Islam Hi Kyun? – 10 Asian Nau Muslimon Ne Diya Jawab!
تاریخ اشاعت
میں بالکل خالی اور گمشدہ ہو گئی تھی۔ میں صرف شہرت اور پیسے کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ اور یہی بات جادو کے ساتھ بھی تھی۔ ہمیشہ یہی سوچتی کہ میں کون ہوں؟ علیزا کون ہے؟ اب مجھے کچھ معلوم نہ رہا تھا۔ جیسے اسکول مجھے سائنس ریاضی سے متعلق سارا علم دیتا ہے۔ لیکن وہ نہیں بتاتا کہ میں کہاں سے اور کیوں آیا ہوں اور میں کون ہوں اور کہاں جا رہا ہوں اور مرنے کے بعد میں کہاں جاؤں گا؟ لہٰذا میں نے خدا سے دعا کرنی شروع کی مجھے معلوم نہیں تھا کہ اصل خدا کون ہے۔ اے خدا، مجھے تیری تلاش ہے۔ میری رہنمائی کر۔ میں بدھ مت کی پریکٹس کرتا رہا ، لیکن میرے دل میں ایک سوال تھا۔ تو پھر میں نے اپنے دوست سے پوچھا جو کہ ایک مسلمان تھا۔ "تمہارا خدا کہاں ہے؟ مجھے تو نظر نہیں آ رہا۔ اور پھر اس نے کہا ، "نہیں، خدا موجود ہے ، لیکن آپ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ پھر اچانک مجھ میں قرآن پڑھنے کی خواہش بہت شدید ہوتی چلی گئی۔ تو یہ بات اتنی واضح ہے کہ تم اس سے انکار نہیں کر سکتے یہ تمام مسائل کا حل دیتا ہے اور بالکل سادہ ہے اور یہ تھی آزادی۔ یہ اُس غلامی سے آزادی تھی۔ ذہن کی آزادی، رائے کی آزادی، یہ آزادی کہ میں خود فیصلہ کروں کہ کون کیا دیکھے اور میں کیا پہنوں۔ اور میں بطور بدھسٹ بڑا ہوا اور الحمد اللہ، میں 22 سال کی عمر میں مسلمان ہو گیا۔ مسلمان ہونے سے پہلے، میں ایتھیسٹ تھا۔ میرا کوئی بھی مذہب نہیں تھا، قطعی نہیں۔ نہ بدھ ازم، نہ شِنٹو ازم۔ بالکل ایک عام جاپانی کی طرح۔ میں کوریا، جنوبی کوریا میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا۔ میرے خیال میں، میں کوئی خاص آدمی نہیں ہوں میں کوریا میں عام لوگوں کی طرح رہ رہا تھا۔ میں نے یونیورسٹی میں موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ اور چند سال پہلے میں نے اسلام قبول کیا اور شاید میں اب بھی یہ سفر طے کر رہا ہوں۔ میرے والد پریسبیٹیرین پادری ہیں۔ میرے دادا بھی پادری تھے، میرے چاچا بھی پادری تھے، اور تھائی لینڈ میں اُن کا مذہبی مقام کافی بلند تھا۔ میرے والد ایک انتہائی سخت نظریات رکھنے والے ایتھیسٹ فلاسوفر تھے جو برسوں سے مجھے یہی سکھاتے رہے کہ میں کیسے مذہبی لوگوں سے مناظرے کروں ، اور ان کو کیسے جواب دوں اور کس طرح، اُن کے خدا کے عقیدے کو کمتر دکھایا جائے۔ کیسے ان عیسائیوں کا مقابلہ کروں جو مجھے یو نئو، یسوع کا پیغام دینے کی کوشش کرتے ہیں تو شاید بہت کم عمر سے تقریباً، دس سال کی عمر سے ہی مجھے لگنے لگا کہ خدا پر ایمان رکھنا کوئی اچھی بات نہیں۔ وہ بات جس کی وجہ سے میں نے اپنے عقیدے پر سوال اٹھایا، تب میں 11 سال کا تھا۔ لیکن میں پہلے بتا دوں کہ میں بہت ضدی تھا، اور سوال بہت کرتا تھا۔ کیا ہوا کہ میرے دادا کا انتقال ہوگیا۔ جب ان کا انتقال ہوا تو بطور روایتی چائنیز فیملی ایک رسم ہوتی ہے۔ اس خاص رسم میں ایک پجاری کو نعرے لگانے کے لئے بلایا جاتا ہے۔ لیکن ایسی زبان میں جو مجھے سمجھ نہیں آتی۔ تو میں نے اپنے انکل، آنٹی سے سوال پوچھنا شروع کیے۔ "وہ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں؟" تو وہ کہتے ہیں،"ویل، یہ بنیادی طور پر آپ کے دادا کو جنت میں بھیجنے کے لیے ہے۔ میں نے کہا،"یہ اچھا ہے۔" لیکن ساتھ ہی کیا ہوا ،ہماری ایک ایکٹیویٹی ہے جہاں ہم پرئیر پیپر کو فولڈ کرتے ہیں اور جبکہ، اس کے ساتھ ہیل بینک کے نوٹ ہوتے ہیں۔ جیسے ، اگر میں جانا چاہوں ترکی یا پھر میں جانا چاہوں، یو-ایس تو مجھے ملائیشین رنگٹ کو امریکی ڈالر میں تبدیل کرنا پڑے گا۔ اب آپ کے پاس ہیل بینک نوٹ ہیں ، جہنم میں استعمال ہونے والی رقم ہے۔ تو میں تجسس کرنے لگا۔ میں نے کہا ، "یہ رسم انہیں جنت بھیجنے کے لیے ہے۔ جنت میں آپ کے پاس مفت میں سب کچھ ہے۔ تو یہ ہیل بینک نوٹ کس کے لئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا ، " بنیادی طور پر یہ ہیل بینک نوٹ آپ کے دادا کے لئے ہے۔ صرف اس صورت میں کہ اگر وہ جنت نہ جا سکے تو جہنم میں اسے استعمال کرسکیں۔ اس جواب نے میرے لئے مزید الجھن پیدا کردی۔ شاید وہ الجھن میں نہ تھے۔ میں الجھن میں تھا۔ میں اس الجھن میں تھا کیونکہ ایک چینی کی حیثیت سے ، ہم کچھ فلسفوں کے ساتھ پلے بڑھے، جیسے "آپ کو اس دنیا میں اچھا انسان بن کر جینا ہے تاکہ آپ جنت میں جاکر لطف اٹھائیں۔ لیکن اگر آپ اس دنیا میں برے آدمی ہیں تو آپ جہنم میں جائیں گے اور آپ کو سزا دی جائے گی۔ " تو جنت میں انعام اور جہنم میں سزا کا خیال میرے ذہن میں اٹک گیا تھا ۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے،جہنم میں جا کر بھی آپ پیسہ استعمال کرکے لطف اٹھا سکتے ہیں۔ تو میرا اس دنیا میں اچھا بننے کا کیا فائدہ؟ یا پھر برا آدمی نہ بننے کا بھی کیا فائدہ؟ میں اس وقت تک سوالات کرتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے کرخت لہجے میں کہا ، بس بہت ہو گیا!
کچھ مت پوچھو!
ٹھیک ہے۔ میں نے پوچھنا چھوڑ دیا۔ اس لئے نہیں کہ میں جواب سے مطمئن تھا ، بلکہ اس لئے کہ میں تابوت کا اگلا امیدوار نہیں بننا چاہتا تھا۔ کیونکہ جب انہوں نے اپنی آواز اونچی کی ، مجھے پتہ چل گیا تھا کہ وہ جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ میں بدھ مت کی پریکٹس کرتا رہا ، لیکن میرے دل میں ایک سوال تھا۔ میں جتنا بھی پوچھتا، مجھے جوابات زیادہ تر نہ ملتے۔ بطور چینی،آپ جانتے ہیں ہم چینی دیوتاؤں کی پوجا کرتے ہیں جو چینیوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ بالکل ہماری طرح۔ یہاں تک کہ داڑھی کا رنگ، آنکھیں اور ان کا سائز ، ہماری طرح ہے۔ اور ایک گفتگو جو میرے مسلمان بننے سے پہلے اپنے دوست کے ساتھ ہوئی۔ میں نے اس سے پوچھا ، "یہ کون ہے؟ کیا یہ خدا ہے؟ یہ کب خدا بنا؟ وہ بت جس کی وہ پوجا کرتے ہیں؟ میں نے احترام کے دائرے میں مناسب انداز میں پوچھا۔ تو اس نے کہا ، "جب وہ زندہ تھا تو وہ خدا نہیں تھا۔ صرف مرنے کے بعد ہی خدا بنا۔" تب میں نے کہا ، او کے۔ مطلب یہ کہ جب وہ زندہ تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ خدا ہے۔ تو پھر مرنے کے بعد وہ خدا بن گیا۔ پھر کس نے اسے خدا بننے کے لئے چنا؟ لیکن پھر میں ایک اور سوال پوچھتا ہوں ، "اگر ایسا ہے تو آپ لوگ ان کی عبادت کیوں نہیں کرتے جنہوں نے اسے خدا بنایا؟ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس کسی کو خدا بنانے کی طاقت ہے۔ میں مثال کے طور پر کہتا ہوں ، اگر میں آپ کو ہائراور فائر کرسکتا ہوں، اپنی کمپنی کے سی ای او کے طور پر، تو کون طاقتور ہوا؟ ظاہر ہے کہ میں۔ پھر آپ لوگ ان کی عبادت کیوں نہیں کرتے؟ اور اس کا انداز تھا کہ ہم نے پہلے کبھی یہ سوچا نہیں۔ لیکن فرق نہیں پڑتا۔ مجھے اسکول میں بہت مشکل وقت گزارنا پڑا۔ مجھے تنگ کیا جاتا ، کوئی دوست نہیں تھے۔ میں بہت شرمیلا تھا اور مجھ میں خود اعتمادی بھی کم تھی۔ پھر میں نے کھیلوں کا رخ کیا، اور موسیقی نے واقعی میری مدد کی، تاکہ لوگ میری عزت کریں اور مجھے سنجیدگی سے لیں۔ پھر میں جادو کی طرف آیا۔ میں جادو کے کرتب دکھاتا تھا، ہاں۔ میں ایک پیشہ ور جادوگر یا پرفارمر بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں ہوٹلز ، ریسٹورنٹس، بارز اور کلبز میں پرفارم کرتا تھا۔ لیکن ایک چیز جس نے میری سوچ بدل دی وہ یہ تھی کہ، جیسے جب میں ریپ کرتا تھا یا فٹ بال کھیلتا تھا، میں صرف لوگوں کی تعریف اور ان کی منظوری حاصل کرنے کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ زندگی صرف ان ظاہری چیزوں سے بڑھ کر بھی ہے۔ پھر میں نے مذاہب کے بارے میں جاننا شروع کیا۔ میں کھویا ہوا تھا، کیونکہ میں اس بارے میں سوچتا تھا کہ میں کہاں سے ہوں۔ جیسے اسکول مجھے سائنس ،ریاضی سے متعلق سارا علم دیتا ہے۔ لیکن وہ نہیں بتاتا کہ میں کہاں سے اور کیوں آیا ہوں اور میں کون ہوں اور کہاں جا رہا ہوں؟ اور مرنے کے بعد میں کہاں جاؤں گا؟ وہ مجھے راستہ نہیں بتاتا کہ کہاں جانا ہے۔ میں بالکل خالی اور گمشدہ ہو گئی تھی۔ ہمیشہ یہی سوچتی کہ میں کون ہوں؟ ایک پُراعتماد امریکی لڑکی سے بدل کر میں اپنے اندر ڈپریشن کا ابھرتا ہوا طوفان محسوس کر سکتی تھی۔ مجھے لگا کہ میرے اندر اندھیرا پھیلتا جا رہا ہے اور مجھے روحانیت کی ضرورت ہے۔ لہٰذا میں نے خدا سے دعا کرنی شروع کی مجھے نہیں معلوم تھا کہ اصل خدا کون ہے۔ اے خدا، مجھے تیری تلاش ہے۔ میری رہنمائی کر۔ میں نے یہی سوچا کہ مجھے ضرور خدا سے دعا کرنی چاہیے جو جانتا ہے کہ میں اُسے ڈھونڈ رہا ہوں۔ میں نام استعمال نہیں کرتا تھا۔ میں کہتا، ’’اے خدا، تُو جانتا ہے کہ میں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں۔‘‘ پھر اچانک مجھ میں قرآن پڑھنے کی خواہش بہت شدید ہوتی چلی گئی۔ تو مجھے جاپانی زبان میں قرآن پاک ملا۔ یہ اسلام کے بارے میں معلومات کا بنیادی ذریعہ تھا۔ تو مجھے وہ ملا اور میں نے جاپانی ترجمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ پھر مجھے آخرت کے بہت ہی منفرد تصورات ملے، جو کہ موت کے بعد کی زندگی ہے۔ اور توحید - یعنی اللہ کی وحدانیت کی گواہی۔ تو وہ تصورات میرے لیے بالکل نئے تھے۔ میں نے اس کے بارے میں کبھی بھی نہیں سوچا تھا۔ کیونکہ جیسے لوگ جاپان میں بہت مصروف ہیں۔ ان کے پاس موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں سوچنے کا وقت کیسے ہو سکتا ہے؟ حتیٰ کہ ایک سیکنڈ بھی، وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں کبھی نہیں سوچتے، اور وہ نہیں سوچتے خدا کے تصور کے بارے میں بھی۔ جیسے جاپان میں بہت مشہور ہے، جیسے کہ ایک بت پرست معاشرہ، یعنی شرک۔ اور جاپان میں خدا کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ کوئی آپ کو نہیں سکھاتا کہ خدا کون ہے۔ اور پھر مجھےمیں نے دیکھا، کہ قرآن میں خدا کی وضاحت موجود ہے۔ واضح طور پر بیان ہے۔ مثالاََ سورہ اخلاص، أعوذ بالله من الشيطن الرجيم، قل هو اللہ احد - کہو کہ وہ اللہ ہے، ایک اور اکیلا، ٹھیک؟ یہ بہت آسان ہے۔ لیکن میرے لیے ایک طرح کا سرپرائز تھا۔ اوہ، یہاں خدا کی وضاحت ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ خدا کا کیا تصور رکھتا ہے۔ جیسے خدا کیا ہے؟ خدا کیا کائنات ہے؟ کیا خدا بادلوں میں بیٹھا ایک داڑھی والا آدمی ہے؟ یعنی تمہارے نزدیک خدا کیا ہے؟ اور اس نے مجھے کچھ یوں جواب دیا کہ بلکہ اس نے مجھے کہا کہ، "آؤ،میں تمہیں کچھ دکھاتا ہوں"۔ اور اس نے مجھے "اخلاص" دکھائی۔ اس نے کہا، " یہ ہمارا عقیدہ ہے ۔" میں نے کہا، اچھا، کیا خدا کائنات ہے؟ نہیں، وہ ایسا ہے جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ نا اس جیسا کوئی ہے، نا اس کے برابر کوئی ہے۔ اور اس کا عیسائی عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جیسے وہ نہیں تھا ، نہ وہ پیدا کیا گیا، نہ اس نے کسی کو پیدا کیا۔ ایک بار پھر، یہ بات واضح ہوگئ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ میں پہلے سے ہی خدا پر یقین رکھتا تھا۔ اور جب میں نے زندگی میں پیچھے مڑ کے دیکھا، تو مجھے لگا کہ میں پوری زندگی سے ہی خدا پر ایمان رکھتا آیا ہوں۔ لیکن کسی نہ کسی وجہ سے میں ہمیشہ سے اس احساس کو دبانے کی کوشش کرتا تھا۔ تو پھر میں نے اپنے دوست سے پوچھا جو کہ ایک مسلمان تھا۔ "بھائی،چینی کی حیثیت سے، آپ جانتے ہیں کہ پہلے جو ہمارے سامنے خدا کا مجسمہ تھا، ہم اس کو پوجتے ہیں۔ تو یہ بتائیں کہ مسلمان کس کو پوجتے ہیں؟ اور اس نے جواب دیا ،"ہم خدا کو پوجتے ہیں۔" تو میں نے دائیں اور بائیں دیکھا۔ "تمہارا خدا کہاں ہے؟ مجھے تو نظر نہیں آ رہا۔ اور پھر اس نے کہا ، "نہیں، خدا موجود ہے ، لیکن آپ اسے دیکھ نہیں سکتے۔" میں نے کہا ، "یہ کیا بات ہوئی؟ یقین تو دیکھنے سے ہی آتا ہے۔ اگر میں کسی کو نہیں دیکھ سکتا، تو یقین کیسے کروں؟ پھر اس نے مجھے ایک مثال دی۔ اور اس نے کہا ، "اسے اس طرح رکھو۔ کیا ہوا محسوس ہوتی ہے؟ " میں نے کہا ، "ہاں، ہوتی ہے۔ "کیا آپ ہوا دیکھ سکتے ہیں؟ میں نے کہا ، "ارے بھائی ، درخت کو دیکھو ، شاخوں کو دیکھو ، اور ذرا پتوں کو دیکھو۔ سب حرکت میں ہیں۔ یہی ہوا ہے!
اور کس ثبوت کی ضرورت ہے؟ اس نے کہا ، "نہیں۔ وہ چیزیں جو آپ دیکھتے ہیں وہ بذاتِ خود ہوا نہیں ہے۔ بلکہ ہوا کا اثر ہے۔ یہ خود ہوا نہیں ہے۔ اور پھر میں ٹھہر سا گیا اور سوچنا شروع کیا۔ او کے، ٹھیک ہے۔ یہ بات تو سمجھ میں آگئی لیکن مجھے جواب نہیں ملا، "خدا کون ہے؟" اور پھر اس نے کہا کہ۔ اب ، ذرا تصور کرو۔ یہی وہ ہوا ہے جو خدا نے پیدا کی ہے۔ پھر بھی آپ ہوا کو دیکھ نہیں سکتے ، لیکن اثر دیکھ سکتے ہیں اور آپ ہوا کے اڑنے کو محسوس کرسکتے ہیں۔ پھر آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ اس خدا کو دیکھ سکتے ہیں جس نے ہوا کو پیدا کیا؟ آپ کو اس کا وجود محسوس ہوتا ہے۔ آپ کو اس کی موجودگی محسوس ہوتی ہے اور آپ اس دنیا میں تخلیقات کے لحاظ سے اثر دیکھ سکتے ہیں۔ میرا دل اندر سے کہتا، "ہمم۔ یہ خدا مجھے لوجیکل لگتا ہے۔" میں نے سمجھ لیا کہ اللہ ہی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ بالکل ایک پزل کی طرح ہے۔ میں اِسے زیرو سے ہر چیز تک سمجھتا ہوں۔ چاہے مجھے علم نہ ہو، مگر وہ سب جانتا ہے۔ اور یہی بالکل سچ ہے۔ اور پھر، اور اسی لیے میں نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ اگرچہ میں اللہ کو دیکھ نہیں سکتا، مگر میں اُسے اپنے جسمانی ڈھانچے سے، اور اِس دنیا سے بھی، یعنی آسمان سے، بارش سے جاپان کے چاروں موسموں سے بھی پہچان سکتا ہوں۔ کیونکہ بہت سے کوریئن سمجھتے ہیں، اسلام خطرناک ہے، لیکن میں نے اسلام کے بارے میں بہت سی اچھی چیزیں محسوس کیں۔ لہٰذا میں نے ان کے بارے میں بات کی۔ میں نے یو ٹیوب پر اپنے احساسات شیئر کیے اور یوں بہت سے لوگ اس میں دلچسپی لینے لگے۔ بہت سے لوگوں نے، بہت سے لوگوں نے مجھے اسلام کے بارے میں سکھایا۔ مثلاً، اگر آپ اسلام سے متعلق جاننا چاہتے ہیں تو آپ فلاں سے بات کرسکتے ہیں اور میں امام سے بات کروں گا۔ آپ کوریا میں کوئی مسجد دیکھ سکتے ہیں اور آپ وہاں نماز ادا کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ یا آپ رمضان میں روزے رکھنے کا طریقہ جان سکتے ہیں۔ تو میں نے رفتہ رفتہ ان پر عمل شروع کر دیا۔ مجھے نہیں پتہ کیوں، لیکن شاید لگتا ہے جیسے یہ سب قدرتی طور پر مجھ سے ہو رہا تھا۔ میں مسجد جاتا تھا۔ مسجد میں نماز ادا کرتا تھا۔ رمضان میں روزے رکھتا تھا اور اس دوران میرا ایمان تھوڑا بہت پختہ ہو گیا تھا۔ جب میں مسجد میں داخل ہوا، تو مجھے لگا کہ یہ ایک چھوٹی دنیا ہے۔ کیونکہ بہت ساری قوموں کے لوگ ایک ہی جگہ جمع ہیں، اور اُن کا مذہب بھی ایک ہی ہے۔ تو مجھے بڑی حیرت کا احساس ہوا۔ کسی مندر میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ کسی مقبرے میں ، یا جاپان کے کسی چرچ میں بھی ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کہ جمع ہو کر، ایک ہی لائن میں کھڑے ہو کر عبادت کر رہے ہیں۔ مجھے واقعی، واقعی یہ سچ محسوس ہوا، کہ یہ ایک پُر امن مذہب ہے۔ پھر میں نے جانا کہ اسلام بہت ہی پریکٹیکل ہے اور ہر چیز میں توازن رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کچھ کاموں کی اجازت ہے اور کچھ کام منع بھی ہیں۔ مگر منع ہونے والے کام کم ہیں۔ آپ دعا کرتے ہیں، مگر آپ کو محنت بھی کرنی ہوتی ہے۔ آپ فیملی بڑھانے کا سوچ سکتے ہیں آپ معاملات بھی کر سکتے ہیں مناکحت (شادی) بھی کر سکتے ہیں ہر چیز میں ایک توازن ہے۔ اور مزید سیکھتے اور جانتے ہوئے یہ خوبصورتی دیکھی کہ اسلام ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ A سے Z تک ہر چیز واضح کر دی گئی ہے، SOP اور تمام چیزیں بالکل تیار ہیں۔ آپ کو اپنا کوئی راستہ نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو بس عمل کرنا ہے۔ اور پھر کھانا کیسے ہے پینا کیسے ہے، بولنا کیسے ہے، کام کیسے کرنا ہے ہر چیز کی تفصیلی ہدایات موجود ہیں۔ اللہ اکبر وللہ الحمد۔ جو مجھے کسی اور مذہب میں بالکل نہیں ملیں۔ قرآن میں بہت سے سائنسی معجزات کا ذکر ہے، جو میرے لیے بہت متاثر کن تھے۔ کیونکہ اس وقت، تقریباً 1400 سال ، صحرا میں رہنے والا ایک ان پڑھ شخص یہ تمام سائنسی حقائق کیسے جان سکتا تھا، جنہیں لوگوں نے حال ہی میں، گزشتہ 100 یا 150 سالوں میں دریافت کیا؟ یہ بھی ایک ایسی چیز تھی جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ تو یہ بات اتنی واضح ہے کہ تم اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ یہ تمام مسائل کا حل دیتا ہے اور بالکل سادہ ہے۔ اُنہوں نے پوچھا تمہیں کیا چیز روک رہی ہے؟ تو میں نے بتایا، مجھے لگتا ہے کہ مجھے عربی سیکھنی چاہیے، اور قرآن پڑھنا چاہیے، اور عبادت کا طریقہ بھی سیکھنا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے کم از کم کچھ حدیثیں (پیغمبر ﷺ کی باتیں) یاد ہوں۔ وہ مجھے دیکھ رہے تھے، پھر اُنہوں نے ایک سوال پوچھا جو مجھے یاد ہے، اور میرے خیال میں وہ یہ جان گئے تھے اُنہوں نے میری کامل پسندی کو بھانپ لیا تھا۔ وہ کہنے لگے، اچھا، تمہارے خیال میں تمہیں ان سب کاموں میں کتنا وقت لگے گا؟ بیس سال ، تیس سال ، پچاس سال اور پھر— اور مجھے نہیں پتہ کہ آپ کو یا ناظرین کو یہ بات کتنی بے وقوفانہ لگے گی مگر اُس بات نے مجھے رُلا دیا، مگر یہ یاد رہے کہ میں کوئی تین مہینے یا زیادہ عرصے سے تحقیقی مطالعہ کر رہی تھی، اور پھر، ہاں۔ مجھے علم کی بھی شدید ضرورت تھی۔ میں سیکھنا چاہتی تھی تاکہ ایک اچھی مسلمان بن سکوں۔ تو اُنہوں نے کہا، علیزا کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تم ایک مسلمان کے لیے علم کی جو سطح چاہتی ہو وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے؟ تو یہ بات میرے دل میں اتر گئی میں اِس سے متاثر ہوئی اور صدمہ بھی ہوا۔ اور اُس وقت میں رو رہی تھی، کیونکہ مجھے یہ صدمہ تھا کہ میں پرفیکٹ نہیں بن سکتی۔ مگر مجھے بات سمجھ آ گئی تھی۔ اُس لمحے، مجھے بات سمجھ آ گئی۔ اور الله سبحانه وتعالى نے میرے دل میں یہ پہلی بات ڈالی کہ دیکھو علیزا اگر الله سبحانه و تعالى تمہیں اِس سفر پر لے آیا ہے اور تمہیں بتا چکا ہے کہ تم اپنی پوری زندگی مسلمان ہی رہی ہو، تو کیا لگتا ہے؟ وہ تمہارے والد کے حوالے سے تمہاری مدد نہیں کرے گا؟ کیا وہ تمہاری فیملی کے حوالے سے تمہاری مدد نہیں کرے گا؟ اس سے مجھے سکون پہنچا۔ دراصل، رمضان کے بعد میرا ایمان مضبوط ہو گیا تھا۔ میرا ایمان تھا۔ میں خدا پر ایمان رکھتا تھا۔ ۔ ۔ لیکن میں اسلام قبول کرنے کے بارے میں نہیں سوچتا تھا، کیونکہ میرا خیال تھا کہ میں ایمان لانے کے بعد بھی مسلمان نہیں ہوسکتا، کیونکہ میں کوریا میں رہتا ہوں، میں کوریئن ہوں۔ یہاں کا طرزِ زندگی بہت مختلف ہے۔ میرے خیال میں یہ آسان نہیں تھا۔ لیکن اگر تم مسلمان نہ ہوئے تو تمہیں اس سے بلکہ کسی بھی چیز سے کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ جبکہ اسلام قبول کرنے اور مسلمان ہو جانے کے بعد تم خود رفتہ رفتہ، مرحلہ وار، بدل سکتے ہو اور پھر خدا تمہیں مزید بہتر مسلمان بناتا جائے گا، کیونکہ اللہ (سبحانہ و تعالیٰ)، ہمارا خدا بہت رحم کرنے اور معاف کرنے والا ہے اور وہی ہمارا سب سے بڑا مددگار ہے۔ لہٰذا وہ تمہاری مدد کرے گا۔ تو پہلے تمہیں مسلمان ہو جانا چاہیے۔ کیونکہ، تمہیں نہیں معلوم، نہ تمہیں نہ مجھے، کہ میں ابھی مر سکتا ہوں۔ ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے یا کوئی ٹریفک حادثہ۔ کچھ بھی۔ مگر مجھے آج ہی موت آسکتی ہے، کسی کو بھی اپنا مستقبل نہیں معلوم۔ تو میں نے اس طرح سے سوچا۔ میں نے سوچا کہ مجھے مسلمان ہو جانا چاہیے۔ جب میں اس مسجد میں گیا اور وہاں امام سے ملا۔ جو کوریا میں سب سے بڑے عالم ہیں میں نے وہاں اسلام قبول کیا اور وہاں موجود ہر شخص نے مجھے مبارک باد دی اور خوش آمدید کہا اسلام میں خوش آمدید کہا اور مجھے ایسا محسوس ہوا آپ جانتے ہی ہیں کہ میرے اسلام قبول کرتے ہی سارے گناہ ماضی کے سارے گناہ مٹ گئے اور میں ایک نیا انسان بن گیا بالکل ایک نئے پیدا ہوئے بچے کی طرح۔ میرا یہ احساس بہت لاجواب احساس تھا۔ اور خوشی کی طرح میں اپنا اُس وقت کا احساس بیان نہیں کرسکتا۔ وہ بہت ہی لاجواب احساس تھا۔ یعنی میں نے کلمہ پڑھا تو اس وقت ظہر کا وقت تھا۔ میں نے وضو کے بعد نمازِ ظہر پڑھی۔ جب میں نے اپنی زندگی کا پہلی بار سجدہ ادا کیا…
تو بہت خوشگوار احساس پیدا ہوا۔ آپ کے خاندان اور دوستوں کا آپ کے مسلمان ہونے پر کیا رد عمل تھا۔ میں نے کہا ، "مام ، جب میں کے-ایل واپس آؤں گا تو میں بھی مسلمان ہو جاؤں گا۔ اور اس دوران صرف تھی، ایک لمبی خاموشی۔ اسی لمبی خاموشی کے بعد آخر کار انہوں نے جواب دیا ، "تمہاری مرضی"۔ لیکن یاد رکھو، مذہب کو مذاق نہ سمجھنا۔ اسے سریس لینا۔ ٹھیک ہے؟ "میں نے کہا ، مام ، میں سیریس ہوں۔ پھر آخرکار، کہنے لگے کہ چلو تم اب سے میرے بیٹے نہیں رہے۔ تو یہ بہت حیران کن بات تھی۔ کیا ان میں سے کسی نے آپ کے بعد اسلام قبول کیا؟ بدقسمتی سے، نہیں میرے والد جو انتقال کر گئے اگرچہ مرنے سے پہلے جو خط انہوں نے لکھا ،اس میں انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر میں تمہارے ساتھ رہنے لگوں میں کسی حد تک اسلام قبول کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہوں۔ لیکن میرے خاندانی حالات نے اس کی اجازت نہیں دی۔ پھر میرے والد نے مجھ سے ایک سوال پوچھا۔ پوچھا، تم نے داڑھی کیوں رکھی ہے؟ یہ داڑھی ۔ تو، وہ ایک بہت دلچسپ سوال تھا۔ یہ اسلام سے متعلق ہے۔ اور یہ وہ سوال تھا جس کا میں شاید انتظار کر رہا تھا، جس کا مطلب ہے کہ میں نے اس سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا، بلکہ مجھے یہ کہنا چاہیے تھا، آپ کے سوال کو سمجھنے یا آپ کے سوال کا بہتر جواب دینے کے لیے، مجھے اسلام کی بنیادی باتیں سمجھانی ہوں گی اور آپ کو وہ سننی ہوں گے۔ تو کیا آپ کے پاس 10 منٹ ہیں؟ تو میرے والد نے کہا، ٹھیک ہے۔ جس کا مطلب تھا کہ اب میرے پاس اسلام کے بارے میں بات کرنے کا وقت ہے، صرف 10 منٹ کے لیے ہی سہی، الحمد للہ۔ پہلے وہ چند منٹ بھی ناپسند کرتے تھے، وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن اب میرے پاس 10 منٹ ہیں، الحمد للہ۔ مجھے وہ بات کرنی ہے جو مجھے کرنی تھی۔ تو ہمارے پاس GORAP طریقہ ہے، آپ جانتے ہیں نا۔ خدا کا وجود، خدا کی وحدانیت، وحی، اور نبوت کے بارے میں۔ یہ ،یہ بہت ضروری حصہ ہے تو میں پہلے ہی تربیت یافتہ تھا ، سو میں بولتا ہوں جیپنیز زبان میں آسان جیپنیز میں۔ پھر، وہ سن رہے تھے، میری والدہ بھی سن رہی تھیں۔ تو پھر، اس کے بعد، میرے والد نے آخر کار مجھ سے پوچھا، تم کیا چاہتے ہو؟ آخر میں، بس انہوں نے کہا، تم کیا چاہتے ہو؟ تو اس وقت میری اہلیہ میرے بالکل ساتھ بیٹھی سن رہی تھیں۔ انہوں نے محسوس کیا، کہ کچھ اثر ہوا ہے، تو انہوں نے کہا، میں چاہتی ہوں کہ آپ سب جنت میں ہمارے ساتھ داخل ہوں۔ یہ کہا یہ میری اہلیہ نے کہا۔ تو پھر کیسے،کیسے ، رائٹ؟ تو اسی لیے پھر میں نے کہا، کیا آپ شہادت پڑھ سکتے ہیں؟ وہ کیونکہ وہ GORAP سب شہادت کے بارے میں ہے، اس میں وضاحت ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ یہ وہ پیغام ہے۔ تو میں پہلے ہی سمجھا چکا تھا، اور پھر وہ کسی طرح سمجھ گئے۔ تو صرف ایک ہی چیز تھی جو باقی تھی وہ تھی اس کا اقرار کرنا یا گواہی دینا۔ تو میری چاہت کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ اس بات کی گواہی دیں جو میں نے ابھی سمجھایا ہے۔ تو میرے والد، اور والدہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر، ٹھیک ہے۔ لہٰذا ایک طرح سے زندہ رہنے کی ترکیب کے طور پر، میں اسے جتنا ممکن ہو چھپانے کی کوشش کرتا رہا میں لوگوں کے سامنے نماز نہیں پڑھتا تھا۔ اگر روزہ رکھتا تھا تو کسی کو نہیں بتاتا تھا۔ میں بہانے بناتا تھا، جیسے میری ڈاکٹر سے ملاقات ہے بعد میں۔ یا مجھے خالی پیٹ رہنا ہے۔ میں یوں ظاہر کرتا کہ میں کچھ پی رہا ہوں حالانکہ نہیں پیتا تھا۔ کافی عرصے تک میں نے سب کچھ چھپائے رکھا۔ میں نے سوچا کہ اپنی بیوی کے ساتھ میں آہستہ آہستہ تبدیلیاں لاؤں گا۔ اور اگر میں ایک بہتر انسان بن گیا، یا اگر وہ دیکھتی کہ ہمارا خاندانی نظام بہتر ہو رہا ہے، تو وہ شاید مجھ سے پوچھتی، "ارے، اب تم اتنے اچھے شوہر کیسے بن گئے ہو؟" "کیا ہوا تمہیں؟" لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ تو لہٰذا ہر چھوٹی سی تبدیلی مجھے بہت ہی زیادہ احتیاط سے لانی پڑتی تھی۔ مثلاً نماز پڑھنا، فجر کے وقت اٹھنا۔ میں کتنا خاموش رہ سکتا تھا، کوئی آواز نا ہو؟ تو اور اب بھی، یہ کچھ مزاحیہ لگتا ہے، لوگ ہنستے ہیں۔ جب میرا الارم بجتا ہے، میں ٹرینڈ ہوں تو جیسے میں فوراً اٹھ کر، پہلی بیپ ختم ہونے سے پہلے ہی الارم بند کر دیتا ہوں۔ یعنی الارم بجتا ہے تو میں فوراً...
