Namaz ki ibtidaai Dua ka woh raaz jo hum miss kar gaye | Apni Namaz Ko Badlein – Ep. 3
تاریخ اشاعت
ہم اپنی روزانہ کی نمازوں میں کئی بار سبحان اللہ (اللہ ہر عیب سے پاک ہے) کہتے ہیں؛ رکوع میں کھڑے ہو کر، سجدے میں، نماز کے بعد تسبیح (اللہ کی حمد و ثناء) پڑھتے ہوئے۔ ہم اِسے بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ مگر اِس لفظ کا اصل مطلب کیا ہے؟ ریاضی کی مدد لیتے ہیں۔ روزانہ پانچوں نمازوں کے بعد، ہم 33 بار سبحان اللہ (اللہ ہر عیب سے پاک ہے) کہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص 40 سال تک بلا ناغہ یہ پڑھتا رہے، تو وہ اِسے 2.4 ملین دفعہ کہہ چکا ہوگا۔ اور پھر، یہ تو بس تسبیح (اللہ کی حمد و ثناء) کے دوران پڑھا گیا ہوگا۔ اگر ہم نماز کے مزید جملے بھی شامل کر لیں جیسے کہ ثناء میں سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ (اے اللہ، تو پاک ذات ہے)، رکوع میں سُبحان ربِّي العظيمِ (پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے)، سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَی (پاک
ہے میرا رب سب سے بلند و برتر)، تو یہ تعداد 7 ملین تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ تعداد ہی آپ سے سبحان اللہ (اللہ ہر عیب سے پاک ہے) کہلوانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ایک لفظ لاکھوں مرتبہ اُس کا حقیقی مطلب جانے بغیر دہراتا رہے، تو کیا یہ عجیب بات نہیں ہے؟ اگر آپ سوچیں تو واقعی یہ بڑی حیرت انگیز بات ہے۔ اِسی لیے، آج ہم نماز میں پڑھی جانے والی ثناء سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ (اے اللہ، تو پاک ذات ہے) کو لفظ بہ لفظ سیکھیں گے۔ جب ہم اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے) کہتے ہوئے نماز شروع کرتے ہیں اور قیام کرتے ہیں، تو ہم ساری دنیا سے توجہ ہٹا لیتے ہیں۔ ہم اپنے ہاتھوں کی پُشت سے ہر چیز کو دُور دھکیل دیتے ہیں۔ پھر ہم سب سے پہلے کیا کہتے ہیں؟ سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ (اے اللہ، تو پاک ذات ہے) یہ نماز ہمیں کیا بتا رہی
ہے؟ یہ ہمیں کونسی سچائیاں یاد دلا رہی ہے؟ اور ہم اِن الفاظ سے نماز کیوں شروع کرتے ہیں؟ یہاں تک کہ بِسمِ اللہ (اللہ کے نام کے ساتھ) سے بھی پہلے، ہم سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ کہتے ہیں۔ آئیے ساتھ مل کر اِس کا جائزہ لیتے ہیں اور ثناء کے اِن منفرد کلمات کو لفظ بہ لفظ جانتے ہیں۔ اِس ویڈیو کے اختتام تک، ہمارا زاویۂ نظر بالکل بدل چکا ہوگا ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا)۔ آپ ایک ایسے شخص میں ڈھل جائیں گے جو بس الفاظ کو دہراتا نہیں ہے بلکہ اُن کے معانی بھی جانتا ہے۔ ہمارا پہلا جملہ ہے سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ (اے اللہ، تو پاک ذات ہے)۔ بنیادی طور پر اِس کا مطلب ہے ’’اے اللہ، تو پاک ذات ہے۔‘‘ اِس کے کیا معانی ہوئے؟ اے اللہ، تو ہر طرح کے عیب یا نقص سے پاک ہے۔ تجھ میں کوئی خامی نہیں۔ تو پرفیکٹ ہے۔ پہلے معانی
یہی ذہن میں آتے ہیں۔ دوسرے معانی ہیں ’’حیرت و تعجب‘‘، جس پر ہم اِس ویڈیو میں آگے چل کر بات کریں گے ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا)۔ اگر ہم پہلے معانی پر غور کریں، تو یہ جملہ سن کر کیا ذہن میں آتا ہے؟ خصوصاً غیر مسلم خدا کے بارے میں جو بدصورت اور گستاخی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اللہ ان سب سے پاک ہے۔ مگر صرف یہ کہہ دینا کہ ’’میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں‘‘ کافی نہیں ہے۔ آپ کس طرح کے اللہ پر ایمان رکھتے ہیں؟ آپ کا ایمان اُس کے مطابق ہونا چاہیے جو اللہ نے قرآن میں بیان کیا ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ’’میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں‘‘ کافی نہیں ہے۔ مثلاً، آپ کے مطابق، کیا اللہ سوتا ہے؟ نہیں۔ کیا وہ تھکتا ہے؟ کبھی نہیں۔ کیا وہ کسی شخص کے ذہن میں چلنے والی باتوں کو جانتا ہے؟ ہاں، ہر بات کو۔ کیا اُس کی طاقت
ہر چیز کے لیے کافی ہے؟ بالکل ہے۔ ہمیں اللہ کے درست اوصاف معلوم ہونے چاہئیں تاکہ ہم اُس پر بالکل صحیح ایمان رکھ سکیں۔ یہ ایمان کا سب سے اہم درجہ ہے۔ میں نے ایک مرتبہ کسی کو کہتے ہوئے سنا، ’’میں اللہ کو مانتا ہوں، میرا اُس پر ایمان ہے، مگر میں جس اللہ کو مانتا ہوں وہ اپنے بندوں کو آگ میں نہیں جلاتا۔‘‘ اب کیا یہ شخص واقعی اللہ پر ایمان رکھتا ہے؟ وہ اپنے ذہن میں بنائے ہوئے تصور کے مطابق اللہ پر ایمان رکھتا ہے، قرآن میں بیان کردہ اللہ پر نہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ’’اللہ کا بیٹا ہے۔‘‘ کون یہ بات کہتا ہے؟ عیسائی، رائٹ؟ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ سبحانک اللہم(اے اللہ، تو پاک ذات ہے) کہہ کر دراصل ہم کہہ رہے ہوتے ہیں اللہ اس سے بہت بلند و بالا ہے۔ مگر آپ کہتے ہیں کہ یہ
سچ نہیں ہے۔ اللہ کو نہ کسی اولاد کی ضرورت ہے اور نہ کسی اور چیز کی۔ عیسائیوں کی مذہبی کتاب، اولڈ ٹیسٹامنٹ میں، خصوصاً بُک آف جینیسز میں ایک جملہ لکھا ہے، ’’خدا نے آرام کیا۔‘‘ یعنی خدا تھک گیا اور اُسے آرام کرنے کی ضرورت پڑی۔ معاذ اللہ (اللہ بچائے)، اللہ اِس عیب سے پاک ہے۔ اسلام سے باہر ہر مذہب میں خدا کے متعلق غلط تصورات موجود ہیں۔ ہندو ازم میں، ایسے خدا ہیں جو ایک دوسرے کو سزا دیتے ہیں اور ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔ زرتشی مذہب میں، دو خدا ہیں جن میں سے ایک برائی کا خالق ہے۔ اولڈ ٹیسٹامنٹ میں، ایسے خدا کا ذکر ہے جو پیغمبر یعقوب علیہ السلام سے کُشتی لڑتا ہے، وغیرہ۔ کیا ایسی باتیں سننا بھی گوارا ہوتا ہے؟ یہ سب بُہتان کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اور جانتے ہیں جب آپ یہ ثناء پڑھ رہے ہوتے ہیں سبحانک اللہم،
تو آپ اِن جھوٹے عقیدوں کو بھی مسترد کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ اُس سچ کا دفاع کرتے ہیں جو کروڑوں لوگوں کو نظر نہیں آتا۔ جب ہم سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ کہیں، تو ذہن میں آنے والے اِس کے معانی واضح ہو جانے چاہئیں۔ اے اللہ، تو ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔ تجھ میں کوئی خامی نہیں، تو پرفیکٹ ہے۔ مخلوق خود بتاتی ہے کہ اللہ کتنا پرفیکٹ ہے۔ اُس نے کائنات کو اِس انداز سے پیدا کیا کہ ہر چیز ایک ترتیب اور توازن میں ہے۔ ذرا سِنو فلیک (snowflake) پر غور کریں۔ ان میں سے ہر ایک منفرد ساخت کے ساتھ بنتا ہے۔ زمین پر کھربوں سِنو فلیکس ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ چاہے آپ مائیکروسکوپ کے ذریعے سِنو فلیک کے کرسٹلز کی ساخت دیکھیں یا ٹیلی اسکوپ کی مدد سے کہکشاؤں کے وسیع دائروں کا مشاہدہ کریں، آپ کو ایک ہی پیغام سنائی دیتا ہے:
