Qurani Safhon Mein Hairat Angaiz Tanasub! - Aik Moajiza Jo Aap Pehli Martaba Sunenge!
تاریخ اشاعت
میں آپ کو ایک ایسا معجزہ دکھانے والا ہوں جس پر شاید آپ نے کبھی غور نہیں کیا ہوگا: قرآن میں آیات کی خدائی ترتیب۔ یہ اتنا صاف اور واضح معجزہ ہے کہ آپ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ لاکھوں لوگ قرآن پڑھ اور حفظ کر چکے ہیں، مگر صدیوں سے کسی نے بھی اِن تین نسخوں میں چُھپے ہوئے ان بصری نمونوں پر غور نہیں کیا۔ آج، ہم آپ کو دکھائیں گے کہ قرآن ایک معجزہ ہے، صرف اپنے پیغام میں ہی نہیں، بلکہ اپنے صفحات میں، اپنی لائنوں میں، اپنے الفاظ میں، اور اپنے حروف میں بھی۔ کیا آپ نے کبھی کوئی کتاب دیکھی ہے جس کے درجنوں صفحات میں، ہر لائن ایک ہی حرف سے شروع ہوتی ہو؟ اِس مصحف (قرآن کا نسخہ) میں، ہر لائن ایک ہی حرف سے شروع ہوتی ہے۔ ذرا اِس پر غور کریں۔ ہر صفحے میں ایک جتنی لائنیں ہیں، ہر لائن کی لمبائی بھی ایک
جتنی ہے، اور ان میں سے ہر لائن ایک ہی حرف سے شروع ہوتی ہے۔ یا، قرآن کے اِس نسخے میں ایک ہی جیسی ترتیب ہے جو ہر صفحے پر واضح نظر آتی ہے۔ پہلی اور آخری لائنیں ایک ہی حرف سے شروع ہوتی ہیں۔ دوسری لائن اور آخری سے پہلی لائن بھی ایک ہی حرف سے شروع ہوتی ہیں۔ اوپر سے تیسری بھی ایک جیسے حرف سے شروع ہوتی ہیں۔ ہر لائن اِسی اصول کے مطابق ہے، اور ہر صفحے پر ہمیں یہی معجزہ دکھائی دیتا ہے۔ اب، یہ نسخہ جو آپ دیکھ رہے ہیں شاید یہ سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ آج، ہم ایک ایسے حیرت انگیز بصری سفر پر جا رہے ہیں جو آپ کے ایمان کو نہایت بلند درجے تک بڑھا دے گا۔ حافظ عثمان نوری ایک کیلیگرافر تھے جو 1800 صدی عیسوی میں گزرے ہیں اور وہ اپنے ہاتھ سے پورا قرآن 106 مرتبہ لکھ چکے ہیں۔ جی ہاں، بالکل 106 مرتبہ۔ مگر جو سب سے بڑا
وِرثہ اُنہوں نے چھوڑا ہے وہ صرف اُن کے لکھے ہوئے مصحف نہیں ہیں۔ بلکہ اُن کا لکھنے کا انداز اور صفحات کی ترتیب ہے جسے اب پوری دنیا مانتی ہے۔ ایک دن، قرآن کو ایک مرتبہ پھر کاپی کرتے ہوئے، اُنہوں نے خود سے ایک سوال پوچھا: ’’قرآن کو لکھنے کا بہترین طریقہ کون سا ہے؟‘‘ اُس وقت، اُنہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک معجزہ دریافت کرنے والے ہیں۔ کچھ وقت کے بعد، اللہ نے اُن کے دل میں یہ آئیڈیا ڈالا۔ وہ قرآن کی اپنی پیمائشوں کی مدد سے مصحف کو لکھنے والے تھے۔ ہر لائن کی لمبائی کو طے کرنے کے لیے، اُنہوں نے سب سے چھوٹی سورۃ، سورۃ الکوثر کو، ریفرنس کے طور پر استعمال کیا اور ہر لائن کو اِسی سورۃ کے مطابق رکھنے کا فیصلہ کیا۔ صفحے کی لمبائی کے لیے، اُنہوں نے سب سے لمبی آیت ، آیتِ مداینہ (قرضے کی آیت) کو منتخب کیا۔
تاکہ ہرصفحہ اُس آیت کی لمبائی کے مطابق ہو، جوکہ پورے صفحے پر آ گئی تھی۔ مگر جب اُنہوں نے لکھنا شروع کیا، تو اُنہیں یقین نہ آیا کہ آیات کتنے پرفیکٹ انداز میں ترتیب پاتی چلی گئیں۔ وہ یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ہر صفحہ ایک مکمل آیت کے ساتھ شروع ہوا اور اِس کا اختتام دوسری آیت کے ختم پر ہوا۔ صفحات کے درمیان کوئی بھی صورت ٹوٹی نہیں۔ ہر سورۃ صفحے کے آخر میں جا کر ہی ختم ہوئی۔ اور 600 صفحات کا پورا قرآن اِسی انداز سے چلتا رہا۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اللہ نے قرآن کو پرفیکٹ انداز میں لکھنے کی چابی خود قرآن کے اندر ہی رکھی ہے؟ جس نے بھی اِسے دیکھا، حیرت زدہ رہ گیا، اور جَلد ہی لکھنے کا یہ انداز اسلامی دنیا میں پھیلنے لگا۔ اب ذرا تصور کریں۔ ہم اب تک لکھی گئی ہر کتاب کو لیتے ہیں اور ان سب کو ایک
کمپیوٹر میں اَپ لوڈ کرتے ہیں۔ پھر ہم AI کو کہتے ہیں کہ اِنہیں دوبارہ لکھے، مگر اِس طرح کہ سب سے چھوٹے پیراگراف کو لائن کا معیار بنائے اور سب سے لمبے پیراگراف کو صفحے کے سائز کا معیار بنائے۔ کیا آپ کے خیال میں اِن میں سے کوئی بھی کتاب قرآن کی پرفیکٹ ترتیب سے میچ کر سکتی ہے؟ مجھے ایسا بالکل نہیں لگتا۔ اِس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ کیونکہ اِس کا اسٹرکچر اتنا پرفیکٹ ہے، کہ کسی انسان کا اِسے خود سے ڈیزائن کرنا ناممکن ہے۔ نبی پاک نے کسی سے تعلیم حاصل نہیں کی کیونکہ آپ خود صرافہ معضزہ تھے۔ اور اِس سے بڑھ کر دلچسپ یہ بات ہے کہ: قرآن کی آیات اور سورتیں 23 سال کے عرصے میں مختلف واقعات کے نتیجے میں، اور ہمیشہ کسی خاص موقع پر نازل ہوئیں، ایک ساتھ نہیں۔ اِس سے بھی زیادہ حیرت کی
بات یہ ہے کہ یہ سورتیں جس ترتیب میں نازل ہوئیں وہ اُس ترتیب سے بالکل مختلف ہے جو نبی پاک (ﷺ) نے اپنے صحابہ کو سکھائیں۔ تو، اگر وہ یہ اسٹرکچر خود سے پلان نہیں کر سکتے تھے، اور ہم نے یہ چیز کسی اور کتاب میں بھی کبھی نہیں دیکھی، تو پھر یہ بالکل واضح طور پر ایک معجزہ ہے۔ بعد میں، تفسیر کے اسکالر بدیع الزماں سن 1992 میں اِسی نسخے میں مزید چُھپے ہوئے راز دریافت کیے۔ اُنہوں نے غور کیا کہ بنیادی الفاظ جیسے کہ اللہ، رب ، رحمٰن ، اور پیغمبروں کے نام، اور دوسری اہم اصطلاحات ایسی ترتیب میں ہیں جو اتفاقیہ نہیں ہو سکتی۔ اِن میں سے کچھ ایک ہی صفحے پر ایک دوسرے کے نیچے آئی ہیں، بالکل موتیوں کی لڑی کی طرح۔ کچھ اِس طرح کہ جب آپ آمنے سامنے کے صفحات ساتھ ملائیں تو پرفیکٹ انداز میں ایک دوسرے کے اوپر ترتیب پا
جاتی ہیں۔ کچھ صفحے کے دونوں اطراف میں پرفیکٹ انداز میں میچ کرتی ہیں۔ لہٰذا، وہ اُس طریقے سے قرآن لکھنا چاہتے تھے جو ان تمام ترتیبوں کو واضح طور پر نمایاں کر دے۔ اور اِس طرح قرآن کی خدائی ترتیب سامنے آئی۔ کیوں نہ اِس کا گہرائی سے مشاہدہ کریں؟ آئیے صفحہ 35 پر چلتے ہیں۔ دیکھیں کہ رب کا لفظ جو اللہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، کیسے پرفیکٹ انداز میں لگاتار پانچ بار سیدھی لائن میں آیا ہے۔ آئیے اب صفحہ 62 اور 63 دیکھتے ہیں۔ دیکھیں صفحہ نمبر 62 پر اللہ کا لفظ 9 مرتبہ آیا ہے۔ کتنی حیرت انگیز ترتیب ہے۔ اور اِس کے سامنے والے صفحے پر ایسا دوبارہ ہو رہا ہے۔ پورے نو بار ایک دوسرے کے نیچے پرفیکٹ انداز میں آ رہا ہے۔ جیسے جیسے ہم صفحے پلٹتے جائیں، تو ہمیں پورے قرآن میں کھڑی ترتیب، خدائی ترتیب، بار بارنظر آتی رہے
