"Stephen Hawking Ne Mere Liye Khuda Ko Sabit Kar Diya!" - Ex-Sikh Ka Islam Tak Ka Safar
تاریخ اشاعت
میری والدہ کا خاندان مسیحی پس منظر رکھتا ہے اور میرے والد کا خاندان سکھ پس منظر رکھتا ہے۔ برطانیہ میں سکھوں کے دل میں مسلمانوں کے لیے بہت دشمنی ہے۔ امریکہ میں 11/9کے حملے ہوئے۔ چند سال بعد 7/7کے بم دھماکے ہوئے، جب بسوں اور لندن انڈرگراؤنڈ پر خودکش حملہ کیا گیا۔ میرے والد کو اسی ٹرین میں سوار ہونا تھا، پھر میں نے ابو کو فون کرنے کی کوشش کی تو ان کا فون بند تھا۔ میں نے بہت سے مذاہب کا مطالعہ کیا۔ بدھ مت، سکھ مت، ہندو مت اور مسیحیت کو دیکھا۔ میں اسٹیفن ہاکنگ کا ایک لیکچر دیکھ رہا تھا۔ اسٹیفن ہاکنگ نے میرے لیے خدا کا وجود ثابت کر دیا۔ وہیں سے میں نے سوچا کہ زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا؟ تو میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا اور مسلمان ہو گیا۔ ابو کو اس طرح پتا چلا کہ میں اسکول سے گھر آیا تو انہیں میرے کوٹ میں ٹوپی ملی۔ "کیا ہے یہ؟ تم نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ تم نے اپنے خون سے غداری کی ہے۔ اپنی قوم سے غداری کی ہے۔" خوب چیخ و پکار اور گالم گلوچ ہوئی۔ میرے چچا کی سالگرہ پر ایک واقعہ پیش آیا، چچا میرے ساتھ بڑے یارانہ انداز میں پیش آ رہے تھے، انہوں نے مجھے گلے لگایا، لیکن اس انداز سے جیسے میری گردن دبوچ لی ہو، پورے خاندان کے سامنے۔ ان کے ہاتھ میں شیمپین کا گلاس تھا اور وہ اسے میرے ہونٹوں سے لگا دیتے ہیں پھر مجھ سے کہتے ہیں: "پیو اسے۔" "نہیں، مجھے نہیں چاہیے۔" "پیو اسے!" "نہیں!
مجھے نہیں چاہیے!" السلام علیکم، برادر ریس بائی فیلڈ۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا بہت شکریہ۔ ٹوورڈز ایٹرنٹی میں آپ کی آمد پر ہمیں خوشی ہے۔ میں اس سوال سے آغاز کروں گا کہ ریس بائی فیلڈ کون ہیں؟ اپنے بارے میں مختصراً بتائیں۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میرے بھائی، الحمدللہ، آپ کی میزبانی میرے لیے اعزاز ہے۔ میں ایک مخلوط نسل کے گھرانے میں پیدا ہوا۔ میرے والد ہندوستان سے برطانیہ آنے والے پہلی نسل کے تارکِ وطن ہیں۔ اور میری والدہ برطانیہ کی ایک انگریز خاتون ہیں۔ میری والدہ کا خاندان مسیحی پس منظر رکھتا ہے۔ اور میرے والد کا خاندان سکھ پس منظر رکھتا ہے۔ میں نے بہت سے مذاہب کا مطالعہ کیاہے۔ پھر میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا۔ میں نے کلمۂ شہادت پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔ دراصل میں نے دو سال تک اپنا اسلام چھپائے رکھا۔ آخرکار میرے گھر والوں کو پتا چل گیا۔ اس پر بہت چیخ و پکار اور گالم گلوچ ہوئی۔ اگلے تین چار سال میں حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ میں نے کنگز کالج لندن سے فلسفے میں ڈگری حاصل کی۔ الحمدللہ، میں نے فرسٹ کلاس میں گریجویشن کی۔ اس کے بعد میں نے کیمبرج یونیورسٹی سے الٰہیات، فلسفۂ مذہب اور مذہبیات میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔ ایمان کے حوالے سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کس چیز پر یقین رکھتے تھے؟ ظاہر ہے میں چرچ میں مذہبی تقریبات میں شریک ہوتا تھا، جیسے شادیاں وغیرہ۔ لیکن بچپن ہی سے کسی انسان کے خدا ہونے کا تصور میں قبول نہیں کر پاتا تھا۔ اسی طرح گوردوارے میں بھی، جو سکھوں کی مقدس جگہ ہے، یعنی سکھوں کا عبادت خانہ، وہاں بھی میں جاتا رہا۔ میں سمجھتا تھا یعنی، کم عمری میں بھی کہ سکھ مت کے بانی، گرو نانک ایک سماجی مصلح زیادہ ہیں بجائے اس کے کہ وہ کوئی ایسے شخص ہوں جنہیں کسی قسم کی وحی ملی ہو۔ اس دور میں ایک حد تک نسل پرستی کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ انگریز مجھے انگریز نہیں سمجھتے۔ اور ایشیائی لوگ مجھے ایشیائی نہیں سمجھتے۔ تو آپ ایک عجیب سی جگہ پھنس جاتے ہیں۔ اس سے صرف ایک سال پہلے امریکہ میں ۹/۱۱ کے حملے ہوئے تھے۔ کچھ عرصہ بعد ۷/۷ کے بم دھماکے ہوئے، جب بسوں اور لندن انڈرگراؤنڈ پر خودکش حملہ کیا گیا۔ اور یہ گویا اسلام اور مسلمانوں سے معاشرے میں رچی بسی نفرت تھی۔ ہوا یہ کہ دراصل اُس دن میرے والد کو اسی ٹرین میں سوار ہونا تھا۔ وہی ٹرین جو سینٹرل لائن پر دھماکے سے اڑ گئی۔ یہی وہ ٹرین تھی جس میں انہیں سوار ہونا تھا۔ پھر میں نے ابو کو فون کرنے کی کوشش کی تو ان کا فون بند تھا۔ کیونکہ میں سوچ رہا تھا کہ ابو اسی ٹرین میں ہیں۔ میں نے امی کو فون کر کے پوچھا، کیا ابو سے بات ہوئی؟ آپ نے خبر سنی؟ وہ کہنے لگیں، میں کال کرنے کی کوشش کر رہی ہوں مگر کال کٹ جاتی ہے۔ لیکن ہوا یہ تھا کہ وہ ٹرین اسٹیشن میں داخل ہو چکے تھے۔ وہ سینٹرل لائن تک پہنچنے کے لیے ایک ٹرین میں سوار ہوئے ہوں گے۔ اور جب وہ سینٹرل لائن پر تھے، تبھی حملہ ہوا۔ اور انہوں نے عملاً پورا علاقہ بند کر کے سیل کر دیا۔ نہ کوئی اسٹیشن سے نکل سکتا تھا، نہ کوئی اندر جا سکتا تھا۔ اسی لیے ان کا سگنل نہیں تھا، وہ زیرِ زمین پھنسے ہوئے تھے۔ تو الحمدللہ وہ شاید ایک یا دو ٹرینوں کے فرق سے دھماکے والی ٹرین سے بچ گئے، کیونکہ اُس دن انہیں دیر ہو گئی تھی۔ اسی دوران نئی الحادی تحریک بھی زور پکڑ رہی تھی۔ اسٹیفن ہاکنگ، رچرڈ ڈاکنز اور یہ لوگ اُس دور میں اپنا ایجنڈا خوب آگے بڑھا رہے تھے۔ جب میری عمر تقریباً ۱۵، ۱۶ سال تھی، تبھی ان کی کتاب شائع ہوئی۔ میں کہیں ان چیزوں کے بیچ میں تھا۔ ایک طرف میں اس لہر کو جذب کر رہا تھا۔ اس رجحان کو جذب کر رہا تھا اور اسی زاویے سے چیزوں کو دیکھ رہا تھا، ان پر سوال اٹھا رہا تھا۔ لیکن ساتھ ہی میرے اندر ایک مضبوط احساس بھی تھا کہ کسی چیز کا وجود ضرور ہے۔ میں اسٹیفن ہاکنگ کا ایک لیکچر دیکھ رہا تھا اور میں نے پورا لیکچر دیکھا۔ یہ کائنات کے آغاز کے بارے میں تھا، اور وہ اپنی تحقیق اور اپنے نظریات بیان کر رہے تھے کہ کائنات کیسے شروع ہوئی، بگ بینگ تک پیچھے جاتے ہوئے۔ پھر ہم اس مقام پر پہنچے کہ کائنات آئی کہاں سے؟ لیکچر کا نتیجہ یہ تھا کہ کائنات کا ایک آغاز ہے۔ وہ آغاز کہاں سے آیا؟ کائنات کا سبب کیا تھا؟ اور پھر ان کا جواب تھا: "یہ عدم سے وجود میں آئی۔" میں وہاں بیٹھا لیپ ٹاپ کی اسکرین کو تکتا رہا، اس شخص کو دیکھ کر سوچتا رہا کہ آپ کہہ کیا رہے ہیں؟ اور پھر انہوں نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ ہمیں نہیں معلوم۔ اور پھر آپ ایک ایسے مقام پر آتے ہیں جہاں ایک ایسی پکی بات ہے جسے ہم سب جانتے ہیں۔ عدم سے کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔ یہ تو چیزوں کی بالکل بنیادی سمجھ ہے۔ اگر کوئی اثر ہے تو اس کا سبب بھی ہے۔ اور آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ، یہ بگ بینگ، ہماری پوری کائنات کی تخلیق عدم سے ہو گئی۔ اور آپ فزکس کے ان اصولوں کی بات کرتے ہیں جو پہلے سے موجود تھے، گویا یہ اصول محض اتفاق سے وہاں موجود تھے۔ اتنے ذہین آدمی کے لیے یہ بات معقول نہیں لگتی، ایک ایسے شخص کے لیے جس کے پاس اتنا علم تھا۔ میرا نتیجہ یہ تھا کہ جو جواب آپ کی زبان پر ہے، جو جواب آپ کے منہ سے نکلنا چاہیے، وہی جواب آپ روک رہے ہیں۔ اور یہی جواب میرے لیے سب سے زیادہ واضح تھا۔ اب میں نے دیکھ لیا کہ یہ شخص جس نے مجھے تین گھنٹے لیکچر دیا، مجھے سائنس نہیں بتا رہا، بلکہ اپنا نظریہ تھوپ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس اور وحی کے درمیان ٹکراؤ کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ یہ ٹکراؤ اس لیے ہے کہ لوگ اسے خود پیدا کرتے ہیں۔ لوگ اپنا نظریہ تھوپتے ہیں۔ وہ ویڈیو دیکھنے اور یہ بات سمجھنے کے بعد خدا پر یقین میرے اندر واضح طور پر پختہ ہو گیا۔ آپ تقریباً مزاحیہ انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ اسٹیفن ہاکنگ نے میرے لیے خدا کا وجود ثابت کر دیا۔ اس نے خدا پر یقین میرے دل میں پختہ کر دیا۔ کیونکہ ہمیں دنیا میں خدا کی نشانیاں نظر آتی ہیں۔ ہمیں خالق کی کاریگری نظر آتی ہے۔ وجود میں ایک بھی چیز ایسی نہیں جو کسی دوسری چیز کے بغیر قائم رہ سکے۔ تو جب ہر چیز محتاج ہو تو احتیاج کا ایک سلسلہ بن جاتا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ احتیاج کے ان سلسلوں کو کہیں نہ کہیں ختم ہونا ہے۔ انہیں ایک ایسے نقطے پر پہنچنا ہے جو کسی بے نیاز ہستی تک لے جائے، جو اس ڈھانچے سے باہر ہو اور اس پورے نظام کو تھامے ہوئے ہو۔ پوری کائنات میں کوئی چیز بھی خود بخود موجود نہیں ہے۔ اور ہر چیز کو وجود میں لانے کے لیے کسی کی ضرورت ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ، "ٹھیک ہے، اگر خدا موجود ہے تو خدا کون ہے؟ خدا کے اس لقب کا حق دار کون ہے؟ اور خدا کیا ہے؟" اس لیے میں نے سوچا کہ فطری نقطۂ آغاز یہ ہو گا کہ سب سے قدیم مذاہب کو دیکھا جائے۔ اور قدیم مشرکانہ مذاہب کا تصور، کہ آپ کو دیوتاؤں سے سودے بازی کرنی پڑتی تھی اور قربانیاں دینی پڑتی تھیں۔ اور مجھے یہ بالکل بے معنی سا لگتا ہے۔ یعنی یہ اعلیٰ ترین ہستی، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا، جس کا ہر چیز پر اختیار ہے، آپ کو اس سے سودے بازی کی کیا ضرورت ہے؟ خدا اس سے بالاتر ہے۔ خدا اس قسم کی تجسیم سے پاک ہے، کہ ہم آپس میں جیسا معاملہ کرتے ہیں وہی خدا پر تھوپ دیں۔ تو یہ چیز مجھے بہت ہی ناگوار لگی اور میں نے یہ ان تمام قدیم مشرکانہ مذاہب میں دیکھی۔ یا پھر یہ سماجی کنٹرول کی شکلیں تھیں جن میں حکمران اور بادشاہ اپنے ان نام نہاد خدائی اختیار کے منصب کو اقتدار قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ یہ میرا پہلا اعتراض تھا، اور میں نے بہت سے مذاہب کا مطالعہ کیا۔ جہاں تک میرے والد کی طرف کے سکھ مت کا تعلق ہے، اس کے بانی گرو نانک ہیں۔ گرو نانک ایک ہندو گھرانے میں پلے بڑھے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور جھگڑوں سے کافی نالاں تھے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ وہ مراقبہ کرنے اور اس مسئلے پر وضاحت پانے کے لیے نکلے۔ گرو نانک اپنے سفر کے دوران دراصل حج ادا کرنے بھی گئے۔ لیکن جب وہ اس سفر سے لوٹے تو واپسی پر ان کے کچھ مذہبی نظریات واضح ہو چکے تھے۔ اسی طرح بہت سی ہندوستانی روایات، جیسے بدھ مت اور سکھ مت، امتزاجی مذاہب تھے۔ امتزاجی مذہب وہ ہوتا ہے جو اپنے اردگرد کی ثقافتوں اور مذہبی رسوم کو اپنا کر اپنے مذہب میں شامل کر لیتا ہے۔ سکھ مت میں اس کی بہت واضح مثال موجود ہے۔ ان کی عبادت ہندوؤں کی پوجا سے زیادہ قریب ہے۔ لیکن اگر کوئی آج کے ہندوستان جائے تو دیکھے گا کہ دراصل یہ بہت عام بات ہے۔ آپ ہندوؤں کو مسجد جاتے دیکھیں گے اور شاید ہندوؤں کو کسی طریقت میں شامل ہوتے بھی دیکھیں گے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں ہندو نقشبندی بھی ہیں۔ ایسے مسلمان بھی ہیں جو ہندوؤں کے استھانوں پر جاتے ہیں اور ان کے پجاریوں سے برکت لینے اور اس جیسے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مذہبی روایات کا یہ ملاپ، جسے ہم سماجیات کی رو سے "دیہی مذہب" کہتے ہیں۔ اس طرح کا دیہی مذہب ہندوستان میں بہت عام ہے۔ سکھ مت انسان کا بنایا ہوا مذہب ہے، اور میں نے ہندو مت کا بھی مطالعہ کیا۔ ہندو مت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دراصل ہندو مت نام کا کوئی مذہب ہے ہی نہیں۔ یہ پہلا مسئلہ ہے، کیونکہ "ہندو مت" ایک نوآبادیاتی اصطلاح ہے۔ جب انگریز ہندوستان آئے تو انہوں نے دیکھا کہ بہت سے گندمی رنگت والے لوگ عبادت اور مذہبی رسوم ادا کر رہے ہیں۔ تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ سب ایک ہی مذہب ہے۔ ان کے یہ مختلف...
انہوں نے سب کو ایک ہی خانے میں ڈال دیا کہ یہ... جیسے لفظ "ہندو" دریائے سندھ سے نکلا ہے، ہے نا؟ تو یہ...
یہ بس ان لوگوں کا مذہب ہے۔ یہ بالکل واضح ہو گیا کہ یہ محض سماجی کنٹرول تھا، اور عوام کو قابو میں رکھنے کا ایک طریقہ تھا، اور اسی قسم کی چیزیں۔ پھر میں نے یہودیت کا مطالعہ کیا۔ روایتی یہودیت میں یہودیت اختیار کرنا ممکن نہیں۔ خدا کی چنی ہوئی قوم کا حصہ بننے کے لیے آپ کا پیدائشی یہودی ہونا ضروری ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک نسلی مذہب ہے۔ یہ تصور مجھے معقول نہیں لگا۔ دوسرا مسئلہ خود یہودی روایت کا جائزہ لینے سے سامنے آیا، کہ بائبل کے یہودیوں کا اپنے انبیاء کے ساتھ کیسا تعلق تھا، اور خود یہ روایت بتاتی ہے کہ پوری تاریخ میں یہودی قوم نے پاسداری نہیں کی، جیسا کہ بائبل میں مذکور ہے۔ بائبل بتاتی ہے کہ یہودی قوم نے خدا کے ساتھ اپنا عہد نہیں نبھایا۔ اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ بائبل میں کسی حد تک تحریف ہو چکی تھی، واقعات میں تحریف۔ ایک واقعے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو جنگ پر بھیجا، محض اس لیے کہ وہ آدمی مارا جائے اور پھر وہ اس کی بیوی سے شادی کر سکیں۔ اور اس طرح کے تمام واقعات، جن میں یہ روایت معقول نہیں لگتی، کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے چنا تھا۔ اور اسی کتاب میں انبیاء کی تعریف کی جا رہی ہے، اور یہ کہ وہ خدا کے کتنے قریب ہیں، اور ان کی سچائی کی۔ لیکن ساتھ ہی انہیں صرف بشری کمزوری والا نہیں دکھایا جاتا، کیونکہ غلطی کرنے اور بڑی بڑی غلطیاں کرنے میں فرق ہے۔ اور اس میں کچھ تضادات بھی ہیں۔ فطری اگلا قدم مسیحیت کا جائزہ لینا تھا۔ اور جب آپ مسیحیت میں گہرائی سے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ کیا ہوا ہے۔ تثلیث کا تصور، یا کسی کا خدا کا حقیقی بیٹا ہونا۔ یعنی یہ کہ عیسیٰؑ خدا ہیں۔ باپ خدا ہے۔ روح القدس خدا ہے۔ لیکن خدا ایک ہے، اور شخصیتیں تین۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر شخصیت کے الگ خیالات اور الگ خواہشات ہونی چاہییں۔ کیونکہ اگر آپ کہیں کہ نہیں، ان کے خیالات ایک جیسے ہیں۔ ان کے تصورات ایک جیسے ہیں۔ ان کے ارادے ایک جیسے ہیں۔ ان تینوں میں ہر چیز یکساں ہے، تو ریاضی کی رو سے وہ ایک ہی شخص ہیں۔ آپ نے انہیں ایک ہی ہستی میں سمیٹ دیا، ہے نا؟ اگر وہ سب برابر اور ازلی ہیں تو وہ کسی بات پر متفق کیسے ہوتے ہیں؟ اگر عیسیٰؑ صلیب پر مرنا نہ چاہتے تو؟ کیونکہ بائبل کے مطابق انہوں نے فریاد کی تھی۔ انہوں نے پکارا، "اے باپ، اے باپ، تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟" تو واضح ہے کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مصلوبیت ہو۔ تو پھر یہ رضامندی کیسے ہوئی؟ یہ بات معقول نہیں۔ عیسیٰؑ نے خود تورات کی پیروی کا حکم دیا اور وہ یہودی تھے۔ وہ ایک یہودی انسان تھے۔ تو جب ہم ان بیانات کو، یعنی "میں ہوں" والے بیانات اور اس طرح کی باتوں کو یہودی الٰہیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں، تو سمجھ آتا ہے کہ ان بیانات کا مطلب یہ نہیں کہ عیسیٰؑ خدا ہیں۔ ان سے الوہیت ثابت نہیں ہوتی۔ سب سے پہلے، یہودی روایت میں خدا کا بیٹا ہونے کا مطلب محض ایک پرہیزگار شخص ہونا ہے۔ یہودی روایت میں جب کوئی شخص، جب کوئی شخص خدا کی طرف سے بات کر رہا ہو، تو یہودی روایت میں اسے ایسا مقام دیا جاتا ہے گویا وہ خدا ہو۔ ہمیں ایک بات بہت واضح طور پر سمجھنی ہو گی۔ پہلی بات، بائبل خدا کے علاوہ دوسری ہستیوں کو بھی "ایلوہیم" کہتی ہے، جہاں انہیں الوہیت کی علامت کا درجہ دیا جاتا ہے۔ یعنی یہ شخص خدا کا نمائندہ ہے، لیکن خود خدا نہیں۔ دوسری بات تب سامنے آتی ہے جب ہم خود انجیلوں کو دیکھتے ہیں۔ ایک طرف انجیل میں عیسیٰؑ کے ایسے بیانات ہیں کہ وہ خدا سے دعا کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میری پیروی نہ کرو، خدا کی پیروی کرو۔ میں نیک نہیں ہوں۔ صرف خدا نیک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ عیسیٰؑ کہہ رہے ہیں، میں خدا کا نمائندہ ہوں اور خدا کا سچا نبی ہوں۔ اور وہ خود کس بات کا حکم دیتے ہیں؟ خدا سے دعا کا، خدا کی پیروی کا، خدا کی شریعت پر چلنے کا، اپنی اطاعت کا نہیں، بلکہ شریعت کی پیروی اور صرف خدا کی عبادت کا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بائبل میں دراصل عیسیٰؑ کو خدا کے طور پر پیش نہیں کیا گیا، بلکہ یہ وہ چیز ہے جو پولس کی الٰہیات نے اس روایت پر مسلط کی ہے۔ میں اس سفر کے اختتام کے قریب تھا، اور مطمئن نہیں تھا، کیونکہ میں اسٹیفن ہاکنگ والے مرحلے سے گزر چکا تھا۔ مجھے خدا پر یقین مل چکا تھا۔ لیکن ساتھ ہی میں ان روایات سے بھی گزر چکا تھا اور محسوس کرتا تھا کہ انہوں نے مجھے وہ جواب نہیں دیا جس کی مجھے تلاش تھی۔ اس وقت میری کلاس میں ایک مسلمان تھا، اس نے مجھ سے کہا، "تم قرآن کیوں نہیں پڑھ لیتے؟ ایک بار آزما کر تو دیکھو۔" تو وہیں سے میں نے سوچا، "زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا؟" تو میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا۔ اس وقت میں اپنا پلے اسٹیشن، یعنی پلے اسٹیشن 3 استعمال کرتا تھا، اور انٹرنیٹ براؤزر پر چھپ کر اسے دیکھتا تھا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو پتا چلے کہ میں قرآن پڑھ رہا ہوں۔ میں اسے پڑھتا رہا، اور میرا خیال ہے کہ میں نے سورۃ الفاتحہ سے سورۃ الناس تک پڑھا۔ لیکن جو چیز مجھے سب سے نمایاں لگی وہ اسلام کی سادگی اور اسلام کا دو ٹوک انداز تھا۔ اسلام حد سے زیادہ تفصیلی یا ڈرامائی قصے بیان نہیں کرتا۔ قرآن آپ کو واضح سبق کے ساتھ واضح قصے سناتا ہے۔ اور یہ سیدھا دل پر اثر کرتا ہے۔ اور میں نے دیکھا کہ انبیاء کے قصوں میں جو تحریفات تھیں، قرآن نے ان کی وضاحت کر دی تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ قرآن "مُہَیمِن" ہے۔ یعنی وہ نگران ہے، محافظ ہے، جو دوسری کتابوں پر فوقیت رکھتا ہے۔ اور وہ ان غلطیوں اور خطاؤں کو واضح کرتا ہے۔ اللہ ہم سے فرماتا ہے کہ جب ہم زمین کو دیکھیں، "کیا تم نہیں دیکھتے کہ اسے ہمارے لیے کتنے کامل انداز میں بنایا گیا ہے؟" آج کل ہم اسے "ذہین ڈیزائن" کی دلیل کہتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے، "اپنے اردگرد کی دنیا کو دیکھو۔ پاک دل اور صاف ذہن کے ساتھ غور کرو۔ تو تم دیکھ لو گے کہ اللہ ہی وہ واحد ہستی ہے جو اسے پیدا کر سکتی تھی۔" یہی بات مجھے سب سے زیادہ پسند آئی۔ کہ اسلام ایک سادہ، عقلی اور مکمل ضابطۂ حیات پیش کرتا ہے۔ قرآن واضح اور جامع قوانین دیتا ہے جو عقل میں آتے ہیں۔ اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اگر معاشرہ ان قوانین پر چلے تو معاشرے کو واضح فائدے ہوں گے، اگر اسلام کے قوانین نافذ ہوں۔ جبکہ اگر نہ ہوں اور سب کچھ بکھر جائے تو آپ دیکھنے لگتے ہیں کہ کچھ چیزیں معاشرے میں کیسی برائیاں پیدا کرتی ہیں۔ ان قوانین پر عمل نہ کرنا کس طرح معاشرے میں مسائل اور بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ اسلام کس طرح لوگوں کی عزت کی حفاظت چاہتا ہے۔ کس طرح خاندان قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ نہ کسی کو شرمندگی اٹھانی پڑے نہ کوئی بے سہارا چھوڑا جائے، اور ہر شخص کو اس کا حق ملے۔ اور یہ چیز میں نے کسی اور روایت میں نہیں دیکھی جو اتنی صاف اور آسانی سے پیش کی گئی ہو۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ آپ نے کلمۂ شہادت پڑھنے کا فیصلہ کیا؟ اور کلمہ پڑھتے وقت آپ کو کیسا محسوس ہوا؟ کیا آپ ہمیں ان لمحات میں لے جا سکتے ہیں؟ میں یوٹیوب پر قیامت کی نشانیوں، یعنی روزِ جزا کی علامات پر کچھ لیکچر دیکھ رہا تھا۔ اور جب میں نے ان پر غور کیا تو میرے دل میں خوف اتر آیا۔ کہ کسی بھی وقت، کسی بھی لمحے مجھے موت آ سکتی ہے۔ اور کیا میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے کے سوا کسی اور حالت میں مرنا چاہتا ہوں؟ اور یہی چیز میرے اسلام قبول کرنے کا سبب بنی۔ اگرچہ ہم خود کو دھوکے میں رکھتے ہیں اور موت کے بارے میں نہیں سوچتے، مگر جب یہ حقیقت سامنے آئی تو میں جان گیا۔ میں نے جلدی کی۔ میں نے فوراً اپنے دوست کو فون کر کے کہا، "میں آج ہی کلمہ پڑھنا چاہتا ہوں۔ وقت نہیں ہے۔" اور اس لمحے جب مجھے احساس ہوا کہ میں کل مر سکتا ہوں، آج ہی کچھ دیر بعد مر سکتا ہوں، تو نہ کوئی کل تھا، نہ کوئی بعد، کچھ بھی نہیں تھا۔ بس ابھی، کلمۂ شہادت ابھی پڑھنا ہے۔ تو میں نے دوست کو فون کیا اور اس نے مجھے اپنے گھر بلایا۔ پھر ہم اس کے ایک خاندانی دوست کے پاس گئے جو مسجد کے امام تھے۔ وہ آئے اور الحمدللہ میں نے ان کے ساتھ کلمہ پڑھا۔ ہم نے کلمۂ شہادت کے معنی سمجھے۔ جب میں کلمہ پڑھ رہا تھا تو اگرچہ کمرے میں چند ہی لوگ تھے، مگر ایسا لگ رہا تھا جیسے کمرہ مجھ پر سمٹتا جا رہا ہو۔ جیسے مجھ پر کوئی شدید بوجھ ہو۔ لیکن جس لمحے میں نے کہا، "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" جس لمحے میں نے یہ کہا، مجھے لگا کہ دنیا بھر کا بوجھ مجھ سے اتر گیا۔ مجھے لگا کہ میرے گناہوں کا بوجھ مجھ سے اتر گیا۔ مجھے لگا میری پریشانیاں دور ہو گئیں۔ یہ ایسا احساس تھا جیسے تازہ ہوا کا جھونکا۔ جیسے جب آپ جہاز سے باہر قدم رکھتے ہیں اور پھر سے تازہ ہوا اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہیں۔ کلمہ پڑھنے کے بعد مجھے بالکل ایسا ہی محسوس ہوا۔ آپ کے گھر والوں اور اردگرد کے لوگوں کا کیا ردِعمل تھا، خاص طور پر آپ کے والد کا؟ شروع میں جب میں نے کلمہ پڑھا، تو میں جانتا تھا کہ یہ بہت مشکل مرحلہ ہو گا۔ اس لیے دراصل میں نے دو سال تک اپنا اسلام چھپائے رکھا۔ گھر میں تو میں بس معمول کے مطابق رہنے کی کوشش کرتا۔ لیکن باہر میں مسجد جاتا، نماز پڑھتا، شاید لباس کا انداز بھی بدل رہا تھا۔ آخرکار میرے گھر والوں کو پتا چل گیا۔ میرے والد کو اس طرح پتا چلا کہ میں اسکول سے گھر آیا تو انہیں میرے کوٹ میں ٹوپی ملی۔ وہ انہیں میری جیب سے ملی اور وہ بولے، "یہ کیا ہے؟ تم نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ تم نے اپنے خون سے غداری کی ہے۔ اپنی قوم سے غداری کی ہے۔ یہ ناقابلِ قبول ہے۔" اور اس پر خوب چیخ و پکار اور گالم گلوچ ہوئی۔ اگلے تین چار سال میں حالات بد سے بدتر ہوتے گئے، یہاں تک کہ نوبت مار پیٹ اور توہین تک جا پہنچی۔ میں صبح سویرے اٹھ کر جلدی اسکول چلا جاتا۔ اور پھر بہت دیر سے گھر آتا، شاید رات کے ۲ بجے، ۳ بجے، تاکہ بس والد کا سامنا نہ ہو۔ تو ان کا ردِعمل زیادہ تر ثقافتی اثرات کے بارے میں تھا کہ وہ لوگوں کو کیسے بتائیں گے کہ ان کا بیٹا مسلمان ہے۔ ہوا یہ کہ ایک بار ابو پھر مجھ سے بحث کرنا چاہتے تھے۔ تو میں نے بس انہیں بٹھایا۔ اور کہا، "دیکھیں، میں اپنا عقیدہ نہیں چھوڑوں گا۔ میں اسلام نہیں چھوڑوں گا۔ تو یا تو آپ مجھے مسلمان کے طور پر قبول کر لیں، یا مجھے چھوڑ دیں اور میں آپ کو چھوڑ دوں گا۔" اور اس دن کے بعد اس معاملے پر ہماری کبھی بحث نہیں ہوئی۔ لیکن صرف اس لیے کہ والد نے ہار مان لی، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ابو کی طرف کے باقی رشتہ داروں نے بھی ہار مان لی تھی۔ میرے چچا کی سالگرہ پر ایک واقعہ پیش آیا۔ پورا خاندان آیا ہوا تھا۔ اور چچا میرے ساتھ بڑے یارانہ انداز میں پیش آ رہے تھے اور مجھے بے تکلف کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم نے کھانا کھایا۔ اور پھر انہوں نے مجھے گلے لگایا، لیکن اس انداز سے جیسے میری گردن دبوچ لی ہو۔ اور پھر سب کے سامنے، پورے خاندان کے سامنے، ان کے ہاتھ میں شیمپین کا گلاس تھا اور وہ اسے میرے ہونٹوں سے لگا دیتے ہیں۔ پھر مجھ سے کہتے ہیں، پیو اسے۔ میں نے کہا، میں شراب نہیں پیتا۔ پھر وہ چلّا کر بولے، "اوہ گاڈ یار، تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟" یعنی اس لمحے مجھے شرمندہ کرنے کے لیے کہنے لگے، "بس شراب پی لو۔" پھر میں نے ان سے گلاس لیا اور پھینکا تو نہیں، لیکن زور سے میز پر پٹخ دیا۔ میں نے کہا، "میں شراب نہیں پیتا۔ جو بھی شراب پیتا ہے وہ صرف خود کو رسوا کرتا ہے۔" میں نے ان سے یہی کہا۔ اور پھر پارٹی کے آخر میں، جب وہ سب نشے میں دھت ہو چکے تھے، نہ چل پا رہے تھے، نہ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر گھر جا سکتے تھے، تو میں نے ان سے کہا، جس شخص کے ساتھ تم بدتمیزی کر رہے تھے اور جسے شرمندہ کرنا چاہتے تھے، وہی تمہارے گھر جانے کے لیے ٹیکسی منگوا رہا ہے۔ اور ایسے بہت سے واقعات بعد میں میرے کزنز کے درمیان بھی ہوئے۔ جیسے ایک بار خاندانی اجتماع تھا اور بہت سے لوگ جمع تھے۔ مجھے بہت پیاس لگی تھی، بہت گرم دن تھا۔ میرا ایک کزن اٹھا اور سب سے بولا، "میں کچھ پینے کو لا رہا ہوں۔ کسی کو کچھ چاہیے؟" ایک کزن نے کہا، "مجھے پیپسی چاہیے۔ کوئی بولا مجھے یہ چاہیے۔ مجھے پانی چاہیے۔ میں نے کہا، "ہاں، مجھے پانی لا دو، پلیز۔" اس نے کہا، "میں تمہارے لیے شراب لاؤں گا یا کچھ نہیں۔" میں نے کہا، "مجھے پانی چاہیے۔" میں سمجھا وہ مذاق کر رہا ہے۔ پھر وہ گیا اور واپس آیا، اور واقعی میرے لیے کچھ نہیں لایا۔ میں بس سوچتا رہ گیا، یہ کیا فضول حرکت ہے؟ تو میرے والد کا ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اسلام کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام پاکستانیوں کا مذہب ہے۔ حال ہی میں، شاید ایک یا دو سال پہلے، میں نے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا اور مجھے توقع تھی کہ والد کی طرف کا نسب صرف ہندوستانی ہو گا۔ جبکہ والد کی طرف، ہاں، زیادہ تر ہندوستانی تھا، لیکن کچھ حصہ پاکستان کا، کچھ بنگلہ دیش کا، اور ایک بڑا حصہ، میرا خیال ہے ان کے ڈی این اے کا تقریباً ۲۴٪ افغانستان سے تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ دراصل آپ اتنے ہندوستانی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت میں آپ کے ڈی این اے کا زیادہ حصہ غیر ہندوستانی ہے۔ اور اس کا بڑا حصہ پاکستانی اور افغان ہے۔ تو ہمیں...