اللہ بڑی شان والا ہے۔ جب آپ کہتے ہیں سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ، تو آپ بالکل وہی الفاظ دُہراتے ہیں جو پوری کائنات ساتھ مل کر پکار رہی ہے۔ آئیے اب سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ کے دوسرے معانی کو دیکھتے ہیں۔ جب ہمیں کسی چیز کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہو تو ہم کہتے ہیں، ’’ سُبحَانَ اللہ (اللہ ہر عیب سے پاک ہے)۔‘‘ ایک آیت میں، اللہ فرماتا ہے، ’’کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اُس کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح نہ کر رہی ہو۔‘‘ پودے، پھول، جانور، ہر چیز اللہ کی شان بیان کرتی ہے۔ جب ہم سبحان اللہ کہتے ہیں، تو گویا ہم ان کے شان بیان کرنے کو حیرت سے دیکھتے ہیں اور ہم بھی وہی حمد دہراتے ہیں۔ ذرا آسمان کو، ستاروں کو دیکھیں، اور ساحل پر اور صحرا میں بکھری ریت کے ذرات کو بھی دیکھیں۔ آپ کے خیال میں کس کی تعداد زیادہ ہے؟ ریت کے
ذرات کی یا ستاروں کی؟ جواب آپ کو حیرت زدہ کر دے گا، مگر واقعی ستارے اِن سے کہیں زیادہ ہیں۔ سبحان اللہ (اللہ ہر عیب سے پاک ہے) میکرو اور مائیکرو دونوں دنیائیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ دونوں میں، ہم اللہ کی پرفیکٹ تخلیق کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ایک مشہور قول ہے، ’’ سبحان من تحيّر في صنعه العقول۔‘‘ اس کا مطلب میں آپ کو بتاتا ہوں ’’ پاک ہے وہ ذات جس کی کاریگری پر عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔‘‘ وہ ہر عیب اور نقص پاک ہے اب ذرا ایک بچے کا تصور کریں۔ شروع میں وہ اپنی ماں کے پیٹ میں ایک بے جان گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے، مگر ایک خاص وقت کے بعد، وہ ایک شکل میں ڈھلنا شروع ہوتا ہے، اور اُس میں جان ڈال دی جاتی ہے۔ کسی اڑتے ہوئے پرندے کے ایرو ڈائنامکس پر غور کریں۔ کوئی ڈاکیومینٹری دیکھتے ہوئے غور کریں کہ کیسے کسی
درخت کی بلندی پر موجود پتے پانی سے زیادہ تر و تازہ رہتے ہیں۔ کششِ ثقل تو پانی کو نیچے کھینچتی ہے، مگر اللہ کے طے کردہ قانون کی وجہ سے، پانی اوپر چڑھتا ہے۔ اللہ نے یہ قوانین تخلیق کیے ہیں، اور ہم اِن پر غور کرتے ہیں۔ اب ذرا ایک تربوز کا تصور کریں، جو گرمی کی شدت میں تازگی اور لذت دیتا ہے۔ اللہ نے اِس کے اندر حفاظت کا کا ایک قدرتی سسٹم رکھ دیا ہے جس سے وہ خراب نہیں ہوتا۔ تربوز کے ارد گرد ایک خول ہوتا ہے۔ اِس سسٹم کے بغیر، تربوز تھوڑے ہی عرصے میں خراب ہو جاتا۔ اس نے اس کی نسل کے تسلسل سے اس کے بیج بھی پیدا کیے ہیں۔ اگر تربوز کے اندر بیج نہ ہوتے، تو یہ صرف حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں کھایا جاتا اور پھر غائب ہو جاتا۔ مگر اللہ نے اِس کے اندر سیکڑوں بیج رکھ دیے ہیں۔ آپ اِنہیں بوتے ہیں اور نئے
تربوز حاصل کر لیتے ہیں۔ اِس طرح آپ بار بار اِسے کھا سکتے ہیں۔ کائنات ایک آرٹ گیلری ہے۔ جہاں ہر شاہکار کے کونے پر، ایک ہی دستخط ملتے ہیں: سبحان اللہ (اللہ ہر عیب سے پاک ہے)۔ یہ سب ایک آواز ہو کر کہتے ہیں، ’’ہم ایک بے عیب طاقت کی تخلیق ہیں۔‘‘ تو آئیے ہم حیرت زدہ کرنے والی اللہ کی ہر کاریگری پر سبحان اللہ کہنے کی عادت ڈال لیں۔ لہٰذا جب ہم سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ کہیں تو ہمارے ذہنوں میں اِس کے یہ دو معانی واضح ہونے چاہئیں۔ پہلا معنی، اللہ ایسے تمام عیبوں، خامیوں اور جھوٹے عقیدوں سے پاک ہے۔ دوسرے معنی سبحان اللہ ہیں جو ہم حیرت اور تعجب کے لمحات میں کہتے ہیں۔ گویا ہم کہتے ہیں، ’’اے اللہ، تو نے سب کچھ پرفیکٹ پیدا کیا ہے۔ تو سارے عیب اور نقص سے پاک ہے۔‘‘ ہمارا اگلا جملہ ہے ’’ وَبِحَمْدِکَ‘‘۔ اِس کے
معانی ہیں ’’تو ہی تعریف کے لائق ہے‘‘، ’’میں تعریف کے ساتھ تیری شان بیان کرتا ہوں۔‘‘ تعریف سے کیا مراد ہے؟ یہ تعریف اور شکرگزاری، دونوں کا مجموعہ ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی کی تعریف کی ہے؟ ہو سکتا ہے آپ نے کسی دوست کو شکریہ کہا ہو۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اِس نعمت کا اصل ذریعہ کون ہے؟ ہمیں ایک دوسرے کا شکریہ ادا بالکل ادا کرنا چاہیے مگر ہماری تعریف کا سب سے زیادہ مستحق اللہ ہے، جو ساری نعمتوں کا اصل مالک ہے۔ تصور کریں کہ کوئی آپ کو آپ کی پسندیدہ ترین چیز کا گفٹ بھیجے۔ آپ ڈیلیوری بوائے کا شکریہ ادا کریں مگر یہ نہ پوچھیں کہ کس نے بھیجا ہے۔ تو کیا یہ درست ہوگا؟ کتنی غیر معقول بات ہوگی، ہے ناں؟ لوگ بالکل یہی رویہ اکثر اللہ کی نعمتوں کے بارے میں اپناتے ہیں۔ جب ہم کہیں ’’ وَبِحَمْدِکَ ‘‘، تو ہمیں
اِس پر غور کرنا چاہیے۔ ’’اے اللہ، لاکھوں لوگوں نے آج ایک دوسرے کا شکریہ ادا کیا ہوگا، مگر میں جانتا ہوں کہ اِن شکرگزاریوں کا اصل حق دار تو ہے۔ اُنہوں نے لاعلمی میں تیرا ہی شکریہ ادا کیا۔ وہ اِس بات سے واقف نہیں ہیں، مگر درحقیقت اُنہوں نے تیری تعریف کی۔‘‘ جب آپ سورج غروب ہونے کا منظر دیکھیں، تو فطرت پر گویا گلابی، پیلے اور لال رنگ چھا جاتے ہیں۔ اب یہاں تعریف کا مستحق اللہ ہی ہوتا ہے۔ جب آپ اپنے بازوؤں میں کوئی بچہ اٹھاتے ہیں، جب آپ کسی حبس کی جگہ سے نکل کر گہرا سانس لیتے ہیں، جیسے "آہ،" اللہ ہی ان سب کا خالق ہے۔ آپ بارش کے قطروں کی آواز سنتے ہیں، تو آپ کی روح کو سکون ملتا ہے، یا آپ اپنے دوست کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے ہوں اور اپنی پریشانیاں شیئر کریں تو اپنے دل کا بوجھ اتار کر خود کو
ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں۔ آپ اپنے شریکِ حیات، اپنے بچے کو گلے لگاتے ہیں تو آپ کا دل سکون پاتا ہے۔ بھائیو اور بہنو، شاید آپ نوٹ نہ کریں مگر اِن ساری نعمتوں کے اسباب کو سراہنا اور شکریہ ادا کرنا آپ کی فطرت میں ہے۔ مگر جب آپ کہتے ہیں ’’ وَبِحَمْدِکَ ‘‘، تو آپ خود کو ملنے والی ساری خوشیوں کے اصل مالک کو پا لیتے ہیں جو تعریف کااصل حق دار ہے اور وہ اللہ ہے۔ اِن سب کی بدولت، وہ آپ سے اپنی محبت کا اظہار کر رہا ہے۔ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں یہ ثناء سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ سکھائی، کیونکہ ہمیں اِس کی واقعی ضرورت ہے۔ دنیا آپ کو اسباب پر توجہ دینے پر مجبور کرتی ہے۔ کسی بھی شخص کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ اُس کی آنکھوں کے سامنے موجود پردہ ہے۔ تو کیا آپ وہ پردہ اٹھا کر سچ کو دیکھیں گے؟ یہ شعور آپ
