Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Kya Islam Ghair Muslims Ko Maarne Ka Hukm Deta Hai? – Jihad, Sharia, Aur Gulami Ki Asal Sachai!

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

اگر اسلام انسانوں کی قدر کرتا ہے تو اس میں غلامی کا تصوّر کیوں ہے؟ نبی پاک ﷺ کی حیات طیبہ میں کئی جنگیں ہوئیں اور اسلام میں "جہاد" کا تصوّر بھی موجود ہے۔ آپ اسے کیا کہیں گے جو یہ کہتا ہے کہ "کیا یہ وحشیانہ اور پُرتشدّد نہیں لگتا؟" اگر اسلام مسلمانوں کو غیرمسلموں کو اس لیے قتل کرنے کی ترغیب دیتا کیونکہ وہ غیر مسلم ہیں تو جب مسلمان تقریباً ہزار سال ہندوستان پر حاکم رہے تو وہ وہاں تمام ہندؤں کو ختم کر سکتے تھے۔ رائٹ؟ شریعت کا مطلب قانون سازی ہے۔ اسی طرح اسلامی شریعت، فرانسیسی شریعت اور اینگلو سیکزون شریعت ہے۔ یہ تمام ہی شرائع اچھی ہیں۔ بہترین ہیں۔ لیکن ایک ہی فرق ہے اسلامی شریعت اور باقی تمام قسم کی قانون سازی میں، وہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت پرفیکٹ ہے۔ ابراہم لنکن، ایک بہادر آدمی تھا، اس نے ایک بل سائن کیا آزاد کیا 4 ملین غلاموں کو ایک ہی دن میں اسی وقت اس کے نتیجے میں خانہ جنگی شروع ہو گئی جس میں نصف ملین لوگ مارے گئے اور نصف ملین معذور ہو گئے۔ اسلام نے مسلمانوں کے دلوں میں آزادی کی محبّت ڈالی۔ لیکن اسلام نے یہ کیسے کیا؟ عیسائیت بنیادی طور پر محبت اور امن کے بارے میں ہے اور میتھیو 5:39 میں ہے کہ آنکھ کے بدلے آنکھ کے بجائے، جو آپ کو تھپڑ مارے اُس کے سامنے اپنا دوسرا گال پیش کر دیں۔ اس کے برعکس اسلام میں سخت سزاؤں کے ساتھ شریعت ہے۔ ایک عیسائی جو کہتا ہے کہ "خدا محبت ہے" وہ اپنے عقیدے کو اسلام میں کیوں بدلنا چاہے گا؟ کبھی کبھی میں یہ مثال دیتا ہوں۔ میں مارش فیلڈ، وسکونسن گیا۔ وہاں پر ایک مسجد (اوپن ہاؤس) تھی۔ اور ایک خاتون نے مجھ سے یہی سوال کیا۔ " کہ ڈاکٹر سبیل، جیسا کہ آپ نے کہا کہ اسلام خوبصورت ہے۔" "تو پھر آپ کی وہ شرعی سزائیں آخر اتنی سخت کیوں ہیں؟" میں نے اُسے یہ مثال دی۔ اس ملک میں، ریپ کی رپورٹ کردہ تعداد ہر سال 93،000 ہوتی ہے۔ یہ صرف وہ ہیں جو رپورٹ کیے گئے ہیں۔ اس صورت حال میں وہ جیل میں رہیں گے بطور قیدی اوسطاً 5سے 7 سال تک۔ اور پھر وہ باہر آ جاتے ہیں، معاشرے کو سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ متاثرہ خاتون ڈرتی رہے گی کہ وہ کسی بھی وقت پھر سے اس پر حملہ کر سکتا ہے۔ اب معاشرے کا امن کہاں پر گیا، معاشرے کا انصاف اور اُس خاتون کا تحفّظ کہاں ہے؟ جب وہ قیدی جیل میں ہوگا یعنی ریپ کرنے والا قید میں ہوگا تو اسے کھانا کون دے گا؟ اُسے رہائش کون دے گا؟ اُسے جیل کی ساری آسائشیں کون دے گا؟ نیو یارک کی ریاست میں، تقریباً 90,000 ڈالرز خرچ ہوتے ہیں۔ ٹیکس میں سے فی قیدی کے لئے ہر سال نوے ہزار، میرے ٹیکس کا پیسہ۔ لوگوں کے ٹیکس کا پیسہ۔ رائٹ؟ اسلام کہتا ہے کہ انہیں صرف اور صرف سزا ہونی چاہیے۔ اور اگر یہ سزا دی جائے عوام کے سامنے اور باقی معاشرہ دیکھ رہا ہو کہ اس شخص کو سزا مل رہی ہے، تو پھر وہ ممکنہ ریپسٹ، یا مجرم یا چور، جوارادہ کرتا ہے ریپ کرنے کا، قتل کرنے کا یا کچھ بھی، تو وہ سوچے گا کہ اگر میں نے ایسا کچھ کیا تو ریاست میرے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرے گی۔ تو اسلام میں سزائیں جرائم کی روک تھام کے لیے ہیں۔ یہ مؤثر ہیں۔ حتیٰ کہ اگر آپ کسی اسلامی یا مسلم ملک کا موازنہ کریں تو میں کہہ سکتا ہوں کہ وہاں ریپ کیسز بہت ہی کم ہیں۔ قتل و غارت، منشیات اور حملے ایسے ملک کی نسبت انتہائی کم ہیں جہاں ایسی روک تھام نہیں ہے۔ نمبر ایک، اور نمبر دو یہ ہو گا۔ فرض کریں کہ کوئی ڈاکو آکر دروازے پر دستک دیتا ہے رات تقریبا 2 بجے پھر وہ دروازہ توڑ دیتا ہے آپ اُسے یہ تو نہیں کہیں گے نا کہ "آئے خوش آمدید۔ آپ یہ والا کمرہ رکھ لیں۔ میں آپ کو دوسرا کمرہ دکھاتا ہوں کہ میرے پاس کیا کچھ موجود ہے" یہ ایک تھپّڑ کے بعد دوسرا گال پیش کرنا ہوا۔ یہ پریکٹیکل نہیں ہے۔ دنیا میں اس طرح کام نہیں چلتا۔ اگر آپ دوسرا گال پیش کردیتے ہیں تو ساری دنیا ڈاکوؤں اور چوروں اور ریپسٹ اور حملہ آوروں سے بھر جائے گی۔ یہ پریکٹیکل نہیں ہے۔ کوئی بھی ایسا نہیں کرتا۔ میرا مطلب،آپ کا، ہمارا ملک نہیں، بلکہ اس ملک کی بات کر رہا ہوں۔ اس ملک میں 800$ بلین کا بجٹ ہے دفاع کے لیے فرض کریں اگر امریکہ دوسرا گال پیش کرتا ہے، تو چین اور رُوس پورے امریکہ پر غلبہ پا لیں گے۔ رائٹ؟ یعنی امریکہ پوری طرح ختم ہو جائے گا۔ کوئی خاندان بھی دوسرا گال پیش نہیں کرتا۔ کسی شخص کو بھی دوسرا گال پیش نہیں کرنا چاہیے۔ یہ پریکٹیکل نہیں ہے۔ یہ افراتفری پیدا کرے گا۔ اور تمام اچھے لوگ ختم ہو جائیں گے۔ شریعت کا مطلب قانون سازی ہے۔ اسی طرح اسلامی شریعت، فرانسیسی شریعت اور اینگلو سیکزون شریعت ہے۔ یہ تمام ہی شرائع اچھی ہیں، بہترین ہیں۔ وہ لوگوں کو اُن کے حقوق دینا چاہتے ہیں۔ لیکن ایک ہی فرق ہے اسلامی شریعت اور باقی تمام قسم کی قانون سازی میں ، اور وہ یہ ہے کہ اسلامی شریعت پرفیکٹ ہے۔ یہ بے عیب ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ہر ایک نظام میں اپنے بانی کی صفات پائی جاتی ہیں۔ انسان کی بنائی ہوئی شریعت خوبصورت ہو سکتی ہے کیونکہ انسان خود خوبصورت ہوسکتا ہے۔ لیکن جو شریعت اللہ کی ہے ، اللہ نے بنائی وہ پرفیکٹ ہے۔ اس میں کوئی خامی، کوئی غلطی نہیں ہے۔ بعض اوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ سے زیادہ ہوشیار ہیں۔ وہ اپنی قانون سازی اور قوائد لاتے ہیں اور یہ کرنے کے بعد ناکام ہو جاتے ہیں۔ تو تو اللہ کے فرمان سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ میر ی اپنی، میرا مطلب ہے اگر میں غیرمسلم ہوتا اور وہ سب کچھ پڑھتا جو میں نے اسلام کے بارے میں پڑھا ہے تو بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو مجھے اسلام کی طرف راغب کرتیں ہیں۔ ان میں سے ایک شریعت ہے۔یہ ایک معجزہ ہے۔ اسے ہم "قرآن کا معجزہءِ قانون سازی" کہتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اُس وقت وہاں مختلف معاشرے کچھ اچھا قانون بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اور وہاں، جیسےکہ، رُومی کچھ اچھی قانون سازی کر رہے تھے۔ اور ساتھ ہی یونانی کوشش کر رہے تھے۔ لیکن اگر آپ اُس قانون سازی کو آج دیکھیں، یا پڑھیں، تو آپ ہنسیں گے۔ لیکن یہ آج بھی جاری ہے اور مکمل طور پر موزوں ہے، ہر زمانے اور ہر دور کے لیے ۔ خیر، یہ انتہائی سخت سزائیں زیادہ سے زیادہ لوگوں پر لاگو کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر، میں ایسے ملک میں رہتا ہوں جہاں پر ٹریفک قوانین، ڈرائیونگ کے قوانین بہت سخت ہیں اور اسی لئے لوگ اچھی ترتیب سے گاڑی چلاتے ہیں۔ آپ کو باقی علاقوں کی طرح زیادہ حادثات دیکھنے کو نہیں ملیں گے۔ اور یہ دراصل لوگوں کی حفاظت کے لیے ہے۔ تو پھر اگر آپ مجرم کے نقطۂ نظر سے دیکھیں، اوہ، یہ تو سخت ہے، لیکن متاثرین کے نقطۂ نظر سے، یہ سزا اور بھی سخت ہونی چاہیے۔ کیونکہ جس کے گھر پر ڈاکہ ڈالا گیا ہو اور جس کے پیسے چوری کر لیے گئے ہوں، اُس کے لیے یہ رقم بہت اہم تھی۔ وہ یہ پیسے برسوں سے بچا رہا تھا۔ تو چنانچہ جب کوئی پرواہ کیے بغیر گھر میں گُھستا ہے، پیسے چوری کرتا ہے ڈرگز خریدنے کے لیے تو چور کے نقطۂ نظر سے۔۔۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ بہت سخت ہے، وہ چور کے ساتھ ہمدردی کر رہے ہیں، متاثر فرد کے ساتھ نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تم لوگوں کو زنا کی سزا کیوں دیتے ہو؟ٹھیک ہے؟ اور تم اُن کو سزائے موت دیتے ہو، کیوں؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے کہ مغرب میں لوگ کہتے ہیں کہ "یہ وحشیانہ ہے،وحشیانہ ہے"۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ زنا سے کتنی برائیاں پھیلتی ہیں؟ دیکھیں، اسلام میں زنا کے خلاف ایسے قوانین ہیں جنہیں ثابت کرنا مشکل ہے۔ آپ کو چار گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے، جنہوں نے سارا معاملہ خود دیکھا ہو صرف دو لوگ ساتھ لیٹے نہیں۔انہوں نے ہر چیز اپنی آنکھوں سے دیکھی ہو۔ تو بہت مشکل۔ ایک طرح سے آپ کو ڈرا کر دُور رکھنا ہوا۔ لیکن دیکھیں اس کی سزا کتنی خوفناک ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ کوشش ہوتی ہےآپ کو دُور رکھنے کی اس زنا سے۔ اگر آپ امریکن کلچر پر نظر ڈالیں تو شکاگو ٹریبیون کی طرف سے ایک سروے آیا ہے، ایک عام مرد اس ملک میں کم از کم، سات اضافی گرل فرینڈز، جو کہ بیوی کے علاوہ ہیں یعنی سات لڑکیوں سے بغیر شادی کے تعلقات رکھتا ہے۔ اور اگر کوئی آدمی بغیر شادی کے کسی عورت کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے اور اب اُس عورت کا ایک بچّہ ہے تو وہ اسے چھوڑ کر جا سکتا ہے۔ بس اسے کچھ تھوڑی سی رقم ادا کرنی ہوگی۔ لیکن وہ بچّہ اب بغیر باپ کے ہے۔ سنگل پیرنٹ ہومز۔ یہ کوئی حل نہیں ہے۔ اور سائیکالوجسٹ کے مطابق، اعداد و شمار یہ ہیں کہ اگر ایک بچّہ سنگل پیرنٹ ہوم میں پیدا ہوا یا اس نے سنگل پیرنٹ کے پاس پرورش پائی، میں اعداد و شمار کے حساب سے کہہ رہا ہوں، ہر بچّہ نہیں لیکن مجموعی طور پر ان کا آئی کیو لیول کم ہو گا۔ اور ان کا مدافعتی نظام ٹو پیرنٹ ہوم والے بچے کی نسبت کمزور ہوگا۔ ان کا اسکول چھوڑنے کا خطرہ زیادہ ہو گا۔ بے روزگار ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوں گے۔ زیادہ امکانات یہ ہیں کہ وہ ڈرگز اور گینگز جوائن کر لیں گے اور یہ ظالمانہ چکر جاری رہے گا۔ یہ بہت زیادہ بوجھ بن چکا ہے مغرب کی ریاست کے لیے۔ انہیں یہ قانون لانا پڑا کہ وہ شادی کے بغیر ہونے والے بچّوں کے والد کو ان کے لیے پیسے فراہم کرنے کا پابند کریں گے۔ کیونکہ اس پر ٹیکس دہندگان کا بہت پیسہ لگتا ہے۔ کیونکہ وہ بے قابو ہوتا جا رہا تھا اس آزادی کی وجہ سے۔ سوری کیا ایسا ہوا؟ کیا مطلب؟ ریاست نے اس کے بارے میں کچھ قوانین بنائے۔ کیا ایسا ہوا؟ اوہ ہاں۔ اب ہر مغربی ملک میں ایسا ہوتا ہے۔ اچھاہاں اگر کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ سوتا ہے، وہ حاملہ ہو جاتی ہے، اور وہ اُس بچّے کو مارنے کے بجائے پال لیتی ہے، تو پھر اُس مرد کو بچّے کی دیکھ بھال کے لیے رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر وہ شادی شدہ نہ بھی ہوں۔ جی جی بلکل، کیونکہ یہ بے قابو ہو گیا تھا۔ ٹھیک ہے؟ اب بتائیں اُن بے چارے بچّوں کا کیا؟ جنہوں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا تھا۔ اوہ، کچھ بھی ہو نتائج تو ہوتے ہی ہیں ناں!

