Rasool ﷺ Ke Aakhri Lamhat – Hz Bilal (RA) Azaan Mukammal Na Kar Sake – Aey Rasool | Final Ep
تاریخ اشاعت
ہر نبی کو ایک دعا عطا کی گئی تھی جو یقینی طور پر قبول ہونے والی تھی۔ اور ہر نبی نے وہ دعا اپنی زندگی میں استعمال کر لی۔ مثلاً، حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے یہ دعا مانگی: "اے میرے رب مجھے معاف فرما، اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو نصیب نہ ہو۔ بے شک، تو ہی سب سے بڑا عطا کرنے والا ہے۔" اور اللہ نے انہیں ایسی سلطنت عطا فرمائی جس کی کوئی مثال نہیں۔ دوسری طرف، حضرت زکریا (علیہ السلام) اپنے رشتے داروں کی وجہ سے فکرمند تھے جو ان کے بعد ان کی جگہ لینے والے تھے۔ وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے، ان کی زوجہ بانجھ تھیں۔ تو انہوں نے اپنے لیے دعا اللہ سے اولاد مانگنے کے لیے استعمال کی۔ اور اللہ نے انہیں حضرت یحییٰ (علیہ السلام) جیسا فرزند عطا فرمایا۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے تھے۔ تو آپ ﷺ نے اپنی وہ دعا اس دنیا میں استعمال نہیں کی۔ کیونکہ آپ ﷺ کے دل میں اپنی ذاتی ضروریات اور مشکلات سے پہلے، آپ ﷺ کی امت تھی۔ یعنی ہم تھے۔ تو نبی پاک ﷺ نے وہ دعا محفوظ رکھی۔ نہ اپنے لیے استعمال کی، نہ اپنے خاندان کے لیے، اور نہ ہی ان تکالیف سے نجات کے لیے جو آپ ﷺ نے برداشت کیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، "میں اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھنا چاہتا ہوں۔" آپ ﷺ نے وہ دعا اس لیے محفوظ رکھی تاکہ اللہ سے آخرت میں ہماری طرف سے، ہماری مغفرت کی درخواست کر سکیں۔ تاکہ اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر کہہ سکیں، "میری امت، میری امت" اور قیامت کے دن ہمیں بچا سکیں۔ آپ ﷺ نے وہ دعا اس دنیا میں استعمال نہیں کی۔ اپنے آرام کے بجائے، آپ ﷺ ہماری ابدی زندگیاں بچانا چاہتے تھے۔ آپ ﷺ کے دل میں اپنی امت کے لیے رحمت اور محبت کا یہ عالم تھا۔ اور اب، آپ ﷺ محسوس کر رہے تھے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ہیں۔ عنقریب، آپ ﷺ اپنے صحابہ، اپنی امت، اور پوری انسانیت کو ایک تاریخی خطبے میں مخاطب کرنے والے تھے۔ جسے ہم خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے جانتے ہیں۔ آئیے اب اس لمحے کی طرف لوٹتے ہیں اور آپ ﷺ کے الفاظ سنتے ہیں۔ یہ ویڈیو سیریز معتبر اسلامی ذرائع سے لیے گئے، سیکڑوں حوالہ جات پر مبنی ہے۔ تمام اے آئی مناظر مستند اسلامی علماء کی مشاورت سے تیار کیے گئے ہیں اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک، حج، ہجرت کے 9ویں سال فرض کیا گیا تھا۔ اور دسویں سال، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حج کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اور آپ ﷺ نے مدینہ کے مسلمانوں اور قریبی قبائل کو بھی تیاری کا حکم دیا۔ ہزاروں مسلمان مدینہ میں جمع ہو گئے، سفر کے لیے تیار۔ وہ انتہائی پرجوش تھے کیونکہ وہ اپنا پہلا حج نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہمراہ ادا کرنے والے تھے۔ لیکن انہیں اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا آخری حج ہوگا۔ 25 ذوالقعدہ کو، 40,000 لوگوں پر مشتمل ایک قافلے نے ظہر کی نماز ادا کی اور پھر روانہ ہو گئے، نبی پاک ﷺ کی قیادت میں۔ حج شروع کرنے سے پہلے، آپ ﷺ نے یہ دعا مانگی: "اے اللہ، ایسا حج نصیب فرما جس میں نہ کوئی دکھاوا ہو اور نہ شہرت کی طلب۔" وہ اپنے ساتھ قربانی کے لیے سو اونٹ لے کر آئے تھے۔ تقریباً دس دن کے سفر کے بعد، وہ 4 ذوالحجہ کو مکہ پہنچے۔ جب یمن اور دیگر علاقوں سے حج کے لئے آنے والے مسلمان بھی ان سے آ ملے، تو ان کی تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی۔ یہ کیسی عظیم فتحِ قلوب تھی!
دس سال پہلے، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) صرف حضرت ابوبکر کو ساتھ لے کر مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ اور اب، آپ ﷺ دسیوں ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ واپس آ رہے تھے۔ یہ کام کسی جنگ سے، کسی تلوار سے ممکن نہیں تھا۔ یہ تلواروں کی بات نہیں تھی۔ یہ دلوں کو فتح کرنے والی بات تھی۔ نبی پاک ﷺ کے دل میں سکون تھا۔ آپ ﷺ اپنا فریضہ حج ادا کرنے کے لیے تیار تھے۔ 8 ذوالحجہ کو آپ ﷺ منیٰ تشریف لے گئے۔ اور نویں دن، آپ ﷺ عرفات پہنچے۔ اس دن دوپہر کے بعد، میدانِ عرفات کے وسط میں، آپ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا۔ آپ ﷺ نے ان الفاظ سے آغاز فرمایا، "اے لوگو۔" غور کیجیے، آپ ﷺ نے "اے مسلمانوں " نہیں فرمایا، کیونکہ یہ پکار صرف ان لوگوں کے لیے نہیں تھی جو اس روز عرفات میں موجود تھے۔ بلکہ یہ ہر اس شخص کے لیے تھی جو قیامت تک آنے والا تھا۔ مرد اور عورتیں، بوڑھے اور جوان، آپ ﷺ ایک لاکھ سے زائد لوگوں سے مخاطب تھے۔ اور ان کے ذریعے، آنے والی ہر نسل سے۔ آپ ﷺ نے اپنے خطبے کا آغاز ان الفاظ سے فرمایا: "تمام تعریفیں اور شکر اللہ کے لیے ہیں۔ ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ اور جسے وہ گمراہی میں چھوڑ دے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ ایک ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک ہے، نہ ہمسر، اور نہ ہی کوئی اس کی مثل ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے لوگو، میری باتیں غور سے سنو۔ کیا خبر کہ اس سال کے بعد اس جگہ میری تمہاری ملاقات نہ ہوسکے۔ اے لوگو، جس طرح تمہارا یہ دن، تمہارا یہ مہینہ، اور تمہارا یہ شہر مکہ حرمت والے ہیں، اسی طرح تمہاری جانیں، تمہارے مال، اور تمہاری عزتیں بھی اتنی ہی محترم ہیں۔ یہ سب ہر نقصان سے محفوظ ہیں۔ میرے ساتھیو، کل تم اپنے رب سے ملو گے۔ اور تم سے تمہارے ہر عمل کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔ میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ جو یہاں موجود ہیں وہ میری باتیں ان تک پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جنہیں یہ پیغام پہنچے، وہ اسے ان سے بہتر سمجھیں، جنہوں نے آج یہاں اسے سنا ہے۔" آپ ﷺ نے سب سے پہلے سود کے بارے میں بات فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا، "میرے ساتھیو، جس کے پاس کسی کی امانت ہو، وہ اسے فوراً اس کے مالک کو لوٹا دے۔ جان لو کہ ہر قسم کا سود ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اور سب سے پہلا سود جو میں ختم کرتا ہوں وہ میرے چچا عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے۔ البتہ تمہاری اصل رقم تمہارا حق ہے۔ نہ کسی پر ظلم کرو، اور نہ خود ظلم سہو۔" پھر آپ ﷺ نے عورتوں کے حقوق کے بارے میں فرمایا۔ "اے لوگو، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ عورتوں کے حقوق کا خیال رکھو اور ان کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر قبول کیا ہے، اور تم نے ان سے تعلق کو اللہ کے نام پر اپنے لیے حلال کیا ہے۔ جیسے تمہارے ان پر حقوق ہیں، ویسے ہی ان کے بھی تم پر حقوق ہیں۔" آپ ﷺ نے وہ الفاظ فرمائے جو نسل پرستی کی جڑ کاٹ دینے والے تھے۔ "اے لوگو، تمہارا رب ایک ہے۔ تمہارا باپ ایک ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو۔ اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔ اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی برتری حاصل ہے۔ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ ہی کسی کالے کو کسی گورے پر۔ فضیلت صرف تقویٰ سے ہے، یعنی اللہ سے ڈرنے سے۔ اللہ کی نظر میں ،تم میں سے سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہو۔" آپ ﷺ ان مسائل کو حل کر رہے تھے جن سے انسانیت صدیوں تک نبرد آزما رہنے والی تھی، اور وہ حل فراہم کر رہے تھے جن کی دنیا کو شدید ضرورت تھی۔ پھر آپ ﷺ نے ہمیں ایک امانت سونپی۔ "رسول اللہ فرماتے ہیں، اے اہلِ ایمان، میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے، تم ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔ یہ ہیں :اللہ کی کتاب، قرآن، اور اس کے نبی کی سنت۔" آخر میں، آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے ایک سوال پوچھا۔ "اے لوگو، تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا۔ تم کیا کہو گے؟" "ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے پیغام پہنچا دیا، اپنا فریضہ پورا کیا، اور ہمیں نصیحت فرمائی۔" یہ سن کر، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا، "اے اللہ، تو گواہ رہ!
اے اللہ، تو گواہ رہ!
اے اللہ، تو گواہ رہ!" آج چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی، اگر ہماری گواہی بھی قبول ہو، تو ہم بھی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنا فریضہ پورا فرمایا، اے اللہ کے رسولﷺ۔ دوپہر ڈھل چکی تھی۔ شام ہونے والی تھی۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی اونٹنی قصواء پر سوار تھے۔ اچانک آپ ﷺ کا چہرہ بدل گیا، اور پیشانی سے پسینے کے قطرے بہنے لگے۔ صحابہ سمجھ گئے، آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد، جب وہ کیفیت ختم ہوئی، تو نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ابھی نازل ہونے والی آیت تلاوت فرمائی۔ "آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت کا اتمام کیا، اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔" اچانک، زور زور سے رونے کی آواز آنے لگی۔ یہ حضرت ابوبکر تھے۔ ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری تھے۔ لیکن جب باقی سب لوگ اس آیت پر خوشی سے سرشار تھے، تو آخر انہیں رلایا کس بات نے؟ وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ آیت دراصل ایک الوداع تھی۔ جب اللہ نے فرمایا، "میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا،" تو اس کا مطلب تھا کہ نبی پاک ﷺ کا مشن اب مکمل ہو چکا ہے۔ اور جدائی کا وقت قریب آ گیا ہے۔ اس لمحے، صرف حضرت ابوبکر ہی یہ بات سمجھے تھے۔ شاید اللہ انہیں اس بھاری جدائی کے لیے پہلے سے تیار کر رہا تھا۔ کیونکہ نبی پاک ﷺ کی رحلت، صحابہ کو بنیادوں سے ہلا دینے والی تھی۔ جب وہ وقت آتا، تو کسی کو مضبوطی سے کھڑے ہو کر، سب کو سنبھالنا اور رہنمائی کرنی تھی۔ اور واقعی، اس دن حضرت ابوبکر پہاڑ کی مانند ثابت قدم رہے۔ فتح مکہ کو دو سال گزر چکے تھے۔ تو ان دو سالوں میں کیا ہوا؟ آئیے مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ جزیرۃ العرب کے قلب کی حیثیت سے، مکہ توحید کا مرکز بن چکا تھا، یعنی اللہ کی وحدانیت کا مرکز۔ اور اس عظیم تبدیلی نے دوسرے قبائل کے لیے اسلام قبول کرنے کا دروازہ کھول دیا۔ "۔۔۔اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔" اور یوں وہ سال شروع ہوا جسے سنۃ الوفود کہا جاتا ہے۔ عرب کے ہر کونے سے قبائل آئے اور اسلام قبول کیا۔ یمن سے تعلق رکھنے والے لوگ، قبیلہ سُلیم، مُزینہ، جُہینہ، ہوازن، اور یہاں تک کہ اہلِ طائف بھی آئے اور مسلمان ہو گئے۔ اہلِ طائف کے لیے نبی پاک ﷺ کی دعا یاد ہے؟ وہ دعا اب قبول ہو رہی تھی۔ اس سال، 60 سے زائد وفود آئے۔ فتح مکہ کے فوراً بعد، عمان کے حکمران اور وہاں کے لوگوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ ایک اور سردار جنہوں نے اسلام قبول کیا وہ بحرین کے حکمران تھے۔ ان کے ساتھ، مجوسیوں کے مذہبی پیشوا نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ بحرین کے بعض مجوسی مسلمان ہو گئے، جبکہ کچھ نے اپنے مذہب پر رہنے کا فیصلہ کیا۔ سورۃ النصر میں بیان کیے گئے دن بالآخر آ پہنچے تھے۔ بالکل جیسا آیت میں بیان ہوا تھا۔ گروہوں کی شکل میں، لوگ اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہو رہے تھے۔ اور ان نو مسلموں کے علاقوں میں، صحابہ کو بطور والی یا نمائندے بھیجا گیا۔ یہ صحابہ قاضی کے فرائض بھی انجام دیتے تھے اور لوگوں کو ان کا دین سکھاتے تھے۔ ...ایک ساتھ رہو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ وہ زکوٰۃ کے معاملات کی نگرانی کے بھی ذمہ دار تھے۔ وہ تین چیزیں یاد ہیں جن کے خلاف نبی پاک ﷺ نے جدوجہد کی تھی، جب مدینہ میں ریاست کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں؟ جہالت...
