Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

“Jism Ek Saal Baad Bhi Salamat Tha!” – Unhon Ne 6,000 Mayyaton Ko Ghusl Diya

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

اور پہلی جاب جو میں نے کی، وہ میتیں اٹھانے کا کام تھا۔ اور میں نے یہ کام واقعی پیسوں کے لیے کیا تھا۔ یہ تعداد دس ہزار سے زیادہ لوگوں کی ہو چکی ہے جنہیں میں نے قبر میں اتارا۔ ہم جب ڈیڈباڈی بیگ کھولتے ہیں تو ہر طرف بلبلاتے کیڑے ہوتے ہیں۔ ورمز۔ جب میں کفن پہنا رہا تھا، تو منہ سے مکڑیاں نکلنے لگیں، اور ناک اور کان سے کچھ چھوٹے کیڑے نکل رہے تھے۔ جب اُس کا انتقال ہوا، تو ہمیں اطلاع دی گئی۔ اور اس کا بھائی بولا، "نہیں، میں اسے جلاؤں گا۔" میں نے کہا، "ارے، آپ کا بھائی مسلمان ہے۔ وہ اسلامی طریقے سے دفن ہونا چاہتا تھا۔" “نہیں، نہیں۔ بالکل نہیں۔” جب میّت کو آگ میں ڈالا گیا، تو آپ جانتے ہیں آگ لگتے ہی کیا ہوا؟ میّت اچھل پڑی۔ اُس کا بھائی بولا، “اوہ میرے خدا، یہ تو زندہ ہے!” وہ تقریباً تیس سال سے مُردے نہلانے کا کام کر رہے تھے۔ اُنہوں نے میرا ہاتھ تھام کر اپنی ران پر رکھا۔ کہنے لگے، "اب میں مطمئن ہوں۔ میرے مرنے پر تم مجھے غسل دے سکتے ہو "۔ پولیس نے انہیں دیکھ لیا اور سائرن بجا کر رکنے کا اشارہ کیا۔ وہ نہیں رکے، اور چلتے رہے۔ گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ دونوں لڑکے جل کر خاک ہو گئے۔ 99.9 فیصد جل گئے۔ لوگوں نے کہا، “آپ اِنہیں غسل کیسے دیں گے؟” میں نے کہا، “مجھے غسل دینا ہوگا”۔ چنانچہ ہم نے اُنہیں تختے پر رکھا۔ جب مجھے اپنے والد کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کرنا یاد آتا ہے، میں گاڑی چلا رہا تھا، اور میں نے وین میں پیچھے اِس طرح دیکھا، اور وہ پیچھے تھے، وفات یافتہ۔ وہ مجھے نہلایا کرتے تھے، اب میں اُنہیں غسل دے رہا ہوں۔ یو نو، جب میں نے انہیں کفن پہنایا، تو میں نے ان کی ٹھنڈی جلد محسوس کی۔ میں نے کہا، "ڈیڈ، یہ خاتمہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو ابتداء ہے۔" السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو) برادر احمد ہرائیشی، ہماری دعوت قبول کرنے کا شکریہ۔ آپ مسلم انڈرٹیکر کے نام سے بھی مشہور ہیں۔ ہمیں آپ کو اپنے ساتھ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ جزاک اللہ خیر۔ (اللہ آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے)۔ میں بھی آپ سے مل کر بہت خوش ہوں کہ آخر کار ہماری ملاقات ہو ہی گئی۔ اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتائیں۔ میرا تعلق مِڈل ایسٹ سے ہے۔ میرے دادا دادی دوسری جنگِ عظیم کے دوران لبنان سے آسٹریلیا آئے تھے۔ ہم سڈنی، آسٹریلیا میں پیدا ہوئے تھے۔ میری ایک عام نوجوان کی طرح زندگی تھی،مختلف کھیل، کرکٹ، فٹ بال، ایتھلیٹکس، باکسنگ اور کراٹے وغیرہ ۔ اور پہلی جاب جو میں نے کی، وہ میتیں اٹھانے کا کام تھا۔ جب میں نوجوان تھا اور وہاں سے پھر میں ایک گورکن بن گیا اور پھر میں موت کی دنیا میں مزید گہرائی میں اترتا چلا گیا، موت اور زمین پر آخری دن کی دنیا میں۔ 1996ء میں پہلے شخص کو دفنانے سے لے کر آج 2026ء تک۔ یہ تعداد دس ہزار سے زیادہ لوگوں کی ہو چکی ہے جنہیں میں نے قبر میں اتارا، قبریں کھودیں، اور چھ ہزار سے زیادہ لوگوں کو غسل دیا۔ آپ نے اِس کام کا انتخاب کیوں کیا؟ جب میں تقریباً چودہ، پندرہ سال کا تھا، تو جو پہلا کام سامنے آیا وہ اپنی کمیونٹی کے لیے میتّوں کو اٹھانا تھا۔ اور میں نے یہ کام واقعی پیسوں کے لیے کیا تھا۔ میں نے یہ کام اِس لیے نہیں کیا تھا کہ مجھے میتیں اٹھانے میں دلچسپی تھی، بلکہ اِس لیے کہ میتوں کا کام کرنے کے زیادہ پیسے ملتے تھے اور کوئی بھی یہ جاب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اور بات یہ تھی کہ یہ رات کے کسی بھی وقت ہو سکتا تھا۔ تو میں نے سوچا، ایک میّت کے 30 ڈالر، واہ یہ تو اچھا ہے۔ اگر مجھے ہفتے میں تین مل جائیں، تو 90 ڈالر، میں تو پہلے ہی۔۔۔ یعنی ایک سال میں، تین سال کے برابر کما لوں گا۔۔۔ میں اِس طرح حساب لگا رہا تھا، کیونکہ نوجوانی میں آپ کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ مجھے اپنے ساتھی کو بھی لانا پڑتا تھا۔ فون آتا، تو میں کہتا، "یار، کیا تم میرے ساتھ چل سکتے ہو، مجھے بس جلدی سے ایک کام نمٹانا ہے؟" چنانچہ میرا دوست وین میں بیٹھ جاتا۔۔۔ میں اُسے ساتھ لے جاتا، ہم اسپتال جاتے، میّت اٹھاتے۔۔۔ "یار یہ تم کیا کر رہے ہو؟ تم نے تو کہا تھا کہ بس کوئی کام کرنا ہے!" یعنی میں اُن سے اپنے ساتھ میّت اٹھواتا۔ تو میں ہمیشہ اِسی طرح کام نکالتا ۔ میّتوں کو اٹھانے کے بعد، میں اُنہیں واپس گیراج میں لے آتا تھا۔ اور کئی سال بعد، جب پرانے لوگ دنیا سے رخصت ہو گئے، تو پھر کام کرنے والا میرے سوا کوئی نہ بچا۔ کیا لوگ آپ کے کام کے بارے میں سن کر ڈر جاتے ہیں؟ اُنہیں تجسس ہوتا ہے، وہ تجسس میں پڑ جاتے ہیں۔ کچھ بوڑھے لوگ وہمی ہوتے ہیں۔ میں اُن سے ہاتھ ملانے جاتا، تو وہ کہتے، “اوہ!” میں کہتا ، "کوئی بات نہیں، میں نے آج صرف دو لوگوں کو غسل دیا ہے"۔ اور پھر وہ میری طرف دیکھتے اور کہتے، “جب میں مر جاؤں، تو میرا خیال رکھنا۔” میں کہتا ہوں، "آپ فکر نہ کریں، آپ بس مر جائیں۔ مرنے کے بعد باقی کام مجھ پر چھوڑ دیں"۔ یہ مذاق ہے لیکن میں بزرگوں کا احترام کرتا ہوں۔ جب آپ نے پہلی بار کسی میّت کو غسل دیا تو کیسا محسوس ہوا تھا؟ وہ ایک ایسے شخص تھے جن کے پاس میں کھڑا ہوتا تھا۔ وہ تقریباً تیس سال سے مُردے نہلانے کا کام کر رہے تھے۔ وہ مجھے سکھاتے تھے، اورمیں نے اُن سے یہ کام سیکھا تھا۔ وہ میرے لیے ایک باپ کی طرح تھے۔ اُن کے تمام بچّوں کو قتل کر دیا گیا تھا، اور اُنہوں نے خود اُنہیں غسل دیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ اُنہوں نے اپنی بیوی کو بھی خود دفنایا تھا۔ ظاہر ہے جب وہ اَسّی سال سے اوپر کے ہو گئے، تو بیمار رہنے لگے، اور جب وہ اسپتال اور علاج کے مراحل سے گزر رہے تھے تو میں نے غسل دینا شروع کر دیا۔ اور پھر ایک دن وہ اچانک آ گئے، تب ایک نوجوان کا جنازہ آیا ہوا تھا۔ وہاں بہت سے نوجوان موجود تھے، نجانے کہاں سے آ گئے۔ لوگوں نے مجھ سے کہا، “وہ اپنا کام واپس لینے آ گئے ہیں”۔ میں نے کہا، “یہ اُنہی کا کام ہے، میرا نہیں ہے”۔ اور اُنہوں نے ایک کرسی لی، اور غسل دینے والا تختہ یہاں رکھا، اور کرسی غسل دینے والے تختے کے بالکل سامنے رکھ دی۔ اُنہوں نے میری طرف دیکھا، وہ ایک سخت اور مضبوط انسان تھے۔ کہنے لگے، “شروع کرو”۔ میں نے کہا، "رب اشرح لي صدري ويسر لي أمري ( اے میرے رب!

میرا سینہ میرے لیے کھول دے۔ اور میرے کام کو میرے لیے آسان فرما دے) بسم اللہ الرحمن الرحیم " (اللہ کے نام کے ساتھ۔۔۔) میں یہ کام پہلے بھی کر چکا تھا۔ لہٰذا میں نے غسل دیا، وہ بس دیکھ رہے تھے۔ اُنہوں نے مجھ سے بس ایک دو بار کہا، “تھوڑا اور، تھوڑا اور”۔ میں فارغ ہوا، تو وہ اٹھے، دفتر میں گئے اور بیٹھ گئے۔ میں نے غسل اور کفن کا کام مکمل کیا، تو انہوں نے کہا، “آؤ، میرے پاس بیٹھو۔” اُنہوں نے میرا بازو تھام کر اپنی ران پر رکھا۔ اور کہا ، "اب میں مطمئن ہوں۔ میرے مرنے پر تم مجھے غسل دے سکتے ہو"۔ سبحان اللہ۔ اور وہ چلے گئے۔ میں نے اُنہیں کھڑکی سے دیکھا، وہ یوں چل رہے تھے، جیسے وہ چلا کرتے تھے۔۔۔ اس طرح اور وہ لڑکا مجھے کہنے لگا، “وہ اپنے کام پر واپس آ رہے ہیں”۔ میں نے کہا، "نہیں، وہ خدا حافظ کہنے آئے تھے۔ اب وہ واپس نہیں آئیں گے"۔ چند دن بعد اُن کا انتقال ہو گیا۔ سبحان اللہ۔ اور پھر میں نے اُنہیں غسل دیا۔ غسل دینے والے کو غسل دیا ۔ اور واللہ یہ۔۔۔ میں نے اُنہیں غسل دیا، دفنایا، اور سارے کام کیے۔ وہ میری والدہ کے بالکل پاس ، اُن کے پیچھے دفن ہیں، میں دونوں کی قبر پر جاتا ہوں ۔ کیا آپ کو کبھی کسی میّت کو غسل دیتے ہوئے واقعی ڈر لگا ہے؟ ڈر نہیں، بلکہ عاجزی کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں، میں نے ایک ایسے شخص کو غسل دیا جس کا چند دن پہلے انتقال ہوا تھا۔ ہمارے ہاں گرمیاں تھیں، آسٹریلیا میں 40 ڈگری پلس تھا۔ شدید گرمی میں لاش بہت جَلد خراب ہو جاتی ہے۔ ہم اُسے لے کر آئے، اُس کا کوئی خاندان نہیں تھا۔ ہم جب ڈیڈباڈی کھولتے ہیں تو ہر طرف بلبلاتے کیڑے ہوتے ہیں۔ - ورمز - اوہ،ورمز۔ سفید لاروے۔ اور، سبحان اللہ، مجھ سے جتنا ہو سکا میں نے اُسے صاف کیا، اور پھر غسل شروع کیا، مکمل کیا، ہم نے اُسے خشک کیا اور پھر کفن پہنایا۔ جب میں کفن پہنا رہا تھا، تو منہ سے مکڑیاں نکلنے لگیں، اور ناک اور کان سے کچھ چھوٹے کیڑے نکل رہے تھے۔ کیا آپ کو کبھی کسی بہت زیادہ مسخ شدہ لاش کو غسل دینا پڑا ہے؟ اور وہ کون سا سب سے مشکل کیس تھا جو آپ نے اب تک ہینڈل کیا ہے؟ مجھے دو نوجوان لڑکے یاد ہیں، جو 20 سال سے بھی کم کے اور بہترین دوست تھے۔ وہ رات تقریباً 11 بجے جِم گئے، جہاں اُنہوں نے ٹریننگ کی۔ اُن میں سے ایک کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں تھا، اُس کا لائسنس منسوخ ہو چکا تھا۔ چنانچہ وہ واپس آ رہے تھے، اور پولیس نے اُنہیں دیکھ لیا، اور گاڑی روکنے کے لیے سائرن بجا دیے۔ وہ نہیں رکے، اور چلتے رہے۔ اِس کے بعد وہاں کیا ہوا ہم نہیں جانتے، لیکن بہرحال، گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور دھماکے سے اڑ گئی۔ دونوں لڑکے جل کر خاک ہو گئے۔ مطلب وہ 99.9 فیصد جل گئے تھے۔ لوگوں نے کہا، “ اسے غسل کیسے دیں گے؟” میں نے کہا، " تَوَکَّلتُ عَلَی اللہ (میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں)۔ مجھے غسل دینا ہوگا، کیونکہ یہ لڑکے مجھ سے محبت کرتے تھے۔" یہ مجھے جِم میں دیکھتے تھے، میں اِن دونوں کے لیے ایک رول ماڈل تھا۔ چنانچہ ہم نے اُنہیں تختے پر رکھا۔ میں نے ٹاول لیے اور اُنہیں گیلا کیا۔ کچرے دان میں پھینکا۔ بس ہلکے سے مسح کیا۔ پھر پھینک دیا۔ میرا خیال ہے میں نے کوئی بیس ٹاول استعمال کیے، صرف اپنے اطمینان کے لیے کہ میں نے اِنہیں غسل دیا ۔ سبحان اللہ۔ دیکھیے، مجھے یاد ہے کچھ ہی عرصہ پہلے، ہم ایک اپارٹمنٹ پر گئے اور ہمارے بلانے پر پولیس وہاں موجود تھی، اُنہوں نے دروازہ توڑا۔ اور اندر موجود شخص۔۔۔ سردیوں کا موسم تھا اور ہیٹر اب بھی چل رہا تھا، وہ ہیٹر کے پاس مردہ حالت میں پڑا تھا اور اُسے چھے ہفتے ہو چکے تھے۔ اِس لیے وہ پھٹ چکا تھا، اُس کا پیٹ پھٹ گیا تھا، وہ پُھول کر پھٹ گیا تھا، وہ ایک انتہائی بھیانک، بہت ہی ہولناک منظر تھا۔ مجھے یاد ہے کہ پولیس والا باہر بھاگا، وہ برداشت نہیں کر سکا، یوں الٹیاں کرنے لگا۔ سبحان اللہ، مجھے یاد ہے کہ ہم نے اُسے اٹھایا، یو نو، مردہ جسم بہت بھاری ہوتا ہے۔ ہم اُسے مردہ خانے لے کر آئے، اور مجھے یاد ہے کہ بُو اتنی شدید تھی کہ وہاں کافی عرصے تک وہ بو بسی رہی۔ کافی دنوں تک اُس کی بو آتی رہی، کیونکہ لاش بہت بری طرح گل سڑ چکی تھی۔ کبھی کبھی یو نو میرے پاس وکس کے دو انہیلر ہوتے ہیں۔ میں اُنہیں اپنی ناک میں ڈال لیتا ہوں، اِس طرح، تاکہ وکس کی خوشبو اندر جاتی رہے۔ -اچھا؟ -میّت کی ایک منفرد بُو ہوتی ہے۔ جو لوگ پولیس یا فارنزک میں ہیں، وہ اِس بُو سے واقف ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ایسی جگہوں اور کرائم سینز پر جاتے ہیں جہاں کچھ عرصے سے لاشیں پڑی ہوتی ہیں۔ یہ بُو ایک جیسی ہوتی ہے۔ کبھی کسی بچّے کی میّت کو غسل دینا پڑا ہے؟ میں نے بہت سے بچّوں کو غسل دیا ہے، مجھے بھی بچّوں پر دُکھ ہوتا ہے۔ غسل دیتے وقت بہت روتا ہوں، خاص طور پر جب میں اُن کے والدین کو دیکھتا ہوں، خصوصاً جب کوئی ایسا بچّہ ہو جس کے بارے میں باپ کہے کہ، "وہ بالکل میرا عکس تھا۔ وہ مجھے کاپی کرتا اور ہر جگہ مجھے ہی فالو کرتا تھا۔" لیکن یہ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے میرے دوست۔ مجھے ایک چھوٹا لڑکا یاد ہے، وہ کلاس روم میں تھا۔ ایک خاتون کو اسکول بلایا گیا کیونکہ اُن کا بیٹا کچھ شرارتیں کر رہا تھا۔ چنانچہ وہ پرنسپل سے ملنے گئیں۔ جب وہ واپس جانے لگیں، تو اُنہوں نے ایکسیلیٹر دبایا۔ اُن کی پانی کی بوتل بریک کے نیچے آگئی تھی، چنانچہ وہ اُسے اٹھانے لگیں اور ایکسیلیٹر دب گیا، اور گاڑی ریورس ہونے کے بجائے آگے بلڈنگ کے اندر گھس گئی، اِسی طرح کے ایک کمرے میں، جہاں دو بچّے جاں بحق ہو گئے۔ ایک مسلمان بچّہ تھا، اور ایک غیر مسلم۔ وہ خاتون بہت زیادہ صدمے میں تھیں، وہ بوڑھی تھیں۔ جب میں اُس بچے کے جنازے کا انتظام کر رہا تھا، تو اُس کے والد کار میں میرے برابر بیٹھے تھے۔ میں نے اُن سے کہا، "کیا یہ سچ ہے کہ آپ انتقام لینے والے ہیں؟" کیونکہ وہ خاتون اور یہ دونوں مسلمان ہیں۔ اُنہوں نے کہا، “نہیں، میں نے انہیں معاف کر دیا۔” میں نے کہا، "آپ نے اُسے معاف کر دیا؟ لوگ تو کہہ رہے ہیں کہ بدلہ لیا جائے گا۔" اُنہوں نے کہا، "نہیں، چھ مہینے پہلے میں اُس کے شوہر کی تعزیت پر گیا تھا جب اُن کا انتقال ہوا، میں اُس کے گھر گیا تھا، میں نے تو اُس کے گھر کھانا بھی کھایا تھا۔ نہیں، میں نے اُسے معاف کر دیا۔" ہم گاڑی میں قبرستان جا رہے ہیں، اور پیچھے ایک تابوت رکھا ہوا ہے اُن کا بیٹا اُن سے بس اتنی دُوری پر ہے۔ اور وہ دنیا کو بتا رہے ہیں کہ، “میں نے اُسے معاف کر دیا۔” یہ بات پوری دنیا میں وائرل ہو گئی۔ واہ۔ اور آپ جانتے ہیں، سبحان اللہ، یہ اسلام کو ظاہر کرتی ہے۔ یہی حقیقی اسلام ہے۔ کیا آپ نے کبھی مردہ جسم سے کوئی ایسی آواز سنی ہے جیسے۔۔۔؟ جسم سے بعض اوقات آوازیں نکلتی ہیں۔ جیسے ہوا، ہوا خارج ہوتی ہے۔۔۔ جیسے۔۔۔ جیسے۔۔۔ پٹھے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، خاص طور پر جب آپ نیم گرم پانی سے غسل دینا شروع کرتے ہیں، تو اعضاء ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، ان میں تھرتھراہٹ ہوتی ہے، جیسے بازو یوں رکھا ہو اور وہ ہل جائے، اور آپ سوچتے ہیں “یہ کیا ہوا، مجھے کس نے چھوا؟” مگر میں جانتا ہوں کہ یہ بالکل نارمل بات ہے، وہ زندہ نہیں ہوتے۔ سبحان اللہ، ایک بار ہم تدفین کر رہے تھے اور ایک آدمی کھڑا تھا، اور وہ۔۔۔ وہ قبر کے اوپر تھا، میرا خیال ہے اُس کا فون یہاں تھا، اور وہ آگے کو جھکا ہوا تھا، اور اُس کا فون قبر میں گر گیا، مگر اُسے پتہ نہیں چلا ۔ چنانچہ میں اندر ہی موجود تھا، کام ہو چکا تھا، ہم نے کام مکمل کیا، قبر کو بلاکس سے ڈھانپا، پھر مٹی ڈالی، اور پھر وہ کہنے لگا، “میرا فون ؟ کیا آپ میرے فون پر رنگ کر سکتے ہیں؟” تو میں نے رنگ دی، تو ہمیں اُس کی رِنگ ٹون سنائی دی، اور ہم جیسے جیسے قریب ہو رہے تھے، وہ آواز قبر کے اندر سے آ رہی تھی۔ سبحان اللہ۔ وہ قبر کے اندر بج رہا تھا۔ اُس نے میری طرف دیکھا، میں نے کہا، “بیڈ لَک برادر، وہ تو گیا۔” کیا آپ مرحلہ وار سمجھا سکتے ہیں کہ میرے انتقال کے بعد میرے غسل اور دفن کا طریقہ کیا ہوگا؟ آپ کی موت کے وقت، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے قاصد، یعنی فرشتوں کو بھیجتا ہے، کہ وہ پہلے نیچے آئیں۔ یہ وہی فرشتے ہوتے ہیں جو آ کر بیٹھتے ہیں، اسی لیے کبھی کبھی آپ کو لگتا ہے کہ میت کسی چیز کو دیکھ رہی ہے۔ اُس وقت مَلَک الموت (موت کا فرشتہ) آپ کے سرہانے کھڑا ہو جائے گا، اور روح باہر آ جائے گی جیسا کہ روایت ہے، یا تو ایسے جیسے کسی کپ سے پانی گرتا ہے، نرمی اور سکون سے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ یوں کرتے ہیں۔۔۔ آپ نے دیکھا؟ وہ یوں نہیں کرتے۔۔۔ وہ دراصل اپنی آخری سانس اندر کھینچتے ہیں۔ مرتے وقت، سانس اندر آتی ہے، باہر نہیں جاتی۔ یہی موت ہے، اور اگر وہ جاگ رہا ہو تو آنکھیں اوپر دیکھتی ہیں، کیونکہ وہ اپنی روح کو نکلتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ہمارے پاس ایک خاص کپڑا ہوتا ہے، ہم نے ایسے ہزاروں کا آرڈر دے رکھا ہے۔ یہ یہاں سے لے کر گھٹنوں تک جاتا ہے، یہ کالے رنگ کا اَن بُنا کپڑا ہوتا ہے۔ یعنی پانی اِس کے آر پار نہیں جاتا۔ اگر آپ تولیے کو پانی پر رکھیں، تو کیا ہوتا ہے؟ وہ آر پار دِکھنے والا ہو جاتا ہے۔ اگر اوپر سفید تولیہ ہو اور ہم غسل دے رہے ہوں، تو سب کچھ نظر آئے گا۔ یہ شفّاف نہیں ہوتا۔ تو ہم یہ کرتے ہیں کہ، جب ہم غسل دینے جاتے ہیں، تو پہلے پیٹ کو دباتے ہیں، تاکہ یقین ہو جائے کہ پیٹ میں کچھ نہ ہو۔ یا پیٹ میں جو ہو وہ باہر آ جائے۔ فوراً۔ ساری گندگی باہر نکل جائے۔ تو بعض اوقات آپ کو بہت سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔ دباتے رہیں، دباتے رہیں، اور گندگی باہر نکلتی رہتی ہے۔ کبھی کبھی فُضلے کے ساتھ ملی ہوئی سب دوائیں ہوتی ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے، اور ہم ویسے ہی سفید کفن میں لپیٹ دیں تو سوچیں کہ آپ نے اُسے لپیٹ دیا، اور پھر ایک یا دو گھنٹے بعد، آپ قبرستان میں ہیں، آپ میّت کو قبر میں اتارنے کے لیے اٹھاتے ہیں، اور اُس کے نیچے سارا فُضلہ لگا ہوا ہو۔ تویہ تو۔۔۔ تو ہم یہ کرتے ہیں کہ، ایک اسفنج، صابن یا بیری کے پتے اور نیچے کی طرف سے صفائی کرتے ہیں۔ پھر دیکھتے ہیں صاف ہوا یا نہیں۔ بار بار دیکھتے رہتے ہیں کہ کہیں کوئی فُضلہ، کوئی گندگی لگی تو نہیں رہ گئی، جب وہ صابن سفید ہی رہتا ہے، تب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کام مکمل ہو گیا۔ کیا آپ ذاتی طور پر اُس حصے کو نہیں چھوتے، اُن حصوں کو جیسے کہ۔۔۔ نہیں، نہیں، آپ کے اور اُس کے درمیان ایک آڑ ہوتی ہے۔ ہمارا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ہم اسفنج یا صابن کو دیکھیں، اور وہ بالکل پاک صاف نکلے، اُس پر کوئی نشان یا دھبہ نہ ہو۔ وہ تختہ اِس طرح کا ہوتا ہے، اور اُس میں ایک نالی ہوتی ہے۔ میّت اوپر رکھی ہوتی ہے، لہٰذا جو کچھ بھی نکلتا ہے وہ نالیوں میں چلا جاتا ہے۔ اگر ہمیں صفائی کرتے ہوئے وہ بہت زیادہ نظر آئے تو ہمیں پچھلی جانب اندر روئی رکھنی پڑتی ہے۔ ہم نچلے ہاتھوں سے روئی رکھتے ہیں، اُسے بند کرنے کے لیے، ایک پلگ کی طرح، اور ہم ایک پلاسٹک یا کاٹن کی پٹی لگا دیتے ہیں، تاکہ وہ روئی میں سے بہہ کر نہ نکل سکے۔ تو یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ یہ بہت رازداری اور بہت ذمہ داری والا کام ہے۔ اگر ابھی آپ کو مردہ قرار دے دیا جائے، تو آپ کے جنازے کی تیاریاں ہونے لگیں گی۔ ایک واٹس ایپ میسج پوری دنیا میں، یا جہاں کہیں بھی ہو، گونج اٹھے گا، آپ کے مشہور ہونے کے حساب سے۔ “فلاں شخص کا انتقال ہو گیا ہے۔” آپ کو اپنے جاننے والوں یا پھر اجنبیوں کے کندھوں پر اٹھایا جائے گا، اِس پر منحصر ہے کہ اٹھانے والے کتنے ہیں۔ وہ ایک قبر کی طرف، زمین کے ایک گڑھے کی طرف بڑھتے رہیں گے۔ اور میں ہمیشہ لوگوں کو بتاتا ہوں، وہ گڑھا بالکل اُس گڑھے کی طرح ہوتا ہے جو بلی رفع حاجت کے لیے کھودتی ہے، سوائے یہ کہ وہ ذرا زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، آپ کا انتقال ہوا، بس آپ کو ایک گڑھے میں ڈالا اور چلے گئے۔ ذرا سوچیں کہ ایک انسان کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ مسلمان تدفین سے پہلے میّت کو غسل کیوں دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف تو دنیا بھر میں میّت کو جلانا عام ہے، کیا غیر مسلم اِس طریقے کو عجیب سمجھتے ہیں؟ کیا آپ نے دیکھا ہے کہ وہ لاشوں کو کیسے جلاتے ہیں؟ جب آپ اُسے دیکھیں گے، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ اسلام کی عزت کیا ہے۔ جب لاش جلائی جاتی ہے، مجھے یاد ہے ایک بار ہمارے پاس ایک شخص تھا، ایک بوڑھا آدمی، وہ نو مسلم تھا، مسلمان ہو گیا تھا، ایک یورپی ملک کا بوڑھا آدمی تھا، لیکن وہ آسٹریلیا میں تھا۔ اور اُس کا بھائی اُس کا سب سے قریبی رشتہ دار تھا، اِس لیے اُسے اُس پر اختیار تھا۔ جب اُس کا انتقال ہوا، تو ہمیں اطلاع دی گئی۔ اُس کا بھائی کہنے لگا، “نہیں، میں اِس کی لاش کو جلاؤں گا۔” میں نے کہا، “ آپ کا بھائی مسلمان ہے۔ اسلامی طریقے سے دفن ہونا چاہتا تھا۔” “ اس نے کہا نہیں۔ بالکل نہیں۔” اوکے، تو ہم لاش جلانے کے عمل کو دیکھنے گئے صرف اپنے مسلمان بھائی کے لیے، تاکہ ہم دعا کر سکیں کیونکہ یہ معاملہ اب ہمارے بس میں نہیں تھا، جب میّت کو رکھا گیا، تو آگ لگاتے ہی پتہ ہے کیا ہوا؟ میّت اچھل پڑی۔ اُس کا بھائی بولا، “اوہ میرے خدا، یہ تو زندہ ہے!” میں نے کہا، “نہیں بھائی، بلکہ تم نے اِسے دو بار مار دیا۔” ایسا کہا، تاکہ اُسے افسوس ہو۔ کیونکہ ہوتا یہ ہے کہ شدید گرمی سے، پٹھے اور اعصاب سکڑ جاتے ہیں، اِس لیے جسم اچھلتا ہے، اِس طرح۔ یہ سزا ہے۔ یہ سزا ہے۔ تو اسلام میں، ایک مسلمان پاکیزہ زندگی گزارتا ہے۔ آپ ٹوائلٹ جاتے ہیں، نہاتے دھوتے ہیں، جب نماز پڑھتے ہیں تو وضو کرتے ہیں۔ تو احترام یہی ہے کہ اِس جسم کو پاکیزگی اور صفائی کی حالت میں لایا جائے، اور پھر ہم اِسے واپس زمین میں رکھ دیتے ہیں، کیونکہ زمین پاک ہے۔ اگر آپ کبھی میرے سوشل میڈیا پر جائیں، تو آپ لوگوں کے کمنٹس پڑھیں گے۔ وہ کہیں گے، “میں کیتھولک ہوں”، یعنی وہ واضح کر دیں گے کہ، “میں مسلمان نہیں ہوں۔ مگر جو آپ کرتے ہیں وہی اصل احترام ہے۔ آپ جو کچھ کرتے ہیں وہی میّت کے لیے سچی انسانیت ہے۔” اِس طرح کی تمام باتیں، ظاہر کرتی ہیں کہ ہم مردوں کا احترام کرتے ہیں، ہم اُنہیں عزت دیتے ہیں، اور ہم اُنہیں اُن کے حقوق دیتے ہیں۔ اور کئی نامور پروڈیوسرز وغیرہ نے میرے ساتھ چھوٹی ڈاکیومنٹریز بنائی ہیں، وہ جنازوں میں آئے ہیں، اور اُنہوں نے واپس آ کر کہا ہے، "یار، یہ میّت کے ساتھ پیش آنے کا سب سے زیادہ باعزت طریقہ ہے جو میں نے آج تک دیکھا ہے۔" مجھے اُسی زمانے کا ایک شخص یاد ہے، لوگ اُس کا تابوت اٹھا کر مسجد تک لے جانے کے لیے دوڑے۔ اور مجھے یہ لوگ بھی یاد ہیں، جو مسلمان نہیں تھے، وہی پروڈیوسرز وغیرہ۔ کہنے لگے، “کیا یہ سب اِس کے خاندان والے ہیں؟” میں نے کہا، “نہیں، نہیں، یہ اجنبی ہیں۔” “تو یہ تابوت کیوں اٹھا رہے ہیں؟” میں نے کہا، "کیونکہ اسلام میں، ہم سب ایک دوسرے کے بھائی اور بہن ہیں۔" تو وہ بول اٹھا، “یار، یہ بڑی خوبصورت بات ہے۔” آپ نے بے شمار جنازوں میں شرکت کی ہے۔ وہ کون سی چیز ہے جس پر لوگ سب سے زیادہ پچھتاتے ہیں؟ لوگ جس چیز پر سب سے زیادہ پچھتاتے ہیں وہ رشتہ داریوں کو دوبارہ نہ جوڑنا ہے۔ مثلاً، ایک بار میرے پاس ایک شخص تھا، اُس نے اپنا سر دیوار پر مارنا شروع کر دیا، کیونکہ اُس نے 10 سال سے اپنے بھائی سے بات نہیں کی تھی۔ 10 سال، صرف ایک احمقانہ بات۔۔۔، “اُس نے یہ کہا، اُس نے وہ کیا، وغیرہ وغیرہ”۔ اور اب موت کے وقت، "میں نے اُسے فون کیوں نہ کر لیا، میں نے اُس بات کو جانے کیوں نہ دیا، کیوں۔۔۔"مگر اب کیا ہو سکتا ہے، اب دیر ہو چکی ہے۔ ایک ماں جسے مردہ خانے لے جایا جاتا ہے کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون ہے۔ ایک ہفتے سے زیادہ ہو گیا، گھر میں مردہ پڑی تھی، اُس کے بچّے اُسی گلی میں رہتے ہیں، لیکن اندازہ لگائیے، وہ اپنی ماں سے بات نہیں کرتے ۔ اُس کے جنازے کے وقت، وہ مٹی اور خاک پر ہاتھ مار رہے تھے، وہ اِس صدمے کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے۔ اِس لیے بطورِ انسان، اسے مٹا دیں۔ اپنی انا کو مٹا دیں۔ عاجزی اختیار کریں، کیونکہ واللہ پھر پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ جیسے ہی آپ قبر تک پہنچتے ہیں، پچھتاوے اور ہر چیز ختم ہو جاتی ہے۔ تو اِسے ابھی سے ختم کر دیں، اِس سے پہلے کہ آپ اِسے قبر میں لے جائیں۔ اِس دنیا میں اصل دولت قناعت ہے۔ سکینہ – یعنی دل کا اطمینان۔ قناعت ایسا خزانہ ہے جو نہ کبھی کم ہوتا ہے اور نہ ختم ہوتا ہے۔ کیا مردے ہمیں دیکھ یا سن سکتے ہیں؟ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت ہے موت کے وقت کے بارے میں، کہ آپ واپس جانے والے قدموں کی آواز سنیں گے۔ آپ قدموں کی آواز سنیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ اب آپ قبر میں اکیلے ہیں، لوگ آپ کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ یہ واحد وقت ہے جس کا ذکر روایت میں آیا ہے، لیکن وہ کس قسم کا سننا ہے، یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا، "مردے کے اعضاء مسخ نہ کرو اور نہ اُس کی ہڈیاں توڑو۔" کیونکہ مردہ محسوس کر سکتا ہے، وہ اِسے بالکل زندہ شخص کی طرح محسوس کر سکتا ہے۔ اور آخر میں اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن ہم ہمیشہ ہر چیز کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں، ان شاء اللہ۔ اگر کوئی شخص بغیر غسل کیے فوت ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر یا ارادتاً غسل نہیں کرنا چاہتا جیسے مثال کے طور پر اُس نے اپنی بیوی سے تعلق قائم کیا ہو، اور وہ بس کام پر واپس چلا جاتا ہو اور اُس نے غسل نہ کیا ہو، تو یہ ہے کہ، وہ ناپاک ہے۔ وہ ناپاکی کی حالت میں ہے، اللہ اُس کے ساتھ اُسی کے مطابق معاملہ فرمائے گا۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ مسلمان نہیں رہا۔ یقیناً وہ اب بھی مسلمان ہے، اُسے اب بھی غسل دیا جائے گا، کفنایا جائے گا اور پاک کیا جائے گا۔ لیکن یہ اُس پر ایک گناہ ہے۔ کیا آپ نے اپنے کام کے دوران کسی ایسے واقعے کا تجربہ کیا ہے جس نے آپ کو طویل عرصے تک متاثر کیا ہو؟ یہ 25 سال پرانی بات ہے، ہم نے جنازہ مکمل کیا، اور میں مشین پر چڑھ گیا، میں کھدائی کرنے والی مشین سے کھدائی کرتا رہا۔ وہ شخص مشین کے پاس کھڑا تھا، اُس کا قد بہت لمبا تھا۔ میں بھی لمبا ہوں لیکن وہ مجھ سے بھی لمبا تھا۔ اور اُس کے ساتھ دو کم قد والے آدمی تھے۔ اور مجھے یاد ہے اُس نے کالے رنگ کی لیدر جیکٹ پہن رکھی تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا، “کوئی اور جنازہ بھی ہے کیا؟” میں نے کہا، “نہیں، نہیں، بس ایک اضافی قبر ہے۔” کیونکہ میں اضافی قبریں کھودا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے اُس کے دو دوستوں نے کہا، “علی، علی، چلو چلیں۔” اور وہ چلا گیا۔ اگلے دن مجھے یاد ہے، بارش ہوئی۔ اُس سے اگلے دن، اُنہوں نے مجھے فون کیا، کہا، “جاؤ اور ایک قبر کھودو، اُسے ذرا لمبی بنانا۔” تو میں نے کہا، "ہم دو میٹر کھودتے ہیں، جو کوئی بھی ہو وہ دو میٹر سے لمبا تو نہیں ہونے والا۔" لوگ بڑھا چڑھا کر بات کرتے ہیں۔ جنازہ آیا، میں قبر میں تھا، اُنہوں نے مجھے میّت پکڑائی، میں نیچے اترا، سفید کفن میں آپ کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کون ہے، کیا ہے۔ لیکن مجھے یاد ہے کہ وہ قبر سے لمبا تھا، اِس لیے مجھے ٹانگوں کو تھوڑا سا موڑنا پڑا تاکہ وہ پورا آ جائے۔ باہر آیا، سب کچھ بند کیا، اور چلا گیا۔ اگلی صبح، میں کھدائی کے لیے سویرے پہنچ گیا، وہاں میں نے قبر پر ایک عورت کو دیکھا، اُسی قبر پر، جو میں نے ایک دن پہلے تیار کی تھی۔ چنانچہ میں نے مشین بند کر دی، مجھے سوالات پوچھنے کی عادت تھی، "اُنہوں نے، مرنے سے پہلے کیا کہا تھا، کیا اُنہوں نے کچھ کھایا تھا، وغیرہ وغیرہ،" مجھے جاننے کی جستجو رہتی تھی۔ اُس نے مجھ سے کہا، "آپ یقین نہیں کریں گے مگر وہ چند دن پہلے خود یہاں موجود تھا۔" میں نے کہا، “اُس جنازے میں؟” وہ بولی، “ہاں۔” میں نے انتقال کی وجہ پوچھی، کہنے لگی، “وہ سوئے ہوئے تھے، میں نے صبح ہلایا، تو وہ نہیں اٹھے۔” چالیس سال عمر تھی۔ میں نے کہا، “کیا اُنہوں نے لیدر جیکٹ پہنی ہوئی تھی؟” کہنے لگی، "وہ اُن کی پسندیدہ جیکٹ تھی، ہمیشہ وہ لیدر جیکٹ پہنتے تھے۔" میں نے کہا، "کیا اُن کے ساتھ دو آدمی تھے، جو اُن کے بہترین دوست تھے؟" پھر میں نے قبر پر لگے کتبے کو دیکھا، اُس پر نام لکھا تھا “علی”۔ اور میں سمجھ گیا کہ یہ وہی تھا۔ کیونکہ وہ لمبا تھا، اور دوسری ہر بات اُسی پر اترتی تھی۔ اُسی کی قبر میں اسے دیکھا۔ میں نے اُس عورت کو یہ تو نہیں بتایا، مگر ہاں، بالکل۔ کیا آپ نے کبھی کسی ایسے شخص کو غسل دیا اور دفنایا ہے جس سے آپ محبت کرتے ہوں؟ اور تب کیسا محسوس ہوا ؟ میرے والد، اور وہ بھی حال ہی میں۔ جب مجھے اپنے والد کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کرنا یاد آتا ہے، تو یاد آتا ہے کہ اُنہوں نے میرے برتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے تھے۔ جب میں نے اسپتال سے اُن کی میّت اٹھائی، تاکہ اُنہیں مردہ خانے لے کے جا سکوں، میں گاڑی چلا رہا تھا، اور میں نے وین میں پیچھے اِس طرح دیکھا، اور وہ پیچھے تھے، وفات یافتہ۔ میں نے کہا، "اب میں آپ کو لے جا رہا ہوں، ڈیڈ۔ آپ نے مجھے گاڑی چلانا سکھایا تھا۔" اور مجھے یاد ہے جب وہ مجھے گاڑی چلانا سکھا رہے تھے، “آہ ہٹو!

یہ کیا کر رہے ہو ہٹو !” اب میں آپ کو گاڑی میں لے جا رہا ہوں۔ وہ مجھے نہلایا کرتے تھے، اب میں اُنہیں غسل دے رہا ہوں۔ اور جب میں نے اُنہیں کفن پہنایا، مجھے یاد ہے جب میں بیمار ہوتا، یا بستر پر ہوتا، تو وہ آتے اور مجھ پر کمبل ڈالتے اور میری خیر خبر لیتے۔ اور اب میں اُن کے گرد کپڑا لپیٹ رہا تھا۔ اور سبحان اللہ، جب میں نے اُنہیں دفنایا، تو وہ آخری بار تھا جب میں اُنہیں دیکھا اور اُن کا بوسہ لیا، میں نے قبر میں کبھی کسی کا چہرہ نہیں کھولا اور نہ کسی کا بوسہ لیا سوائے اپنے والد کے۔ میں نے اُن کی ٹھنڈی جِلد محسوس کی۔ میں نے کہا، "ڈیڈ،یہ خاتمہ نہیں ہے بلکہ یہ تو ابتداء ہے۔ ہم بھی جلد ہی وہاں آپ کے پاس ہوں گے، اِن شاء اللہ۔" یہ زندگی کا سب سے مشکل کام ہے، اپنے والدین کو دفنانا۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے ہر شخص کو گزرنا پڑے گا۔ یا تو آپ اپنے بچے کو دفنائیں گے، یا وہ، اور آپ اپنے والدین کو دفنائیں گے۔ اور یہی وہ وقت ہے جب میں لوگوں پر حقیقت آشکار ہوتے دیکھتا ہوں۔ کیا آپ نے کبھی قبرستان میں کسی پُر اسرار چیز کا تجربہ کیا ہے؟ ہم قبرستان میں کام کر رہے تھے، جہاں ایک سال بعد قبر کو کھولا گیا، بیرونِ ملک، اور عام طور پر قبر میں کچھ باقی نہیں رہتا، سوائے کچھ ہڈیوں کے۔ وہ ہڈیاں نکال دیتے ہیں اور دوسری میّت رکھ دیتے ہیں، کیونکہ زمین زیادہ نہیں ہے۔ تو اُس قبر کو جیسے ہی اُنہوں نے کھولا، دیکھا جسم اب بھی صحیح سلامت تھا۔ پہلے دن جیسا۔ چنانچہ اُنہوں نے اُسے بند کر دیا۔ بارہ مہینے بعد، اُنہوں نے اُسے دوبارہ کھولا۔ میں نے انہیں کال کر کے پوچھا کہ کیا ہوا، کیونکہ میں وہاں سے واپس آ چکا تھا، اُنہوں نے بتایا، “اب بھی بالکل ویسا ہی ہے۔” چنانچہ ہم نے اُس پر نشان لگا دیا کہ اُسے کبھی نہ کھولا جائے۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی مسلمان اپنے آخری لمحات میں ایمان کے بغیر مر جائے؟ یعنی اپنے آخری لمحات میں اپنا ایمان کھو بیٹھے؟ یقیناً۔ بالکل۔ اِسی لیے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "اچھے خاتمے کی دعا مانگو۔ " حسنِ خاتمہ (اچھا انجام)۔ ہمیشہ اچھے خاتمے کی دعا مانگیں۔ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں نیک انجام دے، اچھا خاتمہ عطا فرمائے، کیونکہ امام احمد (ایک اسلامی اسکالر)، جب اُن کے والد کا انتقال ہو رہا تھا، تو وہ بار بار بے ہوش ہوتے اور ہوش میں آتے۔ اور کہہ رہے تھے، “نہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں”۔ جب وہ آخرکار کچھ کہنے کے قابل ہوئے، تو اُن کے بیٹے نے اُن سے کہا، "ابو، آپ تو نیک انسان ہیں۔ کیا آپ موت سے ڈر رہے ہیں؟" وہ بولے، “نہیں میرے بیٹے، وہ ابلیس، شیطان میرے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، اپنا ہاتھ چباتے ہوئے کہہ رہا تھا، ’اے احمد، میں تمہیں نہ پا سکا!

