Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Islam Mein Auratein: Polygamy, Virasat Aur ‘Peetne’ Ki Aayat Ki Haqiqat!

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

پروپیگنڈا سے بھرے سوشل میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسلام میں خواتین کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔ تو حقیقت کیا ہے؟ پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ اسلام نے عورت کو کتنا نادر مقام دیا ہے۔ جس سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ پروپیگنڈا بالکل جھوٹا تھا۔ اور اب صرف تین عمومی سوالات کے جوابات باقی ہیں۔ اسلام میں ایک شخص کی چار بیویاں کیسے ہوسکتی ہیں؟ کیا اس سے عورت کی ویلیو کم نہیں ہو جاتی؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ عورت کو وراثت میں مرد کی نسبت آدھا حصہ کیوں ملتا ہے؟ اور آخری سوال،کیا قرآن میں سورۃ النساء کی آیت نمبر 34 میں عورتوں کو مارنے کا حکم ہے؟ چلیں ہم چار شادیوں والے سوال سے شروعات کرتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ بنیادی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ دراصل حکم نہیں بلکہ یہ ایک پابندی ہے۔ اسلام جس سوسا‏ئٹی میں ظاہر ہوا، وہاں زیادہ بیویاں رکھنے کا رواج تھا اور یہ بہت سی پریشانیوں کا ذریعہ بنا۔ تو جب اسلام کا ظہور ہوا، تو شادیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی یعنی آٹھ دس سے کم کر کے چار تک محدود کر دی گئی۔ اور ایک حد مقرر کر دی گئی۔ جیسا کہ قرآن یونیورسل کتاب ہے۔ اسی لیے اس کی بنیاد پر ایسا نظام ‎ ترتیب دیا گیا جو ہر زمانے میں قابل قبول ہو۔ قرآن نے ان مختلف حالات کے وہ عملی حل بتائے جو ہر زمانے کے مختلف ادوار میں درپیش ہو سکتے تھے۔ مثلاً جنگ کے دوران میں جب جانی نقصانات ہوتے ہیں تو عورتوں کی نسبت مردوں کی آبادی کم ہو جاتی ہے۔ جنگ عظیم اول اور دوم میں لاکھوں سپاہیوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ جس کے نتیجے میں بہت سی بیوائیں اور یتیم بچے بے سہارا رہ گئے۔ اور ان سب کو دیکھ بھال اور مدد کی ضرورت تھی۔ تو ایسی صورتحال میں دونوں باتیں ضروری ہیں کہ نہ صرف ان بے سہارا لوگوں کی کفالت کی جائے بلکہ افرادی قوت بھی بحال کی جائے۔ اسی لیے اس طرح کے حالات میں ایک آدمی کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک سے زیادہ شادیاں کرے۔ اور ساتھ ہی ایک اور حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے۔ اس معاشرے کے بارے میں سوچیں جہاں پولی گیمی عام تھی اگر اس وقت چار شادیوں کی اجازت نہ ہوتی تو انہیں اس بنیاد پر اسلام قبول کرنے میں دشواری ہوتی۔ جبکہ یہ ان کی آخرت کا سوال ہے۔ تو اسی لیے اسلام میں چار بیویوں کی چھوٹ ہے تاکہ ایسے کلچر کے لوگ اسلام سے دور نہ ہو جائیں۔ یاد رہے کہ یہ مذہب صرف اکیسویں صدی کے لیے ہی نہیں بلکہ یہ پچھلے چودہ سو سالوں سے لے کر قیامت تک آنے والے ہر کلچر، ہرمذہب اور ہر زبان کے لوگوں کے لیے ہے۔ اس کے علاوہ،دنیا کے کئی حصوں میں آج بھی پولی گیمی کا رواج ہے ۔ وہ الگ بات ہے کہ ہمیں اس کی خبر نہیں۔ 2022 میں ایک مشہور امریکی ریسرچ پروجیکٹ جنرل سوشل سروے نے جی ایس ایس نے افیئرز کے ریٹ پر تفصیلی مطالعہ کیا۔ جس کا رزلٹ چونکا دینے والا تھا۔ اس مطالعے کے مطابق 20 فیصد شادی شدہ مرد افیئرز میں ملوث تھے۔ اس کا مطلب پولی گیمی پہلے سے ہی موجود ہے لیکن ناجائز طریقے سے۔ تو کسی خفیہ اور ناجائز بندھن کے بجائے اسلام جائز طریقے سے قانونی حدود میں فیملی بنانے کاراستہ مہیا کرتا ہے۔ اور تمام خفیہ افئیرز اور بے وفائی سے معاشرے میں پیدا ہونے والی تباہی کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ اور ہاں، یہ اجازت یونہی اتنی آسانی سے نہیں ملی بلکہ ایک سخت اصول ہے۔ تمام بیویوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کرنا چاہئے۔ کہ ساری بیویوں کی دیکھ بھال کے ساتھ، جذباتی اور مالی دونوں لحاظ سے بھرپور انصاف کیا جائے۔ اور اس آیت کے ساتھ اسلام ایک بیوی رکھنے کا عندیہ دیتا ہے۔ "اگر تمہیں ڈر ہو کہ تم ان کے مابین انصاف نہ کر پاؤ گے تو صرف ایک شادی کرو۔ " ایک اور آیت کے مطابق یہ انصاف کرنا کتنا مشکل ہے۔ "اور تم خواہ کتنا بھی چاہو، اپنی بیویوں میں برابری نہ کر سکو گے۔ پھر چاہے جتنی بھی کوششیں کرلو۔" اس کے علاوہ ایک حدیث میں بھی سخت وارننگ دی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، "جس مرد کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا، تو اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہو گا“۔ مطلب اس کی ایک سائیڈ پیرالائزڈ ہو گی۔ تصور کریں کہ اس ذمہ داری کی کتنی اہمیت ہے؟ کیونکہ اس میں کسی دوسرے کے ساتھ نا انصافی کا خدشہ ہے۔ اسی لیے یہ بہت ہی نازک مسئلہ ہے۔ ایک بہت باریک سی لکیر ہے جس سے لاپرواہی نہیں کی جا سکتی۔ مزید یہ کہ عورتیں میرج کنٹریکٹ میں یہ شرط رکھ سکتی ہیں۔ اگر وہ کہے کہ دوسری عورت سے شادی نہیں کر سکتے، تو پھر وہ آدمی دوسری شادی نہیں کر سکتا۔ سیدھی سی بات ہے۔ دوسری طرف ایک عورت کو کسی کی دوسری یا تیسری بیوی بننے کا انتخاب حاصل ہے۔ کوئی اسے مجبور نہیں کرسکتا۔ اور اسلام کے مطابق اس معاملے میں عورتوں پر جبر نہیں کرسکتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ عورت کو بھی کنڈیشن قبول ہو اور مرد بھی مکمل انصاف کرنے کے قابل ہو، جب تمام فریق متفق ہوں، تو کسی اور کو اعتراض کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ یاد رکھیں ، یہ ایک قسم کی اجازت ہے۔ جیسا کہ جنگ کے دنوں میں، کچھ ایکسیپشنل سیناریو ہو سکتے ہیں۔ جو ہو بھی چکے ہیں اور آئندہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری بھی مثالیں ہیں، جن کی ذریعے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس آپشن کی اہمیت زندگی میں کتنی زیادہ ہے۔ اصل زندگی میں اس آپشن کے ہوتے ہوئے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل کے مسلمانوں میں اب یہ چیز بہت کم پریکٹس میں ہے۔ اس کے علاوہ اگر ہم دوسرے مذہب کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ پولی گیمی صرف اسلام میں ہی نہیں ہے۔ مثلاً عیسائیت میں، جس کے 2.3 بلین فالوورز ہیں۔ آپ کو پرانی اور نئی بائبل میں کوئی بھی ایک آیت پولی گیمی کے خلاف بالکل نظر نہیں آئے گی۔ بلکہ ہمیں پرانے صحیفوں میں انبیاءِ کرام کی مثالیں ملتی ہیں۔ جیسے حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ، حضرت داؤد علیہ السلام ۔ اگر کوئی عیسائی اس بنیاد پراسلام پر انگلی اٹھائے تو اسے یاد رہے کہ پرانے صحیفوں کے مطابق حضرت سلیمانؑ کی سات سو بیویاں تھیں۔ اسی طرح ہم ہندوازم کو دیکھیں ، جس کے فالوورز 1.1 بلین لوگ ہیں۔ تو اس میں ہمیں پولی گیمی کے خلاف کوئی قانون نظر نہیں آتا۔ بلکہ اسی مذہب میں پولی گیمی کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ یہ دوسری کئی سوسائٹیز اور کلچرز میں عام تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسی چیز جسے دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی قبول کرے، اس کے لیے اسلام پر تنقید کرنا درست نہیں ہوگا۔ مختصراً یہ کہ صرف ایک طبقہ اس لائف سٹائل کے خلاف ہو جس کے ہم عادی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ غلط ہے۔ اب ہم سب سے مشکل سوال پر آتے ہیں۔ سورہ النساء ، آیت نمبر 34۔ کیا قرآن مردوں کو خواتین کو مارنے کا حکم دیتا ہے؟ ایسے آدمی کو تصور کریں جس نے کبھی اپنی بیویوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا ہو اور نہ ہی کبھی ایسا کچھ کہا ہو جس سے ان کا دل دُکھا ہو۔ ان سے ہنسی مذاق اور محبت کرتا ہو ہر صورتِ حال میں۔ اور اس طرح ساری دنیا کا رول ماڈل بن جائے۔.

