Towards Eternity
بلاگ پر واپس جائیں

Islami Tareekh ke Sab Se Mushkil Din – AI Se Banayi Gayi 'Seerah Series!' – Aey Rasool | Ep. 2

تاریخ اشاعت

یوٹیوب پر دیکھیں

خباب ایک ماہر لوہار تھے۔ اُس دن، وہ ہمیشہ کی طرح اپنی بھٹی پر تھے، لیکن کچھ بنانے کے لیے نہیں۔ اُن کے ہاتھ اور پاؤں مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے، اور اُن کے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہ تھا۔ پسینے میں شرابور، اُن کا بار بار مذاق اڑایا اور توہین کی جا رہی تھی۔ ’’تم نے ہمارا مذہب چھوڑ دیا اور محمد (ﷺ) کی پیروی کا انتخاب کیا!‘‘ اُسی بھٹی میں جہاں وہ برسوں سے کام کر رہے تھے، اب لوہے کا ایک ٹکڑا گرم کیا جا رہا تھا۔ اور اپنے سامنے یہ سب کیے جانے کی وجہ اُنہیں معلوم تھی۔ جیسے جیسے یہ اور زیادہ گرم ہو رہا تھا، وہ ہولناک لمحہ بھی قریب آ رہا تھا۔ اور پھر، وہ آگ جیسا لوہے کا سرخ گرم ٹکڑا باہر نکالا گیا اور خباب کی طرف لایا گیا۔ وہ اُنہیں اذیت دینے کے لیے یہ دھکتا ہوا لوہا اُن کے جسم پر لگانے والے تھے۔ اُنہیں ایک آخری موقع دیا گیا۔ اُنہیں بس ایک جملہ کہنا تھا۔ ایک واحد جملہ جو اُنہیں اِس اذیت سے بچا سکتا تھا جس کا وہ سامنا کرنے والے تھے۔ یہ کہنا کہ اللہ کے رسول جھوٹے ہیں، معاذ اللہ (اللہ بچائے)۔ یہ درندگی کا مظاہرہ صرف اُن کے یہ کہنے کی وجہ سے ہو رہا تھا کہ ’’میرا رب اللہ ہے۔ اللہ ایک ہے۔ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ مگر اُن کے ایمان کا نور اُن کے پورے وجود میں اتنی گہرائی تک اتر گیا تھا کہ جس نے جلائے جانے کے خوف پر قابو پا لیا۔ وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے اور اُن کی تمام دھمکیوں کو اُن کے منہ پر دے مارا۔ وہ ظالم لوگ، جن کے دل پتھر اور ضمیر مکمل طور پر تاریک ہو چکے تھے، آگ بگولہ ہو گئے اور خباب کے سر پر سرخ گرم لوہا داغنا شروع کر دیا۔ یہ ویڈیو سیریز معتبر اسلامی ذرائع سے لیے گئے سینکڑوں حوالہ جات پر مبنی ہے۔ تمام AI مناظر مستند علماء کرام کی مشاورت سے تیار کئیے گۓ ہیں اور اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہیں ـ وہ منظر ہولناک تھا۔ ایک شدید ترین اذیت جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرنا چاہے گا۔ ایک دلخراش چیخ فضا میں گونجی۔ کچھ دیر بعد خباب درد کی شدت سے بے ہوش ہو گئے۔ ایک طرف ایک شخص اپنے ایمان کی وجہ سے ثابت قدم اور حوصلے سے بھرپور کھڑا تھا، اور دوسری طرف، ایک بے رحم بت پرست کفر کی دلدل میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس کا مقصد خباب کو قتل کرنا نہیں، بلکہ اُنہیں اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا۔ برسوں بعد، وہ اپنی قمیض اٹھاتے اور اُن دنوں کی یاد کے طور پر اپنی کمر دکھاتے۔ ہر زخم گویا کہ ایمان کی مُہر تھا، جو اُن کی برداشت کردہ اذیت کے نشان لیے ہوئے تھا۔ خباب اپنے اوپر گزرنے والے حالات اِن الفاظ میں بیان کیا کرتے تھے: ’’ایک دن، بت پرستوں نے مجھے پکڑ لیا۔ ’چلتے رہو!‘ اُنہوں نے آگ جلائی اور مجھے زبردستی اُس میں کمر کے بل لِٹا دیا۔ پھر اُن میں سے ایک نے میرے سینے پر پاؤں رکھ دیا اور مجھے تب تک نہیں چھوڑا جب تک آگ ٹھنڈی نہیں ہوگئی۔‘‘ تصور کر سکتے ہیں؟ ذرا تصور کیجیے اُن لمحات کو یاد کرتے ہوئے اُن کے دل و دماغ پر کیا گزرتی ہوگی۔ قریش کو یہ نیا مذہب بالکل پسند نہیں تھا۔ کیونکہ اِس مذہب کے مطابق، خباب، جو اُس وقت ایک غلام تھے، اور اب اپنے اُس آقا سے برتر تھے جو اُنہیں اذیت دے رہا تھا۔ کیونکہ اُنہوں نے زندگی کا حقیقی مقصد پا لیا تھا۔ یہ مذہب تمام تصورات کو بدل رہا تھا۔ یہ کیسے ممکن تھا؟ کالا اور گورا، امیر اور غریب، معزز اور عامی، غلام اور آزاد سب برابر کیسے ہو سکتے تھے؟ اِن تمام لوگوں کو بھائی کیسے کہا جا سکتا تھا؟ کیا علی (رضی اللہ عنہ) جیسا نوجوان لڑکا اور نبی پاک (ﷺ) جیسا صاحبِ عزت مرد، ابوبکر (رضی اللہ عنہ) جیسا معزز آدمی، اور خباب جیسا غلام ایک ساتھ بیٹھ اور ایک ہی محفل میں بات کر سکتے تھے؟ لڑکیوں کو اہمیت دینا، عورتوں کے ساتھ حقیقی انسانوں جیسا سلوک کرنا، اُنہیں بولنے اور اپنی رائے کے اظہار کا حق دینا، یہ کہنا کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے...