غربت...
اور فساد۔ یہ نمائندے دراصل اسی جدوجہد کو عملی شکل دے رہے تھے۔ وہ لوگوں کو دین سکھاتے تھے، اور چونکہ اسلام صرف عبادت تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، تو وہ سب دراصل جہالت کے خلاف لڑ رہے تھے۔ قاضی کی حیثیت سے، اسلام پر مبنی فیصلے کر کے اور اسلامی اخلاقیات پھیلا کر وہ فساد اور تفرق کے خلاف لڑ رہے تھے۔ اور زکوٰۃ کے نظام کی نگرانی کر کے، وہ براہِ راست غربت کے خلاف لڑ رہے تھے۔ ہر سال قبائل کو زکوٰۃ کے بارے میں سکھایا جاتا، جو اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔ پھر زکوٰۃ ان لوگوں سے وصول کی جاتی، جن کی دولت ، نصاب یعنی مقررہ کم از کم حد سے زیادہ ہوتی۔ پھر عاملین اس زکوٰۃ کو اسی علاقے کے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے۔ اس نظام کا اتنا زبردست اثر ہونے والا تھا کہ صرف چند سالوں میں، جو لوگ کبھی زکوٰۃ لیتے تھے وہ اس مقام پر پہنچ گئے کہ خود زکوٰۃ دینے لگے۔ بلکہ صرف چند سال بعد، حضرت معاذ بن جبل نے زکوٰۃ اکٹھی کی، لیکن چونکہ پورے یمن میں انہیں ایک بھی ضرورت مند نہ مل سکا، تو انہیں زکوٰۃ کی رقم خلافت کے مرکز بھیجنی پڑی تاکہ اسے کسی اور جگہ تقسیم کیا جا سکے۔ ذرا تصور کیجیے۔ آپ صدقہ دینے نکلے ہیں، لیکن پورے شہر میں کوئی بھی ضرورت مند نہیں ملتا۔ خواب جیسا لگتا ہے نا؟ اسلام ایسے ہی نظام کا وعدہ کرتا ہے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) اور چاروں خلفاء کے دور میں، مسلمانوں سے زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا۔ اور اگر کوئی مسلمان زکوٰۃ دینے کی استطاعت نہ رکھتا، تو اس سے کچھ نہیں لیا جاتا تھا۔ یہودی، عیسائی اور مجوسی برادریوں سے البتہ جزیہ کے نام سے ایک ٹیکس وصول کیا جاتا تھا۔ اس ٹیکس کے بدلے میں، انہیں جنگ کے وقت فوج میں شامل نہیں ہونا پڑتا تھا۔ ان کی جانوں اور مال کی حفاظت کی جاتی تھی، اور وہ بغیر کسی امتیاز کے ریاست کی تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے دورِ خلافت میں، عدالت میں ایک عیسائی کے مقابلے میں ان کے ساتھ برابر کا سلوک کیا گیا۔ حالانکہ وہ سربراہِ مملکت تھے۔ اور اس عیسائی کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہوئی۔ تاہم، انصاف کی یہ سطح دوسری سلطنتوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی، جیسے رومی یا ساسانی سلطنتیں۔ اور جزیہ کی مقررہ رقم بھی اتنی نہیں ہوتی تھی کہ لوگوں کو مشکل میں ڈال دے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رومی اور ساسانی حکومتوں کے تحت رہنے والے لوگ برسوں سے بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ "یہ میری آخری فصل ہے۔ میرے بچے بھوکے مر رہے ہیں جبکہ تمہارے گودام بھرے پڑے ہیں۔ اللہ ضرور ہمارے لیے ایک نجات دہندہ بھیجے گا!" لیکن جب ان کے علاقے اسلامی حکومت کے زیرِ نگیں آئے، تو انہیں بہت ہلکے ٹیکس سے سکون ملا۔ اور اس کے علاوہ، عورتوں، بوڑھوں، شدید بیماروں، اور مذہبی پیشواؤں سے کوئی بھی ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا۔ فتح شدہ علاقوں کے علاوہ، کچھ سلطنتوں نے بھی مسلمانوں کی بالادستی قبول کر لی اور سالانہ جزیہ ادا کرنے پر رضامند ہو گئے۔ مثال کے طور پر، غزوہ تبوک کے دوران، بادشاہ کندہ، حاکمِ ایلہ اور اہلِ جربا اور اذرُح کو اسلام کی دعوت دی گئی۔ لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا۔ چنانچہ ہر سال جزیہ ادا کرنے کے بدلے ان کے ساتھ صلح کے معاہدے کیے گئے۔ "اللہ کے رسول ﷺ کے حکم سے، اب سے تم جزیہ ادا کرو گے۔" اس وقت ریاست کے اخراجات تین ذرائع سے پورے ہوتے تھے: جزیہ، مالِ غنیمت، اور وقف یعنی خیراتی اداروں کی آمدنی۔ اور یوں، فتح مکہ کے بعد صرف دو سالوں کے اندر، مضبوط سلامتی اور نظم و نسق قائم ہو چکا تھا۔ ایک مستحکم نظام اپنی جگہ قائم ہو چکا تھا۔ دوسری طرف، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حکم سے، پورے خطے میں بتوں اور بت خانوں کو مسمار کر دیا گیا۔ عرب میں بت پرستی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا۔ یہ تمام عظیم الشان تبدیلیاں صرف 23 سالوں میں رونما ہوئیں۔ جہالت سے بھرپور معاشرے میں، جہاں ایسی تبدیلی تقریباً ناممکن لگتی تھی۔ اللہ کے حکم سے، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کوئلے کو ہیرے میں بدل رہے تھے۔ اور آپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ وہ لوگ تھے جو ہر میدان میں دنیا کے لیے معلم اور نمونہ بننے والے تھے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) حجۃ الوداع ادا فرما رہے تھے۔ اور آپ ﷺ نے تمام مناسک ایک ایک کر کے مکمل فرمائے۔ لیکن جب قربانی کا وقت آیا، تو آپ ﷺ نے ٹھیک 63 اونٹ ذبح کیے۔ اپنی زندگی کے ہر سال کے لیے ایک۔ اور یہ سب آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے کیا۔ لیکن آپ ﷺ کی عمر کے لحاظ سے، ایک ہی دن میں 63 اونٹ ذبح کرنا ہرگز آسان کام نہیں تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ آپ ﷺ مضبوط اور صحت مند تھے۔ بڑھتی ہوئی عمر کے باوجود، آپ ﷺ میں کمزوری کا کوئی نشان نہیں تھا۔ اور پھر، آپ ﷺ نے حلق کیا۔ حج مکمل ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ واپس مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ہجرت کا گیارہواں سال تھا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) بخار میں مبتلا ہو گئے۔ یہ ایسی بیماری تھی جو دن بہ دن شدید سے شدید تر ہوتی چلی جانے والی تھی۔ ہر سال رمضان میں، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آتے اور نبی پاک ﷺ کے ساتھ مل کر قرآن مجید کی ان تمام آیات کا دور فرماتے جو اس وقت تک نازل ہو چکی ہوتیں۔ لیکن اس سال، انہوں نے مکمل دور دو مرتبہ فرمایا۔ یہ واضح نشانی تھی کہ یہ سال مختلف ہے۔ اس دوران، آپ ﷺ اکثر قبروں کی زیارت کرتے رہے۔ نبی پاک ﷺ جنت البقیع تشریف لے گئے اور فرمایا، "اے اہلِ ایمان کے گھر والو، تم پر سلام ہو۔ جو تم سے وعدہ کیا گیا تھا وہ تمہیں مل گیا۔ ان شاء اللہ عنقریب ہم بھی تم سے آ ملیں گے۔ اے اللہ، بقیع الغرقد میں دفن لوگوں کی مغفرت فرما۔" کچھ دیر بعد آپ ﷺ نے فرمایا، "کاش میں اپنے بھائیوں سے مل سکتا۔" "یا رسول اللہ، کیا ہم آپ ﷺ کے بھائی نہیں ہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا، "تم میرے ساتھی ہو۔ میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی دنیا میں نہیں آئے۔ اور میں تم سے پہلے حوض پر پہنچوں گا، ایک ایسا حوض جو کوثر کے پانی سے بھرا ہوگا۔" جی ہاں، آپ ﷺ ہماری بات کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ہمیں "میرے بھائی" کہا۔ یعنی وہ لوگ جو آپ ﷺ پر ایمان لائیں گے اور بغیر آپ ﷺ کو دیکھے آپ ﷺ کی راہ پر چلیں گے۔ "ہم آپ ﷺ کو دیکھے بغیر آپ ﷺ پر ایمان لائے، یا رسول اللہ۔ ہم نے آپ ﷺ کو دیکھے بغیر آپ ﷺ سے محبت کی، یا حبیب اللہ۔ شاید ہم آپ ﷺ کے بھائی کہلانے کے لائق نہ ہوں، لیکن ہم نے آپ ﷺ سے بے حد محبت کی۔" اب آپ ﷺ اپنی زندگی کے آخری 13 دنوں میں داخل ہو چکے تھے۔ یہ آپ ﷺ کی مبارک زندگی کے آخری دن تھے۔ آپ ﷺ کی بیماری شدید ہو چکی تھی، اور آپ ﷺ کا جسم مبارک بہت کمزور ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ شدید تکلیف میں تھے۔ سب جانتے تھے کہ صورتِ حال کتنی سنگین ہے۔ صحابہ غم سے نڈھال تھے۔ آپ ﷺ انہیں روحانی یتیمی سے بچانے کے لیے آئے تھے۔ اور اب، کیا انہیں آپ ﷺ کے بغیر رہنا ہوگا؟ ایک بار پھر یتیم ہو کر؟ اگر آپ ﷺ چلے گئے، تو وہ اپنی مشکلات لے کر کس کے پاس جائیں گے؟ کس کے الفاظ ان کے ذہنوں اور روحوں کی غذا بنیں گے؟ لیکن یہ دنیا فانی ہے۔ اور ہر انسان یہاں صرف ایک مسافر ہے۔ جلد یا بدیر، فرشتہءِ موت ہر ایک کے دروازے پر دستک دے گا۔ ہر نفس نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اپنے آخری دنوں میں بھی، آپ ﷺ اپنی امت کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ آپ ﷺ کی دعاؤں میں، آپ ﷺ کے آنسوؤں میں، ہمیشہ آپ ﷺ کی امت تھی۔ آپ ﷺ ان کے لیے رو رہے تھے۔ اور ایسے ہی ایک لمحے میں، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور پوچھا کہ آپ ﷺ کیوں رو رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، "میری امت، اے جبرائیل، میری امت۔ مجھے ان کی فکر ہے۔" حضرت جبرائیل گئے اور اس بار خوشخبری لے کر واپس آئے۔ "آپ کا رب فرماتا ہے، 'محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور کہو، ہم تمہاری امت کے بارے میں تمہیں ضرور راضی کریں گے، اور تمہیں غمگین نہیں کریں گے۔'" ان مشکل دنوں میں، آپ ﷺ وہاں رہنا چاہتے تھے جہاں انہیں سب سے زیادہ سکون ملتا تھا، ہماری ماں حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے حجرے میں۔ ہر رات، آپ ﷺ باری باری اپنی ازواج کے ہاں قیام فرماتے تھے۔ اس حال میں بھی، آپ ﷺ نے عدل و انصاف سے سمجھوتا نہیں کیا۔ پہلے پوچھا کہ آج کس کی باری ہے، اور ہماری ماں میمونہ کے حجرے میں تشریف لے گئے۔ لیکن آپ ﷺ کی ازواج نے آپ ﷺ کی خواہش سمجھ لی تھی۔ چنانچہ سب نے مل کر نبی پاک ﷺ کو عرض کیا کہ آپ ﷺ حضرت عائشہ کے حجرے میں رہیں۔ اب صرف پانچ دن باقی تھے۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ اس دنیا میں آپ ﷺ کا قیام ختم ہونے والا ہے۔ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے سہارے سے، آپ ﷺ مسجد تشریف لے گئے اور صحابہ کو وہاں جمع ہونے کا پیغام بھیجا۔ نبی پاک ﷺ نے اپنے صحابہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا، "اللہ نے اپنے ایک بندے کو انتخاب دیا کہ دنیا چاہیے یا جو اللہ کے پاس ہے۔ اور اس بندے نے وہ چن لیا جو اللہ کے پاس ہے۔" اچانک، کوئی زار و قطار رو پڑا۔ ایک بار پھر، آپ ﷺ کے وفادار ساتھی حضرت ابوبکر صدیق تھے۔ انہوں نے کہا، "یا رسول اللہ، ہمارے ماں اور باپ، آپ ﷺ پر قربان ہوں۔" نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کی طرف دیکھا اور فرمایا، "تمام لوگوں میں سے، جس نے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کیا ہے، اپنی رفاقت اور اپنے مال دونوں سے، وہ ابوبکر ہیں۔ اگر میں اس دنیا میں کسی کو خلیل بنا سکتا، یعنی دوست تو ابوبکر کو بناتا۔ لیکن میں کسی کو خلیل نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔ لیکن جو چیز ہمیں جوڑتی ہے وہ اسلامی اخوت اور محبت ہے۔" پھر آپ ﷺ نے فرمایا، "مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دو، سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔" پھر یہ حکم عمل میں لایا گیا۔ دراصل، "ابوبکر کے سوا سب کے دروازے بند کر دو" کہہ کر آپ ﷺ ایک گہری بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ گویا آپ ﷺ فرما رہے تھے، "تم میں سے کچھ لوگ اس امت کی ذمہ داری سنبھالنا چاہ سکتے ہیں۔ لیکن میں اس معاملے میں ہر دوسرا دروازہ بند کر رہا ہوں۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ابوبکر کو یہ مقام دیا جائے۔" نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بخار بڑھتا جا رہا تھا، اور آپ ﷺ کی بیماری مزید شدید ہوتی جا رہی تھی۔ جب صحابہ آپ ﷺ کی عیادت کرتے اور آپ ﷺ کا وہ حال دیکھتے، تو ان کے دل ٹوٹ جاتے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک بار پھر فرمایا تھا، "سب سے سخت آزمائشیں انبیاء پر آتی ہیں۔ اس کے باوجود، ایک نبی کو آزمائش سہنے میں جو خوشی ملتی ہے وہ اس خوشی سے کہیں زیادہ ہے جو تمہیں نعمتیں ملنے پر ہوتی ہے۔" پھر آپ ﷺ نے فرمایا، "کسی مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچے بیماری ہو یا کوئی اور مصیبت، اللہ اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے۔" نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں اب مسجد تک جانے کی طاقت باقی نہیں رہی تھی۔ اس سے پہلے تک، اپنے چچا عباس، حضرت علی اور اپنے بھتیجے فضل کے سہارے سے، آپ ﷺ ابھی تک مسجد جا کر نماز پڑھا لیتے تھے۔ لیکن اب، آپ ﷺ لمبے عرصے تک بستر پر لیٹے رہتے تھے، اور صرف کبھی کبھار آنکھیں کھول پاتے تھے۔ ایک لمحے میں، آپ ﷺ نے نظر اٹھا کر پوچھا، "کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟" "نہیں، وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، یا رسول اللہ۔" پھر آپ ﷺ نے فرمایا، "ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔" "اے اللہ کے رسول ، میرے والد ابوبکر بہت نرم دل انسان ہیں۔ اگر وہ آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوئے، تو وہ اپنے آنسو نہیں روک پائیں گے۔ اور لوگ بھی ان کے ساتھ رونے لگیں گے۔ کیا آپ ﷺ کسی اور کو مقرر فرما سکتے ہیں؟" نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنا حکم دہرایا، "ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔" چنانچہ حضرت ابوبکر آگے بڑھے اور بطور امام ظہر کی نماز پڑھانی شروع کی۔ اگلے دن، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اچانک بستر سے اٹھنے کی طاقت مل گئی۔ اور پاس موجود لوگوں کے سہارے سے آپ ﷺ مسجد تشریف لے آئے۔ جب حضرت ابوبکر نے آپ ﷺ کو دیکھا، تو وہ پیچھے ہٹنا چاہتے تھے۔ نبی پاک ﷺ نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کو کہا، اور پھر ان کے بائیں طرف بیٹھ گئے۔ لیکن حضرت ابوبکر نے پیچھے ہٹ کر آپ ﷺ کی اقتدا کی۔ یہ آخری نماز تھی جو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے صحابہ کو پڑھائی۔ اس کے بعد، حضرت ابوبکر نمازیں پڑھاتے رہے۔ بیماری کا تیرھواں دن تھا، پیر کی صبح۔ آپ ﷺ نے اس دنیا میں پہلی بار پیر کے دن آنکھیں کھولی تھیں، اور اب پھر پیر کا دن تھا۔ لیکن اس بار، ایک بھاری جدائی قریب آ رہی تھی۔ حضرت ابوبکر ،صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک لمحے کے لیے سر اٹھایا، اور اپنے حجرے کی کھڑکی سے صحابہ کو سیدھی صفوں میں، کندھے سے کندھا ملائے کھڑے دیکھا۔ اس لمحے، آپ ﷺ کے دل میں بے پناہ خوشی بھر گئی۔ وہ تھے آپ ﷺ کے صحابہ، جن کے لیے آپ ﷺ نے کتنی ہی مشکلات برداشت کیں۔ 23 سال پہلے کے جاہلیت کے دنوں سے وہ کتنے بدل چکے تھے۔ ہر ایک نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا تھا، اسلام قبول کیا تھا، اور نبی ﷺ کی راہ میں اپنی جان اور مال خرچ کیا تھا۔ انہیں اس حال میں دیکھنا کتنی بڑی خوشی تھی۔ یہ آخری موقع تھا جب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے صحابہ کو اس طرح دیکھا۔ جدائی کا درد ان کے دلوں میں انگارے کی طرح گرنے والا تھا۔ اب ان کا ملنا جنت میں مقدر تھا۔ ایک موقع پر، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی لاڈلی بیٹی سیدہ فاطمہ کو اپنے پاس بلایا۔ وہ آپ ﷺ کی واحد اولاد تھیں جو زندہ تھیں، اور اپنے مزاج، اپنی چال، اور بہت سے دیگر معاملات میں اپنے والد سے بے حد مشابہت رکھتی تھیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انہیں اپنے بائیں طرف بٹھایا اور ان کے کان میں کچھ کہا۔ سیدہ فاطمہ پر اچانک غم کا طوفان آ گیا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ پھر نبی پاک ﷺ نے ان کے کان میں کچھ اور کہا۔ اور اس بار ان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ بعد میں، جب حضرت عائشہ نے پوچھا کہ نبی پاک ﷺ نے انہیں کیا فرمایا تھا، تو حضرت فاطمہ نے بتایا: "پہلے آپ ﷺ نے مجھے بتایا کہ عنقریب آپ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور مجھے چھوڑ جائیں گے، تو میں رو پڑی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اہلِ بیت میں سے سب سے پہلے میں آپ ﷺ سے آ ملوں گی، اور اسی لیے میں ہنس پڑی۔" اور ہوا بھی بالکل ایسا ہی۔ اپنے والد کے وصال کے صرف چھ ماہ بعد، وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں جبکہ ابھی ان کی عمر صرف 28 یا 29 سال تھی۔ اپنے والد کی تکلیف کو اپنے دل میں محسوس کرتے ہوئے، سیدہ فاطمہ مزید برداشت نہ کر سکیں۔ انہوں نے اپنے پیارے والد کو بانہوں میں لے لیا اور بلک بلک کر رونے لگیں۔ "ابا جان...
آپ کتنی تکلیف میں ہیں۔" یہ وہی رونا تھا جیسا برسوں پہلے اس وقت تھا، جب مشرکین نے آپ ﷺ کی پشت پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی تھی۔ لیکن اب، آپ ﷺ کی تکلیف کا وقت ختم ہونے والا تھا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا اور فرمایا، "اے فاطمہ، تمہارے باپ کو آج کے بعد کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ وہ چیز جو قیامت تک کسی کو نہیں چھوڑے گی، یعنی موت، اب تمہارے باپ کے پاس آ گئی ہے۔" نبی پاک ﷺ اب ایسے راستے پر تھے جہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی۔ ہمارے پیارے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) جو تمام مخلوقات کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے، جنہوں نے اپنی امت کے لیے کبھی جدوجہد ترک نہیں کی، جنہوں نے اسلام کا پیغام پھیلانے کے لیے ہر مصیبت برداشت کی، جن کی زندگی پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ تھی، اب اپنے آخری سفر پر تھے۔ جی ہاں، گزشتہ دنوں سے ہم آپ ﷺ کی مبارک زندگی کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ ﷺ یتیم پیدا ہوئے۔ بہت چھوٹی عمر میں اپنی والدہ کو کھو دیا۔ اور آپ ﷺ کی زندگی مشکلات اور آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی۔ آپ ﷺ کو پہلی وحی اس وقت ملی جب آپ ﷺ تنہائی میں غور و فکر میں مصروف تھے، غارِ حرا میں۔ پہلے تو آپ ﷺ سمجھ نہ سکے کہ کیا ہو رہا ہے، تو آپ ﷺ فوراً اس شخصیت کے پاس گئے جن کی طرف ہمیشہ رجوع فرماتے تھے، اپنی خدیجہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا، "مجھے اوڑھاؤ، مجھے اوڑھاؤ۔" آپ ﷺ کو نبوت کا فریضہ سونپا گیا تھا۔ اور اسی طرح آپ ﷺ کی وہ جدوجہد شروع ہوئی جو 23 سال تک جاری رہنے والی تھی۔ ابتدائی سالوں میں، آپ ﷺ کو ہر طرح کے ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔ جو محمد ﷺ کی پیروی کرتے ہیں ان کا یہی انجام ہوتا ہے۔ جب آپ ﷺ کے صحابہ پر ظلم ہوتا، تو آپ ﷺ بھی ان کے ساتھ تکلیف اٹھاتے۔ مشرکین نے ان پر ناقابلِ تصور ظلم و ستم ڈھائے تاکہ وہ اسلام چھوڑ دیں۔ پورے تین سال تک، آپ ﷺ اور آپ کے خاندان اور رشتے داروں کو مکمل بائیکاٹ میں رکھا گیا۔ انہیں معاشرے سے کاٹ دیا گیا، بھوکے پیاسے رکھا گیا، لیکن آپ نے اپنا مشن کبھی نہیں چھوڑا۔ اور جب وہ دور ختم ہوا، اور ابھی حالات سنبھلنے شروع ہی ہوئے تھے، آپ ﷺ نے اپنے سب سے عزیز لوگوں کو کھو دیا۔ پہلے اپنے چچا ابو طالب کو کھویا جو ہمیشہ آپ ﷺ کی حفاظت کرتے رہے۔ اور پھر اپنی محبوب خدیجہ کو کھویا جو ہمیشہ آپ ﷺ کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔ پھر آپ ﷺ طائف گئے، اس امید پر کہ شاید وہ سنیں گے، لیکن انہوں نے بے رحمی سے پتھر مارے۔ اگر آپ ﷺ چاہتے، تو اللہ اہلِ طائف کو تباہ کر دیتا۔ لیکن آپ ﷺ نے ایسا نہیں مانگا۔ آپ ﷺ نبی رحمت تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، "مجھے یقین ہے کہ ان میں سے ایسی نسلیں آئیں گی جو صرف اللہ کی عبادت کریں گی۔" ایک بار پھر، آپ ﷺ نے اپنی امت کے بارے میں سوچا۔ ایک بار پھر، آپ ﷺ نے رحمت کا راستہ چنا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، آپ ﷺ نے کبھی ہار نہیں مانی۔ آپ ﷺ نے اسلام پھیلانے کے لیے مدینہ ہجرت فرمائی۔ وہاں آپ ﷺ نے اللہ کا دین قائم کرنے کے لیے انتھک محنت کی۔ آپ ﷺ نے ایک نئی تہذیب قائم کی، اور وہاں سے اسلام کو دور دور تک پھیلایا۔ جنگِ اُحد میں آپ ﷺ نے اپنے چچا حضرت حمزہ کو کھویا، جو ہمیشہ پہاڑ کی مانند آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے رہے۔ اور آپ ﷺ نے اپنے قریب ترین ساتھیوں کو بھی کھویا۔ ان نقصانات نے آپ ﷺ کو بہت گہرا صدمہ پہنچایا۔ لیکن ہر مشکل میں، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی طاقت اللہ سے حاصل کی اور اس کا پیغام پہنچانے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ آپ ﷺ نے متعدد فوجی مہمات کی قیادت کی، اور اللہ کے حکم سے آپ ﷺ کو فتوحات نصیب ہوئیں۔ اس کے ذریعے بہت سے قبائل نے اسلام کو جانا اور قبول کیا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنا مشن مکمل کر لیا تھا۔ آخر میں، آپ ﷺ نے حجۃ الوداع ادا فرمایا اور خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا۔ پوری انسانیت، اپنے صحابہ اور اپنی امت کو آخری نصیحتیں اور یاد دہانیاں فرمائیں۔ جی ہاں، آپ ﷺ نے اپنا مشن بہترین انداز میں مکمل کیا۔ اور اب ابدی جہان کی طرف رخصت ہونے کا وقت آ گیا تھا۔ دن آدھا گزر چکا تھا، اور سورج غروب ہونے کو تھا۔ صرف آپ ﷺ کے لبِ مبارک حرکت کر رہے تھے۔ "اے اللہ، مجھے الرفیق الاعلیٰ کی معیت نصیب فرما۔" "اے اللہ، الرفیق الاعلیٰ۔" یعنی آپ ﷺ فرما رہے تھے، "مجھے بلند ترین رفیق کے پاس لے چل۔" آپ ﷺ بار بار یہ بھی دہراتے رہے، "الصلاۃ، الصلاۃ" نماز کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی تلقین فرماتے رہے۔ صدیوں سے زمین آپ ﷺ کے آنے کی منتظر تھی۔ اور اب، آسمانوں کے فرشتے منتظر تھے۔ آپ ﷺ کے پاس پانی کا ایک برتن تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں ہاتھ ڈبوئے اور اپنے چہرۂ مبارک پر پھیرتے ہوئے فرمایا، "لا الٰہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)۔" پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ الفاظ دہراتے رہے، "اے اللہ، الرفیق الاعلیٰ۔ اے اللہ، الرفیق الاعلیٰ۔" آپ ﷺ 63 سال کی عمر میں اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ حضرت فاطمہ بلک بلک کر رو پڑیں اور بلند آواز سے نوحہ کرنے لگیں۔ جب نبی پاک ﷺ کی ازواج نے بھی رونا شروع کیا، تو صحابہ سمجھ گئے کہ کیا ہو چکا ہے۔ حضرت علی وہاں صدمے میں کھڑے تھے گویا جیسے یتیم ہو گئے ہوں۔ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔ حضرت عثمان بے زبان ہو گئے۔ گویا ان کی زبان بند ہو گئی ہو۔ لیکن حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اس خوفناک لمحے کے صدمے سے مغلوب ہو گئے۔ " اللہ کے رسول ﷺ کا انتقال نہیں ہوا، آپ ﷺ زندہ ہیں!
