وہ دراصل، نہ جانتے ہوئے بھی، انکار کی طرف، ایتھیزم کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے، منطقی یا عقلی طور پر، اِسے قانونِ عدمِ اوسط کہا جاتا ہے۔ یعنی کوئی چیز یا تو A ہے یا A نہیں ہے۔ کوئی چیز یا تو سیاہ ہے یا سیاہ نہیں ہے۔ کوئی تیسرا آپشن نہیں ہے۔ بالکل اِسی طرح، کوئی چیز یا تو وجود رکھتی ہے یا نہیں رکھتی۔ لہٰذا اگنوسٹک فلسفہ بنیادی منطق میں غلط ہے۔ اور یہ جاننا کہ خدا وجود رکھتا ہے، کوئی میتھ کا مشکل سوال حل کرنے جیسا نہیں ہے۔ یہ تو وہ سچائی ہے جو ہمارے اندر موجود ہے، ہماری فطرت میں بھی، اور ہماری تخلیق میں بھی۔ اِس بارے میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے Justin L.

Barret کی آنکھیں کھول دینے والی ایک تحقیق ہے۔ Barrett اور دوسرے 57 ماہرینِ تعلیم نے 20 مختلف ممالک میں ریسرچ انجام دی۔ اُنہوں نے جانا کہ بچے تقریباً تین سال کی عمر میں ایک ماورائی طاقت، اپنے خالق پر فطری طور پر یقین رکھنے لگتے ہیں۔ تو تین سال کی عمر میں بچے درحقیقت تمام ماورائی ہستیوں کو اپنے ماحول اور ثقافتی پسِ منظر میں اتنا ہی اچھا سمجھ لیتے ہیں، چاہے بالغ افراد اُنہیں ذہانت کے اِس درجے پر نہ سمجھتے ہوں۔ مگر بچے اِن تمام ہستیوں کو سُپر اسمارٹ سمجھتے ہیں؛ کہ وہ ہر بات جانتی ہیں۔ بچوں کی ذہنی نشوونما میں خالقِ کائنات کے تصور کی ایک فطری تائید موجود ہوتی ہے۔۔۔ کہ وہ طاقتور ہے سب کچھ جاننے والا اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ خدا پر یقین رکھنے کا تصور ایسا نہیں ہے کہ جسے بڑی عمر میں سیکھا جاتا ہو۔ یہ تو ایک قدرتی رجحان ہے جو ہمارے اندر موجود ہے۔ فطری (پیدائشی) طور پر اِس موضوع پر ایک اضافی تحقیق بھی کی گئی ہے۔ اِسے اِس انداز سے سوچیں: اگر آپ ساحل پر چل قدمی کر رہے ہوں اور آپ کو ریت پر ایک دل بنا ہوا نظر آئے اور لکھا ہو، “I love you” تو شاید آپ کہیں گے کہ ’’کوئی اپنی محبت کا اقرار کر رہا ہے۔‘‘ لیکن اگر کوئی آ کر کہے کہ ’’کیا کسی نے اِسے بنایا ہے؟ میرے خیال میں یہ کسی نے نہیں لکھا‘‘؟ تو آپ کا کیا ردعمل ہوگا؟ کیا آپ اُسے سنجیدگی سے لیں گے؟ یا آپ کو آثارِ قدیمہ کی ایک کھدائی سے ہزاروں سال پرانا ایک چمچ مل جائے، تو ہم فوراً یہ فرض کر لیں گے کہ اِسے کسی ماہر، علم والے شخص نے بنایا تھا۔ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ یہ چمچ قدرتی طور پر، فزکس کے قوانین، یا اتفاق سے تخلیق پا گیا۔ ہم کہیں گے کہ اِس کے پیچھے ارادہ موجود تھا۔ اور ارادہ قدرتی طور پر ایک سمجھدار ذہن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تو کیا ہماری دنیا، اِس میں موجود سب لوگ، سارے نظام، اور ساری مخلوق، ایک چمچ سے کہیں زیادہ پیچیدہ نہیں ہیں؟ تو پھر ہم اِسے کسی علم والے خالق کے ساتھ منسوب کرتے ہوئے کیوں ہچکچاتے ہیں؟ یا تصور کریں کہ آپ کسی فٹبال میچ کا نتیجہ سنیں۔ نتیجہ 1-0 رہا۔ پھر کوئی پوچھے: ’’گول کس نے اسکور کیا؟‘‘ ’’ہمیں نہیں پتہ کہ ہوا بھی تھا یا نہیں ہم نے کسی کو گول کرتے نہیں دیکھا۔‘‘ اِس بات پر آپ کیا کہیں گے؟ اگر اسکور 1-0 ہے، تو یہ کہنا بے کار ہے کہ کسی نے گول کیا بھی تھا یا نہیں۔ گول واقعی ہوا ہے؛ تبھی تو نتیجہ سامنے ہے۔ کسی نے لازماً اِسے اسکور کیا ہوگا، رائٹ؟ کائنات پر بھی یہی بات پوری اترتی ہے۔ یہ ہمارے سامنے ہے، واضح طور پر موجود ہے۔۔ ایک طرح سے، یہ 0 سے 1 ہو چکی ہے۔ گول ہو چکا ہے۔ کائنات وجود میں آ چکی ہے۔ تو اب کوئی کیسے کہہ سکتا ہے، ’’ہمیں نہیں پتہ کہ کسی نے اِسے بنایا بھی ہے یا نہیں‘‘؟ اگنوسٹیسزم مضبوط ایمان، کمزور ایمان وغیرہ کی کیٹاگریز میں تقسیم ہو چکا ہے۔ مگر ابھی ہم اِس تفصیل میں نہیں جاتے۔ فی الحال صرف بنیادی مسئلے پر بات کرتے ہیں۔ رسالۂ نور کے مجموعے میں، ایک بہت ہی مضبوط عقلی دلیل دی گئی ہے۔ چونکہ وجود ایک اٹل حقیقت ہے، تو اِس کی کوئی وجہ ہونا بھی لازمی ہے۔ ہر روز، لاکھوں جاندار ہماری آنکھوں کے سامنے وجود میں آتے ہیں۔ اِس کی وضاحت ایک طریقے سے کی جا سکتی ہے چار میں سے : ایٹمز نے کائنات تخلیق کی اور تخلیق کا یہ عمل اب بھی جاری ہے۔ ہر چیز خود بخود وجود میں آ گئی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ فطرت کے قوانین نے یہ سب تخلیق کیا ہے اور تخلیق کا یہ عمل جاری ہے۔ یا پھر کسی پیدا کرنے والے نے ہر چیز کو تخلیق کیا ہے اور وہ مسلسل تخلیق کر رہا ہے۔ اگر ہم یہ ثابت کر دیں کہ پہلی تین باتیں عقلی طور پر ناممکن ہیں، تو چوتھی بات ہی واحد عقلی دلیل رہ جاتی ہے۔ آئیے اِسے تفصیل سے دیکھتے ہیں: اِس نظام کے پیچھے ایٹمز نہیں ہو سکتے کیونکہ ایٹمز خود بھی بعد میں وجود میں آئے۔ مادہ خود اپنے آپ کو کیسے پیدا کر سکتا ہے جبکہ وہ پہلے موجود ہی نہیں تھا؟ اور ایٹمز تو بے جان، بے شعور، بے خبر اور بے ارادہ اجزاء ہیں۔ اُن کے پاس خود کو اتنے پرفیکٹ سسٹمز میں ڈھالنے کا نہ علم ہے نہ طاقت۔ وہ زندگی کو تخلیق نہیں کر سکتے کیونکہ اُن میں زندگی ہے ہی نہیں، اور وہ اُس ہم آہنگی کو کنٹرول نہیں کر سکتے جو ہمیں کائنات میں نظر آتی ہے۔ لہٰذا ایٹمز اِس کا جواب نہیں ہو سکتے۔ دوسری چیز، کسی بھی چیز کا خود سے پیدا ہو جانا بھی ناممکن ہے کیونکہ کوئی بھی چیز خود بخود پیدا نہیں ہو سکتی۔ تصور کریں، کیا ماں خود اپنے آپ کو پیدا کر سکتی ہے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا، وجود پانے کے لیے کسی چیز کا پہلے سے موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن مادہ تو لافانی نہیں؛ یہ بدلتا رہتا ہے۔ جو چیز بدلتی رہتی ہو وہ غیر فانی نہیں ہو سکتی۔ مزید یہ کہ جب ہم ایٹم کو دیکھیں تو یہ کمزور ہے، نابینا ہے، بے شعور ہے، اور بے جان ہے۔ لہٰذا کسی ایسے لافانی وجود کا ہونا ضروری ہے جو پوری قدرت اور طاقت والا ہو، جو نہ بدلنے والا، وقت کی قید سے آزاد اور مکمل علم والا ہو، جس نے اِسے عدم سے وجود بخشا اور جو اِس پر کنٹرول رکھتا ہے۔ فطرت کے قوانین بھی یہ کام خود سے نہیں کر سکتے، کیونکہ فطرت کا قانون کوئی مادی چیز نہیں ہے۔ یہ تو صرف ایک نام ہے جو ہم مادے کے مخصوص رویے کی وضاحت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سرخ بتی پر رک جانا ایک قانون ہے، مگر خود قانون میں گاڑیوں کو روکنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ قانون خود کسی کو سزا نہیں دے سکتا یا منظم نہیں رکھ سکتا۔ قوانین خود سے نہیں چلتے؛ بلکہ انہیں چلایا جاتا ہے۔ بالکل اِسی طرح، فطرت کے قوانین خود سے کچھ نہیں کر سکتے جب تک کہ اُن کے پیچھے کوئی باشعور ارادہ نہ ہو۔ گویا، یہ واضح ہو گیا کہ پہلے تین آپشنز ناممکن ہیں۔ اور اللہ کا وجود ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ذہن انکار نہیں کر سکتا۔ دلچسپ بات یہ کہ، اَیگناسٹِکس عموماً کہتے ہیں، ’’ہم یہ نہیں جان سکتے۔‘‘ مگر عجیب بات یہ ہے کہ وہ ہمارے بیان کردہ پہلے تین آپشنز ایٹمز، اتفاقیہ یا فطرت کے قوانین کو عموماً بہت آسانی سے قبول کر لیتے ہیں۔ اب، وہ لوگ جو اِس مسئلے کو زیادہ گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں، آئیے اگنوسٹیسزم کے بنیادی دعووں کو مزید تفصیل سے دیکھتے ہیں۔ اگنوسٹک تصور میں تین بنیادی دعوے ہیں۔ اگنوسٹک فلسفے کا پہلا دعویٰ یہ ہے: انسانی دماغ خالقِ کائنات کو جاننے کا اہل نہیں ہے، لہٰذا اُس کے وجود کو جاننا ممکن نہیں۔ مگر کیوں؟ یہ فیصلہ کس نے کیا؟ خدا کے وجود کو جاننے اور اُس کی تمام صفات، جیسے کہ لافانیت کو مکمل طور پر سمجھنے کے درمیان فرق ہے۔ ظاہر ہے، ایک محدود ذہن لامحدود ہستی کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا، مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں اُس کے وجود کا ہی علم نہ ہو سکے۔ مثلاً، ہم بجلی کی فطرت کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتے، مگر ہمیں کبھی اِس کے وجود پر شک نہیں ہوتا کیونکہ ہمیں اِس کے اثرات نظر آتے ہیں، اِس کی روشنی، اِس کا کرنٹ، اور ہم کہتے ہیں کہ اِس کے پیچھے کوئی طاقت یا توانائی ضرور ہے۔ وجود کے تین درجے ہوتے ہیں: واجب (لازمی وجود)، ممکن (ممکن وجود)، اور ممتنع (ناممکن وجود)۔ اللہ کا وجود عقلی طور پر ضروری ہے، اور اِسے ہم کہتے ہیں واجب الوجود (لازمی وجود)۔ ذرا یہ سوچیں۔ اگر بجلی نہ ہو، تو کیا ہم ٹی وی اسکرین پر تصویر دیکھ سکتے ہیں؟ اگر توانائی کا بنیادی ذریعہ ختم ہو جائے، تو سب کچھ اس کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ بلکہ ختم ہونا تو دور کی بات وہ چیز شروع ہی نہیں ہوتی۔ خدا ہر چیز کی توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے، اور اُس کے بغیر ہم کسی چیز کے متعلق بات نہیں کر سکتے۔ اگر دھواں ہے، تو آگ بھی ہوگی۔ اگر سایہ ہے، تو روشنی بھی ہوگی۔ اگر حرف ہے، تو اِسے لکھنے والا بھی ہوگا۔ اگر فن کا نمونہ ہے، تو کوئی فنکار بھی ہوگا۔ اِس کائنات کو وجود بخشنے کا عمل کسی نے انجام دیا ہے، اور وہ ہے اللہ ۔ رسالۂ نور میں ایک شاندار بات لکھی ہوئی ہے: ’’کوئی صفت، اپنے موصوف کے بغیر وجود نہیں رکھ سکتی۔‘‘ یعنی، اگر کوئی صفت موجود ہے، تو اُس صفت کا ''حاملِ وجود'' بھی کوئی ہوگا۔ مثلاً، اگر آپ کو سمندر کی سطح پر روشنی چمکتی ہوئی نظر آئے، تو آپ کو اِس کی وجہ بیان کرنی ہوگی۔ یا تو آپ کہیں گے کہ سورج کی شعاعیں لہروں پر پڑ رہی ہیں، یا پھر یہ قبول کریں گے کہ پانی کے ہر قطرے کے اندر روشنی کا خزانہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے، ’’ہم نہیں جان سکتے کہ خدا کا وجود ہے یا نہیں،‘‘ تو وہ دراصل سارے ایٹمز کو خدا مان رہا ہوتا ہے۔ مگر کائنات میں نظر آنے والی صفات، جیسے کہ زندگی، رحم عقل، سخاوت وغیرہ وغیرہ سب ایک خدا کی صفات ہیں، ایٹمز کی نہیں۔ اگنوسٹک فلسفے کا دوسرا بنیادی دعویٰ یہ ہے: کوئی چیز اُس وقت تک یقینی نہیں ہو سکتی جب تک کہ اُسے براہِ راست نہ دیکھ لیا جائے یا سائنسی طور پر ثابت نہ ہو جائے۔ مگر کیوں؟ کس نے یہ اصول مقرر کیا؟ یقینی علم کا حاصل ہونا صرف سائنسی مشاہدے پر کیوں منحصر ہے؟ صرف کسی چیز کے نظر نہ آنے کی بنیاد پر ہم اُس کے وجود کا انکار نہیں کر سکتے۔ یہ تو بس سچائی کو جھٹلانا ہوا، کیونکہ ہم نے خود ہی اپنی حدیں مقرر کر لی ہیں۔ یورپ والے کسی زمانے میں سمجھتے تھے کہ تمام ہنس سفید ہوتے ہیں پھر آسٹریلیا میں کالے ہنس دریافت ہوئے تو اُ ن کا خیال غلط ثابت ہوا۔ صرف آنکھوں سے نظر آنے والی چیزوں تک خود کو محدود کر لینا اور پھر یہ عام دعویٰ کر دینا کہ فلاں چیز اپنا وجود نہیں رکھتی سوچ کی ایک سنگین غلطی ہے۔ عدم وجود ثابت نہیں کیا جا سکتا، اور اِسی لیے خالقِ کائنات کے وجود سے انکار کرنا، شروع ہی سے ایک ایسی سوچ اور فلسفہ ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں، جو محض ایک خالی دعویٰ ہے۔ مزید یہ کہ، خدا کا کوئی مادی وجود نہیں ہے، تو پھر ہم اُسے ایک تجرباتی ماحول میں آنکھوں سے دیکھنے کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ اور پھر، ہم تو اور بھی بہت سی چیزیں نہیں دیکھ سکتے۔ مثلاً، ہم زمین کی کشش کو براہِ راست نہیں دیکھ سکتے، رائٹ؟ مگر ہمیں اِس کے اثرات نظر آتے ہیں، اِس کے نتائج کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں، اور کسی شک کے بغیر اِس کے وجود کو قبول کرتے ہیں۔ ہماری روح، ہمارے احساسات، ہمارا کردار، ہماری سوچیں، انصاف، قانون، اخلاقیات، بھائی چارہ، محبت، رحمدلی، ہمدردی، سخاوت، حسد، کچھ بھی تو مادی نہیں ہے۔ مگر ہر کوئی اِنہیں قبول کرتا ہے اور اِن کے سہارے جیتا ہے۔ اتنی ساری اَن دیکھی حقیقتوں کا تجربہ کرتے ہوئے، کیا صرف نظر آنے والی چیزوں کو قبول کرنا واقعی سمجھداری ہے؟ خصوصاً جبکہ سمجھداری خود بھی نہ نظر آنے والی چیز ہے۔ علم کی دو بنیادی اقسام ہیں: ایک خود واضح اور دوسری استدلالی۔ مثلاً، کیا آپ کو یہ جاننے کے لیے کسی بیرونی ثبوت کی ضرورت ہے کہ آپ موجود ہیں، یا آپ بھوکے، پیاسے، اداس، یا خوش ہیں؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو ہم کسی ثبوت کے بغیر قدرتی طور پر جانتے ہیں۔ یہ یقینی علم کی چیزیں ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، ہمیں ہر چیز کے لیے سائنسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ شعوری علم، ایک پیدائشی علم ہوتا ہے جس کے ساتھ ہم جنم لیتے ہیں، اور انسان مخصوص سچائیوں کو لاشعوری طور پر جانتے ہیں۔ مثلاً، اخلاقی اصول: بغیر کسی وجہ کے، دوسرے شخص کو تکلیف دینا غلط ہے۔ ہم لاشعوری طور پر یہ جانتے ہیں۔ یا انسانی گوشت کو کھانا غلط اور کراہیت والا کام ہے، رائٹ؟ یہ بصیرت ہم میں پیدائشی طور پر رکھ دی گئی ہے۔ یا استدلالی علم: کوئی چیز ایک ہی وقت میں صحیح اور غلط دونوں نہیں ہو سکتی۔ یا پورا وجود اُس کے ایک حصے سے ہمیشہ بڑا ہوتا ہے۔ ہم یہ بات براہِ راست بصیرت کے ذریعے جانتے ہیں۔ یا پھر ریاضی کا علم: مثلاً، 5 کا عدد 1 سے بڑا ہے۔ یا پھر تاریخی علم: ہم جانتے ہیں کہ ماضی موجود تھا اور ہم اُس سے گزرے ہیں، رائٹ؟ یعنی اِس کے لیے ہمیں کسی سائنسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی، ہم اِس طرح کی بے شمار مثالیں دے سکتے ہیں۔ انسان نہ صرف بیرونی دنیا سے سیکھتا ہے بلکہ اپنے اندر کی دنیا سے بھی سیکھتا ہے۔ بالکل اِسی طرح، ہم خالقِ کائنات کے وجود کو بھی جان سکتے ہیں۔ یہ ناممکن کیوں لگتا ہے؟ کیونکہ سائنس بھی تو بدل جاتی ہے۔ یہ غلطیاں کر سکتی ہے اور نئے خیالات پیش کرتی رہتی ہے۔ مثلاً، سائنس نے ایک بار کہا تھا ایٹمز ٹوٹ نہیں سکتے، مگر وہ ٹوٹ گئے۔ اِس نے کہا تھا کہ کائنات ساکت ہے، مگر ہم نے دریافت کیا کہ اِس کا ایک آغاز تھا اور یہ ہر لمحہ پھیل رہی ہے۔ ایک بدلتے رہنے والے سسٹم کی بنیاد پر خدا کے وجود سے انکار کرنا موت کے بعد کی ہمیشہ کی زندگی کو داؤ پر لگانا ہے، جو بالکل سمجھداری کی بات نہیں ہے۔ درحقیقت، سائنس تو یہ سمجھنے کی کوشش کا نام ہے کہ اللہ اِس کائنات کا نظام کیسے چلاتا ہے۔ کھانا پکانے کی ترکیب کو پا لینے کا مطلب یہ نہیں کہ شیف کے وجود سے ہی انکار کر دیا جائے، کائنات کی کارگزاریوں کو سمجھنا بھی بالکل ایسے ہی ہے۔ اگنوسٹک فلسفے کا تیسرا دعویٰ یہ ہے: ہم نہیں جان سکتے کہ خدا کا وجود ہے یا نہیں، لہٰذا مذہب کے بارے میں کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن آئیے حقیقت کا سامنا کرتے ہیں: موت ایک حقیقت ہے اور اِس سے بچنا ممکن نہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو آج نہیں تو کل ہر ایک کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ اپنے دفتری کاموں کے ذرا سے دباؤ سے فکرمند ہو جانے والا شخص موت کے بعد کے عذاب کا خطرہ کیسے نظر انداز کر دیتا ہے؟ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ کی زندگی چاہتا ہے اور اپنے پیاروں سے الگ نہیں ہونا چاہتا۔ اپنی ماں، اپنے باپ، یا اپنے پیاروں کو کھو دینے کی سوچ اتنی غیر اہم کیسے ہو سکتی ہے؟ اگر ہم کہیں، ’’ہمیں اِن سوالات کے جوابات ڈھونڈنے یا اسلام کا مطالعہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ زندگی کے مزے لُوٹو،‘‘ تو ہم خود کو ہی دھوکہ دے رہے ہیں۔ حقیقت میں، لوگ اپنی روزمرہ زندگی میں بے یقینی کی کیفیت میں نہیں جی سکتے، اِس طرح کہ وہ شک کی کیفیت میں رہیں۔ ذرا غور کریں: آپ کے گھر سے دھواں اٹھ رہا ہے، اور کوئی آپ سے کہتا ہے، ’’شاید آگ لگ گئی ہے،‘‘ اور جواب یہ دیا جائے: ’’مجھے نہیں معلوم، ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔‘‘ یا بارش ہو رہی ہو اور کوئی کہے، ’’آپ کے گھر میں پانی بھر گیا ہے،‘‘ اور جواب دیا جائے: ’’پتہ نہیں، بھر بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ چھوڑو، ہم گپ شپ لگاتے ہیں۔‘‘ کیا یہ جوابات سمجھداری کا ثبوت ہیں؟ ظاہر ہے کہ نہیں، کیونکہ اِس طرح کی صورتحال میں، لوگ واضح قدم اٹھاتے ہیں؛ وہ ایکشن لیتے ہیں۔ اب اِس پر غور کریں: ایک ایسی کائنات جسے عدم سے وجود دیا گیا۔ تو اُس کا ایک خالق ہونا ضروری ہے، اور ایک پیغمبر ہیں جن کی سچائی وقت کی آزمائش میں ثابت ہو چکی ہے۔ اور ہمیشہ کی دوزخ کے امکان کے بارے میں خبردار کر دیا گیا ہے۔ مگر آپ یہ سن کر کہتے ہیں: ’’مجھے نہیں پتہ، ہو سکتا ہے، اور نہیں بھی۔ میں تو اپنی مرضی سے زندگی گزاروں گا۔‘‘ اِس ویڈیو کے دوران، ہم نے کئی عقلی ثبوت پیش کیے ہیں۔ حالانکہ ایک مثال بھی کافی ہوتی، مگر ہم نے اِس معاملے کو واضح کرنے کے لیے تفصیل سے سمجھایا ۔ درحقیقت، دلیل کے ساتھ صرف ایک جواب بھی اسلام قبول کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیوں؟ مثال کے طور پر، ایک محل کا تصور کریں جس کے سو دروازے ہوں جو خطرے کی صورت میں ایک پناہ گاہ ہو، تو اس کے باہر کھڑے رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اِس کے برعکس، اگر باہر تکلیفیں اور مصیبتیں ہوں۔ اور اُس محل کا صرف ایک دروازہ کھلا ہو، تو آپ کیا کریں گے؟ آپ اُس ایک دروازے سے اندر چلے جائیں گے، رائٹ؟ کیونکہ یہاں آپ کو حفاظت اور سلامتی ملے گی۔ اسلام میں، ہزاروں کی تعداد میں دروازے کھلے ہیں۔ تو ایک شخص اِس کے اندر داخل کیوں نہیں ہونا چاہتا؟ مزید یہ کہ، پوری کائنات پکار پکار کر اللہ کے وجود کا اعلان کر رہی ہے۔ بس ذرا گہرائی اور خلوص سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری روحوں کا وجود، یہ کہاں سے آئیں؟ کیا ایٹمز سے؟ جو خود روح نہیں رکھتے!

یا کائنات کا پورا نظام چلانے والے قوانین؟ یہ قوانین اصل میں ہیں کیا؟ کیا یہ عمدہ توازن کا ثبوت، اللہ کے وجود کی طرف واضح طور پر اشارہ نہیں کرتا؟ مزید یہ کہ، ضرورت کا ثبوت، ممکنات اور محدودیت کا ثبوت، باہمی تعاون کا ثبوت، یا پھر مقصد کا ثبوت، قرآن میں سائنسی اور ادبی معجزے، اِس کے تاریخی معجزے، اور اِس کے سماجی معجزے، پڑھے لکھے نہ ہونے کے باوجود، ہمارے نبی پاک ﷺ کا ایسے حل پیش کرنا جو صدیوں سے قیمتی ثابت ہوئے ہیں، یہ سب بھی اللہ کے وجود کے مزید دلائل فراہم کرتے ہیں۔ عقلی طور پر یہ ناممکن ہے کہ کسی سے فیصلہ نہ ہو پائے۔ تو کیا یہ زیادہ سمجھداری کی بات ہے کہ ہم خیالی غیر یقینیوں میں الجھے رہیں، یا یہ عقلمندی ہے کہ ہم سچائی اور اسلام کی طرف قدم بڑھائیں، جہاں ذہن اور دل کا سنگم ہوتا ہے؟ زندگی ایک سفر ہے جو پلک جھپکتے گزر جاتا ہے۔ ایک دن، یہ اچانک ختم ہو جائے گی۔ جب وہ دن آئے گا، تب آپ ہر گز یہ نہیں کہہ پائیں گے کہ ’’مجھے نہیں معلوم۔‘‘ ابھی جبکہ آپ کی سانس چل رہی ہے، تو سوچنے کا وقت باقی ہے۔ قدم بڑھائیں۔ اگر ہمیشہ کی زندگی داؤ پر لگ رہی ہے، تو سب سے بڑے امکان سے آنکھیں بند رکھنا کیا عقلمندی ہے؟ اگر یہ حقیقت ہوا تو؟ اگر آپ کو پیدا کرنے والا آپ کا منتظر ہوا تو؟ اگر ایک ایسا خدا ہوا جو آپ سے محبت کرتا ہے، آپ کو جانتا ہے، اور آپ کو معاف کرنے کے لیے تیار ہے، تو؟ پھر خود پر سب سے بڑا احسان کریں: سچ کا سامنا کرنے سے نہ گھبرائیں۔ اگنوسٹیسزم آپ کو دروازے کی دہلیز پر کھڑا رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن اگر آپ یہ قدم اٹھا لیں، تو شاید پہلی بار اپنے وجود کا حقیقی مفہوم محسوس کر لیں گے۔ اب فیصلہ آپ کا ہے۔