تو میں اسے بند کر دیتا ہوں۔ جب میری بیوی کو پتا چلنا شروع ہوا کہ میں مسلمان ہوں، اور میں اسلام کی وجہ سے روزہ رکھتا ہوں، اور شراب نہیں پیتا، اور میں نے اس سے کہا کہ وہ سور کے گوشت سے پرہیز کرے، تو وہ اسلام کے خلاف ہو گئی۔ اس نے اسلام پڑھنا شروع کیا تاکہ وہ ایسی چیزیں تلاش کرے جن سے میں اسلام چھوڑ دوں۔ تو دوبارہ حالات بہت خراب ہونے لگے۔ بات یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ہم علیحدگی پر بات کر رہے تھے۔ ظاہر ہے، میں نہیں چاہتا تھا۔ اور اس نے کہا، "ٹھیک ہے، ہمیں علیحدہ نہیں ہونا، لیکن تم کہیں اور جا کر رہ سکتے ہو۔" "تم الگ کمرے میں رہ لو، یا الگ فلیٹ لے لو، اور وہاں مسلمان بن کر رہو۔" "مجھے کوئی پرواہ نہیں، قانونی طور پر ہم شادی شدہ رہیں گے۔" "تم بچوں سے ویک اینڈ پر مل سکتے ہو، لیکن تم بس مسلمان بن کر کہیں اور رہو۔" "ہمیں اس میں مت گھسیٹو، تم ہماری زندگی مشکل بنا رہے ہو۔" حالات خراب ہو گئے ہم ہمیشہ لڑتے رہتے۔ مجھے یاد ہے ایک رات میں گھر واپس آیا، اور ہم دوسری منزل پر رہتے تھے۔ میں اپارٹمنٹ کے باہر سیڑھیوں کے نیچے پہنچا، اور میرے پاس پہلی سیڑھی چڑھنے کی بھی طاقت نہیں تھی۔ اور میں سیڑھیوں کے سامنے کھڑا تھا، اور بس بہت تھک گیا تھا۔ میں لڑتے لڑتے تھک گیا تھا۔ اپنے عقیدے کا دفاع کرتے کرتے تھک گیا تھا۔ لوگوں کے "چہرہ صاف کرو" کہنے سے تنگ آ گیا تھا۔ میں بہت سی چیزوں سے تھک گیا تھا۔ اور وہیں کھڑا ہو کر پہلی بار میں نے اللہ کی طرف رجوع کیا۔ میں نے کہا، "یا اللہ، میں اب مزید یہ سب نہیں کر سکتا۔" "جو بھی میرے لیے بہتر ہے، وہی کر دے۔" "اگر میری بیوی کے ساتھ بہتر ہے، تو ہمارے درمیان صلح کر دے۔" "اور اگر نہیں، تو پھر..." "مجھے کچھ بہتر عطا کر دے،" لیکن اب میں نہیں کر سکتا۔ "میں واقعی بہت تھک گیا ہوں۔" اسی وقت، یہ کورونا کے شروع کے دنوں میں تھا۔ اور شروع میں ہی مجھے کورونا ہو گیا۔ تو کچھ دنوں کے لئے میں نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کر لیا تھا۔ اور نہیں جانتے تھے کہ کیا ہونے والا ہے۔ لیکن میں ٹھیک ہونے لگا۔ مگر جیسے میں ٹھیک ہو رہا تھا، میری بیوی بیمار ہو گئی۔ اور یہ ٹھیک نہیں ہو رہی تھی۔ اچھا، تو اب دو ہفتے ہو چکے ہیں، اور اس کی طبیعت مزید خراب ہو رہی ہے اس کی کھانسی بڑھ رہی ہے، پھر تین ہفتے ہو گئے ہیں، اور لگ رہا تھا، ٹھیک ہے، کہ یہ کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ اور پھر میری نظر سے دیکھو تو، میں فکر مند تھا۔ تو اس کے آکسیجن لیول ابھی بھی قابلِ قبول تھی، تو میں بہت زیادہ پریشان نہیں تھا، مگر فکرمند تھا۔ اور یہ میری طرف دیکھ کر بولی، "ہاں، اگر میں مر جاؤں، تو میں تم اور بچوں سے الگ جگہ نہیں جانا چاہتی۔ اگر میں مری تو میں وہیں جانا چاہتی ہوں جہاں تم لوگ جاؤ۔" کیونکہ میں آٹھ سال تک کچھ نہیں کر سکا، مجھے کئی مشکلات کا سامنا ہوا اس رشتے میں، اور مجھے صرف یہ کرنا تھا کہ میں ہار مان لوں اور کہوں، "اے اللہ، یا اللہ، براہ کرم، یہ معاملہ میرے ہاتھوں سے نکال لے، میں نہیں کر سکتا۔" اور پھر صرف دو ہفتے بعد...
میرے لیے یہ سب کچھ اتنا اچانک تھا، اور مجھے کافی وقت لگا یہ سمجھنے میں کہ وہ مسلمان ہو چکی ہے۔ اور میں جب فجر کے وقت اٹھتا تھا اور سوچتا تھا کیا میں اسے جگاؤں یا نہیں؟ پھر سوچوں ۔۔، کہ کیا میں اسے سونے دوں؟ اگر میں اسے جگا دوں تو کہیں یہ ناراض نہ ہو جائے؟ کیا یہ مسلمان ہو گئی ہے؟ یہ سچ ہے؟ لیکن پھر میں آہستہ سے جھکتا ہوں، اور یہ آنکھیں کھول کر کہتی ہے، "فجر؟" میں نے کہا، ہاں۔ تو پھر ہم نماز پڑھتے۔ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد آپ خود میں کیا فرق دیکھتے ہیں؟ ہاں فرق، صرف ایک لفظ میں، وہ دل یا دماغ کا سکون ہے۔ اللہ جو پلان بناتا ہے، وہ سب اچھا ہے۔ لیکن ہمیں آخری نتیجہ معلوم نہیں ہے کیونکہ وہ پوری تصویر دیکھ رہا ہے، لیکن ہم انسان صرف پکسل دیکھ سکتے ہیں۔ تو پکسل کے نقطہ نظر سے، ہو سکتا ہے کچھ برا ہوتا ہو، لیکن دراصل جب ہم 10 سال، 15 سال بعد، اس واقعے، حادثے کو مڑ کر دیکھتے ہیں، تو اس کا اصل مطلب سمجھ آتا ہے کہ یہ کیوں ہوا۔ تو آخرکار جو کچھ ہمیں ملتا ہے درحقیقت وہ دل کا استحکام ہے۔ اب میں امام ہوں Kobe مسلم مسجد میں، اُسی مسجد میں، جہاں دس سال پہلے، میں مسلمان ہوا تھا۔ وہ ستمبر 2014 کا مہینہ تھا۔ اور 2024 میں ستمبر کے ہی مہینے میں، میں نے اللہ کے کرم سے امام کی ذمہ داری سنبھالی۔ جب اسلام میری زندگی میں آیا، تو ظاہر ہے سب سے پہلے میں نے اُس کی ویلیوز کو اپنایا۔ پھر میں نے اپنی شخصیت اور لباس کو اس کے مطابق ڈھالا ۔ اور پھر میں نے دیکھا کہ حجاب کے ساتھ لوگ اب میری آواز سنتے ہیں۔ لوگ اب میری بات کو اہمیت دیتے ہیں۔ لوگ اب میری ذہانت کو سنتے ہیں، جس کی مجھے بہت خواہش تھی کیونکہ میں اِسے کسی سے شیئر نہیں کر سکتی تھی۔ میں اپنی آواز کا اظہار نہیں کر سکتی تھی۔ اور یہ تھی آزادی۔ یہ اُس غلامی سے آزادی تھی۔ تو اسلام آزادی ہے، ذہن کی آزادی، رائے کی آزادی، یہ آزادی کہ میں خود فیصلہ کروں کہ کون کیا دیکھے اور میں کیا پہنوں۔ کیونکہ جب آپ میک اَپ کرتی ہیں، بال سنوارتی ہیں، اچھے کپڑے، زیورات وغیرہ پہنتی ہیں، تو اگر اِس پر واقعی سنجیدگی سے سوچیں، تو آپ اپنی خوشی کی چابی دوسروں کے ہاتھ میں دے رہی ہوتی ہیں۔ آپ خوش ہونے کے لیے دوسروں کی تعریف اور قبولیت پر انحصار کرتی ہیں، گویا آپ کی خوشی اُن کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ویلیو اُن کے پاس ہے۔ اور شہرت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا شہرت واقعی آپ کو خوشی دے سکے گی؟ شہرت بھی ایک بیرونی چیز ہے۔ شہرت بھی دوسروں کی طرف سے آتی ہے۔ آپ اُس وقت تک مشہور نہیں ہو سکتیں جب تک کہ دوسرے آپ کو نہ بتائیں کہ آپ عظیم ہیں۔ تو کیا آپ اپنے لیے بس یہی کچھ چاہتی ہیں؟ ہو سکتا ہے، مگر مشہور ہونے کے اور بھی طریقے ہیں۔ آپ فرشتوں میں بھی مشہور ہو سکتی ہیں۔ اوکے، وہ شہرت نظر نہیں آتی۔ آپ نیکی کے کاموں کی وجہ سے بھی مشہور ہو سکتی ہیں۔ آپ اپنی اچھائی کی وجہ سے بھی نام ,نام کما سکتی ہیں۔ اگر آپ مجھے کہیں کہ تم چاہے جیسی بھی نظر آؤ پھر بھی پُراعتماد رہ سکتی ہو، اور پھر بھی اپنی آواز بلند کر سکتی ہو، دلچسپی کی علامت بن سکتی ہو، اپنے آپ پر فخر کر سکتی ہو، تو شاید، میں مان جاؤں گی, ہاں۔ اپنی اصل قیمت اپنے اندر تلاش کرو اور اسلام کا مطالعہ کرو، کیونکہ اسلام ہی ہے جو تمہیں تمہاری عزت واپس لوٹائے گا۔ اسلام ہی ہے جو تمہیں تمہاری آواز واپس دے گا، وہی تمہارا وقار واپس لوٹائے گا، تمہیں یہ احساس دلائے گا کہ تم صرف کپڑوں اور بالوں تک محدود نہیں ہو۔ اپنے اندر تلاش کرو اور اِن جوابات کو ڈھونڈتی رہو اور جواب پانے تک ہار مت مانو۔ جب یہ مسلمان ہوئی، تو اس نے میرے ساتھ پہلا رمضان گزارا۔ میرا رمضان ہمیشہ بہت تنہا، میں سمجھ سکتی ہوں۔ بہت تنہا اور خاموش ہوتا تھا۔ یہ بہت، بہت ہی مشکل اور کٹھن اور تنہائی بھرا وقت ہوتا تھا۔ آپ اکیلے سحری کرتے ہیں افطار اکیلے کرتے ہیں، اور یہ کسی طرح کا لطف نہیں دیتا تھا۔ دوسری طرف، یہ انسٹاگرام پر تھی، اور اس میں تصویریں دیکھ رہی تھی جہاں لوگ بڑے خوبصورت افطار سجائے بیٹھے ہیں، افطار پارٹیز ہو رہی ہیں، اور لوگ رمضان کو ایک تہوار کی طرح منا رہے ہیں۔ اور یہ مجھ سے ناراض ہو گئی۔ اور کہنے لگی، "نہیں، میں ایسا رمضان چاہتی ہوں!" "کہہ رہی تھی کہ یہ رمضان تو بالکل بُرا ہے!" تو اس وقت سے لے کر اب تک ، یہ JDCکے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ہم اس میں شامل ہو گئے، اور اب یہیں ہیں، جاپان مسلم ایسوسی ایشن JMA میں ہم اس کا حصہ ہیں اور، اور ہم مدد کرتے ہیں ٹوکیو کے علاقے میں مختلف تقریبات میں، یہاں JDC کے ساتھ، اور اپنے مقامی مسجد یوکوہاما میں بھی۔ میں کوریئن لوگوں کے لیے بھی کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ کوریئن ثقافت میں غصہ اور ذہنی دباؤ بہت ہے۔ اور میرے خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ ایمان نہ ہونا ہے۔ چونکہ وہ ایمان والے نہیں ہیں، لہٰذا ذہنی دباؤ میں اُنہیں کوئی امید نظر نہیں آتی۔ کوئی آپ کی مدد نہیں کرتا۔ ایسے میں آپ کو کوئی نہیں ملتا جس پر اعتماد کر سکیں۔ خودکشی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ کوریا خودکشی کی بلند ترین سطح پر ہے۔ مثلاً، میں مسلمان ہوں۔ اگر کوئی اچھی بات واقع ہو تو میں کہتا ہوں، "یہ اللہ کی طرف سے ہے"۔ میں شکر ادا کرتا ہوں اور کوئی بری بات ہوتی ہے تو میں یہ سوچ سکتا ہوں، "یہ اللہ کی عین حکمت ہے، یہ آزمائش ہے"۔ میں اس صورتحال سے نکل سکتا ہوں۔ اگر آپ کا خدا پر ایمان نہیں، آپ ملحد ہیں، یا کسی قسم کا ایمان نہیں رکھتے تو پھر آپ اس طرح سوچتے ہیں، "واہ، یہ کامیابی میری صلاحیتوں کا نتیجہ ہے"۔ چنانچہ ایسے لوگوں میں تکبر آ سکتا ہے۔ اور جب اُن پر کوئی پریشانی آتی ہے، تو یہ سوچتے ہیں، "اوہ، یہ ہمارے ساتھ ہی کیوں ہوا؟" وہ خود کو الزام دیتے ہیں۔ وہ ذہنی دباؤ میں آ جاتے ہیں جو اتنا شدید ہوتا ہے کہ خودکشی یا کسی اور فعل کا باعث بن جاتا ہے۔ میرے خیال میں، کوریئن معاشرے کو خدا پر ایمان کی شدید ضرورت ہے۔ مجھ جیسے بہت سے اسلام قبول کرنے والے لوگوں کے والدین ابھی بھی مسلمان نہیں ہیں۔ تو ہمارے لیے دعا کریں۔ اور میں آپ کو قرآن پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔ اگر آپ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، چاہے آپ عیسائی ہوں، ہندو ہوں یا یہودی، تو اپنی کتابیں پڑھیں اور اسلام کے ساتھ ان کا تقابلی مطالعہ کریں، چاہے وہ بائبل ہو، بھگود گیتاہو، وید ہویا پران ہو۔ یہ کتابیں ایک عربی نبی کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جو آخری اور تمام انسانیت کے لیے بھیجے جانے والے رسول ہوں گے، اور وہ توحید کا سچا پیغام لے کر آئیں گے۔ اور ان شاء اللہ، یہ ویڈیو آپ کو حق تلاش کرنے میں مدد دے گی۔ میں آپ کے لیے بہترین کی دعا کرتا ہوں۔بہت شکریہ۔ کیا آپ نے بھی اسلام قبول کیا ہے مگر سمجھ نہیں آ رہا کہاں سے سٹارٹ کریں؟ یا شاید آپ پیدائشی مسلمان ہیں مگر ایک فریش سٹارٹ لینا چاہتے ہیں اور اسلام کو بالکل شروع سے سیکھنا چاہتے ہیں؟ اسی لیے ہم نے Step Islam ایپ بنائی ہے۔ یہ بالکل فری اور ایڈ-فری ایپ ہے جو آپ کو بہت ہی کلئیر اور آرگنائزڈ طریقے سے اسلام کے بارے میں سکھاتی ہے۔ آپ ایزیلی ایمان کی بیسکس، اہم قرآنی ٹرمز سیکھیں گے، اور ایسے پریکٹیکل ٹاسکس پورے کریں گے جن سے آپ اپنے حساب سے، زندگی بھر کی عادتیں بنا سکیں۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر اسے ڈیلے مت کریں۔ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں، Step Islam ڈاؤنلوڈ کریں، اور ہمیشہ کی خوشی کی طرف اپنا پہلا سٹیپ آج ہی لیں۔
کچھ مت پوچھو!