میں نے ان سے بس مذاق میں کہا کہ کیوں نہ کابلی پلاؤ وغیرہ منگوا لیں؟ میں نے کہا، یہ ہماری ڈش ہے۔ کیا آپ کے ساتھ کبھی کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آیا جس میں آپ کو محسوس ہوا ہو کہ آپ کا اللہ کے ساتھ کوئی خاص تعلق ہے؟ ایک دن میں پیدل گھر جا رہا تھا کہ بہت ہی تیز بارش شروع ہو گئی۔ میں اس قسم کی بارش کی بات کر رہا ہوں جس سے نالیاں ابل پڑیں۔ یعنی ساری نالیاں اب ابل رہی تھیں اور سڑکیں پانی سے لبالب بھرنے لگی تھیں۔ پانی فٹ پاتھ پر چڑھ آیا تھا۔ بہت ہی تیز بارش تھی۔ میں پیدل گھر جا رہا تھا کہ ایک دکان کے نیچے چلا گیا، وہاں جیسے کوئی سپر مارکیٹ تھی جس پر وہ سائبان سے لگے ہوتے ہیں۔ تو میں بارش سے پناہ لینے کے لیے اس کے نیچے چلا گیا۔ میں نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کی۔ سب سے پہلے میں اللہ سے یہ مانگنا چاہتا تھا کہ گھر پہنچنے تک بارش رک جائے۔ تو میں نے کہا، کیا آپ میرے اپنی گلی تک پہنچنے تک بارش روک سکتے ہیں؟ ہاں، پتا نہیں کیوں۔ دیکھیں، مجھے نہیں معلوم کیوں میرا دل چاہا کہ یہ مانگوں۔ پھر میں اس کے نیچے سے باہر نکلا۔ اور پھر مجھے احساس ہوا کہ بارش نہیں ہو رہی۔ وہ مکمل طور پر رک چکی تھی۔ میں وہاں سے اپنے گھر تک پیدل چلا۔ یہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا پیدل راستہ تھا۔ میں چلتا رہا، اور جب اپنی گلی میں پہنچا تو پھر سے بوندا باندی شروع ہو گئی۔ لیکن یہ ہلکی ہلکی بوندیں تھیں۔ اور پھر جیسے ہی میں اپنی دہلیز پر پہنچا، بارش بالکل ویسے ہی برسنے لگی جیسے دعا سے پہلے برس رہی تھی۔ جب آپ کو کوئی مسئلہ ہو تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ایسے بات کریں جیسے اپنے دوست سے کرتے ہیں۔ یہ مت سوچیں کہ مجھے بہت زیادہ رسمی ہونا پڑے گا۔ ہاں، دعا مانگنے کا مسنون طریقہ ہے۔ لیکن جب ایک بار بات شروع کریں، تو کھل کر کریں۔ کیونکہ اللہ کوئی تصور نہیں ہے۔ اللہ آپ کو سنتا ہے اور آپ کی بات پر توجہ دیتا ہے۔ آپ اسلام سے پہلے کے ریس اور اسلام کے بعد کے ریس میں کیا فرق دیکھتے ہیں؟ اسلام نے مجھے یہ صلاحیت دی کہ میں اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کو نیک کاموں میں لگاؤں۔ میں نہیں بدلا۔ دنیا کے بارے میں میرا نقطۂ نظر بدل گیا ہے۔ اور اس نے مجھے وہ چیزیں دیں جن کی مجھے امید نہیں تھی۔ مجھے بات کرنا پسند ہے۔ اسلام سے پہلے لوگ میری بات سننا نہیں چاہتے تھے۔ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اب لوگ میری بات سننا چاہتے ہیں۔ لوگ مجھے مسجد میں خطاب کے لیے بلاتے ہیں۔ یہ اسلام ہی ہے جو انسان کو بلند کرتا ہے۔ جب میں غیر مسلم تھا اور سیکنڈری اسکول میں تھا، تو امتحانات پر زیادہ محنت نہیں کرتا تھا۔ اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دیتا تھا۔ اگر آپ مجھ سے کہتے کہ بڑے ہو کر تم کیمبرج یونیورسٹی جاؤ گے، تو میں کہتا، آپ فضول بات کر رہے ہیں۔ اب اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ آپ کیمبرج یونیورسٹی کیسے پہنچے؟ تو میں کہوں گا، بھائی، بِاِذنِ اللہ میرے لیے فرسٹ کلاس ڈگری لینا آسان تھا۔ میرے لیے کیمبرج یونیورسٹی جانا آسان تھا۔ جب میں ڈگری کر رہا تھا تو میرے دادا اور دادی کا انتقال ہو گیا۔ وہ کووڈ کا زمانہ تھا۔ میرا بیٹا ایک سال کا تھا۔ مجھے نوکری بھی کرنی تھی اور میں ڈھائی گھنٹے کا سفر کر کے کیمبرج جاتا اور ڈھائی گھنٹے کا سفر کر کے کام پر واپس آتا تھا۔ اللہ نے میرے لیے یہ آسان کر دیا۔ اسلامی طرزِ زندگی اپنانا کتنا مشکل تھا؟ جیسے حرام سے بچنا، دن میں پانچ وقت نماز پڑھنا۔ کیا یہ آپ کے لیے مشکل تھا، یا سارا دن روزہ رکھنا؟ میں کہوں گا کہ روزہ اور نماز مشکل نہیں تھے۔ اصل مشکل ماحول کی ہے۔ اگر آپ ایسے لوگوں کے ساتھ ہیں جو ہمیشہ آپ کو حرام کی طرف بلاتے ہیں، تو پھر کیا ہو گا؟ آپ یہ غلطیاں کریں گے اور یہ کام کر بیٹھیں گے۔ تو جب آپ خود کو ایسے ماحول سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی خاطر الگ کر لیں، تب آپ اس چکر سے نکل سکتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی میں کہوں گا کہ کوئی بھی راتوں رات نہیں بدلتا۔ اور آپ کے لیے سب سے اچھی بات اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ اچھی صحبت اختیار کریں۔ کیونکہ یہ لوگ آپ کی مدد کریں گے۔ آپ کو نبی پاک ﷺ کی کس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ ہے کہ نبی پاک ﷺ قیادت کا کامل نمونہ ہیں۔ آپ ایک نرم مزاج ہستی کو دیکھتے ہیں۔ ایک ایسی ہستی جو لوگوں کی فکر کرتی ہے۔ ایک ایسی ہستی جو پُرسکون اور متوازن ہے۔ ایک ایسی ہستی جو ہمیشہ لوگوں پر نظر رکھتی ہے اور یہ دیکھتی ہے کہ میں ان کی مدد کیسے کروں؟ انہیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ وہ کس مشکل میں ہیں؟ اور نبی پاک ﷺ لوگوں کی ضروریات، ان کی خواہشات دیکھتے ہیں، کہ ان کی مدد کیسے ہو سکتی ہے۔ اور یہی نبی پاک ﷺ کا اندازِ قیادت ہے۔ لیکن اس نرمی کے باوجود نبی پاک ﷺ سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک حدیث ہے جو مجھے یاد ہے، اس میں بیان ہے کہ مدینہ کے مضافات میں ایک آواز آئی، جیسے کوئی ان پر حملہ کرنے والا ہو۔ انہوں نے زوردار دھماکا اور شور سنا۔ تو وہ نکلے، جلدی سے زرہ پہنی اور باہر گئے۔ اور جب وہ گھوڑوں پر نکل رہے تھے، کہ نبی کریم محمد ﷺ اکیلے واپس تشریف لا رہے ہیں۔ نبی پاک ﷺ پہلے ہی جا کر اکیلے واپس آ رہے تھے، اور فرمایا کہ کچھ نہیں تھا۔ کوئی بات نہیں، میں نے دیکھ لیا ہے۔ ہم واپس جا کر سو سکتے ہیں۔ تو یہ اس بات کا امتزاج ہے کہ حقیقی مردانگی اور حقیقی قیادت کیا ہے: نرم ہونا، محبت اور شفقت کرنا، بہادر ہونا اور اپنے اصولوں پر ڈٹ کر کھڑے رہنا۔ اگر آپ کو دنیا کے تمام غیر مسلموں سے بات کرنے کا موقع ملے، اور آپ کے پاس ایک منٹ ہو تو آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ ہم سب کو ایک لمحے کے لیے رک کر ایک سادہ سا سوال پوچھنا چاہیے۔ "میں آج جن باتوں پر یقین رکھتا ہوں ان پر یقین کیوں رکھتا ہوں؟ کیا میں اس لیے مسیحی ہوں کہ میرے والدین مسیحی ہیں؟ کیا میں اس لیے سکھ ہوں کہ میرے والدین سکھ ہیں؟ کیا میں اس لیے ہندو ہوں کہ میرا خاندان ہندو ہے؟ کیا وجہ ہے کہ آپ ان مذاہب اور ان روایات پر چل رہے ہیں جن سے آپ جڑے ہیں؟" کسی انسان کے لیے یہ سننا آسان نہیں کہ وہ غلط ہے، یا یہ ماننا کہ اس کا نظریۂ حیات غلط ہے۔ بلکہ یہ سب سے مشکل کاموں میں سے ایک ہے، کیونکہ اس سے انا کو ٹھیس پہنچتی ہے، کیونکہ آپ خود سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ دنیا کے بارے میں آپ کا تصور غلط ہے۔ لیکن ایک لمحے کے لیے رکیں۔ کیا آپ باطل میں جینے کے بجائے حق کو پانا پسند نہیں کریں گے؟ زیادہ شرم کی بات کیا ہے؟ باطل میں جینا، یا انا پر ذرا سی چوٹ برداشت کر کے اپنے نظریۂ حیات کو پرکھنا اور حق قبول کرنا؟ قرآن پڑھیں۔ پڑھیں کہ اللہ انسانیت سے کیا چاہتا ہے۔ ہدایت کو پڑھیں۔ پڑھیں کہ اللہ آپ سے کیا چاہتا ہے۔ نبی کریم محمد ﷺ کی سیرت پڑھیں۔ اور اگر آپ کے ذہن میں سوالات ہوں تو کسی سے رابطہ کریں۔ بس رابطہ رکھیں۔ خود کو چیلنج کریں کہ دیکھیں یہ مذہب آخر ہے کیا؟ کم از کم آپ یہ تو جان لیں گے کہ اسلام ہے کیا۔ کیا آپ نے بھی اسلام قبول کیا ہے مگر سمجھ نہیں آ رہا کہاں سے سٹارٹ کریں؟ یا شاید آپ پیدائشی مسلمان ہیں مگر ایک فریش سٹارٹ لینا چاہتے ہیں اور اسلام کو بالکل شروع سے سیکھنا چاہتے ہیں؟ اسی لیے ہم نے Step Islam ایپ بنائی ہے۔ یہ بالکل فری اور ایڈ-فری ایپ ہے جو آپ کو بہت ہی کلئیر اور آرگنائزڈ طریقے سے اسلام کے بارے میں سکھاتی ہے۔ آپ ایزیلی ایمان کی بیسکس، اہم قرآنی ٹرمز سیکھیں گے، اور ایسے پریکٹیکل ٹاسکس پورے کریں گے جن سے آپ اپنے حساب سے، زندگی بھر کی عادتیں بنا سکیں۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر اسے ڈیلے مت کریں۔ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں، Step Islam ڈاؤنلوڈ کریں، اور ہمیشہ کی خوشی کی طرف اپنا پہلا سٹیپ آج ہی لیں۔