تم میرے ہاتھوں سے نکل گئے، تم میرے۔۔۔‘ یعنی تم نے جنت پا لی، میں تمہیں گمراہ نہ کر سکا۔ اور وہ کہہ رہے تھے، “نہیں، ابھی نہیں، ابھی نہیں”۔ یعنی میں ابھی بھی امتحان میں ہوں۔ معرکہ موت آ جانے تک ساتھ رہتا ہے۔ اور جب ہم مر جائیں، اور دونوں قدم جنّت میں داخل ہو جائیں، تب سمجھو کہ ہم کامیاب ہوگئے۔ تب تک، موت کے وقت آزمائش اور بھی زیادہ سخت ہو کر آئے گی، کیونکہ اسی وقت سب سے زیادہ صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب شیطان سخت ترین امتحانات اور آزمائشیں لے کر آتا ہے۔ تاکہ آپ کو مائل کر سکے، اور آخر وقت میں ایمان سے پھیر سکے۔ وہ آپ کو اِس بات پر یقین دلانا چاہتا ہے کہ کوئی آخرت نہیں ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے، وہ اُن کے لیے ایسا کیا کر سکتے ہیں جو اُنہیں آخرت میں فائدہ پہنچائے؟ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ خبر دی ہے کہ جب آپ وفات پاتے ہیں تو اِس دنیا سے ناطہ ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن پھر اُنہوں نے فرمایا، یہاں ایک بہترین رحمت ہے، تین چیزیں جاری رہتی ہیں آپ کے مرنے کے بعد۔ نیک اولاد جو آپ کے لیے دعا کرتی ہے، اِس لیے اپنی اولاد پر محنت کریں۔ فائدہ مند علم جو آپ کسی کو سکھاتے ہیں اور وہ اُسے آگے جاری رکھتا ہے۔ چنانچہ لوگوں کو سکھائیں۔ استاد بنیں، علم بانٹیں، نصیحت کریں۔ اچھی نصیحت کریں، نہ کہ بری۔ اور تیسری چیز صدقۂ جاریہ ہے جو آپ کرتے ہیں۔ پانی کا نل لگوانا، مسجد بنانا، یا کچھ بھی۔ اور قرآن فرماتا ہے، مرنے والا کہے گا، "مجھے واپس بھیج دے تاکہ میں صدقہ کر سکوں۔ تاکہ میں نیک اعمال کر سکوں۔" اور موت کو یاد رکھنے کے لیے آپ اُنہیں کیا نصیحت کریں گے؟ جب تک آپ زندہ ہیں، موت کو یاد رکھیں۔ دوسرے لفظوں میں، اللہ کو یاد رکھیں۔ کیونکہ موت لذت کو ختم کرنے والی ہے، جیسا کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا۔ موت کی یاد ہمارے دلوں کو نرم کرتی ہے۔ اور یہ ہمیں احساس دلاتی ہے کہ دنیا کے مسائل عارضی ہیں۔ بیماریاں، آفتیں، آزمائشیں، سب عارضی ہیں۔ اور یہ ہمیں نیک اعمال کرنے کے قریب لاتی ہے، اور اپنے خالق سے ملاقات کے قریب، جو ہماری روح کا مالک ہے، جس نے ہمیں پیدا کیا، اور ہماری روح کو واپس طلب کرے گا، وہ ذات جس کے ہم ہیں، وہ اللہ ہے، اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ مگر عام لوگوں کو چاہیے کہ قبرستان جایا کریں، اپنے بچّوں کو لے کہ جایا کریں۔ اُنہیں احساس ہونے دیں کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے۔ کہ یہ دنیا عارضی ہے۔ یہ دنیا ایک دھوکا ہے۔ اور آپ کے اپنے لیے بھی قبرستان جانا سعادت کا باعث ہے، کیونکہ یہ آپ کے دل کو نرم کرتا ہے، اور آپ یاد کرتے ہیں سبحان اللہ، کہ آپ بھی ایک دن، بالکل اِسی طرح جیسے وہ آپ سے پہلے چلتے پھرتے تھے، اور بڑے گھروں کے مالک تھے، اور آپ سے زیادہ اہم تھے، وہ اب زمین کے نیچے ہیں، اب آج آپ یہاں ہیں، لیکن کل آپ بھی اُن کی طرح زمین کے نیچے ہوں گے۔ کیا آپ کو روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے؟ یا شاید آپ عربی میں قرآن پڑھنا سیکھنا چاہتے ہیں اور رب کے قریب ہونا چاہتے ہیں، معلوم نہیں کہ آغاز کہاں سے کریں۔ ہمارے پاس آپ کے لیے ایک خوشخبری ہے۔ ہم نے مکمل طور پر مفت اور اشتہار سے پاک ایپس تیار کی ہیں تاکہ اس میں آپ کی مدد کر سکیں۔ ہماری نماز ٹریکر ایپ کے ذریعے 40 دن تک اپنی نمازوں کا ریکارڈ رکھ سکتے ہیں اور اس کی عادت بنا سکتے ہیں۔ Lamelif ایپ کے ذریعے آپ بالکل ابتدا سے قرآن پڑھنا سیکھ سکتے ہیں مختصر، آسان اور دلچسپ اسباق کے ذریعے۔ اب مزید دیر نہ کریں۔ آج ہی اپنا پہلا قدم اٹھائیں اور ڈسکرپشن میں موجود لنکس سے ایپس ڈاؤن لوڈ کریں۔