ٹھیک ہے۔ میں نے پوچھنا چھوڑ دیا۔ اس لئے نہیں کہ میں جواب سے مطمئن تھا ، بلکہ اس لئے کہ میں تابوت کا اگلا امیدوار نہیں بننا چاہتا تھا۔ کیونکہ جب انہوں نے اپنی آواز اونچی کی ، مجھے پتہ چل گیا تھا کہ وہ جواب دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ میں بدھ مت کی پریکٹس کرتا رہا ، لیکن میرے دل میں ایک سوال تھا۔ میں جتنا بھی پوچھتا، مجھے جوابات زیادہ تر نہ ملتے۔ بطور چینی،آپ جانتے ہیں ہم چینی دیوتاؤں کی پوجا کرتے ہیں جو چینیوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ بالکل ہماری طرح۔ یہاں تک کہ داڑھی کا رنگ، آنکھیں اور ان کا سائز ، ہماری طرح ہے۔ اور ایک گفتگو جو میرے مسلمان بننے سے پہلے اپنے دوست کے ساتھ ہوئی۔ میں نے اس سے پوچھا ، "یہ کون ہے؟ کیا یہ خدا ہے؟ یہ کب خدا بنا؟ وہ بت جس کی وہ پوجا کرتے ہیں؟ میں نے احترام کے دائرے میں مناسب انداز میں پوچھا۔ تو اس نے کہا ، "جب وہ زندہ تھا تو وہ خدا نہیں تھا۔ صرف مرنے کے بعد ہی خدا بنا۔" تب میں نے کہا ، او کے۔ مطلب یہ کہ جب وہ زندہ تھا وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ خدا ہے۔ تو پھر مرنے کے بعد وہ خدا بن گیا۔ پھر کس نے اسے خدا بننے کے لئے چنا؟ لیکن پھر میں ایک اور سوال پوچھتا ہوں ، "اگر ایسا ہے تو آپ لوگ ان کی عبادت کیوں نہیں کرتے جنہوں نے اسے خدا بنایا؟ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ ان کے پاس کسی کو خدا بنانے کی طاقت ہے۔ میں مثال کے طور پر کہتا ہوں ، اگر میں آپ کو ہائراور فائر کرسکتا ہوں، اپنی کمپنی کے سی ای او کے طور پر، تو کون طاقتور ہوا؟ ظاہر ہے کہ میں۔ پھر آپ لوگ ان کی عبادت کیوں نہیں کرتے؟ اور اس کا انداز تھا کہ ہم نے پہلے کبھی یہ سوچا نہیں۔ لیکن فرق نہیں پڑتا۔ مجھے اسکول میں بہت مشکل وقت گزارنا پڑا۔ مجھے تنگ کیا جاتا ، کوئی دوست نہیں تھے۔ میں بہت شرمیلا تھا اور مجھ میں خود اعتمادی بھی کم تھی۔ پھر میں نے کھیلوں کا رخ کیا، اور موسیقی نے واقعی میری مدد کی، تاکہ لوگ میری عزت کریں اور مجھے سنجیدگی سے لیں۔ پھر میں جادو کی طرف آیا۔ میں جادو کے کرتب دکھاتا تھا، ہاں۔ میں ایک پیشہ ور جادوگر یا پرفارمر بننے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں ہوٹلز ، ریسٹورنٹس، بارز اور کلبز میں پرفارم کرتا تھا۔ لیکن ایک چیز جس نے میری سوچ بدل دی وہ یہ تھی کہ، جیسے جب میں ریپ کرتا تھا یا فٹ بال کھیلتا تھا، میں صرف لوگوں کی تعریف اور ان کی منظوری حاصل کرنے کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ زندگی صرف ان ظاہری چیزوں سے بڑھ کر بھی ہے۔ پھر میں نے مذاہب کے بارے میں جاننا شروع کیا۔ میں کھویا ہوا تھا، کیونکہ میں اس بارے میں سوچتا تھا کہ میں کہاں سے ہوں۔ جیسے اسکول مجھے سائنس ،ریاضی سے متعلق سارا علم دیتا ہے۔ لیکن وہ نہیں بتاتا کہ میں کہاں سے اور کیوں آیا ہوں اور میں کون ہوں اور کہاں جا رہا ہوں؟ اور مرنے کے بعد میں کہاں جاؤں گا؟ وہ مجھے راستہ نہیں بتاتا کہ کہاں جانا ہے۔ میں بالکل خالی اور گمشدہ ہو گئی تھی۔ ہمیشہ یہی سوچتی کہ میں کون ہوں؟ ایک پُراعتماد امریکی لڑکی سے بدل کر میں اپنے اندر ڈپریشن کا ابھرتا ہوا طوفان محسوس کر سکتی تھی۔ مجھے لگا کہ میرے اندر اندھیرا پھیلتا جا رہا ہے اور مجھے روحانیت کی ضرورت ہے۔ لہٰذا میں نے خدا سے دعا کرنی شروع کی مجھے نہیں معلوم تھا کہ اصل خدا کون ہے۔ اے خدا، مجھے تیری تلاش ہے۔ میری رہنمائی کر۔ میں نے یہی سوچا کہ مجھے ضرور خدا سے دعا کرنی چاہیے جو جانتا ہے کہ میں اُسے ڈھونڈ رہا ہوں۔ میں نام استعمال نہیں کرتا تھا۔ میں کہتا، ’’اے خدا، تُو جانتا ہے کہ میں تجھے ڈھونڈ رہا ہوں۔‘‘ پھر اچانک مجھ میں قرآن پڑھنے کی خواہش بہت شدید ہوتی چلی گئی۔ تو مجھے جاپانی زبان میں قرآن پاک ملا۔ یہ اسلام کے بارے میں معلومات کا بنیادی ذریعہ تھا۔ تو مجھے وہ ملا اور میں نے جاپانی ترجمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ پھر مجھے آخرت کے بہت ہی منفرد تصورات ملے، جو کہ موت کے بعد کی زندگی ہے۔ اور توحید - یعنی اللہ کی وحدانیت کی گواہی۔ تو وہ تصورات میرے لیے بالکل نئے تھے۔ میں نے اس کے بارے میں کبھی بھی نہیں سوچا تھا۔ کیونکہ جیسے لوگ جاپان میں بہت مصروف ہیں۔ ان کے پاس موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں سوچنے کا وقت کیسے ہو سکتا ہے؟ حتیٰ کہ ایک سیکنڈ بھی، وہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں کبھی نہیں سوچتے، اور وہ نہیں سوچتے خدا کے تصور کے بارے میں بھی۔ جیسے جاپان میں بہت مشہور ہے، جیسے کہ ایک بت پرست معاشرہ، یعنی شرک۔ اور جاپان میں خدا کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ کوئی آپ کو نہیں سکھاتا کہ خدا کون ہے۔ اور پھر مجھےمیں نے دیکھا، کہ قرآن میں خدا کی وضاحت موجود ہے۔ واضح طور پر بیان ہے۔ مثالاََ سورہ اخلاص، أعوذ بالله من الشيطن الرجيم، قل هو اللہ احد - کہو کہ وہ اللہ ہے، ایک اور اکیلا، ٹھیک؟ یہ بہت آسان ہے۔ لیکن میرے لیے ایک طرح کا سرپرائز تھا۔ اوہ، یہاں خدا کی وضاحت ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ خدا کا کیا تصور رکھتا ہے۔ جیسے خدا کیا ہے؟ خدا کیا کائنات ہے؟ کیا خدا بادلوں میں بیٹھا ایک داڑھی والا آدمی ہے؟ یعنی تمہارے نزدیک خدا کیا ہے؟ اور اس نے مجھے کچھ یوں جواب دیا کہ بلکہ اس نے مجھے کہا کہ، "آؤ،میں تمہیں کچھ دکھاتا ہوں"۔ اور اس نے مجھے "اخلاص" دکھائی۔ اس نے کہا، " یہ ہمارا عقیدہ ہے ۔" میں نے کہا، اچھا، کیا خدا کائنات ہے؟ نہیں، وہ ایسا ہے جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ نا اس جیسا کوئی ہے، نا اس کے برابر کوئی ہے۔ اور اس کا عیسائی عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جیسے وہ نہیں تھا ، نہ وہ پیدا کیا گیا، نہ اس نے کسی کو پیدا کیا۔ ایک بار پھر، یہ بات واضح ہوگئ۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ میں پہلے سے ہی خدا پر یقین رکھتا تھا۔ اور جب میں نے زندگی میں پیچھے مڑ کے دیکھا، تو مجھے لگا کہ میں پوری زندگی سے ہی خدا پر ایمان رکھتا آیا ہوں۔ لیکن کسی نہ کسی وجہ سے میں ہمیشہ سے اس احساس کو دبانے کی کوشش کرتا تھا۔ تو پھر میں نے اپنے دوست سے پوچھا جو کہ ایک مسلمان تھا۔ "بھائی،چینی کی حیثیت سے، آپ جانتے ہیں کہ پہلے جو ہمارے سامنے خدا کا مجسمہ تھا، ہم اس کو پوجتے ہیں۔ تو یہ بتائیں کہ مسلمان کس کو پوجتے ہیں؟ اور اس نے جواب دیا ،"ہم خدا کو پوجتے ہیں۔" تو میں نے دائیں اور بائیں دیکھا۔ "تمہارا خدا کہاں ہے؟ مجھے تو نظر نہیں آ رہا۔ اور پھر اس نے کہا ، "نہیں، خدا موجود ہے ، لیکن آپ اسے دیکھ نہیں سکتے۔" میں نے کہا ، "یہ کیا بات ہوئی؟ یقین تو دیکھنے سے ہی آتا ہے۔ اگر میں کسی کو نہیں دیکھ سکتا، تو یقین کیسے کروں؟ پھر اس نے مجھے ایک مثال دی۔ اور اس نے کہا ، "اسے اس طرح رکھو۔ کیا ہوا محسوس ہوتی ہے؟ " میں نے کہا ، "ہاں، ہوتی ہے۔ "کیا آپ ہوا دیکھ سکتے ہیں؟ میں نے کہا ، "ارے بھائی ، درخت کو دیکھو ، شاخوں کو دیکھو ، اور ذرا پتوں کو دیکھو۔ سب حرکت میں ہیں۔ یہی ہوا ہے!