یہ وہ خیالات تھے جو اُس معاشرے کے لیے مکمل طور پر اجنبی تھے۔ یہ مذہب کہاں سے آیا تھا؟ یہ پورے قائم شدہ نظام کو خطرے میں ڈال رہا تھا اور انصاف اور رحم پر مبنی ایک بالکل نیا نظام پیش کر رہا تھا۔ اور قریش کے لیے، یہ ایسی چیز تھی جسے وہ کبھی قبول نہیں کر سکتے تھے۔ اگرچہ وہ اللہ پر یقین رکھتے تھے، مگر شاید سوچتے تھے کہ وہ بھی اُن کے نظاموں میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ لیکن وہ اِس دنیا میں صرف جینے اور مرنے کے لیے نہیں بھیجے گئے تھے۔ اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کے ساتھ، وہ سمجھتے تھے کہ وہ جس پر چاہیں ظلم کر سکتے ہیں۔ لیکن جب وہ اپنی مرضی سے حکومت کر رہے تھے، تو اللہ اپنے قوانین کیسے نازل نہ فرماتا؟ کیا اُن کا واقعی یہ خیال تھا کہ وہ ناانصافی کو روکنے کے لیے کوئی نظام ظاہر نہیں فرمائے گا؟ بغیر سوچے سمجھے اِس دنیا میں اپنی زبانوں سے الفاظ نکالنے والوں نے کیا واقعی یہ سمجھا تھا کہ اللہ یونہی خاموش رہے گا؟ صحابہ کرام کا بھی بالکل یہی طرزِفکر تھا۔ اور ظلم چاہے کتنا ہی اذیت ناک ہو، وہ کبھی اپنے ایمان سے پیچھے نہیں ہٹے۔ اسلام پر ایمان لانا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔ اِس کے لیے حقیقی ہمت درکار تھی۔ صرف خباب ابن ارت ہی نہیں، بلکہ بہت سے دوسرے صحابہ بھی بے شمار مشکلات سے گزر رہے تھے۔ کچھ کو صحرا کی جلتی ہوئی دھوپ میں اِس طرح اذیت دی جاتی جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ کچھ کو اُن کے اپنے باپ نے گھروں میں قید کر دیا، بھوکا پیاسا چھوڑ دیا، اور خاندان سے مکمل طور پر تعلق ختم کر دیا گیا۔ کچھ پر اُن کی ماؤں نے اِن الفاظ سے دباؤ ڈالا: ’’اگر تم نے اپنا مذہب نہیں چھوڑا، تو میں خود کو بھوکا رکھ کر مار ڈالوں گی۔‘‘ کچھ کو اُن کے رشتہ داروں نے باندھ کر اذیت دی۔ کچھ کو جلتی ریت پر لٹایا گیا، بھوکا پیاسا رکھا گیا، اور پھر بھاری، سخت گرم پتھروں کے نیچے کچل دیا گیا۔ کچھ کو اِس حد تک اذیت دی جاتی کہ وہ بولنے کے قابل بھی نہ رہتے، یہاں تک کہ بے ہوش ہو جاتے۔ کچھ یہ اذیتیں سہتے سہتے اپنی بینائی تک کھو بیٹھے۔ اُن سے صرف یہ کہلوانے کے لیے وہ کسی بھی حد تک چلے جاتے تھے کہ ’’محمد (ﷺ) جھوٹے ہیں‘‘، معاذ اللہ۔ لیکن اِس سب کے باوجود، اُن کی تعداد کم نہ ہوئی۔ بلکہ وہ تعداد میں بڑھتے چلے گئے۔ ایسی مضبوط وابستگی دیکھ کر، لوگ خود سے یہ پوچھنے پر مجبور ہو گئے، ’’کیا وہ عقیدہ جو اِن لوگوں کو اتنا ثابت قدم، اتنا مضبوط، اور اتنا بے خوف بنا دے، واقعی جھوٹا ہو سکتا ہے؟‘‘ اور یہ صرف چند افراد کی بات نہیں، جلد ہی، ہزاروں صحابہ قربانی کی اَن گنت مثالیں پیش کرنے والے تھے۔ وہ سب اتنی حیرت انگیز ثابت قدمی کا مظاہرہ کیسے کر سکے؟ ہم ایک ایسے مذہب کی بات کر رہے ہیں جس نے اُن کی روحوں پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ کیا یہ واقعی صرف ایک آدمی کا تصور ہو سکتا تھا؟ کیا یہ محض اِن کی اپنی گھڑی ہوئی کہانیاں تھیں؟ کیا ایک ایسا عقیدہ جو مکمل طور پر سچائی پر مبنی نہ ہو، لوگوں کو اتنا مضبوط بنا سکتا ہے؟ لیکن قریش ابھی تک اِن باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ اور یوں، مشکل دن شروع ہو چکے تھے۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں، محمد (ﷺ) نے اس مذہب کا کھلے عام اعلان نہیں کیا تھا۔ لیکن اُن کا لایا ہوا پیغام الٰہی، تب بھی خاموشی کے ساتھ، ایک سے دوسرے شخص تک پھیل رہا تھا۔ کچھ لوگ اِسے سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے، اور کچھ کو اندازہ ہی نہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ جبکہ کچھ اِسے ایک آفت، ایک سنگین خطرے کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ قریش کے سرداروں نے یوں ظاہر کیا جیسے اُنہیں کوئی پرواہ ہی نہ ہو۔ لیکن جب اُنہوں نے دیکھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں، تو اُنہوں نےنبی پاک ﷺ کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ اُنہوں نے ایسی تہمتیں لگا کر اُن کے کردار کو داغ دار کرنے کی کوشش کی جن پر اُنہیں خود بھی یقین نہیں تھا۔ وہی شخص جسے وہ کبھی الامین، یعنی امانت دار کہتے تھے، اب اُسے ہی کھلے عام جھوٹا، کاہن، اور جادوگر کہنے لگے، معاذ اللہ۔ عام طور پر، کسی شخص کی ساکھ کو تباہ کرنے کا یہی سب سے موثر طریقہ ہو سکتا تھا۔ لیکن اب، سچائی کو جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا۔ لہٰذا وہ مسلمانوں کو اذیت دینے کے سوا کچھ نہ کر سکے۔ مگر ایک چیز کا اُنہیں احساس نہ تھا: اسلام سورج کی طرح تھا۔ جسے قریش، اور نہ ہی کوئی اور، بجھا سکتا تھا۔ دن بہ دن، اُن کے اپنے ہی لوگ تاریکی سے نکل کر روشنی کے گرد جمع ہو رہے تھے۔ پہلے تین سالوں میں،ابتدائی مسلمانوں کو خطرے سے بچانے کے لیے، اسلام کی دعوت خفیہ طور پر، بند دروازوں کے پیچھے جاری رہی۔ لیکن خفیہ ہونے کے باوجود، ایک ایسی جگہ کی ضرورت تھی جہاں اللہ کی آیات سکھائی جا سکیں اور جہاں مسلمان یکجا ہو سکیں۔ کیونکہ ایسی جگہ کے بغیر، نئے مسلمان اپنا مذہب کیسے سیکھ سکتے تھے؟ اُنہیں ایک مدرسے کی ضرورت تھی – ایک ایسی درسگاہ، جہاں وہ اپنے ایمان کی تربیت کر سکیں۔ مگر وہ جگہ کہاں بن سکتی تھی؟ وہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کا گھر نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ ہر کوئی اُنہیں جانتا تھا۔ وہاں آنے جانے والا ہر شخص فوراً نظروں میں آ جاتا۔ وہ زبیر اور طلحہ (رضی اللہ عنھم) کا، یا پھر عثمان (رضی اللہ عنہ) کا گھر بھی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ یہ سب جانے پہچانے نام تھے۔ اُن کے گھروں میں جانا مسلمانوں کو سنگین مصیبت میں ڈال سکتا تھا۔ اِس میں بہت زیادہ خطرہ تھا۔ اللہ کے رسول (ﷺ) نے دوسرے پہلوؤں پر غور کیا۔ لیکن جو راستہ بھی آپ سوچتے، وہ کسی بند گلی کی طرف جاتا دکھائی دیتا۔ صورتحال انتہائی مایوس کن تھی۔ صحابہ اپنے دین کو زیادہ سے زیادہ اور آزادی سے سیکھنا چاہتے تھے۔ اُن کے دلوں میں ایمان کی پیاس تھی، لیکن اُن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، اور اُنہیں کوئی حل سُجھائی نہیں دے رہا تھا۔ مگر جب لگتا ہے کہ ساری امیدیں ختم ہو چکی ہیں، تب ہی اللہ فرعون کے محل سے موسیٰ (علیہ السلام) کو نکال لاتا ہے۔ اور اِس امت کا فرعون کون تھا؟ جیسا کہ اللہ کے رسول (ﷺ) نےفرمایا، وہ ابو جہل تھا۔ چنانچہ اللہ نے اُسی کے خاندان سے ایک ہیرو کھڑا کر دیا۔ اِس مسئلے کا حل کوئی اور نہیں بلکہ ایک 17 سالہ نوجوان تھا، ارقم ابن ابی الارقم (رضی اللہ عنہ)۔ وہ مسلمان ہو چکے تھے اور اُن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ پورے مکہ شہر میں اُن کا گھر خوبصورت ترین گھروں میں سے ایک تھا۔ اپنے کشادہ ہال، پُرسکون باغ اور بڑی جگہ کے ساتھ، وہ گھر واقعی خوبصورت تھا۔ یہ گھر صفا کی پہاڑی پر واقع تھا، یعنی یہ لوگوں کی نظروں سے دور اور یوں محفوظ بھی تھا۔ اِس میں وہ سب کچھ تھا جس کی اللہ کے رسول (ﷺ) کو تلاش تھی۔ یہ جگہ وہ مدرسہ (اسکول) بن سکتی تھی جسے وہ شروع سے تلاش کر رہے تھے۔ لیکن کیا ارقم اِس پر راضی ہوں گے؟ یہ ایک بہت بڑا خطرہ ہوگا۔ اُن دنوں، جو بھی ایسے کام کے لیے اپنا گھر کھولتا، وہ پورے مکہ کا فوری نشانہ بن جاتا۔ خاص طور پر جب کسی کا رشتہ دار ابوجہل جیسا شخص ہو، کیونکہ بت پرستوں کے لیے، اپنے ہی رشتہ داروں کو تشدد کا نشانہ بنانا سب سے آسان کام تھا۔ اور باہر اُن کے ہاتھوں مسلمانوں کا یہ حال دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا بالکل بھی آسان نہ تھا۔ مگر اِس کے باوجود، ارقم نے ہاں کہہ دیا۔ اب ذرا سوچیے۔ ایک نو بیاہتا نوجوان۔ وہ کہہ سکتا تھا، ’’مجھے بس یہاں اپنی بیوی کے ساتھ پُرسکون زندگی گزارنے دیں،‘‘ لیکن ایسا نہیں کیا۔ اُنہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے وہ خطرہ مول لیا۔ اور اپنے دین کی خاطر اپنے گھر کے دروازے کھول دیے۔ اور اُس دن کے بعد سے، وہ صرف ایک گھر نہ رہا، بلکہ ایک درسگاہ بن گیا۔ جسے تاریخ ’دارِ ارقم‘ کے نام سے جانتی ہے۔ وہاں بہت سی سچائیاں سیکھی جانی تھیں، اور بہت سے اہم فیصلے کیے جانے تھے۔ اگر یثرب کو ایک دن مدینہ بننا تھا، اگر اسلام کو دنیا کے ہر کونے تک پہنچنا تھا، تو اُس کی بنیادیں اِسی جگہ رکھی جانی تھیں۔ ہر وہ خوبی جس کی تلاش محمّد (ﷺ) اور اُن کے صحابہ کر رہے تھے، وہ اِس گھر میں موجود تھی۔ دوسری طرف، کسی نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ابو جہل کے اپنے ہی خاندان سے کوئی شخص، اور وہ بھی ایک 17 سالہ لڑکا، ایسا کام کر جائے گا۔ جب ہم صحابہ کے بارے میں سوچتے ہیں، تو عمر دراز، اور بہت سنجیدہ مردوں کا تصور اُبھرتا ہے۔ مگر حقیقت میں، بہت سے نمایاں صحابہ حضرت ارقم کی طرح نوجوان ہی تھے۔ مثال کے طور پر، قبولِ اسلام کے وقت، علی (رضی اللہ عنہ) کی عمر صرف 10 سال تھی۔ عبداللہ ابن عمر 13 سال کے تھے۔ زید بن حارثہ 15 سال کے تھے۔ عبداللہ ابن مسعود اور زبیر بن العوام کی عمریں 16 سال تھیں۔ طلحہ بن عبید اللہ، عبدالرحمٰن بن عوف، ارقم بن ابی الارقم، اور سعد بن ابی وقاص 17 سال کے تھے۔ مصعب بن عمیر 18 سے 20 سال کے درمیان تھے۔ اور جعفر بن ابی طالب 22 سال کے تھے۔ وہ بالکل بھی بڑی عمر کے نہیں تھے۔ اور تین سال تک، صحابہ کرام قریش کی نظروں سے اوجھل دارِ ارقم میں جمع ہوتے رہے۔ اور اِس دوران، اُنہوں نے اپنے دلوں کو ایمان کی حقیقتوں سے منور کیا۔ لیکن کیا اسلام کی دعوت ہمیشہ، اِسی طرح خفیہ رہتی؟ یقیناً نہیں۔ تب تک، کم و بیش، قریش میں یہ خبر پھیل چکی تھی، اور اب اِسے چھپانے کی کوئی وجہ باقی نہ رہی تھی۔ اِس سچائی کو ہر ایک پر ظاہر کرنا ضروری تھا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ خفیہ دعوت سے عوامی دعوت کی طرف قدم بڑھایا جائے۔ لیکن نبی پاک (ﷺ) شروعات کہاں سے کرتے؟ اور کیسے؟ تب اللہ کا حکم نازل ہوا۔ ’’اور آپ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو خبردار کیجیے۔‘‘ اِس وحی نے آپ ﷺ کے دل پر ذمہ داری کا بوجھ مزید بڑھا دیا۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ آپ اجنبیوں سے تو بہت سی باتیں کر سکتے ہیں، لیکن اپنے ہی رشتہ داروں کو قائل کرنا سب سے مشکل کاموں میں سے ایک ہے۔ نبی پاکﷺ اِس ذمہ داری کے احساس سے اتنے مغلوب ہوئے کہ کئی دنوں تک گھر سے باہر نہ نکلے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک منصوبہ بنایا۔ اور اپنے رشتہ داروں کو رات کے کھانے کی دعوت دی۔ کھانا تیار کیا گیا، اور عبدالمطلب کے بیٹے دعوت کے مطابق گھر آئے۔ تقریباً 40 لوگ جمع ہوئے، جن میں ابولہب بھی شامل تھا۔ جب سب کھانے کے لیے بیٹھے تو نبی پاک ﷺ نے گوشت کے ٹکڑے کیے اور فرمایا، ’’کھائیے۔ بسم اللہ۔‘‘ لیکن آپ ﷺ نے خود کھانے کو ہاتھ نہ لگایا۔ آپ ﷺ بات کرنے کے لیے مناسب وقت کا انتظار کر رہے تھے اور اُن الفاظ کے بارے میں سوچ رہے تھے جو آپ کو کہنے تھے۔ جب سب پیٹ بھر کر کھا چکے، تو جو کچھ اُنہوں نے دیکھا اُس پر وہ حیران رہ گئے۔ ’’جو میں دیکھ رہا ہوں وہی دیکھ رہے ہو تم؟‘‘ ’’ہاں بالکل۔ آخر یہ ہوا کیسے؟‘‘ برکت کا یہ معجزہ اُسی دسترخوان پر رونما ہوا تھا۔ باوجود اس کے کہ وہ پیٹ بھر کر کھا چکے تھے، کھانا جوں کا توں موجود تھا، جیسے کسی نے اُس میں سے ایک لقمہ بھی نہ لیا ہو۔ حضرت علی (رضی اللہ عنہ)، جو وہاں موجود تھے، اُس وقت وہ صرف 13 سال کے تھے، بعد میں بتایا کرتے تھے، ’’وہ کھانا جو میں نے اُن سب کو پیش کیا، وہ اُن میں سے صرف ایک شخص کے لیے کافی تھا۔‘‘ وہ ابھی اِس معجزے کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ جیسے ہی نبی پاک ﷺ بات کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، ابولہب نے مداخلت کی اور چِلّانا شروع کر دیا، ’’ہم نے ایسا جادو پہلے کبھی نہیں دیکھا!‘‘ یہ ایک واضح معجزہ تھا جو اُن کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا، لیکن ابولہب کا دل اور دماغ اِسے سمجھنے سے قاصر تھا۔ اللہ نے اِن کے پاس ایک نبی بھیجا تھا۔ اور یقیناً، لوگوں کو کسی نہ کسی ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر نبی کی طرح، آپ ﷺ کو بھی معجزات دیے گئے تھے۔ مثال کے طور پر، اگر اللہ اپنے کسی ایک بندے کے لیے فطرت کا کوئی قانون، عام حالات سے ہٹ کر بدل دے، تو یہ اِس بات کا واضح ثبوت ہوگا کہ اُسے واقعی اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ اِسی لیے معجزات ضروری تھے۔ اور بطور نبی آپ ﷺ کی پوری زندگی میں بہت سے معجزات دیکھے جانے تھے۔ لیکن پھر بھی، ابولہب نے اِس معجزے کو محض جادو قرار دیا۔ اُس کے الفاظ سخت سے سخت تر ہوتے جا رہے تھے۔ ’’میں نے کبھی کسی کو اپنے خاندان کے لیے اتنی برائی اور نحوست لاتے نہیں دیکھا جتنی تم لائے ہو!‘‘ وہ تکلیف دہ جملے کستا رہا اور اُس نے اُس موقع کو خراب کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نبی پاک ﷺ کو بات کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔ اور ایک ایک کر کے، اُن کے رشتہ دار اٹھے اور خاموشی کے ساتھ گھر سے چلے گئے۔ ذرا سوچیے تو سہی۔ اِس حکم الٰہی کی وجہ سے، آپ ﷺ کئی دنوں تک اپنے گھر سے نہیں نکل سکے تھے۔ مِلے جُلے جذبات کے ساتھ، آپ ﷺ نے اپنی تیاریاں کی تھیں۔ ایک ایک لفظ کے بارے میں احتیاط سے سوچا تھا جو وہ کہنے والے تھے۔ لیکن ایک ہی لمحے میں، ابولہب کی باتوں نے سب کچھ تہس نہس کر دیا، اور منصوبہ بگڑ گیا۔ اور بس اِس طرح، اِس طویل اور تھکا دینے والے دن کا ایک مایوس کن انجام ہوا۔ ابولہب نبی ﷺ کے چچاؤں میں سے ایک تھا۔ لیکن آنے والے برسوں میں، وہ اسلام کے بدترین دشمنوں میں سے ایک بن گیا۔ شدید تھکن کے لمحات میں بھی، نبی کریمﷺ ہمیشہ اُسی عزمِ کے ساتھ دوبارہ اٹھ کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔ اُنہوں نے مایوسی کو کبھی اپنے دل پر طاری نہیں ہونے دیا۔ ہر بار، وہ خود کو سنبھالتے اور پہلے سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ اپنے راستے پر چل پڑتے۔ اگلے ہی دن، آپ ﷺ نے اپنے رشتہ داروں کو دوبارہ مدعو کیا۔ جیسے ہی مہمان آنا شروع ہوئے، تو ابولہب بھی وہاں پہنچ گیا۔ لیکن اِس بار، نبی پاک ﷺ محتاط تھے۔ سب بیٹھے اور اپنا کھانا کھایا۔ اور پھر وہ لمحہ آ گیا۔ اِس سے پہلے کہ ابولہب ایک لفظ بھی کہہ پاتا، نبی پاک ﷺ کھڑے ہوئے اور بات شروع فرمائی۔ اب آئیے اُس محفل کے لوگوں کی طرح ہم خود کو بھی وہیں موجود تصور کریں ’’تمام تعریفیں اور شکر صرف اللہ ہی کے لیے ہے۔ اور میں بھی اُسی کی تعریف اور شکر بجا لاتا ہوں۔ میں صرف اُسی سے مدد مانگتا ہوں۔ میں اُس پر ایمان رکھتا ہوں اور اُسی پر بھروسہ کرتا ہوں۔ میں، کامل یقین کے ساتھ، تمہارے سامنے اعلان کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ ایک ہے، اور اُس کا کوئی شریک یا برابر نہیں۔‘‘ یہ الفاظ کہنے کے بعد، آپ ﷺ نے اپنا مقصد اِس طرح واضح کیا: ’’یقیناً، راہ دکھانے والا اپنے ہی خاندان سے جھوٹ نہیں بولے گا۔ اللہ کی قسم، اگر میں نے پوری انسانیت سے جھوٹ بولا ہوتا، تب بھی میں کبھی تم سے جھوٹ نہ بولتا۔ اگر میں نے تمام لوگوں کو دھوکہ دیا ہوتا، تب بھی میں تمہیں کبھی دھوکہ نہ دیتا۔ میں تمہیں اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہوں، جو ایک اور اکیلا معبود ہے۔ اور میں اُس کا رسول ہوں، جو خاص طور پر تمہاری اور تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔‘‘ آپ ﷺ نے اپنے پیغام کا خلاصہ کیا اور پھر اپنی بات جاری رکھی، ’’اللہ کی قسم، جس طرح تم سو جاتے ہو، اِسی طرح تمہیں موت آئے گی۔ اور جیسے تم بیدار ہوتے ہو، اِسی طرح دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے۔ اور تم سے اُن تمام کاموں کا حساب لیا جائے گا جو تم نے کیے ہیں۔ جو لوگ بھلائی کریں گے اُنہیں اچھا صلہ دیا جائے گا، اور جو برائی کریں گے اُنہیں اُسی کے مطابق سزا دی جائے گی۔‘‘ آپ ﷺ کا ادا کیا ہوا ہر لفظ براہِ راست دل سے نکلا تھا۔ آپ ﷺ نے جنت اور دوزخ کا ذکر فرمایا، اور اپنا خطاب اِسی طرح جاری رکھا۔ آخر کار، آپ ﷺ نے اپنے رشتہ داروں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا، ’’میں تمہیں دو ایسے کلموں کی دعوت دیتا ہوں جو زبان پر ہلکے ہیں لیکن اعمال کے ترازو میں بھاری ہیں۔ ‏اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمّداً رَّسُوْلُ اللہ۔ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں)۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا، ’’تو تم میں سے کون میری پکار پر لبیک کہے گا اور میرا حامی اور مددگار بنے گا؟‘‘ لیکن وہاں خاموشی چھا گئی۔ کسی نے اپنا سر نہیں اٹھایا۔ ایک آواز بھی سنائی نہ دی۔ پھر، صرف 13 سال کی عمر کے باوجود، ایک بہادر آواز نے اِس خاموشی کو توڑ دیا۔ وہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کی آواز تھی۔ ’’اے اللہ کے رسول ﷺ، میں آپ کی مدد کروں گا، اگرچہ میں عمر میں اِن سب سے چھوٹا ہوں۔‘‘ نبی پاک (ﷺ) نے دوبارہ پوچھا۔ مگر اُن تمام 40 لوگوں میں سے کوئی دوسرا جواب نہ آیا۔ ہر کوئی یہ دیکھنے کا منتظر تھا کہ کیا کوئی اور بھی آگے بڑھتا ہے۔ آپ ﷺ نے تیسری بار پوچھا۔ ’’تم میں سے کون میری پکار پر لبیک کہے گا اور میرا حامی اور مددگار بنے گا؟‘‘ آپ ﷺ کو امید تھی کہ شاید کوئی اور آواز سنائی دے۔ لیکن ہر بار، صرف حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے ہی اپنا ہاتھ اٹھایا۔ مگر وہ ایک ہاتھ، تنِ تنہا بھی کافی تھا۔ یہی وہ ہاتھ تھا جس کی نبی پاک ﷺ کو ضرورت تھی۔ درحقیقت، اگر آپ نبی پاک ﷺ کی زندگی پر نظر ڈالیں، تو آپ دیکھیں گے کہ جب بھی ضرورت پڑی، تو حضرت علی (رضی اللہ عنہ) ہی تھے جو آگے بڑھے۔ تو کیا خاندان میں سے کسی اور نے جواب نہیں دیا؟ اُس رات وہاں ایک طویل بات چیت ہوئی، لیکن دو اہم رویے نمایاں ہو کر سامنے آئے: ایک ابوطالب اور دوسرا ابولہب کا۔ وہ دونوں آپ ﷺ کے چچا تھے، مگر اُن کا ردعمل ایک دوسرے کا بالکل الٹ تھا۔ ابولہب کا رویہ نہیں بدلا۔ اُس نے کہا: ’’اے عبدالمطلب کے بیٹو!

