Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Seerat-E-Tayyaba ﷺ – Duniya Mein Pehli Bar, AI Se Banayi Gayi ''Seerah Series!''– Aey Rasool | Ep. 1

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

ہم انسانی تاریخ کے فیصلہ کن موڑ کی جانب واپس جا رہے ہیں۔ آج سے تقریباً 1400 سال پہلے جزیرہ نما عرب کی طرف۔ اس 11 اقساط پر مبنی سیریز میں، ہم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیاتِ طیبہ کو ایک ایسے انداز میں دیکھیں گے، جو آپ نے پہلے کبھی تصور نہیں کیا ہوگا۔ کبھی ہم خود کو نزولِ وحی کے ابتدائی دنوں میں پائیں گے۔ دارِ ارقم میں مسلمانوں کی خفیہ نشستوں کے درمیان۔ تو کبھی ہمارا جوش و خروش بڑھ جائے گا جب ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھیں گے جو نڈر ہو کر مکہ کے بت پرستوں کی طرف بڑھ رہے ہوں گے۔ جو کوئی محمد ﷺ کو قتل کرے گا، میں اسے انعام میں سو سرخ اور کالی اونٹنیاں دوں گا۔ جو محمد ﷺ کی پیروی کرتے ہیں، ان کا یہی انجام ہوتا ہے۔ اسے ایک عبرت سمجھو۔ ایسے لمحات بھی آئیں گے جب ہم غمگین ہوں گے اور آنکھیں بھیگ جائیں گی۔ جب ہم خوف محسوس کریں گے، اور ایسے لمحات جب ہم مسکرائے بنا نہیں رہ سکیں گے۔ لیکن اکثر اوقات، ہمارے دل سکون سے لبریز رہیں گے۔ ایک ایسے نبی ﷺ کی داستان سے جنہوں نے ہمیں ڈٹ جانا سکھایا یہاں تک کہ انتہائی مایوس کن حالات میں بھی، ہم سیکھیں گے کہ اپنی زندگی کی بند گلیوں اور مشکلات پر کیسے قابو پانا ہے۔ ہم صرف واقعات کو دیکھیں گے نہیں، بلکہ ہم ان کے پیچھے چھپے گہرے معانی کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ یہ سفر آپ کو ایک بالکل نئی راہ پر لے جائے گا اور آپ اپنی اصل پہچان دوبارہ پا لیں گے۔ یہ کہانی ہے اللہ کے سب سے پیارے محبوب کی۔ وہ ہستی جس نے اپنی پوری زندگی امت کے لیے قربان کر دی، جنہیں منافقین کی طرف سے بار بار دھوکہ دیا گیا اور بہتان لگائے گئے۔ ایسا وقت بھی آیا جب وہ مہینوں بھوکے رہے، اور ایسے لمحات بھی آئے جب انہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا اور اپنے ہاتھوں سے دفن کیا۔ وہ لوگوں کو نور اور ہدایت کی طرف بلاتے رہے، لیکن بدلے میں، ان پر پتھر برسائے گئے۔ میں نے آج تک اپنے خاندان کے لیے اتنی برائی اور مصیبت لاتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا کہ تم لائے ہو۔ انہیں بے شمار بار قاتلانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ایک لمحے کے لیے بھی انہوں نے اپنے مشن کو ترک نہیں کیا۔ اور آخر میں، اللہ نے اپنے وفادار بندے سے کیا ہوا وعدہ پورا کر دیا۔ ہم اب 23 سالہ بے مثال سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔ ہم ایک ایسی غیر معمولی ہستی کی کہانی دیکھیں گے جس نے اس مشن کا تنہا آغاز کیا، اور پوری دنیا کے سامنے ڈٹ گئے، اور آج دو ارب سے زائد پیروکار ان کے پیچھے کھڑے ہیں۔ اگر آپ تیار ہیں، تو چلیے شروع کرتے ہیں۔ صلِ علیٰ محمد۔ یہ ویڈیو سیریز معتبر اسلامی ذرائع سے لیے گئے سینکڑوں حوالہ جات پر مبنی ہے۔ تمام AI مناظر مستند علمائے کرام کی مشاورت سے تیار کیے گئے ہیں اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہیں۔ اس رات، جب مکہ کی گرمی کچھ کم ہوئی تھی۔ وہ پیر کا دن تھا اور سال 571 عیسوی۔ مکہ کی خاموش گلیاں انسانی تاریخ کی سب سے عظیم واقعات میں سے ایک کی گواہ بننے والی تھیں۔ عبد المطلب طویل عرصے سے اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے۔ اور بالاآخر، انہیں وہ خوشخبری مل گئی۔ آمنہ کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی ہے۔ خوشی سے ان کا دل پھٹنے کو تھا۔ جب سے ان کے بیٹے عبداللہ کا انتقال ہوا تھا، اس بچے کے لیے ان کی محبت اور فکر، جو ان کی بہو آمنہ کی گود میں تھا، اور بھی زیادہ بڑھ گئی تھی۔ ذرا اس رات کو تصور کریں۔ عبد المطلب تیزی سے گھر پہنچتے ہیں، اپنے نوزائیدہ پوتے کو پیار سے اپنی بانہوں میں اٹھاتے ہیں، اور کعبہ کی طرف چل پڑتے ہیں۔ وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں، دعا کرتے ہیں، اور بچے کا نام محمد رکھتے ہیں۔ آپ نے یہ نام کیوں منتخب کیا؟ کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ اللہ اور دنیا اس کی تعریف کریں۔ یہ نام بی بی آمنہ کو خواب میں بتایا گیا تھا۔ اور جب انہوں نے عبد المطلب کو یہ بتایا، تو انہوں نے یہی نام رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے شوہر عبداللہ کی چھوڑی ہوئی نشانی کو خیریت سے دنیا میں لانے پر بی بی آمنہ کو بہت سکون اور راحت ملی۔ اس زمانے میں مکہ میں، یہ ایک عام رواج تھا کہ بچوں کو دائیوں کے پاس بھیج دیا جاتا تھا۔ وہ خواتین جو دودھ پلاتیں اور دیکھ بھال کرتیں۔ تاکہ وہ کچھ عرصے کے لیے مکہ کے سخت موسم سے دور رہ سکیں۔ بے شک، اپنے نوزائیدہ بچے سے جدا ہونا ایک ماں کے لیے بہت مشکل تھا۔ لیکن اس کی دو اہم وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ بچے کی صحت تھی۔ جیسا کہ ہم نے بتایا، مکہ کا موسم نوزائیدہ بچوں کے لیے موزوں نہیں تھا۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ بچے کو بہترین زبان اور بول چال کی مہارت سیکھنے میں مدد مل سکے۔ اس دور میں، فصاحت اور موثر گفتگو عرب معاشرے کی روح سمجھی جاتی تھی۔ بچوں کو بنو سعد کے علاقے میں بھیجا جاتا تھا جہاں وہ صحراؤں اور کھلے میدانوں میں آزادی سے پرورش پا سکیں اور اپنی خالص اور خوبصورت ترین شکل میں عربی زبان سیکھ سکیں۔ اس علاقے سے آنے والی دائیاں عام طور پر امیر اور معزز خاندانوں کے بچوں کی تلاش میں ہوتی تھیں۔ کیونکہ اس رشتے کے ذریعے، ان کا بچے کے خاندان کے ساتھ تعلق بن جاتا، اور جب تک باپ زندہ رہتا، وہ ان سے مہربانی اور مدد حاصل کرتی رہتیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تعلق بھی ایک معزز خاندان سے تھا۔ آپ کے دادا عبد المطلب مکہ کے سردارتھے۔ لیکن بوڑھے ہو چکے تھے۔ اور آپ کے والد آپ کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ اور چونکہ آپ یتیم تھے، اس لیے کوئی بھی دائی آمنہ کے بچے کو لینے پر راضی نہیں تھی۔ تو اب کیا ہوگا؟ کیا انہیں کوئی نہیں لے گا؟ کیا انہیں اسی شہر کے سخت موسم میں پرورش لینی ہوگی؟ بی بی آمنہ وہاں بے بسی سے کھڑی، دیکھ رہی تھیں کہ دائیاں ایک ایک کرکے بچے لے جا رہی ہیں اور مکہ سے روانہ ہو رہی ہیں۔ اسی دوران، حلیمہ اور ان کے شوہر حارث باقی سب کے بعد وہاں پہنچے۔ کیونکہ ان کی سواری کمزور اور ضعیف تھی، اس لیے انہیں باری باری اس پر بیٹھنا پڑا۔ اور وہ وقت پر نہیں پہنچ سکے۔ حلیمہ نے بہت تلاش کیا، لیکن انہیں مکہ میں کوئی ایسا نہ ملا جو اپنا بچہ انہیں دیتا۔ اتنی مشقت اٹھا کر وہاں پہنچنے کے بعد، اب وہ خالی ہاتھ گھر واپس جانے والی تھیں۔ ان کے علاقے میں قحط بھی پڑا ہوا تھا۔ اور انہیں اپنا پیٹ پالنے میں بھی دشواری ہو رہی تھی۔ یکے بعد دیگر آنے والی تمام مصیبتوں نے انہیں بہت اداس کر دیا تھا۔ جب وہ اپنی ان تمام سوچوں میں گم تھیں، اچانک ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی۔ یہ عبد المطلب تھے۔ تھوڑی دیر بات کرنے کے بعد، انہیں ان کے پوتے کے حالات کا علم ہوا۔ پھر انہوں نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ ان کا کیا خیال ہے۔ مجھے دودھ پلانے کے لیے کوئی بچہ نہیں ملا۔ اور میں دوسروں کے سامنے خالی ہاتھ واپس نہیں جانا چاہتی۔ اسے لے جانے میں کوئی حرج نہیں۔ شاید اللہ ہمیں اس کی وجہ سے برکتیں اور بھلائی عطا فرمائے۔ سب سے بڑی نعمت بالکل ان کے سامنے ظاہر ہو چکی تھی جب انہیں اس کی توقع بھی نہیں تھی۔ لیکن حلیمہ کو ابھی بھی اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے کتنا انمول خزانہ پا لیا ہے۔ دوسری طرف، آمنہ کی حالت کا تصور کریں۔ وہ پہلے ہی اپنے پیارے شوہر کو کھو چکی تھیں۔ اور اپنے بچے کو ایک بار بھی ان کی گود میں نہیں دے سکی تھیں۔ اور اب، ان سب کے اوپر، وہ اپنے بچے سے بھی جدا ہونے والی تھیں۔ لیکن کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ آنکھوں میں آنسو لیے، انہوں نے عبداللہ کی نشانی، اپنے محمد کو حلیمہ کے حوالے کر دیا۔ وہ ایک طویل عرصے کے لیے اپنے بیٹے سے دور ہونے والی تھیں۔ وہ نہ تو ان کی خوشبو سونگھ سکتی تھیں اور نہ انہیں گلے لگا سکتی تھیں۔ وہ ان کے پہلے قدم دیکھنے یا ان کے پہلے الفاظ سننے کے لیے وہاں موجود نہیں ہوں گی۔ ایک ماں کے لیے، اپنے بچے سے صرف ایک گھنٹے کی دوری بھی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ لیکن بچے کے مستقبل کی خاطر، انہوں نے اتنے طویل عرصے کی جدائی قبول کر لی۔ ان کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا تھا۔ جہاں تک حلیمہ اور ان کے خاندان کا تعلق تھا، ایک بالکل نئی زندگی شروع ہونے والی تھی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد کے ساتھ ہی، ان کا گھر برکتوں اور خوشحالی سے بھر گیا۔ ایسے واقعات ہوئے جن پر کسی کو یقین نہیں آرہا تھا۔ ان کی ضعیف اور کمزور سواری اچانک توانا اور تیز رفتار ہو گئی۔ حلیمہ کا دودھ بھی بہت کم ہوا کرتا تھا۔ لیکن جیسے ہی انہوں نے نبی پاک ﷺ کو دودھ پلانا شروع کیا، ان کا دودھ کثرت سے اترنے لگا۔ ان کا اپنا نوزائیدہ بچہ عبداللہ اکثر بے چین رہتا اور بہت روتا تھا۔ لیکن جب اس نے نبی پاک ﷺ کے ساتھ دودھ پینا شروع کیا، تو وہ بھی پرسکون ہو گیا۔ ان کے جانور جو علاقے میں قحط اور خشک سالی کی وجہ سے بھوکے واپس آتے تھے، اب پیٹ بھر کر کھا رہے تھے اور خوب دودھ دے رہے تھے۔ ان کا گھر برکت سے بھرا ہوا تھا، جبکہ آس پاس کے علاقے ابھی بھی قحط کا شکار تھے۔ اس دوران، نبی پاک ﷺ کی نشوونما بہت بہترین رہی۔ جسمانی، ذہنی اور روحانی اعتبار سے۔ آخرکار، چار بابرکت سال ختم ہوئے۔ وقت آ گیا تھا۔ انہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی والدہ کے پاس واپس چھوڑنا تھا۔ حلیمہ اپنے آنسو نہ روک سکیں۔ وہ ان سے جدا نہیں ہونا چاہتی تھیں۔ انہوں نے انہیں گلے لگایا، اور بار بار ماتھے کا بوسہ لیا۔ لیکن ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ ایک طویل جدائی کے بعد، آمنہ اور ان کا بیٹا آخرکار پھر سے ساتھ تھے۔ اب، جب بھی وہ ان کا ہاتھ تھامنا چاہتیں، وہ وہیں ان کے پاس ہوتے۔ انہوں نے ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھام لیا، جیسے وہ جدائی کے ہر گزرے دن کی کمی پوری کر رہے ہوں۔ وہ دوبارہ کبھی جدا نہیں ہونا چاہتے تھے۔ اس ملاپ نے ان طویل سالوں کی جدائی کے درد کو کم کرنے میں مدد کی۔ ڈیڑھ سال ساتھ گزارنے کے بعد، وہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے اور والد کی قبر پر جانے کے لیے مدینہ گئے۔ جب وہ قبر پر پہنچے، تو آمنہ کی آنکھوں میں غم صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ ان کا ذہن اور دل ان دنوں کی یاد سے بھر گیا تھا جو انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ گزارے تھے۔ جیسے انہوں نے انہیں ابھی کھویا ہو، وہ رونے لگیں۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یتیم پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے باپ کے بغیر اس دنیا میں آنکھ کھولی تھی۔ وہ کبھی ان کی محبت اور شفقت کی گرمجوشی محسوس نہیں کر پائے تھے۔ اپنے ننھے ہاتھوں سے، وہ ہمیشہ اپنے والد کا ہاتھ تھامنا چاہتے تھے۔ لیکن وہ وہاں کبھی نہیں تھے۔ اور اس لمحے، انہوں نے اپنے والد کی کمی ایک بار پھر شدت سے محسوس کی۔ اور ساتھ ہی، وہ اپنی ماں کو اتنی تکلیف میں دیکھنا برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔ اور یوں، وہ دونوں مل کر رونے لگے۔ کم از کم ان کی ماں ان کے ساتھ تھیں۔ اس سے انہیں تسلی تھی۔ لیکن آمنہ کے لیے بھی، اس دنیا سے رخصت ہونے کا وقت قریب آ رہا تھا۔ وہ جلد ہی اپنے شوہر سے جا ملیں گی۔ اپنے بیٹے کے ساتھ ان کا ساتھ زیادہ دیر نہیں رہا۔ مکہ واپسی کے راستے میں، وہ بیمار ہو گئیں۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف چھ سال کے تھے۔ جب وہ ابواء نامی مقام پر پہنچے، تو ان کی بیماری بڑھ گئی۔ وہ شدید تکلیف میں تھیں۔ لیکن دو چیزیں انہیں اور زیادہ تکلیف دے رہی تھیں۔ اپنے بچے کو تنہا چھوڑ جانے کا خیال، اور یہ جاننا کہ اتنی کم عمری میں، اب اسے ماں اور باپ دونوں کے بغیر زندگی گزارنی ہوگی۔ جیسے جیسے ان کے آخری لمحات قریب آئے، انہوں نے اپنے بیٹے کو دیکھا۔ ان کے چہرے کے تاثرات الفاظ سے کہیں زیادہ بیان کر رہے تھے۔ اپنی آخری سانس سے ٹھیک پہلے، انہوں نے اپنے بیٹے سے یہ الفاظ کہے: ہر جاندار کو مرنا ہے۔ ہر نئی چیز پرانی ہو جاتی ہے۔ اور ہر بوڑھے کو بالآخر موت آنی ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز عارضی ہے اور ختم ہو جائے گی۔ ہاں، میں بھی مر جاؤں گی۔ لیکن میرا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ کیونکہ میں نے ایک پاکیزہ اور نیک بچے کو جنم دیا ہے، ایسا کوئی جو مجھے اچھائی کے ساتھ یاد رکھے گا۔ کچھ ہی لمحوں بعد، ان کی آواز مدہم ہو گئی، اور ان کا جسم ساکت ہو گیا۔ باقی رہ جانے والی واحد آواز نبی کریم ﷺ کے آنسوؤں کی تھی۔ ان کا معصوم دل ایک ناقابل بیان درد سے جل رہا تھا۔ ایک سفر جو والد کی قبر کی زیارت کے لیے شروع ہوا تھا، ماں کو دفنانے پر ختم ہوا۔ باپ کو کھودینے کے بعد، اب ماں کو بھی کھو دینا۔ نہ جانے کتنے سالوں تک وہ الفاظ ان کے کانوں میں گونجتے رہے۔ جب بھی دوسرے بچے "ماں" پکارتے، ان کی نظریں زمین پر جھک جاتیں۔ اپنی نم آنکھوں میں، وہ ہمیشہ اپنی سب سے پیاری ہستی کے آخری لمحات کو یاد کرتے۔ ان لمحات میں، ان کی خادمہ، امِ ایمن، ان کے ساتھ تھیں۔ انہوں نے ننھے محمد ﷺ کو تسلی دی اور ان کے آنسو پونچھے۔ اس دن سے، وہ انہیں پیار اور دیکھ بھال دینے کے لیے ہمیشہ موجود رہیں، اور اس خلا کو پر کرنے کی پوری کوشش کی جو ان کی ماں چھوڑ گئی تھیں۔ وہ 25 سال کی عمر اور شادی ہونے تک ان کے ساتھ رہیں اور ان کی خدمت کی۔ ظہورِ اسلام کے بعد بھی، انہوں نے دین کے لیے بڑی قربانیاں دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ نبی پاک ﷺ کی زندگی میں ان کا مقام اتنا خاص تھا، اور انہوں نے اتنی ممتا دی کہ نبی پاک ﷺ بعد میں ان کے بارے میں فرماتے: "یہ میری ماں کے بعد میری ماں ہیں۔" جب وہ مکہ واپس آئے، تو ان کے دادا عبد المطلب نے انہیں اپنی کفالت میں لے لیا۔ وہ انہیں ہمیشہ اپنے قریب رکھتے۔ وہ کھانا کھانے بھی تب تک نہ بیٹھتے جب تک ان کا پوتا ان کے ساتھ نہ ہوتا۔ چونکہ عبد المطلب اپنے قبیلے کے سردار تھے، اس لیے ان کا تخت کعبہ کے سائے میں بچھایا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے بیٹوں کو بھی اس پر بیٹھنے کی اجازت نہ تھی۔ لیکن ان کے چھے سالہ پوتے محمد ﷺ وہاں بیٹھ جاتے۔ ان کے علاوہ کسی اور کو اجازت نہیں تھی۔ جب دوسرے انہیں روکنے کی کوشش کرتے، تو وہ کہتے: میرے بیٹے کو چھوڑ دو۔ اللہ کی قسم، ایک دن اس کی بڑی شان اور عزت ہوگی۔ کم عمری میں ہی، انہوں نے دیکھا کہ ان کے دادا مکہ کا نظام کیسے چلاتے ہیں۔ وہاں انہوں نے جو کچھ بھی دیکھا وہ انہیں مستقبل کے قائد کے طور پر تیار کر رہا تھا۔ وقتاً فوقتاً، عبد المطلب انہیں کچھ ذمہ داریاں اور کام بھی سونپتے تھے۔ پوتے کو اپنے دادا کا، اور دادا کو اپنے پوتے کا بے حد احترام اور شفقت تھی۔ وہ ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ تاہم، یہ تعلق بھی زیادہ دیر تک نہ چل سکا۔ صرف دو سال بعد، انہوں نے اپنے دادا کو بھی کھو دیا۔ جس سے بھی وہ مانوس ہوتے، اللہ اسے ایک ایک کر کے واپس لے لیتا۔ گویا انہیں یہ پیغام دینا تھا: "تمہارا واحد سہارا میں ہوں۔" اپنی پوری زندگی میں، وہ اپنے بہت سے ساتھیوں کو بھی کھونے والے تھے۔ اپنی زندگی میں ہی، وہ اپنے سات میں سے چھ بچوں کو کھونے والے تھے۔ جیسا کہ آپ اس سیریز کی ہر قسط میں دیکھیں گے، انہیں لاتعداد مشکلات اور تکلیفوں سے گزرنا پڑے گا۔ اور چونکہ انہوں نے ہر قسم کے درد اور مشکل کا تجربہ کرنا تھا، اس لیے انہوں نے اپنی امت کو درپیش ہر مصیبت کو سمجھنے والا بننا تھا۔ اسی طرح وہ ہمارے لیے بہترین رہنما اور ہادی بننے والے تھے۔ اگر انہوں نے آسان زندگی گزاری ہوتی اور اللہ نے انہیں کوئی سختی یا آزمائش نہ دی ہوتی، تو وہ پوری انسانیت کے لیے رول ماڈل کیسے بن سکتے تھے؟ وہ تمام شفقت اور محبت جو انہیں اپنے آس پاس کے لوگوں سے ابتدائی سالوں میں ملی، وہ مختلف آئینوں میں سورج کے عکس کی طرح تھی۔ لیکن اس شفقت کا حقیقی مالک، اللہ، ان آئینوں کو ہٹا رہا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، وہ ان کے پیاروں کو ایک ایک کر کے لے رہا تھا۔ ایسا کر کے، اللہ انہیں تمام محبتوں کا حقیقی سرچشمہ دکھا رہا تھا، اور یہ سکھا رہا تھا کہ ہر نعمت صرف اسی کی طرف سے آتی ہے۔ کہ صرف وہی حقیقی طور پر ابدی ہے، اور اگر وہ چاہے، تو وہ انسانوں کو بھی ہمیشگی عطا کر سکتا ہے۔ اگر وہ چاہے، تو وہ تمام لوگ جو بچھڑ گئے ہیں ایک ابدی دنیا میں، جنت میں، دوبارہ مل سکتے ہیں۔ اس طرح، اللہ آخرت کے اس عقیدے کی بنیادیں رکھ رہا تھا جو وہ بعد میں ان پر ظاہر کرنے والا تھا۔ جب آپ اس بارے میں سوچتے ہیں کہ ہمارے نبی پاک ﷺ نے اتنی کم عمری میں کیا کچھ سہا، تو آپ گہرے غور و فکر پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی طرف سے احتیاط سے منصوبہ بند تھا۔ ہر وہ مشکل اور آزمائش جو اللہ نے انہیں دی انہیں مزید پختہ اور مضبوط بنانے کے لیے تھی۔ کیونکہ مستقبل میں، انہیں ایک بہت بھاری ذمہ داری سونپی جانے والی تھی۔ بچپن سے ہی، ان کی پرورش شہر میں نہیں بلکہ کھلے میدانوں میں ہوئی تھی۔ اسی لیے وہ ایک آزاد طبیعت کے مالک تھے۔ وہ جسمانی طور پر مضبوط اور زبان و بیان کے ماہر تھے۔ اس گھر کو ملا کر جس میں وہ اب منتقل ہونے والے تھے، جوانی کو پہنچنے تک وہ پانچ مختلف گھروں میں رہ چکے تھے۔ ان تجربات کے ذریعے، انہوں نے سیکھا کہ مختلف قسم کے لوگوں کے ساتھ کیسے رہنا ہے۔ اور جب وہ اپنے دادا کے ساتھ رہ رہے تھے، تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شہر کا انتظام کیسے چلایا جاتا ہے۔ ان کے والدین نہیں تھے، لیکن ان کی پرورش تین مختلف ماؤں اور تین مختلف باپوں نے کی، جن میں سے ہر ایک کا کردار اور شخصیت منفرد تھی۔ ان کی اپنی والدہ کے علاوہ، ان کی دائی حلیمہ تھیں، اور والد کے طور پر، ان کے شوہر حارث۔ ان کی خادمہ امِ ایمن نے انہیں اپنے انداز میں ماں جیسی دیکھ بھال دی، جبکہ ان کے دادا عبد المطلب ایک مختلف انداز میں ان کے لیے باپ بنے۔ اور آخر کار، ان کے چچا ابو طالب نے انہیں پدری شفقت کے ساتھ اپنی سرپرستی میں لیا۔ اور ان کی بیوی فاطمہ بنت اسدنے انہیں وہی توجہ اور محبت دی جو وہ اپنے بچوں کو دیتی تھیں، اور ان کے درمیان کبھی کوئی فرق نہیں کیا۔ انہیں اتنی محبت اور دیکھ بھال ملی کہ بعد میں زندگی میں، وہ ان تینوں خواتین کو "میری ماں کے بعد میری ماں" قرار دیتے۔ "ٹورڈز ایٹرنٹی" (Towards Eternity) کے طور پر، ہم نے آپ کے لیے یہ AI ویژولائزڈ سیریز لانے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔ اور اب، ہم انبیاءِ کرام اور خلفائے راشدین کی نئی سیریز تیار کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ ہم ایک غیر منافع بخش تنظیم ہیں، ہم صرف آپ کے تعاون سے ہی یہ ویڈیوز تیار کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا، اس سیریز میں کوئی اشتہار نہیں ہے۔ اگر آپ ان نیکیوں کا حصہ بننا چاہتے ہیں، تو ٹورڈز ایٹرنٹی کو عطیہ کریں اور اس سنہری موقع کو ضائع نہ کریں۔ ان کی زندگی میں کچھ بھی اتفاقی نہیں تھا۔ اس کا ہر حصہ، 40 سال کی عمر تک، انہیں نبوت کی بھاری ذمہ داری کے لیے تیار کرنے کے لیے تھا۔ کیونکہ ان کے سامنے جو زندگی پڑی تھی وہ مشکلات سے بھری تھی۔ وحی کا بھاری بوجھ۔ بائیکاٹ کے وہ سال، جہاں انہیں فاقوں پر مجبور کیا جانے والا تھا تاکہ وہ اپنے مشن سے دستبردار ہو جائیں۔ مکہ میں قریش کے مظالم۔ اگر میں اسے ایسا کرتے دیکھتا، تو میں اس کی گردن کچل دیتا یا اس کے چہرے کو مٹی میں ملا دیتا۔ مدینہ کے منافقین۔ طائف کا بے رحم ہجوم۔ اور خندق کا دن جب تقریباً پورا عرب ان کے خلاف کھڑا تھا۔ وہ جنگیں جو انہیں لڑنی پڑیں۔ اور وہ بے شمار لوگ جو انہیں قتل کرنا چاہتے تھے۔ یہ سب سہنے کے لیے، انہیں ایک بہت مضبوط بنیاد اور اٹل استقامت کی ضرورت تھی۔ اسی لیے نبوت سے پہلے ان کی زندگی کا ہر حصہ بڑی باریک بینی سے ترتیب دیا گیا تھا۔ اب وہ آٹھ سال کے ہو چکے تھے۔ اور اس گھر میں منتقل ہو چکے تھے جہاں انہیں پوری زندگی میں سب سے زیادہ پیار اور دیکھ بھال ملنے والی تھی۔ ان کے چچا ابو طالب کا گھر۔ لیکن اگرچہ یہ ان کے سگے چچا کا گھر تھا، یہ کبھی بھی ویسا نہیں ہوتا جیسا اپنے والدین کے گھر میں ہوتا ہے۔ آپ اپنے چچا اور چچی سے اتنی آزادی سے چیزیں نہیں مانگ سکتے جتنی اپنی ماں یا باپ سے۔ اور یہ بھی کہ، آپ کو فکر ہو سکتی ہے کہ آپ کے کزن آپ سے حسد کریں گے۔ صرف یہی بات آپ کو کچھ کاموں سے روک سکتی ہے۔ اور اس کے اوپر، یہ کوئی امیر گھرانہ نہیں تھا۔ کئی بار، وہ پیٹ بھرے بغیر دسترخوان سے اٹھ جاتے۔ تو، کم عمری سے ہی، انہوں نے غربت کا احساس بھی چکھا۔ لیکن ان سب کے باوجود، ان کے چچا اور چچی نے انہیں گھر جیسا ماحول دیا اور اپنے بچے کی طرح رکھا۔ اور بعض اوقات انہیں اپنے بچوں پر بھی ترجیح دیتے۔ ابو طالب کبھی بھی ان کے بغیر کہیں نہیں جاتے تھے۔ وہ انہیں ہمیشہ ساتھ لے جاتے، اور اپنی نظروں سے دور نہ ہونے دیتے۔ کبھی کبھی وہ ان سے ایک دوست کی طرح باتیں کرتے۔ اور اگر وہ انہیں کھانے کی میز پر نہ دیکھتے، تو پوچھتے، "میرا محمد ﷺ کہاں ہے؟ اسے بلاؤ۔" نبی پاک ﷺ کسی بھی دوسرے بچے کی طرح نہیں تھے۔ وہ کبھی بھی اپنے بڑوں سے پہلے کھانا شروع نہیں کرتے تھے۔ وہ بہت شکر گزار اور سمجھدار تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے چچا خاندان کی کفالت کے لیے مشکل میں ہیں، تو وہ صرف بیٹھ کر دیکھ نہیں سکتے تھے۔ دوسرے بچوں کی طرح دن گزارنے کی بجائے، وہ کام کرنے اور گھر میں مدد کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ، وہ اپنے چچا کے پاس گئے اور ان کی بھیڑ بکریوں کے لیے چرواہا بننے کی خواہش ظاہر کی۔ اس طرح، ابو طالب کو اس کام کے لیے کسی ملازم کو نہیں رکھنا پڑے گا۔ یہ ان کی عمر کے بچے کے لیے حیرت انگیز طور پر سمجھدارانہ درخواست تھی۔ ان کے چچا اور چچی نے انہیں کبھی بوجھ نہیں سمجھا، اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ عرب کے چلچلاتی دھوپ میں لمبے وقت تک باہر رہیں۔ لیکن نبی پاک ﷺ نے کسی طرح انہیں راضی کر لیا۔ اور انہوں نے جانوروں کی دیکھ بھال شروع کر دی۔ گلہ بانی میں بہت صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے، انہوں نے صبر کرنا، ذمہ داری لینا، اور امانت کی حفاظت کرنا سیکھا۔ انہوں نے اسے شہر سے دور رہنے کے موقع کے طور پر بھی دیکھا جہاں وہ اپنی راتیں تنہائی میں، آسمان کے ستاروں اور زمین پر تخلیق کے عجائبات پر غور و فکر کرتے ہوئے گزار سکیں۔ جب وہ 12 سال کے ہوئے، تو ابو طالب کو مالی مجبوری کی وجہ سے ایک تجارتی قافلے میں شامل ہونا پڑا۔ قریش اس کا اہتمام کر رہے تھے اور منزل دمشق (شام) تھی۔ لیکن جب نبی پاک ﷺ نے اس بارے میں سنا، تو وہ بہت اداس ہو گئے۔ وہ ایک اور جدائی سے نہیں گزرنا چاہتے تھے۔ ان کے چچا، جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے تھے، مہینوں کے لیے دور ہو سکتے تھے۔ وہ ان کی محبت، تحفظ اور سکون کے بغیر رہ جاتے۔ وہ واقعی ان کے ساتھ جانا چاہتے تھے۔ لیکن اس عمر میں اتنے طویل سفر میں شامل ہونا خطرناک تھا۔ اگر نبی پاک ﷺ کو کچھ ہو جاتا؟ اگر ابو طالب اپنے بھائی کی چھوڑی ہوئی امانت کی حفاظت نہ کر پاتے؟ سب کا اتفاق تھا کہ انہیں نہیں جانا چاہیے۔ لیکن کوئی کچھ بھی کہتا، اپنے چچا کے لیے ان کی محبت کسی بھی خوف سے زیادہ مضبوط تھی۔ کچھ دن اداسی کے بعد، وہ مزید برداشت نہ کر سکے۔ وہ ابو طالب کے پاس گئے، اور ایک نرم، جذباتی آواز میں، انہوں نے کہا: "چچا جان، آپ مجھے کہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ کس کے پاس؟ یہاں میرا نہ کوئی باپ ہے نہ ماں۔" یہ پرسوز الفاظ ہر اس احساس کو بیان کر رہے تھے جو وہ محسوس کر رہے تھے اور وہ تمام درد جو ان کے اندر چھپا تھا۔ ابو طالب کا دل یہ برداشت نہ کر سکا۔ تو انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں اور اب قافلے کے روانہ ہونے کا وقت تھا۔ انہوں نے اپنی چچی اور کزنز کو الوداع کہا۔ یہ سفر ان کی تجارتی زندگی کی ابتداء تھا۔ اس سفر میں انہوں نے جو کچھ سیکھا اس سے انہیں وہ مہارت اور تجربہ ملا جو آنے والے سالوں میں ان کی بہت مدد کرنے والا تھا۔ اب وہ آہستہ آہستہ جوانی میں قدم رکھ رہے تھے۔ بدقسمتی سے، ان کے ارد گرد بد اخلاقی اور برے رویوں کی بہت سی مثالیں موجود تھیں۔ اس قسط کے اگلے حصے میں، ہم تفصیل سے بات کریں گے، اس دور کے رسم و رواج کتنے بگڑے ہوئے اور برے تھے۔ وہ دور جسے ہم جاہلیت کہتے ہیں - جہالت کا زمانہ۔ یہ سب ایک اہم سوال ذہن میں لاتا ہے۔ ایسے ماحول میں ان کی حفاظت کیسے ہوئی؟ دوسرے لفظوں میں، کیا وہ نبی بننے سے پہلے کبھی کسی گناہ میں پڑے؟ ایسے کئی واقعات ہیں جو ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ لیکن میں ان میں سے دو شیئر کروں گا۔ ایک بار، مکہ میں ایک تقریب تھی جہاں بہت سے نوجوان تفریح کا ارادہ رکھتے تھے۔ ان کے دوستوں نے نبی پاک ﷺ کو بھی مدعو کیا۔ اور وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے تھے۔ لیکن اگر وہ ایسا کرتے، تو یہ کسی گناہ کا باعث بن سکتا تھا۔ اس وقت، وہ بطور چرواہا کام کر رہے تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے ایک دوست سے اپنے ریوڑ کی دیکھ بھال کا کہا اور مکہ کی طرف چل پڑے۔ وہ بیٹھ گئے اور ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ کچھ ہی دیر بعد، وہ صبح کے سورج کی تپش سے بیدار ہوئے۔ وہ سو گئے تھے۔ کچھ عرصے بعد، وہی واقعہ دوبارہ پیش آیا۔ وہ وہاں گئے، بیٹھ گئے، اپنے اردگرد کا نظارہ کرنا چاہا، لیکن ایک بار پھر سو گئے۔ اگر وہ اس محفل میں شامل ہو جاتے، تو شاید وہ ایسی چیزیں دیکھتے یا ان میں ملوث ہو جاتے جو بعد میں ان کی بطور نبی شان کے منافی ہوتیں۔ لیکن اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی۔ اس کے علاوہ، اپنے معاشرے کے زیادہ تر لوگوں کے برعکس، انہوں نے کبھی کسی بت کی پوجا نہیں کی اور نہ ہی ان کی تعظیم کی۔ وہ 25 سال کی عمر کو پہنچ رہے تھے۔ اور اس وقت تک، وہ تجارت میں اپنی ایمانداری کے لیے مشہور ہو چکے تھے۔ مکہ کے لوگ ان کے اچھے کردار کی تعریف کرتے تھے اور انہیں محمد الامین کا لقب دیا، یعنی "امانت دار محمد"۔ بہت سے لوگ پورے اعتماد کے ساتھ ان کے پاس اپنی قیمتی چیزیں رکھواتے تھے۔ اے محمد۔ کیا آپ میرے پیسے اور میرے اونٹ کی حفاظت کریں گے؟ نبوت کا اعلان کرنے کے بعد بھی، جو لوگ ان کی مخالفت کرتے تھے انہوں نے بھی اپنی امانتیں واپس نہیں لیں۔ کیونکہ انہیں اب بھی ان پر بھروسہ تھا۔ بات صرف یہ تھی کہ ان کی تبلیغ ان کے مفادات کے خلاف تھی۔ اسی دوران، ایک بڑا تجارتی قافلہ طویل سفر کے لیے روانہ ہونے والا تھا۔ یہ خویلد کی بیٹی حضرت خدیجہ کا قافلہ تھا۔ بی بی خدیجہ پورے مکہ میں مشہور تھیں، نہ صرف ایک بہت کامیاب تاجر ہونے کی وجہ سے بلکہ اپنی پاکیزگی اور اعلیٰ کردار کی وجہ سے بھی۔ ان کی دو بار شادی ہو چکی تھی، لیکن ان کے دونوں شوہر وفات پا چکے تھے۔ چونکہ تاجروں میں نبی پاک ﷺ کی بہت تعریف کی جاتی تھی، اس لیے انہوں نے آپ ﷺ سے اپنے قافلے کی قیادت کا کہا۔ مکہ میں ان جیسا کوئی دوسرا نہیں تھا۔ اور نبی پاک ﷺ نے ان کی پیشکش قبول کر لی۔ حضرت خدیجہ نے اپنے خادم میسرہ کو ان کے ساتھ بھیجا۔ ان کی مدد کے لیے بھی اور خاموشی سے ان کے رویے اور اخلاق کا جائزہ لینے اور انہیں رپورٹ دینے کے لیے بھی۔ روانہ ہونے کے لمحے سے ہی، میسرہ نے احتیاط سے اس ذمہ داری کو نبھایا۔ اس نوجوان میں اس نے جو کچھ بھی دیکھا اس نے اس کی عقیدت میں اضافہ کیا۔ پورے سفر کے دوران، نبی پاک ﷺ اس بات کا بہت خیال رکھتے تھے کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ ان کا کردار بہترین تھا۔ وہ ایماندار، مخلص تھے، اور باوقار انداز میں پیش آتے تھے۔ انہوں نے سفر کے دوران صفائی ستھرائی کا بھی بہت خیال رکھا۔ کچھ ایسا جو کہ اس معاشرے میں شاذ و نادر ہی ملتا تھا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ میسرہ واپس آئے اور خدیجہ کو وہ سب بتائے جو اس نے دیکھا تھا۔ میں نے ان جیسا عظیم انسان کبھی نہیں دیکھا۔ ہم جہاں جہاں بھی گئے، لوگوں نے بلا جھجھک ان پر بھروسہ کیا۔ جب میسرہ نے خدیجہ کو نبی پاک ﷺ کی تمام خوبصورت صفات کے بارے میں بتایا، تو خدیجہ کے دل میں ان کے لیے جذبات پیدا ہونے لگے۔ اس وقت تک، انہوں نے دوبارہ شادی کرنے کا کبھی نہیں سوچا تھا۔ لیکن اب، انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ عام طور پر، شادی کا پیغام مرد کی طرف سے آتا تھا۔ لیکن نبی پاک ﷺ کے لیے ان کی پسندیدگی اتنی گہری تھی کہ وہ خود پیغام بھیجنے کا فیصلہ کرنے لگیں۔ تاہم، عمر کا فرق تھا۔ نبی ﷺ 25 سال کے تھے اور بی بی خدیجہ 40 سال کی تھیں۔ کیا وہ قبول کریں گے؟ آخر وہ کیا کریں؟ ان کی نفیسہ بنت منیہ نامی ایک قریبی اور وفادار دوست تھیں۔ بی بی خدیجہ نے اپنے جذبات ان کے ساتھ شیئر کرنے کا فیصلہ کیا۔ نفیسہ کو کیا کرنا تھا یہ واضح تھا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس جائیں گی اور معلوم کریں گی کہ کیا وہ بھی خدیجہ کے لیے جذبات رکھتے ہیں۔ خدیجہ "طاہرہ" یعنی پاکیزہ خاتون کے نام سے مشہور تھیں۔ وہ پورے قریش میں سب سے معزز اور امیر خواتین میں سے ایک تھیں۔ ان کے قبیلے کے بہت سے مردوں نے ان سے شادی کی خواہش ظاہر کی تھی۔ لیکن انہوں نے سب کو منع کر دیا۔ دراصل، ابو جہل کی نبی کریم ﷺ سے اتنی شدید نفرت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسے بھی بی بی خدیجہ نے رَدّکیا تھا۔ ظاہر ہے، طاہرہ کہلانے والی خاتون کبھی بھی ایسے شخص کو قبول نہیں کرے گی جس کا دل اتنا سیاہ اور متکبر ہو۔ انہیں اب بہترین جیون ساتھی مل گیا تھا۔ نفیسہ نبی کریم ﷺ کے پاس گئیں اور پوچھا: محمد، آپ کو شادی کرنے سے کون سی چیز روک رہی ہے؟ انہوں نے کہا، "میرے پاس شادی کے لیے اتنے پیسے نہیں ہیں۔" اگر اس کا انتظام ہو جائے اور آپ کو دولت، خوبصورتی، عزت اور ایک مناسب رشتے کی پیشکش ہو؟ کیا آپ قبول کریں گے؟ نبی ﷺ نے پوچھا، "وہ کون ہے؟" خدیجہ، خویلد کی بیٹی۔ انہوں نے پوچھا، "لیکن یہ کیسے ممکن ہے؟" یہ مجھ پر چھوڑ دیں۔ اور نبی پاک ﷺ نے فرمایا، "اگر ایسا ہے، تو میں قبول کرتا ہوں۔" نفیسہ واپس آئیں اور بی بی خدیجہ کو یہ بات چیت بتائی۔ ان کا دل خوشی سے بھر گیا۔ ایک نبی سے شادی ہونا کتنی بڑی نعمت تھی۔ کچھ ہی دیر بعد، دونوں ملے اور معاملے پر بات کی۔ خدیجہ نے ان سے کہا: میرے چچا عمرو بن اسد کے پاس جائیں اور ان سے مجھ سے شادی کی اجازت طلب کریں۔ ابو طالب، جو ہمیشہ نبی پاک ﷺ کے لیے ایک باپ کی طرح رہے تھے، ایک بار پھر ان کی حمایت کے لیے آگے آئے۔ اس بار، ان کی شادی کا انتظام کرنے کے لیے۔ اور اس پُر مسرت دن، یہ بابرکت نکاح 20 اونٹوں کے مہر کے ساتھ منعقد ہوا۔ مکہ میں ایک خوبصورت اور قابلِ رشک گھر آباد ہو رہا تھا۔ دو دل ایک ہوگئے تھے اور ہر گزرتے دن، ان کا رشتہ اور ایک دوسرے کے لیے محبت صرف مضبوط ہوتی گئی۔ مکہ میں کوئی اور گھر اتنا خوشحال اور مثالی نہیں تھا جتنا ان کا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اللہ نے اس گھر کو اولاد سے نوازا۔ پہلے قاسم، پھر زینب، اس کے بعد رقیہ، ام کلثوم، اور فاطمہ۔ نبوت ملنے کے بعد، عبداللہ پیدا ہوئے۔ لیکن قاسم دو سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اور عبداللہ صرف تین ماہ کی عمر میں، دونوں بیماری کی وجہ سے۔ کسی بھی ماں باپ کے لیے یہ کتنا ناقابل برداشت اور ناقابل بیان درد ہے۔ اور وہ بھی دو بار۔ وہ ہر جذبے کو ایک ساتھ محسوس کر رہے تھے۔ خوشی کے خوبصورت ترین لمحات سے لے کر تکلیف کے دل دہلا دینے والے لمحات تک۔ لیکن ہر مشکل میں، انہوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ اور اسی سے، انہیں طاقت اور سکون اور صبر ملا۔ آپ ﷺ نے ان کے بارے ایک بار فرمایا: "اللہ نے مجھے ان سے بہتر کوئی نہیں دیا۔ جب سب نے مجھے جھٹلایا، تو وہ مجھ پر ایمان لائیں۔ جب لوگوں نے مجھے جھوٹا کہا، انہوں نے میری تصدیق کی۔ جب لوگوں نے اپنا مال روکا، انہوں نے اپنے مال سے میری مدد کی۔ اور اللہ نے مجھے ان کے ذریعے اولاد عطا کی۔" یہاں تک کہ وحی کے فرشتے، جبرائیل علیہ السلام، بھی ان کی عقیدت اور قربانیوں سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے نبی پاک ﷺ سے فرمایا: "جب خدیجہ آپ کے پاس آئیں، تو انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیں اور میری طرف سے بھی۔" خدیجہ (رضی اللہ عنہا) ایسی خاتون تھیں۔ آئیے کہانی کی طرف واپس چلتے ہیں۔ یہاں تک، نبی پاک ﷺ کا سفرِ حیات تین مختلف خطوں میں تشکیل پایا۔ انہوں نے اپنا ابتدائی بچپن بنو سعد کی سرزمین میں گزارا جہاں انہوں نے دودھ پیا، اور وہاں صحرائی زندگی کا تجربہ کیا۔ بعد میں اپنی والدہ کے ساتھ، انہوں نے مدینہ میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کی اور کچھ عرصہ اپنے ماموؤں کے ساتھ رہے۔ وہاں انہوں نے پہلی بار صحیح معنوں میں شہری زندگی کا تجربہ کیا۔ اور اب، وہ کئی سالوں سے مکہ میں مقیم تھے۔ جاہلیت کے نام سے مشہور تاریک ترین شکل کے ہنگامہ خیز دور کے عین درمیان، ۔ ان سالوں میں، انہوں نے لاتعداد ناانصافیوں اور ظلم کا مشاہدہ کیا۔ 35 سال کی عمر میں، انہیں بڑی تبدیلیوں کا احساس ہونے لگا۔ اپنی زندگی میں بھی اور اپنے دل کی کیفیت میں بھی۔ یہ تبدیلیاں ایک نئی ابتداء کی نشانیاں تھیں۔ نبوت کی آمد کے ساتھ، مکہ کی ہر چیز کی بنیادیں بدلنے والی تھیں۔ اور کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہنے والا تھا۔ ایک چھوٹی بچی اپنے باپ کے ساتھ صحرا کے بیچوں بیچ تھی۔ سب سے دور۔ سوچوں میں گم، اس کا باپ ایک گڑھا کھود رہا تھا جبکہ وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ اسے کبھی اپنے باپ سے کوئی پیار نہیں ملا تھا۔ لیکن وہ اس دن خوش تھی۔ کیونکہ پہلی بار، وہ ایک ساتھ کچھ کر رہے تھے۔ صرف وہ دونوں۔ ایک موقع پر، اس نے گڑھا کھودنے میں اپنے باپ کی مدد کرنے کی کوشش بھی کی۔ جیسے جیسے وہ گہرا ہوتا جا رہا تھا، اس کا تجسس بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ کیا وہ کوئی کھیل کھیلنے والے تھے؟ یہ کیسا ہوگا؟ یہ سوچتے ہوئے کہ کیا ہونے والا ہے، اچانک اسے دھکا لگا اور اس نے خود کو گڑھے کے اندر پایا۔ یہ اسے اس کے باپ نے دھکا دیا تھا۔ پھر اس نے تیزی سے اپنی بیٹی پر مٹی ڈالنا شروع کر دی۔ وہ چھوٹی بچی، جسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ اس گڑھے میں کیوں ہے، ایک حقیقی ڈراؤنا خواب دیکھ رہی تھی۔ اسے اسی شخص کی طرف سے زندہ دفن کیا جا رہا تھا جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کی امید رکھتی تھی۔ اس کی چھوٹی، معصوم کوششیں اور بے بسی کی چیخیں اس کے باپ کے مردہ ضمیر کو نہ جگا سکیں۔ وہ وہیں مرنے والی تھی۔ بس یوں ہی۔ اور وہ اس زمین کے ظلم اور بے رحمی کا ایک نمونہ بننے والی تھی جہاں وہ رہتی تھی۔ یہ خوفناک منظر، جس کا تصور کرنا بھی ہمارے لیے ناممکن ہے، جزیرہ نما عرب میں پیش آیا اسلام سے پہلے، زمانہ جاہلیت میں۔ اس وقت، بیٹیوں کو شرم اور بدقسمتی کا باعث سمجھا جاتا تھا۔ کچھ باپ کہتے تھے: ایک دن، یہ شادی کرے گی اور ہماری وراثت اجنبیوں کو دے دے گی۔ یہ بگڑے ہوئے عقائد کچھ لڑکیوں کی جان لے لیتےتھے ۔ یا بہترین صورت میں، وہ پوری زندگی اپنی باپ کی محبت کو محسوس کیے بغیر گزار دیتیں۔ لیکن بات یہاں نہیں رکتی تھی۔ یہاں تک کہ جب لڑکی بڑی ہو کر شادی کر لیتی، تب بھی اسے بے وقعت سمجھا جاتا تھا۔ اگر اس کا شوہر مر جاتا اور وہ یتیم بچوں کے ساتھ رہ جاتی، تو کوئی بھی آدمی آ کر ان کے گھر پر ملکیت کا دعویٰ کر سکتا تھا۔ اور یہ کوئی ہمدردی کے طور پر نہیں کیا جاتا تھا۔ وہ آدمی گھر کی ہر چیز لے لیتا۔ پیسہ، جائیداد، حتیٰ کہ خاندان بھی۔ انہیں وراثت میں ان کا جائز حصہ دینا تو دور کی بات تھی وہ ان کے ساتھ نوکروں جیسا سلوک کرتے۔ ان کی زندگیاں، خواب، اور مستقبل چرا لیے جاتے۔ ان کی حیثیت کھلونوں سے زیادہ نہیں تھی۔ لیکن سب سے زیادہ دل دکھانے والی بات یہ تھی کہ ان یتیم بچوں کے لیے کھڑا ہونے والا کوئی نہیں تھا نہ ان کی بیوہ ماں کے لیے۔ ایک باپ اپنے ہی نوزائیدہ بچے کی جان کیسے لے سکتا ہے؟ اور یہ صرف لڑکیوں تک محدود نہیں تھا۔ کچھ لوگ اپنے بچوں کو قتل کر دیتے یہ سوچ کر کہ ان کی پرورش بہت مشکل ہوگی۔ ذرا اس زمانے میں ماں ہونے کا تصور کریں۔ آپ نے اپنے بچے کا صبر سے انتظار کیا۔ شاید آپ نے خواب دیکھے تھے۔ اور اب وہ بچہ آپ کے بازوؤں سے چھین کر قتل کرنے کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔ ان کے اپنے باپ کے ہاتھوں۔ ان کے کلیجے پھٹ رہے تھے۔ لیکن وہ بالکل بے بس تھیں۔ اور اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتی تھیں۔ کیا کسی کو پرواہ بھی تھی کہ وہ کیا محسوس کرتی ہیں؟ دوسروں کی نظر میں ان کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ اور یہ صرف وہیں تک محدود نہیں تھا۔ قبائل کے درمیان خونریز دشمنیاں چل رہی تھیں۔ اگر کسی خاص قبیلے کا کوئی فرد مارا جاتا، تو پیروی کرنے کے لیے کوئی قانون یا انصاف نہیں تھا۔ مخالف قبیلے کا کوئی بھی شخص شدید خطرے میں ہوتا۔ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ، انہیں بغیر وارننگ کے قتل کیا جا سکتا تھا۔ ایک معصوم بچہ جس کا آس پاس ہونے والے واقعات سے کوئی لینا دینا نہیں اپنے باپ کو کھو سکتا تھا۔ اور اس کے بغیر بڑا ہو کر، وہ بھی دوسرے قبیلے کے خلاف نفرت اور بدلہ لینے کی خواہش سے بھر جاتا اور یوں قتل و غارت کا سلسلہ چلتا رہتا۔ جسے کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ کوئی انصاف نہیں تھا۔ دل پتھر ہو چکے تھے۔ لوگ اپنی خواہشات کے غلام بن چکے تھے۔ ان کا واحد مقصد جو چاہو حاصل کرنا تھا۔ شراب، جوا، جھوٹ، چوری، زنا، ظلم۔ ہر قسم کی بد اخلاقی کا راج تھا۔ اگرچہ سورج چمک رہا تھا، لیکن روحانی ماحول گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ اندھیرا جتنا گہرا ہوتا ہے، اتنا ہی واضح طور پر سمجھ آتا ہے کہ روشنی کتنی شاندار ہے۔ اور پھر قرآن سب سے پہلے ان لوگوں پر اپنی روشنی ڈالنے والا تھا اور انہیں جہالت کے اس اندھیرے سے باہر نکالنے والا تھا۔ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی اسی سرزمین میں ظاہر ہونے والی تھی۔ اور پوری دنیا کو منور کرنے والی تھی۔ مکہ کو ایک اہم برتری بھی حاصل تھی۔ یہ تزویراتی طور پر جزیرہ نما عرب کے مرکز میں واقع تھا۔ جس سے یہ دیگر تمام علاقوں سے ممتاز تھا۔ یہاں بڑے بڑے تجارتی میلے لگتے تھے۔ جو عرب کے ہر کونے سے قافلوں اور قبائل کو اپنی طرف کھینچتے تھے۔ یہ ایک وسیع نیٹ ورک کے مرکز کی طرح تھا۔ یہاں سے شروع ہونے والا کوئی بھی پیغام تیزی سے آس پاس کے قبائل میں پھیل سکتا تھا۔ صرف پانچ یا چھ مہینوں میں، یہ قریبی سلطنتوں تک بھی پہنچ سکتا تھا۔ خطے میں کہیں اور اس سطح کا اثر و رسوخ نہیں تھا۔ عجیب لگ سکتا ہے، لیکن جزیرہ نما عرب قریبی ریاستوں اور سلطنتوں کے حملےکے خطرے سےمحفوظ رہا۔ ہر لحاظ سے، یہ آخری نبی کی آمد کے لیے ایک مثالی جگہ تھی۔ اور اس طرح اللہ نے مکہ کو منتخب کیا وہ شہر جہاں تمام راستے ملتے تھے، اس جگہ کے طور پر جہاں اس کے رسول اس دنیا میں تشریف لائیں۔ ان تمام وجوہات سے ہٹ کر، ایک اور عنصر تھا مکہ کی مقبولیت کے پیچھے۔ عربوں کے لیے آباؤ اجداد بہت اہمیت رکھتے تھے۔ اور یہ شہر اس ہستی کی نمائندگی کرتا تھا جسے وہ اپنا جدِ امجد مانتے تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ وہ ان پیغمبروں میں سے تھے جنہوں نے کعبہ تعمیر کیا۔ انہیں اپنے بزرگوں کے تعمیر کردہ اس عبادت خانے سے گہری عقیدت تھی۔ لیکن اگر آپ ان سے پوچھتے کہ ان کی زندگیوں میں ابراہیم علیہ السلام کا کیا باقی بچا ہے، تو جواب کچھ بھی نہ ہوتا۔ صرف حج کے نام سے مقدس رسم،سب یہی جانتے تھے۔ اور وہ بھی محض ایک ثقافتی روایت بن کر رہ گئی تھی۔ ایک ایک کر کے، اس کے گہرے معانی کو جاہلیت کے لوگوں نےبگاڑ دیا تھا۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ بغیر کپڑوں کے کعبہ کا طواف کرتے تھے۔ کچھ لوگ تالیاں بجاتے اور ناچتے ہوئے کرتے۔ وہ اس مقدس مقام کی روح اور تاثیر سے مکمل طور پر کٹ چکے تھے۔ ابراہیم علیہ السلام ایک ایسے نبی تھے جنہوں نے بت پرستی کے خلاف جنگ کی اور ڈٹ کر کھڑے رہے۔ لیکن اب، وہ کعبہ جو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا تھا، 360 بتوں سے گھرا ہوا تھا۔ ان میں سب سے مشہور لات، منات، عُزّیٰ اور ہُبل تھے۔ اگرچہ وہ اللہ کو ماننے والے تھے، لیکن انہوں نے صرف اس کا نام قبول کیا تھا۔ اس کے باقی تمام نام، صفات، اس کے کام، پوری کائنات پر اس کی طاقت سب بتوں سے منسوب کر دی گئی تھیں۔ لیکن کیا اس شہر میں ہر کوئی بتوں کی پوجا کرتا تھا؟ کیا نبی کریم ﷺ ان میں سے ایک تھے؟ ہرگز نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے صدیوں بعد بھی، ابھی بھی کچھ لوگ تھے جو ان کے چھوڑے ہوئے دینِ حنیف پر قائم تھے۔ وہ نایاب افراد جو صرف اللہ پر یقین رکھتے تھے اور ہر قسم کی بت پرستی کو رد کرتے تھے۔ یہ ایمان ایک روحانی ڈھال کی طرح تھا جس نے وحی سے پہلے کے دور میں گمراہی میں پڑنے سے بچائے رکھا۔ اور اللہ کے رسول ان میں سے ایک تھے۔ انہیں بت پرستی بالکل پسند نہیں تھی۔ لیکن انہوں نے دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے روکا یا مداخلت نہیں کی۔ دراصل، ان کے ماضی میں یہ رویہ رکھنا اہم تھا۔ کیونکہ ورنہ، جب اسلام آیا، تو لوگ کہہ سکتے تھے، "محمد، ہم آپ کو بچپن سے جانتے ہیں۔ آپ ہمیشہ ہمیں روکنے کی کوشش کرتے تھے۔" لیکن وہ ایسا نہیں کہہ سکتے تھے۔ کیونکہ انہوں کبھی ان کے عقائد میں دخل نہیں دیا تھا۔ تاہم، جس لمحے ان کا نبوت کا مشن شروع ہونا تھا، انہوں نے پوری وضاحت کے ساتھ انہیں خبردار کرنا تھا۔ اللہ ایک روح کی رہنمائی کرے گا، اور وہ ایک روشن روح ان سب کو جگانے کے لیے کافی ہوگی جو سوئے ہوئے تھے۔ اب، آئیے اس بیداری کے آغاز کی طرف چلتے ہیں۔ 35 سالہ اللہ کے نبی ﷺ کی کہانی کی طرف۔ ایک دن، کعبہ کے ارد گرد اونچی آواز میں شور مچ گیا۔ حجرِ اسود کو کعبہ پر رکھنے کا حق ہمارا ہے!