اور کس ثبوت کی ضرورت ہے؟ اس نے کہا ، "نہیں۔ وہ چیزیں جو آپ دیکھتے ہیں وہ بذاتِ خود ہوا نہیں ہے۔ بلکہ ہوا کا اثر ہے۔ یہ خود ہوا نہیں ہے۔ اور پھر میں ٹھہر سا گیا اور سوچنا شروع کیا۔ او کے، ٹھیک ہے۔ یہ بات تو سمجھ میں آگئی لیکن مجھے جواب نہیں ملا، "خدا کون ہے؟" اور پھر اس نے کہا کہ۔ اب ، ذرا تصور کرو۔ یہی وہ ہوا ہے جو خدا نے پیدا کی ہے۔ پھر بھی آپ ہوا کو دیکھ نہیں سکتے ، لیکن اثر دیکھ سکتے ہیں اور آپ ہوا کے اڑنے کو محسوس کرسکتے ہیں۔ پھر آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ اس خدا کو دیکھ سکتے ہیں جس نے ہوا کو پیدا کیا؟ آپ کو اس کا وجود محسوس ہوتا ہے۔ آپ کو اس کی موجودگی محسوس ہوتی ہے اور آپ اس دنیا میں تخلیقات کے لحاظ سے اثر دیکھ سکتے ہیں۔ میرا دل اندر سے کہتا، "ہمم۔ یہ خدا مجھے لوجیکل لگتا ہے۔" میں نے سمجھ لیا کہ اللہ ہی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ بالکل ایک پزل کی طرح ہے۔ میں اِسے زیرو سے ہر چیز تک سمجھتا ہوں۔ چاہے مجھے علم نہ ہو، مگر وہ سب جانتا ہے۔ اور یہی بالکل سچ ہے۔ اور پھر، اور اسی لیے میں نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ اگرچہ میں اللہ کو دیکھ نہیں سکتا، مگر میں اُسے اپنے جسمانی ڈھانچے سے، اور اِس دنیا سے بھی، یعنی آسمان سے، بارش سے جاپان کے چاروں موسموں سے بھی پہچان سکتا ہوں۔ کیونکہ بہت سے کوریئن سمجھتے ہیں، اسلام خطرناک ہے، لیکن میں نے اسلام کے بارے میں بہت سی اچھی چیزیں محسوس کیں۔ لہٰذا میں نے ان کے بارے میں بات کی۔ میں نے یو ٹیوب پر اپنے احساسات شیئر کیے اور یوں بہت سے لوگ اس میں دلچسپی لینے لگے۔ بہت سے لوگوں نے، بہت سے لوگوں نے مجھے اسلام کے بارے میں سکھایا۔ مثلاً، اگر آپ اسلام سے متعلق جاننا چاہتے ہیں تو آپ فلاں سے بات کرسکتے ہیں اور میں امام سے بات کروں گا۔ آپ کوریا میں کوئی مسجد دیکھ سکتے ہیں اور آپ وہاں نماز ادا کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ یا آپ رمضان میں روزے رکھنے کا طریقہ جان سکتے ہیں۔ تو میں نے رفتہ رفتہ ان پر عمل شروع کر دیا۔ مجھے نہیں پتہ کیوں، لیکن شاید لگتا ہے جیسے یہ سب قدرتی طور پر مجھ سے ہو رہا تھا۔ میں مسجد جاتا تھا۔ مسجد میں نماز ادا کرتا تھا۔ رمضان میں روزے رکھتا تھا اور اس دوران میرا ایمان تھوڑا بہت پختہ ہو گیا تھا۔ جب میں مسجد میں داخل ہوا، تو مجھے لگا کہ یہ ایک چھوٹی دنیا ہے۔ کیونکہ بہت ساری قوموں کے لوگ ایک ہی جگہ جمع ہیں، اور اُن کا مذہب بھی ایک ہی ہے۔ تو مجھے بڑی حیرت کا احساس ہوا۔ کسی مندر میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ کسی مقبرے میں ، یا جاپان کے کسی چرچ میں بھی ایسا کبھی نہیں ہوا۔ کہ جمع ہو کر، ایک ہی لائن میں کھڑے ہو کر عبادت کر رہے ہیں۔ مجھے واقعی، واقعی یہ سچ محسوس ہوا، کہ یہ ایک پُر امن مذہب ہے۔ پھر میں نے جانا کہ اسلام بہت ہی پریکٹیکل ہے اور ہر چیز میں توازن رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کچھ کاموں کی اجازت ہے اور کچھ کام منع بھی ہیں۔ مگر منع ہونے والے کام کم ہیں۔ آپ دعا کرتے ہیں، مگر آپ کو محنت بھی کرنی ہوتی ہے۔ آپ فیملی بڑھانے کا سوچ سکتے ہیں آپ معاملات بھی کر سکتے ہیں مناکحت (شادی) بھی کر سکتے ہیں ہر چیز میں ایک توازن ہے۔ اور مزید سیکھتے اور جانتے ہوئے یہ خوبصورتی دیکھی کہ اسلام ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ A سے Z تک ہر چیز واضح کر دی گئی ہے، SOP اور تمام چیزیں بالکل تیار ہیں۔ آپ کو اپنا کوئی راستہ نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو بس عمل کرنا ہے۔ اور پھر کھانا کیسے ہے پینا کیسے ہے، بولنا کیسے ہے، کام کیسے کرنا ہے ہر چیز کی تفصیلی ہدایات موجود ہیں۔ اللہ اکبر وللہ الحمد۔ جو مجھے کسی اور مذہب میں بالکل نہیں ملیں۔ قرآن میں بہت سے سائنسی معجزات کا ذکر ہے، جو میرے لیے بہت متاثر کن تھے۔ کیونکہ اس وقت، تقریباً 1400 سال ، صحرا میں رہنے والا ایک ان پڑھ شخص یہ تمام سائنسی حقائق کیسے جان سکتا تھا، جنہیں لوگوں نے حال ہی میں، گزشتہ 100 یا 150 سالوں میں دریافت کیا؟ یہ بھی ایک ایسی چیز تھی جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ تو یہ بات اتنی واضح ہے کہ تم اس سے انکار نہیں کر سکتے۔ یہ تمام مسائل کا حل دیتا ہے اور بالکل سادہ ہے۔ اُنہوں نے پوچھا تمہیں کیا چیز روک رہی ہے؟ تو میں نے بتایا، مجھے لگتا ہے کہ مجھے عربی سیکھنی چاہیے، اور قرآن پڑھنا چاہیے، اور عبادت کا طریقہ بھی سیکھنا چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے کم از کم کچھ حدیثیں (پیغمبر ﷺ کی باتیں) یاد ہوں۔ وہ مجھے دیکھ رہے تھے، پھر اُنہوں نے ایک سوال پوچھا جو مجھے یاد ہے، اور میرے خیال میں وہ یہ جان گئے تھے اُنہوں نے میری کامل پسندی کو بھانپ لیا تھا۔ وہ کہنے لگے، اچھا، تمہارے خیال میں تمہیں ان سب کاموں میں کتنا وقت لگے گا؟ بیس سال ، تیس سال ، پچاس سال اور پھر— اور مجھے نہیں پتہ کہ آپ کو یا ناظرین کو یہ بات کتنی بے وقوفانہ لگے گی مگر اُس بات نے مجھے رُلا دیا، مگر یہ یاد رہے کہ میں کوئی تین مہینے یا زیادہ عرصے سے تحقیقی مطالعہ کر رہی تھی، اور پھر، ہاں۔ مجھے علم کی بھی شدید ضرورت تھی۔ میں سیکھنا چاہتی تھی تاکہ ایک اچھی مسلمان بن سکوں۔ تو اُنہوں نے کہا، علیزا کیا تمہیں نہیں معلوم کہ تم ایک مسلمان کے لیے علم کی جو سطح چاہتی ہو وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے؟ تو یہ بات میرے دل میں اتر گئی میں اِس سے متاثر ہوئی اور صدمہ بھی ہوا۔ اور اُس وقت میں رو رہی تھی، کیونکہ مجھے یہ صدمہ تھا کہ میں پرفیکٹ نہیں بن سکتی۔ مگر مجھے بات سمجھ آ گئی تھی۔ اُس لمحے، مجھے بات سمجھ آ گئی۔ اور الله سبحانه وتعالى نے میرے دل میں یہ پہلی بات ڈالی کہ دیکھو علیزا اگر الله سبحانه و تعالى تمہیں اِس سفر پر لے آیا ہے اور تمہیں بتا چکا ہے کہ تم اپنی پوری زندگی مسلمان ہی رہی ہو، تو کیا لگتا ہے؟ وہ تمہارے والد کے حوالے سے تمہاری مدد نہیں کرے گا؟ کیا وہ تمہاری فیملی کے حوالے سے تمہاری مدد نہیں کرے گا؟ اس سے مجھے سکون پہنچا۔ دراصل، رمضان کے بعد میرا ایمان مضبوط ہو گیا تھا۔ میرا ایمان تھا۔ میں خدا پر ایمان رکھتا تھا۔ ۔ ۔ لیکن میں اسلام قبول کرنے کے بارے میں نہیں سوچتا تھا، کیونکہ میرا خیال تھا کہ میں ایمان لانے کے بعد بھی مسلمان نہیں ہوسکتا، کیونکہ میں کوریا میں رہتا ہوں، میں کوریئن ہوں۔ یہاں کا طرزِ زندگی بہت مختلف ہے۔ میرے خیال میں یہ آسان نہیں تھا۔ لیکن اگر تم مسلمان نہ ہوئے تو تمہیں اس سے بلکہ کسی بھی چیز سے کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔ جبکہ اسلام قبول کرنے اور مسلمان ہو جانے کے بعد تم خود رفتہ رفتہ، مرحلہ وار، بدل سکتے ہو اور پھر خدا تمہیں مزید بہتر مسلمان بناتا جائے گا، کیونکہ اللہ (سبحانہ و تعالیٰ)، ہمارا خدا بہت رحم کرنے اور معاف کرنے والا ہے اور وہی ہمارا سب سے بڑا مددگار ہے۔ لہٰذا وہ تمہاری مدد کرے گا۔ تو پہلے تمہیں مسلمان ہو جانا چاہیے۔ کیونکہ، تمہیں نہیں معلوم، نہ تمہیں نہ مجھے، کہ میں ابھی مر سکتا ہوں۔ ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے یا کوئی ٹریفک حادثہ۔ کچھ بھی۔ مگر مجھے آج ہی موت آسکتی ہے، کسی کو بھی اپنا مستقبل نہیں معلوم۔ تو میں نے اس طرح سے سوچا۔ میں نے سوچا کہ مجھے مسلمان ہو جانا چاہیے۔ جب میں اس مسجد میں گیا اور وہاں امام سے ملا۔ جو کوریا میں سب سے بڑے عالم ہیں میں نے وہاں اسلام قبول کیا اور وہاں موجود ہر شخص نے مجھے مبارک باد دی اور خوش آمدید کہا اسلام میں خوش آمدید کہا اور مجھے ایسا محسوس ہوا آپ جانتے ہی ہیں کہ میرے اسلام قبول کرتے ہی سارے گناہ ماضی کے سارے گناہ مٹ گئے اور میں ایک نیا انسان بن گیا بالکل ایک نئے پیدا ہوئے بچے کی طرح۔ میرا یہ احساس بہت لاجواب احساس تھا۔ اور خوشی کی طرح میں اپنا اُس وقت کا احساس بیان نہیں کرسکتا۔ وہ بہت ہی لاجواب احساس تھا۔ یعنی میں نے کلمہ پڑھا تو اس وقت ظہر کا وقت تھا۔ میں نے وضو کے بعد نمازِ ظہر پڑھی۔ جب میں نے اپنی زندگی کا پہلی بار سجدہ ادا کیا…