گی۔ اب آئیے صفحہ 259 پر چلتے ہیں۔ دیکھیں کہ رب کا لفظ کیسے ایک ہی صفحے پر، کُل نو مرتبہ ایک دوسرے کے اوپر آیا ہے۔ اور صفحہ 82 اور 83 پر ایک دلچسپ چیز ہماری منتظر ہے۔ دیکھیں کہ اللہ کا لفظ دونوں اطراف میں کیسے چار مرتبہ repeat ہو رہا ہے اور آمنے سامنے کے صفحات پر کتنے پرفیکٹ انداز میں میچ ہو رہا ہے۔ کیا یہ حیران کن نہیں ہے؟ قرآن کے ایک ہی ورق کی اگلی اور پچھلی طرف ایک اور قسم کی خدائی ترتیب نظر آتی ہے۔ آئیے ہم صفحہ 33 اور 34 کے حامل ورق کو دیکھتے ہیں۔ صفحات 289 اور 290 کے ورق پر، دیکھیں قرآن کا لفظ کتنے پرفیکٹ انداز میں لگاتار آ رہا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اِس طرح کی اور بہت سی مثالیں ہیں۔ میں بس چند ایک دکھا رہا ہوں۔ اب آپ کو ایک بالکل ہی غیر متوقع چیز نظر آئے گی۔ صفحہ 422 پر۔ آئیے میں آپ کو
وہ صفحہ دکھاتا ہوں جس پر اللہ کا نام کسی بھی دوسری جگہ سے زیادہ آیا ہے۔ اِس صفحے پر، اللہ کا لفظ پرفیکٹ ترتیب کے ساتھ 15 بار آیا ہے۔ قرآن کے تمام 604 صفحات میں سے، اِس صفحے پر سب سے زیادہ بار اللہ کا لفظ آیا ہے۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ نیچے سے تیسری لائن سے کون سی آیت شروع ہوتی ہے؟ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔‘‘ تو چونکہ اللہ ہمیں اپنی کثرت سے یاد کا حکم دے رہا ہے، لہٰذا اُس نے کسی بھی دوسرے صفحے سے زیادہ بار یہاں اپنا نام ذکر کرکے خدائی ترتیب کے ذریعے ایک بصری معجزے کا اظہار فرمایا ہے۔ بدیع الزماں، جنہوں نے یہ معجزہ دریافت کیا، اُن کے مطابق، قرآن میں اللہ کا لفظ 2,806 مرتبہ آیا ہے۔ اور تقریباً سب میں
ہی، ہمیں خدائی ترتیب نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ، رب (مالک/آقا) کا لفظ 846 بار، رحیم (بہت مہربان) کا نام 220 مرتبہ، اور رحمٰن کا نام 156 بار آیا ہے۔ اور اِن میں سے زیادہ تر میں، ہمیں کچھ نہ کچھ خدائی ترتیب ملتی ہے۔ اِسی طرح کی ترتیب کے حامل دوسرے الفاظ میں پیغمبروں کے نام شامل ہیں۔ مثلاً، صفحہ 327 پر، ہمیں سلیمان اور داؤد علیھما السلام کے نام نظر آتے ہیں۔ وَ سُلَیمَان (اور سلیمان)، سلیمان، وَ سُلَیمَان۔ عربی میں ’’و‘‘ کا مطلب ہوتا ہے ’’اور‘‘۔ اور داؤد بھی، اور داؤد۔ آپ دیکھیے کہ یہ نام ایک دوسرے کے نیچے ترتیب میں ہیں۔ صفحہ 449 میں، ہمیں پیغمبروں اسحٰق ، موسیٰ ، اور ہارون علیھم السلام کے نام نظر آتے ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ موسیٰ، موسیٰ، ہارون، اور ہارون، اسحٰق، اور اسحٰق۔ دیکھیے ہر نام دو مرتبہ آ
رہا ہے، اور ان تینوں کے نام کھڑی ترتیب میں آ رہے ہیں۔ صفحہ نمبر 19 پر، ابراہیم علیہ السلام کا نام پرفیکٹ ترتیب کے ساتھ لگاتار تین بار آ رہا ہے۔ جیسا کہ یہاں دیکھ سکتے ہیں،: ابراہیم، ابراہیم، اور دوبارہ، ابراہیم۔ اب صفحہ 235 میں، یوسف علیہ السلام کا نام چار مرتبہ آیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ، یہ بھی ایک دوسرے کے نیچے ہیں۔ دیکھیں، چاروں نام پرفیکٹ ترتیب کے ساتھ ہیں۔ یوسف، یوسف، یوسف، اور دوبارہ، یوسف۔ اگر میں یوسف (علیہ السلام) کی ایک سب سے مشہور خوبی آپ سے پوچھوں۔ تو آپ کیا کہیں گے؟ اُن کا حُسن، رائٹ؟ اُن کی اس خوبی کا ذکر سب سے زیادہ کیا جاتا ہے۔ آئیے صفحہ 235 پر چلتے ہیں۔ آپ کو چھٹی لائن میں یوسف کا لفظ نظر آ رہا ہے۔ اب صفحہ پلٹائیں، اور دیکھیں پیچھے کون سا لفظ اس ترتیب میں ہے۔ دیکھیں کیا لکھا
ہے، لکھا ہے ’’جمیل‘‘، مطلب خوبصورت۔ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے؟ ہم ایک ایسی کتاب کی بات کر رہے ہیں جو 23 سال میں مختلف واقعات کے کے جواب میں نازل ہوتی رہی تھی۔ کبھی کسی سوال یا صورتحال کے براہِ راست جواب کے طور پر بھی آیات نازل ہوتی تھیں۔ لہٰذا اگر کوئی دعویٰ کرے کہ نعوذباللہ، نبی پاک ﷺ نے اِسے بنایا ہے، تو اُن کے پاس تو ایسی پلاننگ کا وقت تک نہ ہوتا۔ اُن کی زندگی کے متعلق پڑھیں، آپ کو میری بات سمجھ آ جائے گی۔ بعض اوقات آیات لوگوں کے ہو بہو الفاظ یا کسی مخصوص واقعے کے جواب میں نازل ہوتی تھیں۔ ذرا سوچیں، اگر اُس شخص نے وہ جملہ نہ کہا ہوتا یا بالکل اسی انداز سے نہ کہا ہوتا، تو یہ پورا اسٹرکچر جو ہم آپ کو دکھا رہے ہیں بے ترتیب ہو جاتا۔ ہر شخص اپنی بات تو مرضی سے کر سکتا ہے مگر دوسرے کے کہے ہوئے
الفاظ پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا، اور ظاہر ہے اِس پر بھی کوئی کنٹرول نہیں ہوتا کہ کون سے واقعات ہوں گے۔ لہٰذا واحد ممکنہ وضاحت یہی ہو سکتی ہے: کہ یہ کلام اللہ کا ہے، جس کا علم ہر چیزکا احاطہ کیے ہوئے ہے : ماضی، حال اور مستقبل آئیے پچھلی مثال کو دوبارہ دیکھتے ہیں۔ یوسف اور پھر جمیل کا لفظ جس کے معنی ہیں خوبصورت۔ اچھا، قرآن میں اب تک ہم نے جس جس خدائی ترتیب کو دیکھا ہے ان کے علاوہ بھی ایک خاص قسم کی ترتیب پائی جاتی ہے۔ آئیے، ایک اور مختلف قسم کی ترتیب دیکھتے ہیں جو آپ کو دوبارہ حیران کر دے گی۔ کیا آپ نے کبھی اصحابِ کہف (غار والوں) کے اُس مشہور کتے کے بارے میں سنا ہے؟ اُس کا نام قطمیر تھا۔ آئیے صفحہ نمبر 294 پر چلتے ہیں جہاں یہ قصہ بیان کیا گیا ہے۔ ساتویں لائن کے ختم پر لکھا ہے، ’’وَ کَلبُھُم‘‘،
