Italian Mafia Boss Musalman Ban Gaya: “Mujhe 6 Dafa Goli Lagi!”
تاریخ اشاعت
میرے پاس پیسہ تھا۔ میرے پاس کاریں تھیں، بائیکس تھیں۔ میں نے ایک سال میں 1.23 ملین ڈالر کمائے۔ میرا ایک سپلائر تھا۔ ہمیں 20 ملین ڈالر کا منشیات کا ایک سودا کرنا تھا۔ جیسے ہی ہم نے ڈرائیونگ شروع کی، وہ مجھے کچھ مشکوک لگا، مگر میں نے توجہ نہیں دی۔ میرا بیٹا گاڑی سے اترا، اور جب اُس نے خدا حافظ کہا، تو اُس نے گن اُس کے سینے پر رکھ کر فائر کر دیا۔ بوم!
میرے بیٹے کو شوٹ کر دیا۔ اپنے بیٹے کو کار کے اندر کھینچا۔ اُس نے کہا، ’’بابا،‘‘ اور پھر میں نے دیکھا اُس نے گن میری طرف کر دی اور پھر میں نے یہ کیا کہ اپنا پاؤں ایکسیلیٹر پر جمایا۔ بُوم، بُوم، بُوم، بُوم۔۔ مجھے گولی لگی۔ اسپتال کی جیل سے، مجھے مرکزی جیل لے جایا گیا، ایک ہائی سیکیورٹی، Yatala جیل میں۔ اُنہوں نے مجھے جیل کے سزا والے سیکشن میں ڈال دیا۔ میں قرآن پڑھ رہا تھا اور سورۃ آل عمران میں میں نے پڑھا ہر روح کو اللہ کی مرضی سے موت آئے گی، جس کا ایک وقت معین ہے۔ جب میں اُس جگہ پر پہنچا کہ ’’ہر چیز لکھی ہوئی ہے،‘‘ تو میرے کاندھوں کا بوجھ لمحوں میں اتر گیا۔ میں بہت خوش تھا۔ السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو)، برادر Vince Focarelli۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا بے حد شکریہ۔ ہمیں آپ کو اپنے ساتھ دیکھ کر خوشی ہے۔ میرا پہلا سوال ہے، Vince Focarelli کون ہیں؟ اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتائیں؟ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ میں بہت ممنون اور شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اپنے پوڈکاسٹ میں بلایا۔ میں اٹلی کےمیں پیدا ہوا، میرا مطلب ہے اٹلی کے شہر Salerno میں ۔ جب میں چھ سال کا تھا، تو میں نے اپنی زندگی کی پہلی ہجرت اٹلی سے آسٹریلیا کی، جنوبی آسٹریلیا، ایڈیلیڈ ۔ میں 14 سال کی عمر سے ہی ایک گینگسٹر تھا۔ میرا اٹھنا بیٹھنا بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ تھا۔ جیسے کہ نائٹ کلبز کے مالکان وغیرہ ہیں۔ میں گینگ ورلڈ میں شامل تھا اور وہ بھی اِس حد تک زیادہ کہ ایک ریاست کا باس بن گیا تھا، آسٹریلیا کے سب سے بدنام جرائم پیشہ بائیکر گروہ کا۔ میں کئی برسوں تک جرائم میں ملوث رہا، یہاں تک کہ ایک دن میرا سوتیلا بیٹا میرے ہاتھوں میں دم توڑ گیا۔ اس واقعے کے بعد میں نے اسلام قبول کر لیا۔ اچھا اسلام سے پہلے عقیدے کے لحاظ سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کا کس پر ایمان تھا؟ میں ایک رومن کیتھولک تھا۔ میرا خدا پر ہمیشہ سے ایمان تھا۔ میں صلیب بناتا اور عبادت کرتا تھا۔ ہم صلیبیں پہنا کرتے تھے۔ شاید آپ یقین نہ کریں مگر مافیا بھی بہت مذہبی تھی۔ وہ گناہوں کے اقرار کے لیے پادری کے پاس بھی جاتے تھے۔ کچھ کو احساسِ جرم بھی تھا۔ مگر ہم دونوں دنیاؤں کے فائدے پا رہے تھے۔ ہم جا کر اپنے گناہوں کا اقرار کرتے۔ وہ ہمیں Hail Marys اور ایسی ہی چیزیں کرنے کو کہتے۔ اور جیسے ہی ہم چرچ سے باہر نکلتے، تو پھر اپنے پیجر پر شروع ہو جاتے۔ ’’میں یہاں ملوں گا۔‘‘ ’’وہاں منشیات بیچوں گا۔‘‘ لہٰذا، ہمارے لیے عیسائی عقیدے اور، کیتھولک عقیدے میں، یہی روایت اور کلچر تھا۔ اِسی طرح کرنا گویا ہمارے DNA کا حصہ تھا۔ مگر لوگ یہ بات نہیں سمجھتے۔ ہمیں یہی سکھایا گیا تھا کہ اگر ہم پادری کے پاس چلے جائیں، یونئو دروازہ چھوٹی سی کھڑکی کھول کر آپ کہیں کہ، ’’فادر، میں نے گناہ کیا ہے۔ میں نے ایک شخص پر فائر کیا۔ میں نے اُسے قتل نہیں کیا۔ بس منشیات بیچی ہیں۔ میں خود کو بدلنا چاہتا ہوں۔‘‘ ’’میرے بیٹے، تمہارے آنے کا شکریہ۔ Jesus تم سے پیار کرتے ہیں۔ پندرہ Hail Marys ادا کر لو۔ اور بس یہ کرلو۔‘‘ اور بعض دفعہ ڈبے میں خیرات ڈال دیتے اور اپنا کام ہو جاتا۔ بس اتنا آسان۔ کیا آپ کو لگتا تھا کہ آپ کو معافی مل گئی ہے؟ ہاں بالکل۔ ہمیں یہی سکھایا گیا تھا۔ اسلام سے پہلے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کا ماحول، عادات، دلچسپیاں، آپ کا وہ زمانہ کیسا تھا؟ ایک اٹالین کی حیثیت سے، آپ اِسی سوچ کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں کہ دنیا مافیا ہی چلاتا ہے۔ اب میں ایک اٹالین وطن پرست بھی ہوں۔ تو ہم اپنی انگلیوں میں انگوٹھیاں پہنتے تھے۔ کہ ہم مافیا کا حصہ ہیں۔ اٹالینز مافیا کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہماری فیملی میں مافیا کے لوگ اور گینگسٹرز ہوتے ہیں۔ ہم منشیات کا کاروبار چلاتے ہیں اور سیاسی نظام بھی۔ سڑکوں پر منشیات بیچنے والے ایک 14 سالہ لڑکے کی حیثیت سے، میں نائٹ کلبز میں جاتا تھا، جہاں مالکان یا بالغ افراد کی انڈسٹریز کے لوگ، اِسٹِرپ جوائنٹس اور اسی طرح کی چیزیں ہوتیں۔ لہٰذا مجھے نائٹ کلب کے باہر انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا۔ باؤنسرز مجھے تحفظ دیتے ۔ اگر پولیس وہاں آتی، تو اُن کا لائسنس خطرے میں پڑ جاتا۔ میں تب صرف 16، 17 سال کا تھا۔ جبکہ انٹری کے لیے 18 سال سے زیادہ عمر ہونی چاہیے۔ مگر اُس سڑک کے سارے نائٹ کلبز میری عزت کرتے تھے، مجھے اجازت حاصل تھی۔ میں ہتھیار بھی تیار رکھتا تھا تاکہ دشمن پر گولی چلانے کے لئے ہمیشہ تیار رہ سکوں۔ مجھے جب بھی گولی ماری گئی، بہت قریب سے ماری گئی۔ دور سے کبھی نہیں۔ ہر بار قریب سے گولی ماری گئی۔ اور ایک گولی میرے سر میں یہاں پر پھنسی ہوئی تھی۔ پھر انہوں نے کٹ لگا کر گولی کو باہر نکالا۔ اور ایک بار مجھے یہاں گولی لگی تھی۔ جو یہاں سے نکلی ۔ مجھے یہاں گولی لگی جو دل کی طرف آنا چاہئے تھی، مگر وہ سینہ چیرتی ہوئی باہر نکل گئی۔ ایک گولی میری ریڑھ کی ہڈی کے نروس سسٹم کے قریب لگی۔ میں ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو سکتا تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ گولی اوپر سے چلی گئی میرے جھکنے سے۔ ایک گولی یہاں لگی تھی۔ ٹانگ میں بھی اور بھی کئی بار فائر ہوا۔ اور ایک بار بم سے اڑانے کی بھی کوشش ہوئی تھی۔ وہ میرے گھر کے پاس بم رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔ جب وہ بم نکال رہے تھے، میں کار سے صرف 20 میٹر دور تھا۔ اور میرے خیال سے صبح پانچ، ساڑھے پانچ بجے کا وقت تھا۔ اُنہوں نے کار سے بم نکالا۔ بم کو چھوتے ہی دھماکہ ہو گیا۔بوم!
تو میرے پاس پیسہ تھا۔ میرے پاس کاریں تھیں۔ بائیکس تھیں۔ میرا اپنا بزنس تھا۔ میرے پاس منشیات، نائٹ کلبز میں عزت اور لڑکیاں، یہ سب کچھ تھا۔ آپ جو بھی چمک دمک سوچ سکتے ہیں، سب تھا۔ یعنی میں اس لیول پر پہنچ چکا تھا۔ یہ سب بہت اچھا لگتا تھا، غلط مت سمجھیے گا۔ اچھا احساس ہوتا تھا۔ طاقت کا نشہ اور سب کچھ۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ جب میں، گاڑی پر واپس گھر لوٹ رہا ہوتا تھا، تو مجھے ایک خالی پن کا احساس ہوتا تھا ہمیشہ۔ مگر ایسا گھر واپسی پر ہی محسوس ہوتا۔ یا جب سونے کے لیے لیٹتا صبح جاگتا تھا۔ بیوی بچے بھی تھے، مگر پھر بھی ایک خالی پن کا احساس تھا۔ اور یہ احساس رہتا تھا۔ اُس وقت میں نے 1.3 ملین ڈالر کمائے پورے ایک سال میں اور یہ بہت پیسہ تھا۔ اور خرچ بھی کر دیتا تھا۔ Versace کے کپڑے، لیموزینز، کاریں، یہ، وہ سب کچھ۔ لیکن اس سب کے بعد صرف خالی پن تھا بہت خالی پن۔ آپ نے پہلی بار اسلام کے بارے میں کیسے سنا؟ اسلام کی طرف آپ کا سفر کیسے شروع ہوا؟ جب میرا Hells Angels کے ساتھ اختلاف ہو گیا تھا، تو میری دوستی پرتھ کے ایک عراقی سے ہو گئی تھی۔ شاید وہ لوگ اسکارپین کنگز کہلاتے تھے۔ وہ مجھے جانتے تھے اور ایڈیلیڈ آکر میرے ساتھ بزنس اور اتحاد کرنا چاہتے تھے۔ میں جانتا ہوں یہ عجیب لگے گا، جیسے میں کسی غار میں رہتا تھا مگر مجھے اسلام یا مسلمانوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ اسلام سے بالکل ناواقف تھا میں۔ سچ کہہ رہا ہوں میں۔ تو قصہ مختصر یہ کہ وہ عربی لوگ آئے، جب وہ آئے اور مجھ سے ملے، تو پتہ چلا ہمارے دشمن بھی ایک ہی تھے۔ ہم ایک نائٹ کلب گئے جو کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ پھر وہی لڑائیاں ہوتی تھیں گولیاں چلتیں تھیں ۔ پھر ہم واپس اُن کے گھر جاتے تھے، اور وہ لمبے لمبے کپڑے پہنتے تھے، پھر وہ وضو کرتے تھے، مجھے نہیں پتہ تھا، میں سمجھتا ہاتھ منہ دھو رہے ہیں، پھر وہ صلاۃ (نماز) شروع کر دیتے۔ میں سوچتا، پتہ نہیں کیا کر رہے ہیں؟ تو کوئی کہتا ’’یہ نماز پڑھ رہے ہیں۔‘‘ ’’نماز کیا مطلب؟‘‘ ’’یہ مسلمان ہیں۔‘‘ اوہ، اوکے۔ مجھے نہیں پتہ تھا وہ مسلمان ہیں۔ میں نے کہا، یہ کیا ہوتا ہے؟ تو وہ بتانے لگا اور میں پہلی رات اُن کے لاؤنج میں بیٹھا تھا، اور وہ حضرت علی، حمزہ، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ اور میری دلچسپی بہت بڑھ گئی تھی۔ وہ جنگجوؤں کی باتیں کر رہے تھے، حضرت علی جیسے مجاہد، اسلام، خدا سے اُن کی محبت، خدا سے اُن کی وفاداری کی باتیں کر رہے تھے۔ اُن کے لیے ایمان ہی سب کچھ تھا۔ اور یہ لوگ خود بھی جنگجو ہیں۔ اور پھر اُنہوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر شروع کیا۔ واہ کیا کہانی ہے۔ ہم تو یہی جانتے تھے کہ یسوع مسیح ہی ہمارے آخری پیغمبر ہیں۔ پیغمبر، مسیح، ہمارے آقا۔ بائبل میں یہی لکھا ہے۔ اور پھر اُنہوں نے یسوع مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں بات کرنا شروع کی۔ میں فوراً کھڑا ہوگیا۔ میں نے اُن سے کہا، ’’ایکسکیوز می۔ آپ لوگ یسوع مسیح کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ وہ میرے آقا ہیں۔ وہ میرے مسیحا ہیں۔‘‘ مجھے بات کرنی چاہیے۔ مطلب، بائبل کے متعلق میں جانتا ہوں۔ کہنے لگے، ’’ نہیںVince ۔ ہم اُن سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ ’’ہاں؟‘‘ ’’ہم اُن کی عزت کرتے ہیں۔ اُن کا کہا مانتے ہیں۔ حضرت مریم...