کو اللہ کے مزید قریب لے آئے گا۔ اب ہم اگلے جملے کی طرف آتے ہیں، ’’ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ‘‘۔ اِس کے معانی ہیں ’’تیرا نام برکت (نعمتوں/کثرت) والا ہے۔ تیرا نام برکت (نعمتوں/کثرت) سے بھرپور ہے۔‘‘ آئیے لفط برکت کی مزید وضاحت کرتے ہیں۔ یہ برکت خصوصی بھلائی ہے جو صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جو کسی بھی چیز کی کم مقدار کو آپ کی توقع سے زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں برکت (نعمتوں/کثرت) کی بہت ضرورت ہے۔ جب آپ کے پاس برکت ہوتی ہے، تو ایک قدم آگے بڑھنا ہزار قدموں کے برابر ہو سکتا ہے، مگر جب برکت آپ سے نکل جاتی ہے، تو آپ ایک ہزار قدم اٹھا کر بھی صرف ایک قدم ہی آگے بڑھ پاتے ہیں۔ بعض اوقات آپ کو پیسہ کمانے کے حوالے سے اس کا احساس ہو سکتا ہے، کہ آپ کے پاس برکت ہے، یا پھر برکت کی کمی ہے
کیونکہ رقم جلدی ختم ہو جاتی ہے۔ مگر برکت صرف روپے پیسے کا نام نہیں ہے۔ آپ وقت سے بھی اِس کا تعلق سوچ سکتے ہیں۔ مثلاً، جب آپ کے وقت میں برکت ہوتی ہے، تو آپ کو ایک گھنٹہ بھی اتنا کارآمد محسوس ہوتا ہے، گویا آپ نے پانچ گھنٹے کا کام کر لیا ہو۔ اگر آپ کی صحت میں برکت نہ ہو، تو آپ اکثر بیمار ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کے رشتوں میں برکت نہ ہو، تو آپ کو اپنے عزیزوں کے ساتھ مسائل پیش آ سکتے ہیں اور آپ بہت غمزدہ ہو سکتے ہیں۔ تو یہ برکت حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ ہمیں اپنی زندگیوں میں اِس کی بہت زیادہ ضرورت ہے، جس دعا (ثناء) کی ہم بات کر رہے ہیں اس کے مطابق، اللہ کے نام کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔ یعنی ہر کام کرنے سے پہلے ’’بِسمِ اللہ‘‘ (اللہ کے نام کے ساتھ) کہنا۔ اور صرف کہنا ہی نہیں، بلکہ اپنے دل میں اِس کے
حقیقی معانی کو محسوس کرنا۔ تو بِسم اللہ (اللہ کے نام کے ساتھ) کہنے میں برکت (نعمتیں/کثرت) ہے۔ ہر چیز، جانور، پودے وغیرہ سب بِسم اللہ کہتے ہوئے اللہ کے نام کے ساتھ حرکت کرتے ہیں۔ ایک گائے پر غور کریں۔ یہ صرف گھاس کھاتی ہے، مگر کئی لیٹر غذائیت سے بھرپور دودھ دیتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ گھاس اور دودھ۔ ایک دن کی شہد کی مکھی میلوں دُور تک اڑ جاتی ہے اور راستہ بھولے بغیر واپس آ جاتی ہے۔ اگر ہم ایک تین سال کے بچے کو بازار بھیجیں، تو وہ واپس نہیں آ سکے گا۔ مگر شہد کی مکھی آ جاتی ہے۔ یہ سب کیسے ہوتا ہے؟ یہ سب باتیں ایک عظیم تر سچائی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اپنے اپنے عمل سے، یہ سارے جانور کہتے ہیں، ’’بِسم اللہ‘‘ (اللہ کے نام کے ساتھ)، ’’خدا کے نام کے ساتھ‘‘۔ تمام جانور، پودے اور ہر چیز اللہ کے نام کے
ساتھ حرکت کرتی ہے اور برکتیں پاتی ہے۔ لہٰذا اگر تمام جانور یہ کرتے ہیں، تو ہم انسانوں کو بھی اپنے کام بِسم اللہ سے شروع کرنے چاہئیں۔ تب ہم بھی اِس عظیم تسلسل کا حصہ بن جائیں گے۔ آپ کی زندگی بھی برکتوں سے مالا مال ہو جائے گی۔ آپ دسترخوان پر بیٹھ کر ’’بِسم اللہ‘‘ کہتے ہیں، تو آپ کا کھانا با برکت بن جاتا ہے۔ پانی کا گلاس پینے سے پہلے، آپ ’’بِسمِ اللہ‘‘ کہتے ہیں۔ تو پانی شِفا بن جاتا ہے۔ آپ گاڑی میں بیٹھ کر ’’بِسم اللہ‘‘ کہتے ہیں، تو آپ کا سفر محفوظ بن جاتا ہے۔ آپ کتاب کھول کر ’’بِسمِ اللہ‘‘ کہتے ہیں۔ تو آپ کا ذہن شفاف ہو جاتا ہے، اِسی طرح ہر کام میں برکت ملتی ہے۔ اور اب ہم پہنچ گئے ’’ وَتَعَالَی جَدُّکَ‘‘ پر۔ اِس کے معانی ہیں ’’تیری عظمت اور شان ہر چیز سے بلند ہے۔‘‘ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جنہیں
ہم سب سے عظیم سمجھتے ہیں، جن سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہوتے ہیں، مگر اللہ اُن سب چیزوں سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔ ذرا غور کریں۔ ہماری زمین اپنے محور پر 1,670 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی ہے، اور اِسی دوران یہ سورج کے گِرد بھی 108,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہوتی ہے اور پھر بھی، اتنی تیز رفتاری کے باوجود، ہم اپنی میز پر بیٹھے کافی پیتے ہیں جو گرتی بھی نہیں ہے۔ آخر یہ کونسی طاقت ہے؟ یہ کس قسم کا توازن، یہ کونسی عظمت ہے؟ بھائیو اور بہنو، سورج کے اندر، ہر سیکنڈ میں 600 ملین ٹن ہائیڈروجن ہیلیئم میں تبدیل ہوتی ہے۔ یعنی، ہر لمحے میں، ایک عظیم توانائی کی تبدیلی نان اسٹاپ جاری رہتی ہے۔ اور نہ بھولیں کہ خلائی نظام میں سورج کا شمار چھوٹے ستاروں میں ہوتا ہے۔ اِس سے بھی بڑے بڑے ستارے موجود
ہیں۔ اور اللہ، ان دیوہیکل کہکشاؤں کا نظام چلانے کے ساتھ ساتھ، اُسی وقت ہمارے ذہنوں میں آنے والے سب سے چُھپے ہوئے خیالات کو بھی جانتا ہے۔ ’’یا اللہ، تیری ہی وہ ذات ہے جو ہمیں حیرت زدہ کر دیتی ہے، اور تو نے ہمیں سکھایا کہ اِس حیرت کا اظہار ’سبحان اللہ‘ کے الفاظ سے کرنا ہے۔ ’وَتَعَالَی جَدُّکَ‘، تیری عظمت اور شان ہر چیز سے بلند ہے۔‘‘ مگر جب ہم اللہ کی حقیقی طاقت کو بُھلا دیتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ ہم میں تحفظ کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ یہ احساس کہ ’’اللہ میری حفاظت کرے گا‘‘، ماند پڑنے لگتا ہے۔ اچانک، چھوٹے مسائل بڑے لگنے لگتے ہیں، اور ہمارے دل اِس خوف اور فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ’’اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟ اوہ، میں اُس صورت میں کیا کروں گا؟ اگر میں بیمار ہو گیا تو کیا ہوگا؟‘‘ یہ خیالات ہمارے