تو بہت خوشگوار احساس پیدا ہوا۔ آپ کے خاندان اور دوستوں کا آپ کے مسلمان ہونے پر کیا رد عمل تھا۔ میں نے کہا ، "مام ، جب میں کے-ایل واپس آؤں گا تو میں بھی مسلمان ہو جاؤں گا۔ اور اس دوران صرف تھی، ایک لمبی خاموشی۔ اسی لمبی خاموشی کے بعد آخر کار انہوں نے جواب دیا ، "تمہاری مرضی"۔ لیکن یاد رکھو، مذہب کو مذاق نہ سمجھنا۔ اسے سریس لینا۔ ٹھیک ہے؟ "میں نے کہا ، مام ، میں سیریس ہوں۔ پھر آخرکار، کہنے لگے کہ چلو تم اب سے میرے بیٹے نہیں رہے۔ تو یہ بہت حیران کن بات تھی۔ کیا ان میں سے کسی نے آپ کے بعد اسلام قبول کیا؟ بدقسمتی سے، نہیں میرے والد جو انتقال کر گئے اگرچہ مرنے سے پہلے جو خط انہوں نے لکھا ،اس میں انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر میں تمہارے ساتھ رہنے لگوں میں کسی حد تک اسلام قبول کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہوں۔ لیکن میرے خاندانی حالات نے اس کی اجازت نہیں دی۔ پھر میرے والد نے مجھ سے ایک سوال پوچھا۔ پوچھا، تم نے داڑھی کیوں رکھی ہے؟ یہ داڑھی ۔ تو، وہ ایک بہت دلچسپ سوال تھا۔ یہ اسلام سے متعلق ہے۔ اور یہ وہ سوال تھا جس کا میں شاید انتظار کر رہا تھا، جس کا مطلب ہے کہ میں نے اس سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا، بلکہ مجھے یہ کہنا چاہیے تھا، آپ کے سوال کو سمجھنے یا آپ کے سوال کا بہتر جواب دینے کے لیے، مجھے اسلام کی بنیادی باتیں سمجھانی ہوں گی اور آپ کو وہ سننی ہوں گے۔ تو کیا آپ کے پاس 10 منٹ ہیں؟ تو میرے والد نے کہا، ٹھیک ہے۔ جس کا مطلب تھا کہ اب میرے پاس اسلام کے بارے میں بات کرنے کا وقت ہے، صرف 10 منٹ کے لیے ہی سہی، الحمد للہ۔ پہلے وہ چند منٹ بھی ناپسند کرتے تھے، وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن اب میرے پاس 10 منٹ ہیں، الحمد للہ۔ مجھے وہ بات کرنی ہے جو مجھے کرنی تھی۔ تو ہمارے پاس GORAP طریقہ ہے، آپ جانتے ہیں نا۔ خدا کا وجود، خدا کی وحدانیت، وحی، اور نبوت کے بارے میں۔ یہ ،یہ بہت ضروری حصہ ہے تو میں پہلے ہی تربیت یافتہ تھا ، سو میں بولتا ہوں جیپنیز زبان میں آسان جیپنیز میں۔ پھر، وہ سن رہے تھے، میری والدہ بھی سن رہی تھیں۔ تو پھر، اس کے بعد، میرے والد نے آخر کار مجھ سے پوچھا، تم کیا چاہتے ہو؟ آخر میں، بس انہوں نے کہا، تم کیا چاہتے ہو؟ تو اس وقت میری اہلیہ میرے بالکل ساتھ بیٹھی سن رہی تھیں۔ انہوں نے محسوس کیا، کہ کچھ اثر ہوا ہے، تو انہوں نے کہا، میں چاہتی ہوں کہ آپ سب جنت میں ہمارے ساتھ داخل ہوں۔ یہ کہا یہ میری اہلیہ نے کہا۔ تو پھر کیسے،کیسے ، رائٹ؟ تو اسی لیے پھر میں نے کہا، کیا آپ شہادت پڑھ سکتے ہیں؟ وہ کیونکہ وہ GORAP سب شہادت کے بارے میں ہے، اس میں وضاحت ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔ یہ وہ پیغام ہے۔ تو میں پہلے ہی سمجھا چکا تھا، اور پھر وہ کسی طرح سمجھ گئے۔ تو صرف ایک ہی چیز تھی جو باقی تھی وہ تھی اس کا اقرار کرنا یا گواہی دینا۔ تو میری چاہت کیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ اس بات کی گواہی دیں جو میں نے ابھی سمجھایا ہے۔ تو میرے والد، اور والدہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر، ٹھیک ہے۔ لہٰذا ایک طرح سے زندہ رہنے کی ترکیب کے طور پر، میں اسے جتنا ممکن ہو چھپانے کی کوشش کرتا رہا میں لوگوں کے سامنے نماز نہیں پڑھتا تھا۔ اگر روزہ رکھتا تھا تو کسی کو نہیں بتاتا تھا۔ میں بہانے بناتا تھا، جیسے میری ڈاکٹر سے ملاقات ہے بعد میں۔ یا مجھے خالی پیٹ رہنا ہے۔ میں یوں ظاہر کرتا کہ میں کچھ پی رہا ہوں حالانکہ نہیں پیتا تھا۔ کافی عرصے تک میں نے سب کچھ چھپائے رکھا۔ میں نے سوچا کہ اپنی بیوی کے ساتھ میں آہستہ آہستہ تبدیلیاں لاؤں گا۔ اور اگر میں ایک بہتر انسان بن گیا، یا اگر وہ دیکھتی کہ ہمارا خاندانی نظام بہتر ہو رہا ہے، تو وہ شاید مجھ سے پوچھتی، "ارے، اب تم اتنے اچھے شوہر کیسے بن گئے ہو؟" "کیا ہوا تمہیں؟" لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ تو لہٰذا ہر چھوٹی سی تبدیلی مجھے بہت ہی زیادہ احتیاط سے لانی پڑتی تھی۔ مثلاً نماز پڑھنا، فجر کے وقت اٹھنا۔ میں کتنا خاموش رہ سکتا تھا، کوئی آواز نا ہو؟ تو اور اب بھی، یہ کچھ مزاحیہ لگتا ہے، لوگ ہنستے ہیں۔ جب میرا الارم بجتا ہے، میں ٹرینڈ ہوں تو جیسے میں فوراً اٹھ کر، پہلی بیپ ختم ہونے سے پہلے ہی الارم بند کر دیتا ہوں۔ یعنی الارم بجتا ہے تو میں فوراً...
تو میں اسے بند کر دیتا ہوں۔ جب میری بیوی کو پتا چلنا شروع ہوا کہ میں مسلمان ہوں، اور میں اسلام کی وجہ سے روزہ رکھتا ہوں، اور شراب نہیں پیتا، اور میں نے اس سے کہا کہ وہ سور کے گوشت سے پرہیز کرے، تو وہ اسلام کے خلاف ہو گئی۔ اس نے اسلام پڑھنا شروع کیا تاکہ وہ ایسی چیزیں تلاش کرے جن سے میں اسلام چھوڑ دوں۔ تو دوبارہ حالات بہت خراب ہونے لگے۔ بات یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ہم علیحدگی پر بات کر رہے تھے۔ ظاہر ہے، میں نہیں چاہتا تھا۔ اور اس نے کہا، "ٹھیک ہے، ہمیں علیحدہ نہیں ہونا، لیکن تم کہیں اور جا کر رہ سکتے ہو۔" "تم الگ کمرے میں رہ لو، یا الگ فلیٹ لے لو، اور وہاں مسلمان بن کر رہو۔" "مجھے کوئی پرواہ نہیں، قانونی طور پر ہم شادی شدہ رہیں گے۔" "تم بچوں سے ویک اینڈ پر مل سکتے ہو، لیکن تم بس مسلمان بن کر کہیں اور رہو۔" "ہمیں اس میں مت گھسیٹو، تم ہماری زندگی مشکل بنا رہے ہو۔" حالات خراب ہو گئے ہم ہمیشہ لڑتے رہتے۔ مجھے یاد ہے ایک رات میں گھر واپس آیا، اور ہم دوسری منزل پر رہتے تھے۔ میں اپارٹمنٹ کے باہر سیڑھیوں کے نیچے پہنچا، اور میرے پاس پہلی سیڑھی چڑھنے کی بھی طاقت نہیں تھی۔ اور میں سیڑھیوں کے سامنے کھڑا تھا، اور بس بہت تھک گیا تھا۔ میں لڑتے لڑتے تھک گیا تھا۔ اپنے عقیدے کا دفاع کرتے کرتے تھک گیا تھا۔ لوگوں کے "چہرہ صاف کرو" کہنے سے تنگ آ گیا تھا۔ میں بہت سی چیزوں سے تھک گیا تھا۔ اور وہیں کھڑا ہو کر پہلی بار میں نے اللہ کی طرف رجوع کیا۔ میں نے کہا، "یا اللہ، میں اب مزید یہ سب نہیں کر سکتا۔" "جو بھی میرے لیے بہتر ہے، وہی کر دے۔" "اگر میری بیوی کے ساتھ بہتر ہے، تو ہمارے درمیان صلح کر دے۔" "اور اگر نہیں، تو پھر..." "مجھے کچھ بہتر عطا کر دے،" لیکن اب میں نہیں کر سکتا۔ "میں واقعی بہت تھک گیا ہوں۔" اسی وقت، یہ کورونا کے شروع کے دنوں میں تھا۔ اور شروع میں ہی مجھے کورونا ہو گیا۔ تو کچھ دنوں کے لئے میں نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کر لیا تھا۔ اور نہیں جانتے تھے کہ کیا ہونے والا ہے۔ لیکن میں ٹھیک ہونے لگا۔ مگر جیسے میں ٹھیک ہو رہا تھا، میری بیوی بیمار ہو گئی۔ اور یہ ٹھیک نہیں ہو رہی تھی۔ اچھا، تو اب دو ہفتے ہو چکے ہیں، اور اس کی طبیعت مزید خراب ہو رہی ہے اس کی کھانسی بڑھ رہی ہے، پھر تین ہفتے ہو گئے ہیں، اور لگ رہا تھا، ٹھیک ہے، کہ یہ کچھ اچھا نہیں لگ رہا۔ اور پھر میری نظر سے دیکھو تو، میں فکر مند تھا۔ تو اس کے آکسیجن لیول ابھی بھی قابلِ قبول تھی، تو میں بہت زیادہ پریشان نہیں تھا، مگر فکرمند تھا۔ اور یہ میری طرف دیکھ کر بولی، "ہاں، اگر میں مر جاؤں، تو میں تم اور بچوں سے الگ جگہ نہیں جانا چاہتی۔ اگر میں مری تو میں وہیں جانا چاہتی ہوں جہاں تم لوگ جاؤ۔" کیونکہ میں آٹھ سال تک کچھ نہیں کر سکا، مجھے کئی مشکلات کا سامنا ہوا اس رشتے میں، اور مجھے صرف یہ کرنا تھا کہ میں ہار مان لوں اور کہوں، "اے اللہ، یا اللہ، براہ کرم، یہ معاملہ میرے ہاتھوں سے نکال لے، میں نہیں کر سکتا۔" اور پھر صرف دو ہفتے بعد...