جس کا مطلب ہے ’’اور اُن کا کتا‘‘۔ اِس کتے کا نام کیا تھا؟ قطمیر، رائٹ؟ اب، آئیے صفحے پلٹانا شروع کرتے ہیں۔ اب ہمیں کتنا آگے جانا ہے؟ ایک صفحہ، دو، 10، 20؟ نہیں پورے 141 صفحات آگے۔ اور دیکھیں ساتویں لائن کے شروع میں ہمیں کیا ملتا ہے؟ قطمیر۔ ایک لفظ ساتویں لائن کے آخر میں تھا، اور دوسرا شروع میں۔ مگر جب ہم قرآن کو بند حالت میں دیکھیں، تو یہ دونوں الفاظ، اگرچہ ان کے درمیان 100 سے زیادہ صفحات ہیں، ایک ہی افقی لائن پر پرفیکٹ ترتیب میں آتے ہیں۔ اب اِس بارے میں سوچیں۔ اگر اِن 140 صفحات میں بیان کیے گئے واقعات میں سے ایک بھی ذرا مختلف ہو جاتا، یا اگر انہیں کسی اور انداز میں بیان کیا جاتا، یا جملوں کا اسٹرکچر بدل جاتا، یا اگر اُن حصوں کو چھوڑ دیا جاتا، یا کچھ اور باتیں بیان کر دی جاتیں، تو یہ ترتیب
ختم ہو جاتی۔ بے شمار امکانات میں سے یہی صورت سامنے آتی۔ ایک کتاب جو اپنے اندر گہرے معنی رکھنے کے ساتھ ساتھ سیکڑوں خدائی ترتیبات سے بھی پُر ہے۔ یہ انسانی سوچ سے اوپر کی بات ہے۔ اب، کیا آپ سمجھ گئے ہیں کہ کیوں کوئی بھی قرآن جیسا کلام نہیں بنا سکا؟ ظاہر ہے، یہ اِس کی بنیادی وجہ نہیں ہے مگر اِس ایک منفرد خصوصیت کی مثال بھی کوئی نہ لا سکا۔ آئیے اصحابِ کہف (غار والوں) اور صفحہ 294 کو دوبارہ دیکھتے ہیں۔ جب وہ اپنی مشہورِ زمانہ گہری نیند سے جاگ اٹھے، تو اندازہ لگانے لگے کہ وہ کتنی دیر سوئے رہے۔ 11 ویں لائن میں، اُن میں سے ایک نے کہا، ’’ لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ‘‘، ’’ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے رہے۔‘‘ جب وہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے، تو اِسی کے سامنے والے صفحے پر اُسی لائن میں
دیکھیں۔ گویا براہِ راست اللہ اُنہیں اِس کا جواب دے رہا ہے۔ ’’وَلَبِثُوا۟ فِى كَهْفِهِمْ ثَلَـٰثَ مِا۟ئَةٍۢ سِنِينَ وَٱزْدَادُوا۟ تِسْعًۭا‘‘، ’’اور وہ اپنے غار میں 300 سال اور مزید نو سال سوتے رہے۔‘‘ اِن بصری معجزوں کی نوعیت یہ بھی ہے کہ درمیان میں درجنوں صفحات آنے کے باوجود ایک ہی معنی رکھنے والی دو آیات ایک جیسی ترتیب میں نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر، صفحہ 342 کے شروع میں، ہم پڑھتے ہیں ’’وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍۢ‘‘ ’’اور ہم نے آسمان سے ٹھیک اندازے کے ساتھ پانی اتارا‘‘۔ پورے 147 صفحات کے بعد، صفحہ نمبر 489 کے شروع میں،ہمیں لکھا ملتا ہے کہ، ’’وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ‘‘، ’’اور جس نے آسمان سے ایک خاص اندازے سے پانی اتارا‘‘۔ اور دیکھیں ان کے تقریباً
ایک ہی معنی ہیں، اور دونوں صفحے کے شروع میں پرفیکٹ انداز میں ترتیب پائی ہوئی ہے۔ اور آگے پھر آپ صفحہ نمبر 71 اور 511 دونوں پر چوتھی لائن کو دیکھیں، تو آپ کو تقریباً ایک جیسے جملے نظر آئیں گے، اور دونوں بالکل ایک ہی جگہ سے شروع ہو رہے ہیں۔ بسم الله الرحمن الرحيم ’’یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ‘‘، اور دوسرے پر ہے،’’ يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ‘‘، ’’وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو اِن کے دلوں میں نہیں ہوتیں‘‘۔ درمیان میں 440 صفحات کے باوجود۔ اور جب ہم صفحہ نمبر 112 اور 286 کا موازنہ کرتے ہیں تو ہمیں ایک بار پھر ایک جیسی ترتیب ملتی ہے۔ نیچے سے چوتھی لائن میں ہم پڑھتے ہیں، ’’ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ‘‘، ’’۔۔۔ اور اُس تک
پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو‘‘۔ اب دوسرے صفحے پر دیکھیں۔ ’’يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ‘‘، ’’وہ اپنے پروردگار تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں‘‘۔ اب صفحات نمبر 219 اور 415۔ دونوں صفحات کی تیسری لائنوں پر، آیات تقریباً ایک جیسے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں۔ ’’وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِي الأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعاً‘‘، ’’اور اگر اللہ چاہتا تو زمین پر بسنے والے سب کے سب ایمان لے آتے‘‘۔ دونوں صفحات کی تیسری لائنوں پر موجود آیات کے تقریباً ایک ہی معنی ہیں۔ ’’وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا‘‘، ’’اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو (پہلے ہی) اُس کی ہدایت دے دیتے‘‘۔ اِن آیات کے مطابق، اللہ کو لوگوں کے ایمان کی ضرورت نہیں ہے۔ درحقیقت، ایمان کی ضرورت تو خود ہمیں ہے۔ اگر وہ
چاہتا، تو وہ ایک بھی واضح ثبوت دیے بغیر ہم سے ایمان کی توقع رکھ سکتا تھا۔ پھر بھی، اُس نے ہمیں اِن جیسی بے شمار نشانیاں دکھائیں، تاکہ ہم ایمان لائیں اور اپنی ہمیشہ کی زندگیاں بچا لیں۔ ہم قرآن کے جس نسخے کی بات کر رہے ہیں وہ خدائی ترتیب کے 3 حامل قرآن کے نسخوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا، دو نسخے اور ہیں، جو اپنی اپنی انفرادیت رکھتے ہیں۔ مگر اُن کا اِس نسخے کی طرح مطالعہ نہیں کیا گیا ہے، لہٰذا ہمیں ابھی تک نہیں معلوم کہ اُن میں کونسے دیگر معجزے ہیں، یا خدائی ترتیب کے حامل اور کتنے نسخے ہیں جو ابھی بھی دریافت ہونے کے منتظر ہیں۔ آئیے سرسری جائزہ لیتے ہیں کہ اِن میں سے ایک کو کیسے لکھا گیا۔ عثمانی دور کے ایک اور اسکالر، حافظ حنصری تھے۔ اُنہوں نے ایک مرتبہ نبی پاک (ﷺ) کو اپنے
خواب میں دیکھا۔ اُس وقت تک، وہ بھی اپنے ہاتھ سے قرآن لکھ چکے تھے۔ خواب میں، اُنہوں نے نبی پاک (ﷺ) کو اپنے کام کے بارے میں بتایا اور ایک خوبصورت روحانی تحفہ طلب کیا۔ اِس درخواست کو قبول کرتے ہوئے نبی پاک ﷺ نے اُنہیں بتایا کہ قرآن کو مختلف انداز سے کیسے لکھا جا سکتا تھا۔ آپ ﷺ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، اُنہوں نے ہر صفحہ 11 لائنوں کے ساتھ لکھا، اور حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا۔ ہر صفحے پر لائنوں کے پہلے حروف ایک پرفیکٹ ترتیب میں آ گئے۔ مثلاً، پہلی لائن، حرف ف سے شروع ہوتی ہے، اور آخری لائن بھی حرف ف سے شروع ہوتی ہے۔ دوسری لائن الف سے شروع ہوتی ہے، اور نیچے سے دوسری لائن بھی الف سے شروع ہوتی ہے۔ تیسری لائن اور نیچے سے تیسری لائن بھی ایک جیسی ہے: لام، لام۔ چوتھی لائن بھی لام سے شروع ہوتی ہے، اور