ذہنوں میں آتے ہیں۔ ہمارا رب وہ ہے جو اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ بس وہ کہتا ہے،’’کُن‘‘ ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز ہو جاتی ہے۔ اِسی لیے اللہ کی عظیم ترین طاقت سے آگاہ رہنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ آگاہی ہمیں بدل دیتی ہے، ہمیں اِس گہرے یقین تک پہنچاتی ہے کہ، ’’میں اپنی لڑائیاں اکیلا نہیں لڑ رہا۔ مجھے اللہ کی طاقت کا سہارا حاصل ہے۔ صرف اُس کے ایک حکم ’’ہو جا‘‘ سے پوری صورتحال بدل سکتی ہے۔ جو چیزیں ہمیں ناممکن لگتی تھیں، وہ ممکن ہو جاتی ہیں۔‘‘ بعض اوقات جب میں اِس دعا (ثناء) پر غور کرتا ہوں، یعنی سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ (اے اللہ، تو پاک ذات ہے)، پر تو میں اُس بے پناہ حکمت پر حیران رہ جاتا ہوں جو ہمیں عطا کی گئی ہے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں صرف الفاظ ہی نہیں سکھائے؛ اُنہوں نے ہمیں اللہ کے
ساتھ گفتگو شروع کرنے کی ایک پرفیکٹ چابی عطا کی۔ اِس ثناء میں، صرف جنازے کے نمازوں میں ایک اور جملہ پڑھا جاتا ہے: ’’ وَ جَلَّ ثَنَاؤُکَ‘‘۔ جس کا مطلب ہے، ’’تیری تعریف بلند ہے‘‘۔ جنازے کی نماز میں، جب ہم موت کے رو برو ہوتے ہیں، تو یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعریف کا اصل حق دار صرف اللہ ہے۔ چاہے کوئی شخص کروڑوں کا مالک ہی کیوں نہ ہو، وہ پھر بھی جنت کے لائق نہیں بنتا۔ حقیقی طور پر تمام تعریفوں کا مستحق صرف اللہ ہی ہے۔ ہم حال ہی میں ایک جنازے میں گئے تھے اور وہاں قبروں کے پاس ہماری گفتگو ہوئی۔ میں نے بھائیوں سے کہا، ’’ہمارے پیچھے اِن قبروں میں، وہ لوگ ہیں جن کے پاس کبھی کروڑوں کی دولت تھی۔ انہی میں ایک مشہور شخصیت بھی ہے، مگر اب یہ سب خاموش ہو چکے ہیں، سب زمین کی تہہ میں پڑے ہیں۔‘‘ جنازے کی نماز
میں، ہم پڑھتے ہیں ’’ وَ جَلَّ ثَنَاؤُکَ‘‘، ’’صرف اللہ ہی ہے جس کی تعریف بلند ہے‘‘۔ عہدہ، رُتبہ، ذہانت، قُوَّت، جسمانی طاقت کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ کامیابی، سوشل میڈیا کے فالوورز، سب ختم ہو جاتا ہے۔ سب کچھ دُھندلا جاتا ہے۔ اور جس وقت موت ہمارے سامنے آتی ہے، تو سچائی واضح ہو جاتی ہے۔ وہ واحد ذات جو ہمیشہ تعریف کی مستحق رہتی ہے وہ اللہ ہے۔ تصور کریں کہ ایک دن آپ کے جنازے میں بھی، لوگ پڑھیں گے ’’ وَ جَلَّ ثَنَاؤُکَ‘‘۔ موت آپ کو بھی تلاش کر لے گی۔ پھر اُس دن، کونسا رینک، کونسی دولت، کونسی خوبصورتی آپ کو بچائے گی؟ لہٰذا ہمیں ابھی اور اِسی وقت اللہ کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ اور اگر آپ اِسے دوسرے زاویے سے دیکھیں، تو یہی چیز انسان کو عظیم ترین آزادی بھی دیتی ہے۔ چاہے آپ کا سب کچھ کھو جائے، مگر آپ اُس
لافانی طاقت سے جُڑے رہتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اور اب ہم اپنے آخری جملے کو دیکھتے ہیں، ’’وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکْ‘‘۔ ’’ اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں‘‘۔ یہ جملہ ’’لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) جیسا ہے۔ درحقیقت، ’’ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘ اتنی گہری سچائی ہے کہ پوری زندگی کا غور و فکر بھی اسے مکمل طور پر سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہترین کلمات جو اُنہوں نے خود ادا فرمائے، اور اُن سے پہلے کے پیغمبروں نے بھی ادا فرمائے، وہ ہیں ’’ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں)۔ مثلاً، ’’ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘ کے الفاظ میں، ہم لفظ ’’ إِلَٰهَ ‘‘ (خدا) کو اللہ کے دوسرے ناموں سے تبدیل کر سکتے
ہیں۔ مثلاً ’’ لَا رَزَّاقَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ اللہ کے سوا کوئی رزق دینے والا نہیں۔ ’’ لَا شَافِیَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘، اللہ کے سوا کوئی شِفا دینے والا نہیں۔ ’’ لَا قَادِرَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘، اللہ کے سوا کوئی قدرت والا نہیں۔ ’’لا محيي الا الله ‘‘، اللہ کے سوا کوئی زندگی دینے والا نہیں۔ اِس طریقے سے، ’’ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) کے الفاظ سیکڑوں معنی دے سکتے ہیں۔ دل ایک حقیقی پناہ گاہ کا متلاشی ہوتا ہے، اور ’’وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکْ‘‘ کے الفاظ اِس ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ آئیے اب شروع سے لے کر اب تک کی گئی اپنی گفتگو کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ۔ اے اللہ، تو ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔ تو ایسے شاہکار تخلیق فرماتا ہے جو
ذہنوں کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ ’’ وَبِحَمْدِکَ ‘‘۔ صرف تو ہی حقیقی تعریف کے لائق ہے؛ جو بھی کسی دوسرے انسان کی تعریف کرتا ہے، وہ درحقیقت تیری تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ ’’وَتَبَارَکَ اسْمُکَ‘‘۔ تیرے نام میں برکت (نعمتیں/کثرت) ہے۔ جو کام بھی تیرے نام سے شروع کیا جاتا ہے اُس میں برکت آ جاتی ہے۔ ’’وَتَعَالَی جَدُّکَ‘‘۔ تیری عظمت، طاقت، وجود اور شان سب سے بلند ہے، جن کا کوئی ثانی نہیں۔ ’’وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکْ‘‘۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بھائیو اور بہنو، ہم نے اب تک جو بھی باتیں کی ہیں وہ دراصل ایک ہی نکتے پر آ کر جمع ہوتی ہیں۔ نماز کو صرف ادا ہی نہ کرنا، بلکہ اِس کے اثر کو دل و جان میں محسوس کرنا، جب ہم اپنے اللہ کے سامنے کھڑے ہوں، تو زبان سے جو کچھ پڑھ رہے ہوں اُسے اپنے دل میں محسوس کریں،
اور اپنے ذہنوں میں سمجھیں۔ تب نماز صرف ایک فرض نہیں رہتی، بلکہ ایک حقیقی ملاقات بن جاتی ہے۔ البتہ، اگر ہماری توجہ اِن گہرے معانی پر نہ بھی ہو، تب بھی ہمارا نماز کا فریضہ ادا ہو جاتا ہے، ہمیں اِس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سیریز ختم ہونے کے بعد، اگر آپ واقعی اِسے سمجھ لیں اور اپنی نماز میں اِسے شامل کرلیں، تو انشاءاللہ آپ کی نماز میں زبردست تبدیلی آ جائے گی۔ اِس پارٹ میں، ہم نے ایک سب سے بنیادی دعا کے اوپر فوکس کیا ہے۔ دوسرے پارٹس میں، ہم سورۃ الفاتحہ (قرآن کے ابتدائی چیپٹر) کا جائزہ لے چکے ہیں، اور ایک دوسری ویڈیو میں ہم نے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے معانی کو اچھی طرح سمجھا تھا۔ جب ہم اِن معانی پر غور کرتے ہیں، تو نماز ایک قسم کی تھراپی بن جاتی ہے، کیونکہ الفاظ کے ایک ایک معانی میں یہ