میرے لیے یہ سب کچھ اتنا اچانک تھا، اور مجھے کافی وقت لگا یہ سمجھنے میں کہ وہ مسلمان ہو چکی ہے۔ اور میں جب فجر کے وقت اٹھتا تھا اور سوچتا تھا کیا میں اسے جگاؤں یا نہیں؟ پھر سوچوں ۔۔، کہ کیا میں اسے سونے دوں؟ اگر میں اسے جگا دوں تو کہیں یہ ناراض نہ ہو جائے؟ کیا یہ مسلمان ہو گئی ہے؟ یہ سچ ہے؟ لیکن پھر میں آہستہ سے جھکتا ہوں، اور یہ آنکھیں کھول کر کہتی ہے، "فجر؟" میں نے کہا، ہاں۔ تو پھر ہم نماز پڑھتے۔ اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد آپ خود میں کیا فرق دیکھتے ہیں؟ ہاں فرق، صرف ایک لفظ میں، وہ دل یا دماغ کا سکون ہے۔ اللہ جو پلان بناتا ہے، وہ سب اچھا ہے۔ لیکن ہمیں آخری نتیجہ معلوم نہیں ہے کیونکہ وہ پوری تصویر دیکھ رہا ہے، لیکن ہم انسان صرف پکسل دیکھ سکتے ہیں۔ تو پکسل کے نقطہ نظر سے، ہو سکتا ہے کچھ برا ہوتا ہو، لیکن دراصل جب ہم 10 سال، 15 سال بعد، اس واقعے، حادثے کو مڑ کر دیکھتے ہیں، تو اس کا اصل مطلب سمجھ آتا ہے کہ یہ کیوں ہوا۔ تو آخرکار جو کچھ ہمیں ملتا ہے درحقیقت وہ دل کا استحکام ہے۔ اب میں امام ہوں Kobe مسلم مسجد میں، اُسی مسجد میں، جہاں دس سال پہلے، میں مسلمان ہوا تھا۔ وہ ستمبر 2014 کا مہینہ تھا۔ اور 2024 میں ستمبر کے ہی مہینے میں، میں نے اللہ کے کرم سے امام کی ذمہ داری سنبھالی۔ جب اسلام میری زندگی میں آیا، تو ظاہر ہے سب سے پہلے میں نے اُس کی ویلیوز کو اپنایا۔ پھر میں نے اپنی شخصیت اور لباس کو اس کے مطابق ڈھالا ۔ اور پھر میں نے دیکھا کہ حجاب کے ساتھ لوگ اب میری آواز سنتے ہیں۔ لوگ اب میری بات کو اہمیت دیتے ہیں۔ لوگ اب میری ذہانت کو سنتے ہیں، جس کی مجھے بہت خواہش تھی کیونکہ میں اِسے کسی سے شیئر نہیں کر سکتی تھی۔ میں اپنی آواز کا اظہار نہیں کر سکتی تھی۔ اور یہ تھی آزادی۔ یہ اُس غلامی سے آزادی تھی۔ تو اسلام آزادی ہے، ذہن کی آزادی، رائے کی آزادی، یہ آزادی کہ میں خود فیصلہ کروں کہ کون کیا دیکھے اور میں کیا پہنوں۔ کیونکہ جب آپ میک اَپ کرتی ہیں، بال سنوارتی ہیں، اچھے کپڑے، زیورات وغیرہ پہنتی ہیں، تو اگر اِس پر واقعی سنجیدگی سے سوچیں، تو آپ اپنی خوشی کی چابی دوسروں کے ہاتھ میں دے رہی ہوتی ہیں۔ آپ خوش ہونے کے لیے دوسروں کی تعریف اور قبولیت پر انحصار کرتی ہیں، گویا آپ کی خوشی اُن کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کی ویلیو اُن کے پاس ہے۔ اور شہرت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا شہرت واقعی آپ کو خوشی دے سکے گی؟ شہرت بھی ایک بیرونی چیز ہے۔ شہرت بھی دوسروں کی طرف سے آتی ہے۔ آپ اُس وقت تک مشہور نہیں ہو سکتیں جب تک کہ دوسرے آپ کو نہ بتائیں کہ آپ عظیم ہیں۔ تو کیا آپ اپنے لیے بس یہی کچھ چاہتی ہیں؟ ہو سکتا ہے، مگر مشہور ہونے کے اور بھی طریقے ہیں۔ آپ فرشتوں میں بھی مشہور ہو سکتی ہیں۔ اوکے، وہ شہرت نظر نہیں آتی۔ آپ نیکی کے کاموں کی وجہ سے بھی مشہور ہو سکتی ہیں۔ آپ اپنی اچھائی کی وجہ سے بھی نام ,نام کما سکتی ہیں۔ اگر آپ مجھے کہیں کہ تم چاہے جیسی بھی نظر آؤ پھر بھی پُراعتماد رہ سکتی ہو، اور پھر بھی اپنی آواز بلند کر سکتی ہو، دلچسپی کی علامت بن سکتی ہو، اپنے آپ پر فخر کر سکتی ہو، تو شاید، میں مان جاؤں گی, ہاں۔ اپنی اصل قیمت اپنے اندر تلاش کرو اور اسلام کا مطالعہ کرو، کیونکہ اسلام ہی ہے جو تمہیں تمہاری عزت واپس لوٹائے گا۔ اسلام ہی ہے جو تمہیں تمہاری آواز واپس دے گا، وہی تمہارا وقار واپس لوٹائے گا، تمہیں یہ احساس دلائے گا کہ تم صرف کپڑوں اور بالوں تک محدود نہیں ہو۔ اپنے اندر تلاش کرو اور اِن جوابات کو ڈھونڈتی رہو اور جواب پانے تک ہار مت مانو۔ جب یہ مسلمان ہوئی، تو اس نے میرے ساتھ پہلا رمضان گزارا۔ میرا رمضان ہمیشہ بہت تنہا، میں سمجھ سکتی ہوں۔ بہت تنہا اور خاموش ہوتا تھا۔ یہ بہت، بہت ہی مشکل اور کٹھن اور تنہائی بھرا وقت ہوتا تھا۔ آپ اکیلے سحری کرتے ہیں افطار اکیلے کرتے ہیں، اور یہ کسی طرح کا لطف نہیں دیتا تھا۔ دوسری طرف، یہ انسٹاگرام پر تھی، اور اس میں تصویریں دیکھ رہی تھی جہاں لوگ بڑے خوبصورت افطار سجائے بیٹھے ہیں، افطار پارٹیز ہو رہی ہیں، اور لوگ رمضان کو ایک تہوار کی طرح منا رہے ہیں۔ اور یہ مجھ سے ناراض ہو گئی۔ اور کہنے لگی، "نہیں، میں ایسا رمضان چاہتی ہوں!" "کہہ رہی تھی کہ یہ رمضان تو بالکل بُرا ہے!" تو اس وقت سے لے کر اب تک ، یہ JDCکے ساتھ کام کر رہی ہے۔ ہم اس میں شامل ہو گئے، اور اب یہیں ہیں، جاپان مسلم ایسوسی ایشن JMA میں ہم اس کا حصہ ہیں اور، اور ہم مدد کرتے ہیں ٹوکیو کے علاقے میں مختلف تقریبات میں، یہاں JDC کے ساتھ، اور اپنے مقامی مسجد یوکوہاما میں بھی۔ میں کوریئن لوگوں کے لیے بھی کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ کوریئن ثقافت میں غصہ اور ذہنی دباؤ بہت ہے۔ اور میرے خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ ایمان نہ ہونا ہے۔ چونکہ وہ ایمان والے نہیں ہیں، لہٰذا ذہنی دباؤ میں اُنہیں کوئی امید نظر نہیں آتی۔ کوئی آپ کی مدد نہیں کرتا۔ ایسے میں آپ کو کوئی نہیں ملتا جس پر اعتماد کر سکیں۔ خودکشی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ کوریا خودکشی کی بلند ترین سطح پر ہے۔ مثلاً، میں مسلمان ہوں۔ اگر کوئی اچھی بات واقع ہو تو میں کہتا ہوں، "یہ اللہ کی طرف سے ہے"۔ میں شکر ادا کرتا ہوں اور کوئی بری بات ہوتی ہے تو میں یہ سوچ سکتا ہوں، "یہ اللہ کی عین حکمت ہے، یہ آزمائش ہے"۔ میں اس صورتحال سے نکل سکتا ہوں۔ اگر آپ کا خدا پر ایمان نہیں، آپ ملحد ہیں، یا کسی قسم کا ایمان نہیں رکھتے تو پھر آپ اس طرح سوچتے ہیں، "واہ، یہ کامیابی میری صلاحیتوں کا نتیجہ ہے"۔ چنانچہ ایسے لوگوں میں تکبر آ سکتا ہے۔ اور جب اُن پر کوئی پریشانی آتی ہے، تو یہ سوچتے ہیں، "اوہ، یہ ہمارے ساتھ ہی کیوں ہوا؟" وہ خود کو الزام دیتے ہیں۔ وہ ذہنی دباؤ میں آ جاتے ہیں جو اتنا شدید ہوتا ہے کہ خودکشی یا کسی اور فعل کا باعث بن جاتا ہے۔ میرے خیال میں، کوریئن معاشرے کو خدا پر ایمان کی شدید ضرورت ہے۔ مجھ جیسے بہت سے اسلام قبول کرنے والے لوگوں کے والدین ابھی بھی مسلمان نہیں ہیں۔ تو ہمارے لیے دعا کریں۔ اور میں آپ کو قرآن پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔ اگر آپ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، چاہے آپ عیسائی ہوں، ہندو ہوں یا یہودی، تو اپنی کتابیں پڑھیں اور اسلام کے ساتھ ان کا تقابلی مطالعہ کریں، چاہے وہ بائبل ہو، بھگود گیتاہو، وید ہویا پران ہو۔ یہ کتابیں ایک عربی نبی کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جو آخری اور تمام انسانیت کے لیے بھیجے جانے والے رسول ہوں گے، اور وہ توحید کا سچا پیغام لے کر آئیں گے۔ اور ان شاء اللہ، یہ ویڈیو آپ کو حق تلاش کرنے میں مدد دے گی۔ میں آپ کے لیے بہترین کی دعا کرتا ہوں۔بہت شکریہ۔ کیا آپ نے بھی اسلام قبول کیا ہے مگر سمجھ نہیں آ رہا کہاں سے سٹارٹ کریں؟ یا شاید آپ پیدائشی مسلمان ہیں مگر ایک فریش سٹارٹ لینا چاہتے ہیں اور اسلام کو بالکل شروع سے سیکھنا چاہتے ہیں؟ اسی لیے ہم نے Step Islam ایپ بنائی ہے۔ یہ بالکل فری اور ایڈ-فری ایپ ہے جو آپ کو بہت ہی کلئیر اور آرگنائزڈ طریقے سے اسلام کے بارے میں سکھاتی ہے۔ آپ ایزیلی ایمان کی بیسکس، اہم قرآنی ٹرمز سیکھیں گے، اور ایسے پریکٹیکل ٹاسکس پورے کریں گے جن سے آپ اپنے حساب سے، زندگی بھر کی عادتیں بنا سکیں۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر اسے ڈیلے مت کریں۔ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں، Step Islam ڈاؤنلوڈ کریں، اور ہمیشہ کی خوشی کی طرف اپنا پہلا سٹیپ آج ہی لیں۔