آپ نتائج کے بغیر تو چیزیں نہیں کر سکتے، ہے ناں؟ اور اس میں کچھ مسائل آئے، کیونکہ پھر کچھ مرد سوچنے لگے کہ، "یہ بچّہ میرا نہیں ہے مجھے یقین ہے کہ ، میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔" ہو سکتا ہے وہ عورت دوسرے مرد کے ساتھ سوئی ہو۔ کیسے مانوں کہ یہ میرا بچّہ ہے؟ تو پھر اس سے باہر نکلنے کا صرف ہی ایک ہی طریقہ ہے۔ جینیٹک ٹیسٹ، اور پھر ہی آپ کچھ کہہ سکتے ہیں، اگر ٹیسٹ سے پتہ چلے کہ بچّہ آپ کا نہیں ہے تو جان چھوٹ جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، اکثر عورت کو خود ہی معلوم نہیں ہوتا کہ بچّے کا باپ کون ہے؟ وہ سوچتی ہے کہ شاید میرا وہ موجودہ بوائے فرینڈ ہی ہو حالانکہ کسی اور سے بھی تعلق ہوتا ہے، ہو سکتا ہے کہ شوہر ہو لیکن دوسری طرف اُس کا بوائے فرینڈ بھی ہے۔ شاید کسی رات اُن کی کسی پب یا کلب میں ملاقات ہوئی ہو وہ باہر گئے، اس نے شراب پی۔ اُسے یاد ہی نہیں کہ وہ کون تھا۔ اتنا بے قابو ہو گیا کہ دیکھیں، فرانس میں اب اُنہوں نےممنوعہ قرار دے دیا جینیٹک ٹیسٹ کو۔ کیونکہ کئی مرتبہ یہ ثابت ہوا کہ جس مرد کا عورت کہتی تھی کہ "یہی وہ مرد ہے جواس کے بچّے کا باپ ہے،" مگر وہ اُس بچّے کا باپ نہیں ہوتا تھا۔ تو اس قسم کے نتائج آپ مغرب میں ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اور لوگ، کیوں کہ انھیں کہا جاتا ہے کہ، مطلب کہ اگر آپ ایسے کپڑے نہیں پہنتے جو کہ آپ کے جسم کو ظاہر کرتے ہیں یا آپ دولت مند یا طاقت ور لگتے ہیں، تو آپ کو توجّہ نہیں ملے گی۔ اور توجّہ اچھی چیز ہے۔ آپ پیسہ کما سکتے ہیں۔ توجّہ اور عزّت حاصل کرسکتے ہیں۔ تو ہر کوئی توجّہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تو وہ اُسی طرح کے کپڑے پہنیں گے جس سے انہیں توجّہ حاصل ہو۔ اور روزانہ آپ کو زنا اور اپنے پارٹنر کے دھوکہ دینے کے اشتہارات وہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اور پھر وہ حیران ہوتے ہیں کہ فحاشی اور دھوکہ دہی کی شرح اتنی زیادہ کیوں ہے۔ مغرب میں اب طلاق کی شرح 50 فیصد ہے، تو ہردو میں سے ایک شادی ناکام ہونے والی ہے۔ وہ حیران ہوتے ہیں کہ ایسا کیوں؟ لوگ اپنے شریک حیات پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ وہ ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ وہ ہر وقت پریشان رہتے ہیں اورانگزائٹی کا شکار رہتے ہیں۔ کہ کیا پتہ کہ میرا شوہر یا بیوی مجھے دھوکہ دے رہی ہے۔ یہ مغرب کی صورت حال ہے۔ یہ وہ برائے نام خوشی ہے جو اس آزادی نے دی ہے۔ ہر کوئی خوفزدہ ہے۔ پریشان ہے۔ محفوظ نہیں ہے۔ نبی پاک ﷺ کی حیات طیبہ میں جنگیں ہوئیں اوراسلام میں "جہاد" کا تصوّر بھی موجود ہے۔ آپ ایسے لوگوں کو کیا کہیں گے جو کہتے ہیں کہ "کیا یہ وحشیانہ اور پُرتشدّد نہیں لگتا؟" تو جب لوگ نبیﷺ کے غزوات کی بات کرتے ہیں، اُن کی جنگوں کی تعداد کی بات کرتے ہیں، پرانے ٹیسٹامنٹ میں تقریباً ہر نبی نے جنگیں لڑی ہیں۔ حضرت موسیٰ، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنگ لڑی، اور ایسے کئی انبیاء ہیں۔ کسی نبی نے اگر جنگ لڑی ہے تو صرف اس وجہ سے ان کی نبوّت ختم نہیں ہو جاتی، سمجھ رہے ہیں بات کو تو نبی ہونے کا معیار یہ نہیں ہے کہ نبی نے کوئی جنگ نہ لڑی ہو۔ ٹھیک ہے؟ جنگ کبھی کبھار امن اور دفاع کے لیے بہت ہی ضروری ہوتی ہے۔ جب نبیﷺ نے مکّہ سے مدینہ ہجرت کی تواُنہوں نے ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔ تو وہاں مشرکین، بُت پرست، کُفّارِ مکہ اپنے اتحادیوں سمیت، نبیﷺ پر حملہ کرتے رہے۔ مسلسل حملے کرتے رہے۔ لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ۔ دنیا میں بہت سے آئین موجود ہیں،ان کے مقابلے میں اسلام نے اخلاقی رہنمائی فراہم کی، شاندار رہنمائی، منصفانہ رہنمائی۔ اگرچہ آپ حالتِ جنگ میں ہوں، آپ کو ان ہدایات پر عمل کرنا ہو گا۔ قرآن مجید کے پارہ نمبر 2 کی آیت نمبر 190 اس کا ترجمہ ہے، "اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا"۔ تو اگر کوئی آپ پر جنگ مسلّط کر رہا ہو، تو آپ کو جواب میں لڑنے کا حق ہے۔ لیکن اس جنگ میں اللہ فرماتا ہے آپ کو کچھ ہدایات کی پابندی کرنی ہو گی۔ حد سے تجاوز نہ کریں۔ تو اُن میں سے کچھ ہدایات آپ کو بتاتا ہوں اللہ قرآن میں پارہ نمبر 5 آیت نمبر 32 میں فرماتا ہے کہ "ایک بے گناہ کی جان لینا پوری انسانیت کی جان لینے کے برابر ہے۔" تو جنگ کے دوران بھی آپ عورتوں اور بچّوں یا نہتے افراد کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ ایک ہدایت ہے۔ اسلام میں کوئی کارپٹ بمبنگ نہیں ہے۔ نا ہی کوئی ہیروشیما یا ناگاساکی ہے اسلام میں یعنی کہ اسلام میں قتل عام نہیں ہے۔ برعکس اس کے جیسے کچھ ملک کر رہے ہیں۔ اور ہم شہری آبادی کے وسائل بھی تباہ نہیں کر سکتے۔ فصلیں اور جانوروں کے وسائل، بجلی کے وسائل، انٹرنٹ کے وسائل۔ اور آخر میں اگر دشمن کہے کہ، "آئیے امن کا معاہدہ کرتے ہیں،" اگر وہ ہتھیار پھینک دیتے ہیں، اور امن کی طرف آتے ہیں، تو قرآن پارہ نمبر 8 آیت نمبر 61 میں بیان کرتا ہے "تم بھی امن کی طرف مائل ہو جاؤ۔" آپ امن کی جگہ اُن کی پیٹھ پر گولی نہ چلاسکتے۔ دوسری جنگوں کے مقابلے میں، میں آپ کو ایک مثال دے سکتا ہوں۔ دوسری جنگ عظیم کی مثال لیتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں ہلاکتوں کی تعداد 60ملین کے قریب تھی۔ کیونکہ مرنے والے زیادہ تر لوگ عام شہری تھے۔ اسلام اس سے اجتناب کرتا ہے، اخلاقی ہدایات کی وجہ سے یہ پابندیاں ہیں۔ تو اس طرح اگر لوگ اسلام کی ہدایات پر عمل کریں تو عام لوگوں کے جانی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اور جنگیں کم ہو جائیں گی کیونکہ اسلام ہم سے چاہتا ہے کہ ہم لوگ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن، ہم آہنگی اور انصاف کے ساتھ زندگی بسر کریں، جس کی وجہ سے جنگیں تھم جائیں گی۔ تو ہم بہت ساری مثالیں دے سکتے ہیں۔ اگر اسلام ترغیب دیتا مسلمانوں کو غیرمسلموں کو صرف اس لیے قتل کرنے کی کیونکہ وہ غیر مسلم ہیں تو جب مسلمان تقریباً ہزار سال ہندوستان پر حاکم رہے تو وہ وہاں تمام ہندؤں کو ختم کر سکتے تھے۔ رائٹ؟ اس وقت ایک بھی ہندو نہ ہوتا۔ لہٰذا اب اُن ہندوؤں کی نئی نسل اس بات کی گواہی دیتی ہے مسلمان حکمرانوں پر غیر مسلموں کو قتل کرنے کا جو الزام لگایا جاتا ہے دراصل، اُن کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ مسلمانوں نے اسپین پر 770 سال حکومت کی۔ یوں تو ہر کیتھولک اور یہودی مارا جا چکا ہوتا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا کیونکہ اسلام کی یہ تعلیم نہیں۔ اور مصر میں اس وقت تقریبا، جو، 15 ملین کاپٹک کرسچن ہیں۔ وہ بھی اس بات کی گواہی ہیں کہ اسلام اس کی ترغیب نہیں دیتا۔ در اصل اسلام تو ہمارے تحت اور درمیان رہنے والوں کو قتل کرنے سے منع کرتا ہے۔ رائٹ؟ اور ترکی، ایران، عراق میں۔ اچھا میں ایک نائی کے پاس گیا اور اُس نے کہا کہ میں عراق کا رہنے والا ایک عیسائی ہوں اور وہ گواہی دے رہا تھا کہ جب مسلمان عراق پر حکومت کرتے تھے تو اُسے قتل نہیں کیا گیا۔ دیکھیں، ایک آیت ہے سورۃ حدید کی۔ اللہ تعالیٰ سورۃ حدید کی آیت نمبر 25 میں فرماتا ہے، "بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزانِ عدل نازل فرمائی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو سکیں۔" تو اسلام انصاف کا مذہب ہے۔ ٹھیک ہے؟ تو پھر اللہ تعالیٰ آگے فرماتے ہیں، کیونکہ اگر آپ اس بات کو دیکھیں، تو کتابوں کے ساتھ رسول بھیجنا، یہ پُر امن طریقہ ہے۔ تاکہ لوگ انصاف قائم کر سکیں۔ اگر انصاف قائم نہ ہوا تو؟ آیت میں آگے بیان ہے کہ، "اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت جنگی قوت ہے اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں"۔ تو اگر انصاف پُر امن طریقے سے قائم نہ ہو تو پھر یہ جنگ کے ذریعے قائم ہوگا۔ تو اسلام انصاف پر مبنی مذہب ہے۔ امن اور جنگ انصاف قائم کرنے کے طریقے ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے "انصاف پُرامن طریقے سے قائم کرنے کی کوشش کرو۔" جنگ اُن بہت سے ٹُولز کا ایک حصّہ ہے جو ایک ریاست کی ٹُول کٹ میں ہوتے ہیں۔ جب لوگ اسلام کے بارے میں سوچتے ہیں تو وہ اسلامی حکومت کو دنیا کی کسی اور حکومت کے معیار کے بجائے کسی مختلف معیار سے جج کرتے ہیں۔ اگر آج آپ کسی حکومت سے کہیں کہ آپ کی فوج نہیں ہونی چاہیے اور آپ کو آخری حربے کے طور پر، دفاع کی ایک شکل کے طور پر، جنگی آلات کا استعمال نہیں کرنا چاہیے توپھر، تو پھر یہ ایک ناممکن بات ہے۔ اگر اسلام انسانوں کی قدر کرتا ہے تو اس میں غلامی کا تصوّر کیوں ہے؟ کیا یہ غلامی کا خاتمہ نہیں کر سکتا؟ نہیں.