نیچے سے چوتھی لائن بھی لام سے شروع ہوتی ہے۔ پانچویں لائن بھی الف سے شروع ہوتی ہے، اور نیچے سے پانچویں لائن بھی الف سے شروع ہوتی ہے۔ اور یہ یکسانیت پورے قرآن میں جاری رہتی ہے، ہر ایک صفحے پر، ہر ایک لائن پر۔ چاہے آپ کسی بھی صفحے پر جائیں، آپ کو یہی یکساں ترتیب نظر آئے گی۔ قرآن کا تیسرا خدائی ترتیب کا حامل نسخہ لاہور، پاکستان میں دریافت ہوا ہے۔ اِسے قرآن مجید الفی کہا جاتا ہے۔ اِسے مکمل ہونے میں 12 سال لگے، اور اِس دوران، اِسے لکھنے والے اسکالر نے مسلسل روزے رکھے۔ ہر صفحے پر 21 لائنیں ہیں، اور جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، ہر لائن حرف الف سے شروع ہوتی ہے۔ چاہے آپ کسی بھی صفحے پر چلے جائیں، ترتیب یہی رہتی ہے۔ اور یہ پورا قرآن 221 صفحات پر مشتمل ہے۔ بالکل حافظ حنصری کے انداز میں لکھے گئے مصحف کی
طرح، اِس مصحف کی منفرد ترتیب کسی اور کتاب میں نہیں مل سکتی۔ آپ نے دیکھا کہ اِن تینوں شاندار بصری اسٹرکچرز میں االلہ نے کیسے اپنے کلام کو ہم آہنگ کیا کہ شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ لیکن اگر میں آپ سے کہوں کہ یہی سب کچھ نہیں تو؟ اب میں آپ کو ایک ایسا معجزہ بتاتا ہوں جو اِس بصری خوبصورتی کو ایک نئے درجے پر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن میں مخصوص الفاظ کے آنے کی تعداد بھی ایک معجزے کا اظہار ہے۔ مثال کے طور پر، ’’یوم‘‘ کا لفظ، جس کے معنی ’’دن‘‘ ہیں، پورے قرآن میں 365 بار آیا ہے، جس سے واضح طور پر سال کے دنوں کی تعداد ظاہر ہوتی ہے۔ ’’شھر‘‘ کا لفظ، جس کے معنی ہیں ’’مہینہ‘‘ ہے،پورے 12 دفعہ آیا ہے، جوکہ سال میں مہینوں کی تعداد ہوتی ہے۔ لفظ ’’مَلَک‘‘ جس کے معنی ’’فرشتہ‘‘ ہے، اور اِس کی ضد ہے
’’شیطان‘‘، یعنی ’’ابلیس‘‘، دونوں 88 بار آئے ہیں۔ ویسے آپ اسے AI سے بھی تصدیق کر سکتے ہیں۔ تعداد بالکل برابر ہے۔ جنت اور جہنم (دوزخ) دونوں 77 مرتبہ آئے ہیں۔ ’’رَجُل‘‘ (مرد) اور ’’اِمرأۃ‘‘ (عورت)، دونوں 24 مرتبہ آئے ہیں۔ ایک اور مثال: قرآن کہتا ہے، یہ آیت اِس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ دوسرے انسانوں کے برعکس دونوں کو باپ کے بغیر پیدا کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ، عیسیٰ اور آدم، دونوں نام، پورے قرآن میں 24 مرتبہ آئے ہیں۔ اِنہیں برابر تعداد میں بیان کیا گیا ہے۔ ’’بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کی نظر میں آدم کی مثال کی طرح ہے‘‘۔ سب سے لمبی سورۃ یعنی، سورۃ البقرۃ ، میں کل 286 آیات ہیں۔ اِس سورۃ میں اللہ کا لفظ 282 مرتبہ آیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسمِ ضمیر ’’ھُوَ‘‘، یعنی ’’وہ‘‘، جو اللہ کے لیے استعمال ہوتا ہے،
چار مرتبہ آیا ہے۔ اگر اِن دونوں کو جمع کیا جائے تو وہی تعداد بنتی ہے،یعنی 286 جوکہ اِس سورۃ میں آیات کی کُل تعداد ہے۔ یا دیگر سورتیں، سورۃ النساء، المائدہ ، اور سورۃ الانعام کو لیں۔ اِن تینوں سورتوں میں آیات کی کُل تعداد 464 ہے۔ اور پتہ ہے کیا؟ اِن تینوں سورتوں میں اللہ کے نام کے کُل تعداد 464 بار ہی ہے۔ آئیے اب اِس سے بھی زیادہ حیران کن ترتیب کو دیکھتے ہیں۔ یہ پانچ سورتیں لیں: سورۃ البقرۃ ، آل عمران، النساء ، المائدہ، اور الانعام ، جو 2 سے 6 نمبر تک کی سورتیں ہیں۔ اِس گروپ میں اللہ کا نام جتنی بار آیا ہے اُس کی تعداد اِن اگلی پانچ سورتوں کے مقابلے میں ڈبل ہے: الاعراف، الانفال، التوبہ، یونس ، اور ھود۔ اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ دوسرا گروپ بھی اِن اگلی پانچ سورتوں کے گروپ سے بالکل ڈبل
تعداد رکھتا ہے: یوسف ، رعد ، ابراہیم، الحجر، اور النحل۔ یہ سورتیں مختلف پس منظر میں، مختلف مقاصد کے لیے نازل ہوئی تھیں۔ پھر بھی، معجزانہ طور پر اِن میں یہ ترتیب برقرار ہے۔ اور یہ صرف وہ معجزے ہیں جو ہمیں معلوم ہوئے ہیں۔ کسے معلوم بہت سی دوسری آیات میں بھی ایسی ہی ترتیب موجود ہو۔ آخر میں، ہمیں یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے۔ یہ کسی بھی انسان کے لیے بالکل ناممکن ہے کہ وہ خود یہ ساری ترتیب انجام دے۔ یہاں تک کہ نبی پاکﷺ نے بھی کبھی اِسے اپنے لیے ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا۔ اگر اِسے ترتیب اُنہوں نے دیا ہوتا تو، تو وہ ضرور اِس کا ذکر کرتے۔ بلکہ یہ معجزے تو کئی صدیوں بعد دریافت ہوئے۔ اور اِس سب کے علاوہ، قرآن کے مضامین کسی بھی دوسری کتاب سے مختلف ہیں۔ یہ ہمیں ایک مضبوط عقیدہ عطا کرتا ہے، پیغمبروں کے
حکمت بھرے قصے سناتا ہے، ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کے واقعات کو زیادہ گہرائی سے کیسے دیکھنا چاہیے، اور آخرت کی زندگی، جنت اور جہنم، ثواب اور عذاب کے بارے میں بتاتا ہے۔ کبھی یہ تاریخ کی گہرائیاں کھوجتا ہے؛ اور کبھی، آئندہ ہونے والے واقعات کا ذکر کرتا ہے۔ یہ ایسے فلسفیانہ مسائل حل کرتا ہے جو کسی مفکر نے آج تک حل نہیں کیے۔ یہ سکھاتا ہے کہ بہترین والدین کیسے بنیں، یہ کاروبار کے سنہری اصول دیتا ہے، یہ میڈیکل کے شعبے سے متعلق گہری معلومات دیتا ہے، اور فصاحت و بلاغت اور ادب میں بے مثال کمال دکھاتا ہے۔ یہ قانون کے شعبے میں زبردست رہنمائی دیتا ہے، سائنسی علوم پر اظہار کرتا ہے، اور تعلیم اور معاشرت کے شعبے میں قیمتی سبق پیش کرتا ہے۔ مگر یہ فہرست اِسی پر ختم نہیں ہوتی۔ کوئی شخص زیادہ سے زیادہ اِن میں سے
