Ghazwa-E-Badr: Abu Jahl Ke Aakhri Alfaaz – AI Se Banayi Gayi 'Seerah Series' – Aey Rasool | Ep. 6
تاریخ اشاعت
یہ سال 624 ہے۔ رمضان کا مہینہ ہے۔ وہ دن جو تاریخ کا رخ بدل دے گا۔ بدر کے مقام پر، دو لشکر آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ ایک طرف، 950 آدمیوں پر مشتمل قریش کی مکمل مسلح فوج ہے، اور دوسری طرف، صرف 313 مجاہدین پر مشتمل مسلمانوں کا لشکر، وہ بھی انتہائی محدود وسائل کے ساتھ۔ اَحَدٌ اَحَد (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے)!
ظلم کے خلاف ڈٹا ہوا انصاف، کفر کے خلاف اٹھتا ہوا ایمان۔ اسلام کی حقیقی روح کو آشکار کرنے والا سب سے پہلا معرکہ۔ جنگِ بدر۔ وہ کڑا دن آ چکا تھا۔ وہ دن جو اسلام کے مستقبل کا تعین کرنے والا تھا۔ یا تو اسلام ایک عظیم فتح کے ساتھ ابھرنا شروع ہو جائے گا، یا پھر سب کچھ وہیں اس میدانِ جنگ میں ختم ہو جائے گا۔ اسی لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے حضور گڑگڑا کر، ان الفاظ میں دعا فرما رہے تھے: "اے اللہ، اگر تو نے آج اہلِ ایمان کی اس چھوٹی سی جماعت کو ہلاک کر دیا، تو اس روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں بچے گا۔" تو، اس میدانِ جنگ میں کیا ہونے والا تھا؟ اور اس سے بھی پہلے، حالات اس نہج تک کیسے پہنچے؟ آئیے تھوڑا پیچھے چلتے ہیں۔ یہ ویڈیو سیریز معتبر اسلامی ذرائع سے لئے گئے سینکڑوں حوالہ جات پر مبنی ہے۔ تمام اے آئی مناظر مستند علمائے کرام کی مشاورت سے تیار کیے گئے ہیں اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ مدینہ میں نئی ریاست کے قیام کے دوران، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک انٹیلی جنس نظام بھی قائم کیا تھا۔ آپ ﷺ شہر کو درپیش کسی بھی ممکنہ خطرے سے پہلے ہی باخبر رہنا چاہتے تھے اور قریبی علاقوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا چاہتے تھے۔ ہجرت کے دوسرے سال، اس نیٹ ورک کے ذریعے ایک خبر موصول ہوئی۔ قریش نے ابو سفیان کی قیادت میں ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ روانہ کیا تھا۔ ظاہر ہے اس قافلے میں صرف ان کا اپنا مال و اسباب شامل نہیں تھا ہجرت کا وقت یاد کریں۔ مسلمانوں کو انتہائی کٹھن حالات میں ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ نکلتے وقت انہیں اپنا سب کچھ مکہ میں ہی چھوڑنا پڑا تھا۔ پھر قریش نے اس مال پر قبضہ کر لیا تھا اور بیچنے کے لیے اسے اس قافلے میں شامل کر دیا تھا۔ اہلِ ایمان کی محنت سے کمائی گئی وہ دولت، اب ان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں ہتھیار بننے والی تھی۔ یہاں تک کہ ہجرت کے دوران بھی، رحمت اور انصاف کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مشرکین کی امانتوں کا بھی خیال رکھا اور حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کو مقرر کیا تاکہ وہ انہیں ان کے مالکوں تک لوٹا دیں۔ لیکن قریش نے ایسی کسی اخلاقیات کا مظاہرہ نہیں کیا اور مہاجرین کے مال و اسباب پر قبضہ کر لیا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ مشرکین کو دکھایا جائے، جنہوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا تھا اور ان پر ہر قسم کے ظلم و ستم ڈھائے تھے، کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے۔ انہیں یہ بتانا ضروری تھا کہ اب وہ من مانی نہیں کر سکتے، اور انہیں کچھ ایسا دکھانا لازمی تھا جس سے ان کے دلوں میں خوف بیٹھ جائے۔ وہ تب تک باز آنے والے نہیں تھے جب تک وہ اپنے سامنے ایک حقیقی آہنی طاقت کھڑی نہ دیکھ لیں۔ چنانچہ، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قافلے کا پیچھا کرنے کے لیے ایک مخبر بھیجا۔ پھر آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا، "جس کے پاس سواری کا جانور ہے، وہ اس پر سوار ہو اور ہمارے ساتھ چلے۔" نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قریش کے سامنے ممکنہ ٹکراؤ کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔ صحابہ اس مہم میں شامل ہونے کے لیے بہت پرجوش تھے۔ یہاں تک کہ بعض باپ بیٹوں نے تو یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ کون جائے گا، قرعہ اندازی بھی کی۔ ان میں سے ہر ایک شہادت کے رتبے کی تڑپ رکھتا تھا۔ جلد ہی صحابہ کا ایک لشکر تیار ہو گیا، جن کی تعداد 300 سے زیادہ تھی۔ ان میں کچھ بہت کم عمر نوجوان بھی شامل تھے۔ لیکن نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بہت چھوٹی عمر والوں کو لشکر میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی اور انہیں واپس بھیج دیا۔ ان میں حضرت عمیر بن ابی وقاص بھی تھے، جن کی عمر صرف 16 سال تھی۔ اپنی چھوٹی عمر کے باوجود، وہ اس مہم میں شامل ہونے کے لیے بے تاب تھے۔ انہوں نے خود کو چھپانے کی کوشش کی، اس امید پر کہ نبی پاک ﷺ انہیں نہیں دیکھیں گے اور واپس نہیں بھیجیں گے۔ لیکن جب نبی پاک ﷺ کی نظر ان پر پڑی، تو آپ ﷺ نے فرمایا، "تمہیں بھی واپس جانا ہوگا۔" حضرت عمیر کا قد چھوٹا تھا، اور تب تک انہوں نے کبھی اپنی کمر سے تلوار نہیں باندھی تھی۔ ان کا جسم چھوٹا تھا، لیکن ان کا دل بہت بڑا اور ہمت سے بھرا ہوا تھا۔ اگرچہ نبی پاک ﷺ ابتداء میں انہیں واپس بھیجنا چاہتے تھے، لیکن آپ ﷺ اس نوجوان جنگجو کے جذبے کو نظر انداز نہ کر سکے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے عمیر کو لشکر میں شامل ہونے کی اجازت دے دی۔ جب اجازت مل گئی، تو حضرت سعد بن ابی وقاص نے اپنے بھائی کی کمر سے تلوار باندھ دی۔ جب عمیر چلتے، تو ان کی تلوار زمین سے چھوتی اور پیچھے ایک لکیر بنتی چلی جاتی۔ اور وہی نوجوان بعد میں بدر کے شہداء میں سے ایک بنے۔ اس وقت نبی ﷺ کی پیاری بیٹی، حضرت رقیہ، سخت بیمار تھیں۔ مگر ان کی اس حالت کے باوجود، نبی ﷺ نے خود کو اس مہم پر جانے سے نہیں روکا۔ لیکن آپ ﷺ نے اپنے داماد، حضرت عثمان بن عفان کو، ان کی دیکھ بھال کے لیے مدینہ میں چھوڑ دیا۔ جب تیاریاں مکمل ہو گئیں، تو 313 مجاہدین کا لشکر تیار تھا۔ کڑکتی دھوپ میں، نبی پاک ﷺ اپنے صحابہ کے ہمراہ ،بدر کی جانب روانہ ہوئے۔ کیونکہ وہاں پانی کے کئی کنویں تھے، اس لیے قافلے اکثر اس علاقے سے گزرتے تھے۔ لشکر کے پاس سواری کے جانور بہت کم تھے۔ صرف دو گھوڑے اور 70 اونٹ۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم)، حضرت علی، اور حضرت مرثد بن ابی مرثد ایک ہی اونٹ پر باری باری سفر کر رہے تھے۔ جب نبی پاک ﷺ کے پیدل چلنے کی باری آتی، تو باقی دونوں کہتے، "یا رسول اللہ ﷺ، آپ سوار رہیں، اور ہم آپ کی جگہ پیدل چلیں گے۔" لیکن نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) انکار فرما دیتے اور فرماتے، "تم پیدل چلنے میں مجھ سے زیادہ مضبوط نہیں ہو، اور مجھے بھی تمہاری طرح ہی اللہ کی طرف سے نیکیوں اور اجر کی ضرورت ہے۔" اور یوں، وہ اپنے سفر پر آگے بڑھتے رہے۔ سفر کے دوران ایک مقام پر، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے لشکر پر نظر ڈالی۔ ان میں سے کچھ لوگ ننگے پاؤں چل رہے تھے، ان کے پاس جنگ کے لیے پاؤں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی، "اے اللہ، ان سپاہیوں کے پاس سواری کے لیے جانور نہیں ہیں، تو انہیں سواری عطا فرما۔ اے اللہ، ان کے پاس پہننے کے لیے کچھ نہیں، اور یہ بھوکے ہیں، تو انہیں لباس اور کھانا عطا فرما۔" وہ غربت میں جی رہے تھے، لیکن وہ جانتے تھے کہ اصل طاقت ایمان سے ملتی ہے۔ اور وہ ایمان، اپنی سب سے خوبصورت شکل میں، اس لشکر میں موجود تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ میدانِ بدر تک پہنچتے، ابو سفیان کو معلوم ہو گیا کہ مسلمان ایک لشکر کی صورت میں وہاں آ رہے ہیں۔ "مسلمان آ رہے ہیں!" جس لمحے سے وہ نکلا تھا، اسے یہ ڈر تھا کہ مسلمان ان کا راستہ روک سکتے ہیں۔ اور اب، جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔ اس نے فوراً اپنے ایک آدمی کو قریش کی طرف خبر دینے کے لیے بھیجا اور اپنا راستہ بدل لیا۔ وہ قافلے کو ایک مختلف راستے سے مکہ لے جانے والا تھا۔ وہ آدمی جتنی جلدی ہو سکا مکہ پہنچا۔ گلیوں میں بھاگتے ہوئے وہ چلایا، "اے قریش!
محمد اور اس کے ساتھیوں نے تمہارے قافلے پر حملہ کر دیا ہے! تمہارا سارا مال لٹ جائے گا! جلدی کرو!
جاؤ اور ابو سفیان کی مدد کرو!" پورے مکہ میں خوف پھیل گیا، کیونکہ تقریباً ہر خاندان کی دولت اس قافلے میں لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے جلدی سے تیاریاں کیں اور 950 آدمیوں کا لشکر اکٹھا کر لیا۔ 100 گھڑ سواروں اور 700 اونٹوں کے ساتھ، وہ مکمل مسلح فوج بدر کی طرف چل پڑی۔ ان کی قیادت ابو جہل کر رہا تھا، جو اسلام کے سخت ترین دشمنوں میں سے ایک تھا۔ دوسری طرف، ابو لہب نے اپنی بیماری کا بہانہ بنایا اور اپنی جگہ کسی اور کو بھیج دیا۔ قریش کی فوج گیت گاتے اور ڈھول بجاتے ، بدر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد، ابو جہل کو ایک پیغام ملا: "تم اپنے قافلے اور آدمیوں کی حفاظت کے لیے نکلے تھے۔ اب دونوں محفوظ ہیں، اس لیے تم واپس آ سکتے ہو۔" یہ پیغام بھیجنے والا ابو سفیان تھا۔ وہ قافلے کو بحفاظت مکہ واپس لے آیا تھا اور اب ان سے واپس آنے کو کہہ رہا تھا۔ لشکر کا زیادہ تر حصہ واپس جانا چاہتا تھا، لیکن ابو جہل، جو مسلمانوں سے بغض رکھتا تھا، واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اس کی کمان میں ایک ہزار پر مشتمل، ہتھیاروں سے لیس فوج تھی۔ اس کے لیے یہ ایک ایسا موقع تھا جسے وہ کبھی گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ تمام مسلمانوں کا صفایا کر سکتا ہے۔ اس نے کہا، "ہم اب واپس نہیں جا سکتے۔ ہمیں بدر جانا ہوگا۔ ہم وہاں تین دن قیام کریں گے، اونٹ ذبح کریں گے، کھائیں گے اور شراب نوشی کریں گے۔ ہمیں خوش کرنے کے لیے لونڈیاں گانے گائیں گی۔ عرب ہمیں دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوں گے۔ اور اس کے بعد، وہ ہمیشہ ہم سے خوفزدہ رہیں گے۔" اس نے لشکر کو قائل کر لیا، اور وہ ایک بار پھر چل پڑے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تک یہ خبر پہنچی کہ قافلہ مکہ پہنچ چکا ہے اور قریش ایک بڑی فوج کے ساتھ بدر کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، تو آپ ﷺ حیران رہ گئے۔ انہیں ایسی کسی حرکت کی توقع نہیں تھی۔ چنانچہ، آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو جمع کیا تاکہ مشورہ کریں کہ اب کیا کیا جائے۔ سب سے پہلے، مہاجرین میں سے حضرت مقداد بن اسود کھڑے ہوئے اور کہا، "یا رسول اللہ، ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں ہوں گے جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ، 'تو اور تیرا رب جا کر لڑو، اور ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔' ہم آخری سانس تک آپ کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ جو آپ کو، آپ کے رب نےحکم دیا ہے وہ کریں۔ ہم آپ کے پیچھے چلیں گے۔" ان الفاظ نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بہت خوش کیا۔ لیکن آپ ﷺ انصار کی بھی رائے جاننا چاہتے تھے۔ کیونکہ بیعت عقبہ میں، انہوں نے مدینہ کے اندر آپ ﷺ کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن کیا وہ مدینہ سے باہر بھی ویسی ہی حفاظت فراہم کریں گے؟ حضرت سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور عرض کی، "یا رسول اللہ ﷺ، ہم آپ پر ایمان لائے ہیں۔ آپ پر بھروسہ کیا ہے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ جو آپ ہمارے پاس لائے ہیں، وہ حق ہے۔ ہم نے آپ کی بات سننے اور مکمل لگن کے ساتھ آپ کی اطاعت کا وعدہ کیا ہے۔" ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ اس وقت، ہم بھی نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فوج کے ساتھ بدر کی جانب جا رہے ہیں۔ کیا ہم وہ کہہ پاتے جو انہوں نے کہا؟ میں گویا آپ کو یہ کہتے سن سکتا ہوں، "ہاں، بالکل، ہم بھی یہی بات کہتے۔" لیکن کہنا آسان ہے، اور اس پر پورا اترنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ آئیے آج کے حالات کو دیکھیں۔ کیا نبی پاک ﷺ کا مشن آج بھی جاری نہیں ہے؟ بالکل ہے۔ لیکن ہم نے حقیقت میں اب تک اس کے لیے کیا قربانی دی ہے؟ کیا ہم محض ایک نماز چھوڑنے کے لیے، طرح طرح کے بہانوں کے پیچھے نہیں چھپتے؟ حضرت سعد بن معاذ کے مخلصانہ الفاظ سننے کے بعد، نبی پاک ﷺ کے چہرے سے فکر کے آثار دور ہو گئے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا، "اللہ عزوجل نے مجھ سے دو میں سے ایک چیز کا وعدہ کیا ہے: یا تو قافلہ یا پھر ایک واضح فتح۔ خدا کی قسم، مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں کہ دشمن کہاں کہاں گریں گے۔ اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے۔" جنگ کا فیصلہ اب حتمی ہو چکا تھا۔ ان کے سامنے ان سے تین گنا بڑی، مکمل طور پر لیس فوج کھڑی تھی۔ لیکن یہ مسلمانوں کے لیے کبھی کوئی رکاوٹ نہیں ہو سکتی تھی۔ ان کی ہمت ان کے دلوں میں موجود ایمان سے آئی تھی، اور ان کا مددگار اللہ تھا، جس کی قدرت ہر چیز پر غالب ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) بدر میں اپنی فوج کو صف آراء کر رہے تھے، اس طرح کہ پانی کے کنویں ان کے سامنے رہیں۔ اس وقت، حباب بن منذر، جو 30 سال کے لگ بھگ تھے اور جنگی حکمت عملی میں اپنی مہارت کے لیے جانے جاتے تھے، نبی پاک ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا، "یا رسول اللہ، کیا پڑاؤ ڈالنے کی یہ جگہ اللہ کے حکم سے چنی گئی ہے؟" نبی پاک نے جواب دیا، "نہیں، میں نے جنگی منصوبے کے تحت اس جگہ کا انتخاب کیا ہے۔" یہ سن کر حضرت حباب نے ایک تجویز پیش کی: "مجھے معاف فرمائیں، یا رسول اللہ ﷺ، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ جگہ سب سے بہتر ہے۔ آئیے آگے بڑھ کر پانی کی طرف پڑاؤ ڈالیں، اس جگہ کے قریب جہاں قریش ٹھہریں گے۔ وہاں ایک کنواں، جس میں میٹھا پانی وافر مقدار میں ہے۔ پہلے ہم ایک حوض کھود کر اسے پانی سے بھر لیں گے، پھر باقی تمام کنوؤں کو بند کر دیں گے۔ اس طرح، جب بھی ہمیں پیاس لگے گی، ہم اپنے حوض سے پانی پی لیں گے جبکہ وہ پانی کے بغیر رہ جائیں گے اور یوں ایک مشکل صورتحال میں پھنس جائیں گے۔" نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ تجویز دانشمندانہ لگی اور آپ ﷺ نے اسے قبول کر لیا۔ یہاں غور کریں کہ نبی پاک کس قدر مشاورت کی اہمیت کو مانتے تھے۔ آپ ﷺ نے یہ نہیں کہا، "میں نبی ہوں، ویسا ہی ہوگا جیسا میں کہوں گا۔" ایک بار پھر، آپ ﷺ نے ثابت کیا کہ وہ ہر لحاظ سے ایک بہترین نمونہ تھے۔ اس کے بعد جنگ کی منصوبہ بندی کی باری تھی۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنے لشکر کو ترتیب دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں اس طرح کھڑا کیا کہ تیر انداز پیچھے ہوں اور نیزہ بردار آگے کھڑے ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا، "اپنی صفیں مت چھوڑنا اور نہ ہی ترتیب توڑنا۔ صبر کے ساتھ اپنی جگہ پر جمے رہنا۔ اپنی جگہ سے مت ہلنا۔ جب تک میں حکم نہ دوں، لڑنا شروع مت کرنا۔ دشمن کے قریب آنے سے پہلے تیر چلا کر انہیں ضائع مت کرنا۔ اپنے تیر اس وقت چلانا جب دشمن اپنی ڈھالیں نیچے کریں۔ جب دشمن اور قریب آ جائے، تو اپنے نیزوں اور برچھیوں کا استعمال کرنا۔ تلوار سب سے آخر میں آتی ہے۔ اس کا استعمال صرف دست بہ دست لڑائی میں کرنا۔" مسلم لشکر، قریش کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھا۔ جب رات ہوئی، تو سب آرام کرنے کے لیے سو گئے۔ سب سو گئے، سوائے ایک ہستی کے: اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ آپ ﷺ نے پوری رات اللہ سے دعا اور گریہ و زاری میں گزار دی۔ "اے اللہ، اپنا وعدہ پورا فرما۔ اے اللہ، اگر مسلمانوں کی یہ چھوٹی سی جماعت ہلاک ہو گئی، تو اس روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں بچے گا۔" اور اس دل سے نکلی ہوئی دعا کا جواب قرآن میں دیا گیا۔ سورۃ الانفال کی نویں آیت میں: "جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، تو اس نے تمہاری فریاد سن لی: 'کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا، جو یکے بعد دیگرے آئیں گے۔'" ہاں، اللہ ان مٹھی بھر اہلِ ایمان کو تنہا نہیں چھوڑنے والا تھا، جو اس کی راہ میں لڑ رہے تھے۔ وہ اپنی غیبی افواج سے، اپنے فرشتوں سے ان کی مدد فرمانے والا تھا۔ بالآخر، جنگ کا دن آ گیا۔ جب قریش کی فوج میدانِ بدر میں پہنچی، تو جو انہوں نے دیکھا وہ انہیں ہلا دینے والا تھا۔ "انہوں نے تمام کنوؤں پر قبضہ کر لیا ہے!" مسلمانوں نے پہلے ہی اس علاقے پر قبضہ حاصل کر لیا تھا جو تزویراتی اہمیت کا حامل تھا۔ لیکن پھر بھی، اپنی بڑی تعداد کے زعم میں، وہ سمجھتے تھے کہ فتح آسانی سے مل جائے گی۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے، تو 950 قریشی جنگجوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی۔ اَحَدٌ اَحَد (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے)!