بنو عدی، بنو تمیم اور بنو امیہ جیسے قبائل سب خود کو باقیوں سے بہتر ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بحث اتنی گرم ہو گئی کہ کچھ خاندانوں نے لڑنے کی قسمیں کھانا شروع کر دیں، یہاں تک کہ ایک دوسرے کو مارنے کی۔ ایک دوسرے کو دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ لیکن یہ سارا ہنگامہ کس وجہ سے تھا؟ مسئلہ یہ تھا کہ حجرِ اسود رکھنے کا اعزاز کسے ملے گا۔ آئیے چند دن پیچھے چلتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ، کعبہ کی عمارت پرانی اور خستہ حال ہو گئی تھی۔ ہمیں شرم آنی چاہیے۔ ہمارے جدِ امجد ابراہیم کی طرف سے ملی ایک مقدس عمارت، اور اس کا یہ حال ہو گیا ہے۔ مکہ کے بزرگ اکٹھے ہوئے اور اتفاق کیا کہ کچھ کرنا چاہیے۔ اسی دوران، انہوں نے ایک جہاز کے بارے میں سنا جو جدہ کے قریب شعیبہ کی بندرگاہ پر پہنچا تھا۔ اس میں بالکل وہی تعمیراتی سامان تھا جس کی انہیں تلاش تھی۔ تو انہوں نے وہ سامان خریدنے اور کعبہ کو زمین سے دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ منصوبے کو جلدی مکمل کرنے کے لیے، انہوں نے ایک مشترکہ فنڈ قائم کیا اور ہر کسی نے کعبہ کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالا۔ لیکن باوجود اس کے کہ یہ جہالت کا دور تھا، اس فنڈ میں سود کے ذریعے کمایا گیا ایک بھی سکہ شامل نہیں کیا گیا۔ وہ خدا کے عذاب سے ڈرتے تھے۔ اتنے مقدس مقصد کے لیے، وہ کوئی ایسا پیسہ استعمال نہیں کرنا چاہتے تھے جس میں غریبوں کا درد اور آنسو شامل ہوں۔ آخرکار، ضروری رقم جمع ہو گئی۔ اور مل کر، انہوں نے کعبہ کو دوبارہ تعمیر کیا۔ صرف ایک چیز باقی تھی۔ وہ واحد چیز جو تمام تناؤ کو ہوا دینے والی تھی حجرِ اسود کو واپس اس کی جگہ پر رکھنا۔ صدیوں پہلے، اسے وہاں حضرت ابراہیم نے رکھا تھا۔ اور تب سے، یہ اپنی جگہ پر موجود رہا۔ اور اب، کوئی بھی قبیلہ یہ اعزاز دوسرے کو دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ ہر ایک کا اصرار تھا کہ وہ سب سے زیادہ حقدار ہیں اور اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش جاری تھی۔ یہ اعزاز ہمارا ہے!

نہیں، یہ اعزاز ہمارا ہے! یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے ایک دوسرے سے لڑنے کی قسمیں کھا لیں۔ تم یہ اعزاز تب تک نہیں لے سکتے جب تک میری جان نہ لے لو!

چار پانچ دن تک، کوئی حل نہیں نکل سکا۔ یہ دیکھنا مایوس کن تھا کہ جو کام نیک نیتی سے شروع ہوا تھا اتنے سنگین تنازعہ میں بدل گیا۔ پھر ان میں سے سب سے معمر شخص کھڑا ہوا اور کہا: اے قریش، چونکہ تم اس معاملے پر متفق نہیں ہو سکتے، تو جو شخص کعبہ کے اس دروازے سے سب سے پہلے داخل ہو اسے اپنا منصف مان لو۔ وہی تمہارے لیے اس معاملے کا فیصلہ کرےگا ۔ سب اس تجویز پر راضی ہو گئے اور خاموشی سے انتظار کرنے لگے۔ اس دروازے سے کون آئے گا؟ کچھ دیر بعد، آخرکار، دروازے پر کوئی نمودار ہوا۔ انہیں دیکھتے ہی، انہوں نے راحت محسوس کی۔ یہ الامین ہیں۔ یہ محمد ہیں۔ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے، ہم قبول کریں گے۔ جو شخص اندر داخل ہوا وہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے۔ ان سب کو آپﷺ پر بھروسہ تھا اور یقین تھا کہ وہ ایسا فیصلہ کریں گے جو سب کو خوش کر دے گا۔ پھر، انہوں نے اُس صورتحال کی وضاحت کی۔ ایک سنگین اختلاف ہمارے درمیان ہے، اور ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کریں۔ اس سے پہلے کہ یہ معاملہ ہمیں ختم کر دے، ہم آپ کی رہنمائی چاہتے ہیں۔ جوش اور تجسس بھرے چہروں کے ساتھ، وہ آپ کے فیصلے کا انتظار کرنے لگے۔ تو، آپ نے مسئلہ کیسے حل کیا؟ آپ نے فرمایا، "میرے پاس ایک کپڑا لاؤ۔" انہیں اندازہ نہیں تھا کہ آپ کیا کرنے والے ہیں۔ پہلے، آپ نے حجرِ اسود کو اس کے بیچ میں رکھا۔ پھر، ہر قبیلے سے، آپ نے ایک نمائندے کو آگے آنے اور کپڑے کا ایک حصہ پکڑنے کو کہا۔ سب نے مل کر، پتھر کو کعبہ کی طرف اٹھایا۔ اور آخر میں، نبی کریم ﷺ نے حجرِ اسود لیا اور اپنے مبارک ہاتھوں سے اسے واپس اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ اس طرح، وہ تنازعہ جو کئی دنوں سے جاری تھا اختتام کو پہنچا۔ اور ایک ممکنہ خونریزی سے مکمل طور پر بچا لیا گیا۔ اس واقعے نے لوگوں کے دلوں میں اللہ کے رسول ﷺ کا احترام اور عقیدت اور بھی بڑھا دی۔ ایک بار پھر، سب نے دیکھا کہ آپ کتنے امانت دار ہیں۔ ہم ان کی زندگی کے پچھلے حصوں میں اس خوبی کے بارے میں بات کر چکے ہیں۔ جب بھی کوئی الامین کہتا، لوگوں کو معلوم ہوتا کہ کس کی بات ہو رہی ہے۔ وہ صرف اور صرف نبی کریم ﷺ ہی ہو سکتے تھے۔ زندگی بھر، یہ خوبی ان کے کردار کے ہر حصے میں نمایاں رہی۔ کاروبار میں قابل اعتماد، خاندان میں، وعدہ نبھانے میں، اور ہر چھوٹے بڑے کے لیے قابل اعتماد۔ اس خوبی نے لوگوں کے دلوں پر ناقابل فراموش نقوش چھوڑے۔ در حقیقت، انہیں یہ خوبی عطا کرنا اللہ کے عظیم منصوبے کا حصہ تھا۔ کیونکہ جب انہیں نبوت دینے کا وقت آتا، تو لوگ ان پر جھوٹ کا الزام نہ لگا پاتے۔ اور اگر وہ کوشش بھی کرتے، تو ایسا دعویٰ بالکل بے بنیاد لگتا۔ جیسے جیسے مکہ میں اللہ کے رسول ﷺ پر لوگوں کا اعتماد بڑھتا گیا، ان کے اندر کچھ بدلنے لگا۔ دن بدن، انہیں تنہائی پسند آنے لگی۔ اس لیے، انہوں نے لوگوں سے دوری اختیار کرنا شروع کر دی۔ کعبہ، جسے کبھی ابراہیم علیہ السلام کی خالص توحید نے تشکیل دیا تھا، اب بتوں سے گھرا ہوا تھا۔ ہر قسم کی بد اخلاقی، ناانصافی، ظلم، اور غیر انسانی رویے شہر پر قابض ہو رہے تھے۔ آپ کی اندرونی دنیا مکہ میں ہونے والے کاموں کے ساتھ تیزی سے ٹکراؤ میں آ رہی تھی۔ وہ اسے مزید برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ایک زندگی بدل دینے والا فیصلہ کیا۔ کچھ حد تک، وہ معاشرے سے کنارہ کشی اختیار کریں گے اور باقاعدگی سے جبلِ نور جانا شروع کریں گے۔ لیکن وہ وہاں کیا کریں گے؟ وہ خاموشی تلاش کریں گے۔ ان کی روح گھٹ رہی تھی۔ تنہائی انہیں محبوب بنا دی گئی تھی۔ وہ اکیلے رہنا چاہتے تھے۔ کائنات کے ساتھ اور اپنی سوچوں کے ساتھ۔ وہ اپنے رب کی عبادت کریں گے، دعا کریں گے، اور کائنات پر خاموشی سے غور کریں گے۔ اور ان سب کے لیے سب سے موزوں جگہ غارِ حرا تھی۔ اللہ انہیں آنے والی وحی کے لیے تیار کر رہا تھا۔ اس روشنی کے لیے جو بالآخر اتاری جانے والی تھی۔ جبلِ نور کی چوٹی تک 621 میٹر کا راستہ ڈھلوان اور مشکل تھا۔ یہ ان کی طاقت کا امتحان تھا۔ لیکن یہ بھی انہیں اوپر چڑھنے سے نہ روک سکا۔ جس چیز نے اس سفر کو ان کے لیے بہت آسان بنا دیا وہ ان کی پیاری بیوی خدیجہ کی محبت اور حمایت تھی۔ انہوں نے کبھی ان پر اعتراض نہیں کیا۔ وہ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہیں۔ یہ خاموشی کا سفر اس وقت تک جاری رہا جب تک وہ 40 سال کی عمر کو نہ پہنچ گئے۔ اور وہ غار ان کا سب سے قریبی ساتھی بن گئی۔ ادھر کائنات انتظار کر رہی تھی۔ وہ سالوں سے انتظار کر رہی تھی۔ ایک ایسی روشنی کے لیے جو تمام اندھیروں کو چیر دے۔ زمین پر، آسمان میں، اور ہر چھوٹے ذرے میں، چھپے ہوئے معانی تھے۔ لیکن لوگ بے خبر تھے۔ ہر تخلیق اللہ کے لکھے ہوئے خط کی طرح تھی۔ لیکن صرف چند لوگ ہی انہیں پڑھنا جانتے تھے۔ ایک طویل عرصے سے، ان خطوط کی وضاحت کے لیے کوئی وحی نہیں آئی تھی۔ وہ ایک ایسی روح کے لیے ترس رہے تھے جو ان کا پیغام پڑھ سکے۔ یہ ناقابل برداشت ہو چکا تھا۔ اور پھر، وہ منفرد رات آگئی۔ سال 610 عیسوی تھا۔ ماہِ رمضان کا پیر کا دن تھا۔ اور رات؟ لیلۃ القدر، قدر والی رات۔ وہ رات جب تمام اندھیرے آخرکار چھٹ جائیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) 40 سال کے تھے۔ آپ غارِ حرا میں تھے، اور اپنا وقت گہرے غور و فکر، دعا اور عبادت میں گزار رہے تھے۔ ہر طرف گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ رات مکمل تاریک تھی سوائے چاندنی کے جو چراغ کی طرح چمک رہی تھی۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ اور پھر، اس عظیم ملاقات کا لمحہ آن پہنچا۔ اچانک، غار ایک روشنی سے بھر گیا۔ وہ اتنی تیز تھی کہ آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ پھر، اس روشنی کے بیچ سے، ایک شکل نمودار ہوئی۔ یہ وحی کے فرشتے، جبرائیل علیہ السلام تھے۔ انہوں نے انسانی شکل اختیار کی تھی اور اللہ کی طرف سے حکم لے کر آئے تھے۔ اس ہستی کے لیے جو آخری نبی بننے والا تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ، حیرت سے بھرے ہوئے، یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر پہلا حکم آیا۔ پہلی خوشخبری۔ جبرائیل نے کہا، "پڑھیے۔" نبی پاک ﷺ نے جواب دیا، "میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔" فرشتے نے انہیں گلے لگایا اور پھر زور سے بھینچا۔ پھر انہیں چھوڑا اور دوبارہ کہا، "پڑھیے۔" لیکن نبی کریم ﷺ نے وہی جواب دیا۔ جبرائیل نے انہیں دوبارہ بھینچا اور دہرایا، "پڑھیے۔" لیکن ان کے ہاتھ میں کچھ لکھا ہوا نہیں تھا۔ نبی پاک ﷺ نے ایک بار پھر جواب دیا کہ وہ پڑھ نہیں سکتے۔ پھر جبرائیل نے انہیں تیسری بار گلے لگایا۔ اتنی زور سے کہ نبی پاک ﷺ کو محسوس ہوا کہ ان میں کوئی طاقت باقی نہیں رہی۔ اور اس لمحے، بالکل بے بس ہو کر، انہوں نے کہا، "میں کیا پڑھوں؟" تب جبرائیل علیہ السلام نے پڑھنا شروع کیا: اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ۔ (پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا) خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ (جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا) اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ۔ (پڑھیے، اور آپ کا رب بڑا کریم ہے) الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ (جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا) عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ۔ (انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا) غار میں گونجنے والی واحد آواز وحی کی آواز تھی۔ "پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھیے، اور آپ کا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا، انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔" یہ وحی کی پہلی آیات تھیں جو ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئیں۔ انہوں نے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا تھا ۔ لیکن اس لمحے سے، وہ پوری دنیا کو دکھائیں گے کہ پڑھنے کا اصل مطلب کیا ہے۔ اپنے دل میں قرآن کے ساتھ، آپ کائنات کی کتاب کے ترجمان بننے والے تھے۔ ہر تخلیق کردہ شاہکار سے، آپ مصور حقیقی، اللہ کے دستخط ظاہر کرنے والے تھے۔ اب یہ سمجھا جائے گا کہ ایک پھول کی خوبصورتی دراصل اللہ کے ناموں میں سے ایک، الجمیل، "سب سے خوبصورت" کا عکس ہے۔ ماں کی شفقت اس کے نام الرحمٰن، "سب سے زیادہ رحم کرنے والا" کے عکس کے طور پر جانی جائے گی۔ جب ماں کا کھایا ہوا کھانا اس کے بچے کے لیے صاف، قوت بخش دودھ میں بدل جاتا ہے، تو یہ الرزاق، "رزق دینے والا" کے نام کی عکاسی کرے گا۔ انسانوں کے بارے میں کچھ جانے بغیر، شہد کی مکھی پھول سے پھول تک اڑ رہی تھی اور شہد بنا رہی تھی جو ان کے جسموں کے لیے شفاء کا ذریعہ بن گیا۔ اب اسے الشافی، "شفا دینے والا" کے نام کے ظہور کے طور پر دیکھا جائے گا۔ لوگ یقین رکھتے تھے کہ کائنات بے مقصد ہے، اتفاقات اور بے ترتیبی سے بھری ہوئی۔ وہ دنیا کو غم اور نقصان کی جگہ سمجھتے تھے، اور سوچتے تھے کہ مرنے والے ہمیشہ کے لیے چلے گئے، کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ لیکن اب، جہالت کا وہ اندھیرا آہستہ آہستہ چھٹنا شروع ہو جائے گا۔ اب کائنات کے تمام راز سمجھ آنے لگیں گے۔ اس کے بند دروازے ایک ایک کر کے کھل جائیں گے۔ اب وہ اللہ کے رسول تھے۔ محمد۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ اس لمحے کا تصور کرنے کی کوشش کریں۔ وہ خوفزدہ تھے۔ انہیں نہیں معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے۔ وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ جلد از جلد اپنے گھر واپس پہنچ جائیں۔ وہ حرا سے باہر نکلے۔ ان کا دل خوف سے دھڑک رہا تھا۔ وہ پہاڑ سے نیچے کی طرف بھاگے، سیدھے اس واحد جگہ کی طرف جو محفوظ تھی۔ خدیجہ کی طرف۔ صرف وہی تھیں جو انہیں صحیح معنوں میں سمجھ سکتی تھیں۔ انہیں ان کے تسلی بخش الفاظ کی ضرورت تھی۔ انہیں ان کے محبت بھرے دل کی ضرورت تھی۔ آخرکار وہ گھر پہنچ گئے۔ آپ پسینے میں شرابور تھے اور بمشکل بول پا رہے تھے۔ ان کے لبوں پر صرف ایک ہی جملہ تھا۔ مجھے کمبل اوڑھا دو۔ مجھے کمبل اوڑھا دو۔ تو ہماری ماں خدیجہ نے کیا کیا؟ انہوں نے بالکل وہی کیا جو انہوں نے کہا۔ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا جس سے اللہ کے رسول کو پریشانی ہو۔ انہوں نے انہیں لیٹنے میں مدد کی، اوپر کپڑا دیا، اور ان کے پاس بیٹھ گئیں۔ پھر نبی پاک ﷺ نے انہیں بتانا شروع کیا کہ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا، "اے خدیجہ، مجھے ڈر ہے۔" "مجھے ڈر ہے کہ میرے ساتھ کچھ برا ہو سکتا ہے۔" ہماری ماں نے گھبراہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ انہوں نے ان کی پریشانی میں اضافہ نہیں کیا۔ ان کے الفاظ بالکل وہی تھے جو ان کے دل کو درکار تھے۔ ہرگز نہیں۔ اللہ کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرےگا۔ یہ سب کچھ پرسکون کرنے کے لیے کافی تھا۔ پھر وہ بولتی گئیں۔ اپنے خاندان کا خیال رکھتے ہیں۔ آپ غریبوں اور کمزوروں کی مدد کرتے ہیں۔ مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں، اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ ان کے ہر لفظ نے انہیں مزید سکون پہنچایا۔ اسی لیے خدیجہ ان کے لیے دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ تھیں۔ تو، اب آگے کیا ہونے والا تھا؟ سوال پوچھنا اور جواب تلاش کرنا خدیجہ پر منحصر تھا۔ وہ ہمارے نبیِ پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے چچا زاد ورقہ کے پاس لے گئیں۔ لیکن ورقہ کون تھے؟ ورقہ بن نوفل ایک مذہبی عالم تھے۔ انہیں سابقہ الہامی کتابوں کا علم تھا۔ وہ عیسائیت، یہودیت اور تصورِ نبوت سے واقف تھے۔ وہ 80 سال سے زیادہ عمر کے ایک عیسائی بزرگ تھے۔ شاید وہ ان کی مدد کر سکیں۔ آخرکار، وہ ورقہ کے گھر پہنچے۔ انہوں نے انہیں بتانا شروع کیا کہ کیا ہوا تھا۔ ورقہ پر جوش ہو رہے تھے۔ جیسے جیسے وہ سنتے گئے، ان کی حیرت بڑھتی گئی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ان کی آنکھوں کے سامنے جوان ہو رہے ہوں۔ انہوں نے بلند آواز میں کہا، "قدوس، قدوس،" اللہ کے ناموں میں سے ایک نام دہرایا۔ پوری کہانی سننے کے بعد، وہ بولے۔ جو فرشتہ آپ نے دیکھا وہ روح القدس ہے، وہ جو اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا۔ وہ ناموس اکبر ہے۔ اور آپ اس امت کے نبی ہیں۔ انہوں نے بات جاری رکھی، لیکن اس بار، جو وہ کہنے والے تھے اس بات نے اللہ کے رسول ﷺ کو پریشان کر دیا۔ آہ۔۔کاش میں اس وقت جوان اور زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو آپ کی سرزمین سے نکال دے گی۔ حیرت زدہ ہو کر، نبی ﷺ نے ان سے پوچھا، "کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟" وہ دنگ رہ گئے تھے۔ کیونکہ 40 سال کی عمر تک، ان کا کبھی کوئی ایک دشمن یا تنازعہ نہیں رہا تھا۔ ہر کوئی انہیں جانتا اور ان پر بھروسہ کرتا تھا۔ ورقہ نے کہا، "کوئی بھی ایسا پیغام نہیں لایا جیسا آپ لائے ہیں اور جس کی اپنی ہی قوم نے اس مخالفت نہ کی ہو۔ اور اگر میں نے وہ دن دیکھا، تو میں آپ کی مدد کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔" وہ رات اسی طرح گزر گئی۔ تمام گفتگو کے بعد، وہ گھر واپس آ گئے۔ اگلے دن، جبرائیل اللہ کے رسول ﷺ کے پاس ایک بار پھر ظاہر ہوئے۔ اور انہیں مکہ کی بالائی سمت ابی دُب نامی وادی میں لے گئے۔ وہاں، انہوں نے اپنی ایڑی زمین پر ماری، اور صاف پانی بہنے لگا۔ اور پھر آپ کو وضو کرنے کا طریقہ سکھایا۔ اس کے بعد، انہوں نے آپ کو نماز پڑھنے کا طریقہ دکھایا۔ اور اس وادی میں، اللہ کے رسول ﷺ نے پہلی بار دو رکعت نماز ادا کی۔ پہلے دن، کائنات کی سب سے بڑی سچائی سکھائی گئی تھی: FAITH ایمان۔ اور اگلے دن، دوسری سب سے بڑی حقیقت سکھائی گئی: نماز۔ ہاں، نماز اللہ کے رسول کے لیے سب سے بڑا سہارا بننے والی تھی۔ ان مشکلات کے خلاف ایک روحانی ڈھال جن کا انہیں سامنا کرنا تھا۔ اب جبکہ نماز ان کی زندگی کا حصہ بن چکی تھی، وہ نبوت کا بھاری بوجھ زیادہ طاقت کے ساتھ اٹھا سکیں گے۔ جب وہ گھر واپس آئے، تو پہلی شخصیت جن سے انہوں نے نماز کا حکم شیئر کیا وہ ہماری ماں خدیجہ تھیں۔ نبی پاک ﷺ نے امامت کی، اور ہماری والدہ خدیجہ نے باجماعت ان کے پیچھے نماز پڑھی۔ وہ کسی اور کو یہ پہلی جگہ نہیں لینے دیتیں۔ پھر ان کے بچے بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ وہ سب مل کر اپنے واحد رب کے لیے نماز میں کھڑے ہوئے۔ اس کے سامنے رکوع اور سجود کرتے ہوئے، وہ اپنے دلوں کو سکون اور روحوں کو زندگی دے رہے تھے۔ وہ اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے ان بے شمار نعمتوں پر جو اس نے انہیں دی تھیں۔ ایک بار پھر، یہ واضح تھا کہ یہ پورے مکہ میں سب سے خوبصورت اور پرسکون گھر تھا۔ جب وہ نمازیں ادا کی جا رہی تھیں، تو ایک بچہ خاموشی سے انہیں پیچھے سے دیکھ رہا تھا۔ اور وہ صرف 10 سال کے تھے۔ اور ان کا نام علی تھا۔ وہ ابو طالب،یعنی نبی ﷺ کے چچا کے بیٹے تھے۔ جو انہوں نے دیکھا وہ اجنبی تو لگا، لیکن دل کو چھو لینے والا بھی۔ نماز ختم ہونے کے بعد، وہ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس گئے اور پوچھا، "یہ کیا ہے؟" پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ علی نے فوراً پیغام قبول نہیں کیا۔ وہ پہلے اپنے والد سے بات کرنا چاہتے تھے۔ لیکن سوچنے کے بعد، انہوں نے کہا، "جب اللہ نے مجھے پیدا کیا، تو اس نے ابو طالب سے نہیں پوچھا۔ تو پھر میں اللہ کی عبادت کے لیے ان سے کیوں پوچھوں؟" اور اس کے ساتھ، وہ نبی پاک ﷺ کے پاس واپس آئے اور اپنے ایمان کا اعلان کیا۔ اس طرح علی اسلام قبول کرنے والے پہلے بچے بنے۔ ابتدائی دنوں میں، اللہ کے رسول ﷺ نے کھل کر اپنی نبوت کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے سب کو دعوت نہیں دی۔ صرف چند لوگوں کو دی۔ انہوں نے اسے خفیہ رکھا۔ لیکن کسی طرح، یہ خبر لوگوں کی باتوں کے ذریعے پھیل گئی اور قریش کے سرداروں تک پہنچ گئی۔ علیین کے لوگوں کے لیے وقت آ گیا تھا کہ وہ اسفل سافلین کے لوگوں سے الگ ہو جائیں۔ دوسرے لفظوں میں، اعلیٰ سے اعلیٰ ترین لوگ بدترین لوگوں سے۔ ابو بکر اور ابو لہب کے دلوں کی صلاحیت اور اصل حقیقت جلد واضح ہونے والی تھی۔ اس وقت، ابو بکر یمن کے تجارتی سفر سے ابھی واپس آئے تھے۔ وہ قریش کے معزز ترین لوگوں میں سے ایک تھے۔ ایک کامیاب تاجر اور حنیف (توحید پرست)۔ وہ کئی سالوں سے اللہ کے رسول ﷺ کے قریبی دوست رہے تھے، اور ان سے صرف دو سال چھوٹے تھے۔ ابو جہل اور قریش کے کچھ سردار ان سے ملنے آئے۔ ابو بکر نے پوچھا: جب میں مکہ میں نہیں تھا تو کیا ہوا؟ کیا کوئی اہم خبر ہے؟ ایک بڑا معاملہ ہے۔ ابو طالب کے یتیم، محمد ﷺ نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ہم نے سوچا کہ آپ کے یمن سے واپس آنے تک انتظار کرنا بہتر ہوگا۔ اب، اپنے دوست کے پاس جائیں اور جو ضروری ہے وہ کریں۔ وہ سمجھے کہ وہ نبی ﷺ کو اپنے مشن کو ترک کرنے پر راضی کر لیں گے۔ لیکن ابو بکر کے دل میں کچھ بالکل مختلف تھا۔ حال ہی میں، وہ ایک مختلف ذہنی کیفیت میں تھے۔ اور جو انہوں نے سنا اس نے اس بات کی تصدیق کر دی جو وہ سوچ رہے تھے۔ اب وہ پوری طرح سمجھ گئے جو خواب کی تعبیر بتانے والوں نے انہیں بتایا تھا۔ ان کے خواب کے مطابق، مکہ میں ایک نبی ظاہر ہوگا۔ اور وہ اس کے ساتھی بنیں گے۔ اب، ہر بات عیاں ہو چکی تھی۔ انہوں نے اس پر سوچا جو قریشی سرداروں نے کہا تھا۔ وہ اللہ کے رسول ﷺ کو کئی سالوں سے جانتے تھے۔ وہ قریبی دوست تھے۔ وہ ان پر مکمل بھروسہ کرتے تھے، اور انہیں یقین تھا کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے۔ ان کے منہ سے کبھی ایک بھی جھوٹا لفظ نہیں نکلا تھا۔ سب سے بڑھ کر، وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کبھی بھی، اللہ کے نام پر جھوٹ نہیں بول سکتے۔ ان کے دل میں اللہ کا گہرا خوف تھا اوروہ سلیم الفطرت بھی تھے۔ اور وہ کبھی بھی کوئی غیر دانشمندانہ، بے معنی، یا نقصان دہ کام نہیں کریں گے۔ ابو بکر نے اپنے مہمانوں پر اپنے جذبات ظاہر نہیں ہونے دیے۔ لیکن وہ پرجوش تھے۔ جیسے ہی وہ گئے، وہ تیزی سے نبی ﷺ کے گھر گئے۔ وہ یہ جاننے کے لیے بہت بے چین تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ اے ابوالقاسم، کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے؟ کیاآپ نے خود کو اپنی قوم سے الگ کر لیا ہے اور اپنے باپ دادا کے مذہب کی مذمت اور تردید کی ہے؟ نبی کریم ﷺ جانتے تھے کہ ان کا وفادار دوست کبھی بھی سچائی سے منہ نہیں موڑے گا۔ تو انہوں نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ کئی سالوں بعد، نبی ﷺ اس لمحے کو ان الفاظ میں بیان فرمانے والے تھے: "جس کسی کو بھی میں نے ایمان کی دعوت دی اسے شروع میں کچھ ہچکچاہٹ ہوئی۔ سوائے ابوبکر کے، جنہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے یقین کیا۔" ابو بکر شروع میں ہی ایمان لائے اور اسلام قبول کرنے والے پہلے لوگوں میں شامل ہوئے۔ اور اپنی باقی زندگی، وہ کبھی نبی پاک ﷺ کو تنہا نہیں چھوڑنے والے تھے اور نہ ہی اس مشن سے پیچھے ہٹنے والے تھے۔ ابو بکر کے اسلام قبول کرنے کا بہت گہرا اثر ہوا۔ مسلمانوں کی تعداد دن بدن بڑھنے لگی۔ کیونکہ وہ خاموش نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ اگلے ہی دن سے، انہوں نے اپنے بااعتماد دوستوں کو اسلام کے بارے میں بتانا شروع کیا۔ کچھ ایسے نام جو اب اسلامی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے گئے ہیں ابو بکر کی کوششوں سے اسلام قبول کرنے والے تھے۔ عثمان بن عفان، طلحہ بن عبید اللہ، زبیر بن عوام، عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، عثمان بن مظعون۔ اور بہت سے مشہور صحابہ ان کے ذریعے ایمان لانے والے تھے۔ ساتھ ہی، خواتین بھی اسلام پھیلانے کی اپنی کوششیں شروع کرنے لگیں۔ نبی کریم ﷺ کی زوجہ خدیجہ، آپ کی بیٹیاں زینب، رقیہ، ام کلثوم، اور فاطمہ، ان کے چچا عباس کی بیوی ام الفضل، عمر کی بہن فاطمہ، اور ابو بکر کی بیٹی اسماء۔ ان میں سے ہر ایک خود کو اس سچائی کے لیے وقف کرنے والا تھا جس نے ان کی روحوں کو بیدار کیا۔ خواتین سوچ رہی تھیں کہ وہ کیسے ایمان کا یہ نسخہ دوسری خواتین تک پہنچا سکتی ہیں، اور مرد دوسرے مردوں تک۔ انہوں نے اپنی روح کے تمام زخموں کا علاج پا لیا تھا، یعنی ایمان۔ وہ خاموش کیسے رہ سکتے تھے؟ وہ خود غرض نہیں ہو سکتے تھے۔ ان کے ارد گرد لاتعداد لوگ تھے جنہیں اس کی ضرورت تھی لیکن انہیں ابھی اس کا احساس بھی نہیں تھا۔ یہ روشنی ان میں سے ہر ایک تک پہنچنی چاہیے تھی۔ لیکن جس راستے پر وہ قدم رکھ رہے تھے وہ اتنا آسان نہیں تھا جتنا لگتا تھا۔ اس کا مطلب پورے شہر مکہ سے ٹکر لینا تھا۔ اور اس کی قیمت بالکل بھی سستی نہیں تھی۔ اس ایمان کو قبول کرنے کے لیے بہت ہمت درکار تھی۔ اپنے تمام خوفناک رسم و رواج کے ساتھ، جاہلیت کے سرداروں کو یہ تبدیلی بالکل پسند نہیں آئے گی، اور وہ سختی سے اس کی مخالفت کریں گے۔ مسلمانوں کے لیے مشکل اور تکلیف دہ دن انتظار کر رہے تھے۔ یہ دکھانے کا وقت آ گیا تھا کہ کس کی روح ہیرے جیسی ہے اور کس کی کوئلے جیسی۔ میں چاہتا ہوں کہ تم محمد ﷺ کا انکار کرو اور اس بت کی پوجا کرو۔ جو محمد ﷺ کی پیروی کرتے ہیں، ان کا یہی انجام ہوتا ہے۔ اسے ایک عبرت سمجھو!

اگلی قسط میں، آپ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کو کتنی مشکل آزمائشوں سے گزرنا پڑا اور اسلام آسانی سے وہاں نہیں پہنچا جہاں آج ہے۔ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی کی کہانی انسانی تاریخ کا ٹرننگ پوائنٹ تھی۔ اور آج بھی، یہ ہر اس شخص کے لیے نئی ابتداء کی تحریک دیتی ہے جو اسے سنتا ہے کھلے دل کے ساتھ اور اس کے اسباق پر غور کرتا ہے۔ انشاءاللہ، جب اپ یہ 11 اقساط کی سیریز مکمل کریں گے، تو آپ اس شخص میں واضح فرق دیکھیں گے جو آپ پہلے تھے اور جو آپ اس کے بعد بن گئے ہیں۔ آپ خود کو دوبارہ دریافت کریں گے۔ اور اس ویڈیو کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا مت بھولیں۔ جب بھی وہ اسے دیکھیں گے، ان شاء اللہ، آپ کو بھی ثواب میں حصہ ملے گا۔ اگلی قسط میں ملتے ہیں۔