آپ ﷺ صرف بے ہوش ہوئے ہیں، جیسے ایک بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام)ہوئے تھے۔ جس نے بھی کہا کہ محمد ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے، میں اسے اپنی تلوار سے کاٹ دوں گا۔" اس وقت، حضرت ابوبکر سُنح میں اپنے گھر پر تھے۔ جب انہیں خبر ملی، تو وہ فوراً دوڑتے ہوئے آئے۔ بغیر کسی کی طرف دیکھے، سیدھے حجرے میں داخل ہوئے اور نبی پاک ﷺ کے چہرے مبارک سے کپڑا ہٹایا۔ آپ ﷺ کی پیشانی پر بوسہ دیا اور رو پڑے۔ "موت میں بھی آپ ﷺ کتنے حسین ہیں، جیسے زندگی میں تھے، یا رسول اللہ۔" پھر انہوں نے چہرۂ مبارک دوبارہ ڈھانپ دیا اور باہر نکل آئے۔ ان کے سامنے صحابہ کا ہجوم تھا جو سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیا کریں۔ سب رو رہے تھے، غم اور صدمے سے نڈھال۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی بات بھی سنی تھی۔ "جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا، تو جان لو محمد ﷺ کا انتقال ہو چکا ہے۔ اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو جان لو اللہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرتا۔" اللہ نے فرمایا، "محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ اگر ان کا انتقال ہو جائے یا شہید کر دیے جائیں، تو کیا تم الٹے پاؤں کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے؟ جو ایسا کرے اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتا۔ اور اللہ شکر گزاروں کو ضرور جزا دے گا۔" یہ آیت اصل میں غزوۂ اُحد کے دن نازل ہوئی تھی، جب مشرکین نے یہ جھوٹی افواہ پھیلائی تھی کہ محمد ﷺ قتل ہو گئے ہیں۔ حالانکہ صحابہ نے اس آیت کو ہزاروں بلکہ سینکڑوں بار پڑھا ہوگا، لیکن غم کے اس لمحے میں، گویا وہ اسے بالکل بھول گئے تھے۔ لیکن اسی ایک آیت کے ذریعے، حضرت ابوبکر نے سب کے دلوں کو سنبھال لیا۔ یہ الفاظ سن کر، صحابہ آہستہ آہستہ خود کو سنبھالنے لگے، کم از کم تھوڑا سا۔ انہوں نے آخرکار قبول کر لیا کہ نبی پاک ﷺ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ حضرت عمر بھی ہوش میں آئے اور ‘نبی پاک ﷺ کا انتقال نہیں ہوا’ کہنے سے رک گئے۔ حضرت عمر نے بعد میں فرمایا، "ایسا لگا جیسے میں نے یہ آیت پہلی بار سنی ہو۔" جی ہاں، مدینہ نے اپنی تاریخ میں کبھی اتنی خوشی نہیں منائی تھی جتنی نبی پاک ﷺ کی آمد کے دن منائی تھی۔ اور اب، وہ شہر اپنے گہرے ترین غم اور سوگ سے گزر رہا تھا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اور ان کے دلوں سے غم اور کرب ابل رہا تھا۔ لیکن صرف غم سے کوئی کام نہیں ہونا تھا۔ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟ ایک خلیفہ کا انتخاب کرنا ضروری تھا۔ کوئی ایسا جو مسلمانوں کی قیادت کرے اور اسلام کے قوانین نافذ کرتا رہے۔ اسے پوری امت کے لیے سہارا بننا تھا۔ کوئی ایسا جو اپنے دن رات اسلام کی خدمت میں گزارے۔ چنانچہ صحابہ جمع ہوئے۔ اس عظیم ذمہ داری کے لیے سب سے زیادہ اہل حضرت ابوبکر تھے۔ وہ مکہ میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں تھے۔ وہ ہجرت میں نبی پاک ﷺ کے ساتھی تھے، غار میں دو میں سے ایک۔ اور بیماری کے دوران، نبی پاک ﷺ نے پہلے ہی ان کی طرف واضح اشارے فرما دیے تھے۔ آپ ﷺ نے مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا، اور صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رکھا۔ آپ ﷺ نے انہیں نماز پڑھانے پر بھی مقرر فرمایا۔ آپ ﷺ نے انہیں امامت کا مقام دیا جس کا مطلب ہے قیادت۔ نماز اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے نا؟ اور درجنوں صحابہ میں سے آپ ﷺ نے ابوبکر کو منتخب فرمایا، تمام مسلمانوں کی نماز پڑھانے کے لیے۔ حضرت ابوبکر نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب کچھ قربان کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ ایک دن کے لیے بھی نہیں۔ جب لشکر کی تیاری کے لیے مال کی ضرورت پڑی، تو ان جیسی قربانی کوئی نہ دے سکا۔ وہ اپنا سب کچھ لے آئے۔ نبی پاک ﷺ نے پوچھا، "اے ابوبکر، تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟" "میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑا ہے۔" معراج کے اگلے دن صبح، جب مشرکین نبی پاک ﷺ کا مذاق اڑا رہے تھے، اور سب سے مشکل دنوں میں، بدر، اُحد اور خندق کی جنگوں کے دوران، حضرت ابوبکر ہمیشہ آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد خلیفہ بننے کے سب سے زیادہ حقدار وہی تھے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ صحابہ نے جمع ہو کر آپس میں مشورہ کیا، اور حضرت ابوبکر کو اسلام کا پہلا خلیفہ منتخب کیا گیا۔ اگلے دن، ظہر کی نماز کا وقت ہوا۔ پورا مدینہ، اب بھی آنسوؤں میں ڈوبا ہوا، نماز کے لیے مسجد میں جمع تھا۔ ہمیشہ کی طرح، حضرت بلال نے اذان دینی شروع کی۔ لیکن جب وہ ان الفاظ پر پہنچے، "اَشہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)،" ان کا گلا بھر آیا، آواز کانپ اٹھی، اور وہ مکمل نہ کر سکے۔ ان کا کام تھا لوگوں کو نماز کے لیے بلانا، دعوت دینا۔ لیکن وہ نہ کر سکے۔ وہ آگے نہ بڑھ سکے اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ سب رو رہے تھے۔ حضرت بلال نبی پاک ﷺ کے بغیر مدینہ کا تصور بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ وہ اب اذان دینے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ وہ اب ایسے شہر میں رہنا نہیں چاہتے تھے، جہاں ہر گوشہ انہیں نبی پاک ﷺ کی یاد دلاتا تھا۔ اور چند سال بعد، وہ شام چلے گئے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جسم مبارک کو حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے غسل دیا۔ اور جب وہ غسل دے رہے تھے، تو آپ ﷺ کے جسم مبارک سے مشک جیسی خوشبو پھیلی، ایسی خوشبو جو پہلے کبھی کسی نے نہیں سونگھی تھی۔ منگل کو دوپہر سے پہلے غسل اور کفن مکمل ہو گیا۔ صحابہ نے آ کر نمازِ جنازہ ادا کی۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک بار فرمایا تھا، "کسی نبی کی روح قبض نہیں کی گئی، مگر اسی جگہ جہاں وہ دفن کیا جانا پسند کرتا ہے۔" چنانچہ حضرت ابوبکر کے مشورے سے، آپ ﷺ کو حضرت عائشہ کے حجرے میں، بالکل اسی جگہ دفن کیا گیا، جہاں آپ ﷺ کی رحلت ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا، "ہم انبیاء کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔" یہاں تک کہ آپ ﷺ کی زرہ بھی جَو کے بدلے ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔ جو شخص آپ ﷺ کو نہ بھی جانتا ہو، اس کے لیے صرف یہ ایک منظر کافی ہے۔ اور اس سب کے باوجود، نبی پاک ﷺ نے آپ کے لیے ایک وراثت چھوڑی ہے۔ دو امانتیں: قرآن اور سنت۔ آپ ﷺ نے اپنا فریضہ بہترین انداز میں پورا کیا۔ اب باری ہماری ہے۔ آپ ﷺ نے جھنڈا ہمیں سونپ دیا۔ اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اسے دوبارہ بلند کریں اور پوری دنیا تک پہنچائیں۔ یہ گھر بیٹھنے کا وقت نہیں۔ ہمیں سونپا گیا جھنڈا ہمارے ایک قدم کا منتظر ہے۔ وہ ان دنوں کا آرزومند ہے جب وہ دوبارہ بلندی پر لہرائے گا۔ دنیا یہ پیغام سننے کی منتظر ہے۔ وہ جاہلیت کے اندھیروں سے نکل کر ایمان کی روشنی اور قرآن کی روشنی میں آنے کی منتظر ہے۔ انسانیت روحانی طور پر بیمار ہے۔ ان کی روحیں تڑپ رہی ہیں، لیکن انہیں کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ جب علاج ہمارے ہاتھوں میں ہے، تو ہم کب تک ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے؟ کیا اب ہمارے اپنے سفر کا آغاز ہونے کا وقت نہیں آ گیا؟ آپ اپنی امت کے لیے جیے، یا رسول اللہ۔ لیکن ہم کس کے لیے جی رہے ہیں؟ آپ نے اپنی امت کی ابدی زندگیاں بچانے کے لیے بے خواب راتیں گزاریں، جبکہ ہم اپنے سوا کسی کا نہیں سوچتے۔ آپ نے سخت ترین آزمائشوں میں بھی اپنا مقصد نہیں چھوڑا۔ جبکہ ہم ذرا سی مشکل میں راستہ بھول جاتے ہیں۔ اور پھر بھی آپ ہماری آرزو رکھتے تھے۔ آپ نے ہمیں "میرے بھائی اور بہنیں" کہا۔ لیکن کیا ہم واقعی اس اعزاز کے مستحق ہیں؟ کیا صرف زبان سے محبت کا دعویٰ کر لینا آپ ﷺ کی امت ہونے کے لیے کافی ہے؟ یا بات آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی ہے، اسے اپنی زندگیوں میں اتارنے کی ہے؟ اب جاگنے کا وقت ہے۔ اس امت کی حیثیت سے جس کے لیے آپ نے آنسو بہائے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم آپ کے لائق بنیں۔ یا رسول اللہ ﷺ۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کے راستے، آپ کے مقصد اور آپ کی وراثت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے۔ آج، ہم چیزوں کو بدلنے جا رہے ہیں۔ آج، ہم آپ ﷺ کے کی سنت کے مطابق زندگی گزارنا شروع کریں گے۔ آج سے ہم، وہ بھائی بننے کی طرف قدم بڑھائیں گے جن کی آپ نے آرزو کی تھی۔ اور آپ سے، میرے بھائی، میری بہن، جو ابھی یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں۔ اگر آپ اپنے ایمان کو مضبوط اور علم کو گہرا کرنا چاہتے ہیں، تو ہم نے آپ کے لیے درجنوں تعلیمی ویڈیوز تیار کی ہیں، ہمارے ٹوارڈ اٹرنٹی چینل پر۔ تھوڑی مگر مسلسل کوشش سے بھی آپ حیران کن ترقی کر سکتے ہیں، ان شاء اللہ۔ اگر آپ کہہ رہے ہیں، "میں اسلام شروع سے سیکھنا چاہتا ہوں،" تو ہمارے پاس Step Islam نام کی ایک ایپ ہے۔ ہماری مکمل مفت نماز ایپ کے ذریعے، آپ پانچ وقت کی نمازوں کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ عربی میں قرآن پڑھنا نہیں جانتے، تو ہم نے Lamalif Quran نام کی ایک ایپ تیار کی ہے۔ اور اگر آپ قرآن کے معانی مزید گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں، تو آپ ہماری تفسیر ریڈنگ ایپ My Risale ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اگر یہ سیریز آپ تک پہنچی ہے، تو اللہ چاہتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کچھ بدلیں۔ تو کیا ہم اس کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھائیں گے؟ یا رسول اللہ۔ اللہ ہمیں آپ ﷺ کے لائق امت بنائے۔ آپ ﷺ پر درود و سلام ہو۔ اے وہ ہستی جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ یا رسول اللہ ﷺ۔