مجھے نہیں چاہیے!" السلام علیکم، برادر ریس بائی فیلڈ۔ ہماری دعوت قبول کرنے کا بہت شکریہ۔ ٹوورڈز ایٹرنٹی میں آپ کی آمد پر ہمیں خوشی ہے۔ میں اس سوال سے آغاز کروں گا کہ ریس بائی فیلڈ کون ہیں؟ اپنے بارے میں مختصراً بتائیں۔ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ میرے بھائی، الحمدللہ، آپ کی میزبانی میرے لیے اعزاز ہے۔ میں ایک مخلوط نسل کے گھرانے میں پیدا ہوا۔ میرے والد ہندوستان سے برطانیہ آنے والے پہلی نسل کے تارکِ وطن ہیں۔ اور میری والدہ برطانیہ کی ایک انگریز خاتون ہیں۔ میری والدہ کا خاندان مسیحی پس منظر رکھتا ہے۔ اور میرے والد کا خاندان سکھ پس منظر رکھتا ہے۔ میں نے بہت سے مذاہب کا مطالعہ کیاہے۔ پھر میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا۔ میں نے کلمۂ شہادت پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔ دراصل میں نے دو سال تک اپنا اسلام چھپائے رکھا۔ آخرکار میرے گھر والوں کو پتا چل گیا۔ اس پر بہت چیخ و پکار اور گالم گلوچ ہوئی۔ اگلے تین چار سال میں حالات بد سے بدتر ہوتے گئے۔ میں نے کنگز کالج لندن سے فلسفے میں ڈگری حاصل کی۔ الحمدللہ، میں نے فرسٹ کلاس میں گریجویشن کی۔ اس کے بعد میں نے کیمبرج یونیورسٹی سے الٰہیات، فلسفۂ مذہب اور مذہبیات میں ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔ ایمان کے حوالے سے آپ کی زندگی کیسی تھی؟ آپ کس چیز پر یقین رکھتے تھے؟ ظاہر ہے میں چرچ میں مذہبی تقریبات میں شریک ہوتا تھا، جیسے شادیاں وغیرہ۔ لیکن بچپن ہی سے کسی انسان کے خدا ہونے کا تصور میں قبول نہیں کر پاتا تھا۔ اسی طرح گوردوارے میں بھی، جو سکھوں کی مقدس جگہ ہے، یعنی سکھوں کا عبادت خانہ، وہاں بھی میں جاتا رہا۔ میں سمجھتا تھا یعنی، کم عمری میں بھی کہ سکھ مت کے بانی، گرو نانک ایک سماجی مصلح زیادہ ہیں بجائے اس کے کہ وہ کوئی ایسے شخص ہوں جنہیں کسی قسم کی وحی ملی ہو۔ اس دور میں ایک حد تک نسل پرستی کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ انگریز مجھے انگریز نہیں سمجھتے۔ اور ایشیائی لوگ مجھے ایشیائی نہیں سمجھتے۔ تو آپ ایک عجیب سی جگہ پھنس جاتے ہیں۔ اس سے صرف ایک سال پہلے امریکہ میں ۹/۱۱ کے حملے ہوئے تھے۔ کچھ عرصہ بعد ۷/۷ کے بم دھماکے ہوئے، جب بسوں اور لندن انڈرگراؤنڈ پر خودکش حملہ کیا گیا۔ اور یہ گویا اسلام اور مسلمانوں سے معاشرے میں رچی بسی نفرت تھی۔ ہوا یہ کہ دراصل اُس دن میرے والد کو اسی ٹرین میں سوار ہونا تھا۔ وہی ٹرین جو سینٹرل لائن پر دھماکے سے اڑ گئی۔ یہی وہ ٹرین تھی جس میں انہیں سوار ہونا تھا۔ پھر میں نے ابو کو فون کرنے کی کوشش کی تو ان کا فون بند تھا۔ کیونکہ میں سوچ رہا تھا کہ ابو اسی ٹرین میں ہیں۔ میں نے امی کو فون کر کے پوچھا، کیا ابو سے بات ہوئی؟ آپ نے خبر سنی؟ وہ کہنے لگیں، میں کال کرنے کی کوشش کر رہی ہوں مگر کال کٹ جاتی ہے۔ لیکن ہوا یہ تھا کہ وہ ٹرین اسٹیشن میں داخل ہو چکے تھے۔ وہ سینٹرل لائن تک پہنچنے کے لیے ایک ٹرین میں سوار ہوئے ہوں گے۔ اور جب وہ سینٹرل لائن پر تھے، تبھی حملہ ہوا۔ اور انہوں نے عملاً پورا علاقہ بند کر کے سیل کر دیا۔ نہ کوئی اسٹیشن سے نکل سکتا تھا، نہ کوئی اندر جا سکتا تھا۔ اسی لیے ان کا سگنل نہیں تھا، وہ زیرِ زمین پھنسے ہوئے تھے۔ تو الحمدللہ وہ شاید ایک یا دو ٹرینوں کے فرق سے دھماکے والی ٹرین سے بچ گئے، کیونکہ اُس دن انہیں دیر ہو گئی تھی۔ اسی دوران نئی الحادی تحریک بھی زور پکڑ رہی تھی۔ اسٹیفن ہاکنگ، رچرڈ ڈاکنز اور یہ لوگ اُس دور میں اپنا ایجنڈا خوب آگے بڑھا رہے تھے۔ جب میری عمر تقریباً ۱۵، ۱۶ سال تھی، تبھی ان کی کتاب شائع ہوئی۔ میں کہیں ان چیزوں کے بیچ میں تھا۔ ایک طرف میں اس لہر کو جذب کر رہا تھا۔ اس رجحان کو جذب کر رہا تھا اور اسی زاویے سے چیزوں کو دیکھ رہا تھا، ان پر سوال اٹھا رہا تھا۔ لیکن ساتھ ہی میرے اندر ایک مضبوط احساس بھی تھا کہ کسی چیز کا وجود ضرور ہے۔ میں اسٹیفن ہاکنگ کا ایک لیکچر دیکھ رہا تھا اور میں نے پورا لیکچر دیکھا۔ یہ کائنات کے آغاز کے بارے میں تھا، اور وہ اپنی تحقیق اور اپنے نظریات بیان کر رہے تھے کہ کائنات کیسے شروع ہوئی، بگ بینگ تک پیچھے جاتے ہوئے۔ پھر ہم اس مقام پر پہنچے کہ کائنات آئی کہاں سے؟ لیکچر کا نتیجہ یہ تھا کہ کائنات کا ایک آغاز ہے۔ وہ آغاز کہاں سے آیا؟ کائنات کا سبب کیا تھا؟ اور پھر ان کا جواب تھا: "یہ عدم سے وجود میں آئی۔" میں وہاں بیٹھا لیپ ٹاپ کی اسکرین کو تکتا رہا، اس شخص کو دیکھ کر سوچتا رہا کہ آپ کہہ کیا رہے ہیں؟ اور پھر انہوں نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ ہمیں نہیں معلوم۔ اور پھر آپ ایک ایسے مقام پر آتے ہیں جہاں ایک ایسی پکی بات ہے جسے ہم سب جانتے ہیں۔ عدم سے کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔ یہ تو چیزوں کی بالکل بنیادی سمجھ ہے۔ اگر کوئی اثر ہے تو اس کا سبب بھی ہے۔ اور آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ، یہ بگ بینگ، ہماری پوری کائنات کی تخلیق عدم سے ہو گئی۔ اور آپ فزکس کے ان اصولوں کی بات کرتے ہیں جو پہلے سے موجود تھے، گویا یہ اصول محض اتفاق سے وہاں موجود تھے۔ اتنے ذہین آدمی کے لیے یہ بات معقول نہیں لگتی، ایک ایسے شخص کے لیے جس کے پاس اتنا علم تھا۔ میرا نتیجہ یہ تھا کہ جو جواب آپ کی زبان پر ہے، جو جواب آپ کے منہ سے نکلنا چاہیے، وہی جواب آپ روک رہے ہیں۔ اور یہی جواب میرے لیے سب سے زیادہ واضح تھا۔ اب میں نے دیکھ لیا کہ یہ شخص جس نے مجھے تین گھنٹے لیکچر دیا، مجھے سائنس نہیں بتا رہا، بلکہ اپنا نظریہ تھوپ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس اور وحی کے درمیان ٹکراؤ کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ یہ ٹکراؤ اس لیے ہے کہ لوگ اسے خود پیدا کرتے ہیں۔ لوگ اپنا نظریہ تھوپتے ہیں۔ وہ ویڈیو دیکھنے اور یہ بات سمجھنے کے بعد خدا پر یقین میرے اندر واضح طور پر پختہ ہو گیا۔ آپ تقریباً مزاحیہ انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ اسٹیفن ہاکنگ نے میرے لیے خدا کا وجود ثابت کر دیا۔ اس نے خدا پر یقین میرے دل میں پختہ کر دیا۔ کیونکہ ہمیں دنیا میں خدا کی نشانیاں نظر آتی ہیں۔ ہمیں خالق کی کاریگری نظر آتی ہے۔ وجود میں ایک بھی چیز ایسی نہیں جو کسی دوسری چیز کے بغیر قائم رہ سکے۔ تو جب ہر چیز محتاج ہو تو احتیاج کا ایک سلسلہ بن جاتا ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ احتیاج کے ان سلسلوں کو کہیں نہ کہیں ختم ہونا ہے۔ انہیں ایک ایسے نقطے پر پہنچنا ہے جو کسی بے نیاز ہستی تک لے جائے، جو اس ڈھانچے سے باہر ہو اور اس پورے نظام کو تھامے ہوئے ہو۔ پوری کائنات میں کوئی چیز بھی خود بخود موجود نہیں ہے۔ اور ہر چیز کو وجود میں لانے کے لیے کسی کی ضرورت ہے۔ اب سوال یہ تھا کہ، "ٹھیک ہے، اگر خدا موجود ہے تو خدا کون ہے؟ خدا کے اس لقب کا حق دار کون ہے؟ اور خدا کیا ہے؟" اس لیے میں نے سوچا کہ فطری نقطۂ آغاز یہ ہو گا کہ سب سے قدیم مذاہب کو دیکھا جائے۔ اور قدیم مشرکانہ مذاہب کا تصور، کہ آپ کو دیوتاؤں سے سودے بازی کرنی پڑتی تھی اور قربانیاں دینی پڑتی تھیں۔ اور مجھے یہ بالکل بے معنی سا لگتا ہے۔ یعنی یہ اعلیٰ ترین ہستی، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا، جس کا ہر چیز پر اختیار ہے، آپ کو اس سے سودے بازی کی کیا ضرورت ہے؟ خدا اس سے بالاتر ہے۔ خدا اس قسم کی تجسیم سے پاک ہے، کہ ہم آپس میں جیسا معاملہ کرتے ہیں وہی خدا پر تھوپ دیں۔ تو یہ چیز مجھے بہت ہی ناگوار لگی اور میں نے یہ ان تمام قدیم مشرکانہ مذاہب میں دیکھی۔ یا پھر یہ سماجی کنٹرول کی شکلیں تھیں جن میں حکمران اور بادشاہ اپنے ان نام نہاد خدائی اختیار کے منصب کو اقتدار قائم رکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ یہ میرا پہلا اعتراض تھا، اور میں نے بہت سے مذاہب کا مطالعہ کیا۔ جہاں تک میرے والد کی طرف کے سکھ مت کا تعلق ہے، اس کے بانی گرو نانک ہیں۔ گرو نانک ایک ہندو گھرانے میں پلے بڑھے۔ وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات اور جھگڑوں سے کافی نالاں تھے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ وہ مراقبہ کرنے اور اس مسئلے پر وضاحت پانے کے لیے نکلے۔ گرو نانک اپنے سفر کے دوران دراصل حج ادا کرنے بھی گئے۔ لیکن جب وہ اس سفر سے لوٹے تو واپسی پر ان کے کچھ مذہبی نظریات واضح ہو چکے تھے۔ اسی طرح بہت سی ہندوستانی روایات، جیسے بدھ مت اور سکھ مت، امتزاجی مذاہب تھے۔ امتزاجی مذہب وہ ہوتا ہے جو اپنے اردگرد کی ثقافتوں اور مذہبی رسوم کو اپنا کر اپنے مذہب میں شامل کر لیتا ہے۔ سکھ مت میں اس کی بہت واضح مثال موجود ہے۔ ان کی عبادت ہندوؤں کی پوجا سے زیادہ قریب ہے۔ لیکن اگر کوئی آج کے ہندوستان جائے تو دیکھے گا کہ دراصل یہ بہت عام بات ہے۔ آپ ہندوؤں کو مسجد جاتے دیکھیں گے اور شاید ہندوؤں کو کسی طریقت میں شامل ہوتے بھی دیکھیں گے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں ہندو نقشبندی بھی ہیں۔ ایسے مسلمان بھی ہیں جو ہندوؤں کے استھانوں پر جاتے ہیں اور ان کے پجاریوں سے برکت لینے اور اس جیسے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مذہبی روایات کا یہ ملاپ، جسے ہم سماجیات کی رو سے "دیہی مذہب" کہتے ہیں۔ اس طرح کا دیہی مذہب ہندوستان میں بہت عام ہے۔ سکھ مت انسان کا بنایا ہوا مذہب ہے، اور میں نے ہندو مت کا بھی مطالعہ کیا۔ ہندو مت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دراصل ہندو مت نام کا کوئی مذہب ہے ہی نہیں۔ یہ پہلا مسئلہ ہے، کیونکہ "ہندو مت" ایک نوآبادیاتی اصطلاح ہے۔ جب انگریز ہندوستان آئے تو انہوں نے دیکھا کہ بہت سے گندمی رنگت والے لوگ عبادت اور مذہبی رسوم ادا کر رہے ہیں۔ تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ سب ایک ہی مذہب ہے۔ ان کے یہ مختلف...