کسی ایک یا دو شعبوں میں مہارت حاصل کر سکتا ہے، مگر قرآن اِن سب کا احاطہ کرتا ہے اور اپنا پیغام معجزوں سے بھرپور ترتیب کے حامل اسٹرکچر کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اِس کی سطروں میں میتھامیٹکس ہے۔ اِس کے لفظوں میں، حکمت ہے۔ اِس کے جملوں میں، آرٹ ہے۔ اِس کی آیتوں میں علم ہے۔ اور اِس کے پیغامات، لافانیت ہیں۔ یہ ایک الہامی کتاب ہے جو آسمانوں سے نازل ہوئی، اور زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی دیتی ہے۔ تو، آج کے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں، ’’میں تب تک یقین نہیں کروں گا جب تک اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں‘‘، کیا اُن کے لیے یہ معجزہ کافی واضح نہیں ہے؟
جتنی ہے، اور ان میں سے ہر لائن ایک ہی حرف سے شروع ہوتی ہے۔ یا، قرآن کے اِس نسخے میں ایک ہی جیسی ترتیب ہے جو ہر صفحے پر واضح نظر آتی ہے۔ پہلی اور آخری لائنیں ایک ہی حرف سے شروع ہوتی ہیں۔ دوسری لائن اور آخری سے پہلی لائن بھی ایک ہی حرف سے شروع ہوتی ہیں۔ اوپر سے تیسری بھی ایک جیسے حرف سے شروع ہوتی ہیں۔ ہر لائن اِسی اصول کے مطابق ہے، اور ہر صفحے پر ہمیں یہی معجزہ دکھائی دیتا ہے۔ اب، یہ نسخہ جو آپ دیکھ رہے ہیں شاید یہ سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ آج، ہم ایک ایسے حیرت انگیز بصری سفر پر جا رہے ہیں جو آپ کے ایمان کو نہایت بلند درجے تک بڑھا دے گا۔ حافظ عثمان نوری ایک کیلیگرافر تھے جو 1800 صدی عیسوی میں گزرے ہیں اور وہ اپنے ہاتھ سے پورا قرآن 106 مرتبہ لکھ چکے ہیں۔ جی ہاں، بالکل 106 مرتبہ۔ مگر جو سب سے بڑا
وِرثہ اُنہوں نے چھوڑا ہے وہ صرف اُن کے لکھے ہوئے مصحف نہیں ہیں۔ بلکہ اُن کا لکھنے کا انداز اور صفحات کی ترتیب ہے جسے اب پوری دنیا مانتی ہے۔ ایک دن، قرآن کو ایک مرتبہ پھر کاپی کرتے ہوئے، اُنہوں نے خود سے ایک سوال پوچھا: ’’قرآن کو لکھنے کا بہترین طریقہ کون سا ہے؟‘‘ اُس وقت، اُنہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک معجزہ دریافت کرنے والے ہیں۔ کچھ وقت کے بعد، اللہ نے اُن کے دل میں یہ آئیڈیا ڈالا۔ وہ قرآن کی اپنی پیمائشوں کی مدد سے مصحف کو لکھنے والے تھے۔ ہر لائن کی لمبائی کو طے کرنے کے لیے، اُنہوں نے سب سے چھوٹی سورۃ، سورۃ الکوثر کو، ریفرنس کے طور پر استعمال کیا اور ہر لائن کو اِسی سورۃ کے مطابق رکھنے کا فیصلہ کیا۔ صفحے کی لمبائی کے لیے، اُنہوں نے سب سے لمبی آیت ، آیتِ مداینہ (قرضے کی آیت) کو منتخب کیا۔
تاکہ ہرصفحہ اُس آیت کی لمبائی کے مطابق ہو، جوکہ پورے صفحے پر آ گئی تھی۔ مگر جب اُنہوں نے لکھنا شروع کیا، تو اُنہیں یقین نہ آیا کہ آیات کتنے پرفیکٹ انداز میں ترتیب پاتی چلی گئیں۔ وہ یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ہر صفحہ ایک مکمل آیت کے ساتھ شروع ہوا اور اِس کا اختتام دوسری آیت کے ختم پر ہوا۔ صفحات کے درمیان کوئی بھی صورت ٹوٹی نہیں۔ ہر سورۃ صفحے کے آخر میں جا کر ہی ختم ہوئی۔ اور 600 صفحات کا پورا قرآن اِسی انداز سے چلتا رہا۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اللہ نے قرآن کو پرفیکٹ انداز میں لکھنے کی چابی خود قرآن کے اندر ہی رکھی ہے؟ جس نے بھی اِسے دیکھا، حیرت زدہ رہ گیا، اور جَلد ہی لکھنے کا یہ انداز اسلامی دنیا میں پھیلنے لگا۔ اب ذرا تصور کریں۔ ہم اب تک لکھی گئی ہر کتاب کو لیتے ہیں اور ان سب کو ایک
کمپیوٹر میں اَپ لوڈ کرتے ہیں۔ پھر ہم AI کو کہتے ہیں کہ اِنہیں دوبارہ لکھے، مگر اِس طرح کہ سب سے چھوٹے پیراگراف کو لائن کا معیار بنائے اور سب سے لمبے پیراگراف کو صفحے کے سائز کا معیار بنائے۔ کیا آپ کے خیال میں اِن میں سے کوئی بھی کتاب قرآن کی پرفیکٹ ترتیب سے میچ کر سکتی ہے؟ مجھے ایسا بالکل نہیں لگتا۔ اِس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔ کیونکہ اِس کا اسٹرکچر اتنا پرفیکٹ ہے، کہ کسی انسان کا اِسے خود سے ڈیزائن کرنا ناممکن ہے۔ نبی پاک نے کسی سے تعلیم حاصل نہیں کی کیونکہ آپ خود صرافہ معضزہ تھے۔ اور اِس سے بڑھ کر دلچسپ یہ بات ہے کہ: قرآن کی آیات اور سورتیں 23 سال کے عرصے میں مختلف واقعات کے نتیجے میں، اور ہمیشہ کسی خاص موقع پر نازل ہوئیں، ایک ساتھ نہیں۔ اِس سے بھی زیادہ حیرت کی
بات یہ ہے کہ یہ سورتیں جس ترتیب میں نازل ہوئیں وہ اُس ترتیب سے بالکل مختلف ہے جو نبی پاک (ﷺ) نے اپنے صحابہ کو سکھائیں۔ تو، اگر وہ یہ اسٹرکچر خود سے پلان نہیں کر سکتے تھے، اور ہم نے یہ چیز کسی اور کتاب میں بھی کبھی نہیں دیکھی، تو پھر یہ بالکل واضح طور پر ایک معجزہ ہے۔ بعد میں، تفسیر کے اسکالر بدیع الزماں سن 1992 میں اِسی نسخے میں مزید چُھپے ہوئے راز دریافت کیے۔ اُنہوں نے غور کیا کہ بنیادی الفاظ جیسے کہ اللہ، رب ، رحمٰن ، اور پیغمبروں کے نام، اور دوسری اہم اصطلاحات ایسی ترتیب میں ہیں جو اتفاقیہ نہیں ہو سکتی۔ اِن میں سے کچھ ایک ہی صفحے پر ایک دوسرے کے نیچے آئی ہیں، بالکل موتیوں کی لڑی کی طرح۔ کچھ اِس طرح کہ جب آپ آمنے سامنے کے صفحات ساتھ ملائیں تو پرفیکٹ انداز میں ایک دوسرے کے اوپر ترتیب پا
جاتی ہیں۔ کچھ صفحے کے دونوں اطراف میں پرفیکٹ انداز میں میچ کرتی ہیں۔ لہٰذا، وہ اُس طریقے سے قرآن لکھنا چاہتے تھے جو ان تمام ترتیبوں کو واضح طور پر نمایاں کر دے۔ اور اِس طرح قرآن کی خدائی ترتیب سامنے آئی۔ کیوں نہ اِس کا گہرائی سے مشاہدہ کریں؟ آئیے صفحہ 35 پر چلتے ہیں۔ دیکھیں کہ رب کا لفظ جو اللہ کے لیے استعمال ہوتا ہے، کیسے پرفیکٹ انداز میں لگاتار پانچ بار سیدھی لائن میں آیا ہے۔ آئیے اب صفحہ 62 اور 63 دیکھتے ہیں۔ دیکھیں صفحہ نمبر 62 پر اللہ کا لفظ 9 مرتبہ آیا ہے۔ کتنی حیرت انگیز ترتیب ہے۔ اور اِس کے سامنے والے صفحے پر ایسا دوبارہ ہو رہا ہے۔ پورے نو بار ایک دوسرے کے نیچے پرفیکٹ انداز میں آ رہا ہے۔ جیسے جیسے ہم صفحے پلٹتے جائیں، تو ہمیں پورے قرآن میں کھڑی ترتیب، خدائی ترتیب، بار بارنظر آتی رہے