دس سال پہلے، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) صرف حضرت ابوبکر کو ساتھ لے کر مکہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ اور اب، آپ ﷺ دسیوں ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ واپس آ رہے تھے۔ یہ کام کسی جنگ سے، کسی تلوار سے ممکن نہیں تھا۔ یہ تلواروں کی بات نہیں تھی۔ یہ دلوں کو فتح کرنے والی بات تھی۔ نبی پاک ﷺ کے دل میں سکون تھا۔ آپ ﷺ اپنا فریضہ حج ادا کرنے کے لیے تیار تھے۔ 8 ذوالحجہ کو آپ ﷺ منیٰ تشریف لے گئے۔ اور نویں دن، آپ ﷺ عرفات پہنچے۔ اس دن دوپہر کے بعد، میدانِ عرفات کے وسط میں، آپ ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا۔ آپ ﷺ نے ان الفاظ سے آغاز فرمایا، "اے لوگو۔" غور کیجیے، آپ ﷺ نے "اے مسلمانوں " نہیں فرمایا، کیونکہ یہ پکار صرف ان لوگوں کے لیے نہیں تھی جو اس روز عرفات میں موجود تھے۔ بلکہ یہ ہر اس شخص کے لیے تھی جو قیامت تک آنے والا تھا۔ مرد اور عورتیں، بوڑھے اور جوان، آپ ﷺ ایک لاکھ سے زائد لوگوں سے مخاطب تھے۔ اور ان کے ذریعے، آنے والی ہر نسل سے۔ آپ ﷺ نے اپنے خطبے کا آغاز ان الفاظ سے فرمایا: "تمام تعریفیں اور شکر اللہ کے لیے ہیں۔ ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ جسے اللہ ہدایت دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ اور جسے وہ گمراہی میں چھوڑ دے، اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ ایک ہے۔ نہ اس کا کوئی شریک ہے، نہ ہمسر، اور نہ ہی کوئی اس کی مثل ہے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اے لوگو، میری باتیں غور سے سنو۔ کیا خبر کہ اس سال کے بعد اس جگہ میری تمہاری ملاقات نہ ہوسکے۔ اے لوگو، جس طرح تمہارا یہ دن، تمہارا یہ مہینہ، اور تمہارا یہ شہر مکہ حرمت والے ہیں، اسی طرح تمہاری جانیں، تمہارے مال، اور تمہاری عزتیں بھی اتنی ہی محترم ہیں۔ یہ سب ہر نقصان سے محفوظ ہیں۔ میرے ساتھیو، کل تم اپنے رب سے ملو گے۔ اور تم سے تمہارے ہر عمل کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔ میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ جو یہاں موجود ہیں وہ میری باتیں ان تک پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جنہیں یہ پیغام پہنچے، وہ اسے ان سے بہتر سمجھیں، جنہوں نے آج یہاں اسے سنا ہے۔" آپ ﷺ نے سب سے پہلے سود کے بارے میں بات فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا، "میرے ساتھیو، جس کے پاس کسی کی امانت ہو، وہ اسے فوراً اس کے مالک کو لوٹا دے۔ جان لو کہ ہر قسم کا سود ختم کر دیا گیا ہے۔ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اور سب سے پہلا سود جو میں ختم کرتا ہوں وہ میرے چچا عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے۔ البتہ تمہاری اصل رقم تمہارا حق ہے۔ نہ کسی پر ظلم کرو، اور نہ خود ظلم سہو۔" پھر آپ ﷺ نے عورتوں کے حقوق کے بارے میں فرمایا۔ "اے لوگو، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ عورتوں کے حقوق کا خیال رکھو اور ان کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر قبول کیا ہے، اور تم نے ان سے تعلق کو اللہ کے نام پر اپنے لیے حلال کیا ہے۔ جیسے تمہارے ان پر حقوق ہیں، ویسے ہی ان کے بھی تم پر حقوق ہیں۔" آپ ﷺ نے وہ الفاظ فرمائے جو نسل پرستی کی جڑ کاٹ دینے والے تھے۔ "اے لوگو، تمہارا رب ایک ہے۔ تمہارا باپ ایک ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو۔ اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں۔ اور نہ ہی کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی برتری حاصل ہے۔ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ ہی کسی کالے کو کسی گورے پر۔ فضیلت صرف تقویٰ سے ہے، یعنی اللہ سے ڈرنے سے۔ اللہ کی نظر میں ،تم میں سے سب سے معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ تقویٰ والا ہو۔" آپ ﷺ ان مسائل کو حل کر رہے تھے جن سے انسانیت صدیوں تک نبرد آزما رہنے والی تھی، اور وہ حل فراہم کر رہے تھے جن کی دنیا کو شدید ضرورت تھی۔ پھر آپ ﷺ نے ہمیں ایک امانت سونپی۔ "رسول اللہ فرماتے ہیں، اے اہلِ ایمان، میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے، تم ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔ یہ ہیں :اللہ کی کتاب، قرآن، اور اس کے نبی کی سنت۔" آخر میں، آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے ایک سوال پوچھا۔ "اے لوگو، تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا۔ تم کیا کہو گے؟" "ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نے پیغام پہنچا دیا، اپنا فریضہ پورا کیا، اور ہمیں نصیحت فرمائی۔" یہ سن کر، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا، "اے اللہ، تو گواہ رہ!
اے اللہ، تو گواہ رہ!
اے اللہ، تو گواہ رہ!" آج چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی، اگر ہماری گواہی بھی قبول ہو، تو ہم بھی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنا فریضہ پورا فرمایا، اے اللہ کے رسولﷺ۔ دوپہر ڈھل چکی تھی۔ شام ہونے والی تھی۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی اونٹنی قصواء پر سوار تھے۔ اچانک آپ ﷺ کا چہرہ بدل گیا، اور پیشانی سے پسینے کے قطرے بہنے لگے۔ صحابہ سمجھ گئے، آپ ﷺ پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد، جب وہ کیفیت ختم ہوئی، تو نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ابھی نازل ہونے والی آیت تلاوت فرمائی۔ "آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت کا اتمام کیا، اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔" اچانک، زور زور سے رونے کی آواز آنے لگی۔ یہ حضرت ابوبکر تھے۔ ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری تھے۔ لیکن جب باقی سب لوگ اس آیت پر خوشی سے سرشار تھے، تو آخر انہیں رلایا کس بات نے؟ وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ آیت دراصل ایک الوداع تھی۔ جب اللہ نے فرمایا، "میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا،" تو اس کا مطلب تھا کہ نبی پاک ﷺ کا مشن اب مکمل ہو چکا ہے۔ اور جدائی کا وقت قریب آ گیا ہے۔ اس لمحے، صرف حضرت ابوبکر ہی یہ بات سمجھے تھے۔ شاید اللہ انہیں اس بھاری جدائی کے لیے پہلے سے تیار کر رہا تھا۔ کیونکہ نبی پاک ﷺ کی رحلت، صحابہ کو بنیادوں سے ہلا دینے والی تھی۔ جب وہ وقت آتا، تو کسی کو مضبوطی سے کھڑے ہو کر، سب کو سنبھالنا اور رہنمائی کرنی تھی۔ اور واقعی، اس دن حضرت ابوبکر پہاڑ کی مانند ثابت قدم رہے۔ فتح مکہ کو دو سال گزر چکے تھے۔ تو ان دو سالوں میں کیا ہوا؟ آئیے مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ جزیرۃ العرب کے قلب کی حیثیت سے، مکہ توحید کا مرکز بن چکا تھا، یعنی اللہ کی وحدانیت کا مرکز۔ اور اس عظیم تبدیلی نے دوسرے قبائل کے لیے اسلام قبول کرنے کا دروازہ کھول دیا۔ "۔۔۔اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔" اور یوں وہ سال شروع ہوا جسے سنۃ الوفود کہا جاتا ہے۔ عرب کے ہر کونے سے قبائل آئے اور اسلام قبول کیا۔ یمن سے تعلق رکھنے والے لوگ، قبیلہ سُلیم، مُزینہ، جُہینہ، ہوازن، اور یہاں تک کہ اہلِ طائف بھی آئے اور مسلمان ہو گئے۔ اہلِ طائف کے لیے نبی پاک ﷺ کی دعا یاد ہے؟ وہ دعا اب قبول ہو رہی تھی۔ اس سال، 60 سے زائد وفود آئے۔ فتح مکہ کے فوراً بعد، عمان کے حکمران اور وہاں کے لوگوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ ایک اور سردار جنہوں نے اسلام قبول کیا وہ بحرین کے حکمران تھے۔ ان کے ساتھ، مجوسیوں کے مذہبی پیشوا نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ بحرین کے بعض مجوسی مسلمان ہو گئے، جبکہ کچھ نے اپنے مذہب پر رہنے کا فیصلہ کیا۔ سورۃ النصر میں بیان کیے گئے دن بالآخر آ پہنچے تھے۔ بالکل جیسا آیت میں بیان ہوا تھا۔ گروہوں کی شکل میں، لوگ اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہو رہے تھے۔ اور ان نو مسلموں کے علاقوں میں، صحابہ کو بطور والی یا نمائندے بھیجا گیا۔ یہ صحابہ قاضی کے فرائض بھی انجام دیتے تھے اور لوگوں کو ان کا دین سکھاتے تھے۔ ...ایک ساتھ رہو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ وہ زکوٰۃ کے معاملات کی نگرانی کے بھی ذمہ دار تھے۔ وہ تین چیزیں یاد ہیں جن کے خلاف نبی پاک ﷺ نے جدوجہد کی تھی، جب مدینہ میں ریاست کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں؟ جہالت...
غربت...