Virgin Mary، جن کی کہانی بائبل میں ہے...‘‘ وہ کہنے لگے کہ یہ قرآن میں بھی ہے۔ اور مجھے اِس بات نے حیران کر دیا کہ قرآن میں ماں حضرت مریم کے نام سے پورا ایک چیپٹر موجود ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، بائبل میں، حضرت مریم علیہ السلام کا ذکر چار یا پانچ مرتبہ آیا ہے۔ صرف ذکر آیا ہے۔ لیکن قرآن میں حضرت مریم، مومنوں کی ماں کے نام سے پورا چیپٹر موجود ہے، رائٹ؟ اور پھر یسوع مسیح کا پورا قصہ، جتنا بھی وہ بولتے گئے، میں سچ کہوں تو، خود کو ایک ایسا بچہ محسوس کر رہا تھا جو اپنی پسندیدہ مووی یا شو دیکھ رہا ہو۔ میں پوری طرح کھو گیا تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب میرے دل میں ایمان آیا، چاہے وہاں نشہ آور چیزیں تھیں یا نہیں، مگر اللہ نے مجھے ہدایت دے دی۔ اور میری دلچسپی بہت بڑھ گئی۔ ہم رومن کیتھولکس کا مسئلہ یہ ہے کہ بس پم اپنی روایت اور اپنا کلچر فالو کرتے ہیں۔ اور جب آپ بائبل پڑھتے ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ میں بائبل کا ماہر ہوں۔ مجھے بائبل کی خاص خاص باتیں معلوم ہیں۔ مثال کے طور پر، یسوع مسیح نے اپنی قوم سے کہا، ’’اے میری قوم، میری عبادت مت کرو۔ میں تمہارا خدا نہیں ہوں۔‘‘ واضح الفاظ میں۔ کتنی سادہ بات ہے۔ اوکے۔ مگر ہم اُن کی عبادت کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم بائبل پڑھتے تو ہیں مگر صرف پڑھنے کی حد تک۔ ہم سوچتے سمجھتے نہیں ہیں۔ یہ بس عقیدے، کلچر، روایت کا حصہ ہے۔ یسوع مسیح نے کہا، ’’سؤر کا گوشت مت کھاؤ۔‘‘ مگر کیتھولکس کھاتے ہیں۔ ہم سؤر کا گوشت نہیں کھاتے۔ یسوع مسیح نے کہا، ’’شراب سے بچو۔‘‘ یہ ہر بڑے گناہ کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ یسوع مسیح نے بائبل میں کہا، ’’کسی بھی مجسمے، بت، یا ہستی کی عبادت نہ کرو، اُس کے آگے نہ جھکو، نہ اُس سے دعا مانگو، چاہے وہ دیوتا آسمان پر ہوں، زمین پر، یا پانی میں۔ براہِ راست اپنے فادر، رب، خدا کی عبادت کرو، کیونکہ وہی مہربان خدا ہے۔‘‘ ہم صلیب، ماں مریم، اور بچے مسیح کی عبادت کرتے ہیں۔ ہم تو یہی کرتے ہیں ناں۔ بہرحال، قصہ مختصر یہ کہ وہ یسوع مسیح کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ وہ بائبل کے متعلق بات کر رہے تھے۔ لہٰذا اب ہر چیز سمجھ میں آنے لگی تھی۔ تو اب، دوسری رات، تیسری رات، پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قصے دل کو چھو رہے تھے۔ علی، وہ اُنہیں شان والے علی کہتے تھے، وہ واقعی شان والے تھے، ماشاء اللہ (جیسا اللہ نے چاہا)، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ مگر میں بالکل مسحور ہو گیا تھا، اِس کہانی میں میری دلچسپی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اور پھر بائبل میں تضاد واضح ہونے لگا۔ یعنی ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ شیطان، ابلیس (Satan)، یسوع مسیح کو 40 دن اور 40 راتوں کے لیے صحرا میں لے کے گیا تھا اور پھر اُس نے یسوع مسیح سے کہا، یہ میں بائبل کے مطالعے کے حوالے سے کہہ رہا ہوں، رائٹ؟ اُس نے کہا، ’’خدا پر اپنے ایمان کو چھوڑ دو۔‘‘ یہ یسوع مسیح سے کہا اُس نے۔ ’’خدا پر اپنے ایمان کو چھوڑ دو اور میرے ساتھ وفادار ہو جاؤ۔‘‘ تو کیا اِس سے وہ خدا بن جائے گا یا خدا کا پیغمبر؟ آپ سمجھ رہے ہیں میں کیا کہہ رہا ہوں؟ بائبل میں اتنی زیادہ چیزیں ہیں جو آپ کو بتاتی ہیں کہ یسوع مسیح خدا نہیں تھے۔ بلکہ خود یسوع مسیح نے کہا، ’’میرے فادر، اپنے فادر، میرے رب اور اپنے رب کی عبادت کرو۔‘‘ لہٰذا یہ تمام باتیں سامنے آنے لگیں۔ مجھے غصہ تھا کہ ہم سے جھوٹ کیوں بولا انہوں نے۔ تیسری صبح، میں باہر نکل رہا تھا۔ اُس نے دروازہ کھولا، میں نے دروازہ بند کر دیا۔ میں نے کہا، ’’میں نے سوچ لیا۔ میں مسلمان کیسے ہو سکتا ہوں؟‘‘ میں نے کہا، ’’خدا صرف ایک ہے، اللہ۔ اور یسوع مسیح ایک پیغمبر تھے، نبی تھے، جو مریم علیہ السلام کے بطن سے پیدا ہوئے۔‘‘ وہ دونوں مسلمان بہت زیادہ خوش ہوئے۔ ’’میرے ساتھ دہراؤ، Vince۔‘‘ ’’تیار ہو؟میں نے کہا، ’’ہاں۔‘‘ اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ۔‘‘ میں اِسے دہراؤں گا۔ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ دیکھیں کتنا لمبا جملہ ہے یہ، مگر میں نے پہلی ہی دفعہ بغیر غلطی کے پڑھ لیا۔ واقعی۔ بالکل ایک بہتے دریا کی طرح۔ میں نے نہیں کہا کہ ’’رکو، یہ کیا، وہ کیا ہے۔‘‘ ایسا نہیں ہوا، اور اُس نے بھی بغیر وقفے کے پڑھا تھا۔ اُس نے ایسے کہا۔ اشہد ان لا الہ الا اللہ...
وہ کہنے لگا یہ مکمل ہو گیا، مجھے گلے لگا کر کہا “I Love you”۔ ’’تکبیر (اللہ سب سے بڑا ہے)!‘‘ ’’اللہُ اَکبَر (اللہ سب سے بڑا ہے)!‘‘ میں نے کہا، ’’واقعی؟ کیا میں مسلمان ہو گیا ہوں؟‘‘ اور میں نے کہا، ’’اللہُ اَکبَر (اللہ سب سے بڑا ہے)،‘‘ اور مجھے صرف یہی الفاظ آتے تھے السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو) اور اللہُ اَکبَر (اللہ سب سے بڑا ہے)۔ جب میں نے سر زمین پر رکھا تو میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، میں نے خود میں ایک سکون محسوس کیا۔ مجھے اللہ کی موجودگی واضح طور پر محسوس ہوئی۔ میں نہیں چاہتا کہ میری کوئی بات شِرک جیسی لگے، پلیز مجھے معاف کیجیے گا، مگر مجھے محسوس ہوا کہ وہ میری نگہبانی کر رہا ہے۔ اور تب مجھے سمجھ آیا کہ ہاں اللہ موجود ہے۔ کیا مسلمان ہونے کے بعد آپ کی زندگی ایک دم بدل گئی؟ آپ کی زندگی میں اصل موڑ کونسا تھا؟ کیا آپ نے کچھ محسوس کیا؟ جب آپ یہ ویڈیو دیکھ رہیں ہیں تو، آپ کو کوئی اشتہار نظر نہیں آتا۔ کیونکہ Towards Eternity ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، ہم صرف آپ کی مدد سے یہ ویڈیو بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ اِس نیکی میں حصہ لینا چاہتے ہیں، تو ہمیں عطیہ کریں اور اِس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ کیا مسلمان ہونے کے بعد آپ کی زندگی ایک دم بدل گئی؟ آپ کی زندگی میں اصل موڑ کونسا تھا؟ مجھے کئی بار گولی لگ چکی ہے، مختلف مواقعوں پر پانچ مرتبہ۔ آخری واقعے میں میرا سوتیلا بیٹا مر گیا۔ اُس کے دل میں گولی لگی تھی۔ ہمیں 20 ملین ڈالر کا منشیات کا ایک سودا کرنا تھا میں نے سوچا کہ اگر یہ کامیاب ہو گیا تو میں یہ زندگی چھوڑ دوں گا۔ 20 ملین ڈالر ایک بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔ اُس وقت میرا سپلائر کوئنز لینڈ سے تھا۔ ہم ساؤتھ آسٹریلیا میں تھے۔ وہ اِس کی خریداری میں دلچسپی رکھتا تھا۔ مگر میرا خیال ہے اصل میں اُسے اِس کی خریداری میں دلچسپی نہیں تھی۔ میرے خیال میں اُسے صرف مجھے قتل کرنے میں دلچسپی تھی۔ اُس نے مجھے یقین دلایا کہ ہم اِس سودے کے متعلق بات کر سکتے ہیں۔ لہٰذا میں اُسے ملنے گیا، اُسے پِک کیا، اور ہم ڈرائیو پر نکل گئے۔ خیر، جیسے ہی ہم نے ڈرائیونگ شروع کی، وہ مجھے کچھ مشکوک لگا، مگر میں نے کچھ خاص توجہ نہیں دی۔ تو جب ہم نے اُسے ڈراپ کیا اور وہ گاڑی سے اترا، تو وہ مجھے قتل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جب میں اُسے ڈراپ کرنے گیا، تو وہ کہنے لگا، ’’مجھے یہاں پارک ایریا میں ڈراپ کر دو۔‘‘ میں نے سوچا، اوکے، یہ نارمل بات ہے۔ میرا بیٹا گاڑی سے اترا، اور جب اس نے خدا حافظ کہا، تو اس نے گن اُس کے سینے پر رکھ کر فائر کردیا ، بوم۔ میرے بیٹےشوٹ کر دیا۔ اپنے بیٹے کو کار کے اندر کھینچا۔ اُس نے کہا، ’’بابا ۔‘‘ اور پھر میں نے دیکھا اُس نے گن میری طرف کر دی اور پھر میں نے یہ کیا کہ اپنا پاؤں ایکسیلیٹر پر جمایا۔ بُوم، بُوم، بُوم، بُوم۔ بُوم، بُوم، بُوم، بُوم۔ مجھے گولی لگی۔ مگر مجھے بالکل بھی محسوس نہیں ہوا۔ مجھے تو صرف اپنا بیٹا یاد تھا۔ پھر کورونر نے بتایا تھا کہ وہ موقع پر ہی مر گیا تھا۔ اُس کا چہرہ بجھ گیا تھا۔ اور جب میں گاڑی چلا رہا تھا...اور اور میں اُس کا منہ پکڑ کر اُسے بچانے کی کوشش کر رہا تھا، اسی دوران میں نے ایمبولینس کو کال کی کیونکہ میں وقت پر اسپتال نہیں پہنچ سکتا تھا۔ تو میں نے ان سے کہا، ’’ کہ دیکھیں، مجھے آدھے راستے میں ملیں۔‘‘ اور میں نے وہی کیا۔ اور میں مسلسل اُسے بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ مر چکا ہے، مگر دل ماننے کو تیار نہ تھا۔ جب میں نے ایمبولینس سے بات کی، تو میرے منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ تو میں نے فون رکھا معذرت کے ساتھ ۔ میں خون تھوکتا رہا، جو میرے پورے ڈیش بورڈ پر پھیل گیا۔ خون تھوکنے سے مجھے سمجھ آیا کہ مجھے بھی گولی لگ چکی ہے، اور یہ خون میرے پھیپھڑوں سے آ رہا ہے۔ تو اب میں نے خود کو اِس حالت میں دیکھ کر کہا، ’’یا اللہ، مجھے معاف کر دے۔‘‘ اور میں نے اللہ سے التجا کی، میرے سوتیلے بیٹے کے لیے لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) قبول کرلے۔ یہ اِس کلمے کے ساتھ فوت ہو۔ پلیز اِسے یہ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ عطا کر دے۔ کیونکہ یہ مر چکا ہے۔ اور میں نے اللہ سے کہا، ’’میرے ہر عمل کو بھی معاف کر دے۔ پلیز میرا لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ بھی قبول کرلے۔‘‘ اور ڈرائیونگ کرتا رہا، پھر ایمبولینس آ گئی۔ میں کار سے نکلا تاکہ اپنے بیٹے کے پاس جا سکوں۔ پولیس نے مجھے روک دیا۔ ’’پلیز،Vince۔ ‘‘ اور میں گر گیا۔ میری پسلیوں میں درد شروع ہو گیا تھا۔ اب مجھے محسوس ہوا کہ مجھے پسلیوں میں گولی لگی ہے۔ پھر اُنہوں نے مجھے ایمبولینس میں ڈالا اور مجھے اسپتال لے گئے۔ کورونر نے بتایا کہ میرا بیٹا مر چکا ہے کیونکہ گولی سیدھی اُس کے دل کے آر پار ہوئی تھی۔ اُس نے کوشش کی، وہ اپنے باپ کی حفاظت کرتے ہوئے مر گیا۔ وہ مسلمان تھا۔ اور اُس وقت میرا جسم گولیوں سے چھلنی تھا۔ میں نے اسپتال میں اپنی پوری کوشش کی۔ میں زنجیروں سے بندھا ہوا، عدالت سے فون پر بات کر رہا تھا، مقدمے، سپریم کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج سے کہ وہ مجھے ضمانت پر رہا کریں تاکہ میں اپنے بیٹے کے جنازے میں جاؤں، اُسے غسل دے سکوں۔ غسل دوں اور اُس کی آخری رسومات میں شامل ہوں۔ تو میری زندگی کا سب سے مشکل لمحہ یہ تھا کہ میں اسپتال کے بستر پر، اسپتال کے قیدی بستر پر لیٹا ٹی وی پر اُس کا جنازہ دیکھ رہا تھا، وہ میرے لیے سب سے مشکل لمحہ تھا۔ مگر واللہِ (اللہ کی قسم) مجھے یہ صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ یہ میری زندگی کا سب سے تکلیف دہ احساس تھا۔ میں نے اُسے دفن ہوتے اور دیگر سارے مناظر دیکھے۔ جج نے مجھے باہر نہیں آنے دیا۔ جیل میں میری زندگی بدل گئی۔ اسپتال کے جیل سے، مجھے مرکزی جیل لے جایا گیا، ایک ہائی سیکیورٹی، Yatala جیل میں۔ اُنہوں نے مجھے جیل کے سزا والے سیکشن میں ڈال دیا۔ یہ ایک الگ تھلگ جگہ ہوتی ہے۔ مگر اِس صورتحال کو ابھی تین مہینے ہوئے تھے، مہینے یا تین مہینے ہوئے تھے، ڈھائی مہینے، میں قرآن پڑھ رہا تھا اور میں سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 145 پڑھ رہا تھا۔ اور یہ کسی بھی شخص کے اختیار میں نہیں ہے کہ اُسے اللہ کے حکم کے بغیر موت آ جائے، جس کا ایک معین وقت پر آنا لکھا ہوا ہے۔ اور جو شخص دنیا کا بدلہ چاہے گا ہم اُسے اس کا حصہ دے دیں گے۔ اور جو آخرت کا ثواب چاہے گا، ہم اُسے اس کا حصہ عطا کر دیں گے۔‘‘ مگر دنیا کی بہترین زندگی اور آخرت کی بہترین زندگی اُسی کی عطا ہے۔ جب میں اُس جگہ پر پہنچا کہ ایک معین وقت پر لکھا ہوا ہے، تو جو بے چینی، احساسِ جرم، اپنے بیٹے کے ڈپریشن کی جو گِرہ میرے سینے میں تھی، میں سچ بتا رہا ہوں...
کھل گئی ۔ میری جان میں جان آئی۔ میرے کاندھوں کا بوجھ لمحوں میں اتر گیا۔ میں یوں پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ زندگی میں کبھی نہیں رویا تھا۔ غم کی وجہ سے نہیں۔ میں تو بہت خوش تھا۔ بہت خوش تھا۔ غم مکمل ختم تو نہیں ہوا، مگر اس نے مجھے ہلکا پھلکا کر دیا۔ اس نے مجھے ایسی اندھیری کیفیت سے نکال دیا کہ میں اس کی وضاحت یوں کر سکتا ہوں کہ جب آپ ایک پہاڑ، ایک ٹیلے پر چڑھ رہے ہوں تو یہ بہت مشکل ہوتا ہے، ہاں؟ میرا پہاڑ تو بالکل سیدھا تھا، موت کی وادی کی طرح۔ اور میں ناخنوں اور دانتوں سے رینگ رینگ کر اوپر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر ایک رسّی تھی جسے پکڑ کر میں چڑھ سکتا تھا۔ اور جب بھی میں نیچے دیکھتا، تو یہ بھیڑیے اُچک اُچک کر مجھے اپنے جبڑوں سے چبانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ بھیڑیے میرے جذبات، میری ذہنی صحت، میری مجموعی صحت کی کیفیت تھی۔ اور وہ رسّی قرآن تھا۔ میں نے اُس رسّی کو تھامنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور مجھے خدا کا شکر ادا کرنے میں 45 منٹ، تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔ میں اُس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ میں اُس کا بہت زیادہ شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ اِس میں مجھے 45 منٹ لگے۔ آنسو رُک ہی نہیں رہے تھے، مطلب جب آپ کسی سے محبت کرتے ہوں...
اور آپ اُس کی مدد پر بہت زیادہ مطمئن اور شکر گزار ہوں، تو کیا کیفیت ہوگی۔ یہ تو دنیا کے لوگوں کی بات ہے کہ ہم اُن کے لیے بھی رو پڑتے ہیں۔ ’’آپ کا بہت بہت شکریہ، آپ نے مجھے مشکل سے نکالا۔‘‘ پھر یہ تو خالق ہے۔ میں نے اُس کی موجودگی محسوس کی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب اللہ کے ساتھ میرا تعلق انتہائی مضبوط ہو گیا، یہ تعلق مکمل ہو گیا۔ میں نے ہاتھ اٹھائے اللہ کا شکریہ ادا کیا اور اللہ سے کہا، ’’یا رب، یا اللہ (اے میرے رب، اے اللہ) میری ساری غلطیوں کو معاف کر دے۔‘‘ میں نے اُس سے التجا کی۔ ’’‘‘ اب میں آپ کے سامنے ہوں۔ میں 15 سال سے مسلمان ہوں۔ میں پرفیکٹ نہیں ہوں۔ میں کوئی اسکالر، شیخ نہیں ہوں، نہ ہی اِس کا دعویٰ کرتا ہوں۔ میں اللہ سے محبت کرتا ہوں۔ میں رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ میں دین (مذہب) سے محبت کرتا ہوں، صحابہ سے محبت کرتا ہوں۔ عمر ابن خطّاب (رضی اللہ عنہ) سے محبت کرتا ہوں۔ ہمیں اِنہی کو فالو کرنا چاہیے۔ یہ شرم کی بات ہے کہ ہمارے نوجوان اِس دنیا میں پوری طرح کھو چکے ہیں۔ تو یہ میرا سفر تھا۔ یہی زندگی کا خاص موڑ تھا۔ آپ کی کچھ پوسٹس میں، ہم نے دیکھا کہ آپ کی والدہ بھی اسلام قبول کر چکی ہیں، تو آپ کی داستان میں شروع سے آخر تک اُن کا کیا کردار رہا؟ آہ، آپ خود پر قابو نہیں رکھ سکتے یہ میرے لیے ایک حسّاس موضوع ہے، مگر اِسے بیان کرنے کی پوری کوشش کروں گا اِن شاء اللہ (اللہ نے چاہا تو)۔ میں یہ واقعہ جتنی جلدی ممکن ہو بیان کر دوں گا۔ مجھ میں اُن کی تصویریں دیکھنے کی ہمت بھی نہیں ہے۔ مجھے اُن کی بہت یاد آتی ہے، اللہ اُنہیں جنت الفردوس (سب سے اعلیٰ درجے کی جنت) عطا فرمائے۔ آمین۔ میری والدہ اور میں آپس میں بہترین دوست تھے۔ مجھے ملک بدر کیے جانے سے پہلے، جب مجھے ملک بدر کیا جا رہا تھا، تو اُنہیں...
مجھے اِس صورتحال میں 28 دن ہوئے تھے۔ مگر جب مجھے ملک بدر کیا گیا، تو میں اسپتال گیا، جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ اُنہیں اسٹیج فور کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہے، لہٰذا دوبارہ داغ بڑے ہونے لگے اور آخرکار یہ پھیلنے لگا۔ تو میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ ’’میری والدہ کو کینسر کے بارے میں کچھ نہ بتائیں۔‘‘ اور پھر وہ ملائیشیا آ گئیں۔ میں نے اکتوبر میں اُنہیں ملائیشیا بلا لیا۔ تو جب وہ وہاں آئیں، تو میں نے سوچا واہ، مجھے ماں مل گئی، میں جذباتی تھا۔ مجھے میری ماں مل گئی۔ میں نے بائبل لی۔ ’’ماں بائبل میں لکھا ہے کہ ’یسوع نے کہا میری عبادت مت کرو۔‘ اُنہوں نے خود کہا کہ، ’میری عبادت مت کرو۔ میں تمہارا رب نہیں ہوں۔‘ ‘‘ میں نے کہا، ’’کیا مسلمان اُن کی عبادت کرتے ہیں؟‘‘ اُنہوں نے کہا، ’’نہیں‘‘۔ ’’تو پھر آپ کیوں کرتی ہیں؟‘‘ اور میں روزانہ یہی بات کہتا۔ میں ان سے روزانہ یہ بات کہتا تھا کہ ’’یسوع مسیح کہتے ہیں کہ، ’شراب مت پیو۔ سؤر کا گوشت مت کھاؤ۔‘ ‘‘ ’’امی، یسوع مسیح کیسے عبادت کرتے تھے؟‘‘ ساری باتیں بائبل سے۔ قرآن سے کچھ نہیں کہتا تھا، روزانہ بلا ناغہ۔ اور روزانہ یہ کہتا کہ ’’امی، I love you۔‘‘ ’’جزاک اللہ خیراً (اللہ آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے۔‘‘ اور پھر آخرکار، میں یہ سوال پوچھتا ہوں، ’’امی، کیا آپ کو لگتا ہے کہ یسوع مسیح خدا تھے؟‘‘ ‘‘ تو انہوں نے کہا ’’نہیں۔ بیٹا، یسوع مسیح خدا نہیں تھے۔‘‘ بُوم۔ میرا دل۔ معاف کیجئے گا میں جذباتی ہو رہا ہوں۔ اور پھر اُنہوں نے کلمہ پڑھ لیا۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے۔اُنہوں نے ’’اشہد ان لا الہ الا اللہ شہد ان محمد رسول اللہ‘‘ کسی غلطی کے بغیر پڑھا۔ مجھے یقین نہ آیا۔ میں اُن کی ریکارڈنگ کر رہا تھا۔ اور میرے آنسو بہہ رہے تھے۔ دیکھیں کہ اللہ اُن سے کتنی محبت کرتا ہے۔ اِس حد تک کہ وہ مسلمان ہو گئیں اور اللہ نے اُنہیں مکمل راحت کے ساتھ موت دی۔ وہ تہجد (آدھی رات کی نماز) کے وقت، فجر (صبح کی نماز) سے ذرا پہلے جمعہ کے دن، رمضان میں رمضان کے آخری عشرے میں نیند میں ہی سکون سے فوت ہوگئیں۔ اُن کا جنازہ جمعہ کو ایک برانڈ نیو مسجد میں پڑھا گیا اور ان کی تدفین کی گئی...