گی۔ اب آئیے صفحہ 259 پر چلتے ہیں۔ دیکھیں کہ رب کا لفظ کیسے ایک ہی صفحے پر، کُل نو مرتبہ ایک دوسرے کے اوپر آیا ہے۔ اور صفحہ 82 اور 83 پر ایک دلچسپ چیز ہماری منتظر ہے۔ دیکھیں کہ اللہ کا لفظ دونوں اطراف میں کیسے چار مرتبہ repeat ہو رہا ہے اور آمنے سامنے کے صفحات پر کتنے پرفیکٹ انداز میں میچ ہو رہا ہے۔ کیا یہ حیران کن نہیں ہے؟ قرآن کے ایک ہی ورق کی اگلی اور پچھلی طرف ایک اور قسم کی خدائی ترتیب نظر آتی ہے۔ آئیے ہم صفحہ 33 اور 34 کے حامل ورق کو دیکھتے ہیں۔ صفحات 289 اور 290 کے ورق پر، دیکھیں قرآن کا لفظ کتنے پرفیکٹ انداز میں لگاتار آ رہا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ اِس طرح کی اور بہت سی مثالیں ہیں۔ میں بس چند ایک دکھا رہا ہوں۔ اب آپ کو ایک بالکل ہی غیر متوقع چیز نظر آئے گی۔ صفحہ 422 پر۔ آئیے میں آپ کو
وہ صفحہ دکھاتا ہوں جس پر اللہ کا نام کسی بھی دوسری جگہ سے زیادہ آیا ہے۔ اِس صفحے پر، اللہ کا لفظ پرفیکٹ ترتیب کے ساتھ 15 بار آیا ہے۔ قرآن کے تمام 604 صفحات میں سے، اِس صفحے پر سب سے زیادہ بار اللہ کا لفظ آیا ہے۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ نیچے سے تیسری لائن سے کون سی آیت شروع ہوتی ہے؟ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔‘‘ تو چونکہ اللہ ہمیں اپنی کثرت سے یاد کا حکم دے رہا ہے، لہٰذا اُس نے کسی بھی دوسرے صفحے سے زیادہ بار یہاں اپنا نام ذکر کرکے خدائی ترتیب کے ذریعے ایک بصری معجزے کا اظہار فرمایا ہے۔ بدیع الزماں، جنہوں نے یہ معجزہ دریافت کیا، اُن کے مطابق، قرآن میں اللہ کا لفظ 2,806 مرتبہ آیا ہے۔ اور تقریباً سب میں
ہی، ہمیں خدائی ترتیب نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ، رب (مالک/آقا) کا لفظ 846 بار، رحیم (بہت مہربان) کا نام 220 مرتبہ، اور رحمٰن کا نام 156 بار آیا ہے۔ اور اِن میں سے زیادہ تر میں، ہمیں کچھ نہ کچھ خدائی ترتیب ملتی ہے۔ اِسی طرح کی ترتیب کے حامل دوسرے الفاظ میں پیغمبروں کے نام شامل ہیں۔ مثلاً، صفحہ 327 پر، ہمیں سلیمان اور داؤد علیھما السلام کے نام نظر آتے ہیں۔ وَ سُلَیمَان (اور سلیمان)، سلیمان، وَ سُلَیمَان۔ عربی میں ’’و‘‘ کا مطلب ہوتا ہے ’’اور‘‘۔ اور داؤد بھی، اور داؤد۔ آپ دیکھیے کہ یہ نام ایک دوسرے کے نیچے ترتیب میں ہیں۔ صفحہ 449 میں، ہمیں پیغمبروں اسحٰق ، موسیٰ ، اور ہارون علیھم السلام کے نام نظر آتے ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ موسیٰ، موسیٰ، ہارون، اور ہارون، اسحٰق، اور اسحٰق۔ دیکھیے ہر نام دو مرتبہ آ
رہا ہے، اور ان تینوں کے نام کھڑی ترتیب میں آ رہے ہیں۔ صفحہ نمبر 19 پر، ابراہیم علیہ السلام کا نام پرفیکٹ ترتیب کے ساتھ لگاتار تین بار آ رہا ہے۔ جیسا کہ یہاں دیکھ سکتے ہیں،: ابراہیم، ابراہیم، اور دوبارہ، ابراہیم۔ اب صفحہ 235 میں، یوسف علیہ السلام کا نام چار مرتبہ آیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ، یہ بھی ایک دوسرے کے نیچے ہیں۔ دیکھیں، چاروں نام پرفیکٹ ترتیب کے ساتھ ہیں۔ یوسف، یوسف، یوسف، اور دوبارہ، یوسف۔ اگر میں یوسف (علیہ السلام) کی ایک سب سے مشہور خوبی آپ سے پوچھوں۔ تو آپ کیا کہیں گے؟ اُن کا حُسن، رائٹ؟ اُن کی اس خوبی کا ذکر سب سے زیادہ کیا جاتا ہے۔ آئیے صفحہ 235 پر چلتے ہیں۔ آپ کو چھٹی لائن میں یوسف کا لفظ نظر آ رہا ہے۔ اب صفحہ پلٹائیں، اور دیکھیں پیچھے کون سا لفظ اس ترتیب میں ہے۔ دیکھیں کیا لکھا
ہے، لکھا ہے ’’جمیل‘‘، مطلب خوبصورت۔ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے؟ ہم ایک ایسی کتاب کی بات کر رہے ہیں جو 23 سال میں مختلف واقعات کے کے جواب میں نازل ہوتی رہی تھی۔ کبھی کسی سوال یا صورتحال کے براہِ راست جواب کے طور پر بھی آیات نازل ہوتی تھیں۔ لہٰذا اگر کوئی دعویٰ کرے کہ نعوذباللہ، نبی پاک ﷺ نے اِسے بنایا ہے، تو اُن کے پاس تو ایسی پلاننگ کا وقت تک نہ ہوتا۔ اُن کی زندگی کے متعلق پڑھیں، آپ کو میری بات سمجھ آ جائے گی۔ بعض اوقات آیات لوگوں کے ہو بہو الفاظ یا کسی مخصوص واقعے کے جواب میں نازل ہوتی تھیں۔ ذرا سوچیں، اگر اُس شخص نے وہ جملہ نہ کہا ہوتا یا بالکل اسی انداز سے نہ کہا ہوتا، تو یہ پورا اسٹرکچر جو ہم آپ کو دکھا رہے ہیں بے ترتیب ہو جاتا۔ ہر شخص اپنی بات تو مرضی سے کر سکتا ہے مگر دوسرے کے کہے ہوئے
الفاظ پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا، اور ظاہر ہے اِس پر بھی کوئی کنٹرول نہیں ہوتا کہ کون سے واقعات ہوں گے۔ لہٰذا واحد ممکنہ وضاحت یہی ہو سکتی ہے: کہ یہ کلام اللہ کا ہے، جس کا علم ہر چیزکا احاطہ کیے ہوئے ہے : ماضی، حال اور مستقبل آئیے پچھلی مثال کو دوبارہ دیکھتے ہیں۔ یوسف اور پھر جمیل کا لفظ جس کے معنی ہیں خوبصورت۔ اچھا، قرآن میں اب تک ہم نے جس جس خدائی ترتیب کو دیکھا ہے ان کے علاوہ بھی ایک خاص قسم کی ترتیب پائی جاتی ہے۔ آئیے، ایک اور مختلف قسم کی ترتیب دیکھتے ہیں جو آپ کو دوبارہ حیران کر دے گی۔ کیا آپ نے کبھی اصحابِ کہف (غار والوں) کے اُس مشہور کتے کے بارے میں سنا ہے؟ اُس کا نام قطمیر تھا۔ آئیے صفحہ نمبر 294 پر چلتے ہیں جہاں یہ قصہ بیان کیا گیا ہے۔ ساتویں لائن کے ختم پر لکھا ہے، ’’وَ کَلبُھُم‘‘،
جس کا مطلب ہے ’’اور اُن کا کتا‘‘۔ اِس کتے کا نام کیا تھا؟ قطمیر، رائٹ؟ اب، آئیے صفحے پلٹانا شروع کرتے ہیں۔ اب ہمیں کتنا آگے جانا ہے؟ ایک صفحہ، دو، 10، 20؟ نہیں پورے 141 صفحات آگے۔ اور دیکھیں ساتویں لائن کے شروع میں ہمیں کیا ملتا ہے؟ قطمیر۔ ایک لفظ ساتویں لائن کے آخر میں تھا، اور دوسرا شروع میں۔ مگر جب ہم قرآن کو بند حالت میں دیکھیں، تو یہ دونوں الفاظ، اگرچہ ان کے درمیان 100 سے زیادہ صفحات ہیں، ایک ہی افقی لائن پر پرفیکٹ ترتیب میں آتے ہیں۔ اب اِس بارے میں سوچیں۔ اگر اِن 140 صفحات میں بیان کیے گئے واقعات میں سے ایک بھی ذرا مختلف ہو جاتا، یا اگر انہیں کسی اور انداز میں بیان کیا جاتا، یا جملوں کا اسٹرکچر بدل جاتا، یا اگر اُن حصوں کو چھوڑ دیا جاتا، یا کچھ اور باتیں بیان کر دی جاتیں، تو یہ ترتیب
