Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Surah Al-Fatiha Se Apni 'Autopilot' Salah Kaise Durust Karein | Apni Salah Ko Behtar Banayein - Ep.1

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

ہم روزانہ تقریباً 40 بار سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کرتے ہیں، لیکن اگر میں سوال کروں "کیا آپ سورۃ الفاتحہ کا مفہوم جانتے ہیں؟" تو ہم میں سے بہت سے لوگ شاید نظریں چرائیں گے ۔ ہے نا؟ یا اگر ہم اس بارے میں، سڑک پر کھڑے ہو کر انٹرویو کریں تو افسوس کی بات ہے کہ اکثر مسلمانوں کو سورۃ الفاتحہ کا مطلب معلوم نہیں ہوگا ۔ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے ؟ ایک شخص دن میں 40 بار کچھ پڑھتا ہے لیکن وہ اس کا معنیٰ ہی نہیں جانتا ؟ شاید ہم اس کے صرف ظاہری معنی جانتے ہیں معانی کی گہرائی سے واقف نہیں ہیں ۔ تصور کریں کہ آپ کسی خزانے کے نقشے کو درجنوں بار دہراتے رہیں لیکن کبھی بھی سونے کیلئے کھدائی نہ کریں ۔ یہ معنیٰ کو نظر انداز کرنے جیسا ہی ہے کچھ سوالات ہیں جو ہمیں خود سے پوچھنے چاہئیں ۔ بھائیو اور بہنو، ذرا آج کی اپنی آخری نماز کو یاد کریں ۔ نماز کے دوران آپ کیا سوچ رہے تھے ؟ آپ کے ذہن اور دل میں کیا چل رہا تھا ؟ آپ کے دل میں کیا معانی آئے ؟ آئیے ایمانداری سے کام لیں ۔ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ۔ ایک لمحے کے لیے رکیں اور تصور کریں کہ آپ بادشاہوں کے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہیں ۔ جبکہ آپ کے ہونٹ ہل رہے ہیں لیکن آپ کا دل خاموش ہے ۔ ہم یہاں اس فاصلے کو ختم کریں گے ان شاء اللہ ۔ جن معنی پر آج ہم غور کرنے والے ہیں وہ اتنے گہرے اور خوبصورت ہیں کہ ان سے ہمیں بہت فائدہ ہوگا اور ہمیں واقعی میں بہت مزہ آئے گا ۔ یہ ایک ویڈیو سیریز ہوگی: سورۃ الفاتحہ سورۃ الناس، سورۃ الفلق سبحانک اللہم، جسے ہم ثنا ءبھی کہتے ہیں ہم گہرائی میں ان کے معنی دیکھیں گے ان بنیادی سورتوں اور دعاؤں کے جو ہم نماز میں پڑھتے ہیں ۔ اور ہم اسے ایک ویڈیو سیریز میں تبدیل کریں گے ۔ یہ احساسات صرف سبق کی حد تک نہیں رہیں گے ۔ بلکہ ہم ان کو اپنی نماز میں بھی پیدا کریں گے ۔ ان شاء اللہ ہم اپنی نمازوں میں تبدیلی لائیں گے ۔ جب ہم نماز شروع کریں گے اور کہیں گے "الحمدللہ" یہ سبق ہمارے ذہنوں میں ہوگا اور ہم اس پر غور و فکر کر رہے ہوں گے۔ اس ویڈیو کے بعد، ان شاءاللہ آپ نماز ویسے نہیں پڑھیں گے جیسے پہلے پڑھتے تھے ۔ آپ کی نماز کا مزہ بدل جائے گا ۔ آپ کا دل ہر لفظ کی لذت ایک نئے انداز میں محسوس کرے گا ۔ ہر رکوع کا مزہ الگ ہی محسوس ہوگا اور ہر سجدہ ایسا محسوس ہوگا جیسے گھر آگئے انشاءاللہ.

شروع کرتے ہیں سورۃ الفاتحہ ۔ اس کا دوسرا نام اُمُّ القرآن ۔ اس کا کیا مطلب ہے ؟ اس کا مطلب ہے "قرآن کی ماں "۔ اس کا خلاصہ، اس کا جوہر ۔ اس میں صرف سات آیات ہیں، لیکن اس میں قرآن کا پورا پیغام موجود ہے۔ صحیح بخاری شریف میں ایک حدیث ہے۔ ایک دن، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا "میں تمہیں سب سے عظیم سورت سکھاتا ہوں ۔" یہ وہ سورت ہے جو اس سے شروع ہوتی ہے "الحمدللہ رب العالمین" (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے) یہ قرآن کی سب سے عظیم سورت ہے ۔ "عظیم ترین" کی پیمائش اس معاملے میں، برکات کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس اعتبار سے ہے کہ اس میں قرآن کا جوہر اور خلاصہ موجود ہے۔ ایک اور حدیث میں چار مواقع بیان کیے گئے ہیں جب شیطان چلّایا اور تکلیف سے کانپ اٹھا ۔ ان چار مواقع میں سے ایک سورۃ الفاتحہ کے نزول کا موقع تھا ۔ آپ کے خیال میں ایسا کیوں ہوا ؟ کوئی تو سیریس بات ہے، ہے نا ؟ ذرا سوچیں اگر کوئی سورت صرف سات آیات کے ساتھ شیطان کو شدت سے ہلا سکتی ہے تو ہمیں واقعی اس میں مضمر سچائی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ یہ یقینا پر ایسی چیز ہے جس کے بارے میں سوچنا چاہیے ۔ سورہ الفاتحہ میں ایک قسم کی دعا ہے ۔ یہ صرف کسی واقعہ کا بیان نہیں ہے ۔ اس میں اللہ کے ناموں اور صفات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اور یہ برکتوں سے بھری ہوئی ہے نیز اس میں بہت سی اہم خصوصیات ہیں ۔ "بسم اللہ" کے بعد پہلا جملہ کیا ہے؟ الحمدللہ رب العالمین، ہیں نا ؟ معنیٰ: "تمام تعریفیں، حمد (تعریف/شکرگزاری)، اللہ ہی کے لیے ہیں۔ جو تمام جہانوں کا مالک ہے ۔" تو حمد (تعریف/شکرگزاری) کا کیا مطلب ہے ؟ جب آپ کے ساتھ کچھ اچھا ہوتا ہے تو آپ شکر گزار ہوتے ہیں اور جس نے وہ کام کیا ہے آپ اس کی تعریف کرتے ہیں، رائٹ ؟ اس احساس کو کہا جاتا ہے "حمد" ۔ اور اس آیت میں، بتایا گیا کہ حمد کس کے لیے ہے ؟ اللہ کے لیے، جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔ فرض کریں کہ آپ ایک بہت غریب خاندان سے تعلق رکھنے والا بچے ہوں۔ آپ کے پاس کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں ۔ پھر کوئی آتا ہے، جو آپ کا خیال رکھتا ہے آپ کو کھانا دیتا ہے، کپڑے خرید کر دیتا ہے ۔ اس سے آپ کو کیسا محسوس ہوگا ؟ آپ شکر گزار محسوس کریں گے، رائٹ؟ جیسے آپ ان کے کسی گہری چیز کے مقروض ہیں ۔ اور وہ مزید جاری رکھتا ہے ۔ "دیکھو، یہ کار اور خوبصورت گھر تمہارا ہے ۔" جدید ترین فونز، ہر وہ چیز جو آپ کبھی چاہتے تھے، حقیقت بن رہی ہے ۔ اس وقت، آپ کو شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے آپ دل کی گہرائیوں سے کہنا چاہتے ہیں، "آپ کا شکریہ ۔" یہاں تک کہ اگر وہ کہے، " کہ شکریہ ادا مت کرو،" آپ تب بھی اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں ۔ آپ خاموش نہیں رہ سکتے ۔ نبی کریم ﷺ ہمیشہ کہتے تھے "الحمدللہ" (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں) اور وہ ہمیشہ اللہ کے شکر گزار رہے ۔ وہ رات میں نمازِ تہجد پڑھنے کیلئے بیدار ہوتے تھے۔ وہ نماز میں اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ ان کے پاؤں کے تلوے سوج جاتے ۔ ہماری ماں، حضرت عائشہ نے ایک بار ان سے پوچھا "آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں؟" ۔ یہ کافی معقول سوال ہے، ہے نا ؟ نبی کریم ﷺ کو جنت کی ضمانت دی گئی تھی انہیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ جی ہاں تہجد ان کے لئے فرض تھی۔ لیکن انہیں اتنی لمبی نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں تھی کہ پاؤں سوج جائیں۔ تہجد میں دو رکعت نماز بھی شمار کی جا سکتی ہے۔ تو نبی کریم ﷺ نے اس سوال کے جواب میں کیا فرمایا کہ "آپ اتنی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟" آپ ﷺ نے فرمایا"کیا مجھے شکر گزار بندہ نہیں بننا چاہئے ؟" سالہا سال سے، مجھے یہ جواب سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ نبی کریم ﷺ اتنی لمبی نماز کیوں پڑھتے تھے حالانکہ ان کیلئے ضروری نہیں تھا ۔ بعد میں مجھے یہ بات سمجھ میں آئی۔ کہ ان کے اندر شکر گزاری کا ایک مضبوط احساس تھا ایسی شکرگزاری کہ وہ خود کو روک نہیں پاتے تھے۔ اس احساس کو پرسکون کرنے کے لیے وہ چاہتے تھے کہ نماز کے ذریعے"شکر" ادا کریں ۔ تو یہ ہےحمد (تعریف/شکرگزاری )۔ تو، جب آپ نماز میں "الحمد للہ رب العالمین" کہیں تو یہ سب معانی ذہن میں رکھیں۔ آئیے اپنے آپ سے پوچھیں کیا ہم اپنی نمازوں میں ایسا کرتے ہیں ؟ آپ نے نماز پڑھنا کب شروع کی ؟ شاید اسے 20 سال ہو چکے ہوں گے۔ تو آپ سالوں سے یہ کہتے رہے ہیں "الحمدللہ رب العالمین"۔ لیکن آپ نے حقیقت میں کتنی بار اس قسم کی شکر گزاری محسوس کی اللہ کے ساتھ حقیقی جذباتی تعلق محسوس کیا ؟ کبھی کبھی جب حالات بہت اچھے ہو جاتے ہیں یا آپ کسی مشکل حالت سے گزرتے ہیں تب اس طرح کا احساس ظاہر ہوتا ہے ۔ آپ کہتے ہیں "یا اللہ آپ کا شکر گزار ہوں !

یا اللہ، میں آپ کی تعریف کرتا ہوں!" لیکن جب زندگی معمول پر آجاتی ہے جب سب کچھ روٹین پر آ جاتا ہے تو ہم اپنے ارد گرد کی نعمتوں پر غور کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور شکر ادا کرنا بھول جاتے ہیں ۔ اسلام کے ابتدائی ایام کے بارے میں سوچیں ۔ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگیاں بہت مشکل تھیں لیکن وہ اللہ کی حمد بہت زیادہ کرتے تھے۔ ایک بار جب نبی کریم ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کفار نے آپ کی کمر پر جانور کی آلائشیں لا کر ڈال دیں ۔ کیا آپ اس پر یقین کر سکتے ہیں ؟ اسے بیان کرنا بھی مشکل ہے ۔ بدبو کا تصور کرنے کی کوشش کریں ۔ بو بہت تیز اور گندی تھی یہاں تک کہ سانس لینا بھی مشکل ہو گیا ۔ اپنی پوری زندگی، نبی کریم ﷺ نے ایک کے بعد ایک مشکل امتحان کا سامنا کیا۔ آپ ﷺ نے بہت تکالیف برداشت کیں ۔ اس کے باوجود، آپ ﷺ نے ہم سے لاکھوں گنا زیادہ اللہ کی حمد کی۔ اور ہمیں "الحمدللہ" کہنے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی؟ ہم ضروری نہیں سمجھتے ۔ تو شاید اصل مسئلہ ہماری ذہنیت میں ہے ۔ اگر ہماری سوچ ہمارا دل قرآن پر مبنی ہو، تو اگر ہم اس طرح کی چیزوں میں پھنسے ہوں پھر اگر زندگی اور بھی دشوار ہو جائے تب بھی ہم خوشی محسوس کر سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں "الحمدللہ" (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)۔ یہی وہ راز ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں حقیقی خوشی لاتا ہے ۔ اب، آئیے اپنے آپ سے پوچھیں، کیا ہمارے پاس واقعی شکرگزار ہونے کی وجوہات ہیں یا ہم صرف چیزوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں ؟ زبان کے اوپر تقریباً 8,000 ذائقے کے رسیپٹرز ہیں ۔ ہر ملک کا اپنا کھانا ہوتا ہے، ہے نا ؟ اور ہر ملک میں بے شمار اقسام کے ذائقے ہوتے ہیں۔ زبان ان سب کا ذائقہ چکھ سکتی ہے ۔ اس میں ان سب ذائقوں کو چکھنے کی صلاحیت موجود ہے ۔ جبکہ یہ گوشت کا صرف ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے ۔ کیا آپ اس کے لیے شکر گزار نہیں ہوں گے ؟ یا اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔ اس طرح پورا دن گزارنے کی کوشش کریں ۔ تو آپ سمجھ جائیں گے کہ آپ کی آنکھیں کتنی بڑی نعمت ہیں ۔ یہاں تک کہ پلک کا جھپکنا بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ یہ آپ کی آنکھوں کو دھول، جراثیم اور خشکی سے بچاتا ہے پلک جھپکنے سے آپ کے ریٹنا پر تصویر ریفریش ہو جاتی ہے تاکہ آپ کا دماغ ایک ہموار اور مستحکم تصویر دیکھ سکے جس میں کوئی جھٹکا یا رکاوٹ نہ ہو۔ ہمیں اس کی اتنی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے اختیار سے باہر کر دیا ۔ آپ کی آنکھیں ضرورت کے مطابق خود بخود جھپکتی رہتی ہیں۔ جبکہ آپ کو اس کا پتہ بھی نہیں ہوتا۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ ایک چیز ہوتی ہے اسٹیبلائزیشن ۔ رمضان کیا آپ ایک کام کر سکتے ہیں؟ بس کیمرہ اٹھائیں اور جتنی تیزی سےآگے بڑھ سکتے ہیں آگے بڑھیں ۔ بس اب واپس چلے جائیں۔ اب دیکھیں، تصویر آپ کی آنکھوں کی طرح ساکن نہیں رہتی، ہے نا ؟ یہ آپ کی آنکھوں کی طرح نہیں ہے۔ کیوں نہیں ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی آنکھوں میں یہ صلاحیت رکھی ہے ۔ کیمرا سٹیبلائزیشن کیسے کام کرتی ہے یہ دیکھنے سے پہلے ہمیں اس کا احساس تک نہیں تھا کہ یہ کیسی نعمت ہے ۔ آپ حرکت کر رہے ہیں، آپ دوڑ رہے ہیں لیکن جس چیز کو آپ دیکھ رہے ہو وہ ساکن رہتی ہے ۔ ہمارے خُداوند نے ہمارے دماغ میں ایسا نظام پیدا کیا ہے کہ آپ کو وہ چیز ساکن دکھائی دیتی ہے ۔ آگے چلیں ۔ ماں ایک نعمت ہے ۔ آپ مسلمان ہو ۔ اس سے بڑی نعمت اور کیا ہو سکتی ہے ؟ اللہ نے بہت سی ایسی نعمتیں پیدا کی ہیں کہ کچھ لوگ اسی نعمت کی پرستش کرنے لگتے ہیں ۔ وہ گائے کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟ وہ سورج کی عبادت کیوں کرتے ہیں ؟ وہ اس سے بہت فائدہ اٹھاتے ہیں اور انہیں اس میں بہت سے فائدے دکھائی دیتے ہیں چنانچہ بالآخر، وہ ان سب فوائد کو دیکھتے ہوئے اس کی عبادت کرنے لگتے ہیں۔ میرا مطلب، اگرچہ انہیں پوری بات سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی میں یہ اس لیے کہہ رہا ہوں تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ آخر لوگ اس راستے پر کیوں چلے گئے ۔ ایک آیت ہے جو مجھے بہت پسند ہے، سورۃ ابراھیم آیت نمبر 32 سے 34 تک ۔ "اللہ وه ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمانوں سے بارش برسا کر اس کے ذریعے سے تمہاری روزی کے لیے پھل نکالے ہیں اور کشتیوں کو تمہارے بس میں کردیا ہے کہ دریاؤں میں اس کے حکم سے چلیں پھریں۔ ہمیں ندیاں دیں .

اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے کام میں لگا دیا کہ دونوں (دن رات) ایک دستور پر چل رہے ہیں۔ اور رات اور دن کو بھی تمہاری خاطر کام میں لگا دیا اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا۔ تم اگر خدا کا احسان گننے لگو تو کبھی بھی شمار نہ کر سکو گے۔ انسان بہت ہی ناشکرا اور بے انصاف ہے اس میں کوئی شک نہیں ۔ پہلا جملہ کیا تھا ؟ "الحمدللہ رب العالمین "۔ تمام تعریفیں، حمد (تعریف/شکرگزاری)، اسی کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا مالک ہے ۔ تو، جب ہم "ربُّ العالمین" کہتے ہیں تو ہمیں کیا سوچنا چاہئے ؟ جب آپ لفظ "رب" سنتے ہیں تو آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے ؟ وہ جو پالتا ہے، پرورش کرتا ہے اور رہنمائی کرتا ہے ۔ "رب" کا یہی معنیٰ ہے ۔ جب آپ لفظ "رب" سنیں، تو یہ آپ کے ذہن میں آنا چاہیے ۔ وہ جو اپنی تخلیق کو تبدیل کرتا ہے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے کی طرف ۔ مثال کے طور پر، سیب کے بیج کے بارے میں سوچیں ۔ اللہ تعالیٰ اس بیج کو کس چیز میں بدل دیتا ہے ؟ ایک درخت میں ۔ اور رب اسے پالتا ہے ۔ مزید کیا ؟ اس درخت سے ایک پھل نکلتا ہے لیکن یہ ابھی تک سرخ نہیں ہے ۔ یہ آہستہ آہستہ سرخ ہو جاتا ہے ۔ خدا اس کی پرورش کر رہا ہے ۔ ایک اور مثال۔ آپ نطفہ تھے، ہے نا ؟ آپ کیا بن گئے ؟ ایک بچہ ۔ پھر کیا ہوا ؟ آپ کھڑے ہوئے، چلنا شروع کیا آپ نوجوان ہو گئے ۔ آپ کے جسم میں تبدیلیاں آنے لگیں ۔ آپ کا رب آپ کو تبدیل کر رہا ہے ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے کی طرف ۔ آپ جوان ہوئے، بوڑھے ہوئے، اور مر گئے ۔ آپ نے آخرت کی دائمی زندگی کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ آپ کی پرورش کرتا رہتا ہے ۔ اب پوری مائکرو اور میکرو کائنات کے بارے میں سوچو۔ ایٹمز سے کہکشاؤں تک ۔ اس میں موجود ہر چیز کو سوچو ۔ لامتناہی خلا کے بارے میں سوچو اور اللہ کے بارے میں سوچو جو ہر چیز کا رب ہے وہ جو اپنی ساری تخلیق کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے کی طرف لے جاتا ہے اب، آئیے ایک لمحہ خلا کے بارے میں سوچیں ملکی وے کہکشاں ۔ یہ خلا میں موجود کہکشاؤں میں سے ایک ہے ۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ ہم خلا میں سفر کر رہے ہیں 300,000 کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے ۔ روشنی کی رفتار 300,000 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے، ہے نا ؟ تو ہمارے پاس ایک گاڑی ہے جو اتنی تیزی سے جا رہی ہے ۔ ذرا تصور کریں، اور ہم کہتے ہیں، "ہم ملکی وے کہکشاں کے آخری کنارے تک جائیں گے ۔" غور کریں، پوری کائنات کا نہیں صرف ملکی وے کہکشاں کا کنارہ ۔ اور ہم آخر کار 100,000 سال کے بعد اس کے کنارے پر پہنچ جاتے ہیں۔ جب ہم "کائنات" کہتے ہیں یا "تمام جہانوں" کہتے ہیں خلا بذات خود ان میں سے ایک ہے ۔ اور اس کے اندر ہزاروں، بلکہ لاکھوں دیگر جہان ہیں ۔ اور خدا ان سب کا رب ہے ربُّ العالمین (تمام جہانوں کا مالک)۔ تمام جہانوں کا سوچتے ہوئے اپنے ذہن کو محدود نہ کریں ۔ مچھلیوں کے جہان کو تصور کریں جانوروں کا جہان، پودوں کا جہان انسانوں کا جہان ۔ ہر ایک کا اپنا ایک جہان ہے ۔ یہاں تک کہ آپ ہر ایک انسان کو ایک جہان کے طور پر تصور کر سکتے ہیں ۔ خلا میں موجود ہزاروں یا لاکھوں جہان ۔ ایک رب جو ان سب کو کنٹرول کرتا ہے اور ان تمام جہانوں میں جو کچھ ہے ان سب کی پرورش کرتا ہے۔ اور ہم ایک ایسے رب کے سامنے کھڑے ہیں جو اس طرح کی لامحدود طاقت رکھتا ہے ۔ اور ہم سورۃ الفاتحہ کی تلاوت کرتے ہیں ۔ میرے اندر ایک خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے کہ مجھے اس طرح کے عظیم رب کا شکر ادا کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ اب، اس آیت میں ایک لفظ ہے: "کیلئے ۔" تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔ تو "تعلق" کے اس خیال کا اظہار کرنے کے لئے کون سا عربی لفظ استعمال کیا جاتا ہے ؟ یہ حرف "لِ" ہے اور یہ "لِ" واقعی بہت اہم ہے ۔ وہ "حمد" کس سے تعلق رکھتی ہے ؟ ہمارے ارد گرد کچھ طاقتور لوگوں سے ؟ یا باس سے ؟ نہیں، اس کا تعلق اللہ سے ہے ۔ کیوں ؟ کیونکہ ہمارے ارد گرد جو کچھ بھی ہے سب اللہ ہی کا بنایا ہوا ہے ۔ تو ہم حمد کو کسی اور کے ساتھ کیسے وابستہ کر سکتے ہیں ؟ چونکہ اللہ نے سب کچھ پیدا کیا ہے ظاہر اور پوشیدہ، سب کچھ اور وہ سب جو ہم کبھی دیکھ سکیں گے تمام حمد کے لائق بھی صرف وہی ہے ۔ آپ اس کا کوئی حصہ کسی اور کو نہیں دے سکتے ۔ وہی ہے جس نے ہر چیز کو عدم سے وجود بخشا ہے ۔ چنانچہ، ہم "الحمدللہ رب العالمین " مکمل کر چکے ہیں ۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ تمام تعریفیں، حمد، اللہ کے لیے ہیں ربُّ العالمین، جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔ تو اگلی آیت کیا ہے ؟ "الرحمٰنِ الرحیمِ"۔ سب پر رحم کرنے والا، سب سے زیادہ رحم کرنے والا ۔ اب، ہم اسے اس سے پچھلی آیت کے ساتھ کیسے جوڑیں گے ؟ ہم نے صرف کہا "رب العالمین" (تمام جہانوں کا مالک )۔ اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ "میں ہی تیری پرورش اور نگہداشت کرتا ہوں ۔" دوسرے لفظوں میں، "میں ہی ہوں جو تمہیں مرحلہ وار بدلتا رہتا ہے اور میں تمہیں بدلتا رہوں گا ۔ لیکن اگر وہ تبدیلی ایسی ہے جو ہمیں پسند نہیں تو پھر ؟ مثال کے طور پر، آپ کو پختہ کرنے کیلئے کوئی مصیبت آپ پر بھیجی جا سکتی ہے ۔ اس کے فوراً بعد وہ فرماتا ہے "الرحمٰنِ الرحیم"۔ خوفزدہ نہ ہوں ۔ وہ رحم سے بھرپور ہے ۔ اس کا رحم صرف ماں کے رحم سے لاکھوں گنا زیادہ نہیں ہے ۔ بلکہ وہ اس سے بہت آگے ہے ۔ وہ لامحدود ہے ۔ تو یہاں کیا ہوا ؟ "ربُّ العالمین" نے ہمیں تھوڑا سا ہلا کر رکھ دیا ۔ اس سے یہ احساس پیدا ہوا کہ، "کیا میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہونے والا ہے، ربُّ العالمین ؟" لیکن پھر کہا جاتا ہے، "خوفزدہ نہ ہوں ۔ وہ جو آپ کو ایک مرحلے سے دوسرے تک تبدیل کرتا ہے وہ رحم سے بھرپور ہے ۔ وہ آپ سے بہت پیار کرتا ہے ۔ وہ تمہارے لیے مہربانی اور ہمدردی سے بھرپور ہے ۔" لہٰذا، اگر تم پر کوئی ایسی حالت آ جائے جو تمہیں پسند نہیں ہے اس کے پیچھے اس کی رحمت ہے ۔ آپ کو اس رحمت تک لے جایا جا رہا ہے ۔ یہ وہ حصہ ہے جس پر لوگ تعجب کرتے ہیں ۔ "اوکے، میں سمجھ گیا ۔ لیکن ان دونوں لفظوں کے درمیان فرق کیا ہے؟ الرحمٰن اور الرحیم کیا یہ ایک جیسے ہی ہیں ؟" علمائے تفسیرِ قرآنی عام طور پر اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ الرحمٰن کا مطلب ہے کہ اللہ کی رحمت تمام مخلوقات کے لئے ہے ہر چیز کیلئے، چاہے وہ زندہ ہے یا نہیں ۔ یہاں تک کہ وہ اس دنیا میں جو نعمتیں دیتا ہے وہ کافروں کو بھی اسی طرح حاصل ہوتی ہیں ۔ الرحیم دوسری طرف، اس کی خاص رحمت خاص طور پر ایمان والوں کے لیے ہے ۔ اس کا تعلق اس رحمت سے ہے جو جنت کی طرف لے جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر، جب بارش ہوتی ہے، تو کیا صرف ایمان والوں پر بارش ہوتی ہے ؟ ہرگز نہیں، کافر بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان پر بھی سورج طلوع ہوتا ہے ۔ یہ "الرحمٰن" نام کی عکاسی ہے ۔ لیکن جنت میں اللہ تعالیٰ صرف ایمان والوں کو ہی داخل فرمائے گا اور یہ عکاسی ہے اس کے نام "الرحیم" کی۔ ٹھیک ہے، اب ہم اگلی آیت کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ تمام آیات ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ۔ "مالکِ یومِ الدین" جس کا مطلب ہے "وہ روزِ جزا کا مالک ہے ۔" "یوم الدین" سے ہمیں جو بات سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ سزا اور جزا کا دن ہو سکتا ہے ۔ تو، اس سے بالکل پہلی آیت کیا تھی ؟ یہاں ایک مضبوط ربط ہے ۔ "الرحمن الرحیم" سب پر رحم کرنے والا، بے حد رحم کرنے والا ۔ اللہ کی رحمت کے بارے میں بہت سی احادیث ہیں ۔ جب ہم ان احادیث کو پڑھتے ہیں تو اپنے اندر گہرا اطمینان محسوس کرتے ہیں ۔ اس طرح کہ "ٹھیک ہے، ہم تو یقینی طور پر جنت میں ہی جائیں گے ۔" اس طرح کے خیالات ہمارے ذہن میں آتے ہیں، رائٹ؟ ہم پرسکون محسوس کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ "ہم نماز نہیں پڑھتے، لیکن اللہ بہت رحم کرنے والا ہے ۔ اس کی رحمت لا متناہی ہے۔" اور اس طرح وہ خود کو تسلی دیتے ہیں ۔ وہ سوچتے ہیں کہ "اللہ ہمیں ہر حال میں معاف کر دے گا" ۔ ہم بعد میں توبہ کر لیں گے اور شاید ہم جہنم میں نہیں جائیں گے"۔ تو "الرحمٰنِ الرحیم" کے فوراً بعد کیا آتا ہے ؟ "مالکِ یومِ الدین" - یعنی روزِ جزا کا مالک۔ اب ہوتا کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ مجھے میری غفلت سے بیدار کرنا چاہتا ہے ۔ میں "الرحمٰنِ الرحیم" سے بالکل ریلیکس ہو گیا تھا ۔ کہ اچانک "مالکِ یومِ الدین" آجاتا ہے وہ روزِ جزا کا مالک ہے ۔ نتیجے کا دن ۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے وہ کہہ رہا ہو، "جاگ جاؤ ۔" وہ چاہتا ہے کہ میں خوف اور رجاء، کے بالکل درمیان میں رہوں ۔ خوف اور امید کے درمیان ۔ اور یہ وہ چیز ہے جو ہمیں ہمارا دین سکھاتا ہے کہ خوف اور امید کے درمیان زندگی گزاریں۔ ہماری ذہنیت یہ ہونی چاہیے ۔ کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا ؟ ان شاء اللہ میں پرامید ہوں ۔ کیا میں جہنم میں جا سکتا ہوں ؟ ہاں، میں جا سکتا ہوں ۔ لہذا مجھے محتاط رہنا چاہئے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم درمیان میں رہیں، خوف اور امید کے۔ مثال کے طور پر "میں یقینی طور پر جہنم جا رہا ہوں ۔ میں تو گیا ۔ میری زندگی بہت خراب ہے ۔ ان تمام گناہوں کو دیکھو جو میں نے کیے ہیں ۔ میں تو بس گیا ۔" ہمیں اس طرح کی نا امید ذہنیت نہیں رکھنی چاہیے ۔ یا، "کیا میں جنت میں جاؤں گا ؟ ہاں یقیناً۔" یہ بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ یہ حفاظت کا جھوٹا احساس ہے ۔ بھائیو اور بہنو، آئیے محتاط رہیں ۔ ہم نے جو کچھ کیا ہے، اس سب کیلئے ہم جوابدہ ہوں گے ۔ اب آیت "مالکِ یومِ الدین" مجھے توازن میں واپس لاتی ہے ۔ دیکھیں ہمارا دین کتنا حکمت سے بھرپور ہے ۔ یہ آپ کو لاپرواہی میں نہیں پڑنے دیتا اور نہ ہی آپ کو مایوسی کا شکار ہونے دیتا ہے ۔ اب غور کریں ۔ دنیا میں ظالم بھی موجود ہیں ۔ ان لوگوں کا تصور کریں جو فلسطینیوں پر ظلم کر رہے ہیں ۔ وہ ہزاروں بچوں کو قتل کر چکے ہیں ۔ میں نے حال ہی میں، واشنگٹن پوسٹ میں ایک آرٹیکل دیکھا ۔ اس میں غزہ میں مارے جانے والے 18,500 بچوں میں سے ایک ایک کا نام درج ہے ۔ اور انہوں نے ان کی کہانیاں بھی شیئر کیں ۔ جب آپ اسکرول کرتے ہیں، تو صفحہ ختم ہونے کو نہیں آتا ۔ ہزاروں بچے، ان کی عمریں لکھی گئی ہیں: 3 سال 4 سال، 5 سال، اور کچھ بچوں کے بارے میں، صرف یہ لکھا ہے " یہ اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مارا گیا ۔" 60,000 افراد جنہیں شہید کیا گیا ان میں سے 31 فیصد بچے تھے ۔ مغرب کے لوگوں کے بارے میں سوچیں جو اقتدار پر قابض ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ انچارج ہیں ۔ وہ حکمرانی کرتے ہیں ۔ انہیں وہ سب ملتا ہے جو وہ چاہتے ہیں ۔ جب وہ کہتے ہیں، "یہ کرو ۔ ان میزائلوں کو فائر کرو" تو یہ واقعتا ہوتا ہے ۔ لیکن اس آیت کا کہنا ہے کہ روزِ جزا کا حقیقی مالک صرف وہ ہے ۔ اس دن سب آنکھیں خوف سے کھلی رہ جائیں گی ۔ ظلم کرنے والے دیکھیں گے کہ اصل حکمران کون ہے ۔ "مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ" - روزِ جزا کا مالک۔ ابھی دنیا میں وہ فخر سے چلتے ہیں، لیکن جلد ہی وہ سر جھکا لیں گے۔ وہ ظالم جو سوچتے ہیں کہ وہ سب سے بڑھ کر ہیں، وہ بھیک مانگیں گے ۔ وہ ان لوگوں سے بھیک مانگیں گے جن کو انہوں نے تکلیف دی ہے ۔ ان کے پیسے اور ہتھیار ان کی مدد نہیں کریں گے ۔ یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ ہمیشہ براہ راست مداخلت نہیں کرتا ۔ لیکن روزِ جزا میں ہر ایک شخص سمجھ جائے گا کہ "مالکِ یومِ الدین" -(روزِ جزا کا مالک) کون ہے ۔ میں نے فلسطینیوں کی کچھ ویڈیوز دیکھی ہیں ۔ ایک بچہ اپنی ماں کی ڈیڈ باڈی کو گھور رہا تھا ۔ وہ خوفناک حالت میں تھی ۔ اور جب بچے نے اس کی طرف دیکھا میں سوچنے سے قاصر تھا کہ اُس کے ذہن میں کیا چل رہا ہوگا ؟ وہ امید کر رہا ہوگا کہ "شاید میری ماں زندہ ہو جائے گی "؟ ایک اور ویڈیو میں، ایک شخص ملبے کے ڈھیر سے کنکریٹ کے ٹکڑے ہٹا رہا تھا۔ ویڈیو بنانے والے شخص نے اس سے پوچھا "آپ کیا کر رہے ہیں ؟" اور اس نے جواب دیا کہ میرے دو یا تین بچے تھے ۔ میں ان کی لاشوں کو تلاش کر رہا ہوں۔" وہ روتا رہا اور پکارتا رہا "صفیہ، صفیہ، صفیہ" ملبے کے اندر سے پکار رہا ہے ۔ اور وہ لوگ جو یہ کر رہے ہیں وہ جو اس کی اجازت دیتے ہیں جو خاموش رہتے ہیں، جو اسے قبول کرتے ہیں کیا تمہیں لگتا ہے کہ تم طاقتور ہو ؟ تمہیں لگتا ہے کہ تم انچارج ہو ؟ کوئی بھی تمہیں "ناں" نہیں کہہ سکتا ؟ لیکن واحد حقیقی مالک روزِ جزا کا مالک اللہ ہے ۔ اور اس دن، تمہارا کوئی اختیار نہیں ہوگا ان لوگوں پر جن پر تم نے ظلم کیا ہے۔ یہاں تک کہ معمولی سا بھی نہیں ۔ نہ صرف تمہارے بڑے جرائم بلکہ تمہاری چھوٹی سے چھوٹی غلطیاں بھی سامنے لائی جائیں گی ۔ ہمیں اس بات کا مکمل یقین ہے ۔ جس دن مظلوم کو انصاف ملے گا وہ ظلم کے دن سے کہیں زیادہ سخت دن ہوگا۔ وہ دن جزا و سزا کا دن ہے ۔ اور اس دن کا مالک صرف ایک ہے ۔ تو اگلی آیت کیا ہے ؟ "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" "ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔" اب پہلی تین آیات کے بعد، کیا آپ نے کچھ محسوس کیا؟ ہم نے "تیری" کہنا شروع کر دیا ہے ۔ شروع میں، ہم اللہ کے نام اور صفات کا علم حاصل کر رہے تھے ۔ "الحمدللہ رب العالمین "۔ ہم نے سیکھا کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں ۔ جو تمام جہانوں کی پرورش اور نگہداشت کرتا ہے ۔ پھر "الرحمٰنِ الرحیمِ"۔ وہ لامتناہی ہمدردی اور رحم سے بھرپور ہے ۔ اس کے بعد، "مالکِ یومِ الدین "۔ وہ روزِ جزا کا مالک ہے ۔ اب تک ہم کہہ رہے تھے "وہ" لیکن اب سے ہم براہ راست کہہ رہے ہیں "تو" ۔ "ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں ۔ اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔" یہ قربت اور خلوص کا اظہار ہے ۔ "نستعین" کے معنیٰ کیا ہیں ؟ اس کا مطلب ہے کہ ہم مدد مانگتے ہیں، مدد طلب کرتے ہیں ۔ یقیناً، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم کہیں نہ جائیں، اور کچھ نہ کریں نہ اسکول جائیں ۔ بلکہ، اپنی ملازمت پر جاؤ، اپنے اسکول جاؤ رزق کے دروازے کھٹکھٹاؤ لیکن یہ یاد رکھو کہ تمہیں روزی دینے والی ذات یہ نہیں جو دروازے کے پیچھے ہے، بلکہ وہ اللہ ہے ۔ جی ہاں، آپ کو اپنی تنخواہ اپنے باس کی طرف سے ملتی ہے لیکن جس پر آپ کو یقین ہونا چاہیے، وہ یہ ہے کہ "مجھے رزق اللہ ہی دیتا ہے ۔ میں صرف اسی سے مدد مانگتا ہوں۔" اب، ہم کہتے ہیں کہ ہم اللہ سے مدد مانگتے ہیں لیکن کس چیز کیلئے مدد ؟ مثال کے طور پر، جب عبادت کی بات آتی ہے ہم کہتے ہیں، "یا اللہ میں آپ سے مدد مانگتا ہوں تاکہ میں اپنی عبادت کو پورا کر سکوں۔ کیونکہ میرا نفس اور شیطان اور ارد گرد کے بہت سے اثرات مجھے آپ سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ لہٰذا میں آپ سے مدد مانگتا ہوں۔" یا ان لوگوں کی مثال سمجھیں، جو یوں کہتے ہیں "ارے یار، تم آج کے زمانے میں دلچسپی کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔" وہ اپنی رقم سود میں لگاتے ہیں اور وہاں سے اس کے بڑھنے کا انتظار کرتے ہیں ۔ لیکن نہیں، ہم صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں، پیسے کی نہیں اور ہم اللہ سے مدد مانگتے ہیں لیکن آپ پیسے سے جڑ چکے ہیں ۔ آپ نے اسے اللہ سے مقدّم کر رکھا ہے ۔ ہم اور کس چیز میں صرف اُسی سے مدد مانگتے ہیں؟ آزمائشیں، مشکلات جو ہمیں اپنی زندگیوں میں درپیش ہیں ۔ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جنہیں ہم پسند نہیں کرتے ۔ ہمیں ایسی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو دل جلا دیتی ہیں۔ نمٹنا مشکل ہوتا ہے۔ ہم کہتے ہیں "یا اللہ، میرا دل تکلیف میں ہے۔ میرا سینہ بھاری محسوس ہوتا ہے ۔ میں اس ڈپریشن اور سٹرگل سے باہر نکلنا چاہتا ہوں ۔ یا اللہ، ہم صرف تجھ سے مدد مانگتے ہیں۔" ہم دراصل سورۃ الفاتحہ میں یہی کہہ رہے ہوتے ہیں، جب ہم کہتے ہیں ”ایاک نعبد و ایاک نستعین “ (ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں )۔ کیا آپ نے کبھی مشہور مفسر علامہ بدیع الزمانؒ کی لفظ "ن" کی تشریح کے بارے میں سنا ہے؟ یعنی عربی حرف نون ایک دن، نماز پڑھتے ہوئے، علامہ بدیع الزمانؒ نے ”ایاک نعبد و ایاک نستعین “کے "ن" میں ایک حکمت نوٹ فرمائی ۔ ان کا سوال تھا کہ ہم "میں" کی بجائے "ہم" کیوں کہتے ہیں ؟" پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ایک خوبصورت الہام فرمایا اور ان پر غور و فکر کی ایک کھڑکی کھول دی۔ انہوں نے مسجد میں ارد گرد دوسرے لوگوں کی طرف دیکھا اور انہیں احساس ہوا کہ وہ سب بھی یہی لفظ کہہ رہے ہیں ۔ "یا اللہ، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ۔" انہیں ایسا لگتا ہے جیسے وہ ان کی دعا پر آمین کہہ رہے ہیں ۔ صرف وہاں ہونے کی وجہ سے ۔ اس کے بعد ان کی عکاسی گہری ہوتی چلی جاتی ہے ۔ وہ پورے شہر کا تصور کرتے ہیں جہاں سب لوگ ایک ہی وقت میں ایک ہی انداز میں یہ آیت پڑھ رہے ہوں پھر دائرہ اور وسیع ہو جاتا ہے ۔ وہ خانہ کعبہ کے گرد لوگوں کی گول قطاروں کا تصور کرتے ہیں قطاریں ایک ایک کرکے پھیل رہی ہیں ۔ اور پوری دنیا میں جس کے درمیان میں کعبہ ہے پوری امتِ مسلمہ اپنی نماز میں یہی سچائی بیان کر رہی ہے: ”ایاک نعبد و ایاک نستعین “ یہی وجہ ہے کہ ہم "میں" کی بجائے "ہم" کہہ رہے ہیں ۔ وہ "ن" کا ایک حرف عکاسی کا دروازہ کھولتا ہے جو انفرادی عبادت سے پوری امت مسلمہ کی اجتماعی دعا تک لے جاتی ہے۔ پھر وہ اپنے جسم کے اعضاء کے بارے میں سوچنا شروع کرتے ہیں ۔ وہ عکاسی کرتے ہیں کہ انہیں کیسے کامل طور پر تخلیق کیا گیا اور کیسے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کون ہے ۔ وہ سوچتے ہیں کہ وہ جس طرح بنائے گئے ہیں اُسی انداز میں اللہ کی تعریف کرتے ہیں۔ اب وہ کہتے ہیں ”ایاک نعبد و ایاک نستعین “ اپنے جسم کے تمام ایٹمز کو اپنے گرد اکٹھا کرتے ہوئے، یہ تصور کہ ہر ایٹم کہتا ہے ”ایاک نعبد و ایاک نستعین “ پھر وہ سوچتے ہیں کہ پوری کائنات اللہ کے ناموں اور اس کی صفات کی انتہائی خوبصورت عکاسی کرتی ہے ۔ اس سوچ سے، وہ اپنے آپ کو ان سب کے اندر تصور کرتے ہیں اور کہتے ہیں ”ایاک نعبد و ایاک نستعین “ کتنا گہرا اور طاقتور مطلب ہے، رائٹ ؟ یہ یاد دلاتا ہے کہ "ہم" کا لفظ صرف گرائمر ہی نہیں ہے بلکہ ایک روحانی پُل ہے، جو ہر ایمان والے کو کائنات کے ہر اس ذرے سے جوڑ دیتا ہے جو اللہ کی حمد کر رہا ہے ۔ بھائیو اور بہنو!

جب آپ نماز میں یہ آیت پڑھتے ہیں تو جان لیں کہ آپ کی آواز شکر و حمد کے ایک عالمی اور آفاقی ترانے میں شامل ہو جاتی ہے۔ اب ہم اگلی آیت کی طرف آتے ہیں " اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ" جس کا مطلب ہے "ہمیں سیدھا راستہ دکھا ۔" تو، جب آپ یہ ایت سنتے ہیں آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے ؟ آس پاس ایک نظر ڈالیں ۔ کیا آپ نے نوٹ کیا ہے کہ ارد گرد کتنے مختلف عقائد و نطریات موجود ہیں ؟ انڈیا سے آنے والے ایک شخص نے ایک بار مجھے عجیب بات بتائی ۔ وہاں چلتے ہوئے وہ ایک ہجوم کے پاس پہنچا ۔ تقریباً 100 یا 200 افراد ایک سمت میں ایک ساتھ چل رہے تھے ۔ اور درمیان میں ایک آدمی جو بالکل ننگا تھا اور سب اس کے پیچھے چل رہے تھے ۔ کیوں ؟ کیونکہ وہ ان کے لئے ایک مقدس شخصیت تھی کوئی خاص، بہت پہنچی ہوئی ہستی ۔ اس طرح کے بہت سے عقائد ہیں ہزاروں عقائد ہیں ۔ یہاں تک کہ ایسے لوگ بھی ہیں جو سورج کی پرستش کرتے ہیں ۔ بہت سے مختلف آئیڈیاز اور عقائد کے نظام موجود ہیں ۔ ان تمام مختلف راستوں کے ساتھ، انسان کے دل سے یہ احساس خود بخود اُبھرتا ہے کہ: “یا اللہ!