میں قسم کھاتا ہوں کہ یہ شر ہے! اِس سے پہلے کہ دوسرے اِسے اپنے ہاتھوں سے پکڑیں اور روکیں، تمہیں خود اِسے پکڑنا اور روکنا چاہیے! اگر تم نے آج اِس کی بات مان لی، تو تمہیں ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا! اور اگر تم نے اِس کی حفاظت کی کوشش کی، تو مارے جاؤ گے!‘‘ وہ اِس دعوت کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن اُس کے سامنے ابوطالب کھڑے تھے۔ وہ اُس کے الفاظ پر شدید غصے میں تھے۔ ’’ بزدل شخص! اللہ کی قسم! جب تک ہم زندہ ہیں، ہم اِس کی مدد اور حفاظت کریں گے! اے میرے بھتیجے، جب بھی تم لوگوں کو دعوت دینا چاہو، ہمیں بتا دینا، ہم مُسَلَح ہو کر تمہارے ساتھ نکلیں گے!‘‘ تاہم، ابوطالب کی حمایت ایمان سے مَزَیَّن نہ ہو سکی۔ اُنہوں نے کہا...

’’میں نے خود کو عبدالمطلب کا مذہب چھوڑنے پر آمادہ نہیں پایا، لہٰذا میں اُسی مذہب پر مروں گاجس مذہب پر رہ کر وہ فوت ہوئے تھے۔‘‘ چنانچہ نبی پاک ﷺ کو وہ نتیجہ نہ ملا جس کی اُنہوں نے امید کی تھی، اور تمام مہمان خاموشی سے چلے گئے۔ اب کوئی دوسرا راستہ نکالنا ضروری تھا۔ آپ ﷺ مایوسی کو غالب نہیں آنے دے سکتے تھے۔ لوگ اِسے قبول کریں یا نہ کریں، اُن کی ذمہ داری واضح تھی: خبردار کرنا، دعوت دینا، اور پیغام پہنچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا۔ آپ ﷺ کو بس ایک ترکیب کی ضرورت تھی، کوئی ایسا طریقہ جس سے مکہ کے لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے اپنی بات سنائی جا سکے۔ آپ ﷺ مستقل سوچتے رہے، اور آخر کار آپ ﷺ کو وہ راستہ مل گیا۔ ایک دن مکہ میں ایک بلند آواز سنائی دی۔ ’’یا صباحاہ!

یا صباحاہ!‘‘ (صبح کی اِس آفت سے بچو!) وہ آواز کیسی تھی؟ وہ صفا کی پہاڑی سے آ رہی تھی۔ لوگ دیکھنے کے لیے بے تابی سے باہر نکل آئے کہ کیا ہو رہا ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک بڑا ہجوم جمع ہو گیا۔ وہاں قریش کے ہر خاندان سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے۔ مگر ایسی کیا اہم بات تھی جس نے اتنے سارے لوگوں کو اکٹھا کر دیا تھا؟ اِس پکار کا کیا مطلب تھا؟ یہ ایک طرح کا ایمرجنسی سگنل تھا۔ جب مکہ کے لوگ یہ آواز سنتے، تو وہ سمجھ جاتے تھے کہ کوئی سنگین بات ہوئی ہے۔ کوئی بہت ضروری خبر ہے۔ جب وہ جمع ہوئے، تو اُنہوں نے دیکھا کہ وہ نبی پاک ﷺ تھے جو پکار رہے تھے۔ ابولہب بھی وہاں موجود تھا۔ اور ہر کوئی حیران تھا کہ نبی پاک (ﷺ) کیا کہیں گے۔ تب آپ ﷺ نے اپنا وہ مشہور اور ناقابلِ فراموش خطاب فرمایا۔ "اگر میں تم سے کہوں کہ اِس پہاڑ کے پیچھے یا اس وادی میں دشمن گھوڑوں پر سوار ہیں اور وہ تم پر صبح یا شام کو حملہ کر دیں گے، تو میری بات کا یقین کرو گے؟‘‘ ’اُن سب نے کہا، ’’ہاں، ہم آپ پریقین کریں گے۔‘‘ تب آپ ﷺ نے فرمایا، ’’تو پھر جان لو کہ میں تمہیں اُس بڑے عذاب سے ڈرانے کے لیے آیا ہوں جو تمہارے سامنے آنے والا ہے۔ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو آخرت کے عذاب سے خبردار کروں۔ میں تمہیں اِس بات کی دعوت دیتا ہوں کہ ’اللہ ایک ہے، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘ میں اُس کا بندہ اور اُس کا رسول ہوں۔ اگر تم میری بات قبول کر لو، تو میں ضمانت دیتا ہوں کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ اور یہ بھی جان لو: جب تک تم یہ نہیں کہو گے کہ،’اللہ ایک ہے، اُس کے سوا کوئی معبود نہیں،‘ میں نہ تو اِس دنیا میں تمہاری مدد کر سکوں گا اور نہ آخرت میں۔‘‘ ابولہب غصے سے پاگل ہو گیا تھا۔ وہ اپنے خاندان کے اندر بھی اِس دعوت کو برداشت نہیں کر سکا تھا۔ اور اب اللہ کے رسول ﷺ تمام قریش سے مخاطب تھے۔ اِس کے بعد اُس نے جو حرکت کی، اُس نے ساری حدیں پار کر دیں۔ ایک بار پھر، اُس نے اسلام کے پیغام کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی۔ وہ غصے میں نیچے جھکا، کوئی چیز اٹھائی، اور اپنے بھتیجے کی طرف پھینکتے ہوئے چِلّایا، ’’تیرے ہاتھ برباد ہوں!