ختم ہو جاتی۔ بے شمار امکانات میں سے یہی صورت سامنے آتی۔ ایک کتاب جو اپنے اندر گہرے معنی رکھنے کے ساتھ ساتھ سیکڑوں خدائی ترتیبات سے بھی پُر ہے۔ یہ انسانی سوچ سے اوپر کی بات ہے۔ اب، کیا آپ سمجھ گئے ہیں کہ کیوں کوئی بھی قرآن جیسا کلام نہیں بنا سکا؟ ظاہر ہے، یہ اِس کی بنیادی وجہ نہیں ہے مگر اِس ایک منفرد خصوصیت کی مثال بھی کوئی نہ لا سکا۔ آئیے اصحابِ کہف (غار والوں) اور صفحہ 294 کو دوبارہ دیکھتے ہیں۔ جب وہ اپنی مشہورِ زمانہ گہری نیند سے جاگ اٹھے، تو اندازہ لگانے لگے کہ وہ کتنی دیر سوئے رہے۔ 11 ویں لائن میں، اُن میں سے ایک نے کہا، ’’ لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ‘‘، ’’ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ٹھہرے رہے۔‘‘ جب وہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے، تو اِسی کے سامنے والے صفحے پر اُسی لائن میں
دیکھیں۔ گویا براہِ راست اللہ اُنہیں اِس کا جواب دے رہا ہے۔ ’’وَلَبِثُوا۟ فِى كَهْفِهِمْ ثَلَـٰثَ مِا۟ئَةٍۢ سِنِينَ وَٱزْدَادُوا۟ تِسْعًۭا‘‘، ’’اور وہ اپنے غار میں 300 سال اور مزید نو سال سوتے رہے۔‘‘ اِن بصری معجزوں کی نوعیت یہ بھی ہے کہ درمیان میں درجنوں صفحات آنے کے باوجود ایک ہی معنی رکھنے والی دو آیات ایک جیسی ترتیب میں نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر، صفحہ 342 کے شروع میں، ہم پڑھتے ہیں ’’وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍۢ‘‘ ’’اور ہم نے آسمان سے ٹھیک اندازے کے ساتھ پانی اتارا‘‘۔ پورے 147 صفحات کے بعد، صفحہ نمبر 489 کے شروع میں،ہمیں لکھا ملتا ہے کہ، ’’وَ الَّذِیْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ‘‘، ’’اور جس نے آسمان سے ایک خاص اندازے سے پانی اتارا‘‘۔ اور دیکھیں ان کے تقریباً
ایک ہی معنی ہیں، اور دونوں صفحے کے شروع میں پرفیکٹ انداز میں ترتیب پائی ہوئی ہے۔ اور آگے پھر آپ صفحہ نمبر 71 اور 511 دونوں پر چوتھی لائن کو دیکھیں، تو آپ کو تقریباً ایک جیسے جملے نظر آئیں گے، اور دونوں بالکل ایک ہی جگہ سے شروع ہو رہے ہیں۔ بسم الله الرحمن الرحيم ’’یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ‘‘، اور دوسرے پر ہے،’’ يَقُولُونَ بِأَلْسِنَتِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ‘‘، ’’وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو اِن کے دلوں میں نہیں ہوتیں‘‘۔ درمیان میں 440 صفحات کے باوجود۔ اور جب ہم صفحہ نمبر 112 اور 286 کا موازنہ کرتے ہیں تو ہمیں ایک بار پھر ایک جیسی ترتیب ملتی ہے۔ نیچے سے چوتھی لائن میں ہم پڑھتے ہیں، ’’ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ‘‘، ’’۔۔۔ اور اُس تک
پہنچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو‘‘۔ اب دوسرے صفحے پر دیکھیں۔ ’’يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ‘‘، ’’وہ اپنے پروردگار تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں‘‘۔ اب صفحات نمبر 219 اور 415۔ دونوں صفحات کی تیسری لائنوں پر، آیات تقریباً ایک جیسے الفاظ سے شروع ہوتی ہیں۔ ’’وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لآمَنَ مَن فِي الأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعاً‘‘، ’’اور اگر اللہ چاہتا تو زمین پر بسنے والے سب کے سب ایمان لے آتے‘‘۔ دونوں صفحات کی تیسری لائنوں پر موجود آیات کے تقریباً ایک ہی معنی ہیں۔ ’’وَ لَوْ شِئْنَا لَاٰتَیْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدٰىهَا‘‘، ’’اور اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو (پہلے ہی) اُس کی ہدایت دے دیتے‘‘۔ اِن آیات کے مطابق، اللہ کو لوگوں کے ایمان کی ضرورت نہیں ہے۔ درحقیقت، ایمان کی ضرورت تو خود ہمیں ہے۔ اگر وہ
چاہتا، تو وہ ایک بھی واضح ثبوت دیے بغیر ہم سے ایمان کی توقع رکھ سکتا تھا۔ پھر بھی، اُس نے ہمیں اِن جیسی بے شمار نشانیاں دکھائیں، تاکہ ہم ایمان لائیں اور اپنی ہمیشہ کی زندگیاں بچا لیں۔ ہم قرآن کے جس نسخے کی بات کر رہے ہیں وہ خدائی ترتیب کے 3 حامل قرآن کے نسخوں میں سے ایک ہے۔ جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا تھا، دو نسخے اور ہیں، جو اپنی اپنی انفرادیت رکھتے ہیں۔ مگر اُن کا اِس نسخے کی طرح مطالعہ نہیں کیا گیا ہے، لہٰذا ہمیں ابھی تک نہیں معلوم کہ اُن میں کونسے دیگر معجزے ہیں، یا خدائی ترتیب کے حامل اور کتنے نسخے ہیں جو ابھی بھی دریافت ہونے کے منتظر ہیں۔ آئیے سرسری جائزہ لیتے ہیں کہ اِن میں سے ایک کو کیسے لکھا گیا۔ عثمانی دور کے ایک اور اسکالر، حافظ حنصری تھے۔ اُنہوں نے ایک مرتبہ نبی پاک (ﷺ) کو اپنے
خواب میں دیکھا۔ اُس وقت تک، وہ بھی اپنے ہاتھ سے قرآن لکھ چکے تھے۔ خواب میں، اُنہوں نے نبی پاک (ﷺ) کو اپنے کام کے بارے میں بتایا اور ایک خوبصورت روحانی تحفہ طلب کیا۔ اِس درخواست کو قبول کرتے ہوئے نبی پاک ﷺ نے اُنہیں بتایا کہ قرآن کو مختلف انداز سے کیسے لکھا جا سکتا تھا۔ آپ ﷺ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، اُنہوں نے ہر صفحہ 11 لائنوں کے ساتھ لکھا، اور حیرت انگیز نتیجہ سامنے آیا۔ ہر صفحے پر لائنوں کے پہلے حروف ایک پرفیکٹ ترتیب میں آ گئے۔ مثلاً، پہلی لائن، حرف ف سے شروع ہوتی ہے، اور آخری لائن بھی حرف ف سے شروع ہوتی ہے۔ دوسری لائن الف سے شروع ہوتی ہے، اور نیچے سے دوسری لائن بھی الف سے شروع ہوتی ہے۔ تیسری لائن اور نیچے سے تیسری لائن بھی ایک جیسی ہے: لام، لام۔ چوتھی لائن بھی لام سے شروع ہوتی ہے، اور