انہوں نے سب کو ایک ہی خانے میں ڈال دیا کہ یہ... جیسے لفظ "ہندو" دریائے سندھ سے نکلا ہے، ہے نا؟ تو یہ...
یہ بس ان لوگوں کا مذہب ہے۔ یہ بالکل واضح ہو گیا کہ یہ محض سماجی کنٹرول تھا، اور عوام کو قابو میں رکھنے کا ایک طریقہ تھا، اور اسی قسم کی چیزیں۔ پھر میں نے یہودیت کا مطالعہ کیا۔ روایتی یہودیت میں یہودیت اختیار کرنا ممکن نہیں۔ خدا کی چنی ہوئی قوم کا حصہ بننے کے لیے آپ کا پیدائشی یہودی ہونا ضروری ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایک نسلی مذہب ہے۔ یہ تصور مجھے معقول نہیں لگا۔ دوسرا مسئلہ خود یہودی روایت کا جائزہ لینے سے سامنے آیا، کہ بائبل کے یہودیوں کا اپنے انبیاء کے ساتھ کیسا تعلق تھا، اور خود یہ روایت بتاتی ہے کہ پوری تاریخ میں یہودی قوم نے پاسداری نہیں کی، جیسا کہ بائبل میں مذکور ہے۔ بائبل بتاتی ہے کہ یہودی قوم نے خدا کے ساتھ اپنا عہد نہیں نبھایا۔ اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ بائبل میں کسی حد تک تحریف ہو چکی تھی، واقعات میں تحریف۔ ایک واقعے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو جنگ پر بھیجا، محض اس لیے کہ وہ آدمی مارا جائے اور پھر وہ اس کی بیوی سے شادی کر سکیں۔ اور اس طرح کے تمام واقعات، جن میں یہ روایت معقول نہیں لگتی، کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے چنا تھا۔ اور اسی کتاب میں انبیاء کی تعریف کی جا رہی ہے، اور یہ کہ وہ خدا کے کتنے قریب ہیں، اور ان کی سچائی کی۔ لیکن ساتھ ہی انہیں صرف بشری کمزوری والا نہیں دکھایا جاتا، کیونکہ غلطی کرنے اور بڑی بڑی غلطیاں کرنے میں فرق ہے۔ اور اس میں کچھ تضادات بھی ہیں۔ فطری اگلا قدم مسیحیت کا جائزہ لینا تھا۔ اور جب آپ مسیحیت میں گہرائی سے اترتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ کیا ہوا ہے۔ تثلیث کا تصور، یا کسی کا خدا کا حقیقی بیٹا ہونا۔ یعنی یہ کہ عیسیٰؑ خدا ہیں۔ باپ خدا ہے۔ روح القدس خدا ہے۔ لیکن خدا ایک ہے، اور شخصیتیں تین۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر شخصیت کے الگ خیالات اور الگ خواہشات ہونی چاہییں۔ کیونکہ اگر آپ کہیں کہ نہیں، ان کے خیالات ایک جیسے ہیں۔ ان کے تصورات ایک جیسے ہیں۔ ان کے ارادے ایک جیسے ہیں۔ ان تینوں میں ہر چیز یکساں ہے، تو ریاضی کی رو سے وہ ایک ہی شخص ہیں۔ آپ نے انہیں ایک ہی ہستی میں سمیٹ دیا، ہے نا؟ اگر وہ سب برابر اور ازلی ہیں تو وہ کسی بات پر متفق کیسے ہوتے ہیں؟ اگر عیسیٰؑ صلیب پر مرنا نہ چاہتے تو؟ کیونکہ بائبل کے مطابق انہوں نے فریاد کی تھی۔ انہوں نے پکارا، "اے باپ، اے باپ، تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟" تو واضح ہے کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مصلوبیت ہو۔ تو پھر یہ رضامندی کیسے ہوئی؟ یہ بات معقول نہیں۔ عیسیٰؑ نے خود تورات کی پیروی کا حکم دیا اور وہ یہودی تھے۔ وہ ایک یہودی انسان تھے۔ تو جب ہم ان بیانات کو، یعنی "میں ہوں" والے بیانات اور اس طرح کی باتوں کو یہودی الٰہیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں، تو سمجھ آتا ہے کہ ان بیانات کا مطلب یہ نہیں کہ عیسیٰؑ خدا ہیں۔ ان سے الوہیت ثابت نہیں ہوتی۔ سب سے پہلے، یہودی روایت میں خدا کا بیٹا ہونے کا مطلب محض ایک پرہیزگار شخص ہونا ہے۔ یہودی روایت میں جب کوئی شخص، جب کوئی شخص خدا کی طرف سے بات کر رہا ہو، تو یہودی روایت میں اسے ایسا مقام دیا جاتا ہے گویا وہ خدا ہو۔ ہمیں ایک بات بہت واضح طور پر سمجھنی ہو گی۔ پہلی بات، بائبل خدا کے علاوہ دوسری ہستیوں کو بھی "ایلوہیم" کہتی ہے، جہاں انہیں الوہیت کی علامت کا درجہ دیا جاتا ہے۔ یعنی یہ شخص خدا کا نمائندہ ہے، لیکن خود خدا نہیں۔ دوسری بات تب سامنے آتی ہے جب ہم خود انجیلوں کو دیکھتے ہیں۔ ایک طرف انجیل میں عیسیٰؑ کے ایسے بیانات ہیں کہ وہ خدا سے دعا کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میری پیروی نہ کرو، خدا کی پیروی کرو۔ میں نیک نہیں ہوں۔ صرف خدا نیک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ عیسیٰؑ کہہ رہے ہیں، میں خدا کا نمائندہ ہوں اور خدا کا سچا نبی ہوں۔ اور وہ خود کس بات کا حکم دیتے ہیں؟ خدا سے دعا کا، خدا کی پیروی کا، خدا کی شریعت پر چلنے کا، اپنی اطاعت کا نہیں، بلکہ شریعت کی پیروی اور صرف خدا کی عبادت کا۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بائبل میں دراصل عیسیٰؑ کو خدا کے طور پر پیش نہیں کیا گیا، بلکہ یہ وہ چیز ہے جو پولس کی الٰہیات نے اس روایت پر مسلط کی ہے۔ میں اس سفر کے اختتام کے قریب تھا، اور مطمئن نہیں تھا، کیونکہ میں اسٹیفن ہاکنگ والے مرحلے سے گزر چکا تھا۔ مجھے خدا پر یقین مل چکا تھا۔ لیکن ساتھ ہی میں ان روایات سے بھی گزر چکا تھا اور محسوس کرتا تھا کہ انہوں نے مجھے وہ جواب نہیں دیا جس کی مجھے تلاش تھی۔ اس وقت میری کلاس میں ایک مسلمان تھا، اس نے مجھ سے کہا، "تم قرآن کیوں نہیں پڑھ لیتے؟ ایک بار آزما کر تو دیکھو۔" تو وہیں سے میں نے سوچا، "زیادہ سے زیادہ کیا ہو جائے گا؟" تو میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا۔ اس وقت میں اپنا پلے اسٹیشن، یعنی پلے اسٹیشن 3 استعمال کرتا تھا، اور انٹرنیٹ براؤزر پر چھپ کر اسے دیکھتا تھا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی کو پتا چلے کہ میں قرآن پڑھ رہا ہوں۔ میں اسے پڑھتا رہا، اور میرا خیال ہے کہ میں نے سورۃ الفاتحہ سے سورۃ الناس تک پڑھا۔ لیکن جو چیز مجھے سب سے نمایاں لگی وہ اسلام کی سادگی اور اسلام کا دو ٹوک انداز تھا۔ اسلام حد سے زیادہ تفصیلی یا ڈرامائی قصے بیان نہیں کرتا۔ قرآن آپ کو واضح سبق کے ساتھ واضح قصے سناتا ہے۔ اور یہ سیدھا دل پر اثر کرتا ہے۔ اور میں نے دیکھا کہ انبیاء کے قصوں میں جو تحریفات تھیں، قرآن نے ان کی وضاحت کر دی تھی۔ اللہ فرماتا ہے کہ قرآن "مُہَیمِن" ہے۔ یعنی وہ نگران ہے، محافظ ہے، جو دوسری کتابوں پر فوقیت رکھتا ہے۔ اور وہ ان غلطیوں اور خطاؤں کو واضح کرتا ہے۔ اللہ ہم سے فرماتا ہے کہ جب ہم زمین کو دیکھیں، "کیا تم نہیں دیکھتے کہ اسے ہمارے لیے کتنے کامل انداز میں بنایا گیا ہے؟" آج کل ہم اسے "ذہین ڈیزائن" کی دلیل کہتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے، "اپنے اردگرد کی دنیا کو دیکھو۔ پاک دل اور صاف ذہن کے ساتھ غور کرو۔ تو تم دیکھ لو گے کہ اللہ ہی وہ واحد ہستی ہے جو اسے پیدا کر سکتی تھی۔" یہی بات مجھے سب سے زیادہ پسند آئی۔ کہ اسلام ایک سادہ، عقلی اور مکمل ضابطۂ حیات پیش کرتا ہے۔ قرآن واضح اور جامع قوانین دیتا ہے جو عقل میں آتے ہیں۔ اور آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اگر معاشرہ ان قوانین پر چلے تو معاشرے کو واضح فائدے ہوں گے، اگر اسلام کے قوانین نافذ ہوں۔ جبکہ اگر نہ ہوں اور سب کچھ بکھر جائے تو آپ دیکھنے لگتے ہیں کہ کچھ چیزیں معاشرے میں کیسی برائیاں پیدا کرتی ہیں۔ ان قوانین پر عمل نہ کرنا کس طرح معاشرے میں مسائل اور بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ اسلام کس طرح لوگوں کی عزت کی حفاظت چاہتا ہے۔ کس طرح خاندان قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ نہ کسی کو شرمندگی اٹھانی پڑے نہ کوئی بے سہارا چھوڑا جائے، اور ہر شخص کو اس کا حق ملے۔ اور یہ چیز میں نے کسی اور روایت میں نہیں دیکھی جو اتنی صاف اور آسانی سے پیش کی گئی ہو۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ آپ نے کلمۂ شہادت پڑھنے کا فیصلہ کیا؟ اور کلمہ پڑھتے وقت آپ کو کیسا محسوس ہوا؟ کیا آپ ہمیں ان لمحات میں لے جا سکتے ہیں؟ میں یوٹیوب پر قیامت کی نشانیوں، یعنی روزِ جزا کی علامات پر کچھ لیکچر دیکھ رہا تھا۔ اور جب میں نے ان پر غور کیا تو میرے دل میں خوف اتر آیا۔ کہ کسی بھی وقت، کسی بھی لمحے مجھے موت آ سکتی ہے۔ اور کیا میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے کے سوا کسی اور حالت میں مرنا چاہتا ہوں؟ اور یہی چیز میرے اسلام قبول کرنے کا سبب بنی۔ اگرچہ ہم خود کو دھوکے میں رکھتے ہیں اور موت کے بارے میں نہیں سوچتے، مگر جب یہ حقیقت سامنے آئی تو میں جان گیا۔ میں نے جلدی کی۔ میں نے فوراً اپنے دوست کو فون کر کے کہا، "میں آج ہی کلمہ پڑھنا چاہتا ہوں۔ وقت نہیں ہے۔" اور اس لمحے جب مجھے احساس ہوا کہ میں کل مر سکتا ہوں، آج ہی کچھ دیر بعد مر سکتا ہوں، تو نہ کوئی کل تھا، نہ کوئی بعد، کچھ بھی نہیں تھا۔ بس ابھی، کلمۂ شہادت ابھی پڑھنا ہے۔ تو میں نے دوست کو فون کیا اور اس نے مجھے اپنے گھر بلایا۔ پھر ہم اس کے ایک خاندانی دوست کے پاس گئے جو مسجد کے امام تھے۔ وہ آئے اور الحمدللہ میں نے ان کے ساتھ کلمہ پڑھا۔ ہم نے کلمۂ شہادت کے معنی سمجھے۔ جب میں کلمہ پڑھ رہا تھا تو اگرچہ کمرے میں چند ہی لوگ تھے، مگر ایسا لگ رہا تھا جیسے کمرہ مجھ پر سمٹتا جا رہا ہو۔ جیسے مجھ پر کوئی شدید بوجھ ہو۔ لیکن جس لمحے میں نے کہا، "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ" جس لمحے میں نے یہ کہا، مجھے لگا کہ دنیا بھر کا بوجھ مجھ سے اتر گیا۔ مجھے لگا کہ میرے گناہوں کا بوجھ مجھ سے اتر گیا۔ مجھے لگا میری پریشانیاں دور ہو گئیں۔ یہ ایسا احساس تھا جیسے تازہ ہوا کا جھونکا۔ جیسے جب آپ جہاز سے باہر قدم رکھتے ہیں اور پھر سے تازہ ہوا اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہیں۔ کلمہ پڑھنے کے بعد مجھے بالکل ایسا ہی محسوس ہوا۔ آپ کے گھر والوں اور اردگرد کے لوگوں کا کیا ردِعمل تھا، خاص طور پر آپ کے والد کا؟ شروع میں جب میں نے کلمہ پڑھا، تو میں جانتا تھا کہ یہ بہت مشکل مرحلہ ہو گا۔ اس لیے دراصل میں نے دو سال تک اپنا اسلام چھپائے رکھا۔ گھر میں تو میں بس معمول کے مطابق رہنے کی کوشش کرتا۔ لیکن باہر میں مسجد جاتا، نماز پڑھتا، شاید لباس کا انداز بھی بدل رہا تھا۔ آخرکار میرے گھر والوں کو پتا چل گیا۔ میرے والد کو اس طرح پتا چلا کہ میں اسکول سے گھر آیا تو انہیں میرے کوٹ میں ٹوپی ملی۔ وہ انہیں میری جیب سے ملی اور وہ بولے، "یہ کیا ہے؟ تم نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ تم نے اپنے خون سے غداری کی ہے۔ اپنی قوم سے غداری کی ہے۔ یہ ناقابلِ قبول ہے۔" اور اس پر خوب چیخ و پکار اور گالم گلوچ ہوئی۔ اگلے تین چار سال میں حالات بد سے بدتر ہوتے گئے، یہاں تک کہ نوبت مار پیٹ اور توہین تک جا پہنچی۔ میں صبح سویرے اٹھ کر جلدی اسکول چلا جاتا۔ اور پھر بہت دیر سے گھر آتا، شاید رات کے ۲ بجے، ۳ بجے، تاکہ بس والد کا سامنا نہ ہو۔ تو ان کا ردِعمل زیادہ تر ثقافتی اثرات کے بارے میں تھا کہ وہ لوگوں کو کیسے بتائیں گے کہ ان کا بیٹا مسلمان ہے۔ ہوا یہ کہ ایک بار ابو پھر مجھ سے بحث کرنا چاہتے تھے۔ تو میں نے بس انہیں بٹھایا۔ اور کہا، "دیکھیں، میں اپنا عقیدہ نہیں چھوڑوں گا۔ میں اسلام نہیں چھوڑوں گا۔ تو یا تو آپ مجھے مسلمان کے طور پر قبول کر لیں، یا مجھے چھوڑ دیں اور میں آپ کو چھوڑ دوں گا۔" اور اس دن کے بعد اس معاملے پر ہماری کبھی بحث نہیں ہوئی۔ لیکن صرف اس لیے کہ والد نے ہار مان لی، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ابو کی طرف کے باقی رشتہ داروں نے بھی ہار مان لی تھی۔ میرے چچا کی سالگرہ پر ایک واقعہ پیش آیا۔ پورا خاندان آیا ہوا تھا۔ اور چچا میرے ساتھ بڑے یارانہ انداز میں پیش آ رہے تھے اور مجھے بے تکلف کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم نے کھانا کھایا۔ اور پھر انہوں نے مجھے گلے لگایا، لیکن اس انداز سے جیسے میری گردن دبوچ لی ہو۔ اور پھر سب کے سامنے، پورے خاندان کے سامنے، ان کے ہاتھ میں شیمپین کا گلاس تھا اور وہ اسے میرے ہونٹوں سے لگا دیتے ہیں۔ پھر مجھ سے کہتے ہیں، پیو اسے۔ میں نے کہا، میں شراب نہیں پیتا۔ پھر وہ چلّا کر بولے، "اوہ گاڈ یار، تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟" یعنی اس لمحے مجھے شرمندہ کرنے کے لیے کہنے لگے، "بس شراب پی لو۔" پھر میں نے ان سے گلاس لیا اور پھینکا تو نہیں، لیکن زور سے میز پر پٹخ دیا۔ میں نے کہا، "میں شراب نہیں پیتا۔ جو بھی شراب پیتا ہے وہ صرف خود کو رسوا کرتا ہے۔" میں نے ان سے یہی کہا۔ اور پھر پارٹی کے آخر میں، جب وہ سب نشے میں دھت ہو چکے تھے، نہ چل پا رہے تھے، نہ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر گھر جا سکتے تھے، تو میں نے ان سے کہا، جس شخص کے ساتھ تم بدتمیزی کر رہے تھے اور جسے شرمندہ کرنا چاہتے تھے، وہی تمہارے گھر جانے کے لیے ٹیکسی منگوا رہا ہے۔ اور ایسے بہت سے واقعات بعد میں میرے کزنز کے درمیان بھی ہوئے۔ جیسے ایک بار خاندانی اجتماع تھا اور بہت سے لوگ جمع تھے۔ مجھے بہت پیاس لگی تھی، بہت گرم دن تھا۔ میرا ایک کزن اٹھا اور سب سے بولا، "میں کچھ پینے کو لا رہا ہوں۔ کسی کو کچھ چاہیے؟" ایک کزن نے کہا، "مجھے پیپسی چاہیے۔ کوئی بولا مجھے یہ چاہیے۔ مجھے پانی چاہیے۔ میں نے کہا، "ہاں، مجھے پانی لا دو، پلیز۔" اس نے کہا، "میں تمہارے لیے شراب لاؤں گا یا کچھ نہیں۔" میں نے کہا، "مجھے پانی چاہیے۔" میں سمجھا وہ مذاق کر رہا ہے۔ پھر وہ گیا اور واپس آیا، اور واقعی میرے لیے کچھ نہیں لایا۔ میں بس سوچتا رہ گیا، یہ کیا فضول حرکت ہے؟ تو میرے والد کا ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اسلام کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام پاکستانیوں کا مذہب ہے۔ حال ہی میں، شاید ایک یا دو سال پہلے، میں نے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا اور مجھے توقع تھی کہ والد کی طرف کا نسب صرف ہندوستانی ہو گا۔ جبکہ والد کی طرف، ہاں، زیادہ تر ہندوستانی تھا، لیکن کچھ حصہ پاکستان کا، کچھ بنگلہ دیش کا، اور ایک بڑا حصہ، میرا خیال ہے ان کے ڈی این اے کا تقریباً ۲۴٪ افغانستان سے تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ دراصل آپ اتنے ہندوستانی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت میں آپ کے ڈی این اے کا زیادہ حصہ غیر ہندوستانی ہے۔ اور اس کا بڑا حصہ پاکستانی اور افغان ہے۔ تو ہمیں...