طاقتور اشارے ملتے ہیں کہ ہمارا کس قسم کے خدا پر ایمان ہے۔ اپنی پوری زندگی میں، آپ اِس دعا کو ہزاروں دفعہ دہرائیں گے، مگر مسئلہ دہرانے کا نہیں ہے۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہر بار دہرانے کے بعد آپ خود کو اللہ کے مزید قریب لائیں۔ بھائیو اور بہنو، ایک دن ہماری زبانیں خاموش ہو جائیں گی۔ ہمارے دلوں میں جو ایمان قائم ہو چکا ہوگا وہی ہمارے ساتھ قبر میں جائے گا۔ اُس دن کامیاب لوگوں میں شامل ہونے کے لیے، ہمیں یہ الفاظ لازماً آج ہی پوری طرح سمجھنے ہوں گے۔ ویسے، جن لوگوں کو روزانہ پانچ نمازیں باقاعدگی سے پڑھنا مشکل لگتا ہے، اُن کے لیے ہماری ٹیم نے ایک بہت مقبول ایپلیکیشن تیار کی ہے۔ یہ مکمل طور پر مفت اور اشتہارات سے پاک ہے۔ میں آپ کو بھرپور ترغیب دیتا ہوں کہ اِسے ضرور دیکھیں، اِن شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا)۔
ہے میرا رب سب سے بلند و برتر)، تو یہ تعداد 7 ملین تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ تعداد ہی آپ سے سبحان اللہ (اللہ ہر عیب سے پاک ہے) کہلوانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ایک لفظ لاکھوں مرتبہ اُس کا حقیقی مطلب جانے بغیر دہراتا رہے، تو کیا یہ عجیب بات نہیں ہے؟ اگر آپ سوچیں تو واقعی یہ بڑی حیرت انگیز بات ہے۔ اِسی لیے، آج ہم نماز میں پڑھی جانے والی ثناء سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ (اے اللہ، تو پاک ذات ہے) کو لفظ بہ لفظ سیکھیں گے۔ جب ہم اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے) کہتے ہوئے نماز شروع کرتے ہیں اور قیام کرتے ہیں، تو ہم ساری دنیا سے توجہ ہٹا لیتے ہیں۔ ہم اپنے ہاتھوں کی پُشت سے ہر چیز کو دُور دھکیل دیتے ہیں۔ پھر ہم سب سے پہلے کیا کہتے ہیں؟ سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ (اے اللہ، تو پاک ذات ہے) یہ نماز ہمیں کیا بتا رہی
ہے؟ یہ ہمیں کونسی سچائیاں یاد دلا رہی ہے؟ اور ہم اِن الفاظ سے نماز کیوں شروع کرتے ہیں؟ یہاں تک کہ بِسمِ اللہ (اللہ کے نام کے ساتھ) سے بھی پہلے، ہم سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ کہتے ہیں۔ آئیے ساتھ مل کر اِس کا جائزہ لیتے ہیں اور ثناء کے اِن منفرد کلمات کو لفظ بہ لفظ جانتے ہیں۔ اِس ویڈیو کے اختتام تک، ہمارا زاویۂ نظر بالکل بدل چکا ہوگا ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا)۔ آپ ایک ایسے شخص میں ڈھل جائیں گے جو بس الفاظ کو دہراتا نہیں ہے بلکہ اُن کے معانی بھی جانتا ہے۔ ہمارا پہلا جملہ ہے سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ (اے اللہ، تو پاک ذات ہے)۔ بنیادی طور پر اِس کا مطلب ہے ’’اے اللہ، تو پاک ذات ہے۔‘‘ اِس کے کیا معانی ہوئے؟ اے اللہ، تو ہر طرح کے عیب یا نقص سے پاک ہے۔ تجھ میں کوئی خامی نہیں۔ تو پرفیکٹ ہے۔ پہلے معانی
یہی ذہن میں آتے ہیں۔ دوسرے معانی ہیں ’’حیرت و تعجب‘‘، جس پر ہم اِس ویڈیو میں آگے چل کر بات کریں گے ان شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا)۔ اگر ہم پہلے معانی پر غور کریں، تو یہ جملہ سن کر کیا ذہن میں آتا ہے؟ خصوصاً غیر مسلم خدا کے بارے میں جو بدصورت اور گستاخی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ اللہ ان سب سے پاک ہے۔ مگر صرف یہ کہہ دینا کہ ’’میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں‘‘ کافی نہیں ہے۔ آپ کس طرح کے اللہ پر ایمان رکھتے ہیں؟ آپ کا ایمان اُس کے مطابق ہونا چاہیے جو اللہ نے قرآن میں بیان کیا ہے۔ صرف یہ کہہ دینا کہ’’میں اللہ پر ایمان رکھتا ہوں‘‘ کافی نہیں ہے۔ مثلاً، آپ کے مطابق، کیا اللہ سوتا ہے؟ نہیں۔ کیا وہ تھکتا ہے؟ کبھی نہیں۔ کیا وہ کسی شخص کے ذہن میں چلنے والی باتوں کو جانتا ہے؟ ہاں، ہر بات کو۔ کیا اُس کی طاقت
ہر چیز کے لیے کافی ہے؟ بالکل ہے۔ ہمیں اللہ کے درست اوصاف معلوم ہونے چاہئیں تاکہ ہم اُس پر بالکل صحیح ایمان رکھ سکیں۔ یہ ایمان کا سب سے اہم درجہ ہے۔ میں نے ایک مرتبہ کسی کو کہتے ہوئے سنا، ’’میں اللہ کو مانتا ہوں، میرا اُس پر ایمان ہے، مگر میں جس اللہ کو مانتا ہوں وہ اپنے بندوں کو آگ میں نہیں جلاتا۔‘‘ اب کیا یہ شخص واقعی اللہ پر ایمان رکھتا ہے؟ وہ اپنے ذہن میں بنائے ہوئے تصور کے مطابق اللہ پر ایمان رکھتا ہے، قرآن میں بیان کردہ اللہ پر نہیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ’’اللہ کا بیٹا ہے۔‘‘ کون یہ بات کہتا ہے؟ عیسائی، رائٹ؟ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ سبحانک اللہم(اے اللہ، تو پاک ذات ہے) کہہ کر دراصل ہم کہہ رہے ہوتے ہیں اللہ اس سے بہت بلند و بالا ہے۔ مگر آپ کہتے ہیں کہ یہ
سچ نہیں ہے۔ اللہ کو نہ کسی اولاد کی ضرورت ہے اور نہ کسی اور چیز کی۔ عیسائیوں کی مذہبی کتاب، اولڈ ٹیسٹامنٹ میں، خصوصاً بُک آف جینیسز میں ایک جملہ لکھا ہے، ’’خدا نے آرام کیا۔‘‘ یعنی خدا تھک گیا اور اُسے آرام کرنے کی ضرورت پڑی۔ معاذ اللہ (اللہ بچائے)، اللہ اِس عیب سے پاک ہے۔ اسلام سے باہر ہر مذہب میں خدا کے متعلق غلط تصورات موجود ہیں۔ ہندو ازم میں، ایسے خدا ہیں جو ایک دوسرے کو سزا دیتے ہیں اور ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔ زرتشی مذہب میں، دو خدا ہیں جن میں سے ایک برائی کا خالق ہے۔ اولڈ ٹیسٹامنٹ میں، ایسے خدا کا ذکر ہے جو پیغمبر یعقوب علیہ السلام سے کُشتی لڑتا ہے، وغیرہ۔ کیا ایسی باتیں سننا بھی گوارا ہوتا ہے؟ یہ سب بُہتان کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ اور جانتے ہیں جب آپ یہ ثناء پڑھ رہے ہوتے ہیں سبحانک اللہم،
تو آپ اِن جھوٹے عقیدوں کو بھی مسترد کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ اُس سچ کا دفاع کرتے ہیں جو کروڑوں لوگوں کو نظر نہیں آتا۔ جب ہم سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ کہیں، تو ذہن میں آنے والے اِس کے معانی واضح ہو جانے چاہئیں۔ اے اللہ، تو ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔ تجھ میں کوئی خامی نہیں، تو پرفیکٹ ہے۔ مخلوق خود بتاتی ہے کہ اللہ کتنا پرفیکٹ ہے۔ اُس نے کائنات کو اِس انداز سے پیدا کیا کہ ہر چیز ایک ترتیب اور توازن میں ہے۔ ذرا سِنو فلیک (snowflake) پر غور کریں۔ ان میں سے ہر ایک منفرد ساخت کے ساتھ بنتا ہے۔ زمین پر کھربوں سِنو فلیکس ہیں جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ چاہے آپ مائیکروسکوپ کے ذریعے سِنو فلیک کے کرسٹلز کی ساخت دیکھیں یا ٹیلی اسکوپ کی مدد سے کہکشاؤں کے وسیع دائروں کا مشاہدہ کریں، آپ کو ایک ہی پیغام سنائی دیتا ہے:
اللہ بڑی شان والا ہے۔ جب آپ کہتے ہیں سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ، تو آپ بالکل وہی الفاظ دُہراتے ہیں جو پوری کائنات ساتھ مل کر پکار رہی ہے۔ آئیے اب سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ کے دوسرے معانی کو دیکھتے ہیں۔ جب ہمیں کسی چیز کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہو تو ہم کہتے ہیں، ’’ سُبحَانَ اللہ (اللہ ہر عیب سے پاک ہے)۔‘‘ ایک آیت میں، اللہ فرماتا ہے، ’’کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو اُس کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح نہ کر رہی ہو۔‘‘ پودے، پھول، جانور، ہر چیز اللہ کی شان بیان کرتی ہے۔ جب ہم سبحان اللہ کہتے ہیں، تو گویا ہم ان کے شان بیان کرنے کو حیرت سے دیکھتے ہیں اور ہم بھی وہی حمد دہراتے ہیں۔ ذرا آسمان کو، ستاروں کو دیکھیں، اور ساحل پر اور صحرا میں بکھری ریت کے ذرات کو بھی دیکھیں۔ آپ کے خیال میں کس کی تعداد زیادہ ہے؟ ریت کے
ذرات کی یا ستاروں کی؟ جواب آپ کو حیرت زدہ کر دے گا، مگر واقعی ستارے اِن سے کہیں زیادہ ہیں۔ سبحان اللہ (اللہ ہر عیب سے پاک ہے) میکرو اور مائیکرو دونوں دنیائیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ دونوں میں، ہم اللہ کی پرفیکٹ تخلیق کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ ایک مشہور قول ہے، ’’ سبحان من تحيّر في صنعه العقول۔‘‘ اس کا مطلب میں آپ کو بتاتا ہوں ’’ پاک ہے وہ ذات جس کی کاریگری پر عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں۔‘‘ وہ ہر عیب اور نقص پاک ہے اب ذرا ایک بچے کا تصور کریں۔ شروع میں وہ اپنی ماں کے پیٹ میں ایک بے جان گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے، مگر ایک خاص وقت کے بعد، وہ ایک شکل میں ڈھلنا شروع ہوتا ہے، اور اُس میں جان ڈال دی جاتی ہے۔ کسی اڑتے ہوئے پرندے کے ایرو ڈائنامکس پر غور کریں۔ کوئی ڈاکیومینٹری دیکھتے ہوئے غور کریں کہ کیسے کسی
درخت کی بلندی پر موجود پتے پانی سے زیادہ تر و تازہ رہتے ہیں۔ کششِ ثقل تو پانی کو نیچے کھینچتی ہے، مگر اللہ کے طے کردہ قانون کی وجہ سے، پانی اوپر چڑھتا ہے۔ اللہ نے یہ قوانین تخلیق کیے ہیں، اور ہم اِن پر غور کرتے ہیں۔ اب ذرا ایک تربوز کا تصور کریں، جو گرمی کی شدت میں تازگی اور لذت دیتا ہے۔ اللہ نے اِس کے اندر حفاظت کا کا ایک قدرتی سسٹم رکھ دیا ہے جس سے وہ خراب نہیں ہوتا۔ تربوز کے ارد گرد ایک خول ہوتا ہے۔ اِس سسٹم کے بغیر، تربوز تھوڑے ہی عرصے میں خراب ہو جاتا۔ اس نے اس کی نسل کے تسلسل سے اس کے بیج بھی پیدا کیے ہیں۔ اگر تربوز کے اندر بیج نہ ہوتے، تو یہ صرف حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں کھایا جاتا اور پھر غائب ہو جاتا۔ مگر اللہ نے اِس کے اندر سیکڑوں بیج رکھ دیے ہیں۔ آپ اِنہیں بوتے ہیں اور نئے
تربوز حاصل کر لیتے ہیں۔ اِس طرح آپ بار بار اِسے کھا سکتے ہیں۔ کائنات ایک آرٹ گیلری ہے۔ جہاں ہر شاہکار کے کونے پر، ایک ہی دستخط ملتے ہیں: سبحان اللہ (اللہ ہر عیب سے پاک ہے)۔ یہ سب ایک آواز ہو کر کہتے ہیں، ’’ہم ایک بے عیب طاقت کی تخلیق ہیں۔‘‘ تو آئیے ہم حیرت زدہ کرنے والی اللہ کی ہر کاریگری پر سبحان اللہ کہنے کی عادت ڈال لیں۔ لہٰذا جب ہم سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ کہیں تو ہمارے ذہنوں میں اِس کے یہ دو معانی واضح ہونے چاہئیں۔ پہلا معنی، اللہ ایسے تمام عیبوں، خامیوں اور جھوٹے عقیدوں سے پاک ہے۔ دوسرے معنی سبحان اللہ ہیں جو ہم حیرت اور تعجب کے لمحات میں کہتے ہیں۔ گویا ہم کہتے ہیں، ’’اے اللہ، تو نے سب کچھ پرفیکٹ پیدا کیا ہے۔ تو سارے عیب اور نقص سے پاک ہے۔‘‘ ہمارا اگلا جملہ ہے ’’ وَبِحَمْدِکَ‘‘۔ اِس کے
معانی ہیں ’’تو ہی تعریف کے لائق ہے‘‘، ’’میں تعریف کے ساتھ تیری شان بیان کرتا ہوں۔‘‘ تعریف سے کیا مراد ہے؟ یہ تعریف اور شکرگزاری، دونوں کا مجموعہ ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی کی تعریف کی ہے؟ ہو سکتا ہے آپ نے کسی دوست کو شکریہ کہا ہو۔ مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اِس نعمت کا اصل ذریعہ کون ہے؟ ہمیں ایک دوسرے کا شکریہ ادا بالکل ادا کرنا چاہیے مگر ہماری تعریف کا سب سے زیادہ مستحق اللہ ہے، جو ساری نعمتوں کا اصل مالک ہے۔ تصور کریں کہ کوئی آپ کو آپ کی پسندیدہ ترین چیز کا گفٹ بھیجے۔ آپ ڈیلیوری بوائے کا شکریہ ادا کریں مگر یہ نہ پوچھیں کہ کس نے بھیجا ہے۔ تو کیا یہ درست ہوگا؟ کتنی غیر معقول بات ہوگی، ہے ناں؟ لوگ بالکل یہی رویہ اکثر اللہ کی نعمتوں کے بارے میں اپناتے ہیں۔ جب ہم کہیں ’’ وَبِحَمْدِکَ ‘‘، تو ہمیں
اِس پر غور کرنا چاہیے۔ ’’اے اللہ، لاکھوں لوگوں نے آج ایک دوسرے کا شکریہ ادا کیا ہوگا، مگر میں جانتا ہوں کہ اِن شکرگزاریوں کا اصل حق دار تو ہے۔ اُنہوں نے لاعلمی میں تیرا ہی شکریہ ادا کیا۔ وہ اِس بات سے واقف نہیں ہیں، مگر درحقیقت اُنہوں نے تیری تعریف کی۔‘‘ جب آپ سورج غروب ہونے کا منظر دیکھیں، تو فطرت پر گویا گلابی، پیلے اور لال رنگ چھا جاتے ہیں۔ اب یہاں تعریف کا مستحق اللہ ہی ہوتا ہے۔ جب آپ اپنے بازوؤں میں کوئی بچہ اٹھاتے ہیں، جب آپ کسی حبس کی جگہ سے نکل کر گہرا سانس لیتے ہیں، جیسے "آہ،" اللہ ہی ان سب کا خالق ہے۔ آپ بارش کے قطروں کی آواز سنتے ہیں، تو آپ کی روح کو سکون ملتا ہے، یا آپ اپنے دوست کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے ہوں اور اپنی پریشانیاں شیئر کریں تو اپنے دل کا بوجھ اتار کر خود کو
ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں۔ آپ اپنے شریکِ حیات، اپنے بچے کو گلے لگاتے ہیں تو آپ کا دل سکون پاتا ہے۔ بھائیو اور بہنو، شاید آپ نوٹ نہ کریں مگر اِن ساری نعمتوں کے اسباب کو سراہنا اور شکریہ ادا کرنا آپ کی فطرت میں ہے۔ مگر جب آپ کہتے ہیں ’’ وَبِحَمْدِکَ ‘‘، تو آپ خود کو ملنے والی ساری خوشیوں کے اصل مالک کو پا لیتے ہیں جو تعریف کااصل حق دار ہے اور وہ اللہ ہے۔ اِن سب کی بدولت، وہ آپ سے اپنی محبت کا اظہار کر رہا ہے۔ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں یہ ثناء سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ سکھائی، کیونکہ ہمیں اِس کی واقعی ضرورت ہے۔ دنیا آپ کو اسباب پر توجہ دینے پر مجبور کرتی ہے۔ کسی بھی شخص کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ اُس کی آنکھوں کے سامنے موجود پردہ ہے۔ تو کیا آپ وہ پردہ اٹھا کر سچ کو دیکھیں گے؟ یہ شعور آپ