تعداد کا یہ فرق بہت واضح تھا۔ ظاہری اسباب اور وسائل کا پلڑا قریش کے حق میں بھاری تھا۔ لیکن روحانی طور پر، صورتحال بالکل برعکس تھی۔ ایک طرف، تکبیر کی صدائیں میدان میں گونج رہی تھیں۔۔۔ اللہ اکبر!
(اللہ سب سے بڑا ہے!) ۔۔۔جبکہ دوسری طرف، فضا میں گیت اور ڈھول کی آوازیں تھیں۔ ایک طرف وہ فوج کھڑی تھی جو اللہ سے اپنی طاقت حاصل کرتی تھی اور ظلم کے خلاف کھڑی تھی، اور دوسری طرف وہ فوج تھی جو صرف ظلم اور خون بہانے کے لیے لڑ رہی تھی۔ پھر، قریش کے سرداروں میں سے ایک، عتبہ بن ربیعہ، اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اپنے بیٹے ولید کے ساتھ آگے بڑھا۔ یہ جنگ سے پہلے ایک عام روایت تھی جسے مبارزہ (تن بہ تن مقابلہ) کہا جاتا تھا۔ باقاعدہ جنگ شروع ہونے سے پہلے، ایک، دو، یا تین جنگجو مبارزے کے لیے آگے آتے تھے، اور پھر اصل جنگ شروع ہوتی تھی۔ انصار میں سے تین نوجوان: عوف، معوذ، اور عبداللہ بن رواحہ آگے آئے۔ عتبہ نے انہیں دیکھا اور تمسخرانہ لہجے میں پوچھا، "تم کون ہو؟!
اے محمد، ہمارے مقابلے کے لیے ہمارےہم پلہ لوگوں کو بھیجو!" وہ کسی اور سے نہیں لڑنا چاہتا تھا۔ اس کی دشمنی قبیلہ بنو ہاشم کے ساتھ تھی۔ چنانچہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مدینہ کے مسلمانوں کو واپس بلا لیا۔ لیکن اب اللہ کے رسول ﷺ کسے چنیں گے؟ مہاجرین میں سے، آپ ﷺ نے عبیدہ بن حارث، حضرت حمزہ، اور حضرت علی (رضی اللہ عنہم) کو آگے بھیجا۔ "باہر کون آ رہا ہے؟" "عبیدہ اور علی۔" "علی؟" ''اور وہ تیسرا کون ہے؟'' "حمزہ" -"نہیں، حمزہ۔ یہ اچھا نہیں ہوا۔" نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چنے گئے یہ تینوں افراد آپ ﷺ کے اپنے خاندان سے تھے۔ اس بار، عتبہ اپنے سامنے کھڑے جنگجوؤں سے مطمئن تھا۔ اور مبارزہ شروع ہو گیا۔ حمزہ کا مقابلہ شیبہ سے تھا۔ علی کا مقابلہ ولید سے تھا۔ اور عبیدہ نے عتبہ کے ساتھ اپنا مقابلہ شروع کیا۔ چند ہی ضربوں کے بعد، حضرت علی اور حضرت حمزہ کے مدمقابل زمین پر مردہ پڑے تھے۔ لیکن عبیدہ اور عتبہ کے درمیان اب بھی شدید جنگ جاری تھی۔ مبارزے کی روایت کے مطابق، جو شخص اپنے دشمن کو شکست دے دیتا وہ دوسروں کی مدد کر سکتا تھا۔ چنانچہ ،حمزہ اور علی تیزی سے عبیدہ کی مدد کو لپکے اور عتبہ کو مار گرایا۔ پھر وہ زخمی عبیدہ کو اٹھا کر نبی پاک(صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس لے آئے۔ ان کا بہت خون بہہ رہا تھا، لیکن انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ ان کا دھیان کسی اور بات پر تھا۔ وہ بار بار کہہ رہے تھے، "یا رسول اللہ، کیا میں شہید نہیں ہوں؟" "ہاں، عبیدہ، تم شہید ہو۔" یہ الفاظ سنتے ہی، عبیدہ کے چہرے پر سکون چھا گیا۔ اور کچھ ہی دیر بعد، وہ وفات پا گئے اور شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ وہ شہید ہو گئے۔ ان کے چہرے پر اب بھی مسکراہٹ تھی، کیونکہ ان کے لیے شہادت، اللہ کی راہ میں جان قربان کرنا، موت نہیں تھی، بلکہ اپنے محبوب سے ملاقات تھی۔ قریش کی فوج صدمے میں تھی۔ ان کے سب سے بہادر جنگجو، قریش کا طاقتور سردار، عتبہ، اس کا بھائی شیبہ اور بیٹا ولید، اب میدانِ بدر میں مردہ پڑے تھے۔ اپنی فوج کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے، ابو جہل چلایا، "عتبہ، شیبہ اور ولید کی موت سے مت گھبراؤ!
وہ بلاوجہ آگے بڑھے اور مارے گئے! میں قسم کھاتا ہوں کہ آج فتح ہماری ہوگی!
محمد اور اس کے ساتھی ہمارے لیے صرف ایک نوالہ ہیں!" پھر اس نے اپنی فوج کو دوبارہ منظم کیا۔ جب حکم دیا گیا، تو دونوں طرف سے ایک دوسرے پر دھاوا بول دیا گیا۔ پوری شدت سے جنگ شروع ہو گئی۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) خود صفِ اول میں تھے، اور اپنے صحابہ کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے یہ نہیں کہا، "میں نبی ہوں، تم جاؤ اور لڑو۔" اس کے بجائے، آپ ﷺ اپنے الفاظ سے ان کا حوصلہ بڑھا رہے تھے اور ان کے دلوں میں بہادری بھر رہے تھے۔ آپ ﷺ اس قدر بہادری سے لڑے کہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے بعد میں فرمایا، "اس دن، سب سے زیادہ بہادر آپ ﷺ تھے۔ ان سے زیادہ دشمن کی صفوں کے قریب کوئی نہیں تھا۔" حمزہ علی اور عمر۔(رضی اللہ عنہم) ان کے راستے میں آنے والے ہر شخص کو کاٹ رہے تھے۔ اپنی تلواروں سے، وہ دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ صحابہ کرام اپنی پوری طاقت سے لڑ رہے تھے۔ اس دن، میدانِ جنگ میں موجود لوگوں میں ابو البختری بن ہشام بھی شامل تھا۔ کیا ہمیں یہ نام یاد ہے؟ اس زمانے میں، جب مکہ میں مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا تھا، تو پانچ آدمی ایک منصوبے کے ساتھ اکٹھے ہوئے تھے۔ وہ گلی کے مختلف حصوں میں کھڑے ہوئے، بائیکاٹ کے خلاف آواز اٹھائی، اور لوگوں کی بھرپور حمایت حاصل کی۔ ابو البختری ان پانچ آدمیوں میں سے ایک تھا۔ تو وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کی وجہ سے بائیکاٹ کا خاتمہ ہوا تھا۔ اور اب، وہ اس میدانِ جنگ میں بھی تھا، لیکن مسلمانوں کی طرف سے نہیں۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے، نبی پاک ﷺ نے اعلان کیا تھا کہ کچھ لوگوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ اور ابو البختری ان میں سے ایک تھا۔ کیا یہ احسان مندی اور وفاداری کی ایک حیرت انگیز مثال نہیں ہے؟ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) اسے ایمان لانے کا ایک اور موقع دے رہے تھے۔ جنگ کے دوران، ابو البختری کا سامنا ایک صحابی سے ہوا، مُجذر بن زیاد سے۔ لیکن مجذر نے اس سے لڑنے سے گریز کیا کیونکہ وہ نبی پاک ﷺ کا حکم جانتے تھے۔ ابو البختری کو یہ بات سمجھ نہ آئی اور اس نے پوچھا، "تم مجھ سے کیوں نہیں لڑتے؟" جب مجذر نے اسے بتایا کہ نبی پاک ﷺ نے کیا فرمایا ہے، تو ابو البختری غصے میں آ گیا اور چلایا، "اگرچہ اس نے ایسا کہا ہے، مگر میں تم سے آج یہاں ضرور لڑوں گا!" اس نے نبی پاک ﷺ کی مہربانی کو نظر انداز کیا اور مجذر پر حملہ کر دیا۔ مجذر نے اس سے بچنے کی کوشش کی، لیکن ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے جوابی حملہ کیا۔ اور بالآخر، ابو البختری مارا گیا۔ جنگ اب اپنے عروج پر تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے مٹھی بھر مٹی لی، اسے دشمن کے لشکر کی طرف پھینکا، اور دعا فرمائی، "ان کے چہرے مسخ ہو جائیں!
اے اللہ، ان کے دلوں میں خوف بھر دے اور ان کے قدم ڈگمگا دے!" وہ مٹھی بھر مٹی پوری دشمن فوج کی آنکھوں میں جا پہنچی۔ انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن میں اسی واقعے کو بیان فرمایا ہے: "اور آپ نے نہیں پھینکی تھی جب آپ نے پھینکی تھی، بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔" کچھ دیر بعد، ایک بے مثال آندھی چلنے لگی۔ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ قریش ہر طرف بکھر گئے۔ پھر دوسری ہوا آئی، اس کے بعد تیسری۔ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا تھا اور مدد کے لیے اپنے فرشتے بھیج دیے تھے۔ قریش حیران تھے۔ کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ وہ صرف 300 کی فوج کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن اچانک، ان کی نظروں میں مسلم لشکر کہیں زیادہ بڑا اور طاقتور دکھائی دینے لگا۔ ابو جہل، جس نے جنگ سے پہلے کہا تھا، "یہ ہمارے لیے صرف ایک نوالہ ہیں"، اب چھپنے کے لیے جگہ تلاش کر رہا تھا۔ ہر کوئی اسلام کے اس دشمن کے پیچھے تھا۔ وہ اسے مارنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ انصار کے دو کم عمر بھائی حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کے پاس آئے اور پوچھا کہ ابو جہل کون ہے۔ ابن عوف نے پوچھا، "تم اس کا کیا کرو گے؟" "میں نے سنا ہے کہ اس نے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی۔ میں نے اللہ سے عہد کیا ہے کہ اگر میں اسے دیکھ لوں، تو ہم تب تک الگ نہیں ہوں گے جب تک ہم میں سے ایک مر نہ جائے۔" وہ بہادر نوجوان معاذ اور معوذ تھے۔ اس وقت، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے ابو جہل کو دیکھا اور اس کی طرف اشارہ کیا۔ "وہ رہا تمہارا آدمی۔" وہ دونوں ایک ساتھ اس کی طرف دوڑے۔ ابو جہل نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا، اور اس نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا، "تم بیوقوف لڑکو!
مرنے کی اتنی جلدی ہے؟" لیکن حالات ویسے نہیں رہے جیسا اس نے سوچا تھا۔ معاذ قریب پہنچے اور اس کی ٹانگ پر وار کیا۔ پھر ابو جہل کا بیٹا عکرمہ بیچ میں آیا اور اس نے معاذ کو زور سے مارا۔ اسی لمحے، معوذ نے ابو جہل پر ایک اور وار کیا اور اسے گرا دیا۔ "کیا اس امت کا فرعون واقعی مر گیا تھا؟" وہ دونوں بھاگ کر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آئے اور بتایا کہ انہوں نے ابو جہل کو مار دیا ہے۔ نبی پاک اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ مردوں میں ابو جہل کو تلاش کریں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود وہ شخص تھے جنہیں وہ ملا۔ ابو جہل ابھی مرا نہیں تھا۔ وہ اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ ابن مسعود نے اس کی گردن پر اپنا پاؤں رکھا اور کہا، "اے اللہ کے دشمن!
کیا تو نے دیکھ لیا؟ اللہ نے تجھے ذلیل کر دیا۔" مرتے وقت بھی، ابو جہل اب تک متکبر تھا۔ اس نے جواب دیا، "تم ایک اونچی جگہ پر چڑھ گئے ہو، اے ایک چرواہے کے بیٹے۔ کسی بڑے آدمی کا اپنے ہی لوگوں اور قبیلے کے ہاتھوں مارا جانا کوئی نئی بات نہیں۔ اب مجھے بتاؤ، آج فتح کس کی ہوئی؟" ابن مسعود نے کہا، "اللہ اور اس کے رسول کی۔" ان الفاظ کے ساتھ، انہوں نے حقیقت میں اسے مارنے سے پہلے، اسے روحانی طور پر مار دیا۔ کیا آپ کو عبداللہ بن مسعود یاد ہیں؟ یہ وہی تھے جو ایک بار کعبہ میں گئے تھے اور پہلی بار کھلم کھلا سورۃ الرحمٰن کی تلاوت کی تھی۔ لیکن مشرکین نے فوراً ان پر حملہ کر دیا اور اس قدر مارا کہ وہ مرنے کے قریب ہو گئے۔ لیکن اب بازی پلٹ چکی تھی۔ انہوں نے زمین سے ابو جہل کی تلوار اٹھائی اور آخری ضرب لگائی جس سے اس کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ یہاں، ایک اور حیرت انگیز بات تھی۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے وہ صحیح مقامات دکھائے تھے جہاں مکہ کے سردار مارے جائیں گے۔ اور ابو جہل بالکل اسی جگہ مرا جو آپ ﷺ نے بتائی تھی۔ ایک اور سردار، امیہ بن خلف بھی بالکل اسی جگہ مرا جہاں نبی پاک ﷺ نے اشارہ کیا تھا۔ اور دوسروں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے بعد میں فرمایا، "آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجنے والی ذات کی قسم، ان میں سے کوئی بھی اس جگہ سے ایک انچ بھی آگے نہیں گرا جہاں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنا ہاتھ رکھا تھا۔" اللہ کی طرف سے ایک معجزے کے طور پر، آپ ﷺ نے نہ صرف یہ پیشین گوئی کی تھی کہ کون مرے گا، بلکہ یہ بھی بتایا تھا کہ وہ کہاں مریں گے۔ ایک بار جب مکہ کے سردار یکے بعد دیگرے مارے گئے، تو قریش کی فوج بکھر گئی۔ اور کفار پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ گئے۔ دراصل، اسی منظر کی پیشین گوئی برسوں پہلے قرآن میں کی جا چکی تھی۔ سورۃ القمر کی 44ویں اور 45ویں آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ ترجمہ: "کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک زبردست جماعت ہیں اور ہم ضرور غالب آئیں گے؟ عنقریب اس جماعت کو شکست دی جائے گی، اور وہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔" مکہ کے دن یاد کریں۔ مسلمانوں کی تعداد کفار کے مقابلے میں کتنی کم تھی۔ انہوں نے ہر طرح کی تکلیف سہی۔ کبھی ان کا ایسا بائیکاٹ کیا گیا تھا کہ جو تین سال تک جاری رہا۔ کبھی انہیں پتھر مارے گئے اور پیٹا گیا، اور کبھی ان کا مذاق اڑایا گیااور ذلیل کیا گیا۔ ایک ایسے وقت میں جب مسلمان اتنے کمزور تھے، ان آیات نے پیشین گوئی کی تھی کہ وہ جلد ہی طاقتور شہر مکہ پر فتح حاصل کریں گے۔ یہ کہا گیا تھا، "وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔" یہ پیشین گوئی جو ان کی سب سے بڑی مشکل کے وقت نازل ہوئی تھی اس نے ایک بار پھر قرآن کی سچائی کو ثابت کیا تھا: کہ یہ اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ اور اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور انہیں فتح عطا فرمائی۔ ٹوارڈز ایٹرنیٹی پر، ہم نے دن رات محنت کی ہے تاکہ یہ اے آئی (AI) ویژولائزڈ سیریز آپ تک پہنچا سکیں۔ اور اب، انشاءاللہ، ہم جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں پر ایک نئی سیریز پیش کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ، حضرت ابراہیم، حضرت یوسف، حضرت یونس علیہم السلام جیسے انبیاء۔ تاکہ آپ اور آپ کا خاندان ان کی کہانیاں ٹوارڈز ایٹرنیٹی کی شاندار پروڈکشن میں دیکھ سکیں۔ لیکن ایک نئی سیریز بنانے کے لیے بھاری اخراجات درکار ہوتے ہیں۔ اے آئی، پروفیشنل وائس اوور، اور آلات۔ اور بدقسمتی سے، ہم تنہا ان اخراجات کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم اس پروجیکٹ کو صرف آپ کے تعاون سے ہی مکمل کر سکتے ہیں۔ ہماری ٹیم نے کل لاگت کو 25 ڈالر کے شیئرز میں تقسیم کیا ہے، لہٰذا آپ اپنی استطاعت کے مطابق ایک یا اس سے زیادہ شیئرز سپانسر کر کے سپورٹ کر سکتے ہیں، انشاءاللہ۔ اگر آپ ان نیکیوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو ٹوارڈز ایٹرنیٹی کو عطیہ دیں اور اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ میدانِ بدر میں 14 مسلمان شہید ہوئے۔ یہ وہ بہادر لوگ تھے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو اسلام کے لیے قلعہ بنا دیا تھا اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے ڈھال بن گئے تھے۔ اور جو لوگ زندہ بچ گئے انہیں ہمیشہ کے لیے اصحابِ بدر کے طور پر عزت دی گئی۔ کیونکہ بدر کوئی عام جنگ نہیں تھی۔ مسلمانوں کے لیے، یہ شاید تاریخ کی اہم ترین جنگ تھی۔ کیونکہ ان کی تعداد بہت کم تھی۔ اگر وہ یہاں شکست کھا جاتے، تو ان کی تعداد اور بھی کم ہو جاتی۔ یہ قریش کو مسلمانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دینے کا ایک بہترین موقع فراہم کر دیتا۔ تو دشمن کا رخ کیسا تھا؟ جنگ میں، قریش کے 70 آدمی مارے گئے۔ اور مزید 70 کو قیدی بنا لیا گیا۔ تو، ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ دو شرائط رکھی گئیں۔ "رسول اللہ تمہیں دو راستے دیتے ہیں۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے یا تو فدیہ ادا کرو، یا مدینہ کے 10 بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھاو ۔" صرف انہی شرائط پر انہیں رہا کیا جا سکتا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام علم اور سیکھنے کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ قیدیوں میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ وہ قریش کی طرف سے لڑے تھے۔ دوسروں کی طرح، انہیں بھی یا تو 10 بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھانا تھا یا فدیہ ادا کرنا تھا۔ لیکن انہوں نے نبی پاک ﷺ سے کہا، "میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔" پھر اللہ کے رسول نے پوچھا، "اے عباس، اس سونے کا کیا ہوا؟ وہ سونا جو آپ نے مکہ چھوڑتے وقت اپنی بیوی ام الفضل کو دیا تھا؟ جب آپ نے اسے وہ دیا تھا، تو وہاں آپ دونوں کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ اور آپ نے اس سے کہا تھا، 'مجھے نہیں معلوم کہ اس سفر میں میرے ساتھ کیا ہوگا۔ اگر مجھے کچھ ہو جائے اور میں واپس نہ آؤں، تو اتنا سونا تمہارے لیے ہے، اتنا فضل کے لیے، اتنا عبداللہ کے لیے، اتنا عبیداللہ کے لیے، اور اتنا قثم کے لیے ہے۔' تو وہ سونا کہاں ہے؟" بے شک، سب کچھ بالکل ویسے ہی ہوا تھا جیسا نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بیان کیا تھا۔ حضرت عباس حیران رہ گئے۔ انہوں نے پوچھا، "آپ کو یہ کس نے بتایا؟" "اللہ کی قسم، میرے اور ام الفضل کے سوا کوئی اس بارے میں نہیں جانتا تھا۔" نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جواب دیا، "مجھے اللہ نے بتایا ہے۔" اس لمحے سے پہلے، یہ واضح نہیں تھا کہ آیا حضرت عباس نے خفیہ طور پر اسلام قبول کیا تھا یا نہیں۔ انہیں ابھی تک کچھ شکوک تھے۔ لیکن اس دن، اس معجزے کو دیکھنے کے بعد، وہ مسلمان ہو گئے۔ "اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ" وہ مکہ واپس چلے گئے اور اپنا ایمان خفیہ رکھا۔ وہاں سے، وہ خفیہ طور پر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خبریں بھیجتے تھے اور اپنے شہر میں مسلمانوں کی مدد کرتے تھے۔ ایک اور قیدی سہیل بن عمرو تھا۔ وہ ایک بہترین مقرر تھا اور اس نے ماضی میں مسلمانوں کے خلاف سخت باتیں کی تھیں۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) سہیل کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ قریش کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک تھا۔ جب حضرت عمر نے اسے قیدیوں میں دیکھا، تو انہوں نے کہا، "یا رسول اللہ، مجھے اس آدمی کے سامنے کے دانت نکالنے کی اجازت دیں تاکہ یہ کبھی بھی آپ کے خلاف دوبارہ بات نہ کر سکے۔" اپنے پرجوش الفاظ سے، یہ قریش کو ہمارے خلاف کھڑا ہونے پر اکساتا تھا۔ لیکن رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ سے جواب دیا جن کا اصل مطلب برسوں بعد ہی واضح ہونا تھا: "اسے چھوڑ دو، اے عمر۔ امید ہے کہ ایک دن وہ ایسے مقام پر کھڑا ہوگا جو تمہیں خوش کر دے گا۔" سہیل نے بعد میں اسلام قبول کر لیا۔ اور جس دن نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) وفات پا گئے، جب مکہ غم میں ڈوبا ہوا تھا، تو اس نے ایک ایسی تقریر کی جس نے لوگوں کے دلوں کو پرسکون کر دیا۔ جب ہر کوئی غم سے نڈھال تھا، جیسے ان کی پوری دنیا تباہ ہو گئی ہو، سہیل کے تسلی بخش الفاظ نے ہجوم کو سکون بخشا۔ اور یہ وہ دن تھا جب حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کو بالآخر سمجھ آیا کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مطلب کیا تھا۔ اس فتح کے ساتھ، مسلمان اب ایک ایسی قوت بن چکے تھے جسے مزید ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا تھا۔ جب مدینہ میں خوشی اور جشن کا ماحول تھا، تو مکہ غم سے نڈھال تھا۔ شہر نے اپنے سب سے اہم آدمیوں کو میدانِ جنگ میں کھو دیا تھا۔ ابو لہب پہلے ہی بیمار تھا اور بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس خبر کا صدمہ اس کی برداشت سے باہر تھا۔ اپنے غصے اور غم میں جلتے ہوئے، وہ ایک ہفتے کے اندر مر گیا۔ اس ڈر سے کہ اس کی بیماری متعدی ہو سکتی ہے، یہاں تک کہ اس کے اپنے بیٹوں نے بھی کچھ وقت تک اس کی لاش کے قریب جانے سے گریز کیا۔ جب بدبو ناقابل برداشت ہو گئی، تو آخر کار انہوں نے اسے گھسیٹ کر دور پھینکا اور کہیں دفنا دیا۔ اور یوں، اسلام کا ایک اور سخت دشمن بھی ختم ہو گیا۔ سب کچھ مسلمانوں کے حق میں بدل رہا تھا۔ 14 شہداء کھونے کے بعد، مسلمان بدر سے واپس لوٹ آئے۔ قریش پر ایک شاندار فتح کے ساتھ جنگ جیتی جا چکی تھی۔ اور یوں فوج فتح کی خوشی سے سرشار تھی۔ لیکن وہ خوشی زیادہ دیر تک نہ رہی۔ "یا رسول اللہ، آپ کی بیٹی، رقیہ...
وفات پا گئی ہیں۔" جب نبی پاک تشریف لائے، تو انہیں یہ دردناک خبر ملی۔ آپ ﷺ انتہائی غمگین ہوگئے۔ وہ اپنی بیٹی کو اس کے آخری لمحات میں دیکھ بھی نہ سکے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک بار فرمایا تھا، "جن لوگوں کو آزمائشوں سے سب سے زیادہ سخت آزمایا جاتا ہے وہ پہلے انبیاء ہیں، اور اس کے بعد وہ لوگ جو ان سے دینی وابستگی میں قریب تر ہیں۔" یہ پہلی بار نہیں تھا کہ انہوں نے اولاد کھونے کا دکھ سہا ہو۔ اس سے پہلے، وہ اپنے بیٹوں قاسم اور عبداللہ کو دفنا چکے تھے۔ اور پھر ان کی سب سے بڑی بیٹی، زینب تھیں۔ ان کی شادی اسلام سے پہلے ہو گئی تھی۔ لیکن ان کے شوہر، ابو العاص، ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ بدر کے دن، ابو العاص بھی قیدیوں میں شامل تھے۔ نبی پاک ﷺ نے انہیں اس شرط پر رہا کیا کہ وہ زینب کو مدینہ بھیج دیں گے۔ اس وقت، وہ امید سے تھیں۔ لیکن بدر کے بعد اپنے غصے میں اندھے ہو کر، مشرکین انہیں نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ جیسے ہی وہ روانہ ہونے لگیں، انہوں نے درندگی سے ان کی اونٹنی کو ڈرایا، اور زینب ایک چٹان پر جا گریں۔ ان کا بچہ ضائع ہو گیا۔ وہ اسی حالت میں مدینہ پہنچیں، اور ان کے والد نے انہیں گہرے دکھ کے ساتھ قبول کیا۔ کیا وہ اپنے نواسے کے نقصان کا غم منائیں یا اپنی بیٹی کی تکلیف کا؟ زینب کے بچے کا ضائع ہونا ان کی صحت پر دیرپا اثرات چھوڑ گیا۔ اور کچھ سال بعد، وہ بھی وفات پا گئیں۔ ایک بچے کو کھونا بھی ایسا دکھ ہے جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اسے سہا ہو۔ مگر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ ایک بار نہیں، بلکہ چھ بار برداشت کیا۔ اور جن آزمائشوں کا انہوں نے سامنا کیا وہ صرف اپنے پیاروں کو کھونے تک محدود نہیں تھیں۔ اللہ نے انہیں ان سخت آزمائشوں سے گزرنے کی اجازت ایک خاص وجہ سے دی۔ اگر ان کی زندگی دکھوں یا مشکلات سے پاک ہوتی، تو وہ ہمارے لیے ایک سچا نمونہ کیسے بنتے؟ وہ ان لوگوں کی کیسے رہنمائی کرتے جو زندگی کی مشکلات سے نبرد آزما ہیں اور پوری انسانیت کی رہنمائی کیسے کرتے؟ 1400 سال سے زیادہ عرصے سے، ان کی امت کے جس شخص نے بھی آزمائشوں کا سامنا کیا اس نے آپ ﷺ کی سیرت سے سکون پایا ہے۔ ہر ایک نے اپنے درد کی جھلک ان کی زندگی میں دیکھی۔ اور نبی پاک ﷺ کی سب سے قابلِ ذکر صفات میں سے ایک یہ تھی کہ، ان تمام تر مصائب کے باوجود، وہ پھر بھی مسکرا سکتے تھے۔ وہ اپنے رب کے حضور اپنا دل کھولتے، اپنی پریشانیاں بیان کرتے، اور اسی کی پناہ مانگتے۔ وہ ہر چیز میں خیر دیکھتے اور ہمیشہ مثبت پہلو پر نظر رکھتے۔ وہ خوبصورتی اور امید کے ساتھ سوچتے۔ اور اسی طرح وہ اپنے دکھوں کو پیچھے چھوڑ سکتے تھے۔ وہ ان نئی نعمتوں پر توجہ مرکوز کر سکتے تھے جو اللہ نے ان کے راستے میں بھیجیں اور ان میں سکون پا سکتے تھے۔ انہی نعمتوں میں سے ایک ان کی پیاری بیٹی فاطمہ کی شادی تھی۔ تمام لوگوں میں، وہ نبی پاک ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتی تھیں۔ اور ان کی شادی حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے ہونے والی تھی، جنہیں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود پالا تھا اور بچپن سے تعلیم دی تھی۔ نبی پاک ﷺ کا مبارک سلسلہ نسب فاطمہ اور علی (رضی اللہ عنہم) کے ذریعے جاری رہنے والا تھا۔ ایک انتہائی سادہ اور باوقار شادی کے ساتھ، جو کسی بھی دکھاوے یا فضول خرچی سے پاک تھی، ایک پرامن اور محبت بھرے گھر کی بنیاد رکھی گئی۔ اور اس گھر کو دو خوبصورت بچوں، حسن اور حسین سے نوازا گیا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے نواسوں سے ایسی محبت اور شفقت کا اظہار کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ اللہ کے رسول ﷺ خطبہ دے رہے تھے، جب آپ ﷺ نے حسن اور حسین کو دیکھا، تو وہ سب کے سامنے لڑکھڑا رہے تھے۔ آپ ﷺ منبر سے نیچے اترے، انہیں اٹھایا، اور پھر واپس بیٹھ گئے۔ جب نبی پاک نماز میں سجدے کی حالت میں ہوتے، تو حسن آپ ﷺ کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے۔ اور آپ ﷺ سجدے میں زیادہ دیر تک رہتے، صرف اس لیے تاکہ ان کا کھیل خراب نہ ہو۔ آپ ﷺ فرماتے، "یہ دنیا میں میرے دو خوشبودار پھول ہیں۔" وہ انہیں ان کے سر اور گلے پر بوسہ دیتے، ان کی خوشبو سونگھتے، اور انہیں سینے سے لگاتے۔ ایسی محبت، خاص طور پر اس زمانے میں، انتہائی نایاب چیز تھی۔ ایک بار، ایک شخص نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کو حسن کو چومتے ہوئے دیکھا اور پوچھا، "آپ اپنے بچوں کو چومتے ہیں؟ میرے دس بچے ہیں، اور میں نے انہیں کبھی نہیں چوما۔" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، "جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔" ان کے دل میں صرف اپنے نواسوں کے لیے ہی رحم نہیں تھا، وہ تمام بچوں پر رحم فرماتے تھے۔ جب نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) ہجرت کر کے مدینہ آئے، تو روزمرہ کے کاموں میں مدد کے لیے ایک 12 سالہ لڑکے انس بن مالک کو آپ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان میں ایسا اعتماد پیدا کیا، ایسی شفقت اور دیکھ بھال سے ان کی پرورش کی کہ انس ایک غیر معمولی انسان بن گئے۔ ان کے ذریعے، نبی پاک ﷺ نے ایک بچے کی پرورش کرنے کی ایک اور خوبصورت مثال قائم کی۔ حضرت انس (رضی اللہ عنہ) بعد میں بتاتے تھے، "نبی پاک ﷺ نے کبھی بھی مجھ سے کوئی سخت بات نہیں کی۔ اور انہوں نے کبھی میرے کسی کام کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ، 'تم نے یہ کیوں کیا؟' یا جو کام میں نے نہیں کیا اس کے بارے میں، 'تم نے یہ کیوں نہیں کیا؟'" انہوں نے 10 سال تک نبی پاک ﷺ کی خدمت کی اور ان کی کفالت میں رہے۔ پھر انس بڑے ہو کر صحابہ میں سب سے زیادہ صاحبِ علم اور معزز ہستیوں میں سے ایک بنے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی بیٹی فاطمہ کی شادی حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے کی، جو اپنی بہادری، گہرے علم اور حکمت کے لیے جانے جاتے تھے۔ اور آپ ﷺ نے اپنی بیٹی ام کلثوم کی شادی حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) سے کی، جنہیں آپ ﷺ نے "جنت میں میرا ساتھی" کہہ کر پکارا۔ حضرت عثمان اس قدر باحیا تھے کہ فرشتے بھی ان کی حیا کی تعریف کرتے تھے اور ان کے سامنے شرماتے تھے۔ وہ ایک انتہائی معزز صحابی تھے اور انہیں یہ منفرد اعزاز حاصل تھا کہ وہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دو بار داماد بنے۔ تو نبی پاک ﷺ نے اپنے دو پیارے پھولوں کی شادی روئے زمین کے دو سب سے بہترین مردوں سے کی۔ لیکن خود نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں کیا؟ کیا آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے بعد دوبارہ شادی کی؟ جب نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مدینہ ہجرت کی، تو وہاں ایک بڑی اور بڑھتی ہوئی مسلم کمیونٹی موجود تھی۔ اور ظاہر ہے، یہ صرف مردوں پر مشتمل نہیں تھی۔ صحابہ میں بہت سی خواتین بھی تھیں۔ وہ بھی دین کے مطابق زندگی گزارنا اور سیکھنا چاہتی تھیں۔ لیکن نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ براہ راست اور کثرت سے خواتین کے ساتھ بات چیت کریں۔ مزید یہ کہ، وہ ہر چیز کے بارے میں آپ ﷺ سے کھل کر نہیں پوچھ سکتی تھیں۔ بہرحال، آپ ایک مرد تھے، اور کچھ باتیں ایسی تھیں جو پوچھتے ہوئے انہیں شرم آتی تھی۔ اس لیے انہیں ایسی خواتین کی ضرورت تھی جن سے وہ سیکھ سکیں۔ اور وہ خواتین نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ازواج مطہرات ہوں گی، جو امت کی خواتین کے لیے اساتذہ کا کردار ادا کریں گی۔ وہ آپ ﷺ کی ازواج سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھ سکتی تھیں جو وہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) سے نہیں پوچھ سکتی تھیں اور جب چاہیں ان سے سیکھ سکتی تھیں۔ صحابہ اپنے دن رسول اللہ کے الفاظ اور اخلاق کا مشاہدہ کرتے ہوئے گزارتے تھے۔ مگر وہ یہ نہیں دیکھ سکتے تھے کہ آپ ﷺ گھر میں کیسے رہتے ہیں، آپ کی خاندانی زندگی کیسی ہے۔ یہ آپ ﷺ کی ازواج ہی تھیں جو آپ کی زندگی کے ان حصوں کو لوگوں تک پہنچاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ میں رہتے ہوئے، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تقریباً 25 سال صرف ایک بیوی کے ساتھ گزارے۔ لیکن مدینہ ہجرت کرنے کے بعد، آپ ﷺ نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں۔ بدقسمتی سے، اسلام کے کچھ دشمنوں نے آپ ﷺ پر تہمت لگانے کی کوشش کی، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ نفسانی خواہشات کے پیچھے تھے۔ معاذ اللہ۔ چونکہ انہیں آپ ﷺ کی نبوت کو جھٹلانے کا کوئی اور طریقہ نہیں ملا، تو انہوں نے ایسے الزامات کا سہارا لیا۔ لیکن جس طرح آپ ﷺ نے اپنی زندگی گزاری اس نے اس دعوے کو پوری طرح غلط ثابت کر دیا۔ 25 سال کی عمر میں، جب قبیلے کے بہت سے لوگ آپ ﷺ کے مداح تھے، آپ ﷺ نے 40 سالہ خاتون، حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) سے شادی کی۔ اگر آپ ﷺ چاہتے، تو شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوتا جو اپنی بیٹی کی شادی آپ ﷺ سے کرنے پر خوشی خوشی تیار نہ ہوتا۔ اور 50 سال کی عمر تک، آپ ﷺ نے کسی اور سے شادی نہیں کی۔ انسان میں نفسانی خواہشات 15 سے 40 سال کی عمر کے درمیان سب سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ اور بالکل اسی دور میں، آپ ﷺ نے ایک ہی بیوی کے ساتھ زندگی گزاری اور پاکدامنی اور اخلاقیات کی ایک بہترین مثال قائم کی۔ 50 سال کی عمر کے بعد ہی آپ ﷺ نے ایک سے زیادہ ازواج کے ساتھ زندگی کا آغاز کیا۔ اور اس کی وجہ واضح طور پر دینی تعلیم تھی۔ امت کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل تھا، اور باقی نصف، مرد جن کی پرورش خواتین کرتی تھیں۔ اس لیے مسلمان خواتین کی تعلیم انتہائی اہم تھی۔ یہی وجہ تھی کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ایسی ازواج کی ضرورت تھی جو مختلف صلاحیتوں اور خوبیوں کی مالک ہوں۔ دراصل، اس کی ایک اہم ضرورت تھی، کیونکہ ہمارے دین کا تقریباً نصف حصہ لوگوں کو نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ازواج نے سکھایا۔ اور ان میں، جس نے سب سے بڑا کردار ادا کیا وہ ہماری والدہ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) تھیں۔ وہ غیر معمولی طور پر ایک ذہین اور قابل خاتون تھیں۔ جب بھی صحابہ کو کسی ایسے دینی مسئلے کا سامنا ہوتا، جسے وہ حل نہیں کر پاتے یا سمجھ نہیں پاتے تھے، تو وہ ان کے پاس جاتے اور پردے کے پیچھے سے پوچھ لیتے۔ مثال کے طور پر، حضرت ابو موسیٰ اشعری، ایک صحابی جو قرآن اور حدیث کے اپنے علم کے لیے جانے جاتے تھے، انہوں نے ایک بار فرمایا: "ہم صحابہ کو جب بھی کوئی الجھن ہوتی اور ہم حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے پوچھتے، تو ہم پاتے کہ انہیں اس بارے میں علم ہوتا تھا۔" انہوں نے اپنی جوانی اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اسلام کو گہرائی سے سیکھنے کے لیے وقف کر دی تھیں۔ اس طرح، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے وصال کے بعد، وہ 46 سال تک علم کا سرچشمہ بنی رہیں۔ ایک ایسی ہستی جن سے لوگ اپنے سوالات پوچھ سکتے تھے۔ دراصل، یہ ہمارے لیے ایک انتہائی اہم بات ہے۔ ہمارے دین کے دو بنیادی ذرائع ہیں۔ ایک قرآن ہے، اور دوسرا نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی، آپ کا طریقہ، مختصراً، آپ ﷺ کی سنت۔ اگر آپ رسول اللہ کے بارے میں کچھ جاننا چاہتے تھے، جب وہ باحیات تھے، تو آپ ان سے سیدھا پوچھ سکتے تھے۔ لیکن آپ ﷺ کے وصال کے بعد کیا ہوتا؟ آپ کو ان لوگوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا جو آپ ﷺ کو سب سے بہتر جانتے تھے۔ آپ ﷺ کے قریب ترین لوگ، آپ ﷺ کی ازواج۔ وہ ہستیاں جنہوں نے آپ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ دیکھا۔ اور ہماری والدہ حضرت عائشہ ان سات صحابہ میں سے ایک تھیں، جنہوں نے سب سے زیادہ احادیث روایت کیں۔ ذرا سوچیں۔ اگر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تمام ازواج آپ ﷺ کے وصال کے کچھ سال بعد ہی وفات پا جاتیں، تو کیا اس سے پیچھے ایک بہت بڑا خلا نہیں رہ جاتا؟ ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ، جیسا کہ ہم نے پہلے کہا، کیونکہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ایک سے زائد ازواج تھیں، تو کچھ لوگ آپ ﷺ پر نفسانی خواہشات کا الزام لگاتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ آپ ﷺ کی تمام شادیوں پر نظر نہیں ڈالتے۔ آپ ﷺ نے ان خواتین سے شادیاں کیں جو اپنی 40 اور 50 کی عمر میں تھیں۔ بیوائیں جو اپنے بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ ان شادیوں کے ذریعے، آپ ﷺ 12 یتیم بچوں کے لیے ایک شفیق باپ بن گئے، اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی۔ آج لوگ ایسی بیوہ سے شادی کرنے سے بھی ہچکچاتے ہیں جس کا صرف ایک بچہ ہو۔ اور اگر وہ ایسا کر بھی لیں، تو وہ ایک باپ کا کردار کتنی اچھی طرح نبھاتے ہیں، یہ ایک الگ سوال ہے۔ لیکن ان 12 کے 12 بچوں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہایت عقیدت سے دیکھا۔ جب آپ ﷺ نے اتنی غیر معمولی ذمہ داری اٹھائی، تو کیا آپ ﷺ کی ان شادیوں کا نفسانی خواہشات سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے؟ اس کا فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔ تو نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ان تمام شادیوں میں اپنی ازواج کے ساتھ کیسا تعلق تھا؟ عام طور پر، ایک لیڈر یا حکمران کے پاس درجنوں، بلکہ سینکڑوں معاملات حل کرنے کے لیے ہوتے ہیں، اور اکثر ان میں سے بہت سوں کے لیے اس کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ خاص طور پر جب اس کے اپنے خاندان کی بات آتی ہے، تو اسے کئی بار بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ لیکن نبی پاک ﷺ کے پاس وقت کی تنظیم کا ایک حیرت انگیز کمال تھا۔ ذرا اس کے بارے میں سوچیں۔ مکہ کے ساتھ مسلسل سیاسی کشیدگی تھی۔ اور آپ ﷺ کو اس کے بارے میں ہمیشہ تیار اور محتاط رہنا پڑتا تھا۔ اسی وقت، مدینہ کے اندر بھی، ایسے کئی سیاسی عناصر تھے جو مسائل پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ خاص طور پر منافقین کی سرگرمیاں اور یہودیوں کے پیدا کردہ مسائل۔ ہم آنے والی اقساط میں ان دونوں کو زیادہ واضح طور پر دیکھیں گے۔ آپ ﷺ کو ان چیلنجز سے بھی نمٹنا تھا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ، آپ ﷺ کو دوسرے عرب قبائل اور پڑوسی ریاستوں پر بھی نظر رکھنی تھی۔ اور ان سب کے علاوہ، آپ ﷺ کو دن میں پانچ وقت مسجد میں نماز کی امامت کرانی تھی۔ جبکہ ساتھ ہی ساتھ درجنوں صحابہ کے سوالات کے جوابات بھی دینے تھے۔ آپ ﷺ کو انہیں تعلیم دینی تھی۔ جنگ کے وقت، آپ ﷺ فوج کی قیادت کرتے تھے۔ ہر رات آپ ﷺ نماز میں کھڑے ہونے کے لیے اپنی نیند قربان کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے عبادت کی ایسی زندگی گزاری، جس سے ان کی امت کا کوئی بھی شخص 1400 سالوں میں آگے نہیں بڑھ سکا۔ یقین کریں، جیسے جیسے آپ سیرت کے صفحات پلٹتے جائیں گے، یہ فہرست بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ آپ ﷺ کو یہ تمام تر ذمہ داریاں کامیابی سے نبھانی تھیں۔ اور انہوں نے واقعی ایسا کیا۔ تو اتنی مصروف زندگی کے ساتھ، آپ کے خیال میں ایک آدمی اپنی ازواج کو کتنا وقت اور توجہ دے سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے ان کی اس قدر دیکھ بھال کی اور انہیں اتنی توجہ دی کہ 1400 سال گزرنے کے بعد بھی، کوئی اس مقام تک نہیں پہنچ سکا۔ فرائض کی ایک طویل فہرست ہونے کے باوجود، آپ ﷺ کیسے وقت نکال لیتے تھے کہ وقتاً فوقتاً حضرت عائشہ کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کر سکیں؟ جب حضرت صفیہ اپنے اونٹ پر سوار ہونے لگتیں، تو رسول اللہ جھک جاتے اور اپنا گھٹنہ انہیں قدم رکھنے کے لیے پیش کرتے۔ اتنی ساری ذمہ داریوں کے باوجود، آپ ﷺ ایسے خیال رکھنے والے عمل کے بارے میں کیسے سوچ لیتے تھے؟ ایک بار، ہماری والدہ حضرت عائشہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ناراض ہو گئیں اور ان کی آواز اونچی ہو گئی۔ جب ان کے والد حضرت ابوبکر نے یہ باہر سے سنا، تو وہ غصے میں آ گئے اور انہیں مارنا چاہا۔ تو نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا کیا؟ آپ ﷺ نے انہیں روکا، واپس بھیجا، اور پھر حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے مذاق میں فرمایا، "دیکھا، میں نے تمہیں اس آدمی سے کیسے بچایا؟" آپ ﷺ نے صبر اور شفقت کا ایک ایسا درجہ دکھایا جس کا کسی دوسرے انسان میں ملنا ناممکن ہے۔ غصہ ہونے یا ہاتھ اٹھانے کے بجائے، آپ ﷺ نے مذاق کیا۔ ایک طرف، ایسے مرد ہیں جو کبھی اپنی بیویوں کی رائے نہیں لیتے، ان معاملات میں بھی نہیں جو ان سے متعلق ہوں۔ دوسری طرف، ہم نبی پاک ﷺ کو دیکھتے ہیں جو اپنی ازواج سے مشورہ کرتے اور اہم معاملات میں بھی ان کے مشوروں پر عمل کرتے تھے۔ آپ ﷺ اپنی ازواج سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ۔ آپ ﷺ ان کی خوبیوں کی تعریف کرتے، ان کی قدر کرتے، اور انہیں ان کی اہمیت کا احساس دلاتے۔ اللہ کی طرف سے وحی حاصل کرتے ہوئے، حضرت جبرائیل علیہ السلام سے بات چیت کرتے ہوئے، جبکہ فرشتے احترام سے ان کے سامنے کھڑے ہوتے تھے، وہ اب بھی اپنی تمام ازواج کے ساتھ اتنی شفقت کا مظاہرہ کیسے کر سکتے تھے؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ ،اللہ کی طرف سے بھیجے گئے بہترین نمونہ تھے۔ پوری تاریخ میں، ہر مشہور شخص اپنی صرف دو یا تین خوبیوں میں ہی ایک مثال رہا ہے۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی ہر ایک خوبی میں ایک کامل نمونہ تھے۔ اپنے کردار میں، اپنے اخلاق میں، ہر چیز میں۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ سب سے حیرت انگیز بات کیا ہے؟ یہاں تک کہ ان خوبیوں میں بھی جو ایک اعلیٰ درجے پر شاذ و نادر ہی ایک ساتھ پائی جاتی ہیں، ان میں بھی آپ ﷺ بہترین نمونہ تھے۔ اس سے میری کیا مراد ہے؟ مثال کے طور پر، اگر ایک شخص بہت شفیق ہو، تو آپ کو اس کے انصاف کے احساس میں کچھ کمزوری نظر آ سکتی ہے۔ یا اگر کسی کا انصاف کا احساس بہت مضبوط ہو، تو آپ کو اس میں ہمدردی کی کمی نظر آ سکتی ہے۔ لیکن آپ ﷺ بیک وقت دونوں خوبیوں میں کمال کے درجے پر تھے۔ اگر کوئی شخص بہت نڈر اور بہادر ہو، تو آپ کو اس سے یہ توقع نہیں ہوتی کہ وہ پرسکون اور نرم مزاج رہے گا، جب اسے ہونا چاہیے۔ اور اگر کوئی پرسکون اور نرم مزاج ہو، تو آپ عام طور پر انہیں وقت آنے پر دلیری سے کام کرتے ہوئے نہیں دیکھتے۔ لیکن پھر سے، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ان دونوں خوبیوں میں سب سے آگے تھے۔ اسی طرح، اگر کوئی ہمیشہ تیزی سے فیصلہ لیتا ہے، تو آپ کو اس کے محتاط ہونے کی توقع نہیں ہوتی۔ اور اگر کوئی بہت محتاط ہو، تو آپ انہیں شاید ہی کبھی تیز یا جرات مندانہ اقدام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ لیکن پھر، نبی پاک ان دونوں میں بھی سب سے آگے تھے۔ آپ ﷺ امن کے پیامبر تھے، جبکہ اسی وقت اللہ کی خاطر سخت ترین بغض کا بھی اظہار فرماتے۔ آپ ﷺ خرچ کرنے میں انتہائی محتاط تھے، لیکن آپ ﷺ انتہائی سخی بھی تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔ جب بدیع الزماں سعید نورسی نے یہ موازنہ کیا، تو انہوں نے اللہ کے رسول کے اس پہلو کو "معجزوں کا معجزہ" قرار دیا۔ اب جب کہ ہم نے نبی پاک ﷺ کی خاندانی زندگی اور آپ ﷺ کے کردار پر ایک نظر ڈال لی ہے، تو آئیے اب دیکھتے ہیں کہ بدر کے بعد کیا ہوا۔ اگر آپ کو یاد ہو، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سب سے بڑی مشکلات میں سے ایک یہ تھی، کہ مدینہ کے لوگوں کے درمیان پھوٹ کو روکا جائے۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس حوالے سے یہودی قبیلے بہت سے مسائل پیدا کریں گے۔ اس لیے، ممکنہ تنازعات کو روکنے اور مل جل کر امن سے رہنے کے لیے، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہجرت کے بعد ایک معاہدہ تیار کیا تھا۔ اور انہوں نے اسے قبول کر لیا تھا۔ لیکن بدر کے بعد، مدینہ کے یہودی قبیلوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے لگی۔ مسلمانوں کی فتح نے ان کے دلوں میں چھپے حسد اور دشمنی کو ظاہر کر دیا۔ وہ ایسی نظمیں پڑھنے لگے جن میں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) اور مسلمانوں کی توہین کی گئی تھی۔ اور وہ مسلمانوں کو بھڑکانے کے لیے دوسرے طریقے بھی آزما رہے تھے۔ لیکن پھر، انہوں نے ایک ایسی حرکت کی جس نے حد پار کر دی۔ ایک دن، ایک مسلمان کی بیوی زیورات کی ایک دکان پر گئی جسے قبیلہ بنو قینقاع کا ایک یہودی چلا رہا تھا۔ اس نے حیا کے باعث اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا۔ جب وہ وہاں بیٹھی تھی، تو کچھ یہودیوں نے اسے تنگ کرنا شروع کر دیا اور اس کا چہرہ بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔ جب اس نے انکار کیا، تو ان میں سے ایک پیچھے سے آیا اور اس کے کپڑوں کے ایک حصے کو کانٹے کی مدد سے دوسرے سے ٹانک دیا۔ جب وہ کھڑی ہوئی، تو اس کا لباس اچانک کھل گیا۔ اور اس گھناؤنی حرکت پر یہودی زور زور سے ہنسنے لگے۔ مسلمان خاتون صدمے سے چیخ پڑی۔ اس کی چیخ سن کر، ایک صحابی فوراً دکان میں داخل ہوئے۔ غصے میں بھرے ہوئے، انہوں نے اس یہودی کی گردن دبوچ لی، اور جو لڑائی شروع ہوئی، اس میں انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر باقی یہودیوں نے صحابی پر حملہ کر دیا اور انہیں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ وہ شہید ہو گئے۔ اس واقعے کی خبر بہت جلد نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) تک پہنچ گئی۔ بغیر کسی تاخیر کے، نبی پاک نے بنو قینقاع کو جمع کیا اور ان سے بات کی۔ آپ ﷺ نے سختی سے انہیں شرانگیزی اور اپنے متکبرانہ، گستاخانہ رویے سے باز رہنے کو کہا، اور پھر انہیں اسلام کی دعوت دی۔ لیکن سننے اور اپنی اصلاح کرنے کے بجائے، انہوں نے غرور کے ساتھ جواب دیا۔ "اے محمد!