میں نے ان سے بس مذاق میں کہا کہ کیوں نہ کابلی پلاؤ وغیرہ منگوا لیں؟ میں نے کہا، یہ ہماری ڈش ہے۔ کیا آپ کے ساتھ کبھی کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آیا جس میں آپ کو محسوس ہوا ہو کہ آپ کا اللہ کے ساتھ کوئی خاص تعلق ہے؟ ایک دن میں پیدل گھر جا رہا تھا کہ بہت ہی تیز بارش شروع ہو گئی۔ میں اس قسم کی بارش کی بات کر رہا ہوں جس سے نالیاں ابل پڑیں۔ یعنی ساری نالیاں اب ابل رہی تھیں اور سڑکیں پانی سے لبالب بھرنے لگی تھیں۔ پانی فٹ پاتھ پر چڑھ آیا تھا۔ بہت ہی تیز بارش تھی۔ میں پیدل گھر جا رہا تھا کہ ایک دکان کے نیچے چلا گیا، وہاں جیسے کوئی سپر مارکیٹ تھی جس پر وہ سائبان سے لگے ہوتے ہیں۔ تو میں بارش سے پناہ لینے کے لیے اس کے نیچے چلا گیا۔ میں نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کی۔ سب سے پہلے میں اللہ سے یہ مانگنا چاہتا تھا کہ گھر پہنچنے تک بارش رک جائے۔ تو میں نے کہا، کیا آپ میرے اپنی گلی تک پہنچنے تک بارش روک سکتے ہیں؟ ہاں، پتا نہیں کیوں۔ دیکھیں، مجھے نہیں معلوم کیوں میرا دل چاہا کہ یہ مانگوں۔ پھر میں اس کے نیچے سے باہر نکلا۔ اور پھر مجھے احساس ہوا کہ بارش نہیں ہو رہی۔ وہ مکمل طور پر رک چکی تھی۔ میں وہاں سے اپنے گھر تک پیدل چلا۔ یہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کا پیدل راستہ تھا۔ میں چلتا رہا، اور جب اپنی گلی میں پہنچا تو پھر سے بوندا باندی شروع ہو گئی۔ لیکن یہ ہلکی ہلکی بوندیں تھیں۔ اور پھر جیسے ہی میں اپنی دہلیز پر پہنچا، بارش بالکل ویسے ہی برسنے لگی جیسے دعا سے پہلے برس رہی تھی۔ جب آپ کو کوئی مسئلہ ہو تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ایسے بات کریں جیسے اپنے دوست سے کرتے ہیں۔ یہ مت سوچیں کہ مجھے بہت زیادہ رسمی ہونا پڑے گا۔ ہاں، دعا مانگنے کا مسنون طریقہ ہے۔ لیکن جب ایک بار بات شروع کریں، تو کھل کر کریں۔ کیونکہ اللہ کوئی تصور نہیں ہے۔ اللہ آپ کو سنتا ہے اور آپ کی بات پر توجہ دیتا ہے۔ آپ اسلام سے پہلے کے ریس اور اسلام کے بعد کے ریس میں کیا فرق دیکھتے ہیں؟ اسلام نے مجھے یہ صلاحیت دی کہ میں اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کو نیک کاموں میں لگاؤں۔ میں نہیں بدلا۔ دنیا کے بارے میں میرا نقطۂ نظر بدل گیا ہے۔ اور اس نے مجھے وہ چیزیں دیں جن کی مجھے امید نہیں تھی۔ مجھے بات کرنا پسند ہے۔ اسلام سے پہلے لوگ میری بات سننا نہیں چاہتے تھے۔ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اب لوگ میری بات سننا چاہتے ہیں۔ لوگ مجھے مسجد میں خطاب کے لیے بلاتے ہیں۔ یہ اسلام ہی ہے جو انسان کو بلند کرتا ہے۔ جب میں غیر مسلم تھا اور سیکنڈری اسکول میں تھا، تو امتحانات پر زیادہ محنت نہیں کرتا تھا۔ اپنی تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دیتا تھا۔ اگر آپ مجھ سے کہتے کہ بڑے ہو کر تم کیمبرج یونیورسٹی جاؤ گے، تو میں کہتا، آپ فضول بات کر رہے ہیں۔ اب اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ آپ کیمبرج یونیورسٹی کیسے پہنچے؟ تو میں کہوں گا، بھائی، بِاِذنِ اللہ میرے لیے فرسٹ کلاس ڈگری لینا آسان تھا۔ میرے لیے کیمبرج یونیورسٹی جانا آسان تھا۔ جب میں ڈگری کر رہا تھا تو میرے دادا اور دادی کا انتقال ہو گیا۔ وہ کووڈ کا زمانہ تھا۔ میرا بیٹا ایک سال کا تھا۔ مجھے نوکری بھی کرنی تھی اور میں ڈھائی گھنٹے کا سفر کر کے کیمبرج جاتا اور ڈھائی گھنٹے کا سفر کر کے کام پر واپس آتا تھا۔ اللہ نے میرے لیے یہ آسان کر دیا۔ اسلامی طرزِ زندگی اپنانا کتنا مشکل تھا؟ جیسے حرام سے بچنا، دن میں پانچ وقت نماز پڑھنا۔ کیا یہ آپ کے لیے مشکل تھا، یا سارا دن روزہ رکھنا؟ میں کہوں گا کہ روزہ اور نماز مشکل نہیں تھے۔ اصل مشکل ماحول کی ہے۔ اگر آپ ایسے لوگوں کے ساتھ ہیں جو ہمیشہ آپ کو حرام کی طرف بلاتے ہیں، تو پھر کیا ہو گا؟ آپ یہ غلطیاں کریں گے اور یہ کام کر بیٹھیں گے۔ تو جب آپ خود کو ایسے ماحول سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی خاطر الگ کر لیں، تب آپ اس چکر سے نکل سکتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی میں کہوں گا کہ کوئی بھی راتوں رات نہیں بدلتا۔ اور آپ کے لیے سب سے اچھی بات اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ اچھی صحبت اختیار کریں۔ کیونکہ یہ لوگ آپ کی مدد کریں گے۔ آپ کو نبی پاک ﷺ کی کس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ یہ ہے کہ نبی پاک ﷺ قیادت کا کامل نمونہ ہیں۔ آپ ایک نرم مزاج ہستی کو دیکھتے ہیں۔ ایک ایسی ہستی جو لوگوں کی فکر کرتی ہے۔ ایک ایسی ہستی جو پُرسکون اور متوازن ہے۔ ایک ایسی ہستی جو ہمیشہ لوگوں پر نظر رکھتی ہے اور یہ دیکھتی ہے کہ میں ان کی مدد کیسے کروں؟ انہیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ وہ کس مشکل میں ہیں؟ اور نبی پاک ﷺ لوگوں کی ضروریات، ان کی خواہشات دیکھتے ہیں، کہ ان کی مدد کیسے ہو سکتی ہے۔ اور یہی نبی پاک ﷺ کا اندازِ قیادت ہے۔ لیکن اس نرمی کے باوجود نبی پاک ﷺ سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک حدیث ہے جو مجھے یاد ہے، اس میں بیان ہے کہ مدینہ کے مضافات میں ایک آواز آئی، جیسے کوئی ان پر حملہ کرنے والا ہو۔ انہوں نے زوردار دھماکا اور شور سنا۔ تو وہ نکلے، جلدی سے زرہ پہنی اور باہر گئے۔ اور جب وہ گھوڑوں پر نکل رہے تھے، کہ نبی کریم محمد ﷺ اکیلے واپس تشریف لا رہے ہیں۔ نبی پاک ﷺ پہلے ہی جا کر اکیلے واپس آ رہے تھے، اور فرمایا کہ کچھ نہیں تھا۔ کوئی بات نہیں، میں نے دیکھ لیا ہے۔ ہم واپس جا کر سو سکتے ہیں۔ تو یہ اس بات کا امتزاج ہے کہ حقیقی مردانگی اور حقیقی قیادت کیا ہے: نرم ہونا، محبت اور شفقت کرنا، بہادر ہونا اور اپنے اصولوں پر ڈٹ کر کھڑے رہنا۔ اگر آپ کو دنیا کے تمام غیر مسلموں سے بات کرنے کا موقع ملے، اور آپ کے پاس ایک منٹ ہو تو آپ کیا کہنا چاہیں گے؟ ہم سب کو ایک لمحے کے لیے رک کر ایک سادہ سا سوال پوچھنا چاہیے۔ "میں آج جن باتوں پر یقین رکھتا ہوں ان پر یقین کیوں رکھتا ہوں؟ کیا میں اس لیے مسیحی ہوں کہ میرے والدین مسیحی ہیں؟ کیا میں اس لیے سکھ ہوں کہ میرے والدین سکھ ہیں؟ کیا میں اس لیے ہندو ہوں کہ میرا خاندان ہندو ہے؟ کیا وجہ ہے کہ آپ ان مذاہب اور ان روایات پر چل رہے ہیں جن سے آپ جڑے ہیں؟" کسی انسان کے لیے یہ سننا آسان نہیں کہ وہ غلط ہے، یا یہ ماننا کہ اس کا نظریۂ حیات غلط ہے۔ بلکہ یہ سب سے مشکل کاموں میں سے ایک ہے، کیونکہ اس سے انا کو ٹھیس پہنچتی ہے، کیونکہ آپ خود سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ دنیا کے بارے میں آپ کا تصور غلط ہے۔ لیکن ایک لمحے کے لیے رکیں۔ کیا آپ باطل میں جینے کے بجائے حق کو پانا پسند نہیں کریں گے؟ زیادہ شرم کی بات کیا ہے؟ باطل میں جینا، یا انا پر ذرا سی چوٹ برداشت کر کے اپنے نظریۂ حیات کو پرکھنا اور حق قبول کرنا؟ قرآن پڑھیں۔ پڑھیں کہ اللہ انسانیت سے کیا چاہتا ہے۔ ہدایت کو پڑھیں۔ پڑھیں کہ اللہ آپ سے کیا چاہتا ہے۔ نبی کریم محمد ﷺ کی سیرت پڑھیں۔ اور اگر آپ کے ذہن میں سوالات ہوں تو کسی سے رابطہ کریں۔ بس رابطہ رکھیں۔ خود کو چیلنج کریں کہ دیکھیں یہ مذہب آخر ہے کیا؟ کم از کم آپ یہ تو جان لیں گے کہ اسلام ہے کیا۔ کیا آپ نے بھی اسلام قبول کیا ہے مگر سمجھ نہیں آ رہا کہاں سے سٹارٹ کریں؟ یا شاید آپ پیدائشی مسلمان ہیں مگر ایک فریش سٹارٹ لینا چاہتے ہیں اور اسلام کو بالکل شروع سے سیکھنا چاہتے ہیں؟ اسی لیے ہم نے Step Islam ایپ بنائی ہے۔ یہ بالکل فری اور ایڈ-فری ایپ ہے جو آپ کو بہت ہی کلئیر اور آرگنائزڈ طریقے سے اسلام کے بارے میں سکھاتی ہے۔ آپ ایزیلی ایمان کی بیسکس، اہم قرآنی ٹرمز سیکھیں گے، اور ایسے پریکٹیکل ٹاسکس پورے کریں گے جن سے آپ اپنے حساب سے، زندگی بھر کی عادتیں بنا سکیں۔ شیطان کے بہکاوے میں آ کر اسے ڈیلے مت کریں۔ نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں، Step Islam ڈاؤنلوڈ کریں، اور ہمیشہ کی خوشی کی طرف اپنا پہلا سٹیپ آج ہی لیں۔