اور ایسا انسان، مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی سے اچھا سلوک کرے۔ پچھلی قسط میں ہم نے کلئیرلی وہ مرتبہ دیکھا جو اسلام نے عورتوں کو دیا۔ تو کیا یہ ممکن ہے کہ قرآن اور نبیِ پاک جنہوں نے ہم تک قرآن پہنچایا، وہ مردوں کو عورتوں پر ظلم کرنے کا کہیں؟ انہوں نے ایک دفعہ بھی ایسا کوئی عمل نہیں کیا، جو قرآن میں نہ لکھا ہو۔ کبھی بھی کچھ ایسا نہیں ہوا، ایک بار بھی نہیں۔ مطلب یہاں کوئی ایسی ڈیٹیل ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اب زرا اس آیت پر ایک بار پھر غور کریں۔ جو کچھ اس طرح سے ہے۔ "مرد عورتوں کے محافظ اور ان کے نگران ہیں۔ " تو، اب شروع میں ہی دیکھ لیں۔ ایک خاوند کی ذمہ داری بالکل واضح ہے۔ اپنی بیوی کی حفاظت کرنا اور اس کے مطابق جو محافظ ہوتا ہے وہ نقصان نہیں پہنچاتا۔ بلکہ اسے ہر قسم کے نقصان سے بچانے کی کوشش کرنی ہوتی ہے۔ چنانچہ آیت کے پہلے ہی حصے میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ مسئلہ جیسا کہ ہم نے سوچا ہے اس سے کئی زیادہ مختلف ہو سکتا ہے۔ یہ رول ہر عورت پہ لاگو نہیں ہوتا۔ یہ صرف اور صرف ایک مخصوص گروہ کے بارے میں ہے۔ یہاں لفظ استعمال ہوا ہے نُشوز کا۔ یہ عربی میں ایک عمل کا نام ہے۔ اور جو عورتیں یہ عمل کرتی ہیں وہ ناشزہ ہیں۔ تو اس کا کیا مطلب ہے؟ یہاں یہ لفظ کس طرح استعمال ہوا؟ اس آیت میں دو قسم کی مختلف عورتوں کا ذکر ہے۔ صالحہ اور ناشزہ۔ آیت میں صالحہ کا ذکر یوں ہے کہ "نیک عورتیں تابعدار ہوتی ہیں کہ مردوں کی غیر موجودگی میں اللہ کی مدد سے (ان کے حقوق کی) حفاظت کرتی ہیں۔" مطلب ، ان کا شوہر جب آس پاس نہیں ہوتا ہے ، اس قسم کی عورت اپنی عفت کی حفاظت کرتی ہے۔ تو یہاں سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ناشزہ عورتیں اس کے الٹ خصوصیات کی ہوتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ہم کسی سمپل سیچوئیشن کی بات نہیں کر رہے۔ اس میں خاندان کی عزت کو خطرہ ہے۔ جس میں عورت دوسرے مردوں کی طرف راغب ہوجاتی ہے، اور ان کو بھی راغب کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ نامحرم سے باتیں کرتی ہے۔ ان مردوں سے رابطے میں رہتی ہے جو اسلامی لحاظ سے درست نہ ہو۔ یا ان مردوں سے بات کرے جن سے اس کا شوہر منع کرتاہے۔ شرم و حیا اور پرائیویسی کی حدود کو پھلانگ جاتی ہے جو مرد کی طرف سے ہوتی ہے۔ اور ان لوگوں سے بے تکلف ہوجاتی ہے جن سے اُسے فاصلہ اختیار کرنا چاہیے ۔ اور یہ چیزیں گھر میں ٹینشنز لاتی ہیں۔ وہ اپنے شوہر کی نظروں میں گر جاتی ہے اور مقام کھو دیتی ہے۔ جس سے اس رشتے میں مستقل مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ تو جب آیت کہتی ہے کہ "اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا خطرہ ہو۔" تو یہ اس صورتحال کی طرف اشارہ ہے جو بتدریج بدتر ہو جاتی ہے۔ یہ ایک آرگیومنٹ کے بارے میں نہیں بلکہ یہ ایک ریلیشن شپ کا گہرا مسئلہ ہے۔ اب تھوڑا رکیں اور ہسٹری کے کسی نقطے پر نظر ڈالیں۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایسا پائے تو وہ کیا کرے گا؟ شاید وہ اپنی بیوی کو پیٹے گا اوراُسے کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ آج کل لوگ ایسی صورت میں قتل بھی کردیتے ہیں۔ لیکن اس آیت میں ایک ڈیفرینٹ اپروچ ہے۔ پہلا مرحلہ صرف لفظی وارننگ کا ہے۔ دوسرا اُس کا بستر الگ کرنا ہے۔ ان مراحل میں بہت خوبصورت باریکیاں ہیں۔ جو ہم پہلی نظر میں نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن اس سے پہلے لفظ مارنے پر غور کرتے ہیں۔ جو کہ آخری صورت ہے۔ اس کا مطلب بری طرح مارنا نہیں ہے۔ اس کی واضح حدود ہیں۔ مثلاً چہرے پر مارنا سختی سے منع ہے۔ وہ ایسے نہیں مار سکتا کہ جسم پہ کوئی نشان یا زخم آئے، یا پھر کوئی گہری چوٹ۔ تو ہم یہاں پر بہت ہی ممنوعہ مار کی بات کر رہے ہیں۔ آپ کو پتہ ہے کبھی ہم کسی کو کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہیں۔ اور کہتے ہیں،"ہوش میں آؤ".صرف اس کو احساس دلانے کے لیے کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ تو یہ ایسی ہی مثال ہو سکتی ہے۔ کیونکہ یہاں پر اصل مقصد اپنے خاندان کو بچانا ہے۔ اور اسے روکنا ہے جو غلطی پر ہے اور اسے بار بار دہراتا ہے۔ اور کسی پر ظلم ڈھائے بغیر اسے روکنا۔ تو اسے علامتی عمل سمجھا جاسکتا ہے۔ یہ صرف جسم کی مار نہیں بلکہ روح کی مار ہے۔ چار شادیوں والا مسئلہ یاد کریں۔ ہم نے کہا کہ قرآن نے شادیوں کی تعداد ایک سے بڑھا کر چار نہیں کی۔ بلکہ آٹھ دس سے کم کر کے چار کی ہے۔ یہاں بھی یہی آئیڈیا لاگو ہوتا ہے۔ قرآن مار پیٹ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔ بلکہ یہ اس شوہر پہ پابندی لگاتا ہے جو پہلے ہی ایسا کرنے والا ہے۔ مطلب، اس بارے میں سوچیں۔ کیا لگتا ہے کوئی آدمی اپنی بیوی کو مارنے کے بعد یہ کہے گا کہ میں تو نہ مارتا مگر آیت یہی کہتی ہے۔ نہیں بالکل نہیں، بلکہ وہ ایسا غصے کی وجہ سے کرتا ہے۔ اس لمحے اس کے ذہن میں ایمان یا مذہب کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ تو یہ آیت ایسی صورت پہ حدود متعین کرتی ہے۔ جس میں کوئی بھی آدمی بے قابو ہو کر تشدد پہ اتر آئے گا۔ تو یہ آیت اسے یہ انداز بتاتی ہے کہ "نہیں، تم ایسا محسوس کرنے پہ کسی کو اس طرح مار نہیں سکتے۔ مارنے سے پہلے ان دو مرحلوں پر عمل کرنا ہوگا۔ " اور وہ مرحلے کیا تھے؟ زبانی وارننگ اور پھر بستر سے الگ کرنا۔ زبانی کلامی وارننگ اس لئے ہے تاکہ تشدد سے بچا جا سکے۔ کیونکہ کچھ عرصے میں آدمی کا غصہ بھی ٹھنڈا ہو جائے گا۔ اور بعد کا غصہ اتنا زور آور نہیں ہوگا جیسے پہلے تھا۔ اب ہم ان مراحل کی باریکیوں کے بارے میں بات کریں گے جو میں نے پہلے بتائے۔ قرآن میں پہلے مرحلے کے لیے جو لفظ استعمال ہوا۔ ، زبانی وارننگ، وہ بہت دلچسپ ہے۔ ،فَعِظُوۡهُنَّ اس لفظ کی بنیاد محبت ہے۔ جس کا مطلب ہے محبت اور ہمدردی سے نصیحت کرنا ہے۔ ، ایسی نصیحت جسے سننے والے کا دل چھو جائے۔ اس کا مطلب چلانا نہیں ہے۔ یا تکلیف دے الفاظ نکالناجیسے۔ ، بس بہت ہوگیا۔" اور برداشت نہیں ہوتا بند کرو یہ سب۔" یہ دوسرے بندے کی اس طرح اصلاح کرنا ہےجس سے اس کا دل نرم ہو جائے۔ اور اس کے دل و دماغ دونوں پر اثر ہو جائے۔ یہ دل دکھانے کے بارے میں بالکل نہیں ہے بلکہ یہ دل پہ مرہم رکھنے کے لیے ہے۔ یوں سمجھیں جیسے کسی آدمی نے اسی طریقے سے کئی دفعہ ایسا کیا ہو۔ اگر اس سے بھی کچھ نہ ہو تو دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ ، جو کہ بستر الگ کرنا ہے۔ اب میں آپ کو ایک اور دلچسپ باریک فرق بتاتا ہوں۔ آیت کا معنی اصل میں بستر الگ کرنا نہیں ہے ۔ یہ ہے وَاهۡجُرُوۡهُنَّ فِى الۡمَضَاجِعِ ، جس کا مطلب ہے ان کو اپنے بستر میں اکیلا چھوڑ دو۔ دوسرے الفاظ میں جسے کاؤچ پہ جانا چاہیے وہ مرد ہے۔ اپنے اس عمل سے، وہ اپنی بیوی کو بتاتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ نہیں ہونا چاہتا اور وجہ تمہارے یہ رویہ ہے۔ میں کہیں اور سو جاؤں گا لیکن پھر بھی تمہارے آرام کا خیال ہے۔ تم بستر میں ہی رہو"۔ اس طرح عزت دینے کا عندیہ دیتا ہے۔ پھر وہ ایک اچھے شریف انسان کی طرح کمرہ چھوڑ دیتا ہے۔ ویسے آپ کو یاد ہوگا کہ ہم ایک ناشزہ عورت کی بات کر رہے ہیں۔ جو کہ غلط راستے پر ہے، نہ کہ کسی اور عورت کی۔ اور ان مراحل کا مقصد بھی اسی آیت میں ہے کہ نرمی سے اس کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ وہ ٹھیک ہو سکے۔ تو اس کے آگے اب کیا ہوگا؟ دراصل ، یہ وہ جگہ ہے جہاں سب کچھ شروع ہوتا ہے۔ ‏غیر شادی شدہ لوگ اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ لیکن ایک شادی شدہ عورت جس کو اپنے شوہر سے دلی لگاؤ ہے، اس کے لیے یہ بھی گراں ہے۔ ہماری غیر شادی شدہ بہنیں اس بارے میں شادی شدہ بہنوں سے پوچھ سکتی ہیں۔ کہ اگر ان کا شوہر ان سے صرف پانچ دنوں کے لیےان سے الگ سونے کا کہے تو وہ کیا ردعمل دیں گی اور کیا کریں گی؟ دو یا تین دن کے لیے الگ ہونا تو اور بات ہے، لیکن جب یہاں چار یا پانچ دن کی بات ہو تو کوئی بھی عورت یہ برداشت نہیں کرے گی اور اس کا حل تلاش کرے گی۔ کیونکہ ان راتوں میں وہ، سونا تودور کی بات ہے سونے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ اس کے ذہن میں مسلسل خیالات اور پریشانیوں کی جنگ چل رہی ہوتی ہے۔ توجہ کی کمی سے اسے دکھ ہو گا اور وہ اپنا احتساب کرے گی۔ اور اپنی خامیوں کا جائزہ لے گی۔ اور صرف بیوی ہی نہیں بلکہ شوہر کے لیے بھی یہ صورتحال آسان نہیں ہوتی۔ ظاہر ہے جب رات کو دونوں الگ سوتے ہیں تو پھر دن میں کون سے خوش گوار تعلقات ہوں گے، کیا کہتے ہیں؟ اور اچانک انہی تنہا راتوں میں سے ایک رات، دونوں میں سے کوئی ایک اپنی خاموشی توڑتا ہے، اور اس بارے میں بات کرتا ہے۔ کیا آپ کو احساس ہوِا؟ جو کتاب چھٹی صدی میں نازل ہوئی یعنی قرآن ایک جدید میریٹل تھراپی مہیا کرتا ہے۔ کیا یہ امیزنگ نہیں؟ اب یوں سمجھیں کہ ان سب کے باوجود بھی ناشزہ عورت کا رویہ تبدیل نہیں ہوتا۔ اور سب کچھ ویسا ہی ہوتا رہتا ہے۔ تو کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ شادی اب شدید خطرے میں ہے؟ پھراس لمحے قرآن آخری مرحلے کی بات کرتا ہے جو اللہ نے فرمایا۔ ہم نے سب سے پہلے یہی بات کی تھی کہ نبی پاکﷺ جیتے جاگتے قرآن کی ایک بڑی مثال ہیں۔ انہوںﷺ نے اپنی کسی بھی زوجہ پہ کبھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔ بلکہ کئی دفعہ ایسا کرنے والوں کو وارننگ دی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھ آ گیا ہوگا۔ اب آتے ہیں آخری سوال کی طرف۔ اسلام میں عورتوں کا وراثت میں مردوں کی نسبت آدھا حصہ کیوں ہوتا ہے؟ کیا یہ ناجائز نہیں ہے؟ اب پچھلی ویڈیو کی طرف چلتے ہیں۔ اسلام سے پہلے، وراثت میں عورتوں کا حصہ نہیں ہوتا تھا۔ لیکن اسلام نے اسے یہ حق نوازا۔ حتیٰ کہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی اٹھارہویں صدی تک عورتوں کے کوئی حقوق نہیں تھے۔ لیکن اسلام نے عورت کا وراثت میں آدھا حصہ کیوں مقرر کیا؟ کیونکہ انصاف صرف اسی طرح ممکن ہے۔ پہلے ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مساوات اور انصاف ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ سچا انصاف یہ ہے کہ لوگوں کو اُن کی ذمہ داریوں کی بنا پر شئیرز دیے جائیں۔ یاد کریں، ہم نے پچھلی قسط میں بھی یہی ذکر کیا تھا کہ خاندان کا معاشی بوجھ خاوند کے کندھوں پر ہے۔ بیوی کا ایسا کوئی فرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر عورت بالغ ہوجاتی ہے ، اس کے والد اب بھی اس کی روزی کے ذمہ دار ہیں جب تک کہ اس کی شادی نہ ہو۔ جب وہ شادی کرلے تو اس کا شوہر اس ذمہ داری کو قبول کرتا ہے ، اور اس کی کوئی بھی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ گھریلو اخراجات میں حصہ ڈالے۔ اور سب سے بڑھ کے اسے مہر بھی ملتا ہے۔ میرج کنٹریکٹ کے مطابق طے شدہ رقم ، اور اسے اس رقم میں سے کچھ بھی گھر پر خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور جب وہ بوڑھی ہوجاتی ہے ،تو پھراس کی ذمہ داری اس کے بیٹے پر آجاتی ہے بلکہ اس کی اولاد کی وراثت میں بھی اس کا حصہ ہوتا ہے۔ اب اس بارے میں سوچیں۔ شادی میں شوہر کو اپنی فیملی کا بوجھ اٹھانا ہوتا ہے۔ اور زیادہ تر اپنی بیوی کے لیے سب کچھ کرتا ہے۔ پوری تاریخ میں، حتیٰ کہ قرآن کی ان آیات سے بھی پہلے، خاندان کا مالی بوجھ ہمیشہ مردوں پر ہی رہا ہے۔ تو اسلام کے مطابق وراثت کی تقسیم یوں ہونی چاہیے۔ سمجھیں ایک باپ کا انتقال ہو گیا پیچھے ایک بیٹا اور بیٹی ہے۔ تو بیٹے کو بیٹی کی نسبت دو حصے ملتے ہیں۔ کیونکہ اس کے مال کا ایک بہت بڑا حصہ اس کی فیملی پر خرچ ہو گا۔ جس کی ذمہ داری اس پہ ہے۔ اب کمپیئر کریں بیٹی کے حصے سے تو پیٹے کا حصہ اس کے برابر ہو جائے گا یا اس سے کم بھی ہوسکتا ہے۔ تو حقیقت میں ، عورت کو آدھا مال نہیں مل رہا ہے۔ بلکہ، آدمی اپنی ذمہ داریوں کی وجہ سے دوگنا وصول کرتا ہے۔ یا ، آئیے اس طرح دیکھیں۔ اسی بہن کو وراثت میں اپنا حصہ ملے گا ، لیکن اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اسے گھر پہ خرچ کرے۔ اس کا شوہر اس کے لئے ذمہ دار ہے۔ لہذا، لانگ ٹرم میں، اس کے شوہر کی دولت اس کے فائدے کے لئے خرچ ہوگی۔ لہذا اگر ہم اس کی وراثت کو اس کے شوہر سے ملے مال کے ساتھ جوڑ دیں ، تو اس کی پوزیشن اس کے بھائی کے برابر یا بلکہ اس سے بہتر ہی ہوگی۔ کیونکہ بھائی اپنا مال گھر پر خرچ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر اس کے شوہر کو وراثت میں حصہ ملے تو یہاں بھی اسی کو فائدہ ہے۔ تو، جیسا کہ ہم نے کہا برابری کا مطلب انصاف نہیں ہے۔ انصاف کا مطلب ہے کہ ہر ایک کو وہی ملےجس کا وہ اپنی ذمہ داریوں کی بنا پر مستحق ہو۔ اور یہی بات اسلام کرتا ہے۔ اس ویڈیو میں ہم نے جو کچھ بھی کہا، اور خاص طور پر پچھلی ویڈیو میں، تو ہم نے سمجھا کہ اسلام عورتوں کو مردوں سے بہتر قرار نہیں دیتا اور نہ ہی عورتوں کو کمتر بتاتا ہے۔ اگر آپ نے پہلی ویڈیو دیکھی ہے ، تو آپ زیادہ بہتر سمجھیں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ وہ اعدادوشمار یاد کریں جو ہم نے پہلے بتائے تھے۔ ، کہ امریکہ میں اسلام قبول کرنے والے پانچ میں سے چار افراد خواتین ہیں۔ آج ہزاروں خواتین اس سچائی کو دریافت کررہی ہیں پروپیگنڈا سے آگے بڑھ کر اور اپنی ذاتی تحقیق کر کے۔ وہ ایک ایسے مذہب کی طرف رجوع کر رہی ہیں جہاں ان کو امن، سلامتی اور انصاف ملتا ہے۔ کیونکہ ان کے لئے، اسلام صرف ایک مذہب نہیں ہے بلکہ ایک گھر ہے۔ جب وہ اسلام کو گلے لگاتی ہیں ، وہ بھی اسی طرح محسوس کرتی ہیں جیسے مشہور آئرش کنورٹ سیناڈ او کونر ، نے کہا ، "میں گھر آ گئی"۔ ہم انسان ہیں،ہمارے پاس عقل ہے، ہم سوال کرتے ہیں، جواب ڈھونڈتے ہیں۔ تو یہ بات بغیر کسی ناانصافی اور طرف داری کے بتائیں مرد اور عورت کے درمیان کون سب سے منصفانہ توازن قائم کرسکتا ہے؟ ہم بحیثیت انسان ، یا وہ جس نے ہمیں پیدا کیا؟ کیا وہ انسانی سسٹم جو صدیوں سے کوشش کے باوجود ناکام ہے ، یا پھر وہ قانون جسے اس لازوال خالق نے ترتیب دیا؟