کیا تو نے ہمیں اس لیے یہاں بلایا تھا؟‘‘ اُس نے جو کچھ پھینکا، وہ درحقیقت اللہ کے دین پر پھینکا گیا تھا، خود وحیِ الٰہی کی طرف۔ وہ الفاظ ایک ایسی پکار کے جواب میں کہے گئے تھے جو سراسر رحمت تھی، جو ابَدی جنت کی ایک دعوت تھی۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ نبی (ﷺ) کے لیے کتنا تکلیف دہ رہا ہوگا؟ اُن کا اپنا چچا، جس سے اُنہیں سب سے زیادہ تعاون کی امید تھی، اُن کے ساتھ ایسا سلوک کر رہا تھا۔ اُس لمحے کے بعد سے، ابولہب اور اُس کی بیوی دونوں نے اپنی زندگیاں نبی پاک (ﷺ) کو تکلیف پہنچانے کی کوشش میں گزار دیں۔ اِس ایک حرکت سے، اُس نے اپنی تقدیر پر مہر لگا دی۔ پھر سورت المسد (کھجور کی رسی) نازل ہوئی جس نے اُس کے ہولناک انجام کی پیش گوئی کر دی۔ اِس سورت میں، اللہ نے فرمایا: ’’ہاتھ ابو لہب کے برباد ہوں، اور وہ خود برباد ہو چکا ہے۔ اُس کی دولت اور اُس نے جو کمائی کی تھی، وہ اُس کے کچھ کام نہیں آئی۔ وہ بھڑکتے شعلوں والی آگ میں داخل ہوگا۔ اور اُس کی بیوی بھی، لکڑیاں ڈھوتی ہوئی۔ اپنی گردن میں کجھور کی رسّی لیے ہوئے۔‘‘ اِن آیات نے یہ بالکل واضح کر دیا کہ وہ جہنم میں جائے گا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ کبھی ایمان نہیں لائے گا۔ درحقیقت، اگر آپ اِسے ظاہری طور پر دیکھیں، تو یہ ایک بہت بڑا خطرہ معلوم ہوتا تھا۔ کیونکہ اگر ابولہب آخر کار ایمان لے آتا، تو یہ آیات غلط ثابت ہو جاتیں۔ بلکہ اگر وہ صرف ایمان لانے کا ناٹک بھی کرتا، تب بھی نتیجہ یہی نکلتا۔ چاہے وہ سچے دل سے اسلام لاتا یا صرف اِسے غلط ثابت کرنا چاہتا، اُسے صرف اتنا کہنا تھا کہ ’’میں ایمان لایا۔‘‘ تو پھر کیا ہوا؟ یہ سورت نازل ہونے کے بعد، وہ سات سال مزید زندہ رہا۔ لیکن اُس کی نفرت کبھی کم نہ ہوئی۔ وہ کفر کی حالت میں ہی مرا۔ ابولہب اسلام سے نفرت کرتا تھا اور اِس دین کو نقصان پہنچانے کے لیے کچھ بھی کر گزرتا۔ تو پھر کس چیز نے اُسے اتنا سنہری موقع استعمال کرنے سے روکے رکھا؟ اور اِس سے بڑھ کر یہ کہ، اگر نبی پاک ﷺ کا پیغام جھوٹا یا من گھڑت ہوتا، تو وہ اتنا بڑا خطرہ کیسے مول لے سکتے تھے؟ جواب سادہ تھا۔ اللہ یہی چاہتا تھا۔ وہی ہے جو ماضی، مستقبل اور اِن کے درمیان کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ چنانچہ ایک معجزے کے طور پر، اُس نے ابولہب کے اُس ہولناک انجام کو واقع ہونے سے پہلے ہی ظاہر کر دیا جو وہ خود اپنے اوپر لانے والا تھا۔ اور نبی پاک ﷺ نے، ذرّہ برابر ہچکچاہٹ کے بغیر، یہ پیغام پہنچا دیا کیونکہ اُنہیں وحی بھیجنے والے پر پورا بھروسہ تھا۔ لیکن ابولہب اِس بات کو سمجھنے کے قابل بھی نہ تھا۔ نبی پاک ﷺ کی باتوں کا کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ اُنہوں نے ایک ایسی بات سنی تھی جو اُن کی زندگی میں سنی گئیں تمام باتوں سے یکسر مختلف تھی۔ اور پھر بھی، اُنہوں نے کچھ نہ کہا۔ وہ بس آپس میں سرگوشیاں کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ اُس دن کے بعد سے، اسلام کی دعوت اب خفیہ نہیں رہی تھی۔ کھلے عام دعوت کا دور شروع ہو چکا تھا۔ یہ ایک فیصلہ کُن موڑ تھا۔ نبی پاک (ﷺ) نہ صرف اُن کے اپنے قبیلے، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک ایسا پیغام بانٹ رہے تھے جو ابَدی خوشی کی طرف لے جاتا ہے۔ لیکن اِس کی قیمت سستی نہیں تھی۔ اُنہیں اَن گنت توہین، جبر، تشدد اور جھوٹ کا سامنا کرنا پڑنے والا تھا۔ اُنہیں اُنہی لوگوں کی طرف سے ہر طرح کے مظالم سہنے تھے، جنہیں وہ ابَدی نقصان سے بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہیرے اور کوئلے، سونے اور تانبے کو اب ایک دوسرے سے الگ ہونا تھا۔ یہ پھر ویسا ہی ایک دن تھا۔ نبی کریم (ﷺ) کعبہ کے سامنے نماز پڑھ رہے تھے۔ اُن کے ارد گرد موجود لوگ نفرت اور غصے بھری نظروں سے اُنہیں دیکھ رہے تھے۔ اُن لوگوں کے مذاق اور توہین کو نظر انداز کرتے ہوئے، آپ ﷺ نماز پڑھتے رہے۔ لیکن وہ نظریں ایک ہولناک واقعے کی علامت تھیں جو عنقریب ہونے والا تھا۔ آپ ﷺ سجدے میں تھے، جو شاید اُن کے پُرسکون ترین لمحات میں سے ایک تھا۔ لیکن بے رحم بت پرستوں کو وہ موقع مل گیا تھا جس کی وہ تلاش میں تھے۔ جبکہ نبی پاک ﷺ آنے والی آفت سے بے خبر تھے، اُن لوگوں نے اونٹ کی اوجھڑی بالکل آپ ﷺ کے کاندھوں پر پھینک دی۔ چِلچِلاتی دھوپ میں، اُس کی ناگوار بُو مزید ناقابلِ برداشت ہو گئی۔ آپ ﷺ کا سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ ابوجہل قہقہے لگا رہا تھا۔ یہ اُسی کا منصوبہ تھا۔ ایسا گھناؤنا طریقہ استعمال کر کے، اُس نے اُس سچائی کو نیچا دکھانے کی کوشش کی تھی، جسے وہ دلیل سے شکست نہیں دے سکا تھا۔ لیکن دم گُھٹنے کے باوجود بھی، وہ کیا چیز تھی، جس نے نبی پاک ﷺ کو اپنی نماز توڑنے سے روکے رکھا؟ جب اُن کے ارد گرد بت پرست ہنس رہے تھے اور اُن کا مذاق اڑا رہے تھے، تو کس چیز نے اُنہیں اپنی نماز جاری رکھنے پر آمادہ کیا؟ کیا وہ وہی شخص نہ تھے جن کا چند سال پہلے تک قریش میں بے حد احترام کیا جاتا تھا؟ تمام تر توہین کے باوجود، کس چیز نے اُنہیں اتنا ثابت قدم بنا دیا تھا؟ تھوڑی دیر بعد، اُن کی بیٹی حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے، جو اُس وقت ایک بچی تھیں، اُنہیں اِس حالت میں دیکھا تو وہ دہل کر رہ گئیں۔ وہ پکار اٹھیں، ’’اَبَتی، اَبَتی!

(میرے پیارے بابا، میرے پیارے بابا!)‘‘ اِس منظر نے اُن کے معصوم دل کو ہلا کر رکھ دیا۔ وہ اپنی آنکھوں میں آنسو لیے اپنے والد کی طرف دوڑیں۔ اُنہوں نے آپ ﷺ کے کاندھوں سے وہ اوجھڑی ہٹائی اور آپ ﷺ کو صاف کرنے کی کوشش کی۔ پھر وہ اُن بے رحم مردوں پر غصے سے چِلّائیں، اور اُنہیں برا بھلا کہا۔ ’’محمد نے ہمارے نام لیے اور ہمیں بددعا دی ہے!