ان لوگوں پر اپنی فتح سے دھوکے میں نہ رہو جو جنگ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ہم ان کی طرح نہیں ہیں۔ ہم ماہر جنگجو ہیں۔ اگر تم نے ہمارا سامنا کرنے کی ہمت کی، تو دیکھ لو گے کہ ہم کیسے مرد ہیں۔" اس کھلی دھمکی کے بعد، وہ چلے گئے۔ انہوں نے میثاقِ مدینہ توڑ دیا تھا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فوراً اپنے صحابہ کو اکٹھا کیا اور انہیں جنگ کی تیاری کا حکم دیا۔ آپ ﷺ ان کی دھمکی کا جواب دینے والے تھے۔ ہم سیرت میں اس طرح کا رویہ کئی بار دیکھیں گے۔ جب بھی کسی نے مسلمانوں کو ڈرانے یا انہیں للکارنے کی کوشش کی، دشمن کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، چاہے ان کی فوج ایک لاکھ کی ہی کیوں نہ ہو، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ آپ ﷺ نڈر ہو کر ان کا سامنا کرتے اور مسلمانوں کی ہمت اور طاقت کا مظاہرہ فرماتے۔ آپ ﷺ نے تیاریاں مکمل کیں اور بنو قینقاع کے خلاف پیش قدمی کی۔ ان یہودیوں کے پاس ایک مضبوط قلعہ تھا۔ جب انہوں نے سنا کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) آ رہے ہیں، تو وہ اپنے قلعے میں چھپ گئے۔ بنو قینقاع کے پاس تقریباً 700 جنگجو تھے، جن میں سے 300 زرہ بکتر پہنے ہوئے تھے۔ اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے قلعے کے اندر سے ہی اپنا دفاع کریں گے۔ اور تقریباً 15 دن تک، وہ وہیں رہے۔ باہر آنے سے قاصر رہے۔ اور جب انہیں احساس ہوا کہ وہ اب مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے، تو ان پر خوف طاری ہو گیا، اور وہ ہتھیار ڈالنے پر راضی ہو گئے۔ انہوں نے لڑے بغیر ہی ہار مان لی۔ اگرچہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) انہیں قتل کرنے کا حکم دے سکتے تھے، لیکن آپ ﷺ نے ان کی جان بخشی کی اور انہیں مدینہ چھوڑنے کے لیے تین دن کا وقت دیا۔ اور یوں، بنو قینقاع کے قبیلے کو معاہدہ توڑنے کی سزا کے طور پر مدینہ سے نکال دیا گیا۔ جب یہ سب مدینہ میں ہو رہا تھا، تو مکہ میں حالات زیادہ سے زیادہ کشیدہ ہوتے جا رہے تھے۔ جب قریش کے اہم سردار بدر میں مارے گئے، تو ابو سفیان ان کا نیا سردار بن گیا۔ قریش انتقام کی ایک شدید آگ میں جل رہے تھے۔ اپنی شکست کا بدلہ لینے کی قسم کھا کر، ابو سفیان 200 گھڑ سواروں کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھا۔ اس نے وہاں کے کچھ یہودیوں سے مسلمانوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اور مدینہ کے قریب عریض نامی جگہ پر، اس نے دو گھروں اور کھجور کے کئی باغات کو جلا دیا، اور دو مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ لیکن جب اس نے سنا کہ 200 مسلمان اس کی طرف بڑھ رہے ہیں، تو وہ جلدی سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس حرکت سے، ابو سفیان نے سوچا کہ اس نے اپنا انتقام لے لیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے، قریش یہاں رکنے والے نہیں تھے۔ جنہوں نے بدر میں اپنے پیاروں کو کھو دیا تھا، وہ اب بھی غصے میں جل رہے تھے۔ بالآخر، وہ لمحہ آ گیا جس کا انہیں انتظار تھا۔ ان کا تجارتی قافلہ واپس آ گیا۔ انہوں نے منافع ایک جگہ جمع کیا اور پڑوسی قبائل سے مدد مانگی۔ اور پھر، انہوں نے بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے حملے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ انتقام کی پیاس میں مبتلا، قریش نے 3,000 آدمیوں کی ایک فوج تیار کی۔ ایک خوفناک جنگ سر پر تھی۔ اس بار کیا ہوگا؟ کون جیتے گا؟ جنگ اُحد، جسے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے "میری زندگی کے دو سب سے مشکل دنوں میں سے ایک" کہا، اگلی قسط میں ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔
ظلم کے خلاف ڈٹا ہوا انصاف، کفر کے خلاف اٹھتا ہوا ایمان۔ اسلام کی حقیقی روح کو آشکار کرنے والا سب سے پہلا معرکہ۔ جنگِ بدر۔ وہ کڑا دن آ چکا تھا۔ وہ دن جو اسلام کے مستقبل کا تعین کرنے والا تھا۔ یا تو اسلام ایک عظیم فتح کے ساتھ ابھرنا شروع ہو جائے گا، یا پھر سب کچھ وہیں اس میدانِ جنگ میں ختم ہو جائے گا۔ اسی لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے حضور گڑگڑا کر، ان الفاظ میں دعا فرما رہے تھے: "اے اللہ، اگر تو نے آج اہلِ ایمان کی اس چھوٹی سی جماعت کو ہلاک کر دیا، تو اس روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں بچے گا۔" تو، اس میدانِ جنگ میں کیا ہونے والا تھا؟ اور اس سے بھی پہلے، حالات اس نہج تک کیسے پہنچے؟ آئیے تھوڑا پیچھے چلتے ہیں۔ یہ ویڈیو سیریز معتبر اسلامی ذرائع سے لئے گئے سینکڑوں حوالہ جات پر مبنی ہے۔ تمام اے آئی مناظر مستند علمائے کرام کی مشاورت سے تیار کیے گئے ہیں اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ مدینہ میں نئی ریاست کے قیام کے دوران، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک انٹیلی جنس نظام بھی قائم کیا تھا۔ آپ ﷺ شہر کو درپیش کسی بھی ممکنہ خطرے سے پہلے ہی باخبر رہنا چاہتے تھے اور قریبی علاقوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا چاہتے تھے۔ ہجرت کے دوسرے سال، اس نیٹ ورک کے ذریعے ایک خبر موصول ہوئی۔ قریش نے ابو سفیان کی قیادت میں ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ روانہ کیا تھا۔ ظاہر ہے اس قافلے میں صرف ان کا اپنا مال و اسباب شامل نہیں تھا ہجرت کا وقت یاد کریں۔ مسلمانوں کو انتہائی کٹھن حالات میں ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ نکلتے وقت انہیں اپنا سب کچھ مکہ میں ہی چھوڑنا پڑا تھا۔ پھر قریش نے اس مال پر قبضہ کر لیا تھا اور بیچنے کے لیے اسے اس قافلے میں شامل کر دیا تھا۔ اہلِ ایمان کی محنت سے کمائی گئی وہ دولت، اب ان کے دشمنوں کے ہاتھوں میں ہتھیار بننے والی تھی۔ یہاں تک کہ ہجرت کے دوران بھی، رحمت اور انصاف کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مشرکین کی امانتوں کا بھی خیال رکھا اور حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کو مقرر کیا تاکہ وہ انہیں ان کے مالکوں تک لوٹا دیں۔ لیکن قریش نے ایسی کسی اخلاقیات کا مظاہرہ نہیں کیا اور مہاجرین کے مال و اسباب پر قبضہ کر لیا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ مشرکین کو دکھایا جائے، جنہوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا تھا اور ان پر ہر قسم کے ظلم و ستم ڈھائے تھے، کہ اصل طاقت کس کے پاس ہے۔ انہیں یہ بتانا ضروری تھا کہ اب وہ من مانی نہیں کر سکتے، اور انہیں کچھ ایسا دکھانا لازمی تھا جس سے ان کے دلوں میں خوف بیٹھ جائے۔ وہ تب تک باز آنے والے نہیں تھے جب تک وہ اپنے سامنے ایک حقیقی آہنی طاقت کھڑی نہ دیکھ لیں۔ چنانچہ، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قافلے کا پیچھا کرنے کے لیے ایک مخبر بھیجا۔ پھر آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا، "جس کے پاس سواری کا جانور ہے، وہ اس پر سوار ہو اور ہمارے ساتھ چلے۔" نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے قریش کے سامنے ممکنہ ٹکراؤ کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔ صحابہ اس مہم میں شامل ہونے کے لیے بہت پرجوش تھے۔ یہاں تک کہ بعض باپ بیٹوں نے تو یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ کون جائے گا، قرعہ اندازی بھی کی۔ ان میں سے ہر ایک شہادت کے رتبے کی تڑپ رکھتا تھا۔ جلد ہی صحابہ کا ایک لشکر تیار ہو گیا، جن کی تعداد 300 سے زیادہ تھی۔ ان میں کچھ بہت کم عمر نوجوان بھی شامل تھے۔ لیکن نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بہت چھوٹی عمر والوں کو لشکر میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی اور انہیں واپس بھیج دیا۔ ان میں حضرت عمیر بن ابی وقاص بھی تھے، جن کی عمر صرف 16 سال تھی۔ اپنی چھوٹی عمر کے باوجود، وہ اس مہم میں شامل ہونے کے لیے بے تاب تھے۔ انہوں نے خود کو چھپانے کی کوشش کی، اس امید پر کہ نبی پاک ﷺ انہیں نہیں دیکھیں گے اور واپس نہیں بھیجیں گے۔ لیکن جب نبی پاک ﷺ کی نظر ان پر پڑی، تو آپ ﷺ نے فرمایا، "تمہیں بھی واپس جانا ہوگا۔" حضرت عمیر کا قد چھوٹا تھا، اور تب تک انہوں نے کبھی اپنی کمر سے تلوار نہیں باندھی تھی۔ ان کا جسم چھوٹا تھا، لیکن ان کا دل بہت بڑا اور ہمت سے بھرا ہوا تھا۔ اگرچہ نبی پاک ﷺ ابتداء میں انہیں واپس بھیجنا چاہتے تھے، لیکن آپ ﷺ اس نوجوان جنگجو کے جذبے کو نظر انداز نہ کر سکے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے عمیر کو لشکر میں شامل ہونے کی اجازت دے دی۔ جب اجازت مل گئی، تو حضرت سعد بن ابی وقاص نے اپنے بھائی کی کمر سے تلوار باندھ دی۔ جب عمیر چلتے، تو ان کی تلوار زمین سے چھوتی اور پیچھے ایک لکیر بنتی چلی جاتی۔ اور وہی نوجوان بعد میں بدر کے شہداء میں سے ایک بنے۔ اس وقت نبی ﷺ کی پیاری بیٹی، حضرت رقیہ، سخت بیمار تھیں۔ مگر ان کی اس حالت کے باوجود، نبی ﷺ نے خود کو اس مہم پر جانے سے نہیں روکا۔ لیکن آپ ﷺ نے اپنے داماد، حضرت عثمان بن عفان کو، ان کی دیکھ بھال کے لیے مدینہ میں چھوڑ دیا۔ جب تیاریاں مکمل ہو گئیں، تو 313 مجاہدین کا لشکر تیار تھا۔ کڑکتی دھوپ میں، نبی پاک ﷺ اپنے صحابہ کے ہمراہ ،بدر کی جانب روانہ ہوئے۔ کیونکہ وہاں پانی کے کئی کنویں تھے، اس لیے قافلے اکثر اس علاقے سے گزرتے تھے۔ لشکر کے پاس سواری کے جانور بہت کم تھے۔ صرف دو گھوڑے اور 70 اونٹ۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم)، حضرت علی، اور حضرت مرثد بن ابی مرثد ایک ہی اونٹ پر باری باری سفر کر رہے تھے۔ جب نبی پاک ﷺ کے پیدل چلنے کی باری آتی، تو باقی دونوں کہتے، "یا رسول اللہ ﷺ، آپ سوار رہیں، اور ہم آپ کی جگہ پیدل چلیں گے۔" لیکن نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) انکار فرما دیتے اور فرماتے، "تم پیدل چلنے میں مجھ سے زیادہ مضبوط نہیں ہو، اور مجھے بھی تمہاری طرح ہی اللہ کی طرف سے نیکیوں اور اجر کی ضرورت ہے۔" اور یوں، وہ اپنے سفر پر آگے بڑھتے رہے۔ سفر کے دوران ایک مقام پر، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے لشکر پر نظر ڈالی۔ ان میں سے کچھ لوگ ننگے پاؤں چل رہے تھے، ان کے پاس جنگ کے لیے پاؤں کو بچانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ آپ ﷺ نے دعا فرمائی، "اے اللہ، ان سپاہیوں کے پاس سواری کے لیے جانور نہیں ہیں، تو انہیں سواری عطا فرما۔ اے اللہ، ان کے پاس پہننے کے لیے کچھ نہیں، اور یہ بھوکے ہیں، تو انہیں لباس اور کھانا عطا فرما۔" وہ غربت میں جی رہے تھے، لیکن وہ جانتے تھے کہ اصل طاقت ایمان سے ملتی ہے۔ اور وہ ایمان، اپنی سب سے خوبصورت شکل میں، اس لشکر میں موجود تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ میدانِ بدر تک پہنچتے، ابو سفیان کو معلوم ہو گیا کہ مسلمان ایک لشکر کی صورت میں وہاں آ رہے ہیں۔ "مسلمان آ رہے ہیں!" جس لمحے سے وہ نکلا تھا، اسے یہ ڈر تھا کہ مسلمان ان کا راستہ روک سکتے ہیں۔ اور اب، جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔ اس نے فوراً اپنے ایک آدمی کو قریش کی طرف خبر دینے کے لیے بھیجا اور اپنا راستہ بدل لیا۔ وہ قافلے کو ایک مختلف راستے سے مکہ لے جانے والا تھا۔ وہ آدمی جتنی جلدی ہو سکا مکہ پہنچا۔ گلیوں میں بھاگتے ہوئے وہ چلایا، "اے قریش!
محمد اور اس کے ساتھیوں نے تمہارے قافلے پر حملہ کر دیا ہے! تمہارا سارا مال لٹ جائے گا! جلدی کرو!
جاؤ اور ابو سفیان کی مدد کرو!" پورے مکہ میں خوف پھیل گیا، کیونکہ تقریباً ہر خاندان کی دولت اس قافلے میں لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے جلدی سے تیاریاں کیں اور 950 آدمیوں کا لشکر اکٹھا کر لیا۔ 100 گھڑ سواروں اور 700 اونٹوں کے ساتھ، وہ مکمل مسلح فوج بدر کی طرف چل پڑی۔ ان کی قیادت ابو جہل کر رہا تھا، جو اسلام کے سخت ترین دشمنوں میں سے ایک تھا۔ دوسری طرف، ابو لہب نے اپنی بیماری کا بہانہ بنایا اور اپنی جگہ کسی اور کو بھیج دیا۔ قریش کی فوج گیت گاتے اور ڈھول بجاتے ، بدر کی طرف بڑھ رہی تھی۔ کچھ دیر بعد، ابو جہل کو ایک پیغام ملا: "تم اپنے قافلے اور آدمیوں کی حفاظت کے لیے نکلے تھے۔ اب دونوں محفوظ ہیں، اس لیے تم واپس آ سکتے ہو۔" یہ پیغام بھیجنے والا ابو سفیان تھا۔ وہ قافلے کو بحفاظت مکہ واپس لے آیا تھا اور اب ان سے واپس آنے کو کہہ رہا تھا۔ لشکر کا زیادہ تر حصہ واپس جانا چاہتا تھا، لیکن ابو جہل، جو مسلمانوں سے بغض رکھتا تھا، واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اس کی کمان میں ایک ہزار پر مشتمل، ہتھیاروں سے لیس فوج تھی۔ اس کے لیے یہ ایک ایسا موقع تھا جسے وہ کبھی گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ تمام مسلمانوں کا صفایا کر سکتا ہے۔ اس نے کہا، "ہم اب واپس نہیں جا سکتے۔ ہمیں بدر جانا ہوگا۔ ہم وہاں تین دن قیام کریں گے، اونٹ ذبح کریں گے، کھائیں گے اور شراب نوشی کریں گے۔ ہمیں خوش کرنے کے لیے لونڈیاں گانے گائیں گی۔ عرب ہمیں دیکھنے کے لیے اکٹھے ہوں گے۔ اور اس کے بعد، وہ ہمیشہ ہم سے خوفزدہ رہیں گے۔" اس نے لشکر کو قائل کر لیا، اور وہ ایک بار پھر چل پڑے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) تک یہ خبر پہنچی کہ قافلہ مکہ پہنچ چکا ہے اور قریش ایک بڑی فوج کے ساتھ بدر کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں، تو آپ ﷺ حیران رہ گئے۔ انہیں ایسی کسی حرکت کی توقع نہیں تھی۔ چنانچہ، آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کو جمع کیا تاکہ مشورہ کریں کہ اب کیا کیا جائے۔ سب سے پہلے، مہاجرین میں سے حضرت مقداد بن اسود کھڑے ہوئے اور کہا، "یا رسول اللہ، ہم بنی اسرائیل کی طرح نہیں ہوں گے جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ، 'تو اور تیرا رب جا کر لڑو، اور ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔' ہم آخری سانس تک آپ کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔ جو آپ کو، آپ کے رب نےحکم دیا ہے وہ کریں۔ ہم آپ کے پیچھے چلیں گے۔" ان الفاظ نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بہت خوش کیا۔ لیکن آپ ﷺ انصار کی بھی رائے جاننا چاہتے تھے۔ کیونکہ بیعت عقبہ میں، انہوں نے مدینہ کے اندر آپ ﷺ کی حفاظت کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن کیا وہ مدینہ سے باہر بھی ویسی ہی حفاظت فراہم کریں گے؟ حضرت سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور عرض کی، "یا رسول اللہ ﷺ، ہم آپ پر ایمان لائے ہیں۔ آپ پر بھروسہ کیا ہے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ جو آپ ہمارے پاس لائے ہیں، وہ حق ہے۔ ہم نے آپ کی بات سننے اور مکمل لگن کے ساتھ آپ کی اطاعت کا وعدہ کیا ہے۔" ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کریں کہ اس وقت، ہم بھی نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی فوج کے ساتھ بدر کی جانب جا رہے ہیں۔ کیا ہم وہ کہہ پاتے جو انہوں نے کہا؟ میں گویا آپ کو یہ کہتے سن سکتا ہوں، "ہاں، بالکل، ہم بھی یہی بات کہتے۔" لیکن کہنا آسان ہے، اور اس پر پورا اترنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ آئیے آج کے حالات کو دیکھیں۔ کیا نبی پاک ﷺ کا مشن آج بھی جاری نہیں ہے؟ بالکل ہے۔ لیکن ہم نے حقیقت میں اب تک اس کے لیے کیا قربانی دی ہے؟ کیا ہم محض ایک نماز چھوڑنے کے لیے، طرح طرح کے بہانوں کے پیچھے نہیں چھپتے؟ حضرت سعد بن معاذ کے مخلصانہ الفاظ سننے کے بعد، نبی پاک ﷺ کے چہرے سے فکر کے آثار دور ہو گئے۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا، "اللہ عزوجل نے مجھ سے دو میں سے ایک چیز کا وعدہ کیا ہے: یا تو قافلہ یا پھر ایک واضح فتح۔ خدا کی قسم، مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں کہ دشمن کہاں کہاں گریں گے۔ اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہے۔" جنگ کا فیصلہ اب حتمی ہو چکا تھا۔ ان کے سامنے ان سے تین گنا بڑی، مکمل طور پر لیس فوج کھڑی تھی۔ لیکن یہ مسلمانوں کے لیے کبھی کوئی رکاوٹ نہیں ہو سکتی تھی۔ ان کی ہمت ان کے دلوں میں موجود ایمان سے آئی تھی، اور ان کا مددگار اللہ تھا، جس کی قدرت ہر چیز پر غالب ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) بدر میں اپنی فوج کو صف آراء کر رہے تھے، اس طرح کہ پانی کے کنویں ان کے سامنے رہیں۔ اس وقت، حباب بن منذر، جو 30 سال کے لگ بھگ تھے اور جنگی حکمت عملی میں اپنی مہارت کے لیے جانے جاتے تھے، نبی پاک ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا، "یا رسول اللہ، کیا پڑاؤ ڈالنے کی یہ جگہ اللہ کے حکم سے چنی گئی ہے؟" نبی پاک نے جواب دیا، "نہیں، میں نے جنگی منصوبے کے تحت اس جگہ کا انتخاب کیا ہے۔" یہ سن کر حضرت حباب نے ایک تجویز پیش کی: "مجھے معاف فرمائیں، یا رسول اللہ ﷺ، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ جگہ سب سے بہتر ہے۔ آئیے آگے بڑھ کر پانی کی طرف پڑاؤ ڈالیں، اس جگہ کے قریب جہاں قریش ٹھہریں گے۔ وہاں ایک کنواں، جس میں میٹھا پانی وافر مقدار میں ہے۔ پہلے ہم ایک حوض کھود کر اسے پانی سے بھر لیں گے، پھر باقی تمام کنوؤں کو بند کر دیں گے۔ اس طرح، جب بھی ہمیں پیاس لگے گی، ہم اپنے حوض سے پانی پی لیں گے جبکہ وہ پانی کے بغیر رہ جائیں گے اور یوں ایک مشکل صورتحال میں پھنس جائیں گے۔" نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کو یہ تجویز دانشمندانہ لگی اور آپ ﷺ نے اسے قبول کر لیا۔ یہاں غور کریں کہ نبی پاک کس قدر مشاورت کی اہمیت کو مانتے تھے۔ آپ ﷺ نے یہ نہیں کہا، "میں نبی ہوں، ویسا ہی ہوگا جیسا میں کہوں گا۔" ایک بار پھر، آپ ﷺ نے ثابت کیا کہ وہ ہر لحاظ سے ایک بہترین نمونہ تھے۔ اس کے بعد جنگ کی منصوبہ بندی کی باری تھی۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے انتہائی احتیاط کے ساتھ اپنے لشکر کو ترتیب دیا۔ آپ ﷺ نے انہیں اس طرح کھڑا کیا کہ تیر انداز پیچھے ہوں اور نیزہ بردار آگے کھڑے ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا، "اپنی صفیں مت چھوڑنا اور نہ ہی ترتیب توڑنا۔ صبر کے ساتھ اپنی جگہ پر جمے رہنا۔ اپنی جگہ سے مت ہلنا۔ جب تک میں حکم نہ دوں، لڑنا شروع مت کرنا۔ دشمن کے قریب آنے سے پہلے تیر چلا کر انہیں ضائع مت کرنا۔ اپنے تیر اس وقت چلانا جب دشمن اپنی ڈھالیں نیچے کریں۔ جب دشمن اور قریب آ جائے، تو اپنے نیزوں اور برچھیوں کا استعمال کرنا۔ تلوار سب سے آخر میں آتی ہے۔ اس کا استعمال صرف دست بہ دست لڑائی میں کرنا۔" مسلم لشکر، قریش کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھا۔ جب رات ہوئی، تو سب آرام کرنے کے لیے سو گئے۔ سب سو گئے، سوائے ایک ہستی کے: اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ آپ ﷺ نے پوری رات اللہ سے دعا اور گریہ و زاری میں گزار دی۔ "اے اللہ، اپنا وعدہ پورا فرما۔ اے اللہ، اگر مسلمانوں کی یہ چھوٹی سی جماعت ہلاک ہو گئی، تو اس روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں بچے گا۔" اور اس دل سے نکلی ہوئی دعا کا جواب قرآن میں دیا گیا۔ سورۃ الانفال کی نویں آیت میں: "جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، تو اس نے تمہاری فریاد سن لی: 'کہ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا، جو یکے بعد دیگرے آئیں گے۔'" ہاں، اللہ ان مٹھی بھر اہلِ ایمان کو تنہا نہیں چھوڑنے والا تھا، جو اس کی راہ میں لڑ رہے تھے۔ وہ اپنی غیبی افواج سے، اپنے فرشتوں سے ان کی مدد فرمانے والا تھا۔ بالآخر، جنگ کا دن آ گیا۔ جب قریش کی فوج میدانِ بدر میں پہنچی، تو جو انہوں نے دیکھا وہ انہیں ہلا دینے والا تھا۔ "انہوں نے تمام کنوؤں پر قبضہ کر لیا ہے!" مسلمانوں نے پہلے ہی اس علاقے پر قبضہ حاصل کر لیا تھا جو تزویراتی اہمیت کا حامل تھا۔ لیکن پھر بھی، اپنی بڑی تعداد کے زعم میں، وہ سمجھتے تھے کہ فتح آسانی سے مل جائے گی۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے، تو 950 قریشی جنگجوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد 313 تھی۔ اَحَدٌ اَحَد (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے)!