اور فساد۔ یہ نمائندے دراصل اسی جدوجہد کو عملی شکل دے رہے تھے۔ وہ لوگوں کو دین سکھاتے تھے، اور چونکہ اسلام صرف عبادت تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے، تو وہ سب دراصل جہالت کے خلاف لڑ رہے تھے۔ قاضی کی حیثیت سے، اسلام پر مبنی فیصلے کر کے اور اسلامی اخلاقیات پھیلا کر وہ فساد اور تفرق کے خلاف لڑ رہے تھے۔ اور زکوٰۃ کے نظام کی نگرانی کر کے، وہ براہِ راست غربت کے خلاف لڑ رہے تھے۔ ہر سال قبائل کو زکوٰۃ کے بارے میں سکھایا جاتا، جو اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے۔ پھر زکوٰۃ ان لوگوں سے وصول کی جاتی، جن کی دولت ، نصاب یعنی مقررہ کم از کم حد سے زیادہ ہوتی۔ پھر عاملین اس زکوٰۃ کو اسی علاقے کے ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے۔ اس نظام کا اتنا زبردست اثر ہونے والا تھا کہ صرف چند سالوں میں، جو لوگ کبھی زکوٰۃ لیتے تھے وہ اس مقام پر پہنچ گئے کہ خود زکوٰۃ دینے لگے۔ بلکہ صرف چند سال بعد، حضرت معاذ بن جبل نے زکوٰۃ اکٹھی کی، لیکن چونکہ پورے یمن میں انہیں ایک بھی ضرورت مند نہ مل سکا، تو انہیں زکوٰۃ کی رقم خلافت کے مرکز بھیجنی پڑی تاکہ اسے کسی اور جگہ تقسیم کیا جا سکے۔ ذرا تصور کیجیے۔ آپ صدقہ دینے نکلے ہیں، لیکن پورے شہر میں کوئی بھی ضرورت مند نہیں ملتا۔ خواب جیسا لگتا ہے نا؟ اسلام ایسے ہی نظام کا وعدہ کرتا ہے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) اور چاروں خلفاء کے دور میں، مسلمانوں سے زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا۔ اور اگر کوئی مسلمان زکوٰۃ دینے کی استطاعت نہ رکھتا، تو اس سے کچھ نہیں لیا جاتا تھا۔ یہودی، عیسائی اور مجوسی برادریوں سے البتہ جزیہ کے نام سے ایک ٹیکس وصول کیا جاتا تھا۔ اس ٹیکس کے بدلے میں، انہیں جنگ کے وقت فوج میں شامل نہیں ہونا پڑتا تھا۔ ان کی جانوں اور مال کی حفاظت کی جاتی تھی، اور وہ بغیر کسی امتیاز کے ریاست کی تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے دورِ خلافت میں، عدالت میں ایک عیسائی کے مقابلے میں ان کے ساتھ برابر کا سلوک کیا گیا۔ حالانکہ وہ سربراہِ مملکت تھے۔ اور اس عیسائی کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں ہوئی۔ تاہم، انصاف کی یہ سطح دوسری سلطنتوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی، جیسے رومی یا ساسانی سلطنتیں۔ اور جزیہ کی مقررہ رقم بھی اتنی نہیں ہوتی تھی کہ لوگوں کو مشکل میں ڈال دے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ رومی اور ساسانی حکومتوں کے تحت رہنے والے لوگ برسوں سے بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ "یہ میری آخری فصل ہے۔ میرے بچے بھوکے مر رہے ہیں جبکہ تمہارے گودام بھرے پڑے ہیں۔ اللہ ضرور ہمارے لیے ایک نجات دہندہ بھیجے گا!" لیکن جب ان کے علاقے اسلامی حکومت کے زیرِ نگیں آئے، تو انہیں بہت ہلکے ٹیکس سے سکون ملا۔ اور اس کے علاوہ، عورتوں، بوڑھوں، شدید بیماروں، اور مذہبی پیشواؤں سے کوئی بھی ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا۔ فتح شدہ علاقوں کے علاوہ، کچھ سلطنتوں نے بھی مسلمانوں کی بالادستی قبول کر لی اور سالانہ جزیہ ادا کرنے پر رضامند ہو گئے۔ مثال کے طور پر، غزوہ تبوک کے دوران، بادشاہ کندہ، حاکمِ ایلہ اور اہلِ جربا اور اذرُح کو اسلام کی دعوت دی گئی۔ لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا۔ چنانچہ ہر سال جزیہ ادا کرنے کے بدلے ان کے ساتھ صلح کے معاہدے کیے گئے۔ "اللہ کے رسول ﷺ کے حکم سے، اب سے تم جزیہ ادا کرو گے۔" اس وقت ریاست کے اخراجات تین ذرائع سے پورے ہوتے تھے: جزیہ، مالِ غنیمت، اور وقف یعنی خیراتی اداروں کی آمدنی۔ اور یوں، فتح مکہ کے بعد صرف دو سالوں کے اندر، مضبوط سلامتی اور نظم و نسق قائم ہو چکا تھا۔ ایک مستحکم نظام اپنی جگہ قائم ہو چکا تھا۔ دوسری طرف، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حکم سے، پورے خطے میں بتوں اور بت خانوں کو مسمار کر دیا گیا۔ عرب میں بت پرستی کا مکمل طور پر خاتمہ ہو گیا۔ یہ تمام عظیم الشان تبدیلیاں صرف 23 سالوں میں رونما ہوئیں۔ جہالت سے بھرپور معاشرے میں، جہاں ایسی تبدیلی تقریباً ناممکن لگتی تھی۔ اللہ کے حکم سے، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کوئلے کو ہیرے میں بدل رہے تھے۔ اور آپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ وہ لوگ تھے جو ہر میدان میں دنیا کے لیے معلم اور نمونہ بننے والے تھے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) حجۃ الوداع ادا فرما رہے تھے۔ اور آپ ﷺ نے تمام مناسک ایک ایک کر کے مکمل فرمائے۔ لیکن جب قربانی کا وقت آیا، تو آپ ﷺ نے ٹھیک 63 اونٹ ذبح کیے۔ اپنی زندگی کے ہر سال کے لیے ایک۔ اور یہ سب آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے کیا۔ لیکن آپ ﷺ کی عمر کے لحاظ سے، ایک ہی دن میں 63 اونٹ ذبح کرنا ہرگز آسان کام نہیں تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ آپ ﷺ مضبوط اور صحت مند تھے۔ بڑھتی ہوئی عمر کے باوجود، آپ ﷺ میں کمزوری کا کوئی نشان نہیں تھا۔ اور پھر، آپ ﷺ نے حلق کیا۔ حج مکمل ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ واپس مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ہجرت کا گیارہواں سال تھا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) بخار میں مبتلا ہو گئے۔ یہ ایسی بیماری تھی جو دن بہ دن شدید سے شدید تر ہوتی چلی جانے والی تھی۔ ہر سال رمضان میں، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آتے اور نبی پاک ﷺ کے ساتھ مل کر قرآن مجید کی ان تمام آیات کا دور فرماتے جو اس وقت تک نازل ہو چکی ہوتیں۔ لیکن اس سال، انہوں نے مکمل دور دو مرتبہ فرمایا۔ یہ واضح نشانی تھی کہ یہ سال مختلف ہے۔ اس دوران، آپ ﷺ اکثر قبروں کی زیارت کرتے رہے۔ نبی پاک ﷺ جنت البقیع تشریف لے گئے اور فرمایا، "اے اہلِ ایمان کے گھر والو، تم پر سلام ہو۔ جو تم سے وعدہ کیا گیا تھا وہ تمہیں مل گیا۔ ان شاء اللہ عنقریب ہم بھی تم سے آ ملیں گے۔ اے اللہ، بقیع الغرقد میں دفن لوگوں کی مغفرت فرما۔" کچھ دیر بعد آپ ﷺ نے فرمایا، "کاش میں اپنے بھائیوں سے مل سکتا۔" "یا رسول اللہ، کیا ہم آپ ﷺ کے بھائی نہیں ہیں؟" آپ ﷺ نے فرمایا، "تم میرے ساتھی ہو۔ میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی دنیا میں نہیں آئے۔ اور میں تم سے پہلے حوض پر پہنچوں گا، ایک ایسا حوض جو کوثر کے پانی سے بھرا ہوگا۔" جی ہاں، آپ ﷺ ہماری بات کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے ہمیں "میرے بھائی" کہا۔ یعنی وہ لوگ جو آپ ﷺ پر ایمان لائیں گے اور بغیر آپ ﷺ کو دیکھے آپ ﷺ کی راہ پر چلیں گے۔ "ہم آپ ﷺ کو دیکھے بغیر آپ ﷺ پر ایمان لائے، یا رسول اللہ۔ ہم نے آپ ﷺ کو دیکھے بغیر آپ ﷺ سے محبت کی، یا حبیب اللہ۔ شاید ہم آپ ﷺ کے بھائی کہلانے کے لائق نہ ہوں، لیکن ہم نے آپ ﷺ سے بے حد محبت کی۔" اب آپ ﷺ اپنی زندگی کے آخری 13 دنوں میں داخل ہو چکے تھے۔ یہ آپ ﷺ کی مبارک زندگی کے آخری دن تھے۔ آپ ﷺ کی بیماری شدید ہو چکی تھی، اور آپ ﷺ کا جسم مبارک بہت کمزور ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ شدید تکلیف میں تھے۔ سب جانتے تھے کہ صورتِ حال کتنی سنگین ہے۔ صحابہ غم سے نڈھال تھے۔ آپ ﷺ انہیں روحانی یتیمی سے بچانے کے لیے آئے تھے۔ اور اب، کیا انہیں آپ ﷺ کے بغیر رہنا ہوگا؟ ایک بار پھر یتیم ہو کر؟ اگر آپ ﷺ چلے گئے، تو وہ اپنی مشکلات لے کر کس کے پاس جائیں گے؟ کس کے الفاظ ان کے ذہنوں اور روحوں کی غذا بنیں گے؟ لیکن یہ دنیا فانی ہے۔ اور ہر انسان یہاں صرف ایک مسافر ہے۔ جلد یا بدیر، فرشتہءِ موت ہر ایک کے دروازے پر دستک دے گا۔ ہر نفس نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اپنے آخری دنوں میں بھی، آپ ﷺ اپنی امت کے بارے میں سوچ رہے تھے۔ آپ ﷺ کی دعاؤں میں، آپ ﷺ کے آنسوؤں میں، ہمیشہ آپ ﷺ کی امت تھی۔ آپ ﷺ ان کے لیے رو رہے تھے۔ اور ایسے ہی ایک لمحے میں، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور پوچھا کہ آپ ﷺ کیوں رو رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، "میری امت، اے جبرائیل، میری امت۔ مجھے ان کی فکر ہے۔" حضرت جبرائیل گئے اور اس بار خوشخبری لے کر واپس آئے۔ "آپ کا رب فرماتا ہے، 'محمد ﷺ کے پاس جاؤ اور کہو، ہم تمہاری امت کے بارے میں تمہیں ضرور راضی کریں گے، اور تمہیں غمگین نہیں کریں گے۔'" ان مشکل دنوں میں، آپ ﷺ وہاں رہنا چاہتے تھے جہاں انہیں سب سے زیادہ سکون ملتا تھا، ہماری ماں حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے حجرے میں۔ ہر رات، آپ ﷺ باری باری اپنی ازواج کے ہاں قیام فرماتے تھے۔ اس حال میں بھی، آپ ﷺ نے عدل و انصاف سے سمجھوتا نہیں کیا۔ پہلے پوچھا کہ آج کس کی باری ہے، اور ہماری ماں میمونہ کے حجرے میں تشریف لے گئے۔ لیکن آپ ﷺ کی ازواج نے آپ ﷺ کی خواہش سمجھ لی تھی۔ چنانچہ سب نے مل کر نبی پاک ﷺ کو عرض کیا کہ آپ ﷺ حضرت عائشہ کے حجرے میں رہیں۔ اب صرف پانچ دن باقی تھے۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ اس دنیا میں آپ ﷺ کا قیام ختم ہونے والا ہے۔ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے سہارے سے، آپ ﷺ مسجد تشریف لے گئے اور صحابہ کو وہاں جمع ہونے کا پیغام بھیجا۔ نبی پاک ﷺ نے اپنے صحابہ کی طرف رخ کیا اور فرمایا، "اللہ نے اپنے ایک بندے کو انتخاب دیا کہ دنیا چاہیے یا جو اللہ کے پاس ہے۔ اور اس بندے نے وہ چن لیا جو اللہ کے پاس ہے۔" اچانک، کوئی زار و قطار رو پڑا۔ ایک بار پھر، آپ ﷺ کے وفادار ساتھی حضرت ابوبکر صدیق تھے۔ انہوں نے کہا، "یا رسول اللہ، ہمارے ماں اور باپ، آپ ﷺ پر قربان ہوں۔" نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کی طرف دیکھا اور فرمایا، "تمام لوگوں میں سے، جس نے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کیا ہے، اپنی رفاقت اور اپنے مال دونوں سے، وہ ابوبکر ہیں۔ اگر میں اس دنیا میں کسی کو خلیل بنا سکتا، یعنی دوست تو ابوبکر کو بناتا۔ لیکن میں کسی کو خلیل نہیں بنا سکتا کیونکہ اللہ نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔ لیکن جو چیز ہمیں جوڑتی ہے وہ اسلامی اخوت اور محبت ہے۔" پھر آپ ﷺ نے فرمایا، "مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دو، سوائے ابوبکر کے دروازے کے۔" پھر یہ حکم عمل میں لایا گیا۔ دراصل، "ابوبکر کے سوا سب کے دروازے بند کر دو" کہہ کر آپ ﷺ ایک گہری بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ گویا آپ ﷺ فرما رہے تھے، "تم میں سے کچھ لوگ اس امت کی ذمہ داری سنبھالنا چاہ سکتے ہیں۔ لیکن میں اس معاملے میں ہر دوسرا دروازہ بند کر رہا ہوں۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ابوبکر کو یہ مقام دیا جائے۔" نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کا بخار بڑھتا جا رہا تھا، اور آپ ﷺ کی بیماری مزید شدید ہوتی جا رہی تھی۔ جب صحابہ آپ ﷺ کی عیادت کرتے اور آپ ﷺ کا وہ حال دیکھتے، تو ان کے دل ٹوٹ جاتے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک بار پھر فرمایا تھا، "سب سے سخت آزمائشیں انبیاء پر آتی ہیں۔ اس کے باوجود، ایک نبی کو آزمائش سہنے میں جو خوشی ملتی ہے وہ اس خوشی سے کہیں زیادہ ہے جو تمہیں نعمتیں ملنے پر ہوتی ہے۔" پھر آپ ﷺ نے فرمایا، "کسی مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچے بیماری ہو یا کوئی اور مصیبت، اللہ اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے جھاڑتا ہے۔" نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) میں اب مسجد تک جانے کی طاقت باقی نہیں رہی تھی۔ اس سے پہلے تک، اپنے چچا عباس، حضرت علی اور اپنے بھتیجے فضل کے سہارے سے، آپ ﷺ ابھی تک مسجد جا کر نماز پڑھا لیتے تھے۔ لیکن اب، آپ ﷺ لمبے عرصے تک بستر پر لیٹے رہتے تھے، اور صرف کبھی کبھار آنکھیں کھول پاتے تھے۔ ایک لمحے میں، آپ ﷺ نے نظر اٹھا کر پوچھا، "کیا لوگوں نے نماز پڑھ لی؟" "نہیں، وہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں، یا رسول اللہ۔" پھر آپ ﷺ نے فرمایا، "ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔" "اے اللہ کے رسول ، میرے والد ابوبکر بہت نرم دل انسان ہیں۔ اگر وہ آپ ﷺ کی جگہ کھڑے ہوئے، تو وہ اپنے آنسو نہیں روک پائیں گے۔ اور لوگ بھی ان کے ساتھ رونے لگیں گے۔ کیا آپ ﷺ کسی اور کو مقرر فرما سکتے ہیں؟" نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنا حکم دہرایا، "ابوبکر سے کہو لوگوں کو نماز پڑھائیں۔" چنانچہ حضرت ابوبکر آگے بڑھے اور بطور امام ظہر کی نماز پڑھانی شروع کی۔ اگلے دن، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اچانک بستر سے اٹھنے کی طاقت مل گئی۔ اور پاس موجود لوگوں کے سہارے سے آپ ﷺ مسجد تشریف لے آئے۔ جب حضرت ابوبکر نے آپ ﷺ کو دیکھا، تو وہ پیچھے ہٹنا چاہتے تھے۔ نبی پاک ﷺ نے انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے کو کہا، اور پھر ان کے بائیں طرف بیٹھ گئے۔ لیکن حضرت ابوبکر نے پیچھے ہٹ کر آپ ﷺ کی اقتدا کی۔ یہ آخری نماز تھی جو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے صحابہ کو پڑھائی۔ اس کے بعد، حضرت ابوبکر نمازیں پڑھاتے رہے۔ بیماری کا تیرھواں دن تھا، پیر کی صبح۔ آپ ﷺ نے اس دنیا میں پہلی بار پیر کے دن آنکھیں کھولی تھیں، اور اب پھر پیر کا دن تھا۔ لیکن اس بار، ایک بھاری جدائی قریب آ رہی تھی۔ حضرت ابوبکر ،صحابہ کو فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک لمحے کے لیے سر اٹھایا، اور اپنے حجرے کی کھڑکی سے صحابہ کو سیدھی صفوں میں، کندھے سے کندھا ملائے کھڑے دیکھا۔ اس لمحے، آپ ﷺ کے دل میں بے پناہ خوشی بھر گئی۔ وہ تھے آپ ﷺ کے صحابہ، جن کے لیے آپ ﷺ نے کتنی ہی مشکلات برداشت کیں۔ 23 سال پہلے کے جاہلیت کے دنوں سے وہ کتنے بدل چکے تھے۔ ہر ایک نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا تھا، اسلام قبول کیا تھا، اور نبی ﷺ کی راہ میں اپنی جان اور مال خرچ کیا تھا۔ انہیں اس حال میں دیکھنا کتنی بڑی خوشی تھی۔ یہ آخری موقع تھا جب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے صحابہ کو اس طرح دیکھا۔ جدائی کا درد ان کے دلوں میں انگارے کی طرح گرنے والا تھا۔ اب ان کا ملنا جنت میں مقدر تھا۔ ایک موقع پر، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی لاڈلی بیٹی سیدہ فاطمہ کو اپنے پاس بلایا۔ وہ آپ ﷺ کی واحد اولاد تھیں جو زندہ تھیں، اور اپنے مزاج، اپنی چال، اور بہت سے دیگر معاملات میں اپنے والد سے بے حد مشابہت رکھتی تھیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انہیں اپنے بائیں طرف بٹھایا اور ان کے کان میں کچھ کہا۔ سیدہ فاطمہ پر اچانک غم کا طوفان آ گیا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ پھر نبی پاک ﷺ نے ان کے کان میں کچھ اور کہا۔ اور اس بار ان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ بعد میں، جب حضرت عائشہ نے پوچھا کہ نبی پاک ﷺ نے انہیں کیا فرمایا تھا، تو حضرت فاطمہ نے بتایا: "پہلے آپ ﷺ نے مجھے بتایا کہ عنقریب آپ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور مجھے چھوڑ جائیں گے، تو میں رو پڑی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اہلِ بیت میں سے سب سے پہلے میں آپ ﷺ سے آ ملوں گی، اور اسی لیے میں ہنس پڑی۔" اور ہوا بھی بالکل ایسا ہی۔ اپنے والد کے وصال کے صرف چھ ماہ بعد، وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں جبکہ ابھی ان کی عمر صرف 28 یا 29 سال تھی۔ اپنے والد کی تکلیف کو اپنے دل میں محسوس کرتے ہوئے، سیدہ فاطمہ مزید برداشت نہ کر سکیں۔ انہوں نے اپنے پیارے والد کو بانہوں میں لے لیا اور بلک بلک کر رونے لگیں۔ "ابا جان...
آپ کتنی تکلیف میں ہیں۔" یہ وہی رونا تھا جیسا برسوں پہلے اس وقت تھا، جب مشرکین نے آپ ﷺ کی پشت پر اونٹ کی اوجھڑی ڈال دی تھی۔ لیکن اب، آپ ﷺ کی تکلیف کا وقت ختم ہونے والا تھا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا اور فرمایا، "اے فاطمہ، تمہارے باپ کو آج کے بعد کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔ وہ چیز جو قیامت تک کسی کو نہیں چھوڑے گی، یعنی موت، اب تمہارے باپ کے پاس آ گئی ہے۔" نبی پاک ﷺ اب ایسے راستے پر تھے جہاں سے واپسی ممکن نہیں تھی۔ ہمارے پیارے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) جو تمام مخلوقات کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے، جنہوں نے اپنی امت کے لیے کبھی جدوجہد ترک نہیں کی، جنہوں نے اسلام کا پیغام پھیلانے کے لیے ہر مصیبت برداشت کی، جن کی زندگی پوری انسانیت کے لیے بہترین نمونہ تھی، اب اپنے آخری سفر پر تھے۔ جی ہاں، گزشتہ دنوں سے ہم آپ ﷺ کی مبارک زندگی کا ذکر کر رہے تھے۔ آپ ﷺ یتیم پیدا ہوئے۔ بہت چھوٹی عمر میں اپنی والدہ کو کھو دیا۔ اور آپ ﷺ کی زندگی مشکلات اور آزمائشوں سے بھری ہوئی تھی۔ آپ ﷺ کو پہلی وحی اس وقت ملی جب آپ ﷺ تنہائی میں غور و فکر میں مصروف تھے، غارِ حرا میں۔ پہلے تو آپ ﷺ سمجھ نہ سکے کہ کیا ہو رہا ہے، تو آپ ﷺ فوراً اس شخصیت کے پاس گئے جن کی طرف ہمیشہ رجوع فرماتے تھے، اپنی خدیجہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا، "مجھے اوڑھاؤ، مجھے اوڑھاؤ۔" آپ ﷺ کو نبوت کا فریضہ سونپا گیا تھا۔ اور اسی طرح آپ ﷺ کی وہ جدوجہد شروع ہوئی جو 23 سال تک جاری رہنے والی تھی۔ ابتدائی سالوں میں، آپ ﷺ کو ہر طرح کے ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔ جو محمد ﷺ کی پیروی کرتے ہیں ان کا یہی انجام ہوتا ہے۔ جب آپ ﷺ کے صحابہ پر ظلم ہوتا، تو آپ ﷺ بھی ان کے ساتھ تکلیف اٹھاتے۔ مشرکین نے ان پر ناقابلِ تصور ظلم و ستم ڈھائے تاکہ وہ اسلام چھوڑ دیں۔ پورے تین سال تک، آپ ﷺ اور آپ کے خاندان اور رشتے داروں کو مکمل بائیکاٹ میں رکھا گیا۔ انہیں معاشرے سے کاٹ دیا گیا، بھوکے پیاسے رکھا گیا، لیکن آپ نے اپنا مشن کبھی نہیں چھوڑا۔ اور جب وہ دور ختم ہوا، اور ابھی حالات سنبھلنے شروع ہی ہوئے تھے، آپ ﷺ نے اپنے سب سے عزیز لوگوں کو کھو دیا۔ پہلے اپنے چچا ابو طالب کو کھویا جو ہمیشہ آپ ﷺ کی حفاظت کرتے رہے۔ اور پھر اپنی محبوب خدیجہ کو کھویا جو ہمیشہ آپ ﷺ کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔ پھر آپ ﷺ طائف گئے، اس امید پر کہ شاید وہ سنیں گے، لیکن انہوں نے بے رحمی سے پتھر مارے۔ اگر آپ ﷺ چاہتے، تو اللہ اہلِ طائف کو تباہ کر دیتا۔ لیکن آپ ﷺ نے ایسا نہیں مانگا۔ آپ ﷺ نبی رحمت تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، "مجھے یقین ہے کہ ان میں سے ایسی نسلیں آئیں گی جو صرف اللہ کی عبادت کریں گی۔" ایک بار پھر، آپ ﷺ نے اپنی امت کے بارے میں سوچا۔ ایک بار پھر، آپ ﷺ نے رحمت کا راستہ چنا۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، آپ ﷺ نے کبھی ہار نہیں مانی۔ آپ ﷺ نے اسلام پھیلانے کے لیے مدینہ ہجرت فرمائی۔ وہاں آپ ﷺ نے اللہ کا دین قائم کرنے کے لیے انتھک محنت کی۔ آپ ﷺ نے ایک نئی تہذیب قائم کی، اور وہاں سے اسلام کو دور دور تک پھیلایا۔ جنگِ اُحد میں آپ ﷺ نے اپنے چچا حضرت حمزہ کو کھویا، جو ہمیشہ پہاڑ کی مانند آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے رہے۔ اور آپ ﷺ نے اپنے قریب ترین ساتھیوں کو بھی کھویا۔ ان نقصانات نے آپ ﷺ کو بہت گہرا صدمہ پہنچایا۔ لیکن ہر مشکل میں، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی طاقت اللہ سے حاصل کی اور اس کا پیغام پہنچانے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ آپ ﷺ نے متعدد فوجی مہمات کی قیادت کی، اور اللہ کے حکم سے آپ ﷺ کو فتوحات نصیب ہوئیں۔ اس کے ذریعے بہت سے قبائل نے اسلام کو جانا اور قبول کیا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنا مشن مکمل کر لیا تھا۔ آخر میں، آپ ﷺ نے حجۃ الوداع ادا فرمایا اور خطبہ حجۃ الوداع ارشاد فرمایا۔ پوری انسانیت، اپنے صحابہ اور اپنی امت کو آخری نصیحتیں اور یاد دہانیاں فرمائیں۔ جی ہاں، آپ ﷺ نے اپنا مشن بہترین انداز میں مکمل کیا۔ اور اب ابدی جہان کی طرف رخصت ہونے کا وقت آ گیا تھا۔ دن آدھا گزر چکا تھا، اور سورج غروب ہونے کو تھا۔ صرف آپ ﷺ کے لبِ مبارک حرکت کر رہے تھے۔ "اے اللہ، مجھے الرفیق الاعلیٰ کی معیت نصیب فرما۔" "اے اللہ، الرفیق الاعلیٰ۔" یعنی آپ ﷺ فرما رہے تھے، "مجھے بلند ترین رفیق کے پاس لے چل۔" آپ ﷺ بار بار یہ بھی دہراتے رہے، "الصلاۃ، الصلاۃ" نماز کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی تلقین فرماتے رہے۔ صدیوں سے زمین آپ ﷺ کے آنے کی منتظر تھی۔ اور اب، آسمانوں کے فرشتے منتظر تھے۔ آپ ﷺ کے پاس پانی کا ایک برتن تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں ہاتھ ڈبوئے اور اپنے چہرۂ مبارک پر پھیرتے ہوئے فرمایا، "لا الٰہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)۔" پھر آپ ﷺ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور یہ الفاظ دہراتے رہے، "اے اللہ، الرفیق الاعلیٰ۔ اے اللہ، الرفیق الاعلیٰ۔" آپ ﷺ 63 سال کی عمر میں اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ حضرت فاطمہ بلک بلک کر رو پڑیں اور بلند آواز سے نوحہ کرنے لگیں۔ جب نبی پاک ﷺ کی ازواج نے بھی رونا شروع کیا، تو صحابہ سمجھ گئے کہ کیا ہو چکا ہے۔ حضرت علی وہاں صدمے میں کھڑے تھے گویا جیسے یتیم ہو گئے ہوں۔ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز تھیں۔ حضرت عثمان بے زبان ہو گئے۔ گویا ان کی زبان بند ہو گئی ہو۔ لیکن حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) اس خوفناک لمحے کے صدمے سے مغلوب ہو گئے۔ " اللہ کے رسول ﷺ کا انتقال نہیں ہوا، آپ ﷺ زندہ ہیں!