نیچے سے چوتھی لائن بھی لام سے شروع ہوتی ہے۔ پانچویں لائن بھی الف سے شروع ہوتی ہے، اور نیچے سے پانچویں لائن بھی الف سے شروع ہوتی ہے۔ اور یہ یکسانیت پورے قرآن میں جاری رہتی ہے، ہر ایک صفحے پر، ہر ایک لائن پر۔ چاہے آپ کسی بھی صفحے پر جائیں، آپ کو یہی یکساں ترتیب نظر آئے گی۔ قرآن کا تیسرا خدائی ترتیب کا حامل نسخہ لاہور، پاکستان میں دریافت ہوا ہے۔ اِسے قرآن مجید الفی کہا جاتا ہے۔ اِسے مکمل ہونے میں 12 سال لگے، اور اِس دوران، اِسے لکھنے والے اسکالر نے مسلسل روزے رکھے۔ ہر صفحے پر 21 لائنیں ہیں، اور جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں، ہر لائن حرف الف سے شروع ہوتی ہے۔ چاہے آپ کسی بھی صفحے پر چلے جائیں، ترتیب یہی رہتی ہے۔ اور یہ پورا قرآن 221 صفحات پر مشتمل ہے۔ بالکل حافظ حنصری کے انداز میں لکھے گئے مصحف کی
طرح، اِس مصحف کی منفرد ترتیب کسی اور کتاب میں نہیں مل سکتی۔ آپ نے دیکھا کہ اِن تینوں شاندار بصری اسٹرکچرز میں االلہ نے کیسے اپنے کلام کو ہم آہنگ کیا کہ شک کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ لیکن اگر میں آپ سے کہوں کہ یہی سب کچھ نہیں تو؟ اب میں آپ کو ایک ایسا معجزہ بتاتا ہوں جو اِس بصری خوبصورتی کو ایک نئے درجے پر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن میں مخصوص الفاظ کے آنے کی تعداد بھی ایک معجزے کا اظہار ہے۔ مثال کے طور پر، ’’یوم‘‘ کا لفظ، جس کے معنی ’’دن‘‘ ہیں، پورے قرآن میں 365 بار آیا ہے، جس سے واضح طور پر سال کے دنوں کی تعداد ظاہر ہوتی ہے۔ ’’شھر‘‘ کا لفظ، جس کے معنی ہیں ’’مہینہ‘‘ ہے،پورے 12 دفعہ آیا ہے، جوکہ سال میں مہینوں کی تعداد ہوتی ہے۔ لفظ ’’مَلَک‘‘ جس کے معنی ’’فرشتہ‘‘ ہے، اور اِس کی ضد ہے
’’شیطان‘‘، یعنی ’’ابلیس‘‘، دونوں 88 بار آئے ہیں۔ ویسے آپ اسے AI سے بھی تصدیق کر سکتے ہیں۔ تعداد بالکل برابر ہے۔ جنت اور جہنم (دوزخ) دونوں 77 مرتبہ آئے ہیں۔ ’’رَجُل‘‘ (مرد) اور ’’اِمرأۃ‘‘ (عورت)، دونوں 24 مرتبہ آئے ہیں۔ ایک اور مثال: قرآن کہتا ہے، یہ آیت اِس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ دوسرے انسانوں کے برعکس دونوں کو باپ کے بغیر پیدا کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ، عیسیٰ اور آدم، دونوں نام، پورے قرآن میں 24 مرتبہ آئے ہیں۔ اِنہیں برابر تعداد میں بیان کیا گیا ہے۔ ’’بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کی نظر میں آدم کی مثال کی طرح ہے‘‘۔ سب سے لمبی سورۃ یعنی، سورۃ البقرۃ ، میں کل 286 آیات ہیں۔ اِس سورۃ میں اللہ کا لفظ 282 مرتبہ آیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسمِ ضمیر ’’ھُوَ‘‘، یعنی ’’وہ‘‘، جو اللہ کے لیے استعمال ہوتا ہے،
چار مرتبہ آیا ہے۔ اگر اِن دونوں کو جمع کیا جائے تو وہی تعداد بنتی ہے،یعنی 286 جوکہ اِس سورۃ میں آیات کی کُل تعداد ہے۔ یا دیگر سورتیں، سورۃ النساء، المائدہ ، اور سورۃ الانعام کو لیں۔ اِن تینوں سورتوں میں آیات کی کُل تعداد 464 ہے۔ اور پتہ ہے کیا؟ اِن تینوں سورتوں میں اللہ کے نام کے کُل تعداد 464 بار ہی ہے۔ آئیے اب اِس سے بھی زیادہ حیران کن ترتیب کو دیکھتے ہیں۔ یہ پانچ سورتیں لیں: سورۃ البقرۃ ، آل عمران، النساء ، المائدہ، اور الانعام ، جو 2 سے 6 نمبر تک کی سورتیں ہیں۔ اِس گروپ میں اللہ کا نام جتنی بار آیا ہے اُس کی تعداد اِن اگلی پانچ سورتوں کے مقابلے میں ڈبل ہے: الاعراف، الانفال، التوبہ، یونس ، اور ھود۔ اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ دوسرا گروپ بھی اِن اگلی پانچ سورتوں کے گروپ سے بالکل ڈبل
تعداد رکھتا ہے: یوسف ، رعد ، ابراہیم، الحجر، اور النحل۔ یہ سورتیں مختلف پس منظر میں، مختلف مقاصد کے لیے نازل ہوئی تھیں۔ پھر بھی، معجزانہ طور پر اِن میں یہ ترتیب برقرار ہے۔ اور یہ صرف وہ معجزے ہیں جو ہمیں معلوم ہوئے ہیں۔ کسے معلوم بہت سی دوسری آیات میں بھی ایسی ہی ترتیب موجود ہو۔ آخر میں، ہمیں یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے۔ یہ کسی بھی انسان کے لیے بالکل ناممکن ہے کہ وہ خود یہ ساری ترتیب انجام دے۔ یہاں تک کہ نبی پاکﷺ نے بھی کبھی اِسے اپنے لیے ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا۔ اگر اِسے ترتیب اُنہوں نے دیا ہوتا تو، تو وہ ضرور اِس کا ذکر کرتے۔ بلکہ یہ معجزے تو کئی صدیوں بعد دریافت ہوئے۔ اور اِس سب کے علاوہ، قرآن کے مضامین کسی بھی دوسری کتاب سے مختلف ہیں۔ یہ ہمیں ایک مضبوط عقیدہ عطا کرتا ہے، پیغمبروں کے
حکمت بھرے قصے سناتا ہے، ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کے واقعات کو زیادہ گہرائی سے کیسے دیکھنا چاہیے، اور آخرت کی زندگی، جنت اور جہنم، ثواب اور عذاب کے بارے میں بتاتا ہے۔ کبھی یہ تاریخ کی گہرائیاں کھوجتا ہے؛ اور کبھی، آئندہ ہونے والے واقعات کا ذکر کرتا ہے۔ یہ ایسے فلسفیانہ مسائل حل کرتا ہے جو کسی مفکر نے آج تک حل نہیں کیے۔ یہ سکھاتا ہے کہ بہترین والدین کیسے بنیں، یہ کاروبار کے سنہری اصول دیتا ہے، یہ میڈیکل کے شعبے سے متعلق گہری معلومات دیتا ہے، اور فصاحت و بلاغت اور ادب میں بے مثال کمال دکھاتا ہے۔ یہ قانون کے شعبے میں زبردست رہنمائی دیتا ہے، سائنسی علوم پر اظہار کرتا ہے، اور تعلیم اور معاشرت کے شعبے میں قیمتی سبق پیش کرتا ہے۔ مگر یہ فہرست اِسی پر ختم نہیں ہوتی۔ کوئی شخص زیادہ سے زیادہ اِن میں سے
کسی ایک یا دو شعبوں میں مہارت حاصل کر سکتا ہے، مگر قرآن اِن سب کا احاطہ کرتا ہے اور اپنا پیغام معجزوں سے بھرپور ترتیب کے حامل اسٹرکچر کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ اِس کی سطروں میں میتھامیٹکس ہے۔ اِس کے لفظوں میں، حکمت ہے۔ اِس کے جملوں میں، آرٹ ہے۔ اِس کی آیتوں میں علم ہے۔ اور اِس کے پیغامات، لافانیت ہیں۔ یہ ایک الہامی کتاب ہے جو آسمانوں سے نازل ہوئی، اور زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی دیتی ہے۔ تو، آج کے وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں، ’’میں تب تک یقین نہیں کروں گا جب تک اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں‘‘، کیا اُن کے لیے یہ معجزہ کافی واضح نہیں ہے؟