کو اللہ کے مزید قریب لے آئے گا۔ اب ہم اگلے جملے کی طرف آتے ہیں، ’’ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ‘‘۔ اِس کے معانی ہیں ’’تیرا نام برکت (نعمتوں/کثرت) والا ہے۔ تیرا نام برکت (نعمتوں/کثرت) سے بھرپور ہے۔‘‘ آئیے لفط برکت کی مزید وضاحت کرتے ہیں۔ یہ برکت خصوصی بھلائی ہے جو صرف اللہ کی طرف سے ملتی ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جو کسی بھی چیز کی کم مقدار کو آپ کی توقع سے زیادہ بڑھا دیتی ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں برکت (نعمتوں/کثرت) کی بہت ضرورت ہے۔ جب آپ کے پاس برکت ہوتی ہے، تو ایک قدم آگے بڑھنا ہزار قدموں کے برابر ہو سکتا ہے، مگر جب برکت آپ سے نکل جاتی ہے، تو آپ ایک ہزار قدم اٹھا کر بھی صرف ایک قدم ہی آگے بڑھ پاتے ہیں۔ بعض اوقات آپ کو پیسہ کمانے کے حوالے سے اس کا احساس ہو سکتا ہے، کہ آپ کے پاس برکت ہے، یا پھر برکت کی کمی ہے
کیونکہ رقم جلدی ختم ہو جاتی ہے۔ مگر برکت صرف روپے پیسے کا نام نہیں ہے۔ آپ وقت سے بھی اِس کا تعلق سوچ سکتے ہیں۔ مثلاً، جب آپ کے وقت میں برکت ہوتی ہے، تو آپ کو ایک گھنٹہ بھی اتنا کارآمد محسوس ہوتا ہے، گویا آپ نے پانچ گھنٹے کا کام کر لیا ہو۔ اگر آپ کی صحت میں برکت نہ ہو، تو آپ اکثر بیمار ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کے رشتوں میں برکت نہ ہو، تو آپ کو اپنے عزیزوں کے ساتھ مسائل پیش آ سکتے ہیں اور آپ بہت غمزدہ ہو سکتے ہیں۔ تو یہ برکت حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ ہمیں اپنی زندگیوں میں اِس کی بہت زیادہ ضرورت ہے، جس دعا (ثناء) کی ہم بات کر رہے ہیں اس کے مطابق، اللہ کے نام کے ساتھ عمل کرنا چاہیے۔ یعنی ہر کام کرنے سے پہلے ’’بِسمِ اللہ‘‘ (اللہ کے نام کے ساتھ) کہنا۔ اور صرف کہنا ہی نہیں، بلکہ اپنے دل میں اِس کے
حقیقی معانی کو محسوس کرنا۔ تو بِسم اللہ (اللہ کے نام کے ساتھ) کہنے میں برکت (نعمتیں/کثرت) ہے۔ ہر چیز، جانور، پودے وغیرہ سب بِسم اللہ کہتے ہوئے اللہ کے نام کے ساتھ حرکت کرتے ہیں۔ ایک گائے پر غور کریں۔ یہ صرف گھاس کھاتی ہے، مگر کئی لیٹر غذائیت سے بھرپور دودھ دیتی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ گھاس اور دودھ۔ ایک دن کی شہد کی مکھی میلوں دُور تک اڑ جاتی ہے اور راستہ بھولے بغیر واپس آ جاتی ہے۔ اگر ہم ایک تین سال کے بچے کو بازار بھیجیں، تو وہ واپس نہیں آ سکے گا۔ مگر شہد کی مکھی آ جاتی ہے۔ یہ سب کیسے ہوتا ہے؟ یہ سب باتیں ایک عظیم تر سچائی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اپنے اپنے عمل سے، یہ سارے جانور کہتے ہیں، ’’بِسم اللہ‘‘ (اللہ کے نام کے ساتھ)، ’’خدا کے نام کے ساتھ‘‘۔ تمام جانور، پودے اور ہر چیز اللہ کے نام کے
ساتھ حرکت کرتی ہے اور برکتیں پاتی ہے۔ لہٰذا اگر تمام جانور یہ کرتے ہیں، تو ہم انسانوں کو بھی اپنے کام بِسم اللہ سے شروع کرنے چاہئیں۔ تب ہم بھی اِس عظیم تسلسل کا حصہ بن جائیں گے۔ آپ کی زندگی بھی برکتوں سے مالا مال ہو جائے گی۔ آپ دسترخوان پر بیٹھ کر ’’بِسم اللہ‘‘ کہتے ہیں، تو آپ کا کھانا با برکت بن جاتا ہے۔ پانی کا گلاس پینے سے پہلے، آپ ’’بِسمِ اللہ‘‘ کہتے ہیں۔ تو پانی شِفا بن جاتا ہے۔ آپ گاڑی میں بیٹھ کر ’’بِسم اللہ‘‘ کہتے ہیں، تو آپ کا سفر محفوظ بن جاتا ہے۔ آپ کتاب کھول کر ’’بِسمِ اللہ‘‘ کہتے ہیں۔ تو آپ کا ذہن شفاف ہو جاتا ہے، اِسی طرح ہر کام میں برکت ملتی ہے۔ اور اب ہم پہنچ گئے ’’ وَتَعَالَی جَدُّکَ‘‘ پر۔ اِس کے معانی ہیں ’’تیری عظمت اور شان ہر چیز سے بلند ہے۔‘‘ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جنہیں
ہم سب سے عظیم سمجھتے ہیں، جن سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہوتے ہیں، مگر اللہ اُن سب چیزوں سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔ ذرا غور کریں۔ ہماری زمین اپنے محور پر 1,670 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی ہے، اور اِسی دوران یہ سورج کے گِرد بھی 108,000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہوتی ہے اور پھر بھی، اتنی تیز رفتاری کے باوجود، ہم اپنی میز پر بیٹھے کافی پیتے ہیں جو گرتی بھی نہیں ہے۔ آخر یہ کونسی طاقت ہے؟ یہ کس قسم کا توازن، یہ کونسی عظمت ہے؟ بھائیو اور بہنو، سورج کے اندر، ہر سیکنڈ میں 600 ملین ٹن ہائیڈروجن ہیلیئم میں تبدیل ہوتی ہے۔ یعنی، ہر لمحے میں، ایک عظیم توانائی کی تبدیلی نان اسٹاپ جاری رہتی ہے۔ اور نہ بھولیں کہ خلائی نظام میں سورج کا شمار چھوٹے ستاروں میں ہوتا ہے۔ اِس سے بھی بڑے بڑے ستارے موجود
ہیں۔ اور اللہ، ان دیوہیکل کہکشاؤں کا نظام چلانے کے ساتھ ساتھ، اُسی وقت ہمارے ذہنوں میں آنے والے سب سے چُھپے ہوئے خیالات کو بھی جانتا ہے۔ ’’یا اللہ، تیری ہی وہ ذات ہے جو ہمیں حیرت زدہ کر دیتی ہے، اور تو نے ہمیں سکھایا کہ اِس حیرت کا اظہار ’سبحان اللہ‘ کے الفاظ سے کرنا ہے۔ ’وَتَعَالَی جَدُّکَ‘، تیری عظمت اور شان ہر چیز سے بلند ہے۔‘‘ مگر جب ہم اللہ کی حقیقی طاقت کو بُھلا دیتے ہیں تو کیا ہوتا ہے؟ ہم میں تحفظ کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ یہ احساس کہ ’’اللہ میری حفاظت کرے گا‘‘، ماند پڑنے لگتا ہے۔ اچانک، چھوٹے مسائل بڑے لگنے لگتے ہیں، اور ہمارے دل اِس خوف اور فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ’’اگر ایسا ہوا تو کیا ہوگا؟ اوہ، میں اُس صورت میں کیا کروں گا؟ اگر میں بیمار ہو گیا تو کیا ہوگا؟‘‘ یہ خیالات ہمارے
ذہنوں میں آتے ہیں۔ ہمارا رب وہ ہے جو اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ بس وہ کہتا ہے،’’کُن‘‘ ’’ہو جا‘‘ تو وہ چیز ہو جاتی ہے۔ اِسی لیے اللہ کی عظیم ترین طاقت سے آگاہ رہنا انتہائی ضروری ہے۔ یہ آگاہی ہمیں بدل دیتی ہے، ہمیں اِس گہرے یقین تک پہنچاتی ہے کہ، ’’میں اپنی لڑائیاں اکیلا نہیں لڑ رہا۔ مجھے اللہ کی طاقت کا سہارا حاصل ہے۔ صرف اُس کے ایک حکم ’’ہو جا‘‘ سے پوری صورتحال بدل سکتی ہے۔ جو چیزیں ہمیں ناممکن لگتی تھیں، وہ ممکن ہو جاتی ہیں۔‘‘ بعض اوقات جب میں اِس دعا (ثناء) پر غور کرتا ہوں، یعنی سُبحَانَکَ اَللّٰھُمَّ (اے اللہ، تو پاک ذات ہے)، پر تو میں اُس بے پناہ حکمت پر حیران رہ جاتا ہوں جو ہمیں عطا کی گئی ہے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ہمیں صرف الفاظ ہی نہیں سکھائے؛ اُنہوں نے ہمیں اللہ کے