آپ ﷺ صرف بے ہوش ہوئے ہیں، جیسے ایک بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام)ہوئے تھے۔ جس نے بھی کہا کہ محمد ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے، میں اسے اپنی تلوار سے کاٹ دوں گا۔" اس وقت، حضرت ابوبکر سُنح میں اپنے گھر پر تھے۔ جب انہیں خبر ملی، تو وہ فوراً دوڑتے ہوئے آئے۔ بغیر کسی کی طرف دیکھے، سیدھے حجرے میں داخل ہوئے اور نبی پاک ﷺ کے چہرے مبارک سے کپڑا ہٹایا۔ آپ ﷺ کی پیشانی پر بوسہ دیا اور رو پڑے۔ "موت میں بھی آپ ﷺ کتنے حسین ہیں، جیسے زندگی میں تھے، یا رسول اللہ۔" پھر انہوں نے چہرۂ مبارک دوبارہ ڈھانپ دیا اور باہر نکل آئے۔ ان کے سامنے صحابہ کا ہجوم تھا جو سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیا کریں۔ سب رو رہے تھے، غم اور صدمے سے نڈھال۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر کی بات بھی سنی تھی۔ "جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا، تو جان لو محمد ﷺ کا انتقال ہو چکا ہے۔ اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو جان لو اللہ زندہ ہے اور کبھی نہیں مرتا۔" اللہ نے فرمایا، "محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ اگر ان کا انتقال ہو جائے یا شہید کر دیے جائیں، تو کیا تم الٹے پاؤں کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے؟ جو ایسا کرے اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتا۔ اور اللہ شکر گزاروں کو ضرور جزا دے گا۔" یہ آیت اصل میں غزوۂ اُحد کے دن نازل ہوئی تھی، جب مشرکین نے یہ جھوٹی افواہ پھیلائی تھی کہ محمد ﷺ قتل ہو گئے ہیں۔ حالانکہ صحابہ نے اس آیت کو ہزاروں بلکہ سینکڑوں بار پڑھا ہوگا، لیکن غم کے اس لمحے میں، گویا وہ اسے بالکل بھول گئے تھے۔ لیکن اسی ایک آیت کے ذریعے، حضرت ابوبکر نے سب کے دلوں کو سنبھال لیا۔ یہ الفاظ سن کر، صحابہ آہستہ آہستہ خود کو سنبھالنے لگے، کم از کم تھوڑا سا۔ انہوں نے آخرکار قبول کر لیا کہ نبی پاک ﷺ اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ حضرت عمر بھی ہوش میں آئے اور ‘نبی پاک ﷺ کا انتقال نہیں ہوا’ کہنے سے رک گئے۔ حضرت عمر نے بعد میں فرمایا، "ایسا لگا جیسے میں نے یہ آیت پہلی بار سنی ہو۔" جی ہاں، مدینہ نے اپنی تاریخ میں کبھی اتنی خوشی نہیں منائی تھی جتنی نبی پاک ﷺ کی آمد کے دن منائی تھی۔ اور اب، وہ شہر اپنے گہرے ترین غم اور سوگ سے گزر رہا تھا۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اور ان کے دلوں سے غم اور کرب ابل رہا تھا۔ لیکن صرف غم سے کوئی کام نہیں ہونا تھا۔ اب ہمیں کیا کرنا ہے؟ ایک خلیفہ کا انتخاب کرنا ضروری تھا۔ کوئی ایسا جو مسلمانوں کی قیادت کرے اور اسلام کے قوانین نافذ کرتا رہے۔ اسے پوری امت کے لیے سہارا بننا تھا۔ کوئی ایسا جو اپنے دن رات اسلام کی خدمت میں گزارے۔ چنانچہ صحابہ جمع ہوئے۔ اس عظیم ذمہ داری کے لیے سب سے زیادہ اہل حضرت ابوبکر تھے۔ وہ مکہ میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں تھے۔ وہ ہجرت میں نبی پاک ﷺ کے ساتھی تھے، غار میں دو میں سے ایک۔ اور بیماری کے دوران، نبی پاک ﷺ نے پہلے ہی ان کی طرف واضح اشارے فرما دیے تھے۔ آپ ﷺ نے مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کرنے کا حکم دیا، اور صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رکھا۔ آپ ﷺ نے انہیں نماز پڑھانے پر بھی مقرر فرمایا۔ آپ ﷺ نے انہیں امامت کا مقام دیا جس کا مطلب ہے قیادت۔ نماز اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے نا؟ اور درجنوں صحابہ میں سے آپ ﷺ نے ابوبکر کو منتخب فرمایا، تمام مسلمانوں کی نماز پڑھانے کے لیے۔ حضرت ابوبکر نے اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب کچھ قربان کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ ایک دن کے لیے بھی نہیں۔ جب لشکر کی تیاری کے لیے مال کی ضرورت پڑی، تو ان جیسی قربانی کوئی نہ دے سکا۔ وہ اپنا سب کچھ لے آئے۔ نبی پاک ﷺ نے پوچھا، "اے ابوبکر، تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا؟" "میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑا ہے۔" معراج کے اگلے دن صبح، جب مشرکین نبی پاک ﷺ کا مذاق اڑا رہے تھے، اور سب سے مشکل دنوں میں، بدر، اُحد اور خندق کی جنگوں کے دوران، حضرت ابوبکر ہمیشہ آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے رہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد خلیفہ بننے کے سب سے زیادہ حقدار وہی تھے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ صحابہ نے جمع ہو کر آپس میں مشورہ کیا، اور حضرت ابوبکر کو اسلام کا پہلا خلیفہ منتخب کیا گیا۔ اگلے دن، ظہر کی نماز کا وقت ہوا۔ پورا مدینہ، اب بھی آنسوؤں میں ڈوبا ہوا، نماز کے لیے مسجد میں جمع تھا۔ ہمیشہ کی طرح، حضرت بلال نے اذان دینی شروع کی۔ لیکن جب وہ ان الفاظ پر پہنچے، "اَشہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللہ (میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)،" ان کا گلا بھر آیا، آواز کانپ اٹھی، اور وہ مکمل نہ کر سکے۔ ان کا کام تھا لوگوں کو نماز کے لیے بلانا، دعوت دینا۔ لیکن وہ نہ کر سکے۔ وہ آگے نہ بڑھ سکے اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ سب رو رہے تھے۔ حضرت بلال نبی پاک ﷺ کے بغیر مدینہ کا تصور بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ وہ اب اذان دینے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔ وہ اب ایسے شہر میں رہنا نہیں چاہتے تھے، جہاں ہر گوشہ انہیں نبی پاک ﷺ کی یاد دلاتا تھا۔ اور چند سال بعد، وہ شام چلے گئے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جسم مبارک کو حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے غسل دیا۔ اور جب وہ غسل دے رہے تھے، تو آپ ﷺ کے جسم مبارک سے مشک جیسی خوشبو پھیلی، ایسی خوشبو جو پہلے کبھی کسی نے نہیں سونگھی تھی۔ منگل کو دوپہر سے پہلے غسل اور کفن مکمل ہو گیا۔ صحابہ نے آ کر نمازِ جنازہ ادا کی۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک بار فرمایا تھا، "کسی نبی کی روح قبض نہیں کی گئی، مگر اسی جگہ جہاں وہ دفن کیا جانا پسند کرتا ہے۔" چنانچہ حضرت ابوبکر کے مشورے سے، آپ ﷺ کو حضرت عائشہ کے حجرے میں، بالکل اسی جگہ دفن کیا گیا، جہاں آپ ﷺ کی رحلت ہوئی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا، "ہم انبیاء کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔" یہاں تک کہ آپ ﷺ کی زرہ بھی جَو کے بدلے ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔ جو شخص آپ ﷺ کو نہ بھی جانتا ہو، اس کے لیے صرف یہ ایک منظر کافی ہے۔ اور اس سب کے باوجود، نبی پاک ﷺ نے آپ کے لیے ایک وراثت چھوڑی ہے۔ دو امانتیں: قرآن اور سنت۔ آپ ﷺ نے اپنا فریضہ بہترین انداز میں پورا کیا۔ اب باری ہماری ہے۔ آپ ﷺ نے جھنڈا ہمیں سونپ دیا۔ اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اسے دوبارہ بلند کریں اور پوری دنیا تک پہنچائیں۔ یہ گھر بیٹھنے کا وقت نہیں۔ ہمیں سونپا گیا جھنڈا ہمارے ایک قدم کا منتظر ہے۔ وہ ان دنوں کا آرزومند ہے جب وہ دوبارہ بلندی پر لہرائے گا۔ دنیا یہ پیغام سننے کی منتظر ہے۔ وہ جاہلیت کے اندھیروں سے نکل کر ایمان کی روشنی اور قرآن کی روشنی میں آنے کی منتظر ہے۔ انسانیت روحانی طور پر بیمار ہے۔ ان کی روحیں تڑپ رہی ہیں، لیکن انہیں کوئی راستہ نہیں مل رہا۔ جب علاج ہمارے ہاتھوں میں ہے، تو ہم کب تک ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے؟ کیا اب ہمارے اپنے سفر کا آغاز ہونے کا وقت نہیں آ گیا؟ آپ اپنی امت کے لیے جیے، یا رسول اللہ۔ لیکن ہم کس کے لیے جی رہے ہیں؟ آپ نے اپنی امت کی ابدی زندگیاں بچانے کے لیے بے خواب راتیں گزاریں، جبکہ ہم اپنے سوا کسی کا نہیں سوچتے۔ آپ نے سخت ترین آزمائشوں میں بھی اپنا مقصد نہیں چھوڑا۔ جبکہ ہم ذرا سی مشکل میں راستہ بھول جاتے ہیں۔ اور پھر بھی آپ ہماری آرزو رکھتے تھے۔ آپ نے ہمیں "میرے بھائی اور بہنیں" کہا۔ لیکن کیا ہم واقعی اس اعزاز کے مستحق ہیں؟ کیا صرف زبان سے محبت کا دعویٰ کر لینا آپ ﷺ کی امت ہونے کے لیے کافی ہے؟ یا بات آپ ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی ہے، اسے اپنی زندگیوں میں اتارنے کی ہے؟ اب جاگنے کا وقت ہے۔ اس امت کی حیثیت سے جس کے لیے آپ نے آنسو بہائے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم آپ کے لائق بنیں۔ یا رسول اللہ ﷺ۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کے راستے، آپ کے مقصد اور آپ کی وراثت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں گے۔ آج، ہم چیزوں کو بدلنے جا رہے ہیں۔ آج، ہم آپ ﷺ کے کی سنت کے مطابق زندگی گزارنا شروع کریں گے۔ آج سے ہم، وہ بھائی بننے کی طرف قدم بڑھائیں گے جن کی آپ نے آرزو کی تھی۔ اور آپ سے، میرے بھائی، میری بہن، جو ابھی یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں۔ اگر آپ اپنے ایمان کو مضبوط اور علم کو گہرا کرنا چاہتے ہیں، تو ہم نے آپ کے لیے درجنوں تعلیمی ویڈیوز تیار کی ہیں، ہمارے ٹوارڈ اٹرنٹی چینل پر۔ تھوڑی مگر مسلسل کوشش سے بھی آپ حیران کن ترقی کر سکتے ہیں، ان شاء اللہ۔ اگر آپ کہہ رہے ہیں، "میں اسلام شروع سے سیکھنا چاہتا ہوں،" تو ہمارے پاس Step Islam نام کی ایک ایپ ہے۔ ہماری مکمل مفت نماز ایپ کے ذریعے، آپ پانچ وقت کی نمازوں کو اپنی زندگی کا مستقل حصہ بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ عربی میں قرآن پڑھنا نہیں جانتے، تو ہم نے Lamalif Quran نام کی ایک ایپ تیار کی ہے۔ اور اگر آپ قرآن کے معانی مزید گہرائی سے سمجھنا چاہتے ہیں، تو آپ ہماری تفسیر ریڈنگ ایپ My Risale ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اگر یہ سیریز آپ تک پہنچی ہے، تو اللہ چاہتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں کچھ بدلیں۔ تو کیا ہم اس کی طرف ایک قدم بھی نہیں بڑھائیں گے؟ یا رسول اللہ۔ اللہ ہمیں آپ ﷺ کے لائق امت بنائے۔ آپ ﷺ پر درود و سلام ہو۔ اے وہ ہستی جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ یا رسول اللہ ﷺ۔