کیا ہوگا اگر اللہ نے اِس کی دعا قبول کر لی اور ہمیں برباد کر دیا؟‘‘ ایک بچہ اپنے باپ کو اِس حال میں تو کبھی کسی صورت نہیں دیکھنا چاہے گا۔ نبی پاک ﷺ ایک عام، آرام دہ زندگی گزار سکتے تھے۔ تو پھر اُنہوں نے ان تمام تکالیف سے گزرنے کا انتخاب کیوں کیا؟ جی ہاں، وہ کوئی ایسی ہستی نہ تھے جنہیں اللہ کبھی ضائع ہونے دیتا۔ تمام سوالات کا ایک ہی جواب تھا۔ اُن کے مقصد کا اخلاص اور سچائی۔ کعبہ اِس طرح کے مظالم کا گواہ بن رہا تھا۔ اگرچہ کعبہ وہیں چند قدم کے فاصلے پر تھا، مگر مُٹھی بھر صحابہ اب بھی وہاں آزادی سے عبادت نہیں کر سکتے تھے۔ اور جنہوں نے جانے کی جرأت کی، اُنہیں اُن خطرات کو قبول کرنا پڑا جو اُن کے راستے میں آ سکتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اُن کی تعداد کم ہے۔ وہ خطرہ محسوس کرتے تھے۔ لیکن پھر بھی، وہ سب کے سامنے سچائی کا نعرہ بلند کرنا چاہتے تھے۔ ایمان سے روشن دل کے لیے، خاموش رہنا اور کچھ نہ کرنا کوئی آپشن ہی نہ تھا۔ خاص طور پر اگر وہ دل نبی پاک(ﷺ) کے کسی صحابی کا ہو۔ ایک دن، اُنہوں نے نبی پاک ﷺ کو کعبہ کے پاس چلنے پر آمادہ کیا، اور وہاں جا کر بیٹھ گئے۔ اسلام کے دشمنوں کا ایک گروہ بھی وہاں موجود تھا۔ وہ ایک خطرناک لمحہ تھا۔ لیکن حضرت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) اُن گہری سچائیوں کو نہ روک سکے جو اُن کے دل میں اتر چکی تھیں۔ وہ یہ سچائی بانٹنے کی اپنی خواہش پر قابو نہ پا سکے۔ وہ اُس گروہ کی طرف مڑے اور بلند آواز میں بات شروع کر دی۔ اُنہوں نے اللہ پر ایمان لانے کی عظمت بیان کی اور یہ کہ بتوں کی پوجا کرنا کس قدر بے معنی اور بے فائدہ ہے۔ اِن الفاظ نے مشرکین کو شدید اشتعال دلایا۔ ان کے دل پہلے ہی نفرت اور غصے سے بھرے ہوئے تھے۔ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ وہ مزید ضبط نہ کر سکے اور نبی پاک (ﷺ) کی شدید توہین شروع کر دی۔ مگر اُن کے لیے اتنا ہی کافی نہ تھا۔ وہ اپنا غصہ نکالنے کے لیے ابوبکر (رضی اللہ عنہ) پر جھپٹ پڑے۔ اُنہوں نے اُنہیں گھیر لیا اور حملہ شروع کر دیا۔ وہ لگاتار ضربوں کے ساتھ، اُنہیں بے رحمی سے مارنے لگے۔ بات اِس حد تک پہنچ گئی کہ جب وہ زمین پر گر پڑے، تو عتبہ بن ربیعہ اُن کے اوپر چڑھ گیا اور اپنے سخت جوتوں کے ساتھ، اُن کے سر پر وحشیانہ لاتیں مارنا شروع کر دیں۔ لیکن اُس کے لیے یہ بھی کافی نہ تھا۔ ذرّہ برابر رحم دکھائے بغیر، اُس نے پھر ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کا چہرہ زمین پر رگڑنا شروع کر دیا۔ اُن کا چہرہ خون اور غبار سے بھر گیا۔ وہ موت کے دہانے پر تھے۔ اِس ہولناک مار کی وجہ سے، وہ خون میں لت پت ہو کر بے ہوش ہو گئے۔ وہ صرف اپنے قبیلے، بنو تیم کے کچھ لوگوں کی مدد سے ہی اُن کے ہاتھوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگۓ۔ پھر اُنہیں اُن کے گھر لے جایا گیا۔ شام ہوچکی تھی لیکن اُنہیں ہوش نہ آیا تھا۔ مگر اتنی تکلیف سے گزرنے کے بعد بھی، اُن کے پہلے الفاظ یہ تھے: ’’اللہ کے رسول ﷺ کہاں ہیں؟ وہ کیسے ہیں؟‘‘ گویا اُس دن اُنہیں خود یہ مار نہ سہنی پڑی ہو۔ جیسے اُن کے ساتھ کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہ صرف اللہ کے نبی (ﷺ) کے لیے فکر مند تھے۔ وہ اُن توہین آمیز جملوں کے بارے میں سوچ رہے تھے جونبی پاک ﷺ پر کسے گئے تھے۔ اُنہیں فکر تھی کہ کہیں قریش کے لوگوں نے آپ ﷺ کے ساتھ کچھ برا نہ کیا ہو۔ وہ خود خون اور زخموں سے چُور تھے۔ مگر جب اُن سے کہا گیا، ’’آپ بھوکے اور پیاسے ہیں۔ کیا آپ کچھ کھائیں پیئیں گے نہیں؟‘‘ تو اُنہیں نبی پاک ﷺ کی خیریت کی خبر سننے کے سوا کسی چیز کی حاجت نہ تھی۔ ’’ نہیں، میں کچھ نہیں کھاؤں گا اور پانی کا ایک قطرہ تک نہیں پیوں گا، جب تک کہ مجھے رسول الله ﷺ کے بارے میں خبر نہ مل جائے۔‘‘ اُن دنوں کی ایک اور مثال عبداللہ ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) کی ہے۔ کچھ صحابہ میں افسردگی کا احساس تھا اور وہ کسی بات کا شکوہ کر رہے تھے۔ قریش کے سامنے قرآن کھلے عام نہیں پڑھا جا رہا تھا۔ نبی پاک ﷺ کے سوا کسی نے قرآن بلند آواز میں نہیں پڑھا تھا۔ اُنہوں نے سوچا کہ اگر اِسے سرِ عام پڑھا جائے، تو شاید اُن کے ذہن بدل جائیں۔ شاید یہ مشکل دن ختم ہو جائیں۔ شاید وہ آخر کار سچائی دیکھ ہی لیں۔ وہ واقعی چاہتے تھے کہ ایسا ہو۔ لیکن ایسا کرنے کی ہمت کون کرے گا؟ قریش کا رویہ واضح تھا۔ اِس بات کا کوئی امکان نہ تھا کہ تلاوت کرنے والا شخص حملے سے بچ جائے۔ تشدد یقینی تھا۔ جب وہ یہ سب بحث کر رہے تھے، تو ابنِ مسعود جو شاید اُن میں سب سے کمزور تھے۔ وہ ابھی بیس بائیس سال کے ہی تھے۔ یہ اچھی طرح جانتے ہوئے کہ نتیجہ کیا ہوگا، وہ آگے بڑھے اور کہا، ’’میں یہ کروں گا۔‘‘ مگر اُن کے دوستوں نے اُن کی سخت مخالفت کی۔ کیونکہ جب قریش حملہ کرنا چاہیں، تو وہ کوئی ایسا ہونا چاہیے جس کے مضبوط خاندانی تعلقات اُسے بچا سکیں۔ لیکن عبداللہ ابنِ مسعود کے پاس ایسا کوئی تحفظ نہ تھا۔ پھر بھی، وہ اِس ذمہ داری کے لیے تیار تھے۔ کوئی ایسا نہ تھا جس کا سامنا کرنے سے وہ ڈرتے ہوں۔ پھر اگلا دن آیا۔ وہ سچائی کو بلند آواز سے پکارنے کے لیے بے تاب تھے۔ تمام تر حالات کے باوجود، اُنہیں اب بھی امید تھی کہ شاید ایک اور دل اسلام کے لیے کھل جائے۔ شاید صرف ایک اور شخص سچائی کو اپنا لے۔ چاہے وہ صرف ایک شخص ہی کیوں نہ ہوتا، یہ معمولی بات نہیں تھی۔ اُس ایک شخص کے لیے، وہ خطرہ مول لینے کو تیار تھے۔ وہ کعبہ کی طرف بڑھے اور بلند آواز کے ساتھ، اُنہوں نے پڑھا: ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم (اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے)۔‘‘ پھر اُنہوں نے سورۃ الرحمٰن کی تلاوت شروع کی۔ ’’ اَلرَّحْـمٰنُ۔ (بہت مہربان / سب پر رحم کرنے والا) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ۔ (جس نے قرآن کی تعلیم دی) خَلَقَ الْاِنْسَانَ۔ (اُسی نے انسان کو پیدا کیا) عَلَّمَهُ الْبَيَانَ۔‘‘ (اُسی نے اُس کو بیان سکھایا) وہ تلاوت، وہ الفاظ...

اُس سے بالکل مختلف تھے جو اُنہوں نے پہلے کبھی سنے تھے۔ اور پھر بھی، وہ اجنبی محسوس نہیں ہو رہے تھے۔ قریش کے سرداروں کو یہ احساس ہو گیا کہ یہ قرآن ہے۔ اور وہ فوراً عبداللہ بِن مسعود کی طرف لپکے۔ لوگ یہ الفاظ نہ سن پائیں، کیونکہ اگر وہ سن لیتے، تو اُن کے دل پگھل جاتے۔ یہاں تک کہ خود قریش بھی اپنی روحوں پر اِن الفاظ کے پڑنے والے گہرے اثر کا مقابلہ نہ کر سکے۔ وہ دوسرے لوگوں کو اِس کی وضاحت کیسے دیتے جب کہ وہ خود ابھی تک اپنے ذہنوں میں جاری کشمکش سے لڑ رہے تھے ابنِ مسعود کو بت پرستوں نے گھیر لیا تھا۔ بار بار مار کھانے کے باوجود، وہ ہار ماننا نہیں چاہتے تھے۔ اِن الہٰی الفاظ میں، ایک کے بعد ایک، اللہ کی نعمتوں کا ذکر کیا جا رہا تھا۔ اور پھر وہ آیات آئیں: ’’فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ‘‘ "تو تم(انسان اور جنات) اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" اُس ظالمانہ مار کے دوران، عبداللہ سچائی کی پکار بلند کر رہے تھے۔ وہ لمحہ، وہ منظر، اِس بات کی واضح تصویر تھی کہ قریش کتنے بے بس تھے۔ وہ مسلسل یہ آیات دہراتے رہے فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَان یہاں تک کہ اُن کی آواز نکلنا بند ہو گئی۔ جب یہ سب ختم ہو گیا، تو اپنے اُن دوستوں کو، جو اُن کے لیے اداس اور فکر مند تھے، اُن کا جواب یہ تھا: ’’اِس وقت میری نظر میں، اللہ کے دشمنوں میں سے کوئی بھی اِن سے زیادہ کمزور اور اِن سے زیادہ ذلیل نہیں ہے۔ اگر تم چاہو تو میں کل دوبارہ جا سکتا ہوں اور اُنہیں اِسی طرح قرآن سنا سکتا ہوں جتنا میں نے آج سنایا۔‘‘ قریش نے جو کچھ بھی کیا ہو، مگر اگلے دن، وہ ہمیشہ مسلمانوں کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کھڑا پاتے۔ ایک بھی مسلمان اپنے ایمان سے پیچھے نہ ہٹا۔ اور نبی پاک ﷺ نے اپنا مشن کبھی نہیں چھوڑا۔ چاہے اکیلے ہوتے یا محفل میں، قریش خود سے مسلسل یہ سوال کرتے: کون سی چیز محمد ﷺ کو یہ پیغام چھوڑنے پر مجبور کر سکتی ہے؟ کون اِسے ختم کر سکتا ہے؟ ہماری ہر تدبیر ناکام کیوں ہو رہی ہے؟ جب یہ تمام سوالات اُن کے ذہنوں میں گھوم رہے تھے، تو ایک نام سامنے آیا۔ ایک ایسا نام جس پر وہ سب متفق تھے۔ اگر کوئی ایسا شخص تھا جو نبی پاک ﷺ کا ارادہ بدل سکتا تھا، تو وہ وہی تھا۔ وہ شخص جس نے 30 سال سے زائد عرصے تک بچپن سے ایک باپ کی طرح اُن کی پرورش کی تھی۔ اُن کے چچا، ابوطالب۔ ابوطالب مکہ کی معزز ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ بوڑھے تھے، اور اگرچہ اُن کے پاس زیادہ مال و دولت نہیں تھا، پھر بھی لوگ اُن کی عزت کرتے تھے اور اُن کی بات سنتے تھے۔ اُنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، مگر اپنے بھتیجے کے ساتھ اُن کا رشتہ بہت گہرا تھا، جو دہائیوں کی محبت، وفاداری اور باہمی احترام سے پروان چڑھا تھا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا کہ قریش اِس بارے میں اُن کے پاس آئے تھے۔ پچھلی بار، ابوطالب نے ان نرم الفاظ میں جواب دیا تھا۔ اُنہوں نے اُنہیں پُرسکون کیا اور شائستگی سے واپس بھیج دیا تھا۔ لیکن اِس بار، وہ لوگ کہیں زیادہ سنجیدہ تھے۔ وہ اُن کے پاس ایک واضح مطالبہ لے کر آئے تھے: کہ نبی ﷺ کو اُن کے مشن سے روک دیا جائے۔ ’’اے ابوطالب!