ساتھ گفتگو شروع کرنے کی ایک پرفیکٹ چابی عطا کی۔ اِس ثناء میں، صرف جنازے کے نمازوں میں ایک اور جملہ پڑھا جاتا ہے: ’’ وَ جَلَّ ثَنَاؤُکَ‘‘۔ جس کا مطلب ہے، ’’تیری تعریف بلند ہے‘‘۔ جنازے کی نماز میں، جب ہم موت کے رو برو ہوتے ہیں، تو یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعریف کا اصل حق دار صرف اللہ ہے۔ چاہے کوئی شخص کروڑوں کا مالک ہی کیوں نہ ہو، وہ پھر بھی جنت کے لائق نہیں بنتا۔ حقیقی طور پر تمام تعریفوں کا مستحق صرف اللہ ہی ہے۔ ہم حال ہی میں ایک جنازے میں گئے تھے اور وہاں قبروں کے پاس ہماری گفتگو ہوئی۔ میں نے بھائیوں سے کہا، ’’ہمارے پیچھے اِن قبروں میں، وہ لوگ ہیں جن کے پاس کبھی کروڑوں کی دولت تھی۔ انہی میں ایک مشہور شخصیت بھی ہے، مگر اب یہ سب خاموش ہو چکے ہیں، سب زمین کی تہہ میں پڑے ہیں۔‘‘ جنازے کی نماز
میں، ہم پڑھتے ہیں ’’ وَ جَلَّ ثَنَاؤُکَ‘‘، ’’صرف اللہ ہی ہے جس کی تعریف بلند ہے‘‘۔ عہدہ، رُتبہ، ذہانت، قُوَّت، جسمانی طاقت کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ کامیابی، سوشل میڈیا کے فالوورز، سب ختم ہو جاتا ہے۔ سب کچھ دُھندلا جاتا ہے۔ اور جس وقت موت ہمارے سامنے آتی ہے، تو سچائی واضح ہو جاتی ہے۔ وہ واحد ذات جو ہمیشہ تعریف کی مستحق رہتی ہے وہ اللہ ہے۔ تصور کریں کہ ایک دن آپ کے جنازے میں بھی، لوگ پڑھیں گے ’’ وَ جَلَّ ثَنَاؤُکَ‘‘۔ موت آپ کو بھی تلاش کر لے گی۔ پھر اُس دن، کونسا رینک، کونسی دولت، کونسی خوبصورتی آپ کو بچائے گی؟ لہٰذا ہمیں ابھی اور اِسی وقت اللہ کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ اور اگر آپ اِسے دوسرے زاویے سے دیکھیں، تو یہی چیز انسان کو عظیم ترین آزادی بھی دیتی ہے۔ چاہے آپ کا سب کچھ کھو جائے، مگر آپ اُس
لافانی طاقت سے جُڑے رہتے ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اور اب ہم اپنے آخری جملے کو دیکھتے ہیں، ’’وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکْ‘‘۔ ’’ اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں‘‘۔ یہ جملہ ’’لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) جیسا ہے۔ درحقیقت، ’’ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘ اتنی گہری سچائی ہے کہ پوری زندگی کا غور و فکر بھی اسے مکمل طور پر سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بہترین کلمات جو اُنہوں نے خود ادا فرمائے، اور اُن سے پہلے کے پیغمبروں نے بھی ادا فرمائے، وہ ہیں ’’ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں)۔ مثلاً، ’’ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘ کے الفاظ میں، ہم لفظ ’’ إِلَٰهَ ‘‘ (خدا) کو اللہ کے دوسرے ناموں سے تبدیل کر سکتے
ہیں۔ مثلاً ’’ لَا رَزَّاقَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ اللہ کے سوا کوئی رزق دینے والا نہیں۔ ’’ لَا شَافِیَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘، اللہ کے سوا کوئی شِفا دینے والا نہیں۔ ’’ لَا قَادِرَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘، اللہ کے سوا کوئی قدرت والا نہیں۔ ’’لا محيي الا الله ‘‘، اللہ کے سوا کوئی زندگی دینے والا نہیں۔ اِس طریقے سے، ’’ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ ‘‘ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) کے الفاظ سیکڑوں معنی دے سکتے ہیں۔ دل ایک حقیقی پناہ گاہ کا متلاشی ہوتا ہے، اور ’’وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکْ‘‘ کے الفاظ اِس ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ آئیے اب شروع سے لے کر اب تک کی گئی اپنی گفتگو کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔ سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ۔ اے اللہ، تو ہر عیب اور نقص سے پاک ہے۔ تو ایسے شاہکار تخلیق فرماتا ہے جو
ذہنوں کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ ’’ وَبِحَمْدِکَ ‘‘۔ صرف تو ہی حقیقی تعریف کے لائق ہے؛ جو بھی کسی دوسرے انسان کی تعریف کرتا ہے، وہ درحقیقت تیری تعریف کر رہا ہوتا ہے۔ ’’وَتَبَارَکَ اسْمُکَ‘‘۔ تیرے نام میں برکت (نعمتیں/کثرت) ہے۔ جو کام بھی تیرے نام سے شروع کیا جاتا ہے اُس میں برکت آ جاتی ہے۔ ’’وَتَعَالَی جَدُّکَ‘‘۔ تیری عظمت، طاقت، وجود اور شان سب سے بلند ہے، جن کا کوئی ثانی نہیں۔ ’’وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکْ‘‘۔ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بھائیو اور بہنو، ہم نے اب تک جو بھی باتیں کی ہیں وہ دراصل ایک ہی نکتے پر آ کر جمع ہوتی ہیں۔ نماز کو صرف ادا ہی نہ کرنا، بلکہ اِس کے اثر کو دل و جان میں محسوس کرنا، جب ہم اپنے اللہ کے سامنے کھڑے ہوں، تو زبان سے جو کچھ پڑھ رہے ہوں اُسے اپنے دل میں محسوس کریں،
اور اپنے ذہنوں میں سمجھیں۔ تب نماز صرف ایک فرض نہیں رہتی، بلکہ ایک حقیقی ملاقات بن جاتی ہے۔ البتہ، اگر ہماری توجہ اِن گہرے معانی پر نہ بھی ہو، تب بھی ہمارا نماز کا فریضہ ادا ہو جاتا ہے، ہمیں اِس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سیریز ختم ہونے کے بعد، اگر آپ واقعی اِسے سمجھ لیں اور اپنی نماز میں اِسے شامل کرلیں، تو انشاءاللہ آپ کی نماز میں زبردست تبدیلی آ جائے گی۔ اِس پارٹ میں، ہم نے ایک سب سے بنیادی دعا کے اوپر فوکس کیا ہے۔ دوسرے پارٹس میں، ہم سورۃ الفاتحہ (قرآن کے ابتدائی چیپٹر) کا جائزہ لے چکے ہیں، اور ایک دوسری ویڈیو میں ہم نے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے معانی کو اچھی طرح سمجھا تھا۔ جب ہم اِن معانی پر غور کرتے ہیں، تو نماز ایک قسم کی تھراپی بن جاتی ہے، کیونکہ الفاظ کے ایک ایک معانی میں یہ
طاقتور اشارے ملتے ہیں کہ ہمارا کس قسم کے خدا پر ایمان ہے۔ اپنی پوری زندگی میں، آپ اِس دعا کو ہزاروں دفعہ دہرائیں گے، مگر مسئلہ دہرانے کا نہیں ہے۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ہر بار دہرانے کے بعد آپ خود کو اللہ کے مزید قریب لائیں۔ بھائیو اور بہنو، ایک دن ہماری زبانیں خاموش ہو جائیں گی۔ ہمارے دلوں میں جو ایمان قائم ہو چکا ہوگا وہی ہمارے ساتھ قبر میں جائے گا۔ اُس دن کامیاب لوگوں میں شامل ہونے کے لیے، ہمیں یہ الفاظ لازماً آج ہی پوری طرح سمجھنے ہوں گے۔ ویسے، جن لوگوں کو روزانہ پانچ نمازیں باقاعدگی سے پڑھنا مشکل لگتا ہے، اُن کے لیے ہماری ٹیم نے ایک بہت مقبول ایپلیکیشن تیار کی ہے۔ یہ مکمل طور پر مفت اور اشتہارات سے پاک ہے۔ میں آپ کو بھرپور ترغیب دیتا ہوں کہ اِسے ضرور دیکھیں، اِن شاء اللہ (اگر اللہ نے چاہا)۔