اتنے سارے عقائد اتنے سارے راستے موجود ہیں پلیز پلیز! مجھے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما دیجیے۔” اور یہ صرف مذہب کے بارے میں ہی نہیں ہے ۔ یہ ساری زندگی پر لاگو ہوتا ہے ۔ ہماری زندگی میں، بہت سے چوراہے آتے ہیں ہے نا ؟ کیا مجھے یہ منتخب کرنا چاہیے یا وہ ؟ کیا مجھے اسے اپنے بچے کی تعلیم کیلئے چننا چاہیے یا کسی اور کو ؟ زندگی انتخابات اور فیصلوں سے بھری ہوئی ہے ۔ ہم ہزاروں فیصلے کرتے ہیں صرف ایک سال میں۔ لیکن ہم کبھی یقین سے نہیں جانتے کہ وہ انتخاب ہمیں سیدھے راستے پر لے جائے گا یا کسی بند گلی میں ۔ لہٰذا اگلی آیت میں ہم کہتے ہیں، " اهدنا الصراط المستقيم". اے اللہ!

مجھے سیدھا راستہ دکھا ۔ سیدھا راستہ کیا ہے ؟ یہ بالکل بھی بائیں ہیں دائیں نہیں بھٹکتا سیدھا جاتا ہے۔ ایک راستہ بند گلی کی طرف لے جا سکتا ہے جبکہ دوسرا راستہ منزل تک پہنچا سکتا ہے لیکن یہ آپ کو بہت دور گھما کر لاتا ہے ۔ لیکن ایک سیدھا راستہ ہے اور یہی وہ ہے جس کی ہم دعا کر رہے ہیں ۔ کتنی خوبصورت دعا ہے، ہے نا ؟ سورت کے آغاز میں ہم نے سیکھا کہ اللہ کون ہے اور اس کی صفات کیا ہیں ۔ پھر ہم نے سیکھا کہ ہمیں کس سے دعا کرنی چاہیے پھر ہم نے ایک خوبصورت دعا کی ۔ آپ کا دل چاہتا ہے کہ اسے بار بار دہراتے رہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ہمیں سورۃ الفاتحہ کے ذریعہ یہ دعا دن میں چالیس بار دہرانے پر لگا دیا ہے۔ الحمدللہ۔ اگلی آیت کیا ہے ؟ "صصراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالينَ" جس کا مطلب ہے "اُن لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام فرمایا ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی ۔" پچھلی آیت میں، ہم نے کیا کہا ؟ ”ہمیں سیدھا راستہ دکھا“ تو سیدھا راستہ کیا ہے ؟ اگلی آیت ہمیں جواب دیتی ہے: "اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا ۔" اور کونسا راستہ سیدھا نہیں ہے ؟ "ان کا راستہ نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ ہی گمراہوں کا۔" یہ اگلی آیت ہمیں واضح طور پر نہ صرف وہ بتاتی ہے جو ہم نے مانگا ہے بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ کس چیز سے دور رہنا ہے ۔ ہر روز جب ہم سورۃ الفاتحہ پڑھ رہے ہوتے ہیں ہم اصل میں اپنے لئے دعا کر رہے ہوتے ہیں ۔ “یا اللہ!

ہمیں اُن لوگوں کے راستے کی ہدایت دے جن پر تُو نے اپنا انعام فرمایا ۔” تو یہ خوش نصیب آخر لوگ کون ہیں ؟ اس کی وضاحت سورۃ النساء آیت نمبر 69 میں کی گئی ہے ۔ اللہ فرماتا ہے: '' اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ (قیامت کے روز) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے۔" تو، جب ہم ان نیک لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ ہم اصل میں سیدھے راستے پر چلتے ہیں ۔ اب، آئیے آہستہ آہستہ ایک ساتھ دوبارہ ترجمہ پڑھیں ۔ اس بار معانی اس سے بھی زیادہ گہرائی میں محسوس ہوں گے۔ ان شاء اللہ ۔ تو بس وہ معانی یاد رکھنے کی کوشش کریں جو میں نے آپ کو بتائے ہیں ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۔ تصور کریں، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۔ میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہتا ہوں ۔ "الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے) "الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ" سب پر رحم کرنے والا، بے حد رحم کرنے والا ۔ "مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِ" - روزِ جزا کا مالک۔ "إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ" (ہم صرف تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں )۔ "اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ" (ہمیں سیدھا راستہ دکھا )۔ "صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ" ان کا نہیں جن پر غضب کیا گیا، اور نہ گمراہوں کا راستہ ۔) آمین ۔ سورۃ الفاتحہ اب مکمل ہو چکی ہے ۔ ان شاءاللہ، ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے ۔ ہر سبق کے ساتھ ہم شعور میں اضافہ کریں گے، اور ان شاءاللہ ہم اپنی نماز کو ایک بہت گہرے اور زیادہ غور و فکر والے درجے تک لے جائیں گے۔ ہم ان سورتوں کے بارے میں بات کرتے رہیں گے جن کی ہم روزانہ نماز میں تلاوت کرتے ہیں جب تک کہ ان کے معانی ہمارے دلوں تک نہ پہنچ جائیں ۔ ہم احادیثِ نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ جانتے ہیں کہ علم کے ساتھ کی گئی عبادت اُس عبادت سے کہیں زیادہ قیمتی ہے جو بغیر علم کے کی جائے۔ سورۃ الفاتحہ صرف ایک آغاز تھا ۔ اس کے بعد، ہم پڑھیں گے سورۃ الفلق اور اور سورۃ الناس ۔ جو اپنے حفاظتی معانی کے لئے جانی جاتی ہیں ۔ اس کے بعد ہم ثناء کا احاطہ کریں گے جو "سبحانک اللہمّ" ہے (اے اللہ، تیری ذات پاک ہے )۔ ان سب میں بہت خوبصورت اور گہرے معانی پوشیدہ ہیں ۔ ان شاءاللہ، جب ہم یہ سیریز مکمل کر لیں تو اللہ تعالیٰ ہم سب کو گہرے جذبات و احساسات کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