آپ ہمارے بزرگوں میں سے، ہمارے شرفاء میں سے ہیں۔ ہم پہلے بھی آپ کے پاس آئے تھے اور کہا تھا کہ اپنے بھتیجے کو روکیں، مگر آپ نے ہماری بات پر عمل نہیں کیا۔ ہمیں بے وقوف قرار دینا اور ہمارے خداؤں کی توہین کرنا...

یا تو آپ اُسے روکیں، یا پھر ہم آپ سے اور اُس سے اُس وقت تک لڑیں گے جب تک ہم میں سے ایک فریق ختم نہ ہو جائے۔‘‘ اُن کی دھمکیوں نے بوڑھے ابوطالب کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اِس بار، وہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور پُرعزم تھے۔ وہ اپنی پوری زندگی اِنہی لوگوں کے درمیان رہے تھے۔ وہ لوگ اُن کا احترام کرتے تھے، اور اُن کی یہ عزت کئی برسوں میں بنی تھی۔ وہ اُن لوگوں کے ساتھ وابستگی کا گہرا احساس رکھتے تھے۔ اور اپنے ہی لوگوں کی طرف سے چھوڑ دیے جانے کا خیال تکلیف دہ تھا۔ مگر دوسری طرف اُن کا بھتیجا تھا۔ وہ ہستی جسے وہ اپنی اولاد سے بھی زیادہ چاہتے تھے۔ اور وہ اِن سے بھی منہ نہیں موڑ سکتے تھے۔ وہ دونوں اطراف سے کشمکش اور پریشانی کا شکار ہو گئے۔ اُن کا دل بوجھل ہو گیا۔ کافی گہری سوچ کے بعد، اُنہوں نے نبی پاک ﷺ کو بلایا اور کہا: ’’میرے پیارے بھتیجے، تمہارے قبیلے کے بڑے لوگ میرے پاس آئے تھے۔ میں تم سے التجا کرتا ہوں کہ مجھ پر اور خود پر رحم کرو۔ ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالو جسے ہم میں سے کوئی بھی نہ اٹھا سکے۔ مہربانی کرو اور ایسی باتیں کہنا چھوڑ دو جو تمہاری قوم کو ناگوار گزرتی ہیں۔‘‘ اپنے چچا کے الفاظ نے نبی پاک (ﷺ) کو رکنے اور ایک لمحے کے لیے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ صورتحال واقعی بہت مشکل تھی۔ وہ عزم جو ابوطالب نے اُس وقت دکھایا تھا جب نبی پاک ﷺ نے اپنے رشتہ داروں کو کھانے پر بلایا تھا، اب کمزور پڑ چکا تھا۔ اُس لمحے تک، ابوطالب ہی اُن کے قبیلے میں اُن کی حفاظت کرنے والے واحد شخص تھے۔ اب، کیا وہ بھی اِن سے منہ موڑ لیں گے؟ کیا وہ بھی اِنہیں تنہا چھوڑ دیں گے؟ اگرچہ یہ الفاظ اُن کے دل پر بھاری اور پریشان کن تھے، لیکن نبی پاک ﷺ جانتے تھے کہ اُن کا اصل محافظ صرف ایک ہی ہے۔ اللہ، جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ اگر پوری دنیا بھی اُن سے منہ موڑ لیتی، تو اِس سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ آخر، نبی پاک ﷺ جانتے تھے کہ سب کچھ اُسی کی مرضی سے ہوتا ہے، اور اُس کی اجازت کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔ یہ اللہ کا دین تھا، اور یہ کسی شخص کا محتاج نہیں تھا۔ اللہ اِسے جس کے ذریعے چاہے اور جس طرح چاہے مضبوط بنا سکتا تھا۔ یہ وہی لمحہ تھا جب نبی پاک (ﷺ) نے، وہ ناقابلِ فراموش الفاظ کہے۔ ’’اے چچا جان!

آپ یہ جان لیں۔ اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی رکھ دیں، تب بھی میں اِس دین کو، اِس مقصد کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ یا تو اللہ اِس دین کو غالب کر دے گا، یا پھر میں اِس کی خاطر اپنی جان قربان کر دوں گا۔‘‘ جب آپ ﷺ یہ الفاظ کہہ رہے تھے، تو آپ کی آنکھوں میں آنسو جاری تھے۔ اپنے چچا کی طرف سے تنہا چھوڑ دیا جانا آپ ﷺ کے لیے بالکل بھی آسان نہ تھا۔ لیکن آپ ﷺ کا فیصلہ اٹل تھا۔ آپ ﷺ کھڑے ہوئے۔ اور جب آپ ﷺ جانے کے لیے مڑے، تو آپ ﷺ کی اِس واضح سوچ اور عزم نے ابوطالب کے دل پر گہرا اثر کیا۔ نبی پاک ﷺ کی ہمت نے اُنہیں متاثر کیا اور اُنہیں بھی ڈٹ جانے کی طاقت عطا کی۔ ’’میرے بھتیجے، تم وہ کرتے رہو جو تم کر رہے ہو۔ جو تم چاہتے ہو، وہ کرو۔ اللہ کی قسم!

میں تمہیں کسی بھی صورت میں کبھی کسی کے حوالے نہیں کروں گا۔‘‘ اور ایک بار پھر، بت پرستوں کی کوششوں کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ بھلا نکلتا بھی کیسے؟ آپ ﷺ کو موت کا ذرّہ برابر بھی ڈر نہ تھا۔ آپ ﷺ اُن کی دھمکیوں کو اُنہی کی طرف پلٹا رہے تھے۔ جب آپ ﷺ نے فرمایا، ’’اگر وہ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں،‘‘ تو آپ ﷺ یہ محض کہہ نہیں رہے تھے۔ زمین و آسمان آپ ﷺ کے اخلاص اور سچائی کے گواہ تھے۔ ابوطالب کے پاس آنے کے علاوہ، قریش نبی پاک ﷺ کو طرح طرح کی پیشکشیں بھی کیا کرتے تھے۔ اُنہوں نے جو تجاویز دیں، وہ یہ تھیں: ’’اگر آپ کو دولت چاہیے، تو ہم اپنی دولت میں سے اتنا دیں گے کہ آپ ہم سب سے زیادہ مالدار ہو جائیں گے۔ اگر آپ زیادہ عزت اور مرتبہ چاہتے ہیں، تو ہم آپ کو اپنا بڑا تسلیم کر لیں گے۔ ہم آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کریں گے۔ اور اگر آپ واقعی بادشاہ بننا چاہتے ہیں، تو آپ کو اپنا بادشاہ بنا لیں گے ہم ۔‘‘ لیکن وہ جو کچھ بھی پیش کرتے، نبی پاک (ﷺ) اُن سب کو مسترد کر دیتے۔ اگر آپ ﷺ اُن کے گمان کے مطابق واقعی جھوٹ بول رہے ہوتے، تو آپ ﷺ نے یہ پیشکشیں قبول کیوں نہ کیں؟ اِس میں آپ ﷺ کا ذاتی فائدہ کہاں تھا؟ آپ ﷺ کے ہاتھوں میں سختیوں اور مشکلات کے سوا کیا آیا تھا؟ سچائی بالکل واضح تھی۔ قرآن کے الفاظ اور نبی پاک ﷺ کا طرزِ عمل دن بدن کافروں پر اثر انداز ہو رہا تھا۔ جس راستے پر وہ چل رہے تھے، اُس پر اُن کا بھروسہ کمزور پڑ رہا تھا۔ پھر بھی، وہ کسی بھی قیمت پر حق کو قبول کرنے سے انکاری تھے۔ لیکن وہ کیا چیز تھی جس نے اُنہیں اِس حد تک حق جھٹلانے پر مجبور کر رکھا تھا؟ کس چیز نے اُنہیں اللہ کے رسول ﷺ کا مذاق اڑانے اور اُن کی باتوں کے انکار پر اُکسایا؟ جب قرآن پڑھا جاتا، تو وہ اپنے کانوں میں انگلیاں کیوں ٹھونس لیتے تھے؟ کس چیز نے اُنہیں اِس قدر ہٹ دھرمی سے روشنی کے سامنے آنکھیں بند رکھنے پر مجبور کیا؟ اِس سب کی اصل جڑ تکبر اور انا تھی۔ ذرا سوچیے!