تعداد کا یہ فرق بہت واضح تھا۔ ظاہری اسباب اور وسائل کا پلڑا قریش کے حق میں بھاری تھا۔ لیکن روحانی طور پر، صورتحال بالکل برعکس تھی۔ ایک طرف، تکبیر کی صدائیں میدان میں گونج رہی تھیں۔۔۔ اللہ اکبر!
(اللہ سب سے بڑا ہے!) ۔۔۔جبکہ دوسری طرف، فضا میں گیت اور ڈھول کی آوازیں تھیں۔ ایک طرف وہ فوج کھڑی تھی جو اللہ سے اپنی طاقت حاصل کرتی تھی اور ظلم کے خلاف کھڑی تھی، اور دوسری طرف وہ فوج تھی جو صرف ظلم اور خون بہانے کے لیے لڑ رہی تھی۔ پھر، قریش کے سرداروں میں سے ایک، عتبہ بن ربیعہ، اپنے بھائی شیبہ بن ربیعہ اور اپنے بیٹے ولید کے ساتھ آگے بڑھا۔ یہ جنگ سے پہلے ایک عام روایت تھی جسے مبارزہ (تن بہ تن مقابلہ) کہا جاتا تھا۔ باقاعدہ جنگ شروع ہونے سے پہلے، ایک، دو، یا تین جنگجو مبارزے کے لیے آگے آتے تھے، اور پھر اصل جنگ شروع ہوتی تھی۔ انصار میں سے تین نوجوان: عوف، معوذ، اور عبداللہ بن رواحہ آگے آئے۔ عتبہ نے انہیں دیکھا اور تمسخرانہ لہجے میں پوچھا، "تم کون ہو؟!
اے محمد، ہمارے مقابلے کے لیے ہمارےہم پلہ لوگوں کو بھیجو!" وہ کسی اور سے نہیں لڑنا چاہتا تھا۔ اس کی دشمنی قبیلہ بنو ہاشم کے ساتھ تھی۔ چنانچہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مدینہ کے مسلمانوں کو واپس بلا لیا۔ لیکن اب اللہ کے رسول ﷺ کسے چنیں گے؟ مہاجرین میں سے، آپ ﷺ نے عبیدہ بن حارث، حضرت حمزہ، اور حضرت علی (رضی اللہ عنہم) کو آگے بھیجا۔ "باہر کون آ رہا ہے؟" "عبیدہ اور علی۔" "علی؟" ''اور وہ تیسرا کون ہے؟'' "حمزہ" -"نہیں، حمزہ۔ یہ اچھا نہیں ہوا۔" نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے چنے گئے یہ تینوں افراد آپ ﷺ کے اپنے خاندان سے تھے۔ اس بار، عتبہ اپنے سامنے کھڑے جنگجوؤں سے مطمئن تھا۔ اور مبارزہ شروع ہو گیا۔ حمزہ کا مقابلہ شیبہ سے تھا۔ علی کا مقابلہ ولید سے تھا۔ اور عبیدہ نے عتبہ کے ساتھ اپنا مقابلہ شروع کیا۔ چند ہی ضربوں کے بعد، حضرت علی اور حضرت حمزہ کے مدمقابل زمین پر مردہ پڑے تھے۔ لیکن عبیدہ اور عتبہ کے درمیان اب بھی شدید جنگ جاری تھی۔ مبارزے کی روایت کے مطابق، جو شخص اپنے دشمن کو شکست دے دیتا وہ دوسروں کی مدد کر سکتا تھا۔ چنانچہ ،حمزہ اور علی تیزی سے عبیدہ کی مدد کو لپکے اور عتبہ کو مار گرایا۔ پھر وہ زخمی عبیدہ کو اٹھا کر نبی پاک(صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس لے آئے۔ ان کا بہت خون بہہ رہا تھا، لیکن انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ ان کا دھیان کسی اور بات پر تھا۔ وہ بار بار کہہ رہے تھے، "یا رسول اللہ، کیا میں شہید نہیں ہوں؟" "ہاں، عبیدہ، تم شہید ہو۔" یہ الفاظ سنتے ہی، عبیدہ کے چہرے پر سکون چھا گیا۔ اور کچھ ہی دیر بعد، وہ وفات پا گئے اور شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ وہ شہید ہو گئے۔ ان کے چہرے پر اب بھی مسکراہٹ تھی، کیونکہ ان کے لیے شہادت، اللہ کی راہ میں جان قربان کرنا، موت نہیں تھی، بلکہ اپنے محبوب سے ملاقات تھی۔ قریش کی فوج صدمے میں تھی۔ ان کے سب سے بہادر جنگجو، قریش کا طاقتور سردار، عتبہ، اس کا بھائی شیبہ اور بیٹا ولید، اب میدانِ بدر میں مردہ پڑے تھے۔ اپنی فوج کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کرتے ہوئے، ابو جہل چلایا، "عتبہ، شیبہ اور ولید کی موت سے مت گھبراؤ!
وہ بلاوجہ آگے بڑھے اور مارے گئے! میں قسم کھاتا ہوں کہ آج فتح ہماری ہوگی!
محمد اور اس کے ساتھی ہمارے لیے صرف ایک نوالہ ہیں!" پھر اس نے اپنی فوج کو دوبارہ منظم کیا۔ جب حکم دیا گیا، تو دونوں طرف سے ایک دوسرے پر دھاوا بول دیا گیا۔ پوری شدت سے جنگ شروع ہو گئی۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) خود صفِ اول میں تھے، اور اپنے صحابہ کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے۔ آپ ﷺ نے یہ نہیں کہا، "میں نبی ہوں، تم جاؤ اور لڑو۔" اس کے بجائے، آپ ﷺ اپنے الفاظ سے ان کا حوصلہ بڑھا رہے تھے اور ان کے دلوں میں بہادری بھر رہے تھے۔ آپ ﷺ اس قدر بہادری سے لڑے کہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے بعد میں فرمایا، "اس دن، سب سے زیادہ بہادر آپ ﷺ تھے۔ ان سے زیادہ دشمن کی صفوں کے قریب کوئی نہیں تھا۔" حمزہ علی اور عمر۔(رضی اللہ عنہم) ان کے راستے میں آنے والے ہر شخص کو کاٹ رہے تھے۔ اپنی تلواروں سے، وہ دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ صحابہ کرام اپنی پوری طاقت سے لڑ رہے تھے۔ اس دن، میدانِ جنگ میں موجود لوگوں میں ابو البختری بن ہشام بھی شامل تھا۔ کیا ہمیں یہ نام یاد ہے؟ اس زمانے میں، جب مکہ میں مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا تھا، تو پانچ آدمی ایک منصوبے کے ساتھ اکٹھے ہوئے تھے۔ وہ گلی کے مختلف حصوں میں کھڑے ہوئے، بائیکاٹ کے خلاف آواز اٹھائی، اور لوگوں کی بھرپور حمایت حاصل کی۔ ابو البختری ان پانچ آدمیوں میں سے ایک تھا۔ تو وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کی وجہ سے بائیکاٹ کا خاتمہ ہوا تھا۔ اور اب، وہ اس میدانِ جنگ میں بھی تھا، لیکن مسلمانوں کی طرف سے نہیں۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے، نبی پاک ﷺ نے اعلان کیا تھا کہ کچھ لوگوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ اور ابو البختری ان میں سے ایک تھا۔ کیا یہ احسان مندی اور وفاداری کی ایک حیرت انگیز مثال نہیں ہے؟ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) اسے ایمان لانے کا ایک اور موقع دے رہے تھے۔ جنگ کے دوران، ابو البختری کا سامنا ایک صحابی سے ہوا، مُجذر بن زیاد سے۔ لیکن مجذر نے اس سے لڑنے سے گریز کیا کیونکہ وہ نبی پاک ﷺ کا حکم جانتے تھے۔ ابو البختری کو یہ بات سمجھ نہ آئی اور اس نے پوچھا، "تم مجھ سے کیوں نہیں لڑتے؟" جب مجذر نے اسے بتایا کہ نبی پاک ﷺ نے کیا فرمایا ہے، تو ابو البختری غصے میں آ گیا اور چلایا، "اگرچہ اس نے ایسا کہا ہے، مگر میں تم سے آج یہاں ضرور لڑوں گا!" اس نے نبی پاک ﷺ کی مہربانی کو نظر انداز کیا اور مجذر پر حملہ کر دیا۔ مجذر نے اس سے بچنے کی کوشش کی، لیکن ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے جوابی حملہ کیا۔ اور بالآخر، ابو البختری مارا گیا۔ جنگ اب اپنے عروج پر تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے مٹھی بھر مٹی لی، اسے دشمن کے لشکر کی طرف پھینکا، اور دعا فرمائی، "ان کے چہرے مسخ ہو جائیں!
اے اللہ، ان کے دلوں میں خوف بھر دے اور ان کے قدم ڈگمگا دے!" وہ مٹھی بھر مٹی پوری دشمن فوج کی آنکھوں میں جا پہنچی۔ انہیں کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن میں اسی واقعے کو بیان فرمایا ہے: "اور آپ نے نہیں پھینکی تھی جب آپ نے پھینکی تھی، بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔" کچھ دیر بعد، ایک بے مثال آندھی چلنے لگی۔ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ قریش ہر طرف بکھر گئے۔ پھر دوسری ہوا آئی، اس کے بعد تیسری۔ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا تھا اور مدد کے لیے اپنے فرشتے بھیج دیے تھے۔ قریش حیران تھے۔ کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ وہ صرف 300 کی فوج کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن اچانک، ان کی نظروں میں مسلم لشکر کہیں زیادہ بڑا اور طاقتور دکھائی دینے لگا۔ ابو جہل، جس نے جنگ سے پہلے کہا تھا، "یہ ہمارے لیے صرف ایک نوالہ ہیں"، اب چھپنے کے لیے جگہ تلاش کر رہا تھا۔ ہر کوئی اسلام کے اس دشمن کے پیچھے تھا۔ وہ اسے مارنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے۔ انصار کے دو کم عمر بھائی حضرت عبدالرحمٰن بن عوف کے پاس آئے اور پوچھا کہ ابو جہل کون ہے۔ ابن عوف نے پوچھا، "تم اس کا کیا کرو گے؟" "میں نے سنا ہے کہ اس نے نبی پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی۔ میں نے اللہ سے عہد کیا ہے کہ اگر میں اسے دیکھ لوں، تو ہم تب تک الگ نہیں ہوں گے جب تک ہم میں سے ایک مر نہ جائے۔" وہ بہادر نوجوان معاذ اور معوذ تھے۔ اس وقت، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف نے ابو جہل کو دیکھا اور اس کی طرف اشارہ کیا۔ "وہ رہا تمہارا آدمی۔" وہ دونوں ایک ساتھ اس کی طرف دوڑے۔ ابو جہل نے انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا، اور اس نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا، "تم بیوقوف لڑکو!
مرنے کی اتنی جلدی ہے؟" لیکن حالات ویسے نہیں رہے جیسا اس نے سوچا تھا۔ معاذ قریب پہنچے اور اس کی ٹانگ پر وار کیا۔ پھر ابو جہل کا بیٹا عکرمہ بیچ میں آیا اور اس نے معاذ کو زور سے مارا۔ اسی لمحے، معوذ نے ابو جہل پر ایک اور وار کیا اور اسے گرا دیا۔ "کیا اس امت کا فرعون واقعی مر گیا تھا؟" وہ دونوں بھاگ کر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس آئے اور بتایا کہ انہوں نے ابو جہل کو مار دیا ہے۔ نبی پاک اس بات کی تصدیق کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ مردوں میں ابو جہل کو تلاش کریں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود وہ شخص تھے جنہیں وہ ملا۔ ابو جہل ابھی مرا نہیں تھا۔ وہ اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا۔ ابن مسعود نے اس کی گردن پر اپنا پاؤں رکھا اور کہا، "اے اللہ کے دشمن!
کیا تو نے دیکھ لیا؟ اللہ نے تجھے ذلیل کر دیا۔" مرتے وقت بھی، ابو جہل اب تک متکبر تھا۔ اس نے جواب دیا، "تم ایک اونچی جگہ پر چڑھ گئے ہو، اے ایک چرواہے کے بیٹے۔ کسی بڑے آدمی کا اپنے ہی لوگوں اور قبیلے کے ہاتھوں مارا جانا کوئی نئی بات نہیں۔ اب مجھے بتاؤ، آج فتح کس کی ہوئی؟" ابن مسعود نے کہا، "اللہ اور اس کے رسول کی۔" ان الفاظ کے ساتھ، انہوں نے حقیقت میں اسے مارنے سے پہلے، اسے روحانی طور پر مار دیا۔ کیا آپ کو عبداللہ بن مسعود یاد ہیں؟ یہ وہی تھے جو ایک بار کعبہ میں گئے تھے اور پہلی بار کھلم کھلا سورۃ الرحمٰن کی تلاوت کی تھی۔ لیکن مشرکین نے فوراً ان پر حملہ کر دیا اور اس قدر مارا کہ وہ مرنے کے قریب ہو گئے۔ لیکن اب بازی پلٹ چکی تھی۔ انہوں نے زمین سے ابو جہل کی تلوار اٹھائی اور آخری ضرب لگائی جس سے اس کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ یہاں، ایک اور حیرت انگیز بات تھی۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے وہ صحیح مقامات دکھائے تھے جہاں مکہ کے سردار مارے جائیں گے۔ اور ابو جہل بالکل اسی جگہ مرا جو آپ ﷺ نے بتائی تھی۔ ایک اور سردار، امیہ بن خلف بھی بالکل اسی جگہ مرا جہاں نبی پاک ﷺ نے اشارہ کیا تھا۔ اور دوسروں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے بعد میں فرمایا، "آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجنے والی ذات کی قسم، ان میں سے کوئی بھی اس جگہ سے ایک انچ بھی آگے نہیں گرا جہاں اللہ کے رسول ﷺ نے اپنا ہاتھ رکھا تھا۔" اللہ کی طرف سے ایک معجزے کے طور پر، آپ ﷺ نے نہ صرف یہ پیشین گوئی کی تھی کہ کون مرے گا، بلکہ یہ بھی بتایا تھا کہ وہ کہاں مریں گے۔ ایک بار جب مکہ کے سردار یکے بعد دیگرے مارے گئے، تو قریش کی فوج بکھر گئی۔ اور کفار پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر اپنی جانیں بچانے کے لیے بھاگ گئے۔ دراصل، اسی منظر کی پیشین گوئی برسوں پہلے قرآن میں کی جا چکی تھی۔ سورۃ القمر کی 44ویں اور 45ویں آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ ترجمہ: "کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک زبردست جماعت ہیں اور ہم ضرور غالب آئیں گے؟ عنقریب اس جماعت کو شکست دی جائے گی، اور وہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے۔" مکہ کے دن یاد کریں۔ مسلمانوں کی تعداد کفار کے مقابلے میں کتنی کم تھی۔ انہوں نے ہر طرح کی تکلیف سہی۔ کبھی ان کا ایسا بائیکاٹ کیا گیا تھا کہ جو تین سال تک جاری رہا۔ کبھی انہیں پتھر مارے گئے اور پیٹا گیا، اور کبھی ان کا مذاق اڑایا گیااور ذلیل کیا گیا۔ ایک ایسے وقت میں جب مسلمان اتنے کمزور تھے، ان آیات نے پیشین گوئی کی تھی کہ وہ جلد ہی طاقتور شہر مکہ پر فتح حاصل کریں گے۔ یہ کہا گیا تھا، "وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔" یہ پیشین گوئی جو ان کی سب سے بڑی مشکل کے وقت نازل ہوئی تھی اس نے ایک بار پھر قرآن کی سچائی کو ثابت کیا تھا: کہ یہ اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ اور اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور انہیں فتح عطا فرمائی۔ ٹوارڈز ایٹرنیٹی پر، ہم نے دن رات محنت کی ہے تاکہ یہ اے آئی (AI) ویژولائزڈ سیریز آپ تک پہنچا سکیں۔ اور اب، انشاءاللہ، ہم جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں پر ایک نئی سیریز پیش کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت موسیٰ، حضرت ابراہیم، حضرت یوسف، حضرت یونس علیہم السلام جیسے انبیاء۔ تاکہ آپ اور آپ کا خاندان ان کی کہانیاں ٹوارڈز ایٹرنیٹی کی شاندار پروڈکشن میں دیکھ سکیں۔ لیکن ایک نئی سیریز بنانے کے لیے بھاری اخراجات درکار ہوتے ہیں۔ اے آئی، پروفیشنل وائس اوور، اور آلات۔ اور بدقسمتی سے، ہم تنہا ان اخراجات کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم اس پروجیکٹ کو صرف آپ کے تعاون سے ہی مکمل کر سکتے ہیں۔ ہماری ٹیم نے کل لاگت کو 25 ڈالر کے شیئرز میں تقسیم کیا ہے، لہٰذا آپ اپنی استطاعت کے مطابق ایک یا اس سے زیادہ شیئرز سپانسر کر کے سپورٹ کر سکتے ہیں، انشاءاللہ۔ اگر آپ ان نیکیوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو ٹوارڈز ایٹرنیٹی کو عطیہ دیں اور اس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ میدانِ بدر میں 14 مسلمان شہید ہوئے۔ یہ وہ بہادر لوگ تھے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو اسلام کے لیے قلعہ بنا دیا تھا اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے ڈھال بن گئے تھے۔ اور جو لوگ زندہ بچ گئے انہیں ہمیشہ کے لیے اصحابِ بدر کے طور پر عزت دی گئی۔ کیونکہ بدر کوئی عام جنگ نہیں تھی۔ مسلمانوں کے لیے، یہ شاید تاریخ کی اہم ترین جنگ تھی۔ کیونکہ ان کی تعداد بہت کم تھی۔ اگر وہ یہاں شکست کھا جاتے، تو ان کی تعداد اور بھی کم ہو جاتی۔ یہ قریش کو مسلمانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دینے کا ایک بہترین موقع فراہم کر دیتا۔ تو دشمن کا رخ کیسا تھا؟ جنگ میں، قریش کے 70 آدمی مارے گئے۔ اور مزید 70 کو قیدی بنا لیا گیا۔ تو، ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ دو شرائط رکھی گئیں۔ "رسول اللہ تمہیں دو راستے دیتے ہیں۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے یا تو فدیہ ادا کرو، یا مدینہ کے 10 بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھاو ۔" صرف انہی شرائط پر انہیں رہا کیا جا سکتا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام علم اور سیکھنے کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ قیدیوں میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ وہ قریش کی طرف سے لڑے تھے۔ دوسروں کی طرح، انہیں بھی یا تو 10 بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھانا تھا یا فدیہ ادا کرنا تھا۔ لیکن انہوں نے نبی پاک ﷺ سے کہا، "میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔" پھر اللہ کے رسول نے پوچھا، "اے عباس، اس سونے کا کیا ہوا؟ وہ سونا جو آپ نے مکہ چھوڑتے وقت اپنی بیوی ام الفضل کو دیا تھا؟ جب آپ نے اسے وہ دیا تھا، تو وہاں آپ دونوں کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ اور آپ نے اس سے کہا تھا، 'مجھے نہیں معلوم کہ اس سفر میں میرے ساتھ کیا ہوگا۔ اگر مجھے کچھ ہو جائے اور میں واپس نہ آؤں، تو اتنا سونا تمہارے لیے ہے، اتنا فضل کے لیے، اتنا عبداللہ کے لیے، اتنا عبیداللہ کے لیے، اور اتنا قثم کے لیے ہے۔' تو وہ سونا کہاں ہے؟" بے شک، سب کچھ بالکل ویسے ہی ہوا تھا جیسا نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بیان کیا تھا۔ حضرت عباس حیران رہ گئے۔ انہوں نے پوچھا، "آپ کو یہ کس نے بتایا؟" "اللہ کی قسم، میرے اور ام الفضل کے سوا کوئی اس بارے میں نہیں جانتا تھا۔" نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے جواب دیا، "مجھے اللہ نے بتایا ہے۔" اس لمحے سے پہلے، یہ واضح نہیں تھا کہ آیا حضرت عباس نے خفیہ طور پر اسلام قبول کیا تھا یا نہیں۔ انہیں ابھی تک کچھ شکوک تھے۔ لیکن اس دن، اس معجزے کو دیکھنے کے بعد، وہ مسلمان ہو گئے۔ "اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ" وہ مکہ واپس چلے گئے اور اپنا ایمان خفیہ رکھا۔ وہاں سے، وہ خفیہ طور پر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خبریں بھیجتے تھے اور اپنے شہر میں مسلمانوں کی مدد کرتے تھے۔ ایک اور قیدی سہیل بن عمرو تھا۔ وہ ایک بہترین مقرر تھا اور اس نے ماضی میں مسلمانوں کے خلاف سخت باتیں کی تھیں۔ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) سہیل کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ قریش کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک تھا۔ جب حضرت عمر نے اسے قیدیوں میں دیکھا، تو انہوں نے کہا، "یا رسول اللہ، مجھے اس آدمی کے سامنے کے دانت نکالنے کی اجازت دیں تاکہ یہ کبھی بھی آپ کے خلاف دوبارہ بات نہ کر سکے۔" اپنے پرجوش الفاظ سے، یہ قریش کو ہمارے خلاف کھڑا ہونے پر اکساتا تھا۔ لیکن رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ سے جواب دیا جن کا اصل مطلب برسوں بعد ہی واضح ہونا تھا: "اسے چھوڑ دو، اے عمر۔ امید ہے کہ ایک دن وہ ایسے مقام پر کھڑا ہوگا جو تمہیں خوش کر دے گا۔" سہیل نے بعد میں اسلام قبول کر لیا۔ اور جس دن نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) وفات پا گئے، جب مکہ غم میں ڈوبا ہوا تھا، تو اس نے ایک ایسی تقریر کی جس نے لوگوں کے دلوں کو پرسکون کر دیا۔ جب ہر کوئی غم سے نڈھال تھا، جیسے ان کی پوری دنیا تباہ ہو گئی ہو، سہیل کے تسلی بخش الفاظ نے ہجوم کو سکون بخشا۔ اور یہ وہ دن تھا جب حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کو بالآخر سمجھ آیا کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مطلب کیا تھا۔ اس فتح کے ساتھ، مسلمان اب ایک ایسی قوت بن چکے تھے جسے مزید ہلکے میں نہیں لیا جا سکتا تھا۔ جب مدینہ میں خوشی اور جشن کا ماحول تھا، تو مکہ غم سے نڈھال تھا۔ شہر نے اپنے سب سے اہم آدمیوں کو میدانِ جنگ میں کھو دیا تھا۔ ابو لہب پہلے ہی بیمار تھا اور بوڑھا ہو چکا تھا۔ اس خبر کا صدمہ اس کی برداشت سے باہر تھا۔ اپنے غصے اور غم میں جلتے ہوئے، وہ ایک ہفتے کے اندر مر گیا۔ اس ڈر سے کہ اس کی بیماری متعدی ہو سکتی ہے، یہاں تک کہ اس کے اپنے بیٹوں نے بھی کچھ وقت تک اس کی لاش کے قریب جانے سے گریز کیا۔ جب بدبو ناقابل برداشت ہو گئی، تو آخر کار انہوں نے اسے گھسیٹ کر دور پھینکا اور کہیں دفنا دیا۔ اور یوں، اسلام کا ایک اور سخت دشمن بھی ختم ہو گیا۔ سب کچھ مسلمانوں کے حق میں بدل رہا تھا۔ 14 شہداء کھونے کے بعد، مسلمان بدر سے واپس لوٹ آئے۔ قریش پر ایک شاندار فتح کے ساتھ جنگ جیتی جا چکی تھی۔ اور یوں فوج فتح کی خوشی سے سرشار تھی۔ لیکن وہ خوشی زیادہ دیر تک نہ رہی۔ "یا رسول اللہ، آپ کی بیٹی، رقیہ...
وفات پا گئی ہیں۔" جب نبی پاک تشریف لائے، تو انہیں یہ دردناک خبر ملی۔ آپ ﷺ انتہائی غمگین ہوگئے۔ وہ اپنی بیٹی کو اس کے آخری لمحات میں دیکھ بھی نہ سکے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ایک بار فرمایا تھا، "جن لوگوں کو آزمائشوں سے سب سے زیادہ سخت آزمایا جاتا ہے وہ پہلے انبیاء ہیں، اور اس کے بعد وہ لوگ جو ان سے دینی وابستگی میں قریب تر ہیں۔" یہ پہلی بار نہیں تھا کہ انہوں نے اولاد کھونے کا دکھ سہا ہو۔ اس سے پہلے، وہ اپنے بیٹوں قاسم اور عبداللہ کو دفنا چکے تھے۔ اور پھر ان کی سب سے بڑی بیٹی، زینب تھیں۔ ان کی شادی اسلام سے پہلے ہو گئی تھی۔ لیکن ان کے شوہر، ابو العاص، ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ بدر کے دن، ابو العاص بھی قیدیوں میں شامل تھے۔ نبی پاک ﷺ نے انہیں اس شرط پر رہا کیا کہ وہ زینب کو مدینہ بھیج دیں گے۔ اس وقت، وہ امید سے تھیں۔ لیکن بدر کے بعد اپنے غصے میں اندھے ہو کر، مشرکین انہیں نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ جیسے ہی وہ روانہ ہونے لگیں، انہوں نے درندگی سے ان کی اونٹنی کو ڈرایا، اور زینب ایک چٹان پر جا گریں۔ ان کا بچہ ضائع ہو گیا۔ وہ اسی حالت میں مدینہ پہنچیں، اور ان کے والد نے انہیں گہرے دکھ کے ساتھ قبول کیا۔ کیا وہ اپنے نواسے کے نقصان کا غم منائیں یا اپنی بیٹی کی تکلیف کا؟ زینب کے بچے کا ضائع ہونا ان کی صحت پر دیرپا اثرات چھوڑ گیا۔ اور کچھ سال بعد، وہ بھی وفات پا گئیں۔ ایک بچے کو کھونا بھی ایسا دکھ ہے جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اسے سہا ہو۔ مگر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ ایک بار نہیں، بلکہ چھ بار برداشت کیا۔ اور جن آزمائشوں کا انہوں نے سامنا کیا وہ صرف اپنے پیاروں کو کھونے تک محدود نہیں تھیں۔ اللہ نے انہیں ان سخت آزمائشوں سے گزرنے کی اجازت ایک خاص وجہ سے دی۔ اگر ان کی زندگی دکھوں یا مشکلات سے پاک ہوتی، تو وہ ہمارے لیے ایک سچا نمونہ کیسے بنتے؟ وہ ان لوگوں کی کیسے رہنمائی کرتے جو زندگی کی مشکلات سے نبرد آزما ہیں اور پوری انسانیت کی رہنمائی کیسے کرتے؟ 1400 سال سے زیادہ عرصے سے، ان کی امت کے جس شخص نے بھی آزمائشوں کا سامنا کیا اس نے آپ ﷺ کی سیرت سے سکون پایا ہے۔ ہر ایک نے اپنے درد کی جھلک ان کی زندگی میں دیکھی۔ اور نبی پاک ﷺ کی سب سے قابلِ ذکر صفات میں سے ایک یہ تھی کہ، ان تمام تر مصائب کے باوجود، وہ پھر بھی مسکرا سکتے تھے۔ وہ اپنے رب کے حضور اپنا دل کھولتے، اپنی پریشانیاں بیان کرتے، اور اسی کی پناہ مانگتے۔ وہ ہر چیز میں خیر دیکھتے اور ہمیشہ مثبت پہلو پر نظر رکھتے۔ وہ خوبصورتی اور امید کے ساتھ سوچتے۔ اور اسی طرح وہ اپنے دکھوں کو پیچھے چھوڑ سکتے تھے۔ وہ ان نئی نعمتوں پر توجہ مرکوز کر سکتے تھے جو اللہ نے ان کے راستے میں بھیجیں اور ان میں سکون پا سکتے تھے۔ انہی نعمتوں میں سے ایک ان کی پیاری بیٹی فاطمہ کی شادی تھی۔ تمام لوگوں میں، وہ نبی پاک ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتی تھیں۔ اور ان کی شادی حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے ہونے والی تھی، جنہیں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خود پالا تھا اور بچپن سے تعلیم دی تھی۔ نبی پاک ﷺ کا مبارک سلسلہ نسب فاطمہ اور علی (رضی اللہ عنہم) کے ذریعے جاری رہنے والا تھا۔ ایک انتہائی سادہ اور باوقار شادی کے ساتھ، جو کسی بھی دکھاوے یا فضول خرچی سے پاک تھی، ایک پرامن اور محبت بھرے گھر کی بنیاد رکھی گئی۔ اور اس گھر کو دو خوبصورت بچوں، حسن اور حسین سے نوازا گیا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے نواسوں سے ایسی محبت اور شفقت کا اظہار کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ اللہ کے رسول ﷺ خطبہ دے رہے تھے، جب آپ ﷺ نے حسن اور حسین کو دیکھا، تو وہ سب کے سامنے لڑکھڑا رہے تھے۔ آپ ﷺ منبر سے نیچے اترے، انہیں اٹھایا، اور پھر واپس بیٹھ گئے۔ جب نبی پاک نماز میں سجدے کی حالت میں ہوتے، تو حسن آپ ﷺ کی پیٹھ پر سوار ہو جاتے۔ اور آپ ﷺ سجدے میں زیادہ دیر تک رہتے، صرف اس لیے تاکہ ان کا کھیل خراب نہ ہو۔ آپ ﷺ فرماتے، "یہ دنیا میں میرے دو خوشبودار پھول ہیں۔" وہ انہیں ان کے سر اور گلے پر بوسہ دیتے، ان کی خوشبو سونگھتے، اور انہیں سینے سے لگاتے۔ ایسی محبت، خاص طور پر اس زمانے میں، انتہائی نایاب چیز تھی۔ ایک بار، ایک شخص نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کو حسن کو چومتے ہوئے دیکھا اور پوچھا، "آپ اپنے بچوں کو چومتے ہیں؟ میرے دس بچے ہیں، اور میں نے انہیں کبھی نہیں چوما۔" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا، "جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔" ان کے دل میں صرف اپنے نواسوں کے لیے ہی رحم نہیں تھا، وہ تمام بچوں پر رحم فرماتے تھے۔ جب نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) ہجرت کر کے مدینہ آئے، تو روزمرہ کے کاموں میں مدد کے لیے ایک 12 سالہ لڑکے انس بن مالک کو آپ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان میں ایسا اعتماد پیدا کیا، ایسی شفقت اور دیکھ بھال سے ان کی پرورش کی کہ انس ایک غیر معمولی انسان بن گئے۔ ان کے ذریعے، نبی پاک ﷺ نے ایک بچے کی پرورش کرنے کی ایک اور خوبصورت مثال قائم کی۔ حضرت انس (رضی اللہ عنہ) بعد میں بتاتے تھے، "نبی پاک ﷺ نے کبھی بھی مجھ سے کوئی سخت بات نہیں کی۔ اور انہوں نے کبھی میرے کسی کام کے بارے میں یہ نہیں کہا کہ، 'تم نے یہ کیوں کیا؟' یا جو کام میں نے نہیں کیا اس کے بارے میں، 'تم نے یہ کیوں نہیں کیا؟'" انہوں نے 10 سال تک نبی پاک ﷺ کی خدمت کی اور ان کی کفالت میں رہے۔ پھر انس بڑے ہو کر صحابہ میں سب سے زیادہ صاحبِ علم اور معزز ہستیوں میں سے ایک بنے۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی بیٹی فاطمہ کی شادی حضرت علی (رضی اللہ عنہ) سے کی، جو اپنی بہادری، گہرے علم اور حکمت کے لیے جانے جاتے تھے۔ اور آپ ﷺ نے اپنی بیٹی ام کلثوم کی شادی حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) سے کی، جنہیں آپ ﷺ نے "جنت میں میرا ساتھی" کہہ کر پکارا۔ حضرت عثمان اس قدر باحیا تھے کہ فرشتے بھی ان کی حیا کی تعریف کرتے تھے اور ان کے سامنے شرماتے تھے۔ وہ ایک انتہائی معزز صحابی تھے اور انہیں یہ منفرد اعزاز حاصل تھا کہ وہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دو بار داماد بنے۔ تو نبی پاک ﷺ نے اپنے دو پیارے پھولوں کی شادی روئے زمین کے دو سب سے بہترین مردوں سے کی۔ لیکن خود نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں کیا؟ کیا آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) کے بعد دوبارہ شادی کی؟ جب نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مدینہ ہجرت کی، تو وہاں ایک بڑی اور بڑھتی ہوئی مسلم کمیونٹی موجود تھی۔ اور ظاہر ہے، یہ صرف مردوں پر مشتمل نہیں تھی۔ صحابہ میں بہت سی خواتین بھی تھیں۔ وہ بھی دین کے مطابق زندگی گزارنا اور سیکھنا چاہتی تھیں۔ لیکن نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ براہ راست اور کثرت سے خواتین کے ساتھ بات چیت کریں۔ مزید یہ کہ، وہ ہر چیز کے بارے میں آپ ﷺ سے کھل کر نہیں پوچھ سکتی تھیں۔ بہرحال، آپ ایک مرد تھے، اور کچھ باتیں ایسی تھیں جو پوچھتے ہوئے انہیں شرم آتی تھی۔ اس لیے انہیں ایسی خواتین کی ضرورت تھی جن سے وہ سیکھ سکیں۔ اور وہ خواتین نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ازواج مطہرات ہوں گی، جو امت کی خواتین کے لیے اساتذہ کا کردار ادا کریں گی۔ وہ آپ ﷺ کی ازواج سے ان چیزوں کے بارے میں پوچھ سکتی تھیں جو وہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) سے نہیں پوچھ سکتی تھیں اور جب چاہیں ان سے سیکھ سکتی تھیں۔ صحابہ اپنے دن رسول اللہ کے الفاظ اور اخلاق کا مشاہدہ کرتے ہوئے گزارتے تھے۔ مگر وہ یہ نہیں دیکھ سکتے تھے کہ آپ ﷺ گھر میں کیسے رہتے ہیں، آپ کی خاندانی زندگی کیسی ہے۔ یہ آپ ﷺ کی ازواج ہی تھیں جو آپ کی زندگی کے ان حصوں کو لوگوں تک پہنچاتیں۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ میں رہتے ہوئے، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تقریباً 25 سال صرف ایک بیوی کے ساتھ گزارے۔ لیکن مدینہ ہجرت کرنے کے بعد، آپ ﷺ نے ایک سے زیادہ شادیاں کیں۔ بدقسمتی سے، اسلام کے کچھ دشمنوں نے آپ ﷺ پر تہمت لگانے کی کوشش کی، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ نفسانی خواہشات کے پیچھے تھے۔ معاذ اللہ۔ چونکہ انہیں آپ ﷺ کی نبوت کو جھٹلانے کا کوئی اور طریقہ نہیں ملا، تو انہوں نے ایسے الزامات کا سہارا لیا۔ لیکن جس طرح آپ ﷺ نے اپنی زندگی گزاری اس نے اس دعوے کو پوری طرح غلط ثابت کر دیا۔ 25 سال کی عمر میں، جب قبیلے کے بہت سے لوگ آپ ﷺ کے مداح تھے، آپ ﷺ نے 40 سالہ خاتون، حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) سے شادی کی۔ اگر آپ ﷺ چاہتے، تو شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوتا جو اپنی بیٹی کی شادی آپ ﷺ سے کرنے پر خوشی خوشی تیار نہ ہوتا۔ اور 50 سال کی عمر تک، آپ ﷺ نے کسی اور سے شادی نہیں کی۔ انسان میں نفسانی خواہشات 15 سے 40 سال کی عمر کے درمیان سب سے زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ اور بالکل اسی دور میں، آپ ﷺ نے ایک ہی بیوی کے ساتھ زندگی گزاری اور پاکدامنی اور اخلاقیات کی ایک بہترین مثال قائم کی۔ 50 سال کی عمر کے بعد ہی آپ ﷺ نے ایک سے زیادہ ازواج کے ساتھ زندگی کا آغاز کیا۔ اور اس کی وجہ واضح طور پر دینی تعلیم تھی۔ امت کا نصف حصہ خواتین پر مشتمل تھا، اور باقی نصف، مرد جن کی پرورش خواتین کرتی تھیں۔ اس لیے مسلمان خواتین کی تعلیم انتہائی اہم تھی۔ یہی وجہ تھی کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ایسی ازواج کی ضرورت تھی جو مختلف صلاحیتوں اور خوبیوں کی مالک ہوں۔ دراصل، اس کی ایک اہم ضرورت تھی، کیونکہ ہمارے دین کا تقریباً نصف حصہ لوگوں کو نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ازواج نے سکھایا۔ اور ان میں، جس نے سب سے بڑا کردار ادا کیا وہ ہماری والدہ حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) تھیں۔ وہ غیر معمولی طور پر ایک ذہین اور قابل خاتون تھیں۔ جب بھی صحابہ کو کسی ایسے دینی مسئلے کا سامنا ہوتا، جسے وہ حل نہیں کر پاتے یا سمجھ نہیں پاتے تھے، تو وہ ان کے پاس جاتے اور پردے کے پیچھے سے پوچھ لیتے۔ مثال کے طور پر، حضرت ابو موسیٰ اشعری، ایک صحابی جو قرآن اور حدیث کے اپنے علم کے لیے جانے جاتے تھے، انہوں نے ایک بار فرمایا: "ہم صحابہ کو جب بھی کوئی الجھن ہوتی اور ہم حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے پوچھتے، تو ہم پاتے کہ انہیں اس بارے میں علم ہوتا تھا۔" انہوں نے اپنی جوانی اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اسلام کو گہرائی سے سیکھنے کے لیے وقف کر دی تھیں۔ اس طرح، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کے وصال کے بعد، وہ 46 سال تک علم کا سرچشمہ بنی رہیں۔ ایک ایسی ہستی جن سے لوگ اپنے سوالات پوچھ سکتے تھے۔ دراصل، یہ ہمارے لیے ایک انتہائی اہم بات ہے۔ ہمارے دین کے دو بنیادی ذرائع ہیں۔ ایک قرآن ہے، اور دوسرا نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی، آپ کا طریقہ، مختصراً، آپ ﷺ کی سنت۔ اگر آپ رسول اللہ کے بارے میں کچھ جاننا چاہتے تھے، جب وہ باحیات تھے، تو آپ ان سے سیدھا پوچھ سکتے تھے۔ لیکن آپ ﷺ کے وصال کے بعد کیا ہوتا؟ آپ کو ان لوگوں کی طرف رجوع کرنا پڑتا جو آپ ﷺ کو سب سے بہتر جانتے تھے۔ آپ ﷺ کے قریب ترین لوگ، آپ ﷺ کی ازواج۔ وہ ہستیاں جنہوں نے آپ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ دیکھا۔ اور ہماری والدہ حضرت عائشہ ان سات صحابہ میں سے ایک تھیں، جنہوں نے سب سے زیادہ احادیث روایت کیں۔ ذرا سوچیں۔ اگر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تمام ازواج آپ ﷺ کے وصال کے کچھ سال بعد ہی وفات پا جاتیں، تو کیا اس سے پیچھے ایک بہت بڑا خلا نہیں رہ جاتا؟ ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ، جیسا کہ ہم نے پہلے کہا، کیونکہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ایک سے زائد ازواج تھیں، تو کچھ لوگ آپ ﷺ پر نفسانی خواہشات کا الزام لگاتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ آپ ﷺ کی تمام شادیوں پر نظر نہیں ڈالتے۔ آپ ﷺ نے ان خواتین سے شادیاں کیں جو اپنی 40 اور 50 کی عمر میں تھیں۔ بیوائیں جو اپنے بچوں کے ساتھ رہ رہی تھیں۔ ان شادیوں کے ذریعے، آپ ﷺ 12 یتیم بچوں کے لیے ایک شفیق باپ بن گئے، اور ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی۔ آج لوگ ایسی بیوہ سے شادی کرنے سے بھی ہچکچاتے ہیں جس کا صرف ایک بچہ ہو۔ اور اگر وہ ایسا کر بھی لیں، تو وہ ایک باپ کا کردار کتنی اچھی طرح نبھاتے ہیں، یہ ایک الگ سوال ہے۔ لیکن ان 12 کے 12 بچوں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہایت عقیدت سے دیکھا۔ جب آپ ﷺ نے اتنی غیر معمولی ذمہ داری اٹھائی، تو کیا آپ ﷺ کی ان شادیوں کا نفسانی خواہشات سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے؟ اس کا فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں۔ تو نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کا ان تمام شادیوں میں اپنی ازواج کے ساتھ کیسا تعلق تھا؟ عام طور پر، ایک لیڈر یا حکمران کے پاس درجنوں، بلکہ سینکڑوں معاملات حل کرنے کے لیے ہوتے ہیں، اور اکثر ان میں سے بہت سوں کے لیے اس کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ خاص طور پر جب اس کے اپنے خاندان کی بات آتی ہے، تو اسے کئی بار بہت سی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ لیکن نبی پاک ﷺ کے پاس وقت کی تنظیم کا ایک حیرت انگیز کمال تھا۔ ذرا اس کے بارے میں سوچیں۔ مکہ کے ساتھ مسلسل سیاسی کشیدگی تھی۔ اور آپ ﷺ کو اس کے بارے میں ہمیشہ تیار اور محتاط رہنا پڑتا تھا۔ اسی وقت، مدینہ کے اندر بھی، ایسے کئی سیاسی عناصر تھے جو مسائل پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ خاص طور پر منافقین کی سرگرمیاں اور یہودیوں کے پیدا کردہ مسائل۔ ہم آنے والی اقساط میں ان دونوں کو زیادہ واضح طور پر دیکھیں گے۔ آپ ﷺ کو ان چیلنجز سے بھی نمٹنا تھا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ، آپ ﷺ کو دوسرے عرب قبائل اور پڑوسی ریاستوں پر بھی نظر رکھنی تھی۔ اور ان سب کے علاوہ، آپ ﷺ کو دن میں پانچ وقت مسجد میں نماز کی امامت کرانی تھی۔ جبکہ ساتھ ہی ساتھ درجنوں صحابہ کے سوالات کے جوابات بھی دینے تھے۔ آپ ﷺ کو انہیں تعلیم دینی تھی۔ جنگ کے وقت، آپ ﷺ فوج کی قیادت کرتے تھے۔ ہر رات آپ ﷺ نماز میں کھڑے ہونے کے لیے اپنی نیند قربان کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے عبادت کی ایسی زندگی گزاری، جس سے ان کی امت کا کوئی بھی شخص 1400 سالوں میں آگے نہیں بڑھ سکا۔ یقین کریں، جیسے جیسے آپ سیرت کے صفحات پلٹتے جائیں گے، یہ فہرست بڑھتی ہی چلی جائے گی۔ آپ ﷺ کو یہ تمام تر ذمہ داریاں کامیابی سے نبھانی تھیں۔ اور انہوں نے واقعی ایسا کیا۔ تو اتنی مصروف زندگی کے ساتھ، آپ کے خیال میں ایک آدمی اپنی ازواج کو کتنا وقت اور توجہ دے سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے ان کی اس قدر دیکھ بھال کی اور انہیں اتنی توجہ دی کہ 1400 سال گزرنے کے بعد بھی، کوئی اس مقام تک نہیں پہنچ سکا۔ فرائض کی ایک طویل فہرست ہونے کے باوجود، آپ ﷺ کیسے وقت نکال لیتے تھے کہ وقتاً فوقتاً حضرت عائشہ کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کر سکیں؟ جب حضرت صفیہ اپنے اونٹ پر سوار ہونے لگتیں، تو رسول اللہ جھک جاتے اور اپنا گھٹنہ انہیں قدم رکھنے کے لیے پیش کرتے۔ اتنی ساری ذمہ داریوں کے باوجود، آپ ﷺ ایسے خیال رکھنے والے عمل کے بارے میں کیسے سوچ لیتے تھے؟ ایک بار، ہماری والدہ حضرت عائشہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) سے ناراض ہو گئیں اور ان کی آواز اونچی ہو گئی۔ جب ان کے والد حضرت ابوبکر نے یہ باہر سے سنا، تو وہ غصے میں آ گئے اور انہیں مارنا چاہا۔ تو نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کیا کیا؟ آپ ﷺ نے انہیں روکا، واپس بھیجا، اور پھر حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے مذاق میں فرمایا، "دیکھا، میں نے تمہیں اس آدمی سے کیسے بچایا؟" آپ ﷺ نے صبر اور شفقت کا ایک ایسا درجہ دکھایا جس کا کسی دوسرے انسان میں ملنا ناممکن ہے۔ غصہ ہونے یا ہاتھ اٹھانے کے بجائے، آپ ﷺ نے مذاق کیا۔ ایک طرف، ایسے مرد ہیں جو کبھی اپنی بیویوں کی رائے نہیں لیتے، ان معاملات میں بھی نہیں جو ان سے متعلق ہوں۔ دوسری طرف، ہم نبی پاک ﷺ کو دیکھتے ہیں جو اپنی ازواج سے مشورہ کرتے اور اہم معاملات میں بھی ان کے مشوروں پر عمل کرتے تھے۔ آپ ﷺ اپنی ازواج سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ۔ آپ ﷺ ان کی خوبیوں کی تعریف کرتے، ان کی قدر کرتے، اور انہیں ان کی اہمیت کا احساس دلاتے۔ اللہ کی طرف سے وحی حاصل کرتے ہوئے، حضرت جبرائیل علیہ السلام سے بات چیت کرتے ہوئے، جبکہ فرشتے احترام سے ان کے سامنے کھڑے ہوتے تھے، وہ اب بھی اپنی تمام ازواج کے ساتھ اتنی شفقت کا مظاہرہ کیسے کر سکتے تھے؟ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ ،اللہ کی طرف سے بھیجے گئے بہترین نمونہ تھے۔ پوری تاریخ میں، ہر مشہور شخص اپنی صرف دو یا تین خوبیوں میں ہی ایک مثال رہا ہے۔ لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی ہر ایک خوبی میں ایک کامل نمونہ تھے۔ اپنے کردار میں، اپنے اخلاق میں، ہر چیز میں۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ سب سے حیرت انگیز بات کیا ہے؟ یہاں تک کہ ان خوبیوں میں بھی جو ایک اعلیٰ درجے پر شاذ و نادر ہی ایک ساتھ پائی جاتی ہیں، ان میں بھی آپ ﷺ بہترین نمونہ تھے۔ اس سے میری کیا مراد ہے؟ مثال کے طور پر، اگر ایک شخص بہت شفیق ہو، تو آپ کو اس کے انصاف کے احساس میں کچھ کمزوری نظر آ سکتی ہے۔ یا اگر کسی کا انصاف کا احساس بہت مضبوط ہو، تو آپ کو اس میں ہمدردی کی کمی نظر آ سکتی ہے۔ لیکن آپ ﷺ بیک وقت دونوں خوبیوں میں کمال کے درجے پر تھے۔ اگر کوئی شخص بہت نڈر اور بہادر ہو، تو آپ کو اس سے یہ توقع نہیں ہوتی کہ وہ پرسکون اور نرم مزاج رہے گا، جب اسے ہونا چاہیے۔ اور اگر کوئی پرسکون اور نرم مزاج ہو، تو آپ عام طور پر انہیں وقت آنے پر دلیری سے کام کرتے ہوئے نہیں دیکھتے۔ لیکن پھر سے، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) ان دونوں خوبیوں میں سب سے آگے تھے۔ اسی طرح، اگر کوئی ہمیشہ تیزی سے فیصلہ لیتا ہے، تو آپ کو اس کے محتاط ہونے کی توقع نہیں ہوتی۔ اور اگر کوئی بہت محتاط ہو، تو آپ انہیں شاید ہی کبھی تیز یا جرات مندانہ اقدام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ لیکن پھر، نبی پاک ان دونوں میں بھی سب سے آگے تھے۔ آپ ﷺ امن کے پیامبر تھے، جبکہ اسی وقت اللہ کی خاطر سخت ترین بغض کا بھی اظہار فرماتے۔ آپ ﷺ خرچ کرنے میں انتہائی محتاط تھے، لیکن آپ ﷺ انتہائی سخی بھی تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔ جب بدیع الزماں سعید نورسی نے یہ موازنہ کیا، تو انہوں نے اللہ کے رسول کے اس پہلو کو "معجزوں کا معجزہ" قرار دیا۔ اب جب کہ ہم نے نبی پاک ﷺ کی خاندانی زندگی اور آپ ﷺ کے کردار پر ایک نظر ڈال لی ہے، تو آئیے اب دیکھتے ہیں کہ بدر کے بعد کیا ہوا۔ اگر آپ کو یاد ہو، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی سب سے بڑی مشکلات میں سے ایک یہ تھی، کہ مدینہ کے لوگوں کے درمیان پھوٹ کو روکا جائے۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ اس حوالے سے یہودی قبیلے بہت سے مسائل پیدا کریں گے۔ اس لیے، ممکنہ تنازعات کو روکنے اور مل جل کر امن سے رہنے کے لیے، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہجرت کے بعد ایک معاہدہ تیار کیا تھا۔ اور انہوں نے اسے قبول کر لیا تھا۔ لیکن بدر کے بعد، مدینہ کے یہودی قبیلوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے لگی۔ مسلمانوں کی فتح نے ان کے دلوں میں چھپے حسد اور دشمنی کو ظاہر کر دیا۔ وہ ایسی نظمیں پڑھنے لگے جن میں نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) اور مسلمانوں کی توہین کی گئی تھی۔ اور وہ مسلمانوں کو بھڑکانے کے لیے دوسرے طریقے بھی آزما رہے تھے۔ لیکن پھر، انہوں نے ایک ایسی حرکت کی جس نے حد پار کر دی۔ ایک دن، ایک مسلمان کی بیوی زیورات کی ایک دکان پر گئی جسے قبیلہ بنو قینقاع کا ایک یہودی چلا رہا تھا۔ اس نے حیا کے باعث اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا۔ جب وہ وہاں بیٹھی تھی، تو کچھ یہودیوں نے اسے تنگ کرنا شروع کر دیا اور اس کا چہرہ بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔ جب اس نے انکار کیا، تو ان میں سے ایک پیچھے سے آیا اور اس کے کپڑوں کے ایک حصے کو کانٹے کی مدد سے دوسرے سے ٹانک دیا۔ جب وہ کھڑی ہوئی، تو اس کا لباس اچانک کھل گیا۔ اور اس گھناؤنی حرکت پر یہودی زور زور سے ہنسنے لگے۔ مسلمان خاتون صدمے سے چیخ پڑی۔ اس کی چیخ سن کر، ایک صحابی فوراً دکان میں داخل ہوئے۔ غصے میں بھرے ہوئے، انہوں نے اس یہودی کی گردن دبوچ لی، اور جو لڑائی شروع ہوئی، اس میں انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر باقی یہودیوں نے صحابی پر حملہ کر دیا اور انہیں پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ وہ شہید ہو گئے۔ اس واقعے کی خبر بہت جلد نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) تک پہنچ گئی۔ بغیر کسی تاخیر کے، نبی پاک نے بنو قینقاع کو جمع کیا اور ان سے بات کی۔ آپ ﷺ نے سختی سے انہیں شرانگیزی اور اپنے متکبرانہ، گستاخانہ رویے سے باز رہنے کو کہا، اور پھر انہیں اسلام کی دعوت دی۔ لیکن سننے اور اپنی اصلاح کرنے کے بجائے، انہوں نے غرور کے ساتھ جواب دیا۔ "اے محمد!
ان لوگوں پر اپنی فتح سے دھوکے میں نہ رہو جو جنگ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ہم ان کی طرح نہیں ہیں۔ ہم ماہر جنگجو ہیں۔ اگر تم نے ہمارا سامنا کرنے کی ہمت کی، تو دیکھ لو گے کہ ہم کیسے مرد ہیں۔" اس کھلی دھمکی کے بعد، وہ چلے گئے۔ انہوں نے میثاقِ مدینہ توڑ دیا تھا۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فوراً اپنے صحابہ کو اکٹھا کیا اور انہیں جنگ کی تیاری کا حکم دیا۔ آپ ﷺ ان کی دھمکی کا جواب دینے والے تھے۔ ہم سیرت میں اس طرح کا رویہ کئی بار دیکھیں گے۔ جب بھی کسی نے مسلمانوں کو ڈرانے یا انہیں للکارنے کی کوشش کی، دشمن کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، چاہے ان کی فوج ایک لاکھ کی ہی کیوں نہ ہو، نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ آپ ﷺ نڈر ہو کر ان کا سامنا کرتے اور مسلمانوں کی ہمت اور طاقت کا مظاہرہ فرماتے۔ آپ ﷺ نے تیاریاں مکمل کیں اور بنو قینقاع کے خلاف پیش قدمی کی۔ ان یہودیوں کے پاس ایک مضبوط قلعہ تھا۔ جب انہوں نے سنا کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) آ رہے ہیں، تو وہ اپنے قلعے میں چھپ گئے۔ بنو قینقاع کے پاس تقریباً 700 جنگجو تھے، جن میں سے 300 زرہ بکتر پہنے ہوئے تھے۔ اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے قلعے کے اندر سے ہی اپنا دفاع کریں گے۔ اور تقریباً 15 دن تک، وہ وہیں رہے۔ باہر آنے سے قاصر رہے۔ اور جب انہیں احساس ہوا کہ وہ اب مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے، تو ان پر خوف طاری ہو گیا، اور وہ ہتھیار ڈالنے پر راضی ہو گئے۔ انہوں نے لڑے بغیر ہی ہار مان لی۔ اگرچہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) انہیں قتل کرنے کا حکم دے سکتے تھے، لیکن آپ ﷺ نے ان کی جان بخشی کی اور انہیں مدینہ چھوڑنے کے لیے تین دن کا وقت دیا۔ اور یوں، بنو قینقاع کے قبیلے کو معاہدہ توڑنے کی سزا کے طور پر مدینہ سے نکال دیا گیا۔ جب یہ سب مدینہ میں ہو رہا تھا، تو مکہ میں حالات زیادہ سے زیادہ کشیدہ ہوتے جا رہے تھے۔ جب قریش کے اہم سردار بدر میں مارے گئے، تو ابو سفیان ان کا نیا سردار بن گیا۔ قریش انتقام کی ایک شدید آگ میں جل رہے تھے۔ اپنی شکست کا بدلہ لینے کی قسم کھا کر، ابو سفیان 200 گھڑ سواروں کے ساتھ مدینہ کی طرف بڑھا۔ اس نے وہاں کے کچھ یہودیوں سے مسلمانوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ اور مدینہ کے قریب عریض نامی جگہ پر، اس نے دو گھروں اور کھجور کے کئی باغات کو جلا دیا، اور دو مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ لیکن جب اس نے سنا کہ 200 مسلمان اس کی طرف بڑھ رہے ہیں، تو وہ جلدی سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس حرکت سے، ابو سفیان نے سوچا کہ اس نے اپنا انتقام لے لیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے، قریش یہاں رکنے والے نہیں تھے۔ جنہوں نے بدر میں اپنے پیاروں کو کھو دیا تھا، وہ اب بھی غصے میں جل رہے تھے۔ بالآخر، وہ لمحہ آ گیا جس کا انہیں انتظار تھا۔ ان کا تجارتی قافلہ واپس آ گیا۔ انہوں نے منافع ایک جگہ جمع کیا اور پڑوسی قبائل سے مدد مانگی۔ اور پھر، انہوں نے بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے حملے کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ انتقام کی پیاس میں مبتلا، قریش نے 3,000 آدمیوں کی ایک فوج تیار کی۔ ایک خوفناک جنگ سر پر تھی۔ اس بار کیا ہوگا؟ کون جیتے گا؟ جنگ اُحد، جسے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) نے "میری زندگی کے دو سب سے مشکل دنوں میں سے ایک" کہا، اگلی قسط میں ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