اسلام نے غلامی کا خاتمہ کیا۔ اور مغرب نے بھی غلامی کو ختم کیا ہے، لیکن مختلف انداز میں۔ چلیے دیکھتے ہیں کون سا طریقہ بہترین ہے یا کون سا طریقہ بہتر ہے۔ جس طرح سے یہ امریکہ میں کیا گیا تھا، مثال کے طور پر، ممنوعہ قرار دیا گیا۔ اسلام نے اسے شعور دے کر ختم کیا، ممانعت سے نہیں۔ ابراہم لنکن، ایک بہادر آدمی تھا، اس نے ایک بل سائن کیا آزاد کیا 4 ملین غلاموں کو، ایک ہی دن میں، اسی وقت اس کے نتیجے میں خانہ جنگی شروع ہو گئی جس میں نصف ملین لوگ مارے گئےاور نصف ملین معذور ہو گئے۔ ٹھیک ہےِ؟ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ آزادی کی قیمت ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اسلام نے یہ کیسے کیا؟ آج اگر آپ امریکہ میں گوروں اور کالوں میں تعلقات کو دیکھیں۔ غلامی کے خاتمے کے 150 سال کے بعد ہمارے ممالک میں گوروں اور کالوں کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اسلام نے یہ اچھے طریقے سے کیا۔ اسلام نے مسلمانوں کے دلوں میں آزادی کی محبّت ڈالی۔ تو اسلام نے مسلمانوں کو یہ شعور دیا کہ غلامی بُری ہے۔ اسلام اسے ختم کرنا چاہتا ہے۔ اچھا، آپ نے مثلاً،ایک منّت توڑ دی۔ آپ کیا کریں گے؟ایک غلام کو آزاد کردیں۔ آپ نے کوئی کام کرنے کی قسم کھائی لیکن آپ کو کچھ اور بہتر مل گیا، کوئی مسئلہ نہیں۔ آپ بہتر کام کریں اورایک غلام آزاد کریں۔ دیکھیں، آپ نے رمضان میں غلطی سے روزہ توڑ دیا۔ آپ ادا کرنا چاہتے ہیں کفّارہ، غلام آزاد کر دیں۔ آپ نے کسی کو غلطی سے قتل کر دیا۔ آپ کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا کوئی شخص مر گیا۔ کوئی مسئلہ نہیں۔ غلام آزاد کرو۔ اس کا مطلب جانتے ہیں آپ؟ آپ نے کسی کی جان لی، غلطی سے کوئی مسئلہ نہیں۔ کسی ایسے کو زندگی دیں جس کی کوئی زندگی نہ ہو۔ اب آپ یہ زندگی کسی کو کس طرح دے سکتے ہیں؟ کسی ایسے شخص کو آزادی دے کر جو آزادی سے محروم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسلام میں آزادی زندگی کے برابر ہے۔ ان تمام اصولوں کے ساتھ اسلام نے مسلمانوں میں آزادی کی محبت پیدا کی اور اس سے کیا ہوا غلامی ختم ہوگئی جس کی جڑے معاشرے میں پھیلی ہوئی تھیں لیکن آہستہ آہستہ۔ لوگوں نے اپنی مرضی سے یہ کام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بہت سے غلام آزاد کیے گئے تو وہ مالک کو چھوڑنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ وہ کہتے، "ٹھیک ہے، مجھے آزادی مل گئی لیکن کیا آپ کے پاس رہ سکتا ہوں؟" تو اس طرح، غلام لفظ چند سالوں میں ختم ہو گیا اس لفظ کے ختم ہونے کے بعد ایک نیا لفظ آیا جسے کہتے ہیں ماوالی ہے۔ اس کا مطلب سابق غلام یا سابق مالک۔ جیسے سالم مولی ابو حذیفہ کا مطلب ابو حذیفہ کا سابق غلام، لیکن ابو حذیفہ مولی سالم کا مطلب ہوا سابق مالک۔ دونوں کا ایک ہی لقب ہے۔ یہ بالکل حیران کُن ہے۔ لوگ آ کرہم سے کہتے ہیں کہ آپ نے غلامی کو ممنو ع قرار نہیں دیا ختم نہیں کیا معاف کیجئے گا آپ کو غلامی ہماری طرح ختم کرنی چاہیے تھی جب لوگ غلامی کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں کیا آتا ہے؟ امریکہ میں غلامی کا خیال آتا ہے۔ سخت سلوک کیے جاتے تھے، اُن کے حقوق چھین لیے جاتے تھے۔ کئی گھنٹوں تک شجر۔۔۔۔ شجرکاری کرنا۔ ہمارے ذہن میں یہ آتا ہے۔ اسلام نے یہ غلامی ختم کر دی۔ سب سے اہم یہ کہ دیکھیے، غلامی پہلے ایک ادارہ ہوا کرتا تھا۔ اسلام نے اسے ایجاد نہیں کیا۔ یہ ساتویں صدی سے بھی قبل بہت سے مذاہب، بہت سے کلچرز اور بہت سے ممالک میں پہلے سے موجود تھی۔ تو اسلام نے اس کو غلام کی اصطلاح سے تبدیل کر کے اس اصطلاح میں بدل دیا کہ یہ تمام لوگ غلام نہیں بلکہ ہمارے بھائیوں جیسے ہیں۔ یہ ہماری بہنوں جیسی ہیں۔ اس سے اُن لوگوں کو حقوق اور انصاف ملا اور اب وہی غلام ہمارے بھائی بہن کہلاتے ہیں۔ تو اور، ان کے ساتھ شاندار سلوک کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ جیسے کپڑے آپ خود پہنتے ہیں، ویسے ہی انہیں پہنائے جائیں۔ جیسا کھانا آپ خود کھاتے ہیں، ویسا ہی ان کو کھلایا جائے۔ آپ اُن کے ساتھ سخت برتاؤ، اور ان پر اضافی بوجھ نہیں ڈال سکتے۔ اور بھی بہت سے طریقے ہیں جیسے اگر وہ کہیں کہ، "کیا آپ مجھے آزادی دے سکتے ہیں؟" اگر وہ اس کی درخواست کریں تو ایک اچھا مسلمان انھیں آزاد کر دے گا۔ اگر کوئی مسلمان عہد توڑتا ہے تو اُسے ایک غلام آزاد کرنا ہوتا تھا، ٹھیک؟۔ غلاموں کو آزاد کرنے کے بعد انھیں تعلیم دی جاتی تھی۔ انھیں بااختیار بنایا جاتا تھا، انھیں اعلیٰ عُہدے دیے جاتے تھے، انھیں عزّت دی جاتی تھی، اور اب اُن کے ساتھ ایک عام آدمی کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ تو چونکہ امریکہ میں غلاموں کو آزاد کرنے کے بعد ایسا نہیں کیا جاتا تھا، حتیٰ کہ اب بھی، بدقسمتی سے، ہم اس کی باقیات دیکھ سکتے ہیں۔۔۔ جیسے کہ شکاگو کا جنوبی حصہ، مثلا ، ڈیٹرائیٹ ایریا۔ افریقی بھائی اور بہنیں یا سیاہ فام بھائی اور بہنیں، انھیں اب بھی ایک جیسے ثقافتی حقوق نہیں ملے۔ وہ محروم ہیں، اُن کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ لیکن اسلام میں غلاموں کو آزاد کیا گیا اور بااختیار بنایا گیا۔ تو ہم دیکھ سکتے ہیں، الحمدُللہ، کہ یہ انسانیت کے لیے کیسے ایک نعمت ہے۔ تو ان تفصیلات کے بعد، آپ اس شخص کو کیا کہنا چاہیں گے جو ایک عیسائی ہے اور اسلام کے بارے میں سوالات اور شکوک رکھتا ہے؟ میرے عیسائی بھائی اور بہنوں کے لیے یا جو بھی مجھے سُن رہا ہے، آپ جانتے ہیں کہ ہمارے پاس صرف ایک ہی زندگی ہے۔ جلد ہی ہمیں مر جانا ہے۔ ہم سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے، خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اُس وقت ہمارے واپس آنے اور صحیح مذہب چُننے، اور خدا کے صحیح تصوّر چنّے کے لئے بہت دیر ہو چُکی ہو گی۔ میری اپنے عیسائی ساتھیوں سے، دیگر لوگوں سے درخواست ہو گی کہ قرآن کی ایک کاپی لیں، اور صرف اسے معلومات اکٹھی کرنے کے لیے پڑھیں۔ اس کے بعد آپ کو خدا کا وہ صحیح تصوّر ملے گا جس کی تبلیغ تمام انبیاء نے کی۔ آپ کو زندگی کا وہ مقصد مل جائے گا جو اللہ نے قرآن میں بیان کیا ہے۔ آپ کو اسلام میں اپنے مسائل کا پورا حل ملےگا، ہر مسئلہ کا، جیسے کہ خودکشی، تعاصب اور خاندانی ڈھانچے کی ٹُوٹ پُھوٹ۔ اسلام آپ کو ایک مضبوط خاندان، مضبوط اخلاقیات اور والدین کا احترام سکھاتا ہے۔ بچّے اپنے والدین کا احترام نہیں کرتے۔ منشیات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سان فرانسیسکو میں فینٹانائل جیسے نشے ہیں۔ بے گھر افراد ہیں۔ بے حد غربت ہے۔ نسل پرستی بہت زیادہ ہے، منشیات کا استعمال ہے۔ تو آخر اس کا حل کیا ہے؟ اسلام اس کا ایک پرفیکٹ حل، منصفانہ حل، عملی حل فراہم کرتا ہے۔ ان تمام مسائل کا حل۔ ہمیں اور آپ کو ضرورت ہے، اسلام یہ فراہم کرتا ہے۔ تو بالآخر جب آپ خدا کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، تو پھر آپ واپس نہیں آ سکتے۔ اس وقت یہ سوچنا، کہ کاش اسلام قبول کر لیتا۔ آپ کے پاس ایک ہی زندگی ہے۔ آپ قرآن پڑھیں اور آپ کو آپ کے سوالات کے جوابات مل جائیں گے۔ اس سے آپ کو سکون ملے گا۔ آپ کو مسائل کا حل ملے گا۔ اور نجات کے لیے ایک راستہ فراہم کرے گا۔ آپ خدا سے دُعا کریں۔ کہ "اے خدا، مجھے سچّائی دکھا۔ میری رہنمائی فرما۔" انشاءاللہ، اللہ سچّائی کی طرف آپ کی رہنمائی کرے گا۔ اور اسلام کی جانب آپ کو گامزن کرے گا۔