اگر وہ اِس دین کو قبول کر لیتے، تو اُنہیں یہ تسلیم کرنا پڑتا کہ وہ برسوں سے جو کچھ کر رہے تھے، وہ سب غلط تھا۔ اور ایک انا پرست شخص کے لیے اپنی غلطی ماننا، خاص طور پر اتنے اہم معاملے پر، بالکل بھی آسان نہ تھا۔ وہ یہ بھی ماننا نہیں چاہتے تھے کہ اُن کے آباء و اجداد نے بتوں کو پُوج کر غلطی کی تھی، جو کہ وہ خود بھی کر رہے تھے۔ چنانچہ اُن کا تکبر صرف اپنی ذات تک محدود نہیں تھا، بلکہ وہ اپنے آباء و اجداد کے طریقوں کا دفاع بھی کر رہے تھے۔ یاد ہے ناں، اُنہوں نے ابوطالب کے پاس آ کر کیا کہا تھا؟ ’’یہ ہمارے باپ دادا کے خلاف بولتا ہے اور ہم پر بے وقوفی کا الزام لگاتا ہے۔‘‘ برسوں سے وہ اپنے بتوں کے لیے جانوروں کی قربانی دیتے آ رہے تھے، ہر روز گھر سے نکلنے سے پہلے عقیدت کے ساتھ اُن پر اپنے ہاتھ اور چہرے رگڑتے تھے۔ وہ یہ تسلیم نہیں کرنا چاہتے تھے کہ یہ سب بے فائدہ تھا۔ اُن کے لیے حق کے ساتھ وفاداری کی اہمیت اپنے اُن آباء و اجداد کی عزت سے کم تھی، جو زمین کے نیچے جا چکے تھے۔ اگرچہ اُنہیں اپنی قبروں میں اکیلے ہی اترنا تھا، پھر بھی اُنہوں نے عقل کی آواز کے بجائے ماضی کی صداؤں کی پیروی کا انتخاب کیا۔ اُن کے تکبر کا ایک اور پہلو یہ بھی تھا کہ وہ آپ ﷺ کے خاندان کو اپنے برابر معزز نہیں سمجھتے تھے۔ درحقیقت، ایک بار نبی پاک ﷺ سے بات کرنے کے بعد، ابوجہل اپنے دوست کی طرف مڑا اور کہنے لگا: ’’اللہ کی قسم!

میں جانتا ہوں کہ یہ جو کہتا ہے وہ سچ ہے۔‘‘ لیکن پھر وہ آپ ﷺ پر ایمان کیوں نہ لایا؟ یہ سب اعتراف کرنے کے بعد بھی؟ کیونکہ اِس کے فوراً بعد، اُس نے نبی پاک ﷺ کے قبیلے کا اپنے قبیلے سے موازنہ شروع کر دیا۔ اُس نے دونوں قبیلوں کی برتر صفات کی فہرست گنوائی اور اُن کا موازنہ ساتھ ساتھ دوڑنے والے دو گھوڑوں سے کیا۔ اور پھر کہنے لگا: ’’اور اب وہ لوگ کہتے ہیں کہ ’ہمارے قبیلے سے ایک نبی بھی ہے۔‘ نہیں، اللہ کی قسم!

میں یہ کبھی قبول نہیں کر سکتا۔‘‘ ایک اور موقع پر، نبی پاک ﷺ کے بارے میں، امیہ بن ابی الصلت نے ایک بار ابوسفیان سے کہا: ’’وہ واقعی نبی ہے، اِس کی پیروی کرو۔‘‘ ’’تو پھر تم اِس کی پیروی کیوں نہیں کرتے؟‘‘ ’’مجھے ڈر ہے کہ مجھے شرمندگی ہوگی اگر ثقیف کی عورتوں نے یہ کہہ دیا کہ، ’امیہ جا کر بنو عبد مناف میں سے ایک نوجوان کا پیروکار بن گیا ہے۔‘ عربوں میں، کسی شخص کا رتبہ جتنا بلند ہوتا، وہ اپنی ساکھ بچانے کے لیے اتنا ہی زیادہ دباؤ محسوس کرتا تھا۔ وہ سوچتے تھے کہ ’’لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ اور اپنی زندگیوں کو دوسروں کے خیالات کے مطابق ڈھالتے تھے۔ لیکن آخر کار، وہ اپنی ابَدی زندگی کو ایک مختصر اور عارضی زندگی کی خاطر قربان کر رہے تھے۔ چنانچہ ابوطالب کو دی گئیں دھمکیاں بھی کام نہ آئیں۔ اُن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ اب اُن میں اسلام کے لیے کوئی برداشت باقی نہ رہی تھی۔ غصے اور نفرت میں اندھے ہو کر، جب بھی موقع ملتا، وہ نبی پاک(ﷺ) کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔ جب آپ ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے، تو وہ پیچھے سے آتے اور آپ ﷺ کا گلا گھونٹنے کی کوشش کرتے۔ جب آپ ﷺ سجدے میں جاتے، تو وہ کسی بھاری پتھر سے آپ ﷺ کا سر مبارک کچلنے کی کوشش کرتے۔ وہ بار بار آپ ﷺ کے دروازے کے سامنے جانوروں کی غلاظت ڈھیر کر دیتے اور اُن راستوں پر روزانہ خاردار جھاڑیاں بچھا دیتے جہاں سے آپ ﷺ گزرتے تھے۔ وہ جہاں کہیں بھی آپ ﷺ کو دیکھتے، تو ایسے سخت الفاظ کہتے جو آپ ﷺ کے مبارک دل کو تکلیف پہنچاتے اور آپ ﷺ کی توہین کرنے کی کوشش کرتے۔ لیکن اِس سب کے باوجود، آپ ﷺ یہ سب کچھ صبر کے ساتھ برداشت کرتے اور آپ ﷺ نے کبھی ہمت نہ ہاری۔ نفرت کا کوئی عمل، کوئی توہین، کوئی دھمکی آپ ﷺ کو کبھی اپنے راستے سے نہ ہٹا سکی۔ اُسی لگن کے ساتھ، دن اور رات، آپ ﷺ لوگوں کو اسلام کی طرف بلاتے رہے، اِس امید میں کہ شاید ایک اور انسان بچ جائے۔ آپ ﷺ کو اپنی ذات کی کوئی فکر نہ تھی۔ تاہم، اُن دنوں میں، اپنے صحابہ کے لیے آپ ﷺ کی تشویش بڑھتی جا رہی تھی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ، مکہ میں مسلمان کی حیثیت سے رہنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا تھا۔ دن کے گرم ترین اوقات میں، مکہ کی وادی تشدد کے شکار مسلمانوں کی چیخوں سے گونج اٹھتی، یہاں تک کہ اُن میں آواز نکالنے کی سکت بھی باقی نہ رہتی۔ اب دارِ ارقم بھی اہلِ ایمان کی حفاظت کے لیے کافی نہ رہا تھا۔ نبی پاک (ﷺ) کو اب کوئی ایسا راستہ نکالنا تھا جس سے مسلمان زیادہ آزادی کے ساتھ اپنے دین پر عمل کر سکیں۔ یہ نبوت کا پانچواں سال تھا۔ ایک دن، نبی پاک ﷺ نے اپنے صحابہ کو جمع کیا۔ کوئی اہم بات تھی جو آپ ﷺ اُنہیں بتانا چاہتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا، ’’اب تم زمین میں پھیل جاؤ۔ اللہ تم سب کو دوبارہ ایک ساتھ جمع فرما دے گا۔‘‘ لیکن وہ کہاں جا سکتے تھے؟ ’’اے اللہ کے رسول ﷺ!

ہم کہاں جائیں؟‘‘ نبی پاک (ﷺ) نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا، ’’وہاں۔‘‘ آپ ﷺ سمندر کی دوسری طرف اشارہ فرما رہے تھے۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ اُنہیں سمندر کے ذریعے اُس سرزمین تک سفر کرنا ہوگا۔ لیکن وہ جگہ کہاں تھی؟ صرف مٹھی بھر اہلِ ایمان کے ساتھ دور دراز علاقوں تک اسلام کے پھیلنے کی گونج، وہ سختیاں جن کے بعد آسانیاں آنے والی تھیں، اسلام کی صفوں میں چند اہم ناموں کی شمولیت، ایسے نام جنہوں نے قریش کی بنیادیں ہلا کر رکھ دینی تھیں، وہ ضربیں جو کافروں کو ایک کے بعد ایک لگنے والی تھیں، اورنبی پاک (ﷺ) کی وہ عظیم دعا جو قبول ہونے والی تھی۔ یہ سب باتیں اگلی قسط میں ہماری منتظر ہیں۔ تو جڑے رہیے گا۔ یہ بات کچھ غیر معمولی لگ سکتی ہے، لیکن ہم ایک آن لائن قرآن کورس چلا رہے ہیں، اور اب تک 43 ہزار افراد اس سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں اور اپنا قرآنی سفر شروع کر چکے ہیں۔ جی ہاں، میں ہماری لام الف قرآن موبائل ایپ کی بات کر رہا ہوں۔ یہ مکمل مفت ہے اور اس میں کوئی اشتہار نہیں۔ یہ ایپ، جس نے ترکی اور انگریزی دونوں زبانوں میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے، اب ان شاء اللہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے 13 مختلف زبانوں میں دستیاب ہوگی۔ لیکن اس پروجیکٹ کے لیے بہت زیادہ محنت درکار ہے۔ اسے ممکن بنانے کے لیے ہمیں 2,000 منٹ پر مشتمل تعلیمی ویڈیوز تیار کرنی ہوں گی۔ اور اس وقت ہمیں ترجمے اور وائس اوور کے اخراجات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ہماری ٹیم نے مجموعی رقم کو 30 ڈالر کے حصوں میں تقسیم کیا ہے، تاکہ آپ اپنی استطاعت کے مطابق ایک یا زیادہ حصے اسپانسر کر کے تعاون کر سکیں، ان شاء اللہ۔ اس ایپ کو مکمل کرنے کے لیے ہمیں آپ کی مدد درکار ہے۔ اگر آپ اس کے صارفین کی جانب سے پڑھے جانے والے ہر حرف کے ثواب میں حصہ دار بننا چاہتے ہیں، تو ابھی ہم سے رابطہ کریں۔