اگر بھائی Vince اسلام قبول نہ کرتے، تو اِس وقت کیا کر رہے ہوتے؟ اگر آپ ایماندارانہ جواب چاہتے ہیں تو میں مر کر زمین کے نیچے پڑا ہوتا، قتل کر دیا جاتا، 30 سال سے جیل میں ہوتا، یا کسی کو قتل کرنے کی سزا میں عمر قید کاٹ رہا ہوتا۔ مگر اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے)، واللہِ (اللہ کی قسم) اللہ مجھے اندھیرے سے روشنی میں لے آیا، اِس نے مجھے عقل دی، علم دیا، حکمت (دانائی) دی۔ آہ، کیا زندگی ہے۔ ایک مسلمان کی بھی کیا خوبصورت زندگی ہے۔ واللہِ (اللہ کی قسم)۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کونسی بات آپ کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے؟ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہر ادا ہر لحاظ سے اعلیٰ ترین اور خوبصورت ترین ہر پہلو سے شاندار اور حیرت انگیز ہے۔ اِس زمین پر کوئی ہستی، کوئی تخلیق اتنی مکمل، اتنی خوبصورت، اتنی مہربان، اتنی محبت کرنے والی کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک کامل انسان اور ایک مثالی کردار ہیں۔ کیا ہم اُن جیسے بن سکتے ہیں؟ ناممکن۔ مگر ایک چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، میں اُن کی سیرت کی کتاب پڑھ رہا تھا، چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ۔ میں اُسے پڑھتا گیا اور سبحان اللہ۔ اُن کی زندگی کی ہر چیز، مطلب ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اپنے گہرے اثرات کے ساتھ ہمارے دل کو نہ چھو جائے۔ مگر ایک چیز جسے پڑھ کر میں بہت رویا وہ اُن کا بسترِ مرگ پر ہونا تھا۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ آپ دنیا سے جانے والے ہیں؟ اُس احساس کا تصور کریں کہ آپ پر بار بار بے ہوشی طاری ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے اپنے صحابہ سے فرمایا، ’’مجھے میرے امتیوں کے پاس لے جاؤ میں اُن سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ تو اُنہوں نے کہا، ’’نہیں نہیں، یا رسول اللہ (ﷺ) آپ نہیں جا سکتے۔ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ،‘‘ مطلب اُنہوں نے بڑی حد تک منع کیا۔ مگر پیغمبر ﷺ نے لے جانے پر اصرار کیا۔ اور میں وہ لمحہ یاد کرتا ہوں جب میں یہ پڑھ رہا تھا، بتایا گیا تھا کہ وہ کس طرح پیغمبر ﷺ کو بازوؤں سے تھام کر لے جا رہے تھے، اور اُن کے پاؤں زمین پر گِھسٹ رہے تھے۔ آپ ﷺ حرکت بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ اپنی امت (کمیونٹی) کے ساتھ ذرا اُن کی محبت تو دیکھیں۔ اگر مجھے متلی بھی محسوس ہو تو میں اپنے بستر سے نہیں نکل سکتا۔ آپ اس کیفیت کو سمجھیں اور یہ انسان، یہ خوبصورت پیغمبر ﷺ، یہ حسین تخلیق، اتنی زیادہ ناساز طبیعت کے باوجود آخری مرتبہ اپنی امت سے بات کرنا چاہتے تھے۔ تو جب میں نے اُن کے قدم مبارک زمین پر گھسٹنے کا پڑھا ذرا تصور کریں، اِس طرح اُنہیں لوگوں کے سامنے لایا گیا، تو میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ صحابہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے ہر وہ چیز قربان کر دی جو آپ کی سوچ میں آ سکتی ہے، اُنہوں نے اللہ کے لیے اور اِس امت (کمیونٹی) کے لیے ایسی ایسی قربانیاں دیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ تو ہمیں اُن کا شکر گزار ہونے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ تو یہ اُن کی زندگی کا حصہ ہے، اگرچہ اُن کی ہر چیز نے متاثر کیا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم وہ عظیم شخصیت تھے جو السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو) کہنے میں پہل کرتے تھے۔ وہ مسکراتے تو ہر سمت روشنی پھیل جاتی۔ مگر جب وہ اللہ کے لیے میدانِ جہاد میں ہوتے، تو ایک مکمل بہادر شیر، جنگجو ہوتے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، اُن کے ساتھ حمزہ، اسلام کے شیر۔ علی رضی اللہ عنہ، اُن کے ساتھ حسین، حسن، ابو عبیدہ، عمر ابنِ خطّاب، عثمان، ابو بکر۔ یہی تو وہ لوگ ہیں۔ کم آن ہم کیوں ہالی ووڈ اور میوزک انڈسٹریز کو فالو کر رہے ہیں؟ہمیں ان کو فالو کرنا چاہیے۔ کیا وہاں ایسے بہت سے نوجوان ہیں جو اُسی لائف اسٹائل کو اپنائے ہوئے ہیں جو کبھی آپ کا ہوا کرتا تھا؟ آپ اُن لوگوں کو کیا کہنا چاہیں گے؟ وہ لوگ جو اِس زندگی کی خوشیاں تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟ قوسِ قزح کے اختتام پر کوئی سونے کا برتن نہیں ہے۔ سرنگ کے دوسرے سِرے پر کوئی روشنی نہیں ہے۔ یہ سراب ہے۔ میں آپ کو قرآن سے ایک حیرت انگیز بات بتانے والا ہوں۔ یہ صرف کھیل تماشہ ہے۔ اِس لائف اسٹائل میں بالکل بھی وفاداری نہیں ہے۔ اِس لائف اسٹائل میں بالکل بھی وفاداری نہیں ۔ وفاداری اُسے سمجھا جاتا ہے جو سب سے زیادہ دولت پیدا کرے، اور اگر آپ پیسہ کمانے میں اچھے نہ ہوں تو پھر آپ ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔ لیکن میں قرآن سے یہ بات بتانا چاہتا ہوں۔ اِس سے ہر ایک پر چیزیں واضح ہو جائیں گی۔ اگر آپ کے پاس دانائی ہے، یا آپ میں سمجھداری کا احساس ہے، تھوڑی سی بلند اخلاقی ہے اور آپ کھلے ذہن کی سوچ رکھتے ہیں، تو یہ آیت سارے مجرموں کے لیے ہے۔ یہ آیت سارے ارب پتیوں کے لیے ہے۔ یہ آیت سارے بادشاہوں، حکمرانوں، مظلوموں، غرض اُن سب لوگوں کے لیے ہے جو پیسہ بنانا چاہتے ہیں، چاہے یہ اُن کا لائف اسٹائل ہو یا نہ ہو، مگر وہ ایسی زندگی اپنانا چاہتے ہیں، میں اُنہیں یہ آیت سناؤں گا۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے، ’’اگر اُن کے پاس وہ سب کچھ ہو جو دنیا میں ہے اور اتنا ہی اور بھی، تو قیامت کے دن بدترین عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب فدیہ کے طور پر دینے لگیں گے،‘‘ تصور کریں، اللہ یہ فرما رہا ہے کہ قیامت کے دن اگر تم میرے پاس اپنی دولت لے کر آجاؤ تو اِسے فدیے کے طور پر دے دو گے، ’’پلیز اللہ، مجھے جنت دے دو یا واپس دنیا میں اچھے عمل کے لیے بھیج دو۔‘‘ اللہ فرماتا ہے، ’’یہ دولت کام نہیں آئے گی۔ یہ دن فیصلے کا دن ہے۔‘‘ تمہارا معاملہ ختم ہو گیا۔ تو ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ آپ کونسی دولت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ آپ کتنے ملینز بلینز، اور فراری چاہتے ہیں؟ اِس وقت آپ کونسے پروجیکٹس کر رہے ہیں؟ میری این جی او کا نام صحابہ ہے، یعنی پیغمبر ﷺ کے ساتھی، 99 جواللہ تعالیٰ کے 99 نام اور صفات ہیں۔ اور ہماری ٹی شرٹس کے پیچھے ہم نے ایک حدیث (نبی کا قول) پرنٹ کروا رکھی ہے جو میں نے آپ کو پہلے بتائی تھی تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو دوسروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائیں۔ اِس لیے ہم کوشش کرتے ہیں کہ وہ کِک باکسنگ، Muay Thai باکسنگ کریں، اور اپنا ذاتی دفاع بھی سیکھیں۔ ہم فلاحی کام اور ایسی ہی دیگر سرگرمیاں بھی کرتے ہیں۔ ہم ہر لحاظ سے مسلمان کمیونٹی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ اُن کے لیے، ہمارے لیے دین (مذہب) ہی سب کچھ ہے، ہم فلسطین کے سلسلے میں بھی مختلف کام کرتے ہیں، ہم وہاں غذا کے ٹرک بھجواتے ہیں۔ یہ سب کام ہم کرتے ہیں۔ آپ اُن لوگوں کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے جو اسپیگٹی پاستا پر کیچ اپ ڈال دیتے ہیں؟ میں ان لوگوں کے ساتھ یہ کرنا چاہوں گا جو لوگ پاستا اسپیگٹی کی پلیٹ پر کیچ اپ ڈالیں، اُنہیں عمر قید میں ڈال دو اور تالے کی چابی پھینک دو۔ -گرفتار کرلیں۔ -یا آپ اُن کا چہرہ کیچ اپ میں ڈبو دیں گے؟ نہیں، نہیں، نہیں، ساری زندگی کے لیے جیل میں ڈال دیں۔ کیا یہ جرم ہے؟ ہاں جرم ہے۔ اٹلی میں پیزے پر اننّاس مت ڈالیں، اور اٹلی میں اپنے ساسز پر کیچ اپ نہ ڈالیں۔ ٹھیک ہے؟ میرے خیال میں ایسے لوگوں کو کسی ادارے میں قید کر دینا چاہیے۔ صرف جیل میں ہی نہیں، بلکہ کسی ذہنی مرض کے ادارے میں، تاکہ پتہ چلایا جائے کہ ان کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔ آپ آخر اسپگیٹی کی پلیٹ پر ٹماٹو ساس کیسے ڈال سکتے ہیں جب کہ شیف نے لہسن باریک کاٹا ہو، فرائنگ پین میں زیتون کا تیل ڈالا ہو، اور اسے ٹماٹو پیسٹ کے ساتھ ہلکی کارملائزیشن تک تڑکا لگایا ہو، تاکہ اس کی تیزابیت نکل جائے تاکہ آپ کو سینے کی جلن نہ ہو۔ پھر اس میں تُلسی ڈالی جائے، پھر ساس، پھر نمک، اور دوسرے اجزاء شامل کیے جائیں، اور 20 منٹ کی اِن رسومات کے بعد، وہ اِسے مزید 30 منٹ پکاتا ہے تاکہ ساس کا اصل ذائقہ نکل آئے، اور ذائقہ ٹھیک کرنے کے لیے وہ اِسے بار بار چکھتا رہتا ہے، اتنی محنت کرتا ہے۔ اور آپ چینی ملا ہوا ٹماٹو پیسٹ اس میں ڈال دیتے ہیں قید، سیدھی جیل۔ بس بات ختم۔ اور جو پیزے پر اننّاس ڈالے، اُسے کسی کھیت میں پتھر توڑنے پر لگایا جائے کم از کم 15 سال کے لیے۔ پیزے پر پھل۔ یا اللہ (اے اللہ)۔ کیا آپ اٹالین میں کچھ کہنا چاہیں گے، صرف اِس لیے کیونکہ آپ ایک اٹالین ورثہ رکھتے ہیں؟ میری اٹالین اتنی اچھی تو نہیں ہے، لیکن میں اپنی پوری کوشش کرتا ہوں۔ سب سے پہلے، میں ہیلو کہنا چاہوں گا میری فیملی کو، آپ سب کو پیار بھرے بوسے۔ اور اٹلی میں موجود اٹالین لوگوں کے لیے، جو بڑے ذہین لوگ ہیں، رومن کیتھولیسرازم کو بھول جائیں، اِس عیسائیت کو بھول جائیں۔ پورے احترام کے ساتھ، قرآن اٹھائیں، اِسے پڑھیں، اور مسلمانوں کی زندگیوں میں شامل ہو جائیں۔ اور آپ دیکھیں گے کہ آپ کی زندگی ہمیشہ امن میں رہے گی۔ میرے خاندان کے لوگ، اٹلی میں میرے تمام دوست، سب مسلمان بن جائیں۔ -تکبیر (اللہ سب سے بڑا ہے)!
-اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے)
میرے بیٹے کو شوٹ کر دیا۔ اپنے بیٹے کو کار کے اندر کھینچا۔ اُس نے کہا، ’’بابا،‘‘ اور پھر میں نے دیکھا اُس نے گن میری طرف کر دی اور پھر میں نے یہ کیا کہ اپنا پاؤں ایکسیلیٹر پر جمایا۔ بُوم، بُوم، بُوم، بُوم۔۔ مجھے گولی لگی۔ اسپتال کی جیل سے، مجھے مرکزی جیل لے جایا گیا، ایک ہائی سیکیورٹی، Yatala جیل میں۔ اُنہوں نے مجھے جیل کے سزا والے سیکشن میں ڈال دیا۔ میں قرآن پڑھ رہا تھا اور سورۃ آل عمران میں میں نے پڑھا ہر روح کو اللہ کی مرضی سے موت آئے گی، جس کا ایک وقت معین ہے۔ جب میں اُس جگہ پر پہنچا کہ ’’ہر چیز لکھی ہوئی ہے،‘‘ تو میرے کاندھوں کا بوجھ لمحوں میں اتر گیا۔ میں بہت خوش تھا۔ السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو)، برادر Vince Focarelli۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا بے حد شکریہ۔ ہمیں آپ کو اپنے ساتھ دیکھ کر خوشی ہے۔ میرا پہلا سوال ہے، Vince Focarelli کون ہیں؟ اپنی زندگی کے بارے میں مختصراً بتائیں؟ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ میں بہت ممنون اور شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اپنے پوڈکاسٹ میں بلایا۔ میں اٹلی کےمیں پیدا ہوا، میرا مطلب ہے اٹلی کے شہر Salerno میں ۔ جب میں چھ سال کا تھا، تو میں نے اپنی زندگی کی پہلی ہجرت اٹلی سے آسٹریلیا کی، جنوبی آسٹریلیا، ایڈیلیڈ ۔ میں 14 سال کی عمر سے ہی ایک گینگسٹر تھا۔ میرا اٹھنا بیٹھنا بڑے بڑے لوگوں کے ساتھ تھا۔ جیسے کہ نائٹ کلبز کے مالکان وغیرہ ہیں۔ میں گینگ ورلڈ میں شامل تھا اور وہ بھی اِس حد تک زیادہ کہ ایک ریاست کا باس بن گیا تھا، آسٹریلیا کے سب سے بدنام جرائم پیشہ بائیکر گروہ کا۔ میں کئی برسوں تک جرائم میں ملوث رہا، یہاں تک کہ ایک دن میرا سوتیلا بیٹا میرے ہاتھوں میں دم توڑ گیا۔ اس واقعے کے بعد میں نے اسلام قبول کر لیا۔ اچھا اسلام سے پہلے عقیدے کے لحاظ سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کا کس پر ایمان تھا؟ میں ایک رومن کیتھولک تھا۔ میرا خدا پر ہمیشہ سے ایمان تھا۔ میں صلیب بناتا اور عبادت کرتا تھا۔ ہم صلیبیں پہنا کرتے تھے۔ شاید آپ یقین نہ کریں مگر مافیا بھی بہت مذہبی تھی۔ وہ گناہوں کے اقرار کے لیے پادری کے پاس بھی جاتے تھے۔ کچھ کو احساسِ جرم بھی تھا۔ مگر ہم دونوں دنیاؤں کے فائدے پا رہے تھے۔ ہم جا کر اپنے گناہوں کا اقرار کرتے۔ وہ ہمیں Hail Marys اور ایسی ہی چیزیں کرنے کو کہتے۔ اور جیسے ہی ہم چرچ سے باہر نکلتے، تو پھر اپنے پیجر پر شروع ہو جاتے۔ ’’میں یہاں ملوں گا۔‘‘ ’’وہاں منشیات بیچوں گا۔‘‘ لہٰذا، ہمارے لیے عیسائی عقیدے اور، کیتھولک عقیدے میں، یہی روایت اور کلچر تھا۔ اِسی طرح کرنا گویا ہمارے DNA کا حصہ تھا۔ مگر لوگ یہ بات نہیں سمجھتے۔ ہمیں یہی سکھایا گیا تھا کہ اگر ہم پادری کے پاس چلے جائیں، یونئو دروازہ چھوٹی سی کھڑکی کھول کر آپ کہیں کہ، ’’فادر، میں نے گناہ کیا ہے۔ میں نے ایک شخص پر فائر کیا۔ میں نے اُسے قتل نہیں کیا۔ بس منشیات بیچی ہیں۔ میں خود کو بدلنا چاہتا ہوں۔‘‘ ’’میرے بیٹے، تمہارے آنے کا شکریہ۔ Jesus تم سے پیار کرتے ہیں۔ پندرہ Hail Marys ادا کر لو۔ اور بس یہ کرلو۔‘‘ اور بعض دفعہ ڈبے میں خیرات ڈال دیتے اور اپنا کام ہو جاتا۔ بس اتنا آسان۔ کیا آپ کو لگتا تھا کہ آپ کو معافی مل گئی ہے؟ ہاں بالکل۔ ہمیں یہی سکھایا گیا تھا۔ اسلام سے پہلے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کا ماحول، عادات، دلچسپیاں، آپ کا وہ زمانہ کیسا تھا؟ ایک اٹالین کی حیثیت سے، آپ اِسی سوچ کے ساتھ بڑے ہوتے ہیں کہ دنیا مافیا ہی چلاتا ہے۔ اب میں ایک اٹالین وطن پرست بھی ہوں۔ تو ہم اپنی انگلیوں میں انگوٹھیاں پہنتے تھے۔ کہ ہم مافیا کا حصہ ہیں۔ اٹالینز مافیا کا حصہ ہوتے ہیں۔ ہماری فیملی میں مافیا کے لوگ اور گینگسٹرز ہوتے ہیں۔ ہم منشیات کا کاروبار چلاتے ہیں اور سیاسی نظام بھی۔ سڑکوں پر منشیات بیچنے والے ایک 14 سالہ لڑکے کی حیثیت سے، میں نائٹ کلبز میں جاتا تھا، جہاں مالکان یا بالغ افراد کی انڈسٹریز کے لوگ، اِسٹِرپ جوائنٹس اور اسی طرح کی چیزیں ہوتیں۔ لہٰذا مجھے نائٹ کلب کے باہر انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا۔ باؤنسرز مجھے تحفظ دیتے ۔ اگر پولیس وہاں آتی، تو اُن کا لائسنس خطرے میں پڑ جاتا۔ میں تب صرف 16، 17 سال کا تھا۔ جبکہ انٹری کے لیے 18 سال سے زیادہ عمر ہونی چاہیے۔ مگر اُس سڑک کے سارے نائٹ کلبز میری عزت کرتے تھے، مجھے اجازت حاصل تھی۔ میں ہتھیار بھی تیار رکھتا تھا تاکہ دشمن پر گولی چلانے کے لئے ہمیشہ تیار رہ سکوں۔ مجھے جب بھی گولی ماری گئی، بہت قریب سے ماری گئی۔ دور سے کبھی نہیں۔ ہر بار قریب سے گولی ماری گئی۔ اور ایک گولی میرے سر میں یہاں پر پھنسی ہوئی تھی۔ پھر انہوں نے کٹ لگا کر گولی کو باہر نکالا۔ اور ایک بار مجھے یہاں گولی لگی تھی۔ جو یہاں سے نکلی ۔ مجھے یہاں گولی لگی جو دل کی طرف آنا چاہئے تھی، مگر وہ سینہ چیرتی ہوئی باہر نکل گئی۔ ایک گولی میری ریڑھ کی ہڈی کے نروس سسٹم کے قریب لگی۔ میں ہمیشہ کے لیے مفلوج ہو سکتا تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ گولی اوپر سے چلی گئی میرے جھکنے سے۔ ایک گولی یہاں لگی تھی۔ ٹانگ میں بھی اور بھی کئی بار فائر ہوا۔ اور ایک بار بم سے اڑانے کی بھی کوشش ہوئی تھی۔ وہ میرے گھر کے پاس بم رکھنے کی کوشش کررہے تھے۔ جب وہ بم نکال رہے تھے، میں کار سے صرف 20 میٹر دور تھا۔ اور میرے خیال سے صبح پانچ، ساڑھے پانچ بجے کا وقت تھا۔ اُنہوں نے کار سے بم نکالا۔ بم کو چھوتے ہی دھماکہ ہو گیا۔بوم!
تو میرے پاس پیسہ تھا۔ میرے پاس کاریں تھیں۔ بائیکس تھیں۔ میرا اپنا بزنس تھا۔ میرے پاس منشیات، نائٹ کلبز میں عزت اور لڑکیاں، یہ سب کچھ تھا۔ آپ جو بھی چمک دمک سوچ سکتے ہیں، سب تھا۔ یعنی میں اس لیول پر پہنچ چکا تھا۔ یہ سب بہت اچھا لگتا تھا، غلط مت سمجھیے گا۔ اچھا احساس ہوتا تھا۔ طاقت کا نشہ اور سب کچھ۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ جب میں، گاڑی پر واپس گھر لوٹ رہا ہوتا تھا، تو مجھے ایک خالی پن کا احساس ہوتا تھا ہمیشہ۔ مگر ایسا گھر واپسی پر ہی محسوس ہوتا۔ یا جب سونے کے لیے لیٹتا صبح جاگتا تھا۔ بیوی بچے بھی تھے، مگر پھر بھی ایک خالی پن کا احساس تھا۔ اور یہ احساس رہتا تھا۔ اُس وقت میں نے 1.3 ملین ڈالر کمائے پورے ایک سال میں اور یہ بہت پیسہ تھا۔ اور خرچ بھی کر دیتا تھا۔ Versace کے کپڑے، لیموزینز، کاریں، یہ، وہ سب کچھ۔ لیکن اس سب کے بعد صرف خالی پن تھا بہت خالی پن۔ آپ نے پہلی بار اسلام کے بارے میں کیسے سنا؟ اسلام کی طرف آپ کا سفر کیسے شروع ہوا؟ جب میرا Hells Angels کے ساتھ اختلاف ہو گیا تھا، تو میری دوستی پرتھ کے ایک عراقی سے ہو گئی تھی۔ شاید وہ لوگ اسکارپین کنگز کہلاتے تھے۔ وہ مجھے جانتے تھے اور ایڈیلیڈ آکر میرے ساتھ بزنس اور اتحاد کرنا چاہتے تھے۔ میں جانتا ہوں یہ عجیب لگے گا، جیسے میں کسی غار میں رہتا تھا مگر مجھے اسلام یا مسلمانوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ اسلام سے بالکل ناواقف تھا میں۔ سچ کہہ رہا ہوں میں۔ تو قصہ مختصر یہ کہ وہ عربی لوگ آئے، جب وہ آئے اور مجھ سے ملے، تو پتہ چلا ہمارے دشمن بھی ایک ہی تھے۔ ہم ایک نائٹ کلب گئے جو کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ پھر وہی لڑائیاں ہوتی تھیں گولیاں چلتیں تھیں ۔ پھر ہم واپس اُن کے گھر جاتے تھے، اور وہ لمبے لمبے کپڑے پہنتے تھے، پھر وہ وضو کرتے تھے، مجھے نہیں پتہ تھا، میں سمجھتا ہاتھ منہ دھو رہے ہیں، پھر وہ صلاۃ (نماز) شروع کر دیتے۔ میں سوچتا، پتہ نہیں کیا کر رہے ہیں؟ تو کوئی کہتا ’’یہ نماز پڑھ رہے ہیں۔‘‘ ’’نماز کیا مطلب؟‘‘ ’’یہ مسلمان ہیں۔‘‘ اوہ، اوکے۔ مجھے نہیں پتہ تھا وہ مسلمان ہیں۔ میں نے کہا، یہ کیا ہوتا ہے؟ تو وہ بتانے لگا اور میں پہلی رات اُن کے لاؤنج میں بیٹھا تھا، اور وہ حضرت علی، حمزہ، پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں باتیں کرنے لگے۔ اور میری دلچسپی بہت بڑھ گئی تھی۔ وہ جنگجوؤں کی باتیں کر رہے تھے، حضرت علی جیسے مجاہد، اسلام، خدا سے اُن کی محبت، خدا سے اُن کی وفاداری کی باتیں کر رہے تھے۔ اُن کے لیے ایمان ہی سب کچھ تھا۔ اور یہ لوگ خود بھی جنگجو ہیں۔ اور پھر اُنہوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر شروع کیا۔ واہ کیا کہانی ہے۔ ہم تو یہی جانتے تھے کہ یسوع مسیح ہی ہمارے آخری پیغمبر ہیں۔ پیغمبر، مسیح، ہمارے آقا۔ بائبل میں یہی لکھا ہے۔ اور پھر اُنہوں نے یسوع مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں بات کرنا شروع کی۔ میں فوراً کھڑا ہوگیا۔ میں نے اُن سے کہا، ’’ایکسکیوز می۔ آپ لوگ یسوع مسیح کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ وہ میرے آقا ہیں۔ وہ میرے مسیحا ہیں۔‘‘ مجھے بات کرنی چاہیے۔ مطلب، بائبل کے متعلق میں جانتا ہوں۔ کہنے لگے، ’’ نہیںVince ۔ ہم اُن سے محبت کرتے ہیں۔‘‘ ’’ہاں؟‘‘ ’’ہم اُن کی عزت کرتے ہیں۔ اُن کا کہا مانتے ہیں۔ حضرت مریم...
Virgin Mary، جن کی کہانی بائبل میں ہے...‘‘ وہ کہنے لگے کہ یہ قرآن میں بھی ہے۔ اور مجھے اِس بات نے حیران کر دیا کہ قرآن میں ماں حضرت مریم کے نام سے پورا ایک چیپٹر موجود ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، بائبل میں، حضرت مریم علیہ السلام کا ذکر چار یا پانچ مرتبہ آیا ہے۔ صرف ذکر آیا ہے۔ لیکن قرآن میں حضرت مریم، مومنوں کی ماں کے نام سے پورا چیپٹر موجود ہے، رائٹ؟ اور پھر یسوع مسیح کا پورا قصہ، جتنا بھی وہ بولتے گئے، میں سچ کہوں تو، خود کو ایک ایسا بچہ محسوس کر رہا تھا جو اپنی پسندیدہ مووی یا شو دیکھ رہا ہو۔ میں پوری طرح کھو گیا تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب میرے دل میں ایمان آیا، چاہے وہاں نشہ آور چیزیں تھیں یا نہیں، مگر اللہ نے مجھے ہدایت دے دی۔ اور میری دلچسپی بہت بڑھ گئی۔ ہم رومن کیتھولکس کا مسئلہ یہ ہے کہ بس پم اپنی روایت اور اپنا کلچر فالو کرتے ہیں۔ اور جب آپ بائبل پڑھتے ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ میں بائبل کا ماہر ہوں۔ مجھے بائبل کی خاص خاص باتیں معلوم ہیں۔ مثال کے طور پر، یسوع مسیح نے اپنی قوم سے کہا، ’’اے میری قوم، میری عبادت مت کرو۔ میں تمہارا خدا نہیں ہوں۔‘‘ واضح الفاظ میں۔ کتنی سادہ بات ہے۔ اوکے۔ مگر ہم اُن کی عبادت کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم بائبل پڑھتے تو ہیں مگر صرف پڑھنے کی حد تک۔ ہم سوچتے سمجھتے نہیں ہیں۔ یہ بس عقیدے، کلچر، روایت کا حصہ ہے۔ یسوع مسیح نے کہا، ’’سؤر کا گوشت مت کھاؤ۔‘‘ مگر کیتھولکس کھاتے ہیں۔ ہم سؤر کا گوشت نہیں کھاتے۔ یسوع مسیح نے کہا، ’’شراب سے بچو۔‘‘ یہ ہر بڑے گناہ کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ یسوع مسیح نے بائبل میں کہا، ’’کسی بھی مجسمے، بت، یا ہستی کی عبادت نہ کرو، اُس کے آگے نہ جھکو، نہ اُس سے دعا مانگو، چاہے وہ دیوتا آسمان پر ہوں، زمین پر، یا پانی میں۔ براہِ راست اپنے فادر، رب، خدا کی عبادت کرو، کیونکہ وہی مہربان خدا ہے۔‘‘ ہم صلیب، ماں مریم، اور بچے مسیح کی عبادت کرتے ہیں۔ ہم تو یہی کرتے ہیں ناں۔ بہرحال، قصہ مختصر یہ کہ وہ یسوع مسیح کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ وہ بائبل کے متعلق بات کر رہے تھے۔ لہٰذا اب ہر چیز سمجھ میں آنے لگی تھی۔ تو اب، دوسری رات، تیسری رات، پیغمبر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے قصے دل کو چھو رہے تھے۔ علی، وہ اُنہیں شان والے علی کہتے تھے، وہ واقعی شان والے تھے، ماشاء اللہ (جیسا اللہ نے چاہا)، رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ مگر میں بالکل مسحور ہو گیا تھا، اِس کہانی میں میری دلچسپی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اور پھر بائبل میں تضاد واضح ہونے لگا۔ یعنی ہمیں یہ سکھایا گیا ہے کہ شیطان، ابلیس (Satan)، یسوع مسیح کو 40 دن اور 40 راتوں کے لیے صحرا میں لے کے گیا تھا اور پھر اُس نے یسوع مسیح سے کہا، یہ میں بائبل کے مطالعے کے حوالے سے کہہ رہا ہوں، رائٹ؟ اُس نے کہا، ’’خدا پر اپنے ایمان کو چھوڑ دو۔‘‘ یہ یسوع مسیح سے کہا اُس نے۔ ’’خدا پر اپنے ایمان کو چھوڑ دو اور میرے ساتھ وفادار ہو جاؤ۔‘‘ تو کیا اِس سے وہ خدا بن جائے گا یا خدا کا پیغمبر؟ آپ سمجھ رہے ہیں میں کیا کہہ رہا ہوں؟ بائبل میں اتنی زیادہ چیزیں ہیں جو آپ کو بتاتی ہیں کہ یسوع مسیح خدا نہیں تھے۔ بلکہ خود یسوع مسیح نے کہا، ’’میرے فادر، اپنے فادر، میرے رب اور اپنے رب کی عبادت کرو۔‘‘ لہٰذا یہ تمام باتیں سامنے آنے لگیں۔ مجھے غصہ تھا کہ ہم سے جھوٹ کیوں بولا انہوں نے۔ تیسری صبح، میں باہر نکل رہا تھا۔ اُس نے دروازہ کھولا، میں نے دروازہ بند کر دیا۔ میں نے کہا، ’’میں نے سوچ لیا۔ میں مسلمان کیسے ہو سکتا ہوں؟‘‘ میں نے کہا، ’’خدا صرف ایک ہے، اللہ۔ اور یسوع مسیح ایک پیغمبر تھے، نبی تھے، جو مریم علیہ السلام کے بطن سے پیدا ہوئے۔‘‘ وہ دونوں مسلمان بہت زیادہ خوش ہوئے۔ ’’میرے ساتھ دہراؤ، Vince۔‘‘ ’’تیار ہو؟میں نے کہا، ’’ہاں۔‘‘ اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ۔‘‘ میں اِسے دہراؤں گا۔ ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ دیکھیں کتنا لمبا جملہ ہے یہ، مگر میں نے پہلی ہی دفعہ بغیر غلطی کے پڑھ لیا۔ واقعی۔ بالکل ایک بہتے دریا کی طرح۔ میں نے نہیں کہا کہ ’’رکو، یہ کیا، وہ کیا ہے۔‘‘ ایسا نہیں ہوا، اور اُس نے بھی بغیر وقفے کے پڑھا تھا۔ اُس نے ایسے کہا۔ اشہد ان لا الہ الا اللہ...
وہ کہنے لگا یہ مکمل ہو گیا، مجھے گلے لگا کر کہا “I Love you”۔ ’’تکبیر (اللہ سب سے بڑا ہے)!‘‘ ’’اللہُ اَکبَر (اللہ سب سے بڑا ہے)!‘‘ میں نے کہا، ’’واقعی؟ کیا میں مسلمان ہو گیا ہوں؟‘‘ اور میں نے کہا، ’’اللہُ اَکبَر (اللہ سب سے بڑا ہے)،‘‘ اور مجھے صرف یہی الفاظ آتے تھے السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو) اور اللہُ اَکبَر (اللہ سب سے بڑا ہے)۔ جب میں نے سر زمین پر رکھا تو میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، میں نے خود میں ایک سکون محسوس کیا۔ مجھے اللہ کی موجودگی واضح طور پر محسوس ہوئی۔ میں نہیں چاہتا کہ میری کوئی بات شِرک جیسی لگے، پلیز مجھے معاف کیجیے گا، مگر مجھے محسوس ہوا کہ وہ میری نگہبانی کر رہا ہے۔ اور تب مجھے سمجھ آیا کہ ہاں اللہ موجود ہے۔ کیا مسلمان ہونے کے بعد آپ کی زندگی ایک دم بدل گئی؟ آپ کی زندگی میں اصل موڑ کونسا تھا؟ کیا آپ نے کچھ محسوس کیا؟ جب آپ یہ ویڈیو دیکھ رہیں ہیں تو، آپ کو کوئی اشتہار نظر نہیں آتا۔ کیونکہ Towards Eternity ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، ہم صرف آپ کی مدد سے یہ ویڈیو بنا سکتے ہیں۔ اگر آپ اِس نیکی میں حصہ لینا چاہتے ہیں، تو ہمیں عطیہ کریں اور اِس سنہری موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ کیا مسلمان ہونے کے بعد آپ کی زندگی ایک دم بدل گئی؟ آپ کی زندگی میں اصل موڑ کونسا تھا؟ مجھے کئی بار گولی لگ چکی ہے، مختلف مواقعوں پر پانچ مرتبہ۔ آخری واقعے میں میرا سوتیلا بیٹا مر گیا۔ اُس کے دل میں گولی لگی تھی۔ ہمیں 20 ملین ڈالر کا منشیات کا ایک سودا کرنا تھا میں نے سوچا کہ اگر یہ کامیاب ہو گیا تو میں یہ زندگی چھوڑ دوں گا۔ 20 ملین ڈالر ایک بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔ اُس وقت میرا سپلائر کوئنز لینڈ سے تھا۔ ہم ساؤتھ آسٹریلیا میں تھے۔ وہ اِس کی خریداری میں دلچسپی رکھتا تھا۔ مگر میرا خیال ہے اصل میں اُسے اِس کی خریداری میں دلچسپی نہیں تھی۔ میرے خیال میں اُسے صرف مجھے قتل کرنے میں دلچسپی تھی۔ اُس نے مجھے یقین دلایا کہ ہم اِس سودے کے متعلق بات کر سکتے ہیں۔ لہٰذا میں اُسے ملنے گیا، اُسے پِک کیا، اور ہم ڈرائیو پر نکل گئے۔ خیر، جیسے ہی ہم نے ڈرائیونگ شروع کی، وہ مجھے کچھ مشکوک لگا، مگر میں نے کچھ خاص توجہ نہیں دی۔ تو جب ہم نے اُسے ڈراپ کیا اور وہ گاڑی سے اترا، تو وہ مجھے قتل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جب میں اُسے ڈراپ کرنے گیا، تو وہ کہنے لگا، ’’مجھے یہاں پارک ایریا میں ڈراپ کر دو۔‘‘ میں نے سوچا، اوکے، یہ نارمل بات ہے۔ میرا بیٹا گاڑی سے اترا، اور جب اس نے خدا حافظ کہا، تو اس نے گن اُس کے سینے پر رکھ کر فائر کردیا ، بوم۔ میرے بیٹےشوٹ کر دیا۔ اپنے بیٹے کو کار کے اندر کھینچا۔ اُس نے کہا، ’’بابا ۔‘‘ اور پھر میں نے دیکھا اُس نے گن میری طرف کر دی اور پھر میں نے یہ کیا کہ اپنا پاؤں ایکسیلیٹر پر جمایا۔ بُوم، بُوم، بُوم، بُوم۔ بُوم، بُوم، بُوم، بُوم۔ مجھے گولی لگی۔ مگر مجھے بالکل بھی محسوس نہیں ہوا۔ مجھے تو صرف اپنا بیٹا یاد تھا۔ پھر کورونر نے بتایا تھا کہ وہ موقع پر ہی مر گیا تھا۔ اُس کا چہرہ بجھ گیا تھا۔ اور جب میں گاڑی چلا رہا تھا...اور اور میں اُس کا منہ پکڑ کر اُسے بچانے کی کوشش کر رہا تھا، اسی دوران میں نے ایمبولینس کو کال کی کیونکہ میں وقت پر اسپتال نہیں پہنچ سکتا تھا۔ تو میں نے ان سے کہا، ’’ کہ دیکھیں، مجھے آدھے راستے میں ملیں۔‘‘ اور میں نے وہی کیا۔ اور میں مسلسل اُسے بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ مر چکا ہے، مگر دل ماننے کو تیار نہ تھا۔ جب میں نے ایمبولینس سے بات کی، تو میرے منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ تو میں نے فون رکھا معذرت کے ساتھ ۔ میں خون تھوکتا رہا، جو میرے پورے ڈیش بورڈ پر پھیل گیا۔ خون تھوکنے سے مجھے سمجھ آیا کہ مجھے بھی گولی لگ چکی ہے، اور یہ خون میرے پھیپھڑوں سے آ رہا ہے۔ تو اب میں نے خود کو اِس حالت میں دیکھ کر کہا، ’’یا اللہ، مجھے معاف کر دے۔‘‘ اور میں نے اللہ سے التجا کی، میرے سوتیلے بیٹے کے لیے لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ (اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں) قبول کرلے۔ یہ اِس کلمے کے ساتھ فوت ہو۔ پلیز اِسے یہ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ عطا کر دے۔ کیونکہ یہ مر چکا ہے۔ اور میں نے اللہ سے کہا، ’’میرے ہر عمل کو بھی معاف کر دے۔ پلیز میرا لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ بھی قبول کرلے۔‘‘ اور ڈرائیونگ کرتا رہا، پھر ایمبولینس آ گئی۔ میں کار سے نکلا تاکہ اپنے بیٹے کے پاس جا سکوں۔ پولیس نے مجھے روک دیا۔ ’’پلیز،Vince۔ ‘‘ اور میں گر گیا۔ میری پسلیوں میں درد شروع ہو گیا تھا۔ اب مجھے محسوس ہوا کہ مجھے پسلیوں میں گولی لگی ہے۔ پھر اُنہوں نے مجھے ایمبولینس میں ڈالا اور مجھے اسپتال لے گئے۔ کورونر نے بتایا کہ میرا بیٹا مر چکا ہے کیونکہ گولی سیدھی اُس کے دل کے آر پار ہوئی تھی۔ اُس نے کوشش کی، وہ اپنے باپ کی حفاظت کرتے ہوئے مر گیا۔ وہ مسلمان تھا۔ اور اُس وقت میرا جسم گولیوں سے چھلنی تھا۔ میں نے اسپتال میں اپنی پوری کوشش کی۔ میں زنجیروں سے بندھا ہوا، عدالت سے فون پر بات کر رہا تھا، مقدمے، سپریم کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج سے کہ وہ مجھے ضمانت پر رہا کریں تاکہ میں اپنے بیٹے کے جنازے میں جاؤں، اُسے غسل دے سکوں۔ غسل دوں اور اُس کی آخری رسومات میں شامل ہوں۔ تو میری زندگی کا سب سے مشکل لمحہ یہ تھا کہ میں اسپتال کے بستر پر، اسپتال کے قیدی بستر پر لیٹا ٹی وی پر اُس کا جنازہ دیکھ رہا تھا، وہ میرے لیے سب سے مشکل لمحہ تھا۔ مگر واللہِ (اللہ کی قسم) مجھے یہ صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ یہ میری زندگی کا سب سے تکلیف دہ احساس تھا۔ میں نے اُسے دفن ہوتے اور دیگر سارے مناظر دیکھے۔ جج نے مجھے باہر نہیں آنے دیا۔ جیل میں میری زندگی بدل گئی۔ اسپتال کے جیل سے، مجھے مرکزی جیل لے جایا گیا، ایک ہائی سیکیورٹی، Yatala جیل میں۔ اُنہوں نے مجھے جیل کے سزا والے سیکشن میں ڈال دیا۔ یہ ایک الگ تھلگ جگہ ہوتی ہے۔ مگر اِس صورتحال کو ابھی تین مہینے ہوئے تھے، مہینے یا تین مہینے ہوئے تھے، ڈھائی مہینے، میں قرآن پڑھ رہا تھا اور میں سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 145 پڑھ رہا تھا۔ اور یہ کسی بھی شخص کے اختیار میں نہیں ہے کہ اُسے اللہ کے حکم کے بغیر موت آ جائے، جس کا ایک معین وقت پر آنا لکھا ہوا ہے۔ اور جو شخص دنیا کا بدلہ چاہے گا ہم اُسے اس کا حصہ دے دیں گے۔ اور جو آخرت کا ثواب چاہے گا، ہم اُسے اس کا حصہ عطا کر دیں گے۔‘‘ مگر دنیا کی بہترین زندگی اور آخرت کی بہترین زندگی اُسی کی عطا ہے۔ جب میں اُس جگہ پر پہنچا کہ ایک معین وقت پر لکھا ہوا ہے، تو جو بے چینی، احساسِ جرم، اپنے بیٹے کے ڈپریشن کی جو گِرہ میرے سینے میں تھی، میں سچ بتا رہا ہوں...
کھل گئی ۔ میری جان میں جان آئی۔ میرے کاندھوں کا بوجھ لمحوں میں اتر گیا۔ میں یوں پھوٹ پھوٹ کر رویا کہ زندگی میں کبھی نہیں رویا تھا۔ غم کی وجہ سے نہیں۔ میں تو بہت خوش تھا۔ بہت خوش تھا۔ غم مکمل ختم تو نہیں ہوا، مگر اس نے مجھے ہلکا پھلکا کر دیا۔ اس نے مجھے ایسی اندھیری کیفیت سے نکال دیا کہ میں اس کی وضاحت یوں کر سکتا ہوں کہ جب آپ ایک پہاڑ، ایک ٹیلے پر چڑھ رہے ہوں تو یہ بہت مشکل ہوتا ہے، ہاں؟ میرا پہاڑ تو بالکل سیدھا تھا، موت کی وادی کی طرح۔ اور میں ناخنوں اور دانتوں سے رینگ رینگ کر اوپر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر ایک رسّی تھی جسے پکڑ کر میں چڑھ سکتا تھا۔ اور جب بھی میں نیچے دیکھتا، تو یہ بھیڑیے اُچک اُچک کر مجھے اپنے جبڑوں سے چبانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ بھیڑیے میرے جذبات، میری ذہنی صحت، میری مجموعی صحت کی کیفیت تھی۔ اور وہ رسّی قرآن تھا۔ میں نے اُس رسّی کو تھامنے کا فیصلہ کر لیا۔ اور مجھے خدا کا شکر ادا کرنے میں 45 منٹ، تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔ میں اُس کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ میں اُس کا بہت زیادہ شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ اِس میں مجھے 45 منٹ لگے۔ آنسو رُک ہی نہیں رہے تھے، مطلب جب آپ کسی سے محبت کرتے ہوں...
اور آپ اُس کی مدد پر بہت زیادہ مطمئن اور شکر گزار ہوں، تو کیا کیفیت ہوگی۔ یہ تو دنیا کے لوگوں کی بات ہے کہ ہم اُن کے لیے بھی رو پڑتے ہیں۔ ’’آپ کا بہت بہت شکریہ، آپ نے مجھے مشکل سے نکالا۔‘‘ پھر یہ تو خالق ہے۔ میں نے اُس کی موجودگی محسوس کی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب اللہ کے ساتھ میرا تعلق انتہائی مضبوط ہو گیا، یہ تعلق مکمل ہو گیا۔ میں نے ہاتھ اٹھائے اللہ کا شکریہ ادا کیا اور اللہ سے کہا، ’’یا رب، یا اللہ (اے میرے رب، اے اللہ) میری ساری غلطیوں کو معاف کر دے۔‘‘ میں نے اُس سے التجا کی۔ ’’‘‘ اب میں آپ کے سامنے ہوں۔ میں 15 سال سے مسلمان ہوں۔ میں پرفیکٹ نہیں ہوں۔ میں کوئی اسکالر، شیخ نہیں ہوں، نہ ہی اِس کا دعویٰ کرتا ہوں۔ میں اللہ سے محبت کرتا ہوں۔ میں رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ میں دین (مذہب) سے محبت کرتا ہوں، صحابہ سے محبت کرتا ہوں۔ عمر ابن خطّاب (رضی اللہ عنہ) سے محبت کرتا ہوں۔ ہمیں اِنہی کو فالو کرنا چاہیے۔ یہ شرم کی بات ہے کہ ہمارے نوجوان اِس دنیا میں پوری طرح کھو چکے ہیں۔ تو یہ میرا سفر تھا۔ یہی زندگی کا خاص موڑ تھا۔ آپ کی کچھ پوسٹس میں، ہم نے دیکھا کہ آپ کی والدہ بھی اسلام قبول کر چکی ہیں، تو آپ کی داستان میں شروع سے آخر تک اُن کا کیا کردار رہا؟ آہ، آپ خود پر قابو نہیں رکھ سکتے یہ میرے لیے ایک حسّاس موضوع ہے، مگر اِسے بیان کرنے کی پوری کوشش کروں گا اِن شاء اللہ (اللہ نے چاہا تو)۔ میں یہ واقعہ جتنی جلدی ممکن ہو بیان کر دوں گا۔ مجھ میں اُن کی تصویریں دیکھنے کی ہمت بھی نہیں ہے۔ مجھے اُن کی بہت یاد آتی ہے، اللہ اُنہیں جنت الفردوس (سب سے اعلیٰ درجے کی جنت) عطا فرمائے۔ آمین۔ میری والدہ اور میں آپس میں بہترین دوست تھے۔ مجھے ملک بدر کیے جانے سے پہلے، جب مجھے ملک بدر کیا جا رہا تھا، تو اُنہیں...
مجھے اِس صورتحال میں 28 دن ہوئے تھے۔ مگر جب مجھے ملک بدر کیا گیا، تو میں اسپتال گیا، جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ اُنہیں اسٹیج فور کے کینسر کی تشخیص ہوئی ہے، لہٰذا دوبارہ داغ بڑے ہونے لگے اور آخرکار یہ پھیلنے لگا۔ تو میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ ’’میری والدہ کو کینسر کے بارے میں کچھ نہ بتائیں۔‘‘ اور پھر وہ ملائیشیا آ گئیں۔ میں نے اکتوبر میں اُنہیں ملائیشیا بلا لیا۔ تو جب وہ وہاں آئیں، تو میں نے سوچا واہ، مجھے ماں مل گئی، میں جذباتی تھا۔ مجھے میری ماں مل گئی۔ میں نے بائبل لی۔ ’’ماں بائبل میں لکھا ہے کہ ’یسوع نے کہا میری عبادت مت کرو۔‘ اُنہوں نے خود کہا کہ، ’میری عبادت مت کرو۔ میں تمہارا رب نہیں ہوں۔‘ ‘‘ میں نے کہا، ’’کیا مسلمان اُن کی عبادت کرتے ہیں؟‘‘ اُنہوں نے کہا، ’’نہیں‘‘۔ ’’تو پھر آپ کیوں کرتی ہیں؟‘‘ اور میں روزانہ یہی بات کہتا۔ میں ان سے روزانہ یہ بات کہتا تھا کہ ’’یسوع مسیح کہتے ہیں کہ، ’شراب مت پیو۔ سؤر کا گوشت مت کھاؤ۔‘ ‘‘ ’’امی، یسوع مسیح کیسے عبادت کرتے تھے؟‘‘ ساری باتیں بائبل سے۔ قرآن سے کچھ نہیں کہتا تھا، روزانہ بلا ناغہ۔ اور روزانہ یہ کہتا کہ ’’امی، I love you۔‘‘ ’’جزاک اللہ خیراً (اللہ آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے۔‘‘ اور پھر آخرکار، میں یہ سوال پوچھتا ہوں، ’’امی، کیا آپ کو لگتا ہے کہ یسوع مسیح خدا تھے؟‘‘ ‘‘ تو انہوں نے کہا ’’نہیں۔ بیٹا، یسوع مسیح خدا نہیں تھے۔‘‘ بُوم۔ میرا دل۔ معاف کیجئے گا میں جذباتی ہو رہا ہوں۔ اور پھر اُنہوں نے کلمہ پڑھ لیا۔ شاید آپ کو یقین نہ آئے۔اُنہوں نے ’’اشہد ان لا الہ الا اللہ شہد ان محمد رسول اللہ‘‘ کسی غلطی کے بغیر پڑھا۔ مجھے یقین نہ آیا۔ میں اُن کی ریکارڈنگ کر رہا تھا۔ اور میرے آنسو بہہ رہے تھے۔ دیکھیں کہ اللہ اُن سے کتنی محبت کرتا ہے۔ اِس حد تک کہ وہ مسلمان ہو گئیں اور اللہ نے اُنہیں مکمل راحت کے ساتھ موت دی۔ وہ تہجد (آدھی رات کی نماز) کے وقت، فجر (صبح کی نماز) سے ذرا پہلے جمعہ کے دن، رمضان میں رمضان کے آخری عشرے میں نیند میں ہی سکون سے فوت ہوگئیں۔ اُن کا جنازہ جمعہ کو ایک برانڈ نیو مسجد میں پڑھا گیا اور ان کی تدفین کی گئی...
اگر بھائی Vince اسلام قبول نہ کرتے، تو اِس وقت کیا کر رہے ہوتے؟ اگر آپ ایماندارانہ جواب چاہتے ہیں تو میں مر کر زمین کے نیچے پڑا ہوتا، قتل کر دیا جاتا، 30 سال سے جیل میں ہوتا، یا کسی کو قتل کرنے کی سزا میں عمر قید کاٹ رہا ہوتا۔ مگر اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے)، واللہِ (اللہ کی قسم) اللہ مجھے اندھیرے سے روشنی میں لے آیا، اِس نے مجھے عقل دی، علم دیا، حکمت (دانائی) دی۔ آہ، کیا زندگی ہے۔ ایک مسلمان کی بھی کیا خوبصورت زندگی ہے۔ واللہِ (اللہ کی قسم)۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وسلم) کی کونسی بات آپ کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے؟ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ہر ادا ہر لحاظ سے اعلیٰ ترین اور خوبصورت ترین ہر پہلو سے شاندار اور حیرت انگیز ہے۔ اِس زمین پر کوئی ہستی، کوئی تخلیق اتنی مکمل، اتنی خوبصورت، اتنی مہربان، اتنی محبت کرنے والی کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک کامل انسان اور ایک مثالی کردار ہیں۔ کیا ہم اُن جیسے بن سکتے ہیں؟ ناممکن۔ مگر ایک چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، میں اُن کی سیرت کی کتاب پڑھ رہا تھا، چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا واقعہ۔ میں اُسے پڑھتا گیا اور سبحان اللہ۔ اُن کی زندگی کی ہر چیز، مطلب ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اپنے گہرے اثرات کے ساتھ ہمارے دل کو نہ چھو جائے۔ مگر ایک چیز جسے پڑھ کر میں بہت رویا وہ اُن کا بسترِ مرگ پر ہونا تھا۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ آپ دنیا سے جانے والے ہیں؟ اُس احساس کا تصور کریں کہ آپ پر بار بار بے ہوشی طاری ہو رہی ہے۔ اُنہوں نے اپنے صحابہ سے فرمایا، ’’مجھے میرے امتیوں کے پاس لے جاؤ میں اُن سے بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ تو اُنہوں نے کہا، ’’نہیں نہیں، یا رسول اللہ (ﷺ) آپ نہیں جا سکتے۔ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ،‘‘ مطلب اُنہوں نے بڑی حد تک منع کیا۔ مگر پیغمبر ﷺ نے لے جانے پر اصرار کیا۔ اور میں وہ لمحہ یاد کرتا ہوں جب میں یہ پڑھ رہا تھا، بتایا گیا تھا کہ وہ کس طرح پیغمبر ﷺ کو بازوؤں سے تھام کر لے جا رہے تھے، اور اُن کے پاؤں زمین پر گِھسٹ رہے تھے۔ آپ ﷺ حرکت بھی نہیں کر پا رہے تھے۔ اپنی امت (کمیونٹی) کے ساتھ ذرا اُن کی محبت تو دیکھیں۔ اگر مجھے متلی بھی محسوس ہو تو میں اپنے بستر سے نہیں نکل سکتا۔ آپ اس کیفیت کو سمجھیں اور یہ انسان، یہ خوبصورت پیغمبر ﷺ، یہ حسین تخلیق، اتنی زیادہ ناساز طبیعت کے باوجود آخری مرتبہ اپنی امت سے بات کرنا چاہتے تھے۔ تو جب میں نے اُن کے قدم مبارک زمین پر گھسٹنے کا پڑھا ذرا تصور کریں، اِس طرح اُنہیں لوگوں کے سامنے لایا گیا، تو میں پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ صحابہ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے ہر وہ چیز قربان کر دی جو آپ کی سوچ میں آ سکتی ہے، اُنہوں نے اللہ کے لیے اور اِس امت (کمیونٹی) کے لیے ایسی ایسی قربانیاں دیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ تو ہمیں اُن کا شکر گزار ہونے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ تو یہ اُن کی زندگی کا حصہ ہے، اگرچہ اُن کی ہر چیز نے متاثر کیا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم وہ عظیم شخصیت تھے جو السلام علیکم (آپ پر سلامتی ہو) کہنے میں پہل کرتے تھے۔ وہ مسکراتے تو ہر سمت روشنی پھیل جاتی۔ مگر جب وہ اللہ کے لیے میدانِ جہاد میں ہوتے، تو ایک مکمل بہادر شیر، جنگجو ہوتے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، اُن کے ساتھ حمزہ، اسلام کے شیر۔ علی رضی اللہ عنہ، اُن کے ساتھ حسین، حسن، ابو عبیدہ، عمر ابنِ خطّاب، عثمان، ابو بکر۔ یہی تو وہ لوگ ہیں۔ کم آن ہم کیوں ہالی ووڈ اور میوزک انڈسٹریز کو فالو کر رہے ہیں؟ہمیں ان کو فالو کرنا چاہیے۔ کیا وہاں ایسے بہت سے نوجوان ہیں جو اُسی لائف اسٹائل کو اپنائے ہوئے ہیں جو کبھی آپ کا ہوا کرتا تھا؟ آپ اُن لوگوں کو کیا کہنا چاہیں گے؟ وہ لوگ جو اِس زندگی کی خوشیاں تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟ قوسِ قزح کے اختتام پر کوئی سونے کا برتن نہیں ہے۔ سرنگ کے دوسرے سِرے پر کوئی روشنی نہیں ہے۔ یہ سراب ہے۔ میں آپ کو قرآن سے ایک حیرت انگیز بات بتانے والا ہوں۔ یہ صرف کھیل تماشہ ہے۔ اِس لائف اسٹائل میں بالکل بھی وفاداری نہیں ہے۔ اِس لائف اسٹائل میں بالکل بھی وفاداری نہیں ۔ وفاداری اُسے سمجھا جاتا ہے جو سب سے زیادہ دولت پیدا کرے، اور اگر آپ پیسہ کمانے میں اچھے نہ ہوں تو پھر آپ ایک بوجھ بن جاتے ہیں۔ لیکن میں قرآن سے یہ بات بتانا چاہتا ہوں۔ اِس سے ہر ایک پر چیزیں واضح ہو جائیں گی۔ اگر آپ کے پاس دانائی ہے، یا آپ میں سمجھداری کا احساس ہے، تھوڑی سی بلند اخلاقی ہے اور آپ کھلے ذہن کی سوچ رکھتے ہیں، تو یہ آیت سارے مجرموں کے لیے ہے۔ یہ آیت سارے ارب پتیوں کے لیے ہے۔ یہ آیت سارے بادشاہوں، حکمرانوں، مظلوموں، غرض اُن سب لوگوں کے لیے ہے جو پیسہ بنانا چاہتے ہیں، چاہے یہ اُن کا لائف اسٹائل ہو یا نہ ہو، مگر وہ ایسی زندگی اپنانا چاہتے ہیں، میں اُنہیں یہ آیت سناؤں گا۔ اللہ قرآن میں فرماتا ہے، ’’اگر اُن کے پاس وہ سب کچھ ہو جو دنیا میں ہے اور اتنا ہی اور بھی، تو قیامت کے دن بدترین عذاب سے بچنے کے لیے وہ سب فدیہ کے طور پر دینے لگیں گے،‘‘ تصور کریں، اللہ یہ فرما رہا ہے کہ قیامت کے دن اگر تم میرے پاس اپنی دولت لے کر آجاؤ تو اِسے فدیے کے طور پر دے دو گے، ’’پلیز اللہ، مجھے جنت دے دو یا واپس دنیا میں اچھے عمل کے لیے بھیج دو۔‘‘ اللہ فرماتا ہے، ’’یہ دولت کام نہیں آئے گی۔ یہ دن فیصلے کا دن ہے۔‘‘ تمہارا معاملہ ختم ہو گیا۔ تو ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ آپ کونسی دولت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں؟ آپ کتنے ملینز بلینز، اور فراری چاہتے ہیں؟ اِس وقت آپ کونسے پروجیکٹس کر رہے ہیں؟ میری این جی او کا نام صحابہ ہے، یعنی پیغمبر ﷺ کے ساتھی، 99 جواللہ تعالیٰ کے 99 نام اور صفات ہیں۔ اور ہماری ٹی شرٹس کے پیچھے ہم نے ایک حدیث (نبی کا قول) پرنٹ کروا رکھی ہے جو میں نے آپ کو پہلے بتائی تھی تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو دوسروں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائیں۔ اِس لیے ہم کوشش کرتے ہیں کہ وہ کِک باکسنگ، Muay Thai باکسنگ کریں، اور اپنا ذاتی دفاع بھی سیکھیں۔ ہم فلاحی کام اور ایسی ہی دیگر سرگرمیاں بھی کرتے ہیں۔ ہم ہر لحاظ سے مسلمان کمیونٹی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ اُن کے لیے، ہمارے لیے دین (مذہب) ہی سب کچھ ہے، ہم فلسطین کے سلسلے میں بھی مختلف کام کرتے ہیں، ہم وہاں غذا کے ٹرک بھجواتے ہیں۔ یہ سب کام ہم کرتے ہیں۔ آپ اُن لوگوں کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے جو اسپیگٹی پاستا پر کیچ اپ ڈال دیتے ہیں؟ میں ان لوگوں کے ساتھ یہ کرنا چاہوں گا جو لوگ پاستا اسپیگٹی کی پلیٹ پر کیچ اپ ڈالیں، اُنہیں عمر قید میں ڈال دو اور تالے کی چابی پھینک دو۔ -گرفتار کرلیں۔ -یا آپ اُن کا چہرہ کیچ اپ میں ڈبو دیں گے؟ نہیں، نہیں، نہیں، ساری زندگی کے لیے جیل میں ڈال دیں۔ کیا یہ جرم ہے؟ ہاں جرم ہے۔ اٹلی میں پیزے پر اننّاس مت ڈالیں، اور اٹلی میں اپنے ساسز پر کیچ اپ نہ ڈالیں۔ ٹھیک ہے؟ میرے خیال میں ایسے لوگوں کو کسی ادارے میں قید کر دینا چاہیے۔ صرف جیل میں ہی نہیں، بلکہ کسی ذہنی مرض کے ادارے میں، تاکہ پتہ چلایا جائے کہ ان کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔ آپ آخر اسپگیٹی کی پلیٹ پر ٹماٹو ساس کیسے ڈال سکتے ہیں جب کہ شیف نے لہسن باریک کاٹا ہو، فرائنگ پین میں زیتون کا تیل ڈالا ہو، اور اسے ٹماٹو پیسٹ کے ساتھ ہلکی کارملائزیشن تک تڑکا لگایا ہو، تاکہ اس کی تیزابیت نکل جائے تاکہ آپ کو سینے کی جلن نہ ہو۔ پھر اس میں تُلسی ڈالی جائے، پھر ساس، پھر نمک، اور دوسرے اجزاء شامل کیے جائیں، اور 20 منٹ کی اِن رسومات کے بعد، وہ اِسے مزید 30 منٹ پکاتا ہے تاکہ ساس کا اصل ذائقہ نکل آئے، اور ذائقہ ٹھیک کرنے کے لیے وہ اِسے بار بار چکھتا رہتا ہے، اتنی محنت کرتا ہے۔ اور آپ چینی ملا ہوا ٹماٹو پیسٹ اس میں ڈال دیتے ہیں قید، سیدھی جیل۔ بس بات ختم۔ اور جو پیزے پر اننّاس ڈالے، اُسے کسی کھیت میں پتھر توڑنے پر لگایا جائے کم از کم 15 سال کے لیے۔ پیزے پر پھل۔ یا اللہ (اے اللہ)۔ کیا آپ اٹالین میں کچھ کہنا چاہیں گے، صرف اِس لیے کیونکہ آپ ایک اٹالین ورثہ رکھتے ہیں؟ میری اٹالین اتنی اچھی تو نہیں ہے، لیکن میں اپنی پوری کوشش کرتا ہوں۔ سب سے پہلے، میں ہیلو کہنا چاہوں گا میری فیملی کو، آپ سب کو پیار بھرے بوسے۔ اور اٹلی میں موجود اٹالین لوگوں کے لیے، جو بڑے ذہین لوگ ہیں، رومن کیتھولیسرازم کو بھول جائیں، اِس عیسائیت کو بھول جائیں۔ پورے احترام کے ساتھ، قرآن اٹھائیں، اِسے پڑھیں، اور مسلمانوں کی زندگیوں میں شامل ہو جائیں۔ اور آپ دیکھیں گے کہ آپ کی زندگی ہمیشہ امن میں رہے گی۔ میرے خاندان کے لوگ، اٹلی میں میرے تمام دوست، سب مسلمان بن جائیں۔ -تکبیر (اللہ سب سے بڑا